You're All Mine by Suneha Rauf NovelR50405 You're All Mine Episode 8
Rate this Novel
You're All Mine Episode 8
You’re All Mine by Suneha Rauf
الہام نے سارا دن اس لڑکی کے بارے میں سوچا تھا اسی لیے کالج بھی نہیں گئی تھی۔
“الہام؟”
“جی؟”
آحل کی آواز سنتے وہ فوراً باہر آئی تھی۔
“جانا نہیں ہے آپ نے کالج؟”
نہیں!
“کیوں؟”
آج میرا دل نہیں ہے نا۔۔۔۔وہ معصومیت سے بولی تو وہ سر ہلا گیا۔
“آپ میرے لیے سینڈوچ بنائیں میں آرہی ہوں” وہ ایک نئی فرمائش کرتی اندر غائیب ہو گئی۔
اس نے سر نا میں ہلایا اور اس کا کہا ماننے چلا گیا اس کی فرمائش تو سر آنکھوں پر۔۔۔اس کے دل سے آواز آئی تو وہ مسکرایا۔
وہ تیزی سے اندر آئی اور یہاں وہاں دیکھنے لگی وہ کچن میں تو نہیں تھا۔
اندر کمرے میں آئی اور یہاں وہاں دیکھا شاید وہ واش روم میں تھا اس کے کپڑے باہر پڑے تھے بیڈ پر۔
اس کو باہر نکلتے دیکھ وہ چیختی باہر بھاگ گئی تو وہ بھی ڈر گیا۔
“کیا ہو گیا تھا چیخ کیوں رہی تھیں؟” باہر آتے اس سے استسفار کرنے لگا۔
وہ آپ نے شرٹ نہیں۔۔۔۔انگلیوں سے کھیلنے لگی۔
تو تمہیں کس نے کہا تھا اندر آؤ۔۔۔
“اچھا چھوڑیں نا۔۔۔مجھے بھوک لگی ہے آپ نے اب تک میرا سینڈوچ نہیں بنایا؟”
بنانے لگا ہوں۔
آحل؟
“بولو! “ہاں اس کا یوں نام لینا اس کو پاگل ہی تو کر دیتا تھا۔
آپ کی جو وہاں بلیک چیک شرٹ پڑی تھی۔۔۔وہ آنکھوں کو گھماتی بولی۔
“ہاں! وہ پچھلے ہفتے میں نے لی تھی کیا ہوا؟”
کیا آپ نے وہ اب تک پہنی ہے؟
ہاں ایک بار! جب امّی سے ملنے گیا تھا۔
“آپ وہ مجھے دے دیں” وہ تیزی سے بولی۔
کیوں؟ وہ حیران ہوا تھا ایسے اس نے پہلے کبھی کچھ نہیں مانگا تھا۔
“وہ مجھے پسند آئی ہے نا۔۔”
وہ بریڈ چھوڑتا بنا سوچے اندر گیا اور شرٹ لا کر اسے تھمائی۔۔۔اسے پسند تھی وہ اسے کیوں نا دیتا وہ اسے نہیں بتا سکا کہ یہ اس کی پہلی برینڈڈ شرٹ تھی جو اسے بے حد پسند تھی۔
یہ لو رکھ لو! اسے فوراً پکڑائی تو وہ کھلکھلائی۔
“تھینک یو سو مچ! “
“یور ویلکم گرل۔۔۔”وہ ہلکا سا جھکا تو وہ مسکرائی۔۔
زندگی حسین لگنے لگی تھی یک دم۔۔۔سب بدل گیا تھا جیسے دونوں کے لیے۔۔۔دونوں کے لیے سب کچھ بس اب ایک دوسرے کی زات میں رکھا تھا۔
سینڈوچ کھاؤ اب آ کر۔۔۔آحل نے اسے آواز دی تو وہ جو اس کا کمرہ دیکھ رہی تھی فوراً اس کے پاس گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسے لے کر ڈانس فلور سے واپس آیا۔۔۔اب وہ اپنے ساتھی کاروباری لوگوں سے ملنے لگا تھا اور وہ ایک جگہ جا کر بیٹھ گئی تھی۔
