You're All Mine by Suneha Rauf NovelR50405 You're All Mine Episode 30
Rate this Novel
You're All Mine Episode 30
You’re All Mine by Suneha Rauf
فلیٹ میں جاتے ہی اس نے چاہت کو گاڑی سے اترنے میں مدد دینی چاہیے تھی لیکن وہ اس کا ہاتھ جھٹک گئی تھی۔
کرب وجدان چوہدری کی آنکھوں سے جھلکنے لگا تھا۔
“میں مدد ۔۔۔۔!”
“زخم دینے والے مرہم نہیں بنا کرتے وجدان چوہدری۔۔۔کیا آپ نے یہ بات سُنی نہیں ہے؟”
“چاہت میں۔۔۔۔۔”
“آپ مجھے یہاں زبردستی لائے ہیں اور یقین کریں میری معافی نہ ملنے پر آپ مجھے واپس خود چھوڑ کر آئیں گے۔۔۔”یہ بولتے اس کے آنسو حلق میں اٹکنے لگے لیکن اس نے ظاہر نہ ہونے دیا۔
“مجھے موقع دو چاہت میں سب چیزوں کا ازالہ کر دوں گا!” وہ اس کے قدموں میں گُھٹنوں کے بل بیٹھتا بولا۔
“چار مہینوں کی میری نیند اور چار مہینوں کی ازیت کا ازالہ کر سکتے ہیں آپ وجدان چوہدری؟”
اس نے آنکھیں بند کر کے کھولیں۔۔۔
“ہاں میں سب کروں گا!”
“نہیں کر سکتے کیونکہ آپ نے وہ سب برداشت نہیں کیا۔”
“وجدان اسے دیکھتا رہ گیا۔۔۔کیا اس نے سچ میں کچھ برداشت نہیں کیا تھا۔۔۔۔اگر وہ ٹوٹ گئی تھی تو بکھرا تو وہ بھی تھا۔۔۔”
کیا وہ اس کی حالت نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔۔اس کی ہر بات، ہر الزام بجا لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتی تھی کہ وہ ان چار مہینوں میں سکون میں تھا۔
“کھانا کھاؤ گی!”
“مجھے جانا ہے یہاں سے!”
“تم اب کہیں نہیں جاؤ گی یہ تمہارا گھر ہے۔۔۔”
“میرا گھر۔۔۔۔”وہ خشک سا قہقہہ لگاتی اس خوبصورت چھوٹے سے گھر کو دیکھنے لگی۔
“یہ میرا ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔جن کو رسوا کیا گیا ہو ان کو اتنی عزتیں کہاں ملتی ہیں۔۔۔۔۔”آنسو پلکوں کی بار ٹوڑنے کی جنگ کرنے لگی۔
“کھانا کھاؤ گی!”
“زہر کھاؤں گی دے سکتے ہو؟ تم کیوں آئے ہو؟ پھر سے مجھے رسوا کرنے؟ ہاتھ پکڑ کر پھر سے چھوڑ دینے کے لیے؟” وہ چیخ اٹھی۔
چاہت۔۔۔!
“آرام کرو!” وہ اسے زبردستی کھڑا کرتا سامنے کمرے کے دروازے پر چھوڑ کر ہٹ گیا۔
تو وہ اندر چلی گئی شاید کچھ دیر وہ اکیلے رہنا چاہتی تھی۔
بستر پر لیٹتے اس نے چہرے تک کمفرٹر اوڑھ لیا۔۔۔۔آنسو اب جنگ ہارتے پلکوں کی بار سے باہر آتے چہرے پر رقص کرنے لگے تھے۔
لیکن اس بستر اس تکیے میں وجدان چوہدری کی خوشبو اسے چار مہینوں بعد ایک نئے سکون سے آشنا کر گئی تھی۔
وہ ہچکیوں سے روتے سو گئی تھی۔
اس چار دیواری میں دو وجود خود سے جنگ لڑتے درد میں تھے لیکن شاید اندر سے کہیں پُرسکون کہ وہ ساتھ تھے اب۔
ہزار پریشانیاں، اذیتیں سہی لیکن دل میں اطمینان کی رمق کہیں جاگ گئی تھی۔
وہ اس کے کمرے کے باہر چکر کاٹتا شاید اس کے سونے کے انتظار میں تھا۔
اس کے سوتے ہی وہ خاموشی سے اندر گیا جہاں نیم اندھیرا تھا اس کے سرہانے کے پاس کھڑے ہوتے وہ کئی لمحے اسے دیکھے رہا۔
ہلکا سا تبسم اس کے لبوں پر پھیل گیا۔۔۔۔چار مہینے اس چہرے کی تڑپ رکھی تھی اس نے دل میں۔
چاہت وجدان!
