You're All Mine by Suneha Rauf NovelR50405 You're All Mine Episode 5
Rate this Novel
You're All Mine Episode 5
You’re All Mine by Suneha Rauf
اس نے وہاں کام شروع کر دیا تھا اور اسے اچھا لگ رہا تھا ایک نئی خوشبو وہ متعارف کروانے والی تھی۔
وہ وہاں کام کا جائزہ لینے آیا تھا جب دیکھا وہ وہاں کھڑی کام کر رہی تھی۔
وہ قریب آیا اور دوسرے لیب ورکر سے بات کرنے لگا۔
چاہت نے اسے دیکھا اور پھر دیکھتی ہی رہی۔
وہ اپنا کام کرتی اور ایک نظر اٹھا کراس سے دیکھتی۔
“مرد بھی کیا اتنے حسین ہو سکتے ہیں”؟ اس نے سوچا اور لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھری۔۔
نجانے کس کے نصیب میں ہوں گے یہ؟
اپنی خوشبو میں آخری اجزاء کو شامل کرتے اس نے سوچا۔
“مس چاہت؟” اسکی آواز گونجی اور پل میں اس کے ہاتھ سے وہ ٹیسٹر گِرا اور چھن سے ٹوٹ کر زمین پر بکھر گیا۔
چاہت نے اسے دیکھا اور پھر اپنے قدموں میں۔
“آپ کا دھیان کہاں ہے؟”
” اتنی بے خبری سے کام کر رہی ہیں؟” اس کی تیز آواز گونجی تو سب ان کی طرف متوجہ ہوئے۔
“میں۔۔۔۔”
“مجھے یہ آج ہی چاہیے اوور ٹائم کریں اور اسے دوبارہ بنائیں” وہ سخت دل اسے حکم جاری کرتا چلا گیا۔
اس نے آس پاس دیکھا سب اسے ہی دیکھ رہے تھے کسی کی نظر میں تمسخر اور کسی کی نظر میں ہمدردی تھی۔
اس نے آنکھوں کو رگڑا اور کام پھر سے شروع کیا باقی سب اپنا کام ختم ہونے پر اب جا رہے تھے اور پھر آہستہ آہستہ وہ جگہ خالی ہو گئی۔
وہ اکیلی رہ گئی۔۔۔اس کی قمر اور ٹانگیں کھڑے رہ کر ٹوٹنے والی تھی لیکن اسے یہ آج ہی بنا کر جانا تھا۔
“مس چاہت؟ “اسد کی آواز سنتے ہی اس نے سر اٹھایا۔
جی؟
“آپ گئی نہیں؟”
نہیں!
“بس یہ تھوڑا سا کام رہ گیا ہے ۔۔۔”اس نے شائستگی سے بتایا۔
آپ کو پتا ہے اتنا دھیما اس آفس میں کوئی نہیں بولتا اسد نے کہا تو اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
کیا مجھے اس میں بھی تبدیلی لانی چاہیے؟ اس نے معصومیت سے استسفار کیا۔
“نہیں بالکل نہیں!”
آپ جیسی ہیں وہیسی رہیں بالکل یہاں ہر جیسا بن جانا بہت آسان ہے لیکن اپنے آپ جیسا رہ جانا بہت مشکل۔
چاہت نے سمجھداری سے سر ہلایا اور کام بھی کرتی رہی ساتھ ساتھ۔
“میں چلتا ہوں پھر۔۔۔”
نہیں! بس میرا دس منٹ کا کام ہے آپ یہیں کھڑے رہ سکتے ہیں پلیز سب چلے گئے ہیں۔۔۔
ٹھیک ہے کوئی مسئلہ نہیں میں کھڑا ہوں یہاں!
