You're All Mine by Suneha Rauf NovelR50405 You're All Mine Episode 17
Rate this Novel
You're All Mine Episode 17
You’re All Mine by Suneha Rauf
باہر نکلتے ہی چہرے پر پھیلی مسکراہٹ سمٹی۔۔۔۔وہ منظر چھن سے آنکھوں کے سامنے آیا جب اسے دھتکارا گیا تھا۔
دھتکارے ہوئے لوگ پھر کسی
کی منزل بھی بن جائیں نا
تب بھی دلّوں کو قرار نہیں آتا،
دل سکون میں نہیں رہتا
از قلم خود۔
اس نے سامنے سے آتے زید کو دیکھا جو اس دن ساتھ ہی تھا، اس کی باتیں یاد کرتے اس نے آنکھیں میچی۔
“کیا حال ہیں مِس چاہت؟”
چاہت نے اسے جواب دیے بغیر پاس سے گزرنا چاہا تو وہ طنزیہ مسکراتا اپنا ہاتھ اس کے آگے کر گیا۔
“ارے ابھی بھی یہیں ہیں آپ؟
مجھے لگا تھا کہ اب تک چلی گئیں ہوں گی لیکن آپ جیسی لڑکیوں میں کہاں عزتِ نفس۔۔۔۔”
“زبان سنبھال کر آپ جو بھی ہیں۔۔۔۔اس دن میں کچھ نہیں بولی تھی مجھے مظلوم مت سمجھیے گا اور نہ میں ہوں۔”
“اور عزتِ نفس کی بات آپ جیسے لوگ کرتے اچھے نہیں لگتے جو یوں دوسروں کو سرِ عام رسوا کرنے پر یقین رکھتے ہوں۔”
“یہاں اپنے کام کی وجہ سے ہوں۔۔۔جس دن مجھے اس کمپنی کی ضرورت نہ رہی چھوڑ جاؤں گی اب ہٹیے” وہ سائیڈ سے ہوتی اسے کچھ کہنے کا موقع دیے بغیر نکل گئی۔
کچھ لوگ زید کی طرح ہوتے ہیں بلا وجہ آپ کو حقیر سمجھنے والے اور اپنی دھونس جمانے کی کوشش کرنے والے لیکن ان کے سامنے چپ رہا جائے یہ ضروری نہیں۔
اس نے جاتے اپنے ڈیسک پر گہرا سانس بھرا اور پانی کی بوتل کو منہ لگایا۔۔۔آنکھوں میں نمی اتری تھی جسے وہ پی گئی۔
“کیا ہمیشہ میری پہچان اس وجہ سے کروائی جائے گی؟” اس نے خود سے بار ہا یہ سوال پوچھا جس کا کوئی جواب نہ تھا اس کے پاس۔
اسے دیکھتے دور ڈیسک پر موجود اس لڑکی نے فون اٹھایا اور کان کے ساتھ لگایا۔
“مجھے لگتا ہے شکار تیار ہے! تیاری کرنی چاہیے۔۔۔اور ایسے بات کرنا کہ وہ منع نہ کر پائے۔”
ٹھیک ہے پھر کال کاٹتے وہ اٹھی اور ادا سے چلتے اس کی میز کے پاس گئی۔
“کیا ہوا چاہت؟ طبیعت ٹھیک ہے؟”
ہمممم ۔۔۔چاہت نے سر ہلایا اور کام کرنے لگی۔
“تم سر زید کی بات کا برا نہ ماننا۔۔۔سر وجدان کے دوست ہیں اور دونوں کے خیالات میں ہمیشہ ہم آہنگی پائی جاتی ہے ایک جیسے خیالات ہیں دونوں کے۔۔۔”
اور تم جانتی ہو؟
وہ کچھ سوچتی مسکرائی اور پھر فوراً بولی تو چاہت نے سر اٹھایا۔
“سر وجدان اس دن تمہیں نکالنے کے بارے میں بات کر رہے تھے شاید۔۔۔”
چاہت نے جھٹکے سے سر اس کے کیبن کی طرف گھمایا۔
“تمہیں کیسے معلوم؟”
“میں نے گزرتے ہی سُنا تھا۔۔۔لیکن وہ تمہیں نکالیں گے نہیں” دوسرا تیز نشانے پر لگا چکی تھی وہ۔
“کیوں؟” وہ گُم سُم سی استسفار کرنے لگی۔
“کیونکہ تمہاری پچھلی پرفیوم سے انہیں کافی پروفٹ ہوا ہے اسی لیے اس پرفیوم کا بھی انہیں انتظار ہے اس کے بعد شاید یہاں تمہاری جگہ نہ رہے” وہ بتاتی جا رہی تھی اور وہ بس سُن رہی تھی۔
“چلو کوئی بات نہیں۔۔۔تمہیں اس سے اچھی نوکری مل جائے گی” وہ کہتی ہیل کی ٹِک ٹِک کا شور پورے آفس میں مچاتی اپنی جگہ پر جا چیٹھی۔