اسکے لب پھرپھرائے۔۔۔پھر اس کے پاس بیٹھتا اسے دیکھنے لگا۔
“تمہاری ہر سزا قبول مجھے لیکن یہ نہیں کہ تم مجھ سے اب دور رہو۔۔۔۔میں نے چار ماہ میں جانا ہے کہ ازیت کسے کہتے ہیں، میں نے جانا ہے کہ جب کوئی اپنا جان سے پیارا شخص آپ سے بچھڑ جائے تو کیسا لگتا ہے، میں نے ہر رات تمہاری خوشبو کو اپنے اردگرد محسوس کیا ہے، اور دیکھو آج تم ملی تو کس حال میں۔
آج میرا رب کی رحمت پر ایمان اور بڑھ گیا۔۔۔چاہت وجدان چوہدری سے ملنا ایک معجزہ ہے اور معجزے حقیقت میں ہوتے ہیں میں نے مان لیا۔”
“میری اولاد ہے یہ۔۔!” وہ اس کے ہاتھ پر جھکتا انہیں چوم گیا۔
چاہت نے اس کی تمام باتیں سُنی تھی اپنے ہاتھ پر اس کا لمس محسوس کرتے اس نے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا۔
تو وہ اٹھا اور باہر نکل گیا۔
معافی مشکل تھی لیکن ناممکن نہیں۔
اس کے جانے کے بعد چاہت نے اپنے ہاتھ کو دیکھا جو ہلکا سا نم تھا شاید وہ اس کا آنسو تھا۔
اس نے آنکھیں موند لیں۔
صبح اٹھتے وہ باہر آئی تو گھر میں چہل پہل تھی جو کل تو بالکل نہیں تھی۔۔۔
وہ سب نئے ملازم تھے۔
چاہت!
“یہ سب کام کے لیے رکھے ہیں۔
یہ خانساماں ہیں کھانا یہ بنائیں گی۔
یہ ملازمہ ہے سب کام یہ کرے گی۔
یہ ڈرائیور ہے اگر کچھ منگوانا پڑے تو۔۔۔۔
اور۔۔۔۔چھوڑو سب تم۔۔۔۔”
“تم بیٹھو بتاؤ کیا کھاؤ گی؟”
” پھر دوا بھی لینی ہے!” وہ ایسے کر رہا تھا جیسے وہ ایک نارمل خوشحال خاندان سے تعلق رکھتے ہوں۔
“وجدان چوہدری تم سچ میں یہ سب کر رہے ہو؟”
وہ رک گیا اور آنکھیں بند کر کے کھولیں اب اس کی باری تھی وہ سب محسوس کرنے کی جو چاہت خالد محسوس کر چکی تھی۔
“کیا مطلب؟” وہ سکون سے بولا۔
“مجھے یہاں نہیں رہنا۔۔۔اور نا ہم ایک خوشحال میاں بیوی ہیں یہ ڈرامہ بند کرو۔۔۔ان سب کو بتاؤ کہ آج یہ محبت کہاں سے جاگ گئی ہے جو پہلے تو کبھی تھی ہی نہیں۔۔۔۔
بتاؤ انہیں کہ میں وہیں ہوں جسے تم نے گھر سے نکالا تھا۔۔۔۔میں وہیں ہوں جس نے اپنے بوس سے محبت کا اظہار کیا تھا اور اسکے بوس نے اسے بھرے مجمعے میں دھتکارا تھا۔۔۔۔”
“اسی مجمعے میں اپنایا تھا تمہیں اور اسی مجمعے میں پھر سے منا لوں گا تمہیں۔۔۔۔”وہ بے بسی سے بولا۔
“سچ میں؟”
“یہ کہانی یا کوئی ڈرامہ نہیں ہے اور نہ زندگی اتنی آسان!