اسد نے مسکراتے کہا وہ بھی اچھا لگتا تھا مسکراتا لیکن وجدان چوہدری کی مسکراہٹ کا مقابلہ نہیں۔
چاہت نے دل میں سوچا اور پھر خود کو ڈبٹا۔
اور پھر آخری اجزاء ڈالتے اس نے گہری سانس بھری اور زمین پر بیٹھ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح اسے اپنا فون بھی نہیں ملا تھا کیونکہ ڈارک ویزرڈ اسے رات ہی کو لے چکا تھا۔
وہ صبح اٹھی تو پھر سے سامان سمیٹ رہا تھا۔۔۔۔اس نے گہری سانس بھری۔
“حیات غازیان نے اگر دنیا گھومنے کا خواب دیکھا ہوتا تو آج میں بہت خوش ہوتی کیونکہ یہ پورا ہو رہا ہے۔
ہم کہاں جا رہے ہیں اب؟”
تمہاری وجہ سے بیوقوف لڑکی تمہاری وجہ سے ہماری لوکیشن لیک ہو گئی ہے وہ غصے سے بولا۔
میری وجہ سے؟ وہ کھڑی ہوئی۔
“ہاں جب تم ناچ رہی تھی ہوا کے سنگ جیسے بہت معرکہ سر انجام دیا ہو تو لوگوں نے تمہاری ویڈیوز انٹرنیٹ پر ڈالی تھیں سب برباد کر دیا تم نے سزا کے لیے تیار رہنا۔”
“لیکن۔۔۔؟”
“یہ جیکٹ پہنو میری فوراً۔۔۔۔”وہ اپنا فون دیکھتا بولا۔
میں کیوں پہنوں تمہارے جرمز مجھے بھی لگ جائیں گے ۔۔۔
بدلے میں ڈارک ویزرڈ نے اسے کن نگاہوں سے دیکھا۔
تمہیں پتا ہی نہیں پرنسس کے کیسے کیسے جرمز تمہیں لگنے ابھی باقی ہیں۔
تو پھر یہ اس آدھی شرٹ میں اس سردی میں گھومو گی وہ ایک بار پھر اس کے کپڑوں کو نشانہ بنا گیا تھا۔
بالکل! وہ کہتی بال جھٹکتی باہر نکل گئی تو اس نے غصے سے اس کی پشت کو گھورا۔
اس پر زبردستی کر سکتا تھا لیکن وہ چاہتا تھا اس کی اکڑ ٹوٹے اور وہ خود اس سے مدد مانگے۔
وہ چلتے کافی دور آگئے تھے۔۔۔
آہ میں تھک گئی ہوں۔۔۔۔وہ نازک سی جان زندگی ہر آسائش کے ساتھ گزارتی آئی تھی اور یہ سب!
کندھے پر اٹھانے سے رہا اس لیے خاموشی سے چلو۔۔۔وہ کہتا آگے نکل گیا تو وہ سردی سے جمتی تقریباً بھاگتی اس کے پیچھے آئی۔
یاخدا میں کہاں پھنس گئی؟
” اُف افف۔۔۔۔۔اپنے گھر اپنی زندگی میں کتنی خوش تھی بابا ماما الہام کے ساتھ۔۔۔۔اور یہ دیکھو کس جنگلی سے میرا پالا پر گیا ہے۔”
بال دیکھو لڑکیوں جیسے۔۔۔۔لیکن اس پر جچتے بھی تو ہیں یہ تو مافیا کا بندہ لگتا ہے لیکن میں یہ سب کیوں کر رہی ہوں؟
“سنو!”
“سنو تو؟”
“کیا تم مافیا کے لیے کام کرتے ہو؟”
وہ جو اپنے دھیان چل رہی تھی جھٹکے سے رُکی کیونکہ اس کی مضبوط چٹان جیسے وجود سے ٹکرا گئی تھی اور وہ اسے اپنی سرد نگاہوں سے گھور رہا تھا۔
“اچھا نہیں بتاؤ ۔۔۔”
وہ کہتی اس سے آگے نکل گئی اپنی قمر کے گرد ہاتھ باندھے تھے سردی کو روکنے کی ایک ناکام کوشش۔
ڈارک ویزرڈ کی آنکھیں مسکرائی اور ایسا بہت کم ہوا کرتا تھا۔
وہ اس کی پشت کو دیکھتا آگے بڑھ رہا تھا کہ اس کے رُکنے پر رکا۔
کیا مسئلہ ہے پاؤں جواب دے گئے ہیں تمہارے؟ لیکن وہ مڑی تو اس کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید تھا۔
تم نے سنا؟
“کیا؟ میرا وقت برباد مت کرو لڑکی!”
