207.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

You're All Mine Episode 21

You’re All Mine by Suneha Rauf

وہ اٹھی تو وہ آحل کہیں جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا۔

“کہیں جا رہے ہیں؟”

“اتنی عزت؟” آحل مسکرا کر اس کی طرف آیا۔

“ہاں ماما نے سختی سے کہا ہے کہ میں آپ کو تم نہیں کہوں گی” وہ اس کا ہاتھ تھامتی مسکرا کر بولی۔

“میں بھی کہوں میری بیوی کو خود سے تو اتنی عقل والی باتیں نہیں آ سکتی!”

“آحللللل!!”

الہام نے منہ بسوڑ کر اسے پکارا تو اس نے کانوں میں انگلی دی۔

“شوٹ پر جا رہا ہوں!”

“ابھی؟”

الہام نے گھڑی دیکھی شام کے سات بج رہے تھے۔

“ہاں! رات کا شوٹ ہے آج؟”

“کسی لڑکے کے ساتھ؟”

“نہیں!”

“اچھا پھر ٹھیک ہے!” وہ لمبا سانس بھرتی وہیں بیٹھ گئی۔

“کیوں لڑکی کے ساتھ ہوتا تو کیا کرتی؟” آحل نے دلچسپی سے پوچھا۔

“پھر میں آپ کو گندا مندا سا بنا کے بھیجتی۔۔۔”وہ اپنا دوپٹہ اپنے اوپر پھیلاتی بولی کیونکہ سردی بڑھ رہی تھی۔

“ہاہاہا۔۔۔جاناں۔۔۔!” وہ جھک کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیتا قہقہہ لگا گیا۔

کل لڑکی کے ساتھ ہی ہے! آحل نے اسے پہلے ہی بتا دیا۔

“اممم۔۔۔اوکے!”

“کب تک آو گے؟”

“آؤ گے کیا ہوتا ہے؟”

آحل نے آئیبرو اچکائی۔۔۔وہ پہلے بھی اس کو آپ اور کبھی تم بلاتی تھی۔

“آپ جناب کب تک آئیں گے؟” الہام نے اب کی بار شرارت سے پوچھا۔

“کچھ کہا نہیں جا سکتا۔۔۔خانساماں آ گئیں ہیں جو پہلے تھیں۔۔۔تمہارے پورشن میں ہیں۔۔۔کھانا کھا کے سو جانا!”

“اوکے!”

آحل نے اپنی پڑی شال سائیڈ سے اٹھا کر اس کے اوپر دی اور دروازے کی طرف بڑھا۔

الہام آحل فیاض کو اس کا یہ کئیرنگ انداز بے حد پسند تھا۔

“واپسی پر کیا لائیں گے میرے لیے؟” اسے دروازے پر چھوڑتے الہام نے پوچھا تھا۔

“کیا چاہیے؟”

“اب یہ بھی میں بتاؤ کہ کیا چاہیے؟” الہام نے اس پر زمہ داری ڈال کر اسے خدا حافظ کہا۔

آحل نے تیزی سے کام کیا تھا کیونکہ آج واپسی پر گھر میں کوئی تھا جس سے اسے ملنا تھا۔

واپسی پر اس کے لیے پھول لیتے، ایک پینڈنٹ خریدا۔۔۔اس نے اب تک اسے نکاح کا تحفہ نہیں دیا تھا ساتھ کپ کیکس لیتے وہ رات کو ساڑھے دس گھر آیا تھا۔

تھکاوٹ بہت تھی لیکن اس سے ملنا تھا جو اپنے پورشن میں جا چکی تھی۔

وہ فوراً اس کے پورشن میں آیا جہاں وہ سو گئی تھی وہ دروازہ بند کے اس کے پاس پہنچا۔

الہا۔۔۔۔

“اٹھو بیوی!”

الہام!

