You're All Mine by Suneha Rauf NovelR50405 You're All Mine Episode 37 (Last Episode Final Part)
Rate this Novel
You're All Mine Episode 37 (Last Episode Final Part)
You’re All Mine by Suneha Rauf
چاہت نے سب کو نظرانداز کرتے وجدان کو دیکھا تھا۔
“چاہت کمرے میں جاؤ!” وجدان نے اسے دیکھتے کہا۔
“نہیں آج میں یہیں موجود ہوں دیکھنا چاہتی ہوں کہ میرا شوہر جو میرے سامنے محبت کا دم بھرتا ہے وہ میری پارسائی پر یقین کرتا ہے یا میرے مقدر میں ہمیشہ کی طرح رسوائی آتی ہے”
وہ مضبوط لہجے میں کہنے لگی۔
“وجدان میں بتا رہی ہوں اسی نے اس شخص کو بُلایا تھا۔۔۔”
اچھا! وجدان بس اتنا ہی بولا تو صباء کی ہمت بندھی۔
“یہ مجھے تمہاری نظروں میں گرانا چاہتی تھی۔۔۔۔ہو سکتا ہے اس نے اُس آدمی کو خود کے لیے ہی بلایا ہو۔”
“ایک اور لفظ مت نکالنا منہ سے صباء نہیں تو میں سارے لحاظ بھول جاؤں گا۔۔۔۔”وجدان دھاڑا تو صباء خاموش ہو گئی۔
“چاہت جاؤ کمرے میں!” اس نے ایک بار پھر چاہت سے کہا جو اپنی جگہ سے ایک انچ تک نہ ہلی تھی وہ نہیں چاہتا تھا اس کی طبیعت خراب ہو۔
وہ چاہت کے قریب آیا تو چاہت نے آنکھیں بند کر کے کھولیں۔
“مجھے اپنی بیوی پر بہت بھروسہ ہے۔۔۔۔چاہت وجدان اتنا گھٹیا سوچ ہی نہیں سکتی کرنا تو بہت دور کی بات ہے!”
وہ بولا تو چاہت نے گہرا سانس بھرا۔
اس دنیا میں وجدان چوہدری سے اچھا مسیحا کوئی ہو سکتا تھا بھلا! ان لفظوں نے اس کے سارے زخم جیسے پل میں مندمل کیے تھے۔
“آج پوری دنیا بھی اکٹھی ہو جائے نا اور بولے کہ وجدان چوہدری یہ تمہاری بیوی نے کیا ہے تو میں مر جاؤں گا لیکن اس بات پر ایمان نہیں لاؤں گا۔۔۔۔”
“یہ وہ عورت ہے جس نے اپنی پہلی اور آخری محبت مجھ سے کرتے اتنی ہمت کی کہ مجھ سے اظہارِ محبت کر سکے۔۔۔اور پتا ہے بدلے میں اسے کیا ملا؟ رسوائی۔۔۔۔باقیوں کی طرح میں یہ ہضم نہیں کر پایا کہ کسی عورت نے مجھے خود سے اپروچ کیا ہے۔۔۔۔میرے نزدیک تو ہر مرد کی طرح یہی خیال درست تھا کہ لڑکے ہی محبتوں کا اظہار کرتے اچھے لگتے ہیں۔۔۔۔پر پتا ہے میں سوچتا ہوں ہم عورتوں کے بہت حقوق کی بات کرتے ہیں ہزاروں مضامین اور آرٹیکلز روز چھاپ دیتے ہیں تو ہم وہ حق کیوں بھول جاتے ہیں جو اسلام نے خود دیا ہے ۔۔۔۔مرد نے نا اپنی سہولت کے حساب سے مذہب کو استعمال کیا ہے۔۔۔۔جہاں پردے کا حکم ہے وہاں پر ڈٹ جاتے ہیں کہ مذہب ایسا کہتا ہے لیکن جب بات عورتوں کی خود پسند کی شادی پر آجائے تو ہم سب بھولتے غیرت پر آجاتے ہیں۔۔۔۔۔اگر میں مصنف ہوتا تو لکھتا کہ عورتوں کو بھی محبت کے اظہار کا حق اتنا ہی ہے جتنا کہ مرد کو اگر اس میں حدود نہ پھلانگیں جائیں تو! یہ وہ عورت ہے جس نے میری دولت سے نہیں مجھ سے پیار کیا ہے۔۔۔۔ہمارے اتنی دیر کے رشتے میں اس لڑکی نے ایک بھی چیز مجھ سے طلب نہیں کی۔۔۔۔محبت اگر دولت دیکھتی تو آج کے دور میں صرف امیروں کو ایک دوسرے سے محبت ہوتی۔۔۔۔۔یہ وہ عورت ہے جس پر میں نے اپنے خاندان کو فوقیت دی۔۔۔اور بدلے میں اس نے چار مہینے دور رہ کر بھی وفا نبھائی۔۔۔۔۔پتا ہے مخلص بیویاں بہت وفا دار ہوتی ہیں اور ہر بات یہیں آ کر دم توڑ جاتی ہے”۔