تم مجھے میرے وہ چار مہینے دے سکتے ہو جس میں نجانے گنتی کی کتنی راتیں میں سوئی ہوں باقی جاگتے گزاری ہیں؟”
“تم نہیں تھے تب جب میں سارا دن بے حال بستر پر پڑی تھی۔۔۔۔واش روم تک جانے کی سکت نہ تھی مجھ میں۔۔۔”
“تم پتا ہے کہاں تھے؟”
“تم اپنی دادی اور اپنی کزن کو منا رہے تھے۔۔۔۔۔تم انہیں بتا رہے تھے کہ بیویوں کی کوئی عزت نہیں ہوتی انہیں یوں ہی سرِعام بدنام اور گھر سے نکالنے کے لیے بیاہ کر لایا جاتا ہے” وہ ہانپنے لگی تھی۔
سارے ملازم خاموش تماشائی تھے۔۔۔۔
اور وہ۔۔۔وہ بس سُن رہا تھا اسے۔۔۔۔بنا ایک بھی لفظ ادا کیے۔
“تم معافی کے طلب گار ہو وجدان چوہدری۔۔۔لیکن یہ بھول جاؤ کہ ایسا کچھ ہو گا۔۔۔۔”وہ ہانپتی وہاں بیٹھ گئی۔
ملازمہ وجدان چوہدری کو دیکھ رہی تھیں جو پُرسکون کھڑا تھا، لیکن اندر کی ازیتیں دنیا کہاں جانتی ہے!
وجدان کے اشارے پر ملازمہ نے چاہت کو پانی کا گلاس پکڑایا جو اس نے ہاتھ سے دور پھینک دیا۔
اب اس کا سانس اکھڑ رہا تھا۔
“مجھے تم سے محبت نہیں نفرت ہے وجدان۔۔۔! “
وہ اسے دیکھتے گہرے سانس بھرتی بولی تو وجدان چوہدری نے اپنے قدم اس کی طرف بڑھائے۔
ہٹو۔۔۔۔
دور رہو!
“مجھے مرنے دو لیکن میرے پاس مت آنا، مجھے تمہاری ضر۔۔۔و۔۔ضرور۔۔۔ضرورت۔۔۔نہ۔۔نہیں۔۔۔۔”
وجدان نے اس کے لبوں کے ساتھ پانی لگایا اور اس کی قمر سہلائی۔۔۔۔اسے نارمل کرنے کی ایک کوشش تھی۔
آپ کل سے آئیے گا اس نے سب کو بھیج دیا اور اسے دیکھا جس کا سانس اب بھی مدھم تھا۔
وجدان چوہدری سے اسے دیکھا اور پھر اس کی آنکھوں میں دِکھتے انکار کو رد کرتے اس پر جھکتے اسے مصنوئی سانس مہیا کیا۔
ایسا کرنے میں وہ کامیاب رہا تھا۔
اسے بٹھاتے اس کے ہاتھ سہلائے اور اس کے بال باندھ کر ہاتھ سے اس کے چہرے اور گردن پر ابھرے پسینے کے ننھے قطروں کو صاف کیا۔
اور ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ چاہت کی حالت بہتر ہو گئی تھی بنا ڈاکٹر کے پاس گئے۔
“دور۔۔۔۔”
“شششش! یہ جنگ بعد کے لیے رکھو!”