چاہت کئی لمحے ایک ہی مقام پر نظریں جمائے بیٹھی رہی۔
پھر اٹھی اور اسد سے اجازت لیتے طبیعت خرابی کا بتاتے گھر کے لیے نکلنے لگی لیکن سامنے لفٹ کی طرف وجدان چوہدری کو جاتے دیکھ قدم رکے۔
وہ بھی اسے دیکھ چکا تھا۔۔۔۔چاہت نے قدم موڑے اور سیڑھیوں سے اترتی نیچے پہنچی۔
وجدان چوہدری نے اس کی آنکھوں کو غور سے دیکھا جس میں پہلے اس کے لیے ہزار جزبات تھے لیکن آج وہ آنکھیں سرد تھی ایک دم۔
اس نے اسد کو فون کیا۔۔۔کیونکہ اسے پتا تھا وہ اسے ضرور بتا کر گئی ہو گی۔۔۔۔۔اسد نے اس کی طبیعت خرابی کا بتایا تھا۔
“مِس چاہت؟ میں چھوڑ دوں؟”
“کیوں کیا آپ میرے پرسنل ڈرائیور ہیں؟” وہ خشک لہجے میں بولی۔
“مائینڈیور لینگویج!”
کاش میں اس روز سب کے سامنے آپ سے یہی لفظ کہہ پاتی۔۔ تو آج یوں رسوائی میرا مقدر نہ ٹہرتی۔
“آپ بوس ہیں میرے اور جب تک ہیں میں چاہتی ہوں کہ ہم ایک عام امپلوئے کی طرح ایک دوسرے سے مخاطب ہوں۔۔۔”لہجہ سخت تھا نہایت سرد۔
وجدان چوہدری کو یہ لہجہ، یہ آنکھیں یہ بدلا ہوا سا موسم اور اس کے تاثرات کچھ بھی تو نہیں بھایا تھا۔
وہ آگے بڑھ گئی۔۔۔لیکن وجدان چوہدری ایک عام سی لڑکی کی پشت کو گھورتا وہاں کتنی ہی دیر کھڑا رہا۔
محبت کے الہام دلّوں پر ہونے لگے تھے، ہاں وہ آشنا ہو گیا تھا اس جزبے سے جو اس نے خود سے بھی چھپایا تھا۔۔۔۔چاہت خالد کی پشت کو دیکھتے اسے محسوس ہوا جیسے وہ ہمیشہ کے لیے چلی گئی ہو اور شاید ایسا ہی ہوا تھا۔
“نہیں!”
“میں وجدان چوہدری خالی ہاتھ نہیں رہ سکتا۔۔۔۔”
اس نے خود کو باور کروایا اور پھر گھر کے لیے نکل گیا۔۔۔خود کی زات کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا تھا وہ۔۔۔کیا اس کے دل و دماغ پر جو انکشاف ہوا تھا وہ حقیقت تھا یا محض وہم۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح اٹھتے ہی ناشتے کی خوشبو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی۔۔۔۔جس نے اس پر اچھا تاثر ڈالا تھا۔
یہ گھر، یہ بستر، یہ تکیہ وہ ان سب کی عادی ہو گئی تھی۔
اسے کچھ بھی یاد نہ رہا تھا۔۔۔۔وہ سرد کمرہ، زبردستی نکاح سب ہی تو بھول گیا تھا اسے۔
یاد تھا تو بس اتنا کہ وہ مطمئن تھی اور ہاں کچھ لوگوں کے لیے زندگی میں خوش رہنے سے زیادہ مطمئن رہنا ضروری ہوتا ہے۔
خوشیوں کا ہم سے رابطہ بہت کم عرصے کے لیے جڑتا ہے۔۔۔۔یہ مستقل ساتھی نہیں ہوتی۔۔۔۔اور خوشی کتنی بڑی ہی کیوں نا ہو اس کے اچھے اثرات تین دن سے زیادہ نہیں رہتے لیکن زندگی میں مطمئن رہنا ضروری ہے۔
“کیا کر رہے ہو؟”
اس نے بکھرے بالوں کو سلجھانے کی کوشش کرتے اس کے پاس آتے پوچھا۔
میر نے اسے دیکھا اور پھر سنجیدگی سے پاس شلف پر اسے کچھ سوچنے کا موقع دیے بغیر بٹھایا۔
وہ منہ کھولے اس کی حرکت دیکھتی رہ گئی وہ جو کام میں مصروف ہو گیا تھا اس کا کھلا منہ دیکھ اس کی تھوڈی پر انگلی رکھتے بند کر گیا۔
“تم ہاتھ نہیں لگایا کرو!” وہ سنجیدگی سے بولی۔
“اچھا!”
