207.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

You're All Mine Episode 20

You’re All Mine by Suneha Rauf

گھر آ کر نجانے وہ کتنی ہی دیر وہاں بیٹھی رہی ایک ہی جگہ پر، ایک ہی نقطے پر نگاہیں مرکوز کیے ساکن سی بے حس و حرکت۔

وجدان چوہدری اس کے دل پر ایک گہرا اور اونچا مقام رکھتا تھا۔

“وہ اپنانا چاہتی تھی اُسے۔۔۔”ہاں۔۔۔اس نے آنکھیں جھپکی۔۔۔فیصلہ ہو گیا تھا۔

وہ جانتی تھی دنیا اسے ہزار باتیں کرے گی۔۔۔کہ وہ لڑکی ہے مضبوط نہیں ہے۔۔۔لیکن وہ خود کے لیے آج لڑی تو تھی کم از کم۔

کچھ کہیں گے کہ وہ لڑکی ہے اسی لیے لڑکے کو معاف کر کے آگے بڑھ گئی، کچھ کہیں گے کہ اسے اس لڑکے کو نہیں اپنانا چاہیے تھا۔

یہ لوگوں کے خیالات ہیں۔۔۔لیکن یہ خیالات دل کو کیسے سمجھائیں جو اسی ایک مخصوص شخص کی تمنا لیے بیٹھا ہے کسی ضدی بچے کی طرح۔

لوگوں کا ہزارا باتیں بنانا آسان ہے۔۔۔۔ہم ڈر بھی جائیں نا ان باتوں سے تو ہماری روح اور دل کو بالکل فرق نہیں پڑتا کہ کوئی کیا کہہ رہا ہے۔

“وہ کمزور ہے۔۔۔”اس نے مان لیا۔

“وہ لڑی نہیں۔۔۔۔۔”غلط ہے مگر یہ بھی مان لیا۔

اس نے اپنے آپ کو مطمئن کرنا تھا۔۔۔اس نے اپنے دل کو وہ قرار دلوانا تھا جو صرف اور صرف وجدان چوہدری کے حصول پر اسے ملتا۔

وہ اٹھی اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔اپنی وہی پرفیوم نکالی۔۔۔۔اور اسے دیکھا۔

یہ اب شاید پوری دنیا کے ہاتھوں میں آجائے۔۔۔۔اس نے اپنا بیگ کھولا اور ایک ڈبہ نکالا۔

ڈبے میں نیلے رنگ کا چمکتا پتھر تھا۔۔۔ہاں یہ اس کے گاؤں میں اسے اس کے بابا نے ڈھونڈ کر دیا تھا۔۔۔۔

یہ پتھر نایاب تھا اس کے لیے بے حد۔۔۔وہ پتھر کیا معنی رکھتا تھا وہ نہیں جانتی تھی لیکن وہ بے حد خوبصورت تھا۔

اس نے آنکھیں کھول کر بند کیں۔

وجدان چوہدری کے لیے کوئی ایسا تحفہ جو ہر قیمتی تحفے کی چمک کو ماند کر دے۔

اس نے اس پتھر کو دو حصّوں میں تقسیم کیا اور اپنی پرانی انگوٹھیاں نکالیں۔

ان پتھروں کو ساری رات وجدان چوہدری کی پسندیدہ خوشبو میں ڈالے رکھا۔۔۔وہ پتھر اس خوشبو کو جب تک قید نہ کر لیں۔

صبح اس نے اٹھتے ہی اس پتھر کو دیکھا جو ہلکا سا نم تھا لیکن ساری خوشبو اپنے اندر سما چکا تھا۔

اس نے ان دونوں پتھروں کو اپنی پرانی انگوٹھی میں فِٹ کیا اور وجدان چوہدری کا خود کے بیگ میں موجود مردانہ سائز کی رنگ میں پھر انہیں اپنے سامنے کیا۔

“ایک منفرد تحفہ جو کسی نے کسی کو نہ دیا ہو۔”