وجدان نے اس کے بکھرے بال اکٹھے کیے اور انہیں اچھے سے باندھ کر اوپر کیچر لگایا۔
“میرا دوپ۔۔دوپٹہ۔۔۔۔”
چاہت نے آنکھیں چُراتے اس سے کہا اب وہ بہتر ہو گئی تھی۔
چاہت وجدان اپنے شوہر کے سامنے آپ کو ان تکلفات کی ضرورت نہیں اس کی شرٹ کو درست کرتے وہ کھڑا ہوا اور باورچی خانے میں چلا گیا۔
چاہت نے اس کی پشت دیکھی پھر آنکھیں موند لیں۔
ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ وہ ڈاکٹر کی دوائیوں کے بغیر اپنی نارمل حالت میں واپس آگئی تھی۔
اس کی سانسوں کی خوشبو وہ اب بھی خود میں محسوس کر سکتی تھی۔
وہیں لیٹتے اس نے آنکھیں موند لیں۔
اٹھو!
“یہ پیو! ابھی کھانا تھوڑی دیر میں دوں گا تب تک یہ پیو!”
وجدان نے اس کے آگے فریش جوس رکھتے اسے دیکھا جس نے اس کی بات سن کر ان سنی کرتے آنکھیں پھر سے موند لیں تھیں۔
“چاہت سنائی دے رہا ہے؟”
جواب نداد۔۔۔
وجدان نے اسے جھٹکے سے سیدھا بٹھاتے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامتے اس کے لبوں سے گلاس لگایا اور اسے پلا کر پیچھے ہٹا۔
اپنے ہاتھ سے ہی اس کا چہرہ صاف کرتا وہ جا چکا تھا۔
چاہت بے بس سی ہوئی۔۔۔ایسا رہا تو وہ جلد ہی اس شخص کو معاف کر دے گی جو وہ مر کر بھی نہیں چاہتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بابا؟”
اپنی ماں کی گود میں لیٹتے اس نے اپنے باپ کو مخاطب کیا جو شاید جانتے تھے وہ کیا بات کرنے والی ہے۔
“آپ نے میر کو مجھ سے دور کیوں رکھا؟”
“کیونکہ اس نے اپنی زندگی میں آگے بڑھنا تھا۔۔۔اپنے باپ کا عہدہ سنبھالنا تھا۔”
“ایسا وہ میرے ساتھ رہتے ہوئے بھی کر سکتا تھا۔۔۔۔!”
یہ سوال حقیقت جاننے کے بعد سے اس کے دماغ میں گردش کر رہا تھا جس کا جواب صرف اس کا باپ دے سکتا تھا۔
“بالکل! لیکن وہ یہاں آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتا تھا۔۔۔۔اسے آنا تھا جانا تھا اور ہر بار ہم آپ کی حالت خراب نہیں کر سکتے تھے اسی لیے یہ ٹھیک تھا کہ وہ آپ سے دور رہتا۔”
“لیکن وہ کیا کام کرتا ہے بابا؟”
“یہ آپ اسے سے پوچھیں تو بہتر رہے گا حیات!” انہوں نے انکار کیا تھا بتانے سے۔
“مجھے تو لگتا ہے وہ مافیا کا بندہ ہے۔۔۔۔جیسے ہم کہانیاں پڑھتے تھے نا ویسے انڈر گراؤنڈ کا کوئی انسان لگتا ہے وہ مجھے۔۔۔۔”
ہاہاہا۔۔۔۔۔اس کا باپ کُھل کر ہنسا تھا۔۔۔یہ لفظ وہ میر حاد تک ضرور پہنچانے والے تھے۔
“کیا ہو گیا ہے حیات؟ اتنا ہینڈسم تو ہے ہمارا بیٹا۔۔۔۔” رابیل نے کہا۔
“بال دیکھیں ہے آپ نے اُس کے؟”
تو تم کہو ہو سکتا ہے کاٹ لے۔۔۔رابیل نے غازیان کو دیکھتے کندھے اچکائے۔
ہاں! اس نے کہا تھا وہ ایسا کرے گا۔
“اور آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ آپ جا رہی ہیں وہاں؟” غازیان اعجاز نے سنجیدگی سے پوچھا۔
بابا!
