You're All Mine by Suneha Rauf NovelR50405 You're All Mine Episode 3
Rate this Novel
You're All Mine Episode 3
You’re All Mine by Suneha Rauf
وہ سو گئی تھی لیکن وہ سو نہیں پایا۔۔۔۔اسے یہاں سے جلد سے جلد نکلنا تھا اس سے پہلے کہ لوگ اس تک پہنچ جاتے۔
اس نے انٹرنیٹ کنکٹ کیا بے شمار میسجز میل اور نیوز تھی۔
“یہ کیا کیا تم نے؟ تمہارے پلین میں ایک لڑکی کیسے شامل ہوئی؟” اور ایسے بے شمار میسجز تھے۔
اس نے خبریں دیکھی جس میں ڈارک ویزرڈ کے ساتھ ایک لڑکی کی خبریں سوشل میڈیا پر تہلکا مچائے ہوئی تھی۔
“تمہاری وجہ سے پرنسسس۔۔۔۔صرف تمہاری وجہ سے لوگ ڈارک ویزرڈ کی آنکھیں دیکھ پائے” وہ اشتعال کو قابو کرتا بڑبڑایا۔
اتنے سال میں لوگ اسے صرف ایک نام سے ہی جانتے تھے کسی نے اسے نہیں دیکھا تھا لیکن اب اسکی آنکھیں نظر آگئی تھی۔
بیشک ہیلی کاپٹرز کے گردش کے وقت اس کے چہرے پر رومال تھا اور اس نے حیات کا چہرہ اپنے ہاتھ سے ڈھک دیا تھا لیکن۔۔۔
اس نے سارے کام مکمل کیے اور اُٹھ کر اسکے پاس جا کھڑا ہوا۔
اپنی جیکٹ اس پر سے اتاری اور پہن لی۔
نظر اس کی قمر پر گئی تھی۔۔۔۔اس نے یہاں وہاں دیکھا اور دوبارہ اسی منظر کو۔
“ایک امانت۔۔۔۔ایک امانت تک نہ سنبھالی گئی ان لوگوں سے۔۔۔۔میرے پاس تم اس حال میں ہوتی تو تمہیں جان سے مار دیتا پرنسس۔۔۔لیکن ابھی مجھے کچھ وقت درکار ہے۔”
“اٹھوو۔۔۔۔”آنکھوں میں وحشت اتارتے وہ دھاڑا۔
وہ کسمسائی۔
“سنائی دے رہا ہے تم سے کہہ رہا ہوں لڑکی اٹھو فوراً۔”
“کیا۔۔ہو۔۔۔کیا ہوا؟”
یہ تمہارے باپ کا کوٹیج نہیں ہے نکلنا ہے یمیں یہاں سے اٹھو فوراً۔
“کیا ابھی۔۔۔؟”اس نے کھڑکی کی طرف دیکھا اندھیرا تھا باہر۔
“میرا دماغ تم پہلے ہی بہت خراب کر چکی ہو۔۔۔اگر نہیں چاہتی ہو کہ میں خود پر سے قابو کھو دوں تو اٹھو فوراً” وہ جھکتا اس کے کان میں پھنکارا۔
وہ اٹھی اور فوراً دروازے سے باہر نکل گئی۔۔۔وہ ڈرتی تھی اس سے بے حد۔
اسے لے کر وہ بنا کوئی سراغ چھوڑے آگے بڑھنے لگا۔۔۔۔حیات اب ٹھنڈ سے اپنے بازو خود کے گرد لپیٹ گئی تھی۔
اس کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ ابھری۔۔۔
“جب اس طرح کے لباس تمہیں ڈھانپ نہیں سکتے تو پہنتی کیوں ہو؟۔۔”صبح کے اندھیرے میں اس کی بھاری گھمبیر آواز گونجی۔
حیات نے پلٹ کر اسے دیکھا۔
“تم نہ تو میرے بھائی لگتے ہو اور نہ باپ۔۔۔اور میں وہی کرتی ہوں جو مجھے کرنا ہے۔”