وہ بولنے پرآیا تو بولتا چلا گیا۔۔۔۔۔
چاہت خالد کو لگا جیسے سالوں سے دل میں جو باتیں تھی، جو خنجر تھے، جو زخم تھے جہنوں نے اسے زخمی کیا تھا وہ سب نکل گئے تھے۔۔۔۔وہ پل میں اسے معتبر کر گیا تھا۔
وہ بدلے میں بس مسکرا پڑی اور پھر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
دنیا میں اس سے مزید اسے کچھ نہیں چاہیے تھا۔
اس کی محبت پاک تھی جس کا صلہ اسے آج مل گیا تھا۔
صباء نے دادی کو دیکھا جو اب وجدان کو دیکھ رہی تھیں۔
“دادی یہ سب چاہت نے نہیں کیا۔۔۔۔کس نے کیا ہے یہ سب میں پتا لگوا لوں گا۔”
“کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔دادی ہم اپنے گھر واپس جا رہے ہیں جس آدمی کو اپنے خونی رشتوں پر بھروسہ نہیں اس کے گھر میں، میں ایک منٹ نہیں ٹکوں گی۔”
“الوداع پھر تو۔۔۔۔۔ڈرائیور کو بلوا دیتا ہوں میں۔”
“دادی آپ یہیں رہیں گی؟”
“کچھ دنوں میں آؤں گی میں۔۔۔۔وہ ان سب سے انجان تھیں۔۔۔۔۔جو ابھی ہوا تھا”اسی لیے فیصلہ نہ کر پائی صباء کو یوں اکیلا نہیں چھوڑ سکتیں تھیں۔
ٹھیک ہے!
ان کے جاتے ہی وہ کمرے میں آیا جہاں وہ وہیں بیڈ پر بیٹھی شاید اسی کے انتظار میں تھی۔
“کھانا کھائیں گے؟”
“نہیں! بھوک نہیں رہی اب!” وہ کہتا فریش ہونے چلا گیا واپس آتے اپنی جگہ پر بیٹھا۔
وجدان!
“چاہت ہم اس واقعے پر دوبارہ بات نہیں کریں گے۔۔۔!” اس نے صاف لہجے میں کہا تو اس نے سر ہلا دیا۔
“سونا چاہ رہے ہیں؟”
“ہاں!” وہ بہت تھکا ہوا تھا اور یہ سب دیکھ کر وہ مزید تھک گیا تھا اس لیے چاہت نے مزید کچھ نہ کہا تو وہ سو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے میر حاد کا نمبر ملایا جو بھول ہی گیا تھا شاید اسے۔
“مجھے آپ آج ہی اپنے پاس چاہیے میر حاد ابراہیم!” اس نے میسیج کرتے فون سائیڈ پر رکھا۔
جو کچھ ہی دیر میں دیکھ لیا گیا تھا لیکن جواب نہیں دیا گیا تھا۔
“آپ مجھے یوں نظرانداز نہیں کر سکتے میر صاحب!” دوسرا پیغام۔۔۔جس کو پھر سے نظرانداز کیا گیا تھا۔
وہ اتنی بے رُخی اور نظرانداز ہونے پر رونے لگی تھی۔۔۔۔ساری رات روتے اور سوتی جاگتی کیفیت میں گزری تھی جس کا نتیجہ بخار کی صورت میں نکلا تھا۔
“تم اب بھی نہیں آرہے میر؟” غازیان اعجاز نے فون پر پوچھا تھا۔
“بابا۔۔۔۔۔”
“تمہاری بیوی یہاں بیمار پڑی ہے جو دوا تک نہیں لے رہی۔۔۔۔۔”انہوں نے اسے بتاتے کال کاٹ دی۔۔۔وہ دونوں ان کی سمجھ سے باہر تھے۔
شام تک میر وہاں موجود تھا۔۔۔۔اندر کمرے میں وہ اس کی آواز بخوبی سُن سکتی تھی۔
نا تو خود باہر گئی نا وہ اندر آیا تھا اب تک۔۔۔اور یہاں وہ بابا کے بلانے پر آیا تھا نہیں تو پتا نہیں کب آتا!