اس کی زندگی میں خوشبو کی بہت اہمیت تھی۔۔۔اس کی دوستیں اکثر اس سے پوچھتی تھیں کہ وہ کسی انسان میں یا مرد میں کن چیزوں کو دیکھتی ہے۔

وہ ہمیشہ کہتی تھی:

بات ساری نگاہوں کی ہے

چہرے کہاں حسین ہوتے ہیں

پھر وہ کہتی تھی کہ ان سب سے زیادہ جو معنی رکھتا ہے وہ ہے “کسی انسان کی مخصوص خوشبو۔”

“جو آپ پر سحر طاری کرنے کی طاقت رکھتی ہو۔۔۔ہاں اس نے وجدان چوہدری کے لیے وہی بنایا تھا۔”

اب وہ مطمئن تھی لیکن صرف تحفے کو لے کر۔۔دل ابھی تک سمجھ نہ پایا تھا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔

اپنا فون نکالا اور اس کمپنی کو فون کیا۔

“اسلام علیکم!”

“وعلیکم السلام!

چاہت خالد بات کر رہی ہوں۔۔جو ٹیسٹر میں نے آپ کو پہنچایا تھا اس پر مجھے کوئی کام نہیں کرنا ہے مزید۔”

“لیکن۔۔۔۔۔۔”مخالف نے کچھ کہنا چاہا۔

“وہ ٹیسٹر واپس بھجوا دیں پلیز۔۔۔۔مجھے وہ کسی کو نہیں بیچنا۔۔۔”اس نے سختی سے کہتے فون بند کر دیا۔

لیکن واٹس ایپ پر اپنے ہی کولیگ کی اس رات کی ویڈیو ایک بار پھر دیکھتے اس نے سر تھاما۔

وہ اظہار کی رات اس کا پیچھا کیوں نہیں چھوڑتی تھی۔

کیا دنیا میں وہ اپنے ہنر کے لیے نہیں بلکہ اس بات کے لیے جانی جائے گی کہ اس نے اپنے باس سے اظہارِ محبت کیا تھا۔

وہ تھک گئی تھی۔۔۔۔اس کی آنکھیں رونے سے انکاری تھی شاید آنسو ان میں بھی سوکھ گئے تھے۔

اس نے سوکھے ہونٹوں پر زبان پھیری اور اپنی چادر اٹھا کر ہمیشہ کی طرح اپنے گرد لپیٹی اور باہر نکل گئی۔

وہ جانتی تھی وہ کہاں جا رہی ہے۔۔۔۔۔

اس کی طرف جانے والا ہر راستہ اس نے اسی دن حفظ کر لیا تھا جب وہ اسے غصے میں اپنے ساتھ لایا تھا۔

اس کے گھر کے آگے رکشہ رکواتے اس نے پیسے ادا کیے اور دروازے پر پہنچی۔

“کس سے ملنا ہے آپ کو؟”

“وجدان چوہدری سے! لیکن کچھ نجی معاملے پر۔۔۔پلیز میں خود ہی چلی جاتی ہوں۔”

مجھے پوچھ تو لینے دیں۔۔۔گارڈ نے شائستگی سے کہا۔

پلیز انکل! وہ مجھے اچھے سے جانتے ہیں اور شاید آپ اس دن مجھے یہاں دیکھ چکے ہیں۔

ڈرائیور نے آتے ہی اسے پہچان لیا تھا اور گارڈ کو اندر بھیجنے کا کہتا خود چلا گیا۔

اس دن وجدان چوہدری کے ساتھ اسے دیکھتے وہ اس لڑکی کی حیثیت جان چکا تھا کیونکہ اس سے پہلے وہ کسی لڑکی کو اپنے ساتھ ایسے اپنے گھر نہیں لایا تھا۔

چاہت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اندر چلی آئی۔۔۔۔۔۔وہ سب یاد کرتے آنکھیں ایک بار پھر سرخی مائل ہوئی تھی۔

“میرا ناشتہ۔۔۔۔۔”