“اور تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہاری بات ماننے کا پابند ہوں؟” وہ اسے کیوں لاجواب کر دیتا تھا وہ سمجھ نہ پائی۔
“مجھے اچھا نہیں لگتا۔”
“سچ میں؟” میر نے جھٹکے سے مُڑتے اسے دیکھا تو وہ خفیف سی ہوتی سر جھکا گئی۔
“آپ کی طرف تو بہت سے حقوق و فرائض نکلتے ہیں میرے حیات میر ۔۔۔۔”اسکی گھمبیر آواز پر حیات کی ہتھیلیاں بھیگی۔
“امممم!”
“کیا تم واپس آ کر مجھ سے ملنا چاہوں گے؟” وہ ناجانے کیا جاننا چاہ رہی تھی۔
کسی مرد سے پہلی بار دوستی، پہلی بار کسی کی قربت اور ساری توجہ کی واحد حقدار بنی تھی وہ۔۔۔یہ لمحات گزارتے وہ انجانے احساسات کا شکار تھی کیونکہ یہ رشتہ اس کی زندگی میں ناچاہتے ہوئے بھی قیمتی ہو گیا تھا۔۔۔یہ رشتہ رب کی طرف سے جوڑا گیا تھا۔
“نہیں!”
وہ بولا تو اس کی آنکھوں کی جوت بجھ گئی۔
“تم مجھے یہاں چاہیے ہو ہمیشہ جہاں میں چھوڑ کر جا رہا ہوں یہ ہمارا گھر ہو سکتا ہے اور ۔۔”
“لیکن تم نے یہ گھر اپنی کزن۔۔۔۔۔”وہ رُکی کیونکہ وہ سرد نگاہوں سے اسے ہی گھور رہا تھا۔
وہ فوراً شلف سے اتری اور اسکی آنکھوں پر اپنی انگلی کا دباؤ بڑھاتی فوراً کمرے میں جانے لگی۔
“تم مجھے یوں خوفزدہ نہیں کر سکتے۔”
“حیات میر اِنہیں آنکھوں کو تم اگلے کچھ دن یا مہینوں یاد کرنے والی ہو” اسے جھٹکے سے اپنے سامنے کھڑا کرتا اس کے بال چہرے سے ہٹاتا کان کے پیچھے اڑسنے لگا کندھے سے اسکی سِرکی شرٹ کو صحیح کرتا بولا۔
“بھوک۔۔۔۔”
جب کچھ نہ سُوجھا تو اس نے یہی بہانہ بنایا۔۔۔وہ جب بھی قریب آتا تھا وہ گہرا سانس ضرور بھڑتی تھی۔
اس کی خوشبو کو خود میں بسانے کی ایک ناکام سی کوشش انجانے میں کرنے لگی تھی وہ۔
میر نے ایک پلیٹ میں کھانا نکالتے اس کی کرسی کو کھینچا اور اپنا چمچ بھر کر اس کے آگے کیا۔
“کیا تم بھول رہے ہو جو تم نے میرے ساتھ کیا تھا؟” وہ یک دم پوچھ بیٹھی۔
اشارہ اسے زبردستی کمرے میں بند کر کے دھمکانے کی طرف تھا۔
“کیا تم بھول گئی ہو جو میرے ساتھ نجانے کتنے سالوں سے ہوتا آرہا ہے۔”
“کیا مطلب؟” وہ ناسمجھی سے بولی۔