دوپٹے کا خاص خیال رکھا تھا اس نے۔۔۔لیکن نظریں اسی کا طواف کر رہی تھیں۔
“مس چاہت نا؟”
وہاب بلوچ اس کے قریب آتے بولا۔
جی! وہ شائستگی سے بولی۔
“آپ غالباً وجدان چوہدری کی پرسنل اسسٹنٹ ہیں؟” اس کے سوال کے جواب میں شک تھا۔۔۔ کیسا وہ سمجھ گئی۔
“نہیں! صرف ایک عام اسسٹنٹ زاتی نہیں۔۔۔”وہ اپنا موقف اچھے سے رکھنا چاہتی تھی۔
عام حالات میں زاتی سیکرٹری کے کچھ اچھے خیالات نا تھے لوگوں کے ذہنوں میں اتنا تو وہ یہاں شہر میں آ کر جان گئی تھی۔
“ہماری کمپنی آپ کو ایک آفر دینا چاہے گی۔”
“کیسی آفر؟ “
وجدان چوہدری نے نظر گُھماتے اسے دیکھا لیکن ساتھ وہاب بلوچ کو دیکھتے ہونٹ بھینچے۔
“آپ کو یقیناَ پسند آئے گی۔۔۔۔آپ اپنی کوئی نئی خوشبو ہمیں دیں سارے رائٹس آپ کے اور منہ بولی قیمت بھی۔”
“نہیں میں ایک کمپنی میں کام کر رہی ہوں پہلے سے!” وہ ہچکچائی۔
“تو اس کام کے اختتام پر آپ نیا کام ہمارے ساتھ شروع کر سکتی ہیں” اس شخص نے کہا۔
“سچ کہوں سر تو ابھی میرا آغاز ہے ناجانے میری پہلی خوشبو بھی لوگ پسند کرتے ہیں یا نہیں” اس نے اپنا ڈر سامنے لاتے کہا۔
تو کیا ہوا! پہلا نہ سہی دوسرا یا تیسرا سہی۔
“ویسے آپ کی پہلی خوشبو کا کوئی ٹیسٹر ہے آپ کے پاس؟”
نہیں! اب وہ تنگ آگئی تھی اس کے سوال سے۔
وجدان چوہدری اس میز کو چھوڑتا ان کے پاس ہی کی میز پر دوسرے کولیگ سے ملنے آیا۔
نگاہیں گاہے بگاہے انہیں پر جا رہیں تھیں۔
اووو!
وہ اس پر جھکا تو وہ جھٹکے سے سیدھی ہوئی پیچھے چونکے کھانے کا میز تھا تو وہ ہٹ بھی نہ سکی۔
اسی لمحے وجدان چوہدری نے انہیں دیکھا۔
وہاب بلوچ نے پیچھے سے جوس کا گلاس اٹھاتے اسے مسکراتے دیکھا تو اس نے تب کا روکا سانس ہوا میں چھوڑا۔
“کون سا پرفیوم لگایا ہے؟”
وجدان چوہدری نے مٹھیاں بھینچی۔۔۔۔نہیں کسی کی رسائی نہیں۔
“یہ میرا خود کا بنایا ہے۔۔۔”
کیا سچ میں؟ وہاب بلوچ کو بہت کم چیزیں ایسے ٹھٹکاتی تھی اسی لیے وہ سُن کر حیران ہوا۔
“جی!”
چاہت! وجدان چوہدری اس کے قریب آیا اور اس کا ہاتھ تھاما۔
“اگر کوئی اور سوال بچا نہ ہو تو اب ہم اجازت چاہیں گے؟” وجدان نے سرد لہجے میں کہا۔
اممم۔۔۔!
“گفتگو تو اچھی ہماری چل رہی تھی لیکن تم چاہتے نہیں ہو شاید کہ میں تمہاری پرسنل اسسٹنٹ سے بات کروں” اس نے اُن کے ہاتھوں کو دیکھتے کہا۔
“بالکل! صحیح سمجھے ہو!”
