207.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

You're All Mine Episode 27

You’re All Mine by Suneha Rauf

وہ پہلے جاگ گئی تھی۔۔۔۔حاد اب تک سو رہا تھا۔۔۔

اُس نے اٹھنا چاہا لیکن جھٹکے سے اٹھتے منہ سے سسکی برآمد ہوئی۔

کیونکہ میر صاحب کے کندھے کے نیچے اس کے بال تھے۔

“افففف۔۔۔۔”

وہ اس وقت اس کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔چہرہ اسے دیکھ کر ہی گلابی ہو گیا تھا۔

میر۔۔۔۔

“میررررر!”

“کیا مسئلہ ہے حیات؟”

“اٹھیں؟”

“کیوں؟”

“میرے بال چھوڑیں!”

میں نے نہیں پکڑے ۔۔۔۔وہ نیند میں ہی بولا تھا۔

“آپ کے اتنے بڑے وجود کے نیچے آ گئے ہیں چھوڑیں میرے بال۔۔۔۔”

“میں نہیں چھوڑ رہا۔۔۔۔خود ہی نکال لو اپنے بال نکال سکتی ہو تو!” وہ اب اٹھ گیا تھا اس لیے شرارت سے بولا۔

میرررر!

“شششش! کتنا شور کرتی ہو تم۔۔۔۔”

میر نے اسے دوبارہ سے حصار میں لیا تو حیات نے اسے گھورا۔

“مجھے مِس کیا تھا تم نے؟”

نہیں! حیات نے اس کے بھاری بازو کو خود پر سے ہٹانا چاہا۔

“اچھا! میری معلومات کے مطابق تم میرے جانے کے بعد کافی بیمار رہی تھی۔”

“اگر پتا ہے تو پوچھ کیوں رہے ہیں اور دوسرا آپ کو کون سا فرق پڑتا ۔۔۔۔نا تب پڑا تھا نا اب پڑے گا.”

“مجھے تمہاری ایک ایک بات معلوم ہے حیات حاد میر۔۔۔۔۔۔سب کچھ تم کہاں سے پڑھیں کہاں کہاں گئی۔۔سب کچھ۔”

“تو مجھ سے ملنے کیوں نہیں آئے کبھی؟ وہ اسے خفگی سے دیکھتے بولی۔”

“ٹھیک ہے معذرت!” وہ سر جھکاتا بولا تو وہ مسکرا پڑی۔

“میں بہت عرصے بعد خوش ہوا ہوں۔۔۔۔۔اس نے حیات کے بالوں میں منہ چھپاتے اسے حقیقت بتائی۔”

“ٹھیک ہے تو مجھے دیکھ کر بات کریں۔”

“نہیں میں خوشیاں اپنی کسی سے شئیر کرنا پسند نہیں کرتا تم بیوی ہو اس لیے ایسے بتا رہا ہوں۔”

اففففف! حیات نے مسکراتے اسے دیکھا۔

“بابا سے میں ناراض ہوں!”

“خبردار! تم نے ان سے کچھ کہا۔۔۔۔انہوں نے سب میرے لیے کیا، میں نے ایسا کرنے کو کہا تھا۔”

ٹھیک ہے! اٹھیں مجھے بھوک لگی ہے ناشتہ بنائیں۔

میر نے اسے گھورا!

“ایک کام چور بیوی میرے حق میں ہی آنی تھی” اپنے بال باندھتے اس نے کہا۔

“ان کو کٹوا لیں۔”

“کیوں؟”

“بس اچھے ہیں سوٹ بھی کرتے ہیں لیکن اسلام میں اتنے لمبے بال رکھنے کا نہیں کہا گیا۔”

اوکے! آج ہی کر لیتے ہیں یہ بھی۔

حیات کو امید نہیں تھی وہ اتنی جلدی مان جائے گا۔۔۔۔

اس کے لیے ناشتہ بناتے وہ اسے وہیں شلف پر بٹھا چکا تھا۔

“کیا کھانا ہے؟”

آلو کے پراٹھے!

“گھر میں تو تم سے آدھے سے زیادہ کھایا نہیں جاتا تھا مجھ سے اتنی محنت تم نے آدھا پراٹھا کھانے کے لیے کروانی ہے؟”

بالکل!