“زبان سنبھال کر۔۔۔۔!” وہ دھاڑا۔
“میں بھی چِلا سکتی ہوں مجھے کمزور مت سمجھو۔۔۔”وہ بھی اتنی ہی آواز میں چلائی تھی۔
ڈارک ویزرڈ نے اسے کھینچ کر درخت کے ساتھ لگایا اور اس کی گردن دبوچی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الہام نے اس ماڈلنگ کی آفر پر ناجانے کیوں لیکن رات بھر سوچا تھا۔
اسے بُرا لگتا تھا بے حد بُرا اپنے کالج کی لڑکیوں کا آحل کو زیرِ بحث لانا اور اب یہ آفر۔۔
“تو کیا آحل بھائی ماڈل بن جائیں گے؟”
“نہیں یہ فیلڈ تو اچھی نہیں ہوتی آپ کو لڑکیوں کے ساتھ چپکنا پڑتا ہے اففف۔”
اگلی صبح آحل کو بِنا یونیفارم کے گھر کے حلیے میں تیار دیکھ اس نے آئبرو اچکائی۔
“آج آپ نہیں جا رہے مجھے چھوڑنے؟”
“جارہا ہوں۔”
“تو آپ کی یونیفارم؟”
“آج نہیں پہنی مجھے واپسی پر کسی سے ملنا ہے۔”
الہام کے دماغ نے فوراً سوچا۔۔۔تو کیا وہ اس ماڈلنگ والی عورت۔
“آحل بھائی؟”
“ہمم ۔۔۔کچھ نہیں آج میری ایک اور کلاس ہے آپ ایک گھنٹہ لیٹ آئیے گا” وہ فوراً سوچتی بولی۔
اوکے! اسے جانا تو تھا لیکن ڈیوٹی بھی پوری کرنی تھی۔
آج اس کے ایک دوست کے بیٹے کی سالگرہ تھی اور اس کے باپ نے خاص اسے جانے کی تاکید کی تھی۔
وہ لیٹ اسے لینے آیا لیکن اب اسے فوراً پہنچنا تھا۔
الہام گاڑی میں بیٹھی اور خاموش رہی۔
“اسلام علیکم!” آحل نے آغاز کیا۔
“وعلیکم السلام!” جواب دے کر وہ خاموش رہی۔
“الہام کچھ ہوا ہے کسی نے کچھ کہا ہے؟”
“نہیں!”
“آپ بتا سکتی ہیں مجھے۔”
“میں اچھا محسوس نہیں کر پا رہی۔۔۔میرا سر درد ہو رہا ہے مجھے وومٹ بھی ہو رہی ہے۔۔۔”اس کی آواز بھرا گئی۔
ایسا پچھلے دو گھنٹوں سے ہو رہا تھا اس کے ساتھ اور اس کی قوتِ برداشت کافی کم تھی اسی لیے اب وہ رونے کے در پر تھی۔
“دوا لے لیتے ہیں۔”
“نہیں! آپ مجھے گھر چھوڑ دیں!” اب کہ ایک آنسو اس کے ہاتھ پر گرا تو آحل نے گہرا سانس بھرا۔
پھر گاڑی تیزی سے دوڑاتے اسے گھر پہنچایا اور دوا لینے دوبارہ باہر نکلا واپس آیا تو چاہت نہیں تھی گھر پر۔
وہ اسکے کمرے کے پاس رکا اور دروازہ کھٹکھٹایا ایسا نہیں ہوا تھا کبھی کہ وہ اس کے کمرے تک گیا ہو۔
الہام نے دروازہ کھولا۔۔۔وہ اس وقت سلیپنگ سوٹ میں بکھرے بالوں کے ساتھ تھی۔
آحل نے نظریں جھکائیں۔
“آجائیں آحل بھائی۔”
“نہیں یہ دوا لے لیں اور کھا لیں۔”
“مجھے نہیں کھانی وہ کہہ کر اندر چلی گئی۔”
“آج آپ نے کیا کھایا تھا کالج میں؟”
“برگر۔”
“اسی کا کمال ہے یہ!”