وہ جو باورچی خانے میں خانساماں کو تاکید کر رہا تھا۔

چاہت نے اس کی پشت کو دیکھتے تیزی سے قدم آگے بڑھائے اس کے سامنے کھڑے ہوتے اس کے کارلر کو تھاما۔

یہ لمحے کا کھیل تھا جو کوئی سمجھ نہ پایا۔

“سب۔۔۔سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے وجدان چوہدری۔۔۔۔۔”وہ چیخی تھی۔

وجدان اسے دیکھتا حیران تھا پھر خانساماں کو آنکھیں سے اشارہ کیا تو وہ باہر نکل گئی۔

“کیا ہوا ہے چاہت؟” وجدان نے اس کے ہاتھ اپنے کارلر سے نہیں ہٹائے تھے۔

“تمہاری وجہ سے۔۔۔۔تمہاری وجہ سے میں رسوا ہو گئی۔۔۔صرف اظہار محبت کرنے پر۔۔۔میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پاؤں گی۔۔۔۔”

“کیوں کیا تم نے ایسا۔۔۔؟؟؟”اس کی آواز بلند ہوئی۔۔۔۔آنسو لڑیوں کی صورت آنکھوں سے بہنے لگے۔

“چاہت؟” وجدان نے اس کے ہاتھ ہٹانے چاہے۔

تم میرا درد نہیں سمجھ سکتے۔۔۔۔دنیا مجھے میرے ہنر سے نہیں تمہاری وجہ سے جاننے لگی ہے۔

“اچھی بات ہے دنیا تمہیں میرے نام سے ہی جانے گی اب۔۔۔”وہ اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتا دھاڑا تو وہ خاموش ہو گئی۔

چاہت نے فوراً اپنے ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالے۔

اپنے فون سے وہ ویڈیو دکھائی۔۔۔۔تو وجدان چوہدری نے اس کے ہاتھ سے اس کا فون لیتے سامنے دیوار پر دے مارا۔

“نکاح کر رہے ہیں ہم آج اور ابھی!”

چاہت نے سرد پڑتے ہاتھوں سے اور پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔جیسے کسی نے اس کے ساتھ مزاق کیا ہو جو اس کی دل کی دنیا ہلا گیا ہو۔

“مجھے جانا ہے۔۔۔”وہ قدم پیچھے اٹھاتی بولی۔

“چاہت خالد! ایک قدم بھی اس گھر سے باہر مت نکالنا۔۔۔تم کیا چاہتی ہو مجھ پر آج واضح کر دو؟”

“کیا چاہتی ہو مجھ سے؟”

“اگر تم نے ازیت سہی ہے تو میں نے بھی سہی ہے۔۔۔لیکن فرق اتنا ہے مجھے اب ان سب کی عادت ہے کیونکہ میں یہ سب برسوں سے سہتا آرہا ہوں۔”

“تمہارے پاس سب ہے۔۔۔میرے پاس کوئی نہیں۔۔۔۔کسی کی محبت اصلی نہیں سب ڈھونگ ہے دنیا کے۔۔۔۔ایسے میں میں کیسے تمہارے اظہار پر یقین کرتا۔۔۔۔ہزاروں لڑکیاں مجھ سے اظہار محبت کر چکی ہیں۔”

“لیکن ۔۔۔”

“تم نے تم نے مجھے تباہ کیا ہے اور ایسا تباہ کیا ہے کہ میں اُٹھ نہیں پا رہا۔”

“تمہارے آنسوؤں نے مجھ سے میرا سکون چھین لیا۔۔۔ایک سکون کے سہارے ہی تو میں زندہ تھا۔۔۔تمہارے اظہار نے وہ بھی چھین لیا۔”

“میرا دل میرے قابو میں نہیں رہا۔۔۔تمہیں دیکھتے بے ہنگم سا شور مجھ میں برپا کر دیتا ہے۔۔۔میرے ہاتھ سرد پڑ جاتے ہیں ایسا پہلے کبھی میرے ساتھ نہیں ہوا۔”

“پتا ہے تمہیں دیکھتےمیرا دل۔۔۔میرا دل۔۔۔۔مجھ سے ضد کرتا ہے کہ میں تمہاری خوشبو کو خود میں بسا لوں۔۔۔

لیکن تم نے۔۔۔تم نے کیا کیا؟

صرف ایک خوشبو کو میرے لیے رکھنے کا کہا تھا میں نے تم نے اس کی بھی حفاظت نہ کی۔”

“وج۔۔جد۔۔۔ا۔۔ننن۔۔۔!”