“نہیں یہ بھیڑیے کی آواز۔۔۔سنو۔۔۔۔۔!”
وہ رونے والی ہو گئی ڈارک ویزرڈ نے دھیان دیا تو وہ سچ کہہ رہی تھی وہ آس پاس تھا بلکہ اس کے پیچھے کی جھاڑیوں میں۔
وہ ان سب سے گزرا تھا لیکن حیات نہیں اور آج اس کے ساتھ وہ لڑکی بھی تھی اس نے گہرا سانس بھرا اور پھر اس کے قریب ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیا کرنے آئی ہیں یہاں؟”
آحل نے سنجیدگی سے پوچھا وہ جو اب تک اس لمحے کے حصار میں تھی چونکی۔
وہ۔۔۔واش روم۔۔۔جانا تھا ۔۔
تو مجھے بتا دیتیں۔۔۔اس کا برف جیسے ٹھنڈا لہجہ الہام کو بالکل پسند نہ آیا تھا۔
مجھے یاد نہیں رہا۔۔۔وہ منمنائی۔
“کیسے بھول گیا آپ کو کہ میں ایک باڈی گارڈ ہوں اور آپ کی حفاظت کرنا میرا فرض ہے اور جو آپ کہیں گی میں وہی کروں گا۔”
“میرا وہ مطلب۔۔۔۔”
دوسری طرف ایک ڈھابہ ہے وہاں ایک واش روم ہے وہ کہتا اُس طرف چل پڑا اور پھر واپسی تک وہ خاموش ہی رہا۔
آحل؟؟
آج آحل کے ساتھ بھائی کا اضافی نہ ہوا تھا۔
اس نے بنا کچھ کہے اسے مُڑ کر دیکھا۔
“آئیم سوری۔۔۔”
میں تب غصے میں تھی ۔۔۔۔اس نے سر جھکاتے جیسے اپنا گناہ تسلیم کیا تھا۔
آحل اس کے قریب آیا اور اپنی جیب سے اس کی دی چاکلیٹ نکالی اور اس کے ہاتھ میں تھمائی۔
اب ہم دوست تو بالکل نہیں ہیں اور یہ جان لو کہ مجھے میری عزتِ نفس سب سے اونچی ہے جو مجھے مجروح کروانا پسند نہیں۔۔۔۔
یہ ۔۔؟
“جو میرا تحفہ نہ رکھ سکا اس کا میں رکھ کر کیا کروں گا؟ “
وہ سرد لہجے میں اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھتا اسے دیکھتا چلا گیا۔
وہ نم آنکھوں سے وہیں کھڑی رہی۔۔۔۔وہیں ناجانے سردی میں کتنی دیر۔۔۔۔اس کا جسم جم رہا تھا وہ جانتی تھی وہ کافی حساس ہے لیکن۔۔۔۔
وہ اپنے کیمپ میں چلا گیا۔۔۔۔اگر لوگوں کو اس کی پرواہ نہیں تھی تو اسے بھی نہیں کرنی چاہیے تھی۔
بالکل آحل فیاض میں نے سمجھایا تھا تمہیں کہ ان سب میں مت پڑو تمہاری اوقات ان کے سامنے کچھ بھی نہیں۔۔۔۔اس کے دماغ نے اسے ڈبٹا۔
ہاں میں خوابوں کی دنیا کو حقیقت مان بیٹھا تھا وہ بڑبڑایا۔
“دیکھو اسے وہ باہر تو نہیں؟”
اس کا بیچارہ دل اسے پھر سے ورغلا رہا تھا لیکن وہ ثابت قدم رہا اور صبح تک باہر نہ نکلا۔
صبح اٹھ کر ہی باہر نکلا اور جنگل میں نکل گیا سب ابھی بھی سو رہے تھے۔۔۔
ہلکی ہلکی برف باری ہونے لگی تھی۔۔۔۔۔انہیں یہاں سے آگے اب ہاٹلز میں جانا تھا وہ الہام کو اپنے ساتھ گاڑی میں لایا تھا۔