“ناشتہ کرو!” وہ خاموشی سے ناشتہ کرتا اسے بھی کروانے لگا۔
وہ نہیں کہہ سکی کہ اپنی پلیٹ، اپنے چمچ سے کھا لے گی۔۔۔اس کے دل نے کہیں نا کہیں اپنی شکست مان لی تھی۔
اور ہاں کسی جائز رشتے میں کس صنفِ نازک کو توجہ کا مرکز بننا نہیں پسند؟ خود کو وقت دینے والا نہیں پسند؟ اپنی چھوٹی چھوٹی ضرورتیں بنا کہے پوری ہوتے دیکھنے کا شوق کسے نہیں ہوتا؟
ہاں وہ بھی انہیں صنفِ نازک میں سے ایک تھی۔
پانی بھی وہ اسی کا اٹھا کر پی گئی تو میر کی نگاہیں کئی لمحے اس خالی گلاس پر ٹکی رہیں۔
“مجھے تھوڑی دیر میں نکلنا ہے۔۔۔۔میرے جانے کے بعد سے ڈرائیور یہیں ہو گا جب چاہو گی وہ تمہیں چھوڑ آئے گا” وہ اپنے ہی رومال سے اس کا چہرہ صاف کرتا اٹھا تو اسے بھی اٹھنا پڑا۔
نہیں تو اس میز پر وہ اور بیٹھنا چاہتی تھی ابھی۔۔۔وہ شخص اسے ہپنائز کر رہا تھا اور وہ ہو رہی تھی۔
“ٹھیک ہے!”
اپنا سامان گاڑی میں شفٹ کرتے اس نے پیچھے دیکھا جہاں وہ دروازے پر کھڑی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
وہ قدم قدم چلتا اس تک آیا اور اس کے سامنے کھڑا ہوا اپنے گلے میں لٹکی چادر اتارتے اسے پہنائی۔
“اس بار قدم میں نے بڑھائیں ہیں اگلی ہر ملاقات میں ایسا تم کرو گی” وہ اسے باور کروا رہا تھا۔
حیات نے کوئی جواب نہ دیا تھا یا جواب اسکے پاس تھا ہی نہیں۔۔۔۔۔اس شخص کے ہاتھ اپنے بازو پر محسوس کرتے اس نے لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں۔
“اجازت دے سکتی ہو؟”
لہجے میں بے قراری پہلی بار تھی وہ جب سے ملے تھے نہیں تو وہ کہاں کسی چیز کی اجازت لینے کا متمحل تھا کسی سے۔
حیات نے ناسمجھی سے اسے دیکھا جب وہ اسے لے کر واپس لاونج میں آیا اور دروازے کے ساتھ لگاتے اس کی آنکھوں کی پلکوں کو لرزتے پایا۔
“اجازت دے رہی ہو بیوی یا میں خود ہی اپنے جائز حق کا استعمال کر لوں؟”
اب بھی جواب نہ ملنے پر وہ جھکا تو حیات نے زور سے آنکھیں میچی لیکن پھر اسے یوں ہی جھکے پا کر آنکھیں کھولی۔
اور ہاں اس نے میر صاحب کو پہلی بار مسکراتے دیکھا تھا۔۔۔۔حد درجہ خوبصورت مسکراہٹ اس کے دل نے اقرار کیا۔
“خدا حافظ!”