“تو مطلب مس چاہت ہم جیسوں سے بات نہیں کریں گی؟”
یہ اُسکی مرضی ہے۔۔۔۔وجدان نے چاہت کو دیکھتے کہا۔
تو ٹھیک ہے اسے کرنے دو وہاب بلوچ بولا۔
“اممم۔۔۔نہیں اب مجھے جانا ہے۔۔۔۔”چاہت نے وجدان چوہدری کو دیکھتے کہا۔
ٹھیک ہے!
” لیکن مس چاہت یہ خوشبو زبردست ہے میری آفر کے بارے میں سوچیے گا اور اگر یہ پرفیوم آپ ہمیں دیتی ہیں تو میں اپنے نجی شئیرز میں آپ کو پارٹنر بنانے کو تیار ہوں۔”
وجدان چوہدری نے جھٹکے سے سر اٹھاتے وہاب بلوچ کو دیکھا۔
اتنی بڑی آفر! ہاں وہ ایسا شاید کر بھی دیتا۔
“چاہت وہ خوشبو مجھے دے چکی ہے اور اس کی رسائی کسی تک ممکن نہیں چلو!”
وہ کہتا اس کا ہاتھ تھامتا اسے وہاں سے لے گیا۔۔۔ہال میں کھچا کھچ بھرے مجمعے نے وہ منظر دیکھا تھا اور حیران تھے۔
کیونکہ وجدان چوہدری نے کبھی ایسی کوئی حرکت نہیں کی تھی وہ بھی کسی لڑکی کا ہاتھ تھام کر خود محفل کو چھوڑنا یہ عام بات نہیں تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ایک ہوٹل میں سب سے علیحدہ جگہ بُک کروائی ۔۔۔یہ سب خطرے کی بات تھی لیکن وہ اس کے لیے کر گیا تھا۔
“تمہیں وہاں نہیں رہنا تھا!” اسپیکر سے آواز گونجی جو اس نے سامنے میز پر رکھا تھا اور اسے اس کی جگہ پر لٹا رہا تھا۔
“کیا کروں مجبوری ہے!” وہ بولا۔
ڈارک ویزرڈ کب سے مجبور ہونے لگا؟ مخالف کی آواز میں اس کے لیے مزاح تھا۔
“کام کی بات پر آؤ! پتا چلا کچھ؟”
“نہیں سپین میں آخری بار انہیں دیکھا گیا ہے لیکن اس کے بعد ابھی تک نہیں۔”
ٹھیک ہے ابھی مجھے بھی وقت چاہیے وہ بھی بھاگ لیں جتنا بھاگنا ہے۔
وہ کیسی ہے؟
ٹھیک ہے!
“اب تو اور خوبصورت ہو گئی ہو گی۔۔۔۔”مخالف نے قہقہہ لگاتے دریافت کرنا چاہا۔
“بکواس نہیں حد میں رہو۔۔۔تمہیں معلوم ہے میں اس طرح کے مزاق برداشت نہیں کرتا۔”
اوکے اوکے۔۔۔! معزرت مخالف نے فوراً معافی مانگی تو ایک دو اور باتیں کر کے وہ واپس اس کی طرف پلٹا۔
اس کی جیکٹ اور دستانے اتارتے خود فریش ہونے چلا گیا۔
وہ واپس آیا تو زندگی میں اسے پہلی بار دھچکا لگا تھا۔۔۔ہاں وہ اسے ہلا گئی تھی۔
وہ پسینے سے تر یہاں وہاں ہاتھ مارتی اپنے ہی بال نوچنے کے در پر تھی۔
وہ تیزی سے اس کے پاس آیا وہ کچھ بول رہی تھی۔
“حادددد۔۔!”