“آہ ۔۔۔۔۔”
کسی صنفِ نازک کی چیخ کو سنتے وہ متوجہ ہوا اور واپس آیا تو دیکھا کوئی لڑکی اپنے ہاتھ کو پکڑے بیٹھی ہے۔
“کیا ہوا؟ آپ ٹھیک ہیں؟”
اب تو سب لوگ اپنے اپنے کیمپ سے باہر آنے لگے تھے۔
یہ ۔۔؟
اُس نے اپنا بازو آگے کیا۔۔۔خون نکل رہا تھا اسے کوئی کیڑا کاٹ گیا تھا۔
ہاسپٹل جانا ہو گا! پرنسپل کی آواز گونجی۔۔۔الہام اپنے دُکھتے سر کے ساتھ صورتحال سمجھنے کی کوششوں میں مصروف تھی۔
میرا سر۔۔۔۔وہ بڑںرائی۔
آنکھوں نے سب سے پہلے اس محافظ کو تلاشہ جو اس لڑکی کے ہاتھ کا جائزہ لے رہا تھا۔
آحل نے اپنا مفلر اتارا اور اس لڑکی کے ہاتھ پر زور سے باندھا تاکہ خون مزید نہ بہے۔۔۔۔
الہام کی آنکھوں میں مرچی سی بھر گئی۔۔۔وہ مفلر تو اس کا تھا۔۔۔اور اس نے کیا کیا تھا لیکن وہ کیسے کسی اور کو یہ دے سکتا تھا؟
یہی سوچنے کی تاب نہ وہ لا سکی اور لڑکھڑا کر گر پڑی اور اب سب اسکی طرف متوجہ تھے۔
آحل بھاگتا اسکی طرف آیا اور اسے اٹھاتے فوراً اپنی گاڑی کی طرف بھاگا۔
میں ہسپتال جا رہا ہوں۔۔۔اس نے پرنسپل کو آگاہ کیا پرنسپل اس کے بارے میں جانتے تھے اس لیے اجازت دے دی۔
ڈاکٹر نے سردی لگ جانے کا ہی بتایا تھا۔
وہ ہوش میں آئی تو خود کو اس ہسپتال کے بستر پر پایا لیکن سامنے ہی آحل کو دیکھتے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیا ہوا؟”
تھک گئی ہوں بہتتتت زیادہ وہ بولی تو اسد کو وہ ایسا کرتے کیوٹ لگی۔
“اچھا دکھائیں تو بنایا کیا ہے؟”
چاہت نے فوراً کھڑے ہوتے اسے ٹیسٹر دیا۔۔۔
“کمال ۔۔۔۔۔مجھے لگتا ہے آپ کو پرفیوم کی دنیا کی ملکہ ہونا چاہیے” اسد نے شرارت سے کہا۔
ہاہاہا۔۔۔۔
اس کا قہقہہ اس لیب کی دیواروں میں گونجا وہ جو اپنے کیبن سے نکل کر لفٹ کی طرف جا رہا تھا ان کی طرف متوجہ ہوا۔
کیا ہوا رہا ہے؟
یہ بن گیا ہے ۔۔چاہت نے آنکھوں میں جگنو کی سی روشنی لیے بتایا۔
“دکھائیں!” وجدان نے ہاتھ آگے کرتے اس سے لینا چاہا۔
وجدان یہ بیسٹ ہے۔۔۔۔اسد نے کہا جو اس کمپنی کا تھرٹی پرسنٹ شیر ہولڈر تھا۔
“ہمم ٹھیک ہے ۔۔۔۔اسے بھی پنسد آئی تھی لیکن وہ کہہ نہیں پایا۔”
میں تو مِس چاہت سے کہہ رہا تھا کہ انہیں پرفیوم کی دنیا میں کوئین ہونا چاہیے کوئی خود سے کیسے اتنی اچھی خوشبو بنا سکتا۔
“تمہیں جانا نہیں ہے؟” وجدان نے پوچھا۔
ہاں بس جا رہا ہوں وہ چاہت کو دیکھتا بولا اسکی نگاہیں وجدان سے چھپی نہ رہی تھیں۔
چاہت؟
جی!!