وہ نم نگاہوں کو رگڑتی اس کا اظہار سن رہی تھی جس نے اس کی دل کو دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

اسے لگا تھا کہ یہ کیفیت اس کی ہے بس۔۔۔لیکن وہ شخص، وہ شخص تو شاید محبت میں اس سے آگے نکل چکا تھا۔۔۔یہ سب محبت سے کچھ زیادہ تھا۔

“سکون دو مجھے اب؟ نہیں تو بے موت مارا جاؤں گا میں۔۔۔۔” وہ کہتا صوفے پر بیٹھ گیا۔

چاہت قدم قدم چلتی اس کے قریب آئی اور کچھ فاصلہ رکھتی بیٹھ گئی۔

“مجھے قبول ہے۔”

“میں نے قبول کیا تمہارا ساتھ وجدان۔”

“میں نے قبول کیں تمہاری ساری ازیتیں، سارے دکھ۔۔۔سب کا ازالہ کر دوں گی میں لیکن بدلے میں تم نے صرف مجھے میرا کھویا مقام دلوانا ہے وعدہ کرو!”

“وعدہ رہا چاہت خالد۔۔۔”

“وجدان چوہدری تم سے تو کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔

قبول کیا میں نے تمہیں ہزار پار قبول کیا تمہیں۔”

وہ مسکرا دیا تو چاہت خالد بھی مسکرائی۔۔۔اور دل ہی دل میں وہ ایک دوسرے کی مسکراہٹ کا صدقہ دینا کا سوچ چکے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آحل نے غازیان کو منا لیا تھا کیونکہ غازیان اعجاز بھی جانتے تھے وہاں کی یونیورسٹی میں پڑھنا الہام کا خواب رہا تھا۔

“بیٹا آپ کو ڈرائیور چھوڑ آئے گا!” غازیان نے اسے ساتھ لگاتے کہا۔

“نہیں میں یہیں پڑھنا چاہتی ہوں۔”

لیکن کیوں؟ وہاں کی یونیورسٹی میں پڑھنا تو آپ کا خواب تھا۔۔۔رابیل نے اس کی بات کاٹتے کہا۔

ہاں لیکن اب یہاں میں نے دوست بنا لیے ہیں میں یہیں رہنا چاہتی ہوں۔

“ٹھیک ہے!” غازیان اعجاز نے اس سے بحث نہیں کی تھی۔۔۔۔ان کے لیے اس کی خوشی سب سے زیادہ معنی رکھتی تھی۔

آحل کو فون پر مطلع کر دیا گیا تھا۔۔۔۔جس نے اوکے کے سوا آگے سے کچھ نہ کہا تھا۔

الہام نے کوئی ساتویں بار آحل کا نمبر ملایا تھا۔۔۔۔رنگ جا رہی تھی لیکن وہ اٹھا نہیں رہا تھا۔

“اففف۔۔۔”

وہ جان گئی تھی کہ وہ ناراض ہو گیا ہے۔

“آحل کال سنیں پلیز!”

اس نے ٹیکسٹ کیا جس کا خاطر خواہ نتیجہ سامنے آیا تھا کہ اس نے اگلی کال اٹھا لی تھی۔

“اسلام علیکم!”

“وعلیکم السلام!”

“کال کیوں نہیں اٹھا رہے۔۔۔۔میں صبح سے کر رہی ہوں۔۔۔اتنے مصروف ہو گئے ہیں؟”

“الہام کیا کچھ ضروری کہنا ہے آپ نے؟” سنجیدگی سے استسفار کیا گیا۔

“تو کیا اب میں صرف آپ کو کسی کام کے لیے کال کر سکتی ہوں۔”

“جی بالکل!”