لیکن وہ گھوڑے بیچ کر سورہی تھی۔۔۔آحل نے اسے جھٹکے سے اٹھا کر بٹھایا تو وہ ڈر گئی۔

“کیا ہوا؟”

“کچھ نہیں اٹھو کھانا کھاؤ میرے ساتھ آ کر۔”

میں نے تو کھا لیا تھا۔۔۔وہ نیند میں جھولتی بولی۔

اب میرے ساتھ کھاؤ۔۔۔۔اٹھو فوراً منہ دھو کر آؤ میں جا رہا ہوں۔۔۔اس کا گال تھپتھپاتا وہ چلا گیا۔

وہ دو منٹ میں اٹھنے کا سوچتی پھر سے سو گئی۔

آحل واپس آتا اسے دیکھ کر غصے میں آگے بڑھا پھر اسے اٹھا کر سیدھا کھڑا کر دیا تو وہ منہ بسوڑتے منہ دھونے چلی گئی۔

پھر اس کے پورشن میں گئی جو کھانا لگا رہا تھا۔۔۔۔اس نے بیٹھ کر اپنے ہاتھوں کو پیالے میں بھرتے کہنیاں میز پر ٹِکائیں۔

آحل کھاتے ایک آدھا چمچ اسے بھی کھلا دیتا تھا جو منہ پھلا کر کھا لیتی تھی۔

چائے بناتے اسے ساتھ لیتا وہ ٹیرس پر آ گیا۔۔۔آج وہ اسے حصار میں لیتا کھڑا تھا نہیں تو وہ کیسے فاصلے پر کھڑے ہوتے تھے دونوں کو یاد آیا۔

ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے۔

الہام نے اس کے ہاتھ سے اس کی چائے کا ایک گھونٹ لیا اور بُرا سا منہ بنایا۔

“مجھے بالکل پسند نہیں ہے چائے!”

“جی مجھے پتا ہے! تمہارے لیے کچھ لایا ہوں جاؤ میز پر پڑا ہے لے کر آؤ بھاگ کر۔”

الہام تیزی سے جا کر لے آئی۔۔۔۔کپ کیکس کھاتے اس نے باقی چیزیں آحل کو پکڑائیں۔

آحل نے ڈبے سے گولڈ کا پینڈنث نکالا اور اسے پہنایا جو اس پر بے حد جچا تھا۔

“تھینک یو۔۔۔۔۔بہت خوبصورت ہے” الہام نے اس کے گال کھینچتے مسکرا کر کہا۔

“آگے سے کہیں آپ سے کم خوبصورت ہے یہ”

“توبہ کرو! کہاں سے سیکھتی ہو ایسی فضول باتیں؟” آحل نے اس کے سر پر چت لگائی۔

“تو کیا میں خوبصورت نہیں ہوں؟”

“بس کرو جاناں”! آحل نے اس کے بال بگاڑتے اسے ساتھ لگایا۔۔۔جو ڈرامہ کوئین بنی تھی اس وقت۔

“اب تو آپ امیر ہو جائیں گے مجھے زیادہ زیادہ تحفے دیں گے ہینا۔۔۔”وہ ندیدوں کی طرح اسے دیکھتی بولی تو آحل نے اسے گھورا۔

“جو چاہیے ہو مجھے بتا دینا!”

آحل نے اس کے گال کھینچے اور باتیں کرتے پھول دے کر اسے سونے بھیج دیا وہ خود بھی تھک گیا تھا اب سونا چاہتا تھا بس۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گارڈ فون نہیں اٹھا رہا تھا۔۔۔وہ جان گیا تھا کہ بارش ہو رہی ہے وہاں اور بارش کے موسم میں اکثر ایسا ہو جاتا تھا۔

لیکن وہ اتنی خوفزدہ کیوں تھی۔۔۔اس کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں بھینچا۔

دو گھنٹوں کا سفر وہ تیزی سے کرتا وہاں پہنچا تھا۔۔۔۔صد شہر وہ آج ہی آیا تھا سپین کا کام وہ کر چکا تھا جس کا کوئی نتیجہ سامنے نہ آیا تھا۔۔۔۔

کل اسے واپس روانہ ہونا تھا لیکن کسی اور جگہ۔

اندر آتے اس نے بنا گارڈ کو ڈھونڈے اس کے کمرے کی طرف قدم بڑھائے جہاں وہ موجود نہیں تھی۔

پھر اپنے کمرے کا دروازہ کھولا جہاں اسے اپنے بستر پر کوئی محسوس ہوا۔

اس کے پاس جاتے وہ اسے متوجہ کرتا کہ وہ چیختی اس سے دور ہوئی تھی۔

“دور۔۔۔رہو۔۔۔”

حیات!