“کس چیز کی اجازت مانگ رہے تھے؟” اس نے دوبدو پوچھا۔
آواز بے حد دھیمی تھی وہ رُکا، پھر پلٹا اور تیزی سے اس کے قریب آتے اس کی سانسوں کو خود میں قید کیا۔
حیات نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے باز رکھنا چاہا لیکن وہ شدت بھرا لمس چھوڑتا پیچھے ہوا۔۔۔۔
حیات نے بے یقینی سے اس کی انگلی پر خون کی بوند دیکھی جو ابھی ابھی اس نے حیات کے ہونٹوں پر پھیری تھی۔
“میں چاہتا ہوں یہ لمس تمہیں ہمیشہ یا رہے۔۔۔۔”
اس کے ماتھے پر بوسہ دیتا اس کے کان میں خدا حافظ کرتا اس کی گردن پر لب رکھ کر اس کی خوشبو خود میں اتارتا وہ تو کب کا جا چکا تھا۔
لیکن حیات میر کی نہ سانسیں برابر ہوئیں تھی اور نہ دل کی دھڑکنوں کی رفتار۔۔۔۔کئئ لمحے وہیں بیت گئے تھے ایسے ہی اس لمحے اور لمس کے حصار میں۔
یہ کہانی کا آغاز تھا یا اختتام کون جانتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آحل کافی گھنٹوں کا سفر طے کرتا وہاں پہنچا تھا۔۔۔دوست سے اس کی گاڑی اُدھار لیتے کیونکہ غازیان کی دی گاڑی اسی روز وہ گارڈ کے ساتھ بھجوا چکا تھا۔
وہ پُرجوش تھا۔۔۔۔الہام غازیان سے ملنے کے لیے۔۔۔ایک بار پھر میں کوشش کروں گا الہام۔۔۔۔تم سے پیچھے ہٹنا میرے لیے موت کے مترادف ہے۔
“الہام؟”
اس کی یونیورسٹی کے باہر کتنی دیر اس نے انتظار کیا تھا۔۔۔تھکاوٹ اس کے چہرے سے صاف جھلک رہی تھی۔
الہام جو اپنے دھیان یونیورسٹی سے نکل رہی تھی اسے دیکھ کر چونکی اور تیزی سے قدم اٹھاتی اس کے سامنے آئی۔
آنکھیں فرطِ جذبات سے مغلوب تھیں۔۔۔۔اس کے قریب آتے آنکھیں میچ کر پھر سے کھولیں آیا یقین کرنا چاہا ہو کہ وہ واقع سامنے ہے۔
ابھی کل ہی تو جب اس نے کہا تھا کہ وہ اس سے ملنے آئے گا تو دل نے فوراً اس کے دیدار کی طلب کی تھی اور آج وہ سامنے تھا۔
“میری دعا اتنی جلدی قبول ہو گئی۔۔۔”وہ کھلکھلائی۔۔۔
آحل فیاض کے دل پر اس جلترنگ نے گہرا اثر ڈالا تھا کہ ساری تھکاوٹ جاتی رہی۔۔۔اس کے جانے کے بعد جو بے چینی اور بے کُلی اسکی زات کو حصہ رہی تھی وہ معدوم ہو گئی۔
“کیسے ہیں؟”
“ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں؟” آحل نے خود کو ہزار بار روکنے کے باوجود بھی اس کے ہاتھ تھامے۔
“مجھے پتا ہے یہ غلط ہے لیکن۔۔۔۔”آحل نے اس کے ہاتھوں کو تھامنے کی طرف اشارہ کیا تو اس نے سر ہلایا۔
“ہیپی برتھ ڈے الہام۔۔۔۔”
جاناں کہنے سے گریز کیا گیا تھا کہ ابھی کوئی حق نہ رکھتا تھا وہ اس پر۔
آج اس کی اٹھارویں سالگرہ تھی۔۔۔۔وہ جو اس سالگرہ کو منانے کا ارادہ نہ رکھتی تھی یک دم خوش ہو گئی۔
“میرا تحفہ؟”
اس نے فوراً اس سے ہاتھ چھڑواتے اپنی ہتھیلی آگے کی۔۔۔۔چہرہ دمکنے لگا تھا لمحوں میں۔
“میں آ گیا ہوں کافی نہیں ہے؟” آحل نے مصنوئی ناراضگی سے کہا تو وہ کھلکھلائی۔
“جی نہیں!”