“یہ دوا لیں اور سو جائیں۔”
“نہیں میرا سر بہت درد ہو رہا ہے۔۔۔۔”وہ کہتی تکیے میں منہ دیتی رونے لگی تو آحل نے مٹھیاں بھینچی وہ بے حد بے بس تھا اس وقت۔
“الہام۔۔۔میری بات سنیں۔۔۔رونا تو بند کریں۔”
“مجھے بابا کے پاس جانا ہے ۔۔۔ماما۔۔۔مجھے ماما کے پاس جانا ہے۔۔۔”وہ اونچی آواز میں اب رونے لگی تھی۔
“وہ بوکھلا گیا ۔۔۔۔وہ ایسا کبھی نہیں کرتی تھی۔”
“یہاں لیٹ جاؤ۔۔۔۔”اس کے اوپر بلینکٹ دے کر اس نے اسے دیکھا۔
“کیا میں سر دبا دوں؟”
الہام نے نم سوجی آنکھوں سے اسے دیکھا تو اس کے دل نے ایک بیت مِس کی۔
“نہیں آحل فیاض اپنی حدود میں رہو اس نے اپنے دل کو ڈبٹا اور اس سے پہلے کہ اٹھتا اپنے ہاتھ کو اس کے ہاتھ میں محسوس کیا۔”
“دبا دیں!”
آحل نے نیچے گھنٹوں کے بل بیٹھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور ہلکا سا دباؤ بڑھاتے ساتھ کچھ منہ میں پڑھنا شروع کیا۔
کچھ ہی دیر میں وہ سوگئی تھی۔۔۔۔ہاں آحل فیاض اس کی بیماری کا علاج بنا تھا، اسے سکون پہنچا گیا تھا۔
وہ اٹھا اور بے بسی سے باہر آ گیا۔۔۔۔یہ سب میرا نہیں ہے میری اتنی اوقات نہیں ہے میں یہ خواب نہیں دیکھ سکتا وہ خود کو ڈبٹتا وہاں سے نکل گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الہام نے وجدان سے بات کی تھی پہلے تو وہ شش و پنج میں مبتلا رہا۔
“کیا ہوا وجی بھائی؟”
“گڑیا تم جانتی ہو وہ ہم لوگوں کے جیسی نہیں ہے وہ کیسے ہماری مارکیٹ میں سروائیو کر پائے گی۔”
“اس بات کا اس کے ہنر سے کیا تعلق۔۔۔اور آپ کو پتا ہے اس کی خوشبو۔۔۔۔اُف۔۔”
وجدان کو اہتشام کے کہے لفظ یاد آئے ایسا کیا تھا اس لڑکی کی پرفیوم میں کہ سب اس کی خوشبو کے دیوانے تھے۔
ٹھیک ہے کل بھیج دینا اسے ۔۔۔۔وہ گہرا سانس بھرتا بولا۔
“وجی بھائی؟”
“ہممم ۔۔”
“آپ کو پتا ہے چاہ کی پرفیوم سیکریٹ ہے اس نے کبھی مجھے بھی نہیں لگانے دی تھی لیکن اب وہ کچھ کرنا چاہتی ہے اپنی پہچان بنانا چاہتی ہے اس لیے اس پرفیوم کا فورمولا آپ کو دینے کو تیار ہے۔”
“ٹھیک ہے میں اس کی سیلری وغیرہ سب اسے بتادوں گا کل صبح نو بجے۔
اور یہ وجدان چوہدری اور چاہت خالد کی کہانی کا آغاز تھا جو انہیں ملاتی یا نہیں کس کو پتا تھا۔”
وہ بہت ڈری تھی کسی ادارے میں کام کرنے کا یہ پہلا تجربہ تھا اس کا۔۔۔۔اور کمپنی بھی ملک کی جانی مانی۔۔۔جس کی کئی شاخیں بیرونِ ملک بھی تھیں۔
یہ ادارہ اپنے پروڈکٹس کے لیے جانا جاتا تھا۔
اس نے یہاں وہاں دیکھا یہ ماحول تو وہ پہلی بار دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔مغربی ماحول۔۔۔۔ہر جگہ دوپٹے سے بے نیاز لڑکیاں یہاں وہاں گھوم رہی تھیں مردوں کے درمیان پورے اعتماد کے ساتھ۔
یک دم ہی دل اداس ہوا تھا اس نے ایک نظر اپنے آپ کو دیکھا دو سال پہلے عید پر بنایا جوڑا جو کالی شلوار قمیض تھا، سلیوز نیٹ کی تھی دوپٹہ سر پر اچھے سے جما تھا اور اردگرد شال لپٹی تھی۔
“بیشک میرے کپڑے پرانے سہی لیکن مجھے خوشی ہے کہ میں ان جیسی نہیں۔”
“جی میم کس سے ملنا ہے؟”
“وج۔۔۔وجدان۔۔۔”
“آپ؟” اس لڑکی نے اسے اوپر سے لے کر نیچے تک اسے دیکھا۔
“آنے دو۔۔۔۔”وجدان چوہدری کی آواز گونجی تو وہ گہری سانس بھرتی سامنے کیبن میں چلی گئی۔
جہاں سے وہ اندر گیا تھا۔
“اسلام علیکم!”