وہ تھم گیا۔۔۔
“مجھے نفرت ہے۔۔۔نفرت ہے تم سے۔۔۔شدید نفرت۔۔۔میں مر کر بھی تمہیں نہیں دیکھوں گی۔۔۔۔تم نے مجھے سالوں ازیت میں مبتلا رکھا ہے۔”
اس نے آنکھیں زور سے بھینچتے اپنے اندر اٹھتے اشتعال کو کم کرنا چاہا۔
اس کے قریب بیٹھ کر اس کے ہاتھوں کو قابو میں کیا اور اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں سے صاف کیا۔
“تم نے۔۔۔تم نے ۔۔۔مجھے۔۔۔چھوڑا۔۔۔میں تمہیں کبھی قریب نہیں آنے دوں گی۔۔”۔وہ چِلا رہی تھی۔
ڈارک ویزرڈ جھکا اور اس کے چہرے پر پھونک مارتا شاید اسے پُرسکون کرنے لگا نہیں تو اس کی باتیں اسے ہِلا گئیں تھیں۔
اس کے بالوں کو سمیٹ کر تکیے پر ڈالا اور اس کا چہرہ پھر سے صاف کرتے اس کی آنکھوں کے کناروں پر آنسوؤں کو دیکھا۔
اور پھر جھکتے وہ آنسو چُن لیے۔۔۔اس کے کندھے پر ہونٹ رکھتے اس نے سوچا۔
“مجھے صرف تم غصہ دلا سکتی ہو اور حیرت اس بات پر ہے کہ اس غصے کو اس دنیا میں ختم کرنے کی صلاحیت بھی تم رکھتی ہو پرنسس۔”
وہ وہیں اس کے پاس بیٹھا رہا۔۔۔۔آگے اسے کیا کرنا تھا وہ جانتا تھا۔
وہ تھوڑی دیر پہلے ہی اٹھا تھا اور اب ناشتہ منگوا رہا تھا جب وہ اٹھی اور اسے دیکھا۔
اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے اسے بلانا چاہا تو وہ قریب آیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آج مجھے کہیں جانا ہے کیا آپ لے جائیں گے؟” وہ شرارت سوچتی اس پر عمل کرنے لگی۔
“کہاں جانا ہے؟” وہ اپنا سینڈوچ کھاتا بولا۔
“وہ لڑکی تھی نا نیلوفر؟ جو مجھے کالج کے باہر ملی تھی اس نے اور اس کے بھائی نے مجھے گھر آنے کی دعوت دی تھی۔”
تو؟ وہ سیدھا ہوا۔
“تو مجھے جانا ہے۔۔۔اس کے بھائی کا اپنا گیمنگ سیٹ اپ ہے اس نے بتایا تھا۔”
آپ وہاں نہیں جا رہیں۔۔۔وہ سنجیدہ سا بولا۔
“کیوں؟”
“بس میں کہہ رہا ہوں میں تو نہیں لے کر جاؤں گا گارڈ کو بولو جانا ہے” تو وہ سرد سے لہجے میں بولا۔
“ٹھیک ہے میں انہیں بول دیتی ہوں۔۔۔۔”وہ چاہتی تھی وہ روکے لیکن وہ پلٹ کر اپنے کمرے میں چلا گیا تو وہ نکل آئی۔
واپس کمرے میں آتے اس نے اسکی دی شرٹ پہنی اور نیچے نیلی جینز پہنتے بالوں کی اونچی پونی ٹیل بنائی اور ہلکا سا میک اپ کیا۔
“اففف آحل فیاض اب دیکھو!”
وہ باہر نکل آئی اور گارڈ کو اونچی آواز میں آوازیں دینے لگی تاکہ وہ سُن سکے۔
اور ایسا ہی ہوا وہ لمحے سے پہلے باہر تھا اسے ایسے تیار دیکھ ہونٹ بھینچے۔
گارڈ بھی بھاگا آیا تھا اسے تیار دیکھ۔
“آپ مجھے میری دوست کے گھر چھوڑ آئیں گے؟”
اس نے تیڑھی نظروں سے آحل کو دیکھا جو اب انہیں ہی دیکھ رہا تھا۔
“کہاں جانا ہے بیٹا؟” وہ حیران تھے وہ آحل کی بجائے انہیں کیوں کہہ رہی تھی۔
دوست کی طرف۔۔۔۔آحل نہیں لے کر جا رہے انہوں نے کہا ہے میں آپ سے کہوں۔
آحل تیزی سے اس کے پاس آیا۔
“کہیں نہیں جانا اِسے۔۔۔۔”وہ الہام کو دیکھ کر بولا تو اس نے منہ بسوڑا۔
لیکن!
اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتی وہ اس کا ہاتھ کھینچتا اپنے ساتھ اندر لے گیا۔
“آحل؟”
“الہام تم نہیں جا رہی ہو۔۔۔۔۔”وہ آپ سے تم پر اپنی مرضی سے آتا تھا۔
لیکن کیوں؟ وہ اب بھی وہیں اڑی تھی۔
“کیا یہ کافی نہیں کہ میں روک رہا ہوں؟” وہ اس کے قریب آتا سنجیدہ سا بولا۔
ٹھیک ہے غصہ تو نا ہوں! الہام نے اس کا ہاتھ تھامتے کہا تو وہ تھما۔
نہیں یہ غلط ہے اس نے فوراً اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے آزاد کروایا۔
“ایسا کیوں کیا آپ نے؟”
وہ اس کی اس حرکت کے بارے میں استسفار کرنے لگی جو اسے بے حد بری لگی تھی۔
میں ان سب کا حق نہیں رکھتا۔
“تو حق رکھنے کے لیے کیا کرنا پڑے گا؟”
وہ ایک قدم اس کی طرف بڑھاتی بولی تو آحل نے جھٹکے سے اسے دیکھا۔
الہام ان سب کے لیے آپ ابھی چھوٹی ہیں اسے سمجھ نہ آیا کہ اپنا موقف کیسے بیان کرے۔
“تو آپ فائزہ کو چُنیں گے” وہ یک دم چلائی۔
الہام؟
“بتائیں! حق کی بات ہے نا تو یاد رکھیں آحل فیاض پر صرف اور صرف الہام غازیان کا حق ہے” وہ اسے دھکا دیتی بولی۔
“الہام؟ آرام سے۔۔۔۔کیا کر رہی ہو!”
“اگر تم نے۔۔۔۔تم نے کسی کے بارے میں سوچا نا آحل تو میں۔۔۔۔وہ یہاں وہاں کچھ تلاشنے لگی۔”
الہام ہوش میں آؤ اس کے بازو تھامتے وہ بولا۔۔۔تو کیا الہام بھی اس راستے کی مسافر بن گئی تھی جس کا وہ تھا۔
ہاں تھی وہ بھی۔۔۔۔یہ اس کے ہر عمل سے ظاہر ہوتا تھا۔۔۔اس کے دل میں کئی پھول ایک ساتھ کِھلے۔۔۔جب محبوب سے بدلے میں اتنی ہی محبت ملے تو دل شاد ہو جاتا ہے۔
لیکن آزمائشیں تو فرض ہیں جس پر سے انہوں نے بھی گزرنا تھا۔
لیکن وہ چھوٹی تھی اس سے۔۔۔۔اور ابھی تو وہ اٹھارہ سال کی بھی نہیں تھی۔
“میں کسی کو نہیں چُنوں گا میرا وعدہ ہے تم سے۔۔۔میں لڑوں گا جب تک ہمت رہی لیکن جان لو کہ وقت آنے پر تم نے آحل فیاض جو نا چُنا تو تم اس زندگی میں تو کبھی میرا چہرہ نہیں دیکھ پاؤں گی” وہ فرطِ جذبات سے بولا۔
“مجھے منظور ہے! الہام غازیان کا دل جسے چُن لے اس سے بغاوت نہیں کرتا۔۔۔”
وہ اس کی بات ختم ہوتے ہی بولی۔
“ایم سوری” میں نے اونچی آواز میں بات کی الہام نے فوراً سر ہلاتے کہا۔
آحل نے سر ہلاتے اس کے بالوں کو بگاڑا اور مسکرایا۔۔۔وہ اس کے لیے کیا معنی رکھتی تھی وہ اسے بتا نہیں سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم ایسا کیسے کر سکتی ہو؟” اسے باہر اپنی گاڑی کے پاس لاتے وہ دھاڑا۔