اپنے نزدیک اس شخص کی آواز سنتے وہ سب چھوڑتے اس کے حصار میں آتے ہچکیوں سے رونے لگی تھی۔

“کیا ہو گیا ہے؟”

لیکن وہ کچھ نہیں بولی تھی۔

میر نے جوتے اتارتے پاؤں بستر کے اندر کیے اور ٹیک لگائی کیونکہ وہ خود بھی تھکا ہوا تھا کافی۔

“آئی ہیٹ یو!”

وہ بولی تو میر نے اس کا چہرہ نیم اندھیرے میں اپنے سامنے کیا۔

پھر اپنے فون کی ٹارچ چلا کر سائیڈ میز پر رکھی۔

اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں تھاما اور آنسو صاف کیے۔

“کیوں ڈر گئی ہو اتنا۔۔۔یہاں ایسا ہو جاتا ہے بارش ہو رہی ہے باہر۔۔۔۔پھر بھی میں گارڈ سے کہہ کر کچھ کرواتا ہوں اب ایسا نہیں ہو گا۔”

رکو مجھے دیکھنے دو وہ کہاں ہے۔۔۔جو میرا فون بھی نہیں اٹھایا اس نے اب کہ اس کی آواز میں سختی تھی۔

لیکن حیات نے ایسا ہونے نہ دیا۔۔۔کیونکہ وہ اس سے چپک کر بیٹھی تھی۔

میر نے اسکے بالوں پر بوسہ دیتے اس کی قمر سہلائی۔

“تم اب نہیں جاؤ گے!”

“میرا کام ہے حیات!”

“نہیں تم نہیں جاؤ گے۔۔۔۔! وہ بضد تھی”

میر نے جھٹکے سے اسے اپنے ساتھ لٹاتے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔

“سردی لگ رہی ہے!” اس کے کہنے پر کمفرٹر اس کے اوپر اوڑھا۔۔۔۔لیکن اپنا حصار اب تک نہ توڑا تھا۔

شاید وہ دونوں ایسا نہیں چاہتے تھے۔

وہ عنودگی میں جا رہی تھی لیکن میر کی نگاہیں اس کے چہرے کا طواف کر رہی تھی۔۔۔

جہاں چہرہ پورا گلابی ہو چکا تھا آنکھیں ہلکی سوجن کا شکار تھیں، ناک بھی لال تھا اور لب سوکھے تھے۔

وہ دو لمحے کے لیے سوچتا رہا پھر جھکا اور اس کے لبوں سے خود کو سیراب کرنے لگا۔

حیات نے اپنے ہاتھ اس کے سینے پر رکھتے اسے دور کرنا چاہا تھا جو کہ نہیں ہوا تھا۔

“میر۔۔!” اس کے دور ہوتے ہی حیات نے گہرا سانس بھرا تھا۔

“ششش۔۔۔! خاموش رہو۔۔! یہ سکون نجانے کب دوبارہ میسر ہو۔”

حیات گہرے سانس لیتی صرف اس کے لمس کو محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔

میری پرفیوم لگائی ہے۔۔۔میر نے سر اٹھاتے اس سے پوچھا۔

ہاں! وہ کچھ دیر پہلے جو ہوا تھا اس خوف سے باہر نکل آئی تھی۔

“کیوں؟”

“مجھے اچھی لگتی ہے۔”

“تو اپنی خوشبو بھی بدلے میں مجھے دو۔۔۔۔”

وہ اس کے بال کان کے پیچھے اڑساتا کوئی سحر ہی طاری کر رہا تھا اس پر۔

وہ کیسے؟

وہ اسے خود میں بھینچتا اس کے بالوں کی خوشبو خود میں اتارتا اس خاموش کروا گیا تھا۔

اب حیات میر کو باہر برستی بارش سے خوف نہیں آیا تھا کیونکہ اس کے کان میں صرف وہ سرگوشایاں تھیں جو میر صاحب کر رہے تھے۔

اس نے مسکراتے اس کی کسی بات پر سر ہاں میں ہلایا اور بند کھکی آنکھوں سے اسے آخری بار دیکھ کر آنکھیں موند لیں۔

وہ اسے ساری رات ہی تو دیکھتا رہا تھا۔۔۔بے حد تھکاوٹ ہونے کے باوجود بھی وہ سویا نہیں تھا کیونکہ اسے جانا تھا اب۔

وہ جانتا تھا وہ ناراض ہو گی لیکن ضروری تھا۔

اس کا سر اپنے کندھے سے ہٹاتے اپنے تکیے پر رکھا اور کئی لمحے اسے دیکھتا رہا۔

جیسے خود کے لیے کئی دنوں کی خوراک تیار کر رہا ہو۔۔۔پھر اس کے بالوں کو کئی بار چومتے اس کے ماتھے پر لب رکھے۔