“جلدی بنائیں بہت بھوک لگی ہے۔۔۔۔”

“ہاں جانتا ہوں۔۔۔رات سے لگی تھی۔۔۔”

حیات نے گلابی ہوتا چہرہ جھکا لیا تو وہ اس کے بال چومتا کام پر لگ گیا۔

حیات نے اس دیکھا۔۔۔۔مردوں کو لوگوں نے مختلف ترازو میں تولا ہے۔۔۔ہاں مرد ایک جیسے نہیں ہوتے یہ سب قسمتوں پر منحصر ہے لیکن وہ خوش تھی۔۔۔اسے ایک باوقار شخص ملا تھا۔۔۔۔اس نے دل میں سو بار الحمدللّہ کہتے شکرانے کے نفل ادا کرنے کا سوچا۔

“تم یہ کھاؤ میں آتا ہوں!” میر نے اپنے فون کو دیکھتے کہا اور باہر نکل گیا۔

بولو!

“سر ان کی نظر حیات میڈیم پر ہے۔۔۔”

“واٹ ربششش!”

جی سر ۔۔!

“اس دن کی دعوت کے بعد دو تین لوگ حیات میڈیم کی خبریں جمع کر رہے ہیں ان کے ماضی سے لے کر اب تک کی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔”

“کیا وہ تین لوگ ایک ہی گروہ سے ہیں؟”

یہ نہیں کہہ سکتے ہم۔۔۔

“تو کون بتا سکتا ہے؟ کس کام کے لیے رکھا ہے میں نے تم سب کو؟ رات تک مجھے سب معلومات مل جانی چاہیے۔”

“ان کی ہمت کیسے ہوئی میری بیوی پر نظر رکھنے کی؟؟؟”

سر!

“ایک اور بات؟”

جلدی بولو!

“سر کچھ دن پہلے حیات میڈیم کو ایک فون کال بھی کی گئی تھی اس شخص کی طرف سے۔۔۔۔”

“ڈیمممممم! ٹھیک ہے پتا کرو سب اور مجھے بتاؤ! اور انہیں کہاں پہنچانا ہے تم جانتے ہو۔”

جی سر!

کھا لیا؟

بہت اچھا تھا۔۔۔۔آج میں نے پورا کھا کیا ہے اس نے اپنی خالی پلیٹ اس کے آگے کی۔

“حیات؟”

ہمممم؟

“تم میری اجازت کے بغیر یہاں سے نہیں نکلو گی! تمہیں چھت پر بھی نہیں جانا ہے۔”

“کیوں؟”

“کیونکہ میں کہہ رہا ہوں!” اس نے اپنی کافی کا گھونٹ بھرتے کہا۔

“نہیں بتاؤ تو؟ چھت پر تو میں روز جاتی ہوں!”

“بس اب سے نہیں جاؤ گی۔۔۔میرے ساتھ چلی جانا جب جانا ہو!

دروازہ کھولنے بھی نہیں جاؤ گی!” وہ سختی سے اسے سمجھا رہا تھا۔

“تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟”

“تمہاری حفاظت کے لیے اور اس کے بعد کوئی سوال نہیں!”

“کپڑے بدل کر آؤ!” وہ سنجیدہ تھا بے حد۔

“کون سے کپڑے پہنوں؟” حیات نے اسے دیکھتے پوچھا۔

کوئی سے بھی پہن لو! اس نے پھر سے بے دھیانی میں کہا تو حیات نے اسے غصے سے دیکھا۔

پھر اندر جاتے اپنے پرانے کپڑے نکالے۔۔۔

جینز اور شرٹ نکالتے پہنی اور گیلے بالوں کو سکھاتی ان کی پونی بناتی باہر آ گئی جہاں وہ کسی فائل کو دیکھ رہا تھا۔

اس کے آنے پر اسے دیکھا۔

“یہ کیوں پہنے ہیں؟”

تم نے کہا تھا کچھ بھی پہن لو! اس نے کندھے اچکاتے کہا تو میر قدم قدم چلتا اس کے پاس آیا۔

اپنی چادر کندھے سے اتارتے اس کے گرد لپیٹی۔

“جاؤ جیکٹ پہن کر آؤ اندر سے اپنی!”

یہ ٹھیک ہے اسنے چادر کو اپنے اوپر درست کرتے کہا۔

“نہیں سردی بہت ہے۔۔۔سلیپرز کہاں ہیں تمہارے حیات تم بچی ہو چھوٹی سی؟”

حیات کو اس میں بچپن کے حاد کی جھلک دِکھی۔

اندر جاتے اس نے جیکٹ پہنی اس کی چادر اٹھائی اور سلیپرز پہنتے باہر آئی۔

اب ٹھیک ہے؟

ہاں!