جو پرانی خوشبو تھی تمہاری کیا مجھے وہ مل سکتی ہے؟
اسکے یک دم پوچھ لینے پر وجدان نے جھٹکے سے چاہت کو دیکھا۔
“اممم۔۔۔!”
میرے پاس ابھی تو نہیں ہے لیکن مجھے اپنے لیے بنانی ہے تو میں ایک آپ کے لیے بھی رکھ لوں گی وہ صاف گوئی سے بولی۔
بہترین! وہ کہتا چلا گیا۔
تو وجدان نے مٹھیاں بھینچتے خود کو قابو کیا اب وہ دونوں لفٹ میں ایک دوسرے کے ساتھ تھے۔
مس چاہت؟
جی!
“کیا آپ اسد کو پہلے سے جانتی ہیں؟”
“نہیں!”
اوکے!
آپ وہ پرفیوم اسے نہیں دیں گی! وہ جلدی سے بولا تو چاہت نے حیرت سے اسے دیکھا۔
جی؟
“جو کہا ہے وہ کریں۔۔۔”
لیکن اس میں کیا مسئلہ ہے اور ویسے بھی یہ میری زاتی زندگی ہے میں جسے اپنا پرفیوم دوں؟
نہیں یہ ابھی لونچ نہیں کیا گیا! وجدان چوہدری کیا بول رہا تھا اسے خود نہیں پتا تھا۔
ہاں لیکن میں بس وہی لگاتی ہوں تو ان کو بھی۔۔۔
کہا نا نہیں۔
“اسے نہیں بلکہ کسی کو بھی نہیں۔۔۔”وہ لفٹ کی دیوار پر ہاتھ مارتا دھاڑا تو وہ سہم گئی۔
میرا بس چلے تو وہ تم سے بھی لے لوں لیکن یقین کرو وہ خوشبو جتنی تم پر سوٹ کرتی ہے اس دنیا میں کسی پر نہیں کرے گی اس کے اوپر جھکتے وہ بولا۔
چاہت کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی باہر آجائے گا۔
“سر؟”
“سمجھ آ رہی ہے کسی کو نہیں مطلب کسی کو نہیں!
تو میں ان سے کیا کہوں گی؟” اس کے بعد شاید اس کا دل بھی راضی نہیں تھا وہ پرفیوم کسی کو دینے کے لیے۔
“بہانہ بنا لو جو بھی اور بناتی رہنا۔۔۔اور جان لو جس دن اس خوشبو تک کسی کی رسائی ہو گئی نا اس دن۔۔۔۔۔”
چاہت سانس روکے سن رہی تھی۔۔۔
وہ پیچھے ہوا اور جھٹ سے باہر نکل گیا۔۔۔چاہت بھی باہر نکل کر اپنی اتھل پتھل سانسوں کو نارمل کرتی اپنے سفر کی طرف چل پڑی۔
کہانی کا آغاز تو ہو گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے قریب گیا اور اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
مجھ پر اعتبار ہے؟
نہیں! بالکل نہیں! وہ صاف گو تھی اتنا تو وہ جان گیا تھا۔
“ٹھیک ہے! “
بنا پیچھے دیکھے بھاگو میرے ساتھ رُکنا مت جب تک میں نا کہوں اس کا کہنا تھا کہ وہ صدمے سے بیہوش ہونے کو تھی یعنی خطرہ پاس ہی تھا۔
اس نے اپنے یہاں ہونے پر خود کو لعنت بھیجی اور پھر اس کا ہاتھ تھامتی جتنی تیز بھاگ سکتی تھی بھاگی اپنے پیچھے وہ خطرناک آواز وہ سن سکتی تھی۔
“میں اور نہیں چل۔۔۔۔”
اور دھڑام سے گری وہ جھکا اور اسے باہوں میں اٹھاتے آگے کی طرف بھاگا اسے اس جگہ سے نکلنا تھا۔
مجھے ڈر لگ رہا ہے وہ اس کے کان کے پاس بولی۔
ڈارک ویزرڈ اپنی گردن پر اس کے آنسو محسوس کر سکتا تھا ۔۔کوئی اور وقت ہوتا تو اس لمحے کا ردّعمل بہت مختلف ہوتا۔
“میری طرف دیکھو۔۔۔۔”
کیوں؟ وہ پریشانی میں بھی اپنی زبان کا غیر ضروری استعمال کرنا نہیں بھولی تھی۔
میری طرف دیکھو اور مجھے بتاؤ میں تمہیں کیسا لگتا ہوں؟
حیات نے چہرہ اس کی گردن سے نکالتے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔
“اچھے۔۔۔۔پر ناجانے کیوں؟”
” تم مجھے خوفزدہ کر دیتے ہو لیکن مجھے تم سے بُری وائب نہیں آتی اور تمہارے بال تم پر بے حد جچتے ہیں۔۔۔لیکن کیا تم انہیں کسی کے کہنے پر نہیں کٹواتے؟”
نہیں!