“وعلیکم السلام بیٹھیں!”
“تو سی وی کہاں ہے آپ کا؟”
کوئی سی وی نہیں ہے اس نے گہرا سانس بھرا اسے پُر اعتماد رہنا تھا۔
“تو آپ نوکری کے لیے جا رہی ہیں لیکن کوئی سی وی نہیں ہے آپ کے پاس۔”
“الہام نے فون۔۔۔۔”
“جی مجھے پتا ہے لیکن نوکری کے بھی کچھ اصول۔۔۔خیر۔۔۔۔
آپ اپنی پرفیوم کے بارے میں بتائیں۔”
“کیا جاننا چاہتے ہیں؟”
“اس میں اصل اجزاء کیا ہے۔”
“پھول؟”
“پھول۔۔۔۔اور پھول کہاں سے لاتی ہیں آپ؟”
“میرے گاؤں کے پاس جنگل ہے بس وہیں سے۔۔۔”
“آپ کو ہمیں اپنی پرفیوم کا ٹیسٹر دینا ہو گا۔۔۔۔ہماری ٹیم اسے پرکھے گی اگر ہمیں پسند آیا تو۔۔۔”
“ٹھیک ہے!”
“تو مِس؟”
“چاہت۔۔۔۔چاہت خالد۔”
“اگر مجھے آپ کی پرفیوم پسند آتی ہے تو میں اس کے سارے رائٹس خریدنا چاہوں گا۔”
“یہ ممکن نہیں۔”
“قیمت جو آپ چاہیں” اس نے آنکھیں سکیڑتے کہا۔
“کسی قیمت بھی نہیں” وہ اٹھنے کے پر تولنے لگی۔
“اتنا یقین ہے آپ کو اپنی گھر میں بنائی پرفیوم پر۔۔۔۔یہ مارکیٹ ہے پروڈکٹ فلام جائے تو لاکھوں کا نقصان ہوتا ہے۔”
“مسٹر وجدان شاید کچھ دیر پہلے آپ ہی نے کہا تھا کہ آپ کی ٹیم ٹیسٹر کو چیک کرے گی اور پھر کوئی فیصلہ کرے گی۔”
وہ لاجواب ہوا۔
“تم رائٹس کیوں نہیں دینا چاہتیں۔۔۔۔؟”
“کیونکہ وہ میری خوشبو ہے۔۔۔۔میری مخصوص خوشبو۔۔۔میں چاہتی ہوں دنیا اسے میری خوشبو کے طور پر جانے۔”
“جہاں تک میری معلومات ہے آپ یہ پرفیوم اپنی دوستوں کو بھی نہیں دیتی تھی تو پھر اسے پوری دنیا میں متعارف کروانا۔”
“میرے اپنے کچھ نجی زندگی کے معملات ہیں جو میں آفس کی میزوں پر کبھی نہیں کھولنا چاہوں گی” وہ کہتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
وجدان چوہدری نے مٹھیاں بھینچی۔
جا سکتی ہو۔۔۔وہ خود کو کچھ غلط کہنے سے روک گیا۔
وہ چلی گئی تو اس نے پیپر ویٹ کو اٹھا کر دور پھینکا۔۔۔۔
“اتنی اکڑ۔۔۔کس بات کی؟”
فون آنے پر وہ بھی جانے کے لیے نکلا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیات کی آنکھیں ابلنے کے قریب تھی۔۔۔یہ کیسا روپ تھا اس کا ۔۔۔۔وہ وحشت سے بھرا پڑا تھا لیکن ۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں آنسو بھرنے لگے تو وہ اسے چھوڑتا پیچھے ہٹا اور قدم آگے بڑھانے لگا۔
وہ وہیں درخت کے ساتھ نیچے بیٹھتی کھانسنے لگی۔۔۔سفید گردن پر اس کی انگلیوں کے نشان چسپاں تھے۔
وہ بری طرح کھانستی۔۔۔۔یہاں وہاں ہاتھ مار رہی تھی وہ پلٹ کر واپس آیا اور اس کے سامنے بیٹھا۔
“ان سب کا وقت نہیں ہے میری پاس۔۔۔ڈرامے مت کرو مری نہیں ہو!” سرد انداز تھا۔
حیات نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔نظروں کے اس زبردست تصادم پر انہیں لگا کہ شور برپا ہے لیکن آس پاس خاموشی کا راج تھا۔
اس نے اس کی آنکھوں پر سے انگلی رگڑی۔
“سسس۔۔۔۔”حیا کے منہ سے سسکی برآمد ہوئی۔