وہ نیند میں ہی مسکرائی تھی۔۔۔۔وہ اس کی مسکراہٹ کو دل میں بساتے اٹھا اور اپنا فون لیتا کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا جہاں دور سے آزانوں کی آواز آرہی تھی۔

“اس سکون کا شکریہ۔۔۔۔”

آسمان میں دیکھتا وہ مطمئن سا مسکرا دیا پھر مُڑ کر آخری بار اسے دیکھا اور باہر نکل گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“بابا؟”

“کرو کال۔۔۔انہیں بُلا لیتے ہیں۔۔۔۔”

وہ ناراض ہوں گے۔۔۔وہ یک دم پریشان ہوئی۔

“نہیں ہوتے۔۔۔۔میں انہیں سنبھال لوں گا۔۔۔”وجدان نے اسے حوصلہ دیا تو اس نے انہیں کال کی۔

“اسلام علیکم بابا جان!”

“وعلیکم السلام کیسی ہے میری دھی؟”

“میں ٹھیک ہوں بابا! اماں کیسی ہیں؟”

“سب ٹھیک یے؟ تو بتا میرا پتر کب آ رہی ہے بہت یاد آ رہی تھی تیری ہم دونوں کو۔”

“بابا میں نہیں اب آپ آئیں گے دونوں!”

“اچھا! لیکن ابھی تو میرا پتر یہاں کام بہت ہے۔”

“میری زندگی کا اہم فیصلہ میں آپ دونوں کے بغیر لے چکی ہوں۔۔۔لیکن اسے پایہ تکمیل تک آپ ہی پہنچا سکتے ہیں۔”

بابا میں۔۔۔۔۔اس سے بولا نہیں گیا تو وجدان چوہدری نے اس کے ہاتھ سے فون لیا۔

اسلام علیکم انکل!

وعلیکم السلام!

“میں وجدان چوہدری بات کر رہا ہوں انکل۔۔۔جہاں چاہت کام کرتی ہے وہاں کا بوس ہوں میں۔”

“جی جی بیٹا آپ کے بارے میں بتایا تھا میری چاہ نے۔۔۔۔کیا کوئی مسئلہ ہے چاہ سے کوئی غلطی سرزرد ہو گئی ہے؟”

“نہیں انکل!”

میری گاڑی آپ کو لینے آ جائے گی ابھی۔۔۔آپ پلیز یہاں آ سکتے ہیں، میں وقت پر آپ کو واپس بھی بھجوا دوں گا۔

“ٹھیک ہے جیسا تم لوگ مناسب سمجھو!”

وجدان چوہدری نے ڈرائیور کو بھیج کر باقی سب انتظام پورے کیے تھے۔

چاہت کچھ بھی زیادہ نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔۔وہ خوش تھی بے حد۔۔۔محبت کا حصول بہت خوش کن احساس ہے اس نے مان لیا تھا۔

کھڑکی کے پاس بیٹھی وہ تب کی اپنے باب اور ماں کی شکل دیکھنے کے انتظار میں تھی۔

ان کے گاڑی سے نکلتے ہی وہ بے تابی سے بھاگتی لپک کر ان سے ملی تھی۔

اس کے باپ نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا تو اس کی ماں نے اس کے بال چومے۔

اکلوتی اولاد تھی کیسے نا خوش ہوتے وہ اس سے مل کر۔۔۔لیکن یہاں آنے کا مقصد نہیں سمجھے تھے وہ۔

“پتر یہ کس کا گھر ہے؟” اس کے باپ نے پریشانی سے استسفار کیا۔

“اندر تو آئیں”

انہیں اندر لے جاتے اس نے سب بتا دیا تھا جو ہوا تھا کچھ بھی نہیں چھپایا تھا۔

“اتنا بڑا فیصلہ تو نے خود لے لیا ہمارے بغیر۔۔۔”اس کی ماں نے غصے سے کہا۔

“نہیں اماں!”