“سب اتنا اچانک ہوا وہ میں نے اسے۔۔۔”
“آپ کو پتا ہے حیات حالات کتنے بُرے ہو سکتے تھے اگر وہ اس رات آپ کو نہ پہچانتا اور اپنے ساتھ نہ لے کر جاتا۔۔۔۔۔؟”
“تو اسے نہیں تھا کہ اس کی بیوی کیسی دِکھتی ہے؟”
“وہ تو بہت بھرم مار رہا تھا کہ میری ہر حرکت پر نظر ہے اس کی۔۔۔”وہ منہ بسوڑتے بولی تو وہ دونوں لاجواب ہوئے۔
“ہمارا نکاح کب ہوا تھا؟”
“میر ابراہیم اور میرال کے عمرے پر جانے سے پہلے!”
ایسے ہی باتوں میں وقت گزر گیا۔
آپا۔۔۔! الہام اسے باہر بلا رہی تھی وہ اٹھ کر باہر نکلی تو حازق اور اس نے اس پر پانی کا پائپ کھولتے حملہ کیا تھا۔
“اففففف۔۔۔۔”
رُکو!
لیکن انہوں نے اسے بھگا کر چھوڑا تھا۔
الہام تمہارا فون بج رہا ہےا حازق نے اسے بتایا تو وہ پائپ حازق کو پکڑاتی اپنی کال اٹھانے گئی جو اس کے حساب سے آحل کی طرف سے تھی۔
“اسلام علیکم!”
“وعلیکم السلام لٹل پرنسس ۔۔۔”
حاد بھائییییییی! وہ چیخی تو مخالف مسکرایا۔
“آپ سے میں ناراض ہوں آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ آپا آپ کے ساتھ ہیں؟”
“راز کی باتیں ہر کسی کو نہیں بتائی جاتیں۔”
“آپ کے بال اب بھی لمبے ہیں؟”
بالکل!
“میں ویڈیو کال کرتی ہوں اٹھائیں اسی بہانے اپنی بیوی کو بھی دیکھ لیں جن کا ہم نے برا حال کر دیا ہے۔”
اس نے کہہ کر وائس کال کاٹی اور ویڈیو کال کی جو اٹھا لی گئی تھی۔
“آپ تو اور ہیڈسم ہو گئے ہیں!” الہام نے کہا تو حاد نے سر جھکاتے تعریف وصول کی۔
“بہن کہاں ہے تمہاری؟”
وہ دیکھیں۔۔۔۔۔الہام نے خود سائیڈ پر ہوتے فرنٹ کیمرہ سے ہی اسے سامنے کا منظر دکھایا جہاں حازق اب بھی حیات پر پائپ سے پانی پھینک رہا تھا۔
حیات کا حلیہ دیکھتے اس نے جبڑے بھینچے جو اب بھی کُھلی سی شرٹ اور نیچے ٹراؤزر میں تھی۔
“اپنی بہن کو فون دو جا کر۔۔۔۔۔”اس نے سنجیدگی سے کہا تو الہام نے زبان دانتوں تلے دبائی اسے یہ سب نہیں دکھانا چاہیے تھا۔
کیونکہ آحل کو بھی تو حازق پسند نہیں تھا تو میر حاد کو کیسے ہوتا۔
آپا؟
حیات نے اسے دیکھا اور سائیڈ پر ہوئی۔
“میر بھائی کو فون کریں اور اپنی خیر منائیں۔”
“کیوں؟ کیا ہوا ہے؟”
“وہ میں نے ویڈیو کال۔۔۔۔۔”
حیات جان گئی کہ کیا ہوا ہے۔۔۔۔
اففففف! وہ تو پہلے ہی اتنا سڑو ہے الہا۔۔۔۔حیات نے اسے ایک ہاتھ جڑتے اندر کی طرف بڑھتے کہا۔
اندر جاتے ہی اس نے میر حاد کو فون ملایا جو پہلی ہی بیل پر اٹھا لیا گیا تھا۔
“کہاں تھی؟”
میں۔۔۔وہ۔۔۔اسے سمجھ نہ آیا کہ کیا کہے۔
“اسلام علیکم!”