“تم مجھے یہ سب پہننے سے روکوں گے نہیں؟” اس نے حاد کی طرف دیکھتے کہا۔

نہیں! میرے سامنے پہن سکتی ہو لیکن باہر نہیں۔

اوکے! حیات اس کے ساتھ بیٹھ گئی اور اس کے نقوش کو دھیان سے دیکھنے لگی۔

وہ وہیں اس کو دیکھتے ہی سو گئی تو وہ مسکرایا۔۔۔۔کیوں کے وہ کافی دیر سے اس کو ہی دیکھ رہی تھی اور حاد نے اسے ایسے کرتے ٹوکا نہیں تھا کیونکہ وہ بھی یہی چاہتا تھا۔

یہ رشتہ وہ واحد رشتہ تھا جس کے لیے اس نے سالوں انتطار کیا تھا۔۔۔حیات کو وہ کبھی بھولا ہی نہیں تھا۔

“میری بیوی کی مخبری کروا کر اچھا نہیں کیا تم نے۔۔۔۔۔مجھ تک سب ٹھیک تھا لیکن حیات پر تو ایک نظر بھی نہیں اس نے مٹھیاں بھینچیں اور فون کان کے ساتھ لگاتے معلومات اکٹھی کرتے کال کاٹ دی۔

وقت آ گیا تھا۔”

اس نے ان فائلز کو وہاں بھیج دیا جہاں جانا چاہیے تھا۔

“کل کے اخبارات میں یہ خبر پہنچ جانی چاہیے۔۔۔۔۔کہ ماضی میں میر ابراہیم کے ہاتھوں جہنم واصل ہوئے لوسیفر کا اکلوتا چچا زاد بھائی بھی اسی کی پرچھائی نکلا۔”

“ہاہاہاہا! کہانی کا آغاز تو نے کیا تھا لیکن انجام تک اسے مجھے ہی پہنچانا ہے آخر ملک سے گند صاف کرنا ہماری زمہ داری ہے۔”

حیات کو دیکھتے اس نے گہری سانس بھری۔

کیا اسے واپس غازیان اعجاز کے پاس بھیج دے؟ نہیں اب وہ اس سے دور نہیں رہ پائے گا۔۔۔اور یہ حالات تو کبھی بھی ہو سکتے ہیں اپنی بیوی کی حفاظت اسے خود کرنی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الہام نے سفر سوتے ہوئے ہی گزارا تھا۔۔۔۔فون بھی اس کا سائلنٹ پر تھا۔

وہاں پہنچتے ہی وہ اٹھی تھی ۔۔۔ڈرائیور چچا کو سامان اتارنے کا کہتے خود اندر داخل ہوئی۔

“اسلام علیکم!”

“کہاں کسی کے گھر میں گھسے چلی آرہی ہیں میڈیم۔۔۔”اس بیس سالہ لڑکے نے اسے دیکھتے کہا۔

الہام نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔جو اسے اسکے گھر میں آنے پر یہ سب سنا رہا تھا۔

“دیکھو مسٹر۔۔۔میرے گھر میں کھڑے ہو کر اس طرح کے مزاق کرتے تم اچھے نہیں لگتے۔”

“حیات باجی۔۔۔۔؟”

نہیں الہام۔۔۔۔الہام نے اسے گھورا۔

“اووو! انکل نے آپ کا بتایا تھا مجھے معاف کریں میں ساتھ والے گھر میں نیا آیا ہوں۔۔۔غازیان انکل کے ساتھ روز بیڈمنٹن کھیلنے آتا ہوں” وہ کافی باتونی تھا شاید۔

“ٹھیک ہے کہاں ہیں بابا؟”

“وہ واش روم گئے ہیں۔۔۔۔نیچر کالز یو نو۔۔۔۔”

الہام نے مسکراتے اسے دیکھا جو خود بھی قہقہہ لگا گیا تھا۔

الہام بیٹا آپ کا فون! ڈرائیور چچا نے اس کا فون تھمایا جہاں آحل کی کوئی بیس مسڈ کالز تھیں۔

اففف۔۔۔

اس نے فوراً کال ملاتے فون سپیکر پر ڈالا اور اپنے بیگ میں سے اپنے بابا اور ماما کے لیے لائے تحفہ نکالنے لگی۔

“تمہیں احساس ہے الہام۔۔۔۔یہاں میں پاگل ہو گیا ہوں تمہیں کال ملا کر۔۔۔اس ڈرائیور کا بھی نمبر نہیں تھا میرے پاس