“لیکن کیوں؟”
“کیا مجھے یہ کٹوانے چاہیے؟”
نہیں! لیکن اگر لُک میں تبدیلی کوئی لانا چاہے تو اس کے کہنے پر۔۔۔۔۔
وہ تھما اور اسے نیچے اتارا کیونکہ خطرہ ٹل گیا تھا۔۔۔۔ وہ بھی جو اس لمحے کی قید میں تھی ہوش میں آئی۔
“اممم۔۔۔میں۔۔۔؟”
“سردی لگ رہی ہے؟”
نہیں تو؟ بھرم رکھنا چاہا۔
ڈارک ویزرڈ نے اس کو سرد نگاہوں سے گھورا اور اپنی جیکٹ اسے پہنائی اور ٹوپی سر پر پہناتے اسے دستانے دیے جو وہ فوراً پہن گئی۔
“اب اچھا لگ رہا ہے!” وہ مطمئن سے بولی تو اس نے اسے دیکھا وہ چلنے لگی تو اپنی گردن پر ہاتھ رکھتے مسکرایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آحل؟؟”
آحل نے فوراً اس کا ہاتھ تھاما اور اس کا بخار چیک کیا جو پہلے سے کم تھا۔
اب ٹھیک ہیں آپ؟
“مجھے گھر جانا ہے!” وہ نم آنکھوں سے بولی۔
لیکن! آپ کو تو یہاں آنا تھا نا۔۔۔۔تو اب جانا کیوں ہے؟
ابھی مجھے بس گھر جانا ہے گھر۔۔۔اب کہ وہ تیز آواز میں بولی تو وہ تھک کر اسے دیکھنے لگا۔
ٹھیک ہے یہ ڈرپ پوری ہو جائے اس کے بعد اپنا سامان لے لیں ہم گھر جا رہے ہیں۔
اس کی حالت پر اس کا دل دکُھا تھا اس لیے فوراً مان گیا۔
اپنا سامان لینے گئی تو وہ لڑکی بھی واپس آگئی تھی وہ فوراً اس کے پاس گئی۔
سنو!
ہمم ۔۔میں ٹھیک ہوں۔۔۔اس لڑکی کو لگا سب کی طرح وہ بھی اس کا حال احوال دریافت کرے گی لیکن وہ الہام غازیان تھی۔
وہ مفلر دو۔۔۔اس نے پاس پڑے مفلر کو دیکھتے کہا۔
کیوں؟ وہ لڑکی حیران ہوئی۔
بس جو کہا ہے وہ کرو۔۔۔۔۔الہام نے اسے غصے سے دیکھتے کہا۔
“وہ اب میرا ہے تمہارے باڈی گارڈ نے مجھے باندھا تھا۔”
الہام نے آگے بڑھتے وہ مفلر اس سے کھینچا۔۔۔۔”وہ میرا باڈی گارڈ ہے اسکی تمام چیزیں بھی میری ہیں سمجھ رہی ہو۔”
کہتی وہ تن فن کرتی باہر آ گئی۔
آحل پرنسپل کو سب بتا کر نکل چکا تھا وہ بھی آ کر اس کے ساتھ بیٹھی تھی۔
اب وہ گھر کی طرف رواں دواں تھے۔
ابھی آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی ہمیں اتنی جلدی نہیں۔۔۔۔
“نہیں مجھے بس وہاں سے آنا تھا۔۔۔”اس کی آنکھوں کے سامنے ابھی بھی وہی منظر تھا جو وہ اس لڑکی کے ہاتھ پر اپنا مفلر باندھ رہا تھا۔
اسے پاس کے ریسٹورنٹ سے کچھ کھلاتے دوا دیتے سلا دیا تھا اس کی سیٹ کو پیچھے کیے اور وہ سامنے سڑک کی طرف متوجہ تھا۔
“تم ۔۔۔۔۔تو۔۔۔ایس۔۔۔ایسے۔۔نہ۔۔نہیں۔۔تھ۔۔تھے۔۔۔”