وعلیکم السلام! لیکن یہ میرے سوال کو جواب نہیں ہے میں پوچھ رہا ہوں کہاں تھی اور کیا کر رہی تھی؟
باہر لان میں۔۔۔اچھوو۔۔۔چھینکتے اس نے خود پر شال اوڑھی۔
“تمہارا دماغ مجھے درست کرنا پڑے گا؟”
میں۔۔۔۔
“تمہیں اندازہ ہے تم کیا کر رہی ہو حیات میڈیم۔۔۔وہ بچہ نہیں ہے جس کے سامنے تک اس حلیے میں تھی۔”
وہ چھوٹا ہے ہم سے حاد۔۔۔۔وہ منمنائی۔
“اتنا چھوٹا نہیں ہے جتنا تم بہنیں اسے سمجھتی ہو۔۔۔۔آحل سے بات ہوئی تھی میری وہ بھی مجھے بتا رہا تھا بابا سے بات کرتا ہوں میں کہ اس کا آنا جانا بند کریں۔۔۔”وہ سنجیدگی سے بول رہا تھا۔
اچھووو۔۔!
“کپڑے بدلو اور پھر مجھے کال کرو۔۔۔۔”اس نے نیا حکم صادر کرتے کال کاٹ دی تو حیات نے فون کو گھورا۔
سڑیل!
پھر چینج کرتے اس نے بال سکھائے اور کمفرٹر میں گُھس گئی کیونکہ اسے ٹھنڈ لگ رہی تھی۔
اسے کال ملائی جو اٹھا لی گئی تھی شاید آج وہ کچھ زیادہ ہی فارغ تھا یا وہ حیات میڈیم کو آج بخشنے کے موڈ میں نہیں تھا۔
“تمہیں دوبارہ اس طرح کے کپڑے پہنے نا دیکھوں میں۔۔۔۔دوسرے آرڈر کر دیے ہیں میں نے کل تک وہاں پہنچ جائیں گے۔۔۔”
اوکے! وہ بس حیرت سے اتنا ہی کہہ پائی۔
“اور میرے حجاب؟”
“تمہیں وہ چاہیے؟” حاد نے طنزیہ کہا تو وہ شرمندہ ہوئی اس دن کیسے وہ کہہ رہی تھی کہ وہ بھی انہیں اوڑھے گی۔۔۔اور اب!
“میں بابا سے منگوا لوں گی!”
کر دیے تھے آرڈر۔۔۔وہ آگئے ہیں یہیں گھر پر پڑے ہیں۔
بال سکھائے ہیں؟
جی!
“کافی بنوا کر پیو!”
اوکے!
“جرابیں پہنیں ہیں؟”
نہیں!
اٹھو پہنو! چادر اوڑھو اور حیات نے اس سے بات کرتے ہی یہ سب کیا تھا۔
اممم۔۔۔
پوچھو!
وہ اپنا کام ساتھ ساتھ کر رہا تھا۔۔۔۔کل ایک اور خبر اس شخص کے خلاف نشر ہوتی اور بس اس کے بعد حکومت کی طرف سے اس کے لیے اڑیسٹ وارنٹ جاری ہو جاتے اس لیے وہ مطمئن تھا۔
“میرے آتے تک بال کٹوا لینا۔۔۔”
کیوں؟
“کیونکہ میں کہہ رہی ہوں!” اس نے اسی کا جملہ بولا تو وہ مسکرا دیا لیکن ظاہر نہ ہونے دیا۔
ٹھیک ہے!
اگر وہ اس پر حکم صادر کرتا تھا اور وہ مانتی تھی تو وہ بھی یہ سب کرنے کا پابند تھا۔
“مجھے میرے حجاب دکھاؤ جو آئیں ہیں۔”
“یہ تم تو کیا کرتی رہتی ہو؟ آپ نہیں کہا جا سکتا؟” میر نے کہا تو وہ سوچ میں پر گئی کیونکہ الہام آحل کو آپ ہی کہتی تھی اور اسے اچھا لگتا ہے۔
“کوشش کروں گی۔۔۔! اچھا دکھاؤ۔۔۔دکھائیں تو!”