وہ تو انکل غازیان نے بتایا کہ بس پہنچنے والی ہو تم۔۔۔بڑی ہو گئی ہو کوئی چھوٹی بچی نہیں کیوں کرتی ہو ایسی حرکتیں؟”

“یہ کون بدتمیز ایسے بات کر رہا ہے الہام؟”

اس حازق نامی لڑکے نے وہاں کرسی پر الہام کے سامنے بیٹھتے یوں پوچھا جیسے وہ بہت اچھے دوست ہوں۔

الہام؟

آحل نے سختی سے الہام کا نام پکارا تو وہ فون اٹھاتی کچھ سائیڈ پر ہوئی۔

“میری غلطی ہے میں سو گئی تھی اور فون بھی سائیلنٹ پر تھا مجھے اندازہ نہ ہوا۔۔۔۔آئیم سوری۔۔”

“یہ بدتمیز لڑکا کون تھا؟”

“ساتھ والے گھر میں آیا ہے چھوڑیں آپ بتائیں فزا چلی گئی ہے۔”

نہیں!

“کیوں؟ اتنے گھنٹے ہو گئے ہیں ابھی تک گھر نہیں گئی وہ۔۔۔گھر بار نہیں ہے اس کا کوئی؟”

“بس تھوڑی دیر میں ڈنر کر کے جائے گی۔۔۔۔۔کام کر رہے تھے۔۔۔اس نے ایک نئے ڈائیریکٹر کے بارے میں بتایا ہے۔

آپ تو کہہ رہے تھے یہ کام چھوڑ دیں گے؟”

“ہاں لیکن فزا کہہ رہی ہے کہ میرا ایسا جانا مناسب نہیں کے لوگ مجھے غلطی پر سمجھیں گے اور۔۔۔۔”

“کافی اہمیت ہے فزا کی بات کی نہیں؟”

“نہیں تم سے زیادہ نہیں ہے! اور دوبارہ فون نہ بند جائے اور نہ سائلینٹ پر۔”

اوکے! الہام نے بجھے دل سے کال کاٹ دی۔

اپنے بابا سے ملتے اس نے ماں سے کچھ بنانے کا کہا اور فریش ہونے کے بعد باہر آئی جہاں وہ لڑکا اب بھی موجود تھا۔

“تم حازق سے ملی ہو الہا؟” رابیل نے کہا۔

جی!

“اتنی رونق لگاتا ہے روز ہم بلا لیتے ہیں اسے ۔۔۔۔”انہوں نے بتایا تو وہ بھی وہیں بیٹھ گئی۔

“واپس کیوں آگئی میری جان؟” غازیان اعجاز نے پوچھا۔

“یہاں کی یونیورسٹی میں مجھے زیادہ اچھا لگ رہا تھا وہ اتنا ہی کہہ پائی۔”

ٹھیک ہے!

“اپنی آپا کو فون کر لو! جو آج کل ہمیں بھول گئیں ہیں اپنے شوہر کے ساتھ!”

کیا مطلب؟

“حاد ابراہیم!” اس کے باپ نے کہا تو وہ یک دم کھڑی ہوئی۔

“حاد بھائی؟ ابراہیم بابا کے بیٹے؟”

ہاں! اس کے باپ نے مسکراتے کہا۔۔۔ان لمحوں میں وہ دونوں میر ابراہیم اور میرال کو بہت یاد کرتے تھے۔

“اففففف بابا پہلے کیوں نہیں بتایا!”

یہ تو ہمارا راز تھا آپی کو کب پتا چلا؟

رابیل نے الہام کو تب سب بتا دیا تھا جب ایک دن اس نے غازیان اور رابیل کو میر حاد سے بات کرتے سن لیا تھا۔

میں ابھی فون کرتی ہوں وہ اندر بھاگ گئی۔

مجھے نئی دوست مل گئی ہے! حازق نے کہا تو سب مسکرا دیے۔

حازق کو وہ پنسد آئی تھی۔

الہام ان کے ساتھ تھی لیکن اس کا سارا دھیان آحل کی طرف تھا جس کا دوبارہ کوئی فون نہیں آیا تھا۔

اففففف یہ فزا چڑیل۔۔۔میرے شوہر پر ڈورے ڈال رہی ہو گی۔۔۔۔اس نے غصے سے سوچا۔

آحل کو کئی بار فون ملایا جو اس نے نہیں اٹھایا تھا شاید سو گیا تھا وہ بھی سونے کے لیے لیٹ گئی۔

ان سب میں وہ اپنی بہن کے لیے خوش تھی اور چاہت کال نہیں اٹھا رہی تھی۔

حیات نے بھی اسے چاہت سے رابطہ کرنے کو بولا تھا۔۔۔وہ صبح اب خالد صاحب کو فون کرنے والی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چار مہینے بعد:

“میری دھی تو واپس آ جا!”