“کیونکہ آپ مصروف ہو گیں نا۔۔۔وہاں آپ کے دوست ہیں، آپ کی یونیورسٹی ہے۔”

“آحل!”

“کیا چاہتے ہیں آپ؟”

“تم مجھ سے ڈر رہی ہو؟” آحل نے اچانک کچھ سوچ کر بولا تو وہ خاموش ہو گئی۔

“ن۔۔۔نہہں۔۔۔۔”

“اووو! تو الہام میڈیم آپ میری قربت سے ڈر گئی ہیں! ابھی تو ایسا کچھ کیا ہی نہیں تھا میں نے۔۔۔”اس کی شرارت سے بھری آواز گونجی۔

“آحل ۔۔۔!” اس کے گال یک دم گلابی ہونے کے ساتھ گرم بھی ہوئے تھے۔

“تم کل مجھے یہاں چاہیے ہو الہام!”

“لیکن؟”

“تم نے کہا تھا کہ مجھے میری سالگرہ کا سب سے بہترین تحفہ دو گی۔۔۔تو ابھی موقع ہے تمہارے پاس۔”

“ٹھیک ہے!”

اس نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔۔۔وہ شوہر تھا اس کا حق رکھتا تھا اس پر۔۔۔اور وہ بہت بار اسے اپنے پاس بُلا چکا تھا۔

اس سے زیادہ انکار کر کے وہ اسے مزید ناراض کرنے کی متمحل نہیں ہو سکتی تھی۔

غازیان کو اس نے اپنے جانے کا بتا دیا تھا جس پر تیاریاں کر دی گئی تھی۔

“الہا۔۔۔میری جان۔۔۔آپا کو چھوڑ کر جا رہی ہو؟” حیات نے اسے ساتھ لگاتے کہا۔

ہممم۔۔۔آحل بلا رہے ہیں۔۔۔وہ چاہتے ہیں میں وہاں آ کر پڑھوں اور آپ جانتی ہیں مجھے وہ یونیورسٹی کتنی پسند ہے۔

“بالکل جاؤ میری جان!”

اور بتاؤ آحل بھائی سے ملاقات کا میری جان۔۔۔حیات اسے خود میں بھینچتے بولی۔

“آپی میرا سانس۔۔۔۔۔”

“ابھی تو سانس تمہارا آحل بھائی بند۔۔۔۔”

آپااااااا!

ہاہاہہاہاہہا۔۔۔۔۔حیات کا فلک شگاف قہقہہ گونجا۔۔۔غازیان اعجاز اور رابیل باہر سے انہیں دیکھتے سو بار ان کے صدقے اتار چکے تھے۔

ان کی خوشیوں کی ایسے ہی دعا کرتے ہوئے وہ دونوں اس منظر سے ہٹ گئے۔

الہام ان سب سے مل کر چلی گئی تھی۔۔۔۔۔۔آحل سارے راستے ڈرائیور سے رابطے میں رہا تھا۔

اس کا پسندیدہ سیدوج وہ بنا چکا تھا۔۔۔غازیان اعجاز سے اس کی بات ہو گئی تھی۔

وہ خود آ کر اس کا داخلہ وغیرہ کروانا چاہتے تھے لیکن اس نے منع کر دیا تھا کہ اب وہ اس کی زمہ داری ہے۔

اس کے آتے ہی وہ دروازے میں کھڑا تھا جو گاڑی سے نکلتی تیزی سے اس کے پاس آئی تھی۔

“آحل؟”

اس کے ساتھ لگتے اس نے اسے پکارا تو آحل مسکرایا۔

ابھی کہاں وہ اس سے ڈر رہی تھی اور اب خود اس کے حصار میں موجود تھی۔

“جی تو میری جان کیسی ہیں آپ؟ تھک تو نہیں گئی؟” آحل نے اسے حصار میں لیا اور اس کے بالوں پر بوسہ دیتے اسے اندر لے جانے لگا۔

“میں ٹھیک ہوں!” وہ کھلکھلائی۔۔۔وہ خوش تھی صاف نظر آ رہا تھا۔

“مجھے مِس تو تم نے کیا نہیں ہو گا بے وفا لڑکی!” آحل نے اس کی ناک کھینچتے کہا جس کر اس نے ناک چڑھایا تھا۔

“بھوک لگی ہے!”