“ابھی کام کر رہا ہوں بعد میں دکھاؤں گا۔۔۔۔”وہ مصروف سا بولا۔
نہیں مجھے ابھی دیکھنے ہیں۔۔۔وہ بضد ہوئی۔۔۔اور میر حاد ابراہیم جانتا تھا کہ وہ کتنی ضدی ہے اسی ضد کی وجہ سے آج وہ وہاں جا کر بیٹھی تھی۔
“دِکھاتا ہوں رکو!” وہ اپنا کام بند کرتا صرف اس کے لیے اٹھا تھا۔
اور پھر ویڈیو کال پر اسے سارے دکھائے کسی پر وہ خوش ہوتی کسی پر وہ ناک منہ چڑھا کر رد کر دیتی اور میر حاد ابراہیم صرف اس کے چہرے کے نقوش کو غور سے دیکھتا رہا۔
“میں واپس کب آؤں گی؟”
کبھی نہیں! میں نے بولا تھا تم نہیں آؤ گی واپس! وہ سنجیدگی سے بولا اور کال کاٹ دی شاید ناراضگی جتانے کا ایک طریقہ تھا۔
حیات نے منہ بسوڑا پھر کچھ سوچتے وہ الہام کے کمرے کی طرف بھاگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الہا۔۔۔؟
آپا؟
پہلے میری سنو!
نہیں پہلے میری! الہام نے اسے پاس بٹھایا۔
اچھا میری سنو پہلے۔
اچھا بتائیں آپا۔
“مجھے میر صاحب کو سرپرائز دینا ہے کچھ کیا دوں؟’
“کیوں ان کی سالگرہ ہے؟”
“نہیں! وہ مجھ سے ناراض ہیں۔۔۔میں اپنی مرضی سے یہاں آگئی وہ چاہتے تھے میں ابھی کچھ دن تک جاؤں۔۔۔”
وہ چاہتے تھے۔۔۔الہام نے شوخی سے اسے دیکھا تو حیات نے اسے ہاتھ جڑا۔
“امممم تو گھڑی دی دیں۔۔۔”
نہیں یہ تو سب کرتے ہیں کچھ خاص!
“امممم ۔۔۔بال کاٹتے والا کچھ دیں دیں۔۔۔”
“بکواس نہیں کرو الہام۔۔۔۔”وہ غصے سے بولی تو الہام سنجیدہ ہوئی۔
“ہاں۔۔۔! آپ انہیں جا کر سرپرائز دیں!”
کیسے؟
“پورے گھر کو سجا دیں اور کچھ خوبصورت سا پہن کر۔۔۔۔ان کے لیے کچھ اچھا سا بنائیں۔۔۔کیونکہ باقی چیزوں کی تو انہیں ضرورت ویسے بھی نہیں ہے۔۔۔۔اور ایسے کرنے سے وہ بے حد خوش ہوں گے۔”
“ہاں۔۔۔۔زںردست۔۔۔۔۔حیات خوش ہوئی ایسا کرتے وہ سچ میں خوش ہو جاتا۔”
“ٹھیک ہے میں انہیں بتاتی ہوں کہ میں آرہی!”
“آپا۔۔۔۔دماغ چلایا کریں یار۔۔۔انہیں بتائیں گی تو سرپرائز کیسے رہے گا!” الہام نے اسکی عقل پر ماتم کیا تو حیات نے سوچتے سر ہلایا۔
اچھا اب اپنا مسئلہ بتاؤ! حیات نے اسے دیکھتے کہا۔
“آحل رخصتی چاہتے ہیں!”
“تو کیا مسئلہ ہے اس میں یہ خوشی کی بات ہے!”
نہیں! میں ایسا نہیں چاہتی۔
“کیوں؟ تمہیں تو ان سے محبت ہے نا!”