” تحفہ تو مجھے پھر بھی چاہیے! ایک مفلر دیا ہے آپ نے بس مجھے ابھی تک اور اب تو ماڈل بن گئے ہیں ابھی بھی پیسے نہیں ہیں آپ کے پاس مجھے تحفہ دینے کے لیے؟” الہام نے قمر پر ہاتھ رکھتے لڑاکا عورتوں کی طرح استسفار کیا۔
“اوکے اوکے! لے لو تحفہ” آحل نے فوراً گاڑی میں جھکتے ایک ڈبہ نکالنا چاہا جو بڑا تھا کافی۔
اور ماڈل ابھی نہیں بنا۔۔۔ابھی بہت آگے جانا ہے یہ تو بس ابتدائی قدم ہیں۔
“اس میں کیا ہے؟”
یہ اتنا بڑا اندر کیسے آیا ہو گا؟ الہام نے بمشکل اس کو وہ ڈبہ گاڑی سے نکالتے دیکھ پوچھا۔
“صبر کریں الہا۔۔۔۔”
پھر ڈبہ اس کے سامنے رکھتے کیک جو ابھی راستے سے لیا تھا وہ اس کے اوپر رکھا اور موم بتی جلاتے اسے چھری پکڑائی۔
وہ یونیورسٹی سے کچھ دور تھے اسی لیے یہاں زیادہ لوگ نہ تھے اور ویسے بھی یہ علاؤہ کافی پُرسکون تھا۔
الہام نے کیک کاٹ کر اسے کھلایا اور پھر خود کھایا للچائی نظریں اب تک ڈبے پر ہی تھیں۔
اس ڈبے کو میز بنانے کے لیے بس لائے ہیں یا کچھ ہے بھی۔
کتنی بھوکی لڑکی ہیں آپ الہام غازیان کھول لیں اس کے کہنے سے پہلے ہی وہ ڈبہ تیزی سے کھولنے لگی تھی۔
اندر سے اسی کے سائیڈ کا ٹیڈی بیئر نکلا تھا۔۔۔جسے دیکھتے وہ حیران تھی کیونکہ اسے یہ سب کبھی پسند نہ رہا تھا نا اس نے باقی لڑکیوں کی طرح یہ سب خریدا تھا لیکن آج اسے یہ سب نہ خریدنے پر افسوس ہوا۔
“یہ میرا ہے؟” وہ جھٹکے سے سر اٹھاتی بولی۔
آحل فیاض نے سر ہلایا تو وہ خوشی سے اس بھالو کے ساتھ لپٹ گئی۔۔۔یہ کتنا کیوٹ ہے! بہت شکریہ۔
“کچھ اور بھی ہے!”
آحل نے ایک پیکٹ سے مفلر نکالا اور اسے اوڑھایا تو وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
“تو الہام غازیان کو میرے مفلر کتنے پسند ہیں مجھے اندازہ ہے کیونکہ ایک تم نے استری کرتے وقت جان بوجھ کر جلا دیا تھا اور اپنے ساتھ یہاں لے آئی تھی” وہ اسے اس کی حقیقت بتانے لگا تو وہ اپنی چوری پکڑے جانے پر خجل سی ہو گئی۔
“ہاں تو کیا ہوا؟”
اس نے اس کے ہاتھ سے دوسرا مفلر جھپٹے اپنے اوپر لیتے کہا۔
“بہت شکریہ!”
آحل بس مسکرا دیا۔۔۔اس کی مسکراہٹ پر اسے ساری محنت وصول ہوتی محسوس ہوئی تھی۔
“اب دیکھنا میں آپ کی سالگرہ پر آپ کو اس سے بھی اچھے تحفے دوں گی وعدہ اور سب آپ کی پسندیدہ چیزیں ہوں گی۔”
“پھر ایسا کرنا کہ خود پر میرے حق کو یقینی بنانے کا کوئی انتظام کر لینا مِس الہام غازیان کیونکہ اس سے بہتر تحفہ نہ کوئی ہو سکتا ہے اور نہ کوئی مجھے دے سکتا ہے اس دنیا میں” وہ جُھکتا گھمبیر آواز میں بولا تو وہ گلابی ہوئی۔
“چلو!”
“کہاں؟”
“گھر تمہارے!”
لیکن کیوں؟ وہ ڈر گئی تھی۔
“بابا سے ملنا ہے تمہارے؟”
لیکن آپ کیا کریں گے آحل پلیز مت جائیں وہ پھر سے ماریں گے آپ کو۔
“تو تمہیں کیا لگتا ہے میں یہاں اتنی دور سے کیوں آیا ہوں۔۔۔خاص کر کے غازیان اعجاز سے ملنے۔۔۔۔تمہیں مانگنے تمہیں واقع لگتا ہے معاملہ وہاں ختم ہو گیا تھا الہام۔۔۔؟”
“نہیں تم سے ہٹنا میرے لیے موت کے مترادف ہے اور تم سے پیچھے تو میں مر کر بھی نہ ہٹوں اور نیک کام جتنی جلدی ہو جائیں اچھا ہے” اس کا ہاتھ تھامتا اسے گاڑی میں بٹھاتا بولا۔
جبکہ الہام کے آحل کے ساتھ ہونے کی خبر غازیان اعجاز تک پہنچ چکی تھی۔