کیا؟ وہ سہم گئی۔
وہ قریب آیا تمہارے مس چاہت۔۔۔۔وجدان چوہدری کیا کر رہا تھا وہ خود شاید نہیں جانتا تھا۔
“تمہارے قریب آیا وہ۔۔۔۔”ہاتھ کیوں نہیں اُٹھا تمہارا؟ وہ اس کے بازوؤں کو گرفت میں لیتے چِلایا۔
میں ۔۔۔۔۔اس کی بڑی بڑی آنکھیں لبا لب پانیوں سے بھر گئیں۔
“دے دو۔۔۔دے دو اسے اپنی پرسنل پرفیوم شیئر ہولڈر بن جاؤ امیر ہو جاؤ گی دنیا جانے گی تمہیں۔۔۔یہی چاہتی ہو نا۔۔۔؟”
اسی لیے۔۔۔اسی لیے ہر جگہ ہر جگہ تم یہ پرفیوم لگا آتی ہو۔۔۔سرد لہجہ اور سخت ہوتی گرفت۔
“وجدا۔۔۔۔ن۔۔۔”اس نے ہچکی لیتے کہا۔
“بتاؤ؟ یہی چاہتی ہو نا؟ کتنے پیسے کتنے پیسے لو گی۔۔۔مجھے بیچو وہ پرفیوم۔۔۔”
چاہت نے آنکھوں سے بہتے پانی کو ہاتھ سے صاف کیا اور اپنا آپ اس سے چھڑواتے دور ہوئی۔
“ہر کوئی آپ لوگوں جیسا پیسوں کا ویوانہ نہیں ہوتا مسٹر وجدان۔۔۔ہم پیسہ کمانے کے لیے لوگوں کے دلّوں اور جزبات کو نشانہ نہیں بناتے۔
ہم گاؤں میں رہنے والے سادہ لوگ ہیں یہ دماغ کے گھٹیا کھیل ہم نہیں کھیلتے۔۔۔اور شاید شئیرز وغیرہ کیا ہوتے ہیں مجھے صحیح سے علم بھی نہیں۔”
لیکن!
“آج ایک بات میں نہایت صاف الفاظ میں کہنا چاہتی ہوں۔۔۔وہ پرفیوم میرا ہے اور اب وہ کسی کو تو کیا آپ کو بھی نہیں ملے گا” وہ اونچی آواز میں بولی۔
چاہت؟ سرد لہجہ لیکن مخالف کو فرق نہ پڑا۔
“وہ خوشبو میری ہ”ے وہ جھٹکے سے اسے پاس کرتا بولا۔
“میری ہے!”
بس میری!
نہیں! چاہت نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے دور کرنا چاہا۔
ہاں!
“اگر وہ مجھے نا ملی نا تو میں اسے تم سے وصول کر لوں گا یہ میرا وعدہ ہے تم سے۔۔۔۔”اسے اب کی بار آرام سے چھوڑا۔
وہ مسلسل رو رہی تھی۔
“گاڑی میں بیٹھو!”
چاہت نے قدم آتے بڑھائے۔
واپس آؤ۔۔۔اور گاڑی میں بیٹھو فوراً۔۔۔وہ چلایا۔
“آواز آہستہ رکھیں! دعوت ختم ہو چکی ہے اب آپ میرے بوس نہیں ہیں یہاں” وہ مُڑ کر کہتی آگے بڑھی اور چلی گئی۔
ڈیمممم۔۔۔اس نے گاڑی کے بونٹ پر ہاتھ مارتے ڈرائیور کو آواز دی۔
“اسے گھر چھوڑ کر آؤ۔۔۔کیسے بھی!”
جی سر!
“چاہت۔۔۔چاہت۔۔۔چاہت۔۔۔تم نہ بھی چاہو تو بھی وہ میرا ہے بس میرا۔۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میرا سر!”
درد ہو رہا ہے؟ وہ پہلی بار اس سے اتنے تحمل سے بات کر رہا تھا۔
“میری دوائی!”