“نہیں بابا وہ ہر ہفتے وہاں آتے ہیں مجھے وہاں نہیں آنا۔۔۔ابھی تو نہیں۔”

“ٹھیک ہے اپنا دھیان رکھ میرا پتر۔۔۔_

خدا حافظ۔

اس نے یہاں کام کرنا شروع کیا تھا۔۔۔ایک کمپنی کے ساتھ۔۔۔وہ کبھی کبھی اوور ٹائم بھی دیتی تھی تاکہ ان یادوں سے پیچھا چھڑوا لے جو وجدان چوہدری کے وجود سے جا ملتی تھیں۔

وہ جانتی تھی وہ ایک شہر میں ہیں لیکن وجدان اسے اس کے گاؤں میں ہی ڈھونڈتا تھا اور یہ کوششیں اس نے اب بھی ترک نہیں کی تھی۔

وہ ہر ہفتے وہاں جاتا تھا۔۔۔۔اور یہ بات اسے اپنی ماں سے پتا چل جاتی تھی۔

وہ یہاں کرایے میں مکان میں رہ رہی تھی۔۔۔اس نے اپنا فون نمبر بھی تبدیل کر لیا تھا.

“چلیں چاہت؟”

اس کی اس آفس کی بنائی نئی دوست جو اس کے ساتھ ہی رہتی تھی پوچھنے لگی۔

“ہاں چلو!”

وہ اپنا بیگ اٹھاتے نے لیے جھکی تھی لیکن چکراتے سر سے وہ وہیں بیٹھ گئی۔

“کیا ہوا چاہت؟”

لیکن چاہت واش روم میں گئی تھی ایسا اس کے ساتھ بہت دونوں سے ہو رہا تھا۔

“چاہت تم ڈاکٹر کے پاس کیوں نہیں جاتی ہو؟؟؟”

“کچھ نہیں ہے بس تھکاوٹ کی وجہ سے چکر آ جاتے ہیں۔”

“اور تمہاری الٹیاں کیوں نہیں رُک رہیں؟” اس کی دوست نے سنجیدگی سے استسفار کیا۔

بس وہ باہر کا کھانا کھانے سے۔۔۔۔وہ بہانہ بنا گئی۔

“تم نے اپنی حالت دیکھی ہے چاہت؟ سوکھ کر کانٹا ہو گئی ہو تمہاری آنکھوں کے نیچے اتنے ہلکے ہیں تم آدھی آدھی رات کو اپنی کھڑکی سے چپکے باہر آسمان کو گھورتی پائی جاتی ہو، کھانا کھاتے تم بھول جاتی ہو کہ تم کیا کر رہی ہو؟”

“کیا تمہیں یہ سب نارمل لگتا ہے؟”

ہمیں دیر ہو رہی ہے! وہ اٹھ کھڑی ہوئی کیونکہ ان سوالوں کا کوئی جواب نہ تھا اس کے پاس۔

“ٹھیک ہے چلو! لیکن زیادہ دیر تک میرے سوالوں سے بھاگ نہیں پاؤں گی۔۔۔”تانیہ نے کہا۔

“اسلام علیکم!”

کیسی ہو؟ اسد انہیں باہر ہی مل گیا تھا۔۔۔وہ اسد سے مل چکی تھی اور اس نے اسے سب بتاتے وجدان سے چھپانے کا بولا تھا جو وہ مان گیا تھا۔

“ٹھیک نہیں ہیں یہ میڈیم۔۔۔”تانیہ نے کہا۔

کیوں؟ فکرمندی تھی۔

“اس کو چکر اور وومٹنگ ہو رہی ہے کچھ دنوں سے اور یہ یوں ہی گھر پڑی ہے۔”

“آج ہم واپس پر ڈاکٹر کو دکھائیں گے!” اسد نے کہا۔

نہیں میں خود دکھا دوں گی چاہت کہتی اندر چلی گئی۔

اسد نے دور تک اس کی پشت کو دیکھا تھا۔

“وجدان چوہدری تم نے ہرگز ہرگز اچھا نہیں کیا۔۔۔۔۔”اسد نے سوچا اور اپنے آفس کی طرف روانہ ہو گیا۔