میرے سامنے کبھی دوبارہ مت رونا جب تک ہم ساتھ ہیں اس بات کو اچھے سے سمجھ لو۔
“تم۔۔۔تم سے مجھے نفرت ہے۔۔۔مجھے گِھن آتی ہے تمہارے وجود سے” وہ آہستہ سے بولی جو وہ بمشکل سن پایا۔
آنکھیں یک دم سرخ پر گئی جیسے ضبط کے آخری مراحل پر ہوں۔
جھٹکے سے اسے اٹھایا اور اپنے ساتھ گھسیٹتا آگے بڑھنے لگا۔
حیات اس کی وحشت سے کانپ اٹھی۔۔۔۔کون تھا وہ، کیا چاہتا تھا، کیا تھی اس کی زندگی؟
اب کی بار وہ ائیر پورٹ پر تھے جو اس وقت سنسان پڑا تھا تقریباً۔
وہ حیران ہوئی اس کا پاسپورٹ آئی ڈی کارڈ سب دیکھے بغیر وہ اندر موجود تھے۔
لیکن یہ سب سوچ کر وہ پاگل ہو جاتی اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔
وہ بے چینی سے یہاں وہاں ہاتھ مارتی گردن گھما رہی تھی۔
“کیا مصیبت ہے تمہارے ساتھ؟” وہ لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلاتا اسے دیکھ کر بولا۔
“کچھ نہیں۔۔۔” آواز بے حد دھیمی تھی اور پھر وہ سو گئی کیونکہ اس کے پانی میں پہلے ہی سکون آور دوا ملا دی گئی تھی۔
اس نے ایک بلینکٹ منگوایا اور اس پر دیا اور یہاں وہاں دیکھا جو کچھ لوگ تھے وہ دور کی سیٹوں پر پڑے اونگ رہے تھے۔
اس کا سر اپنے کندھے پر دیکھتے گہری سانس بھری۔۔۔
“مشکل ہوتا جا رہا ہے سب۔”
پھر لیپ ٹاپ بند کرتے کافی منگوا کر پی اور اسے دیکھا جس کی گردن پر اس کی انگلیوں کے نشان واضح تھے۔
اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیلی۔
“۔۔پہلا زخم مبارک پرنسس۔۔۔”
اور پھر کچھ سوچ کر اپنے انگوٹھے سے اس کی گردن سہلانے لگا جب دل مطمئن نہ ہوا تو جھکا اور ناک سہلائی۔
کمی اب بھی تھی۔۔۔۔اس کا دل اسے الارم دے رہا تھا لیکن آج پہلی بار ڈارک ویزرڈ نے اپنے دل، اپنے اصولوں کے خلاف جانے کا کام سر انجام دیا تھا۔
اور اپنے ہونٹ اس کے نشانوں پر رکھتے جھٹکے سے پیچھے ہوا۔
“پہلا لمس ۔۔۔ہاں یہ اس کی زندگی کا پہلا لمس تھا۔۔۔”اس کے چہرے پر تمسخر بھری مسکراہٹ پھیل گئی۔
آنکھوں میں موجود گرم نرم جزبات پل میں وحشت میں تبدیل ہو گئے اور کام اور تیزی سے کرنے لگا۔
ابھی انہیں پہنچنے میں کافی وقت تھا وہ سارا کام کر سکتا تھا لیکن اس کے ہاتھ کو اپنے بازو کے گرد محسوس کرتے وہ رُکا۔
“ناٹ ناؤؤؤؤ!” اپنے بازو سے اسے دور کر دیا اور کام میں دوبارہ مصروف ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح وہ بالکل فریش تھی۔۔۔اس نے ایک چاکلیٹ آحل کے لیے خریدی اور اس کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔
“آج آپ چھٹی کر لیتیں۔۔۔”آحل نے اسے کالج جانے کے لیے تیار دیکھ کر کہا۔
“اب میں ٹھیک ہوں بالکل اور آج میرا ٹیسٹ بھی ہے نا۔”
“اوکے آ جائیں” وہ اس سے نظریں نہیں ملا پایا تھا۔
“آحل بھائی۔”
“جی؟”