“مجھے پتا تھا کہ میری بیوی بُھکر ہے۔۔۔اٹھیں فریش ہو کر آئیں پہلے ۔۔چائے تو پیے گی نہیں آپ میں جوس بنا دیتا ہوں تب تک۔۔۔”وہ اس کا سویٹر اتارتا اس کے بال باندھتا مصروف سا بولا۔

الہام نے اس کے ایک ایک قدم کو دل جمعی سے دیکھا اور محسوس کیا تھا۔

پھر وہ فریش ہو کر آئی تو وہ کھانا لگا چکا تھا۔۔۔اس کا گلاس جوس کا اور سینڈوچ پکڑاتے اب وہ اسے ہیڈ نیند لگا رہا تھا۔

“آحل میں بچی نہیں ہوں” وہ مسکرائی۔

“ہاں لیکن میرے سامنے تو لگتی ہو۔۔۔۔۔لوگ کہیں گے دیکھو اس نے بڑی عمر کے آدمی سے شادی کی ہے۔۔۔ہاہاہا۔۔۔”اس نے اپنی بات کا خود ہی مزہ لیا تھا۔

“کچھ ہی سالوں کا فرق ہے بس۔۔۔”الہام نے منہ بسوڑا۔۔۔تو آحل مسکرایا۔

پھر اس سے باتیں کرتے۔۔۔۔سامان سمیٹتا اندر لے گیا۔

“کیا میں ہوسٹل میں رہوں گی؟”

“تمہارا دماغ درست جگہ پر نہیں ہے لگتا۔۔۔”وہ سنجیدگی سے بولا تو الہام خاموش ہوئی۔

“تو کیا میں اپنے والے گھر میں رہوں گی؟”

“بظاہر تو! لیکن جب میں چاہوں گا تم یہاں میرے ساتھ موجود ہو گی۔۔۔”وہ اس کے بالوں کی لٹ کو انگلی پر گول گول گھمانے لگا۔

“امممم ۔۔اوکے!”

پھر وہ باتیں کرتی وہیں سو گئی تو وہ اس کے ماتھے پر بوسہ دیتا دروازہ بند کرتا باہر نکل گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حیات اب بے حد بور ہو رہی تھی۔۔۔۔غازیان اعجاز اور رابیل کے ساتھ وقت گزار کر بھی ایک بے کُلی سی اس پر چھائی رہی تھی۔

اس کے بعد میر صاحب نے ایک بھی کال نہ کی تھی اسے اور نہ اس نے کی تھی۔

وہ بستر پر لیٹی نجانے کتنی دیر تک اس کے بارے میں سوچتی رہی تھی۔

“مجھے جانا ہے!” وہ فوراً اٹھی اور باہر نکل گئی۔

بابا۔۔۔۔

بابا۔۔۔۔

جی میری جان؟ کیوں شور مچا رہی ہیں۔۔۔غازیان اعجاز نے پودوں کو پانی دیتے پوچھا۔

“مجھے بھی جانا ہے!”