چاہت اپنی حالت سے چھپ رہی تھیں نہیں تو اتنی انجان نہیں تھی اس احساس کو جاننے کی صلاحیت تھی اس میں۔

واپسی پر ہمت کرتی وہ ڈاکٹر کے پاس گئی۔

“مس چاہت۔۔۔؟”

“چاہت وجدان!” اس نے پورا نام بتایا۔

“آپ کی حالت نہایت نازک ہے آپ پریگننٹ ہیں مبارک ہو۔۔۔لیکن نہایت کمزور ہیں آپ۔۔۔اگر آپ نے اپنا دھیان نہ رکھا تو کافی کومپلیکیشنز ہو سکتی ہیں۔”

چاہت نے آنکھیں میچی۔۔۔یہی تو سننے کے لیے اس میں ہمت نہیں تھی۔

وہ دوا لیتی گھر آ گئی۔

اور اسی کھڑکی کے سامنے کھڑی ہو گئی۔۔۔آسمان کو تکنے لگی۔

اس نعمت کا شکریہ وہ مسکرا دی۔۔۔۔لیکن دل مسکرا بھی نہ سکا۔۔۔۔جو خالی تھا اب کسی بھی احساس سے۔

اس شخص کی اولاد تھی یہ۔۔۔وہ شخص جس سے نفرت ہوئے ہوئے بھی عشق تھا اسے۔

اسے لگا تھا اسے چھوڑنے پر وہ اس سے نفرت کر پائے گی لیکن نہیں اس کی محبت عشق میں تبدیل ہو گئی تھی۔

بہت مشکل ہے ایک ہی شخص سے نفرت اور محبت دونوں کرنا۔۔۔نیند اس سے روٹھ گئی تھی جیسے۔

دوسری طرف وجدان نے اس انگوٹھی کو ناک کے نتھنوں کے پاس لے جاتے سونگھا جو چاہت کے سامان میں اسے ملی تھی۔

یقیناً وہ اسی کے لیے بنائی گئی تھی۔۔اس کی خوشبو وہی تھی جو اسے بے حد پسند تھی۔

“وجی! بس کر وہ واپس نہیں آئے گی” شام میں ہوئی دادی سے گفتگو اسے یاد آئی۔

“وہ آئے گی اسے آنا ہو گا۔۔۔۔کیا اسے محسوس نہیں ہو رہا کہ میں مر رہا ہوں، میں ختم ہو رہا ہوں اس کے بغیر۔”

“وہ بے وفا ہے۔۔۔وفا نہیں نبھا پائی۔۔۔مجھے سزا دیتی ہر طرح کی میں قبول کرتا۔۔۔لیکن یوں چھوڑ کر اس نے اچھا نہیں کیا۔۔۔ان چار مہینوں میں ۔۔۔میں نے اسے پاگلوں کی طرح ڈھونڈا ہے کہ اب اس کے گاؤں کی ہر گلی تک مجھے یاد ہو گئی ہے لیکن وہ مجھے نہیں ملی۔”

“دادی اسے مجھ پر ترس نہیں آتا ہو گا؟”

وہ رو دینے کے قریب تھا اور ایسا اس کے ساتھ اب تقریباً روز ہوتا تھا۔

“وہ ظالم ہے بے حد۔۔۔۔جب وہ مجھے ملے گی نا تو میں بے شک خود تڑپ سے مر رہا ہوں لیکن اسے بھی اتنا ہی تڑپاؤں گا اسے بتاؤ گا کہ کسی کو موت کے قریب لے جا کر بچا لینا کیسا ہوتا ہے۔”

“صباء تیرے انتظار۔۔۔۔”

“چاہت تھی، چاہت ہے اور چاہت رہے گی” وہ کہتا اٹھ کر اپنے کمرے میں آگیا۔

چاہت نے دوا لی اور لیٹ گئی ۔۔۔۔رات کو اس کا سر درد سے پھٹا جاتا تھا اس کی صحت دن بدن گرتی جا رہی تھی لیکن اسے فرق نہیں پڑ رہا تھا۔

وہ اب وجدان چوہدری کو مِس کرنے لگی تھی حد سے زیادہ۔

“رب العالمین وہ مجھے ڈھونڈ لے۔۔۔میں اس شخص کی اولاد کو اکیلے نہیں سنبھال پاؤں گی” اس کی آنکھ سے کئی آنسو ٹوٹ کر گرے۔

اور کچھ دعائیں فوراً قبول کر لی جاتی ہیں۔