“کیسی دوائی؟” دوسرا جھٹکا۔
مجھے ایسے پینک اٹیکس کے بعد میری دوا چاہیے ہوتی ہے میں ۔۔۔ ابھی۔۔۔۔دو ۔۔۔۔۔پلیزز۔۔۔
وہ خاموش ہی رہا۔۔۔لفظوں نے پہلی بار ڈارک ویزرڈ کا ساتھ چھوڑا تھا۔
“لیٹ جاؤ۔۔۔دوا یہاں سے نہیں ملے گی۔۔”
نہیں نہیں مجھے چاہیے۔۔۔۔وہ اسے دھکیلتی چلائی۔
“میرا دماغ پھٹ جائے گا۔۔۔مجھے دوائی چاہیے۔۔۔بابا۔۔۔باباااا۔۔۔۔”وہ روتی اب چِلانے لگی تھی۔
میں دیتا ہوں دوا۔۔۔اس نے آنکھیں بند کرتے پھر سے کھولیں۔
“ایک اور بدلہ پرنسس….سود سمیت نہ وصولا نا تو سکون میسر نہیں ہو گا مجھے۔”
دو جلدی!وہ کہتی اسے دیکھنے لگی جو اس کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔
اس کے اوپر جھکا۔۔۔۔اب کی بار وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔
“گہری سانس لو!”
“دوائی۔۔۔۔”
“جو کہہ رہا ہوں پہلے وہ کرو۔۔۔۔”وہ سرد لہجے میں دھاڑا تو اس نے فوراً سر ہاں میں ہلایا اور اپنے ہاتھوں سے اپنا سر تھاما۔
ڈارک ویزرڈ نے اس کے ہاتھ تھام کر اس کے سر سے دور کیے اور اس کے چہرے پر پھونک ماری تو حیات نے آنکھیں بند کیں۔
اپنے ہاتھ کو اس کے سر پر رکھتا وہ دھیرے دھیرے دبانے لگا تو اس کے آنسو چہرے کو بھگونے لگے۔
ڈارک ویزرڈ نے جُھکتے اس کی گردن میں منہ دیتے اپنا ناک سہلایا تو وہ تھم گئی۔
“تم کی۔۔۔کیا۔۔؟”
“شششش! سکون تمہیں صرف میری زات سے مل سکتا ہے پرنسسس۔۔۔۔کیونکہ اب کے علاؤہ کوئی اور دوا تمہیں فراہم نہیں کروں گا میں۔”
حیات نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے ہلکا سا دور کیا اور اسے دیکھنے لگی۔
“تم مجھے میرے لگتے ہو”۔۔۔”میرے” وہ ہچکی لیتی بولی۔
وہ مسکرایا۔۔۔۔ہاں وہ مسکرایا تھا وہ اسے دیکھنے لگی اور پھر اس کے سینے پر سر رکھتی آنکھیں موند گئی۔
وہ اس کے سر میں ہاتھ چلانے لگا۔۔۔۔اسے سکون بھی نا دے پاتا تو لعنت تھی اس پر۔۔۔۔
اس کی زندگی کی پہلی اور آخری صنفِ نازک جس کے قریب تھا وہ۔
ٹھیک ہوا؟
نہیں! وہ رو نہیں رہی تھی لیکن آنکھیں اب بھی بند تھیں۔
“تم میری دوا کا انتظام کر دو پلیز میں جا کر پیسے دے دوں گی” تمہیں وہ پھر سے بولی۔
“دوا تو تمہیں نہیں ملے گی۔۔۔۔اس کے علاؤہ بتاؤ کیا چاہیے؟”
“مجھے سکون چاہیے؟”
ڈارک ویزرڈ نے اسے حصار میں لیتے اس کے بالوں کو چوما اور اس کی قمر سہلانے لگا سکوں پہنچانے کا ایک طریقہ تھا۔
اور وہ کامیاب رہا تھا وہ سو گئی تھی۔
اس کے چہرے پر آنسوؤں کے مٹے نشانوں کو دیکھ اس کا دل سُکڑا۔۔۔۔”اتنی نفرت اچھی نہیں پرنسس۔”