“کہاں؟”

اممم۔۔۔۔یہاں سے تھوڑا ہی دور ہے۔۔۔۔اس نے میر کے گھر کے پاس واپسی پر ایک یونیورسٹی دیکھی تھی۔

وہاں میں نے اپلائی کیا تھا میرا نام آ گیا ہے۔۔۔ اس نے واقع ایسا کیا تھا میر کے جانے کے بعد۔

“لیکن آپ رہیں گی کہاں؟”

امممم! وہ سوچ میں پر گئی۔

“یونیورسٹی کے ہوسٹل میں۔۔۔۔۔!” پہلی بار اپنے باپ سے جھوٹ بولتے اس کی زبان لڑکھڑائی تھی۔

“ٹھیک ہے؟ اب آپ فیصلہ کر چکی ہیں تو۔۔۔۔!!!!”غازیان نے اس کا ماتھا چوما۔

شاید اس کی بے چینی وہ نوٹ کر چکے تھے۔۔۔۔اسے لیے انہوں نے زیادہ کریدا نہ تھا۔

میں سب وہاں سیٹ کروا دیتا ہوں۔۔۔۔آپ کل تک روانہ ہو جانا۔۔۔۔اوکے؟

اوکے!

ماما کو بتا کر آتی ہوں وہ اندر بھاگ گئی تو وہ مسکرائے۔

“آپ کہیں نہیں جا رہی حیات۔۔۔۔”رابیل نے اسے انکار کر دیا تھا۔

“لیکن کیوں؟”

آپ ابھی تو آئیں تھیں اب پھر جا رہی ہیں۔

اماں پلیز۔۔۔نا میں یہاں بور ہو گئی ہوں۔۔۔تھوڑے دنوں کی تو بات ہے میں لوٹ آؤں گی۔

“اچھا ٹھیک ہے منہ سیدھا کرو اپنا۔۔۔”رابیل کو پتا تھا وہ کتنا بھی انکار کرے وہ اسی کی اولاد ہے اسے منا لے گی۔

اگلی صبح وہ ان سے ملتی اپنے سفر پر نکل گئی تھی۔

غازیان کے ڈرائیور نے اسے یونیورسٹی ہی اتارا تھا۔۔۔لیکن اس نے میر کے ڈرائیور کو فون کر کے آنے کو کہا اور اپنا سارا سامان گاڑی میں رکھواتے اب وہ اسی گھر کی طرف گامزن تھی۔

جہاں اس نے کہا تھا وہ اکیلی نہیں رہ پائے گی۔

وہاں پہنچتے ہی وہ اپنا سامان لیے بغیر اندر چلی گئی تھی۔۔۔سب ویسا ہی تھا۔

لیکن اس شخص کی کمی تھی۔۔۔جو اسے شدت سے محسوس ہوئی تھی اب کی بار۔

اسے گئے تین ہفتے گزر چکے تھے۔

حیات نے اسی کے کمرے میں رہنے کا ارادہ کرتے اپنا سامان وہاں رکھوایا۔

پھر فریش ہو کر اس کی شرٹ الماری سے نکال کر پہنی تھی۔

ہاں کچھ کمی اب بھی تھی۔

“اس کی خوشبو!”

اسے یاد آیا میر نے اس سے کہا تھا وہ اس کے جانے کے بعد اس کی الماری سے وہ پرفیوم لے لے۔

اس نے ایسا ہی کیا۔۔۔اپنے اوپر اچھے سے چھرک کر باہر آ گئی۔

اب وہ یہاں وہاں گھومتی پورے گھر کا جائزہ لے رہی تھی۔

“صاحب جی! وہ آگئی ہیں واپس۔”

گارڈ نے اسے بتایا تو وہ مسکرایا۔۔۔اتنی جلدی اس کے آنے کی امید نہیں تھی میر کو۔

“خانساماں کا بندوبست کر دو اور گروسری ساری لکھوا لو اسی سے۔”

“اوکے سر!”

“گیٹ سے ایک منٹ بھی یہاں وہاں ہوئے تو جان نکال دوں گا۔۔۔

ڈرائیور کو بھی بتا دو۔۔۔وہ کہیں بھی جائے مجھے سب سے پہلے پتا ہونا چاہیے۔”

اوکے!