“کل آپ نے جہاں جانا تھا کیا آپ گئے تھے؟” اس نے شش و پنج میں مبتلا ہوتے استسفار کیا۔
“نہیں! وقت نہیں مل پایا۔”
“اچھا ہوا” وہ بڑبڑائی۔
“کچھ کہا؟”
“میں آپ کے لیے کچھ لائی ہوں۔”
“کیا؟” وہ حیران تھا اس کا کالج آ گیا تھا۔
“یہ چاکلیٹ رات کو آپ نے میرا ساتھ دیا تھا اور میں سو گئی تھی جلدی سے یہ ایک تھینک یو گفٹ ہے۔
اس نے وہ چاکیکٹ نہیں پکڑی۔۔۔یہ میں نہیں لے سکتا۔
لیکن کیوں؟” اس کا چہرہ اتر گیا۔
“میں آپ کا باڈی گارڈ ہوں الہام دوست نہیں۔۔۔اور چاکلیٹس اور تحفے صرف قریبی لوگوں کو دیے جاتے ہیں۔”
“اممم۔۔تو یہ بات ہے!”
” تو ٹھیک ہے آج سے آپ میرے دوست ہیں باڈی گارڈ بھی، دوست بھی” وہ چہکتی بولی تو آحل کئی لمحے اس کے چہرے کی معصومیت کو دیکھتا رہ گیا۔
“آج آپ نے دوپٹہ نہیں لیا!” اس کے منہ سے پھسل گیا لیکن پھر فوراً چہرہ پھیر لیا۔
نہیں اس سوٹ کے ساتھ کا نہیں تھا۔
اس نے کہا تو آحل نے ناچاہتے ہوئے بھی اسے دیکھا وہ جینس کے ساتھ شارٹ کُرتا پہنے ہوئی تھی چھوٹا قد، معصومیت بھرے نقوش، کندھے پر پڑے سیدھے بال وہ خوبصورت تھی بیشک۔
“ٹھیک ہے” اس کے سنجیدگی سے جواب دینے پر وہ الہام کو تو برا ہی لگا۔
“آپ مجھے اپنا مفلر دے دیں۔۔۔۔”دونوں کی نگاہوں کا زبردست تصادم ہوا تھا۔
اور یہ بہت کم مسکرانے والا آحل فیاض مسکرا پڑا۔۔۔الہام بھی مسکرائی تھی۔
آحل نے اسے اپنا مفلر دیا جو اس نے پیچھے گردن سے ڈالتے آگے کی طرف چھوڑ دیا تھا۔
“آپ کی چاکلیٹ!”
آحل نے تھامی تو وہ خوش ہوتی باہر نکل گئی۔
یہ میں واپس کر دوں گی۔
“یہ میری طرف سے تحفہ سمجھ لیں اب آپ کا ہے آحل نے کہا۔۔۔”آج وہ خوش تھا وہ دوست تھی ہاں باڈی گارڈ کے علاؤہ کوئی تو رتبہ پایا تھا اس نے۔
لیکن کب تک؟ یہ شاید وہ بھی نہیں جانتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے نہیں پتا مجھے یہ کرنا ہے یا نہیں۔۔۔لیکن میں خود کو نہیں روکوں گی وقت کے بہاؤ کے ساتھ خود کو بہنے دوں گی۔
کیا پتا وقت اور حالات بدل دیں سب اس نے سوچتے آنکھیں بند کی اسی وقت لفٹ کُھلی اور کوئی اندر داخل ہوا۔
وجدان چوہدری نے کوئی ری ایکٹ نہیں کیا کیونکہ چاہت کی نظریں اپنے قدموں پر تھی وہ گہری سوچ میں مبتلا محسوس ہوتی تھی۔
یک دم لفٹ بند ہونے پر وہ دونوں چونکے۔
“واٹ دا ۔۔۔۔۔!” وہ دھاڑا۔
ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا اسے کلوسٹوفوبیا تھا۔۔۔۔بند جگہوں پر سانس رکتا تھا اس کا۔۔۔۔ایسا بچپن سے تھا اس کے ساتھ۔
“کی۔۔۔کیا۔۔ہوا۔۔۔؟”
“لفٹ رک گئی ہے نظر آرہا ہے ۔۔۔یہ بیکار کے سوال کرنا ضروری ہے؟؟”وہ اس پر چڑھ دوڑا۔
چاہت نے ہونٹ کاٹتے اسے دیکھا جو اب اضطرابی کیفیت میں فون پر بار بار کسی کا نمبر ڈائل کر رہا تھا۔
“ڈیم۔۔۔ڈیم۔۔۔ڈیم۔۔۔۔”لفٹ کی دیواروں کو ہاتھ مارتے اس نے ادھم برپا کر دیا تھا۔
“مسٹر وجدا۔۔۔وجدان۔۔!”