“ہاں بہت ہے وہ میرے لیئے سب سے خاص ہیں۔۔۔لیکن مجھے ان سے ڈر لگتا ہے۔”
“کیوں وہ تمہیں مارتے ہیں؟” حیات نے شرارت سے پوچھا تو الہام نے اسے گھورا۔
حیات نے اس کے گال کھینچے۔۔۔وہ جان گئی تھی کہ وہ اس سے نہیں اس بڑی زمہ داری اور اس رشتے سے ڈر رہی تھی۔
“ایک بار تم وہاں چلی جاؤ گی تو تم سب کر لو گی الہا۔۔۔۔اور یہ وقت سب کی زندگی میں آتا ہے۔۔۔۔آج نہیں تو کل رخصتی ہو گی اور اگر آحل بھائی ابھی چاہتے ہیں تو ابھی صحیح۔۔۔۔”
“لیکن مجھے ان سے ڈر لگتا ہے۔۔۔۔”
وہ کھا نہیں جائیں گے تمہیں! حیات نے کہا تو الہام نے تھوک نگلا ۔۔۔
“الہا میرہ جان! تم انہیں پریشان مت کرو۔۔۔۔جب وہ اس قابل ہو جائیں گے سب دِلوا دیں گے تمہیں۔۔۔۔
پر آپی ان کے وہاں گیزر بھی نہیں ہے مجھے سردی لگے گی اور نہ اے سی ہے مجھے گرمی لگے گی۔”
“الہام تمہیں تو اس سے محبت نہیں ہے!”
“ایسا تو نہیں ہے” وہ بُرا منا گئی تھی۔
“جن سے محبت کی جاتی ہے ان کی حیثیت اور آسائشیں نہیں گِنی جاتی الہام۔۔۔زندگی تم نے اس انسان کے ساتھ گزارنی ہے ان آسائشوں کے ساتھ نہیں اور وہ محبت کر تو رہے ہیں اور کیا چاہتی ہو۔۔۔تم انہیں خود سے یوں بدزن کر دو گی۔۔۔ایک ایسی لڑکی سمجھی جاؤ گی جسے چیزوں سے غرض ہے رشتوں سے نہیں۔۔۔”حیات اسے سنجیدگی سے سمجھا رہی تھی۔
“کیا ایسی بات ہے؟”
“بالکل! یہ چیزیں میٹر نہیں کرتی الہام۔۔۔رشتے کرتے ہیں محبت کرتی ہے، کسی کی کئیر، عزت دینے کا انداز اور وفاداری میٹر کرتی ہے۔۔۔۔محبت نہ ہو تو ان آسائشوں کا کیا کر لو گی؟”
الہام نے سر ہلایا اس نے کبھی اس نقظہ نظر سے نہیں سوچا تھا۔
“میں سمجھ گئی ہوں! اب کچھ بھی ڈیمانڈ نہیں کروں گی” اس نے سمجھ داری سے کہا تو حیات نے اس کے گال چومے۔
“لیکن وہ بہت رعب جھاڑتے ہیں مجھ پر الہام یہاں جاؤ، یہ کیا کر رہی ہو؟ کیسے کپڑے پہنے ہوئے ہیں!” وہ اسے سب گِنوانے لگی۔
“ہاہاہا۔۔۔ان سب کا میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔۔۔’
“نجانے ہمارے شوہروں کو ہمارے کپڑوں سے کیا مسئلے ہیں لیکن کیا کریں بدلنے تو پڑیں گے” وہ بیچارہ سا منہ بناتیں بولیں پھر قہقہ لگا کر ہنس پڑیں۔
“لیکن ہم ان کے رعب میں بالکل نہیں آئیں گی” وہ چہکیں۔
باہر کھڑی رابیل غازیان اپنی بیٹیوں کے ایسے ہی مسکرانے کی دعائیں کرتی چلی گئی۔
والدین اپنی بیٹیوں کو ہر چیز دیتے ہیں سوائے ان کے اچھے نصیب کے۔۔۔
الہام نے آحل کو فون کرتے حامی بھر لی تھی رخصتی کی۔۔۔۔جس سے آحل اور وہ دونوں خوش تھے۔