وہ تابعداری سے جواب دینے لگا۔۔۔اتنا تو جان گیا تھا کہ حیات نامی وہ لڑکی اس کے خرکت بوس کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔

وہ وہاں اچھے سے رہ رہی تھی۔۔۔۔خانساماں بھی آگئی تھی۔

پوچھنے پر اسے بتایا گیا تھا کہ سب میر نے کیا ہے۔

یعنی وہ جانتا ہے کہ میں یہاں موجود ہوں۔

رات کو اس کے تکیے کو اچھے سے خود میں بھینچتے وہ تقریباً نیند میں تھی جب اس کا فون بجنے لگا۔

اس نے بمشکل آنکھیں کھولیں صرف اس امید سے کہ فون میر کا ہو گا۔

“تو مس حیات! اب وقت آ گیا ہے کہ آپ سے روبرو ہو کر بات کی جائے۔”

وہ فوراً اٹھ کر بیٹھی! یہ سرد لہجہ۔۔۔۔

“ک۔۔۔کون۔۔؟”

“مس حیات حاد ابراہیم۔۔۔۔اپنے شوہر کو بھول گئی ہیں آپ ۔۔چچچچچ۔۔۔۔اچھا نہیں کیا آپ نے۔”

“سزا تو بنتی ہے۔۔۔۔لیکن یہ اُس کا معاملہ ہے!”

“تم کو۔۔کون۔۔۔ہو؟”

“آہ۔۔۔افسوس ہے مجھے کہ تم اپنے بچپن کو بھول گئی۔۔۔اس نکاح کو بھول گئی جس میں میں بھی شامل تھا۔”

“اس کی اچھی رقم ادا کرنی پڑے گی تمہیں۔”

“سنا ہے آج کل کسی اور کے گھر میں قیام پزیر ہو۔۔۔۔ہاہاہااا۔۔۔۔۔”

حیات نے خوفزدہ ہوتے کال کاٹنی چاہی۔

“نانا۔۔۔۔ابھی میری بات مکمل ہی کہاں ہوئی ہے مسز حاد۔۔۔”

حیات نے حاد نام پر تو غور ہی نہیں کیا تھا۔۔۔

آنکھوں سے آنسو گرنے لگے وہ شخص اسے خوفزدہ کرنے میں سو فیصد کامیاب رہا تھا۔

“تم ۔۔۔۔۔”

“بہت جلد ملاقات ہو گی تم سے۔۔۔۔کیونکہ۔۔۔۔چڑیا کو مارنے میں مزہ آئے گا۔۔۔آخر اس کی جان تو تمہیں میں بسی ہے نا۔۔۔ہاہاہاہ۔۔۔۔” مخالف قہقہہ لگاتا کال کاٹ گیا۔

وہ کانپتی کئی لمحے وہیں بیٹھی رہی۔

یک دم بتیاں گل ہونے پر اس کے منہ سے گھٹی گھٹی چیخ نکلی۔

وہ چیخ کر گارڈ کو بلانا چاہتی تھی لیکن آواز حلق میں ہی کہیں اٹک گئی۔

اس نے فون ٹٹولتے اس واحد شخص کو کال ملائی۔

“میرر۔۔۔۔۔”

“حیات؟”

وہ جو اپنے کام میں مصروف تھا کیمراز کنٹنک کرتا بولا جہاں اندھیرا تھا یعنی وہاں لائٹ نہ تھی۔

میر۔۔۔۔وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی اب۔

“کیا ہوا ہے؟ حیات۔۔۔میری بات سنو؟ اٹھو گارڈ کوآواز دو۔۔۔”

“میر تم۔۔۔تم آؤ۔۔۔”وہ چیخی۔۔۔

“میں ابھی نہیں آ سکتا۔۔۔۔”وہ پہلی بار بے بس ہوا تھا۔۔۔

“تم آؤ۔۔۔ابھی۔۔۔۔”وہ روتی اب اس سے ایک ہی بات بار بار کہہ رہی تھی۔

“ابھی لائٹ آ جاتی ہے زندگی۔۔۔”

“تم آؤ نہیں تو وہ۔۔۔۔”کال کٹ گئی تو وہ فوراً کھڑا ہوا۔