اس کی بڑبڑاہٹ پراس نے گاڑی سائیڈ پر روکی وہ گھر سے کچھ ہی دور تھے۔
“الہام؟”
وہ اس کی طرف ہلکا سا جھکا جیسے سُن سکے وہ کیا کہہ رہی ہے۔
تم۔۔۔تم ہی ۔۔
“کیا ہوا؟ اُٹھ جاؤ؟”
آحل نے ناچاہتے ہوئے بھی دل کی مانی اور اس کے سفید پھولے گال پر اپنا ہاتھ رکھا۔
اگلا دھچکا اسے تب لگا جب وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام گئی۔
“ہاں یہی ۔۔؟”
کیا؟ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا اِسے۔
“تم نے اسے۔۔وہ۔۔کیوں دیا؟ نہیں دے سکتے وہ میرا ہے سب میرا ہے۔۔۔”
آحل اسے سن کب رہا تھا وہ تو بس اسے دیکھ رہا تھا وہ جانتا تھا یہ غلط ہے لیکن کیا پتا زندگی میں دوبارہ کبھی موقع ملے یا نہیں۔
اور وہ اسی حسرت کے ساتھ مر جائے کہ وہ اسے قریب سے دیکھ پائے گا۔
کبھی کہیں پڑھا تھا اس نے حاصلِ زندگی حسرت کے سوا کچھ نہیں جو چاہا وہ ہوا نہیں جسے چاہا وہ ملا نہیں۔۔ ۔۔۔
“لیکن محبت کہاں امیری غریبی کی تفریق دیکھتی ہے۔۔۔لوگ اپنی زندگی میں معجزوں پر یقین نہیں رکھتے لیکن میرا پاگل دل معجزے کی امید لگائے بیٹھا ہے ہو سکتا ہے کس روز رب کو میری کوئی عبادت بھا جائے۔۔میری تڑپ تمہارے لیے سچی لگے اور تم مجھے صلے کے طور پر دے دی جاؤ۔۔۔۔تم چاند ہو جو لاحاصل سا لگتا ہے مجھے جس کو پانے کی چاہ میرا دل ہر روز کرتا ہے اور ہر روز اس چاہ کی ٹرپ میں انتہا بڑھ جاتی ہے۔”
“ہم محبتوں کے جہاں میں تن تنہا رہ جانے والے لوگ ہیں ۔۔۔۔ہزاروں خواب بُننے والے وہ بیوقوف لوگ جن کے جب خواب ٹوٹتے ہیں تو وہ رو بھی نہیں پاتے۔۔۔۔ایک ہی شخص کو توجہ کا مرکز بنا کر زندگی گزار دیتے ہیں۔۔۔ہمیں دنیا کی رسومات بری لگتی ہیں جب ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ہمیں کسی اور کو چُن کر زندگی تو آگے بڑھانی ہے لیکن جنت کے دعویدار ہمارے قلب اسی افسانوں پر اٹکے ہیں کہ مصنفوں نے لکھا تھا کہ محبت کے جذبے سے آشنا لوگوں کی ابتدا دنیا کے اختتام سے ہو گی۔۔محبت کرنے والے جنت میں اکٹھے کر دیے جائیں گے۔۔۔۔اس احساس کو جیتے ہم زندگیاں گزار دیتے ہیں اور جب خوابوں کی دنیا سے بیدار ہوتے ہیں تو دل رونے لگتا ہے اور اسی خواب کو بار بار دیکھنے کی طلب کرتا ہے۔”
“شاید کسی روز۔۔۔”
کسی روز۔۔۔۔
“آحل فیاض پر الہام غازیان حلال کر دی جائے۔”