“صرف محبت کی ہے! فیصلہ وجدان نے لیا ہے اور نکاح سے بہتر کیا ہے وہ مجھے عزت دینا چاہ رہا ہے۔”

اس کے باپ نے اسے دھیان سے دیکھا۔۔۔اس کے چہرے کی رونق اور ہونٹوں پر مسکراہٹ اس بات کی گواہ تھی کہ وہ بے حد خوش ہے۔

“تُو خوش ہے؟” اس کے باپ نے اس پر گہری نگاہ ڈالتے پوچھا۔

“بہت!”

“اسے بول مجھ سے آ کر ملے!” اس کے باپ نے کہا اور باہر لان میں نکل گئے۔

وجدان چاہت کے بتانے پر ان کے پاس جا کر بیٹھا۔

اسلام علیکم! ان کے ہاتھ تھامتا پاس کی کرسی پر بیٹھا۔

“میں وہاں آ کر آپ سے آپ کی بیٹی مانگنا چاہتا تھا لیکن اتنا وقت نہیں ملا۔۔۔میں اسے فوراً نکاح میں لینا چاہتا ہوں۔”

“میری وجہ سے جو اس کے مقام پر آنچ آئی ہے۔۔۔نکاح کر کے میں وہ واپس لوٹانا چاہتا ہوں۔”

“تو کیا بس اسی مقصد کے لیے اسے نکاح میں لے رہو ہو؟” وہ اپنے جھریوں والے ہاتھ کو اس کے ہاتھ میں دیکھتے بولے۔

“نہیں محبت ہے! شاید میں اس جزبے کو اچھے سے بیان نہ کر پاؤں جو میں اس کے لیے محسوس کرتا ہوں” وہ نظریں جھکاتا بولا۔

“وہ میری اکلوتی بیٹی ہے، میری دھی، میری جان! “

“میں خوش رکھوں گا اسے وعدہ کرتا ہوں” وہ کرسی سے اٹھتا دوزانوں ان کے قدموں میں گھٹنوں کے بل بیٹھا تو وہ مسکرائے۔

“ہم تو عام لوگ ہیں پتر۔۔۔کیا کر سکتے ہیں سوائے بھروسہ کرنے کے۔”

“تُو میرا بھروسہ نہ توڑیں بس!” وہ اس کے ہاتھ پر گرفت سخت کرتے بولے۔

“میں وعدہ کرتا ہوں! آپ میرے بارے میں پتا کروا سکتے ہیں۔”

“میری زندگی میں میری دادی کے علاؤہ چاہت پہلی صنفِ نازک ہے جس سے میں نے محبت کی ہے۔”

“آپ کی دادی!”

“میں جلد ان سے ملواؤں گا آپ کو!”

“میں نے اپنا بچپن حتیٰ کہ ساری زندگی نہایت سادہ گزاری ہے۔۔۔۔اپنوں کے بغیر، احساسات کے بغیر، محبت کے بغیر۔۔۔چاہت وہ رشتہ ہے جس نے مجھے احساس دلایا کہ کوئی مجھ سے محبت کر سکتا ہے، مجھے محبت پر بھروسہ نہیں تھا مجھے لگتا تھا یہ افسانوی باتیں ہیں لیکن اس کی محبت بہت پاک ہے کہ میں بھی اس کی گرفت میں آ گیا۔”

“میں بڑے بڑے دعوٰے نہیں کروں گا لیکن اسے خوش رکھوں گا میں وعدہ کرتا ہوں۔”

خالد صاحب نے اس کے سر پر پیار دیا۔

“میں نے بھروسہ کیا۔۔۔ہم تو عام کسان ہیں چھوٹے گاؤں سے تعلق رکھنے والے۔۔۔ہمارے ہاں زبان کا بہت پاس ہوتا ہے۔۔۔تیری زبان پر ہم نے بھروسہ کیا۔”

“اپنی دھی، اپنی جان، اپنی اکلوتی اولاد ہم نے تجھے دی۔”

وہ مسکرایا پھر ان کے ہاتھ چومتا کھڑا ہو گیا۔

وجدان چوہدری چاہت خالد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا اس نے خود سے عزم کر لیا تھا۔

“میں تیاری دیکھ لوں!”

چاہت نے اسی کا دلوایا سرخ جوڑا پہنا تھا جو بالکل بھاری نہ تھا۔

کاجل لگائے، ہلکی لسپٹک اور سر پر دوپٹہ اوڑھے وہ تیار تھی۔۔۔بھاری میک اپ کروانے سے اس نے منع کیا تھا۔

لیکن وہ اس میں بھی جازب نظر لگ رہی تھی۔۔۔۔اسے نکاح کے لیے بٹھا دیا گیا تھا اب صرف وجدان چوہدری کا انتظار ہو رہا تھا۔

وہ خوش تھا بے حد۔۔۔۔مولوی صاحب کے آتے ہی وہ بھی اندر کی طرف بڑھا لیکن مسلسل بجتے فون نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔

“وجدان!”