“ریلکس۔۔۔۔ابھی کھل جائے گی۔۔”
وجدان رُکا۔۔۔۔اتنا جلدی اسے خود پر کنٹرول نہیں کھونا تھا وہ بھی کسی غیر کے سامنے۔۔۔۔
وہ تو ایک ڈھکا ہوا شخص تھا۔
اس نے گہری سانس بھری۔
“اب کیسا محسوس کر رہے ہیں؟”
“وِل یو سٹاپ ٹاکنگ نون سینس؟”
اور چاہت نے نظریں جھکاتے خاموشی سادھ لی تھی۔
لیکن بیس منٹ میں ہی اس کی حالت بری ہو گئی تھی وہ پسینے میں بھیگ گیا تھا۔
وہ نیچے بیٹھ گیا تو چاہت نے اسے دیکھا وہ گہری سانس لیتا ہاتھوں کی مٹھیاں زمین پر ہلکا ہلکا مار رہا تھا۔
وہ اس کے سامنے بیٹھ گئی اور اسے دیکھنے لگی۔
اونچا قد، بھاری فِٹ جسامت، ہلکی بیرڈ، سفید رنگ اور مقناطیسی نقوش۔
“وجدان؟”
“ہمم ۔۔”
“اپنی ٹائی اتاریں اور گردن کے قریب والے بٹن کھولیں۔”
اس نے ایسا ہی کیا۔
“اب؟ اب کیا کروں؟” اب وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔
“امممم ۔۔۔اپنے ہاتھ۔۔۔۔ہاتھ۔۔۔”
“جلدی بولو۔۔۔!”
“مجھے دیں۔۔۔”
وجدان نے اپنے ہاتھ فوراً اس کے آگے کیے جو وہ تھام گئی اور رگڑنے لگی۔
“آنکھیں بند کریں اور گہری سانسیں بھر کر اپنے زندگی کے خوشگوار وقت کو یاد کریں۔”
“یہ سب فلموں میں ہوتا ہے چاہت۔۔۔۔”وہ نرمی سے بولا۔
“کر کے دیکھ لیں کوشش کرنے میں کیا حرج ہے” چاہت نے اس کے ہاتھ چھوڑ دیے تو اس نے ویسا ہی کیا۔
آنکھیں بند کیے اس نے چاہت کے ہاتھوں کو دوبارہ تھاما اور ہلکا سا مسکرا دیا شاید واقع کافی خوش گوار تھا۔
چاہت نے لمحہ پھر کے لیے اس کی مسکراہٹ کو دیکھا۔۔۔۔رب نے کسی کسی کو مسکراہٹ میں ہی سارا حسن دے ڈالا ہے اس نے سوچا۔
“میں خوش تھا تب بے حد خوش!” اس نے چاہت کو جھٹکے سے قریب کرتے بالکل اپنے آگے بٹھایا وہ ڈر گئی لیکن وجدان کی آنکھیں بند تھی۔
“مسٹر۔۔۔وج۔۔۔۔”
وہ کہنا چاہتی تھی کہ ہوش میں آئیں لیکن اس سے پہلے جو ہوا اس نے اس کی سانسیں روک لیں۔
وہ شخص اس کے کندھے پر سر رکھ چکا تھا۔
“اووو میرے خدایا!”
“میرا سانس پھول رہا ہے میں کیا کروں؟”
وہ جو اسے جھٹکنے والی تھی رک گئی کسی کی زندگی کا سوال تھا۔
“کسی اور اچھے بہت اچھے واقع کو یاد کر لیں۔۔۔”
وجدان چوہدری سوچتا لیکن کچھ تھا جس نے اسے خود کی طرف متوجہ کیا تھا۔