میں بعد میں بات کرتا ہوں!

اس نے اسد کو کہا زید کی بھی مسلسل کالز آ رہی تھیں۔

اس نے اپنے نکاح کا کسی کو نہیں بتایا تھا ابھی۔

اس کے اپنے گھر کے سارے ملازم گواہ تھے اور چاہت کے والدین۔

“بے حد ضروری بات ہے!”

“بعد میں ہو سکتی ہے اسد!”

نہیں زید بھی تم سے رابطہ کرنا چاہ رہا تھا۔۔۔آج تم آفس بھی نہیں آئے۔

“فورن کمپنیز کے لوگ آج جانچ کے لیے آئے تھے۔”

“ہاں تو چاہت والی پرفیوم کا نیا ٹیسٹر جو ہم نے اپروول کیا تھا وہ دکھا دو۔”

“دکھا دیا تھا لیکن کیا تم جانتے ہو کہ ڈیل کِسے ملی ہے؟”

“آفکارس ہمیں ملنی تھی۔۔۔چاہت کی پرفیوم کا کوئی مقابلہ نہیں۔”

“بالکل اس کی پرفیوم کا کوئی مقابلہ نہیں لیکن یہ ڈیل فلیئر کمپنی کو ملی ہے۔”

وجدان نے مٹھایاں بھینچی۔۔۔وہ سب سے بڑے مخالف تھے وجدان چوہدری کی کمپنی کے۔

“یہ کیسے ممکن ہے؟ کیا ان کی پرفیوم ہم سے بہتر تھی۔”

“بالکل!”

“کیا تم جاننا چاہو گے انہوں نے کون سا ٹیسٹر دیا ہے؟”

وجدان سُنتے چاہت کو دیکھ رہا تھا جو اپنی ماں کی نجانے کس بات پر مسکرا رہی تھی۔

خوبصورت! اس کے لبوں سے ادا ہوا لیکن وہ مسکرا انہ سکا۔

“اب تو ان کو مل چکا ہے اسد۔۔۔۔کیا فائیدہ اس بات کو ڈسکس کرنے کا؟”

“انہوں نے وہ ٹیسٹر دیا ہے جو چاہت کا اپنا پرسنل پرفیوم تھا۔”

وجدان چوہدری کو لگا اس نے غلط سنا ہے۔

“کیا بکواس ہے؟ دماغ درست ہے تمہارا؟”

بالکل! وہی ٹیسٹر۔۔۔۔میں تو فوراً پہچان گیا تھا اس پرفیوم کو! اس دن تم نے میرا ٹیسٹر توڑ دیا تھا لیکن اس میں تھوڑا سا بچا تھا جو میرے پاس تھا۔

میں نے خود دونوں خوشبوؤں کا موازنہ کیا ہے وہ وہی ہے لیکن چاہت انہیں کیسے دے سکتی ہے؟

“انتقام!”

اس کے لبوں سے برآمد ہوا اس نے کال کاٹ دی۔

وجدان چوہدری نے سامنے بیٹھی چاہت کو پھر سے دیکھا۔

“ایسا انتقام لیا اپنی رسوائی کا تم نے چاہت خالد۔۔۔۔”اس نے آنکھیں بند کر کے کھولیں۔

کیا اسے اس دھوکے کے بعد بھی وہ سب کرنا تھا جس کے لیے وہ بے حد خوش تھا۔

“کیا اسے یہ نکاح کرنا تھا یا اسے ایسے ہی چھوڑ جانا تھا؟” اس کی دماغ کی رگیں تنی آنکھیں شدتِ ضبط سے سرخ پر گئیں۔

“چاہت خالد!”

“ایک خوشبو کی طلب کی تھی تم سے۔۔۔تم نے اس میں بھی خیانت کر دی۔۔۔وجدان چوہدری یہ بات کبھی نہیں بھول پائے گا۔۔۔ایسا انتقام۔۔۔۔لیکن اب میری باری ہے اور مجھے یقین ہے وجدان چوہدری کی بے رخی تم برداشت نہیں کر پاؤ گی”