دروازہ کُھلنے پر وہ جانتی تھی اندر کون داخل ہوا ہے لیکن اپنے رسالے سے نگاہیں نہ اٹھائیں۔
وہ شخص پاس آ کر کھڑا ہوا۔۔۔اس کے جوتوں کی آواز پورے کمرے میں گونجی تھی وہ اب بھی متوجہ نہ ہوئی۔
“حیات؟”
میر حاد نے گھمبیر آواز میں اسے پکارا جس نے اسے نظرانداز ہی کیا تھا۔
“سنائی دے رہی ہے میری آواز؟” میر حاد نے اس سے رسالہ لیتے سرد لہجے میں کہا۔
“نہیں مجھے سنائی نہیں دی آپ کی آواز معذرت؟ آپ کب اندر آئے مجھے اندازہ نہیں ہوا” وہ عام سے انداز میں بولی۔
“ہم گھر جا رہے ہیں!” اسے مطلع کیا گیا۔
اچھا! ہمارا گھر بھی ہے! حیات نے پوچھا تو اس نے سرد تاثرات سے اسے دیکھا۔
“سامان کچھ لینا ہے تو لو۔۔۔۔اور جیکٹ پہن کر دس منٹ میں تم باہر موجود ہونی چاہیے ہو!” وہ کہتا باہر چلا گیا تو وہ وہیں بیٹھی رہی۔
پھر گہرا سانس بھرتے اٹھی اور اپنا فون تھامتی چادر لیتے باہر نکل گئی۔
کچھ دن تک جاتے میر! غازیان اعجاز نے اسے گلے لگاتے کہا۔۔۔۔وہ ان کے دل کے بہت قریب رہا تھا۔۔۔ان کے دوست کی اکلوتی اولاد تھا وہ۔
اور رابیل نے اسے الہام اور حیات سے زیادہ پیار دیا تھا یہی وجہ تھی کہ میر حاد سب سے زیادہ ان کے قریب تھا۔
رابیل کے سر کو چومتے وہ مسکرا دیا تو وہ بھی مسکرا دیں۔
“جلدی آجانا اب ملنے۔۔۔۔مجھے کہنا نہ پڑے” وہ بولی تو اس نے سر خم کیا اور پھر حیات کو دیکھا۔
“جیکٹ کہاں ہے تمہاری؟”
مجھے نہیں پہننی! اس نے عام سے انداز میں کہا۔۔۔غازیان اور رابیل ان دونوں کو حیرت سے دیکھ رہے تھے۔
“حیات میری جان جائیں جرسی پہن کر آئیں آپ کا بخار اب تک نہیں اترا۔۔۔۔”رابیل نے کہا تو واپس گئی اور جیکٹ پہن کر آئی۔
ان سے ملتے وہ وہاں سے نکل آئے راستے میں بھی ایک لفظ ان کے منہ سے نہیں نکلا تھا۔
“مجھے بھوک لگی ہے!” راستے میں حیات نے کہا جس نے ناشتہ بھی نہیں کیا تھا اور بخار اب پھر سے بڑھ رہا تھا۔
میر حاد نے اسے سینڈوچ پکڑایا اور پھر دوا!
جو وہ خاموشی سے کھا گئی۔۔۔۔
میر حاد نے اس کی سیٹ کو پیچھے کرتے اسے دیکھا جو اسے دیکھتی رخ موڑ گئی تھی۔
“سونا مت ہم پہنچ گئے ہیں۔۔۔۔”
لیکن۔۔۔۔۔
“میں نیا گھر خرید چکا ہوں۔۔۔۔! وہ بیچ دیا میں نے۔۔۔۔”
اس نے کہا تو حیات نے حیرت سے اسے دیکھا مگر بولی کچھ نہیں شاید وہ بھی وہاں نہیں جانا چاہتی تھی اب۔
وہ اس گھر میں موجود تھے جو نہ زیادہ چھوٹا تھا نا بڑا۔۔۔۔۔اس گھر میں بھی پوری سکیورٹی کا انتظام تھا لیکن اب کی بار یہ آبادی میں لیا گیا تھا۔
“آرام کرو جا کر۔۔۔۔مجھے کام ہے!”
میر حاد ابراہیم نے کہا تو وہ شکوہ کناں نگاہوں سے اسے دیکھتی چلی گئی۔
حاد کام کرتا اندر گیا جہاں وہ سو گئی تھی۔۔۔۔اس کے پاس بیٹھتے اسے دیکھا۔
پھر جھک کر اس کے ماتھے پر لب رکھے۔
وہ اتنے دن اُن کے ہوئے نقصان کو سوچتا رہا تھا۔۔۔۔خود کی زات کے لیے صبر طلب کرتا رہا تھا۔۔۔وہ کتنا خوش تھا اس خبر کو سن کر۔۔۔۔اچھے سے اسے حیات کے ساتھ منانا چاہتا تھا۔۔لیکن۔۔۔۔
پہلے اسے حیات پر غصہ بھی تھا کہ وہ وہاں سے کُود گئی۔۔۔۔لیکن وہ غصہ اُس کی زات سے خود کی زات پر منتقل ہو گیا تھا۔
کیونکہ حیات اس کے علاؤہ کیا کر سکتی تھی۔۔۔۔اسے فخر ہوا تھا کہ وہ ان کے ہاتھ سے خود کو محفوظ کر گئی تھی۔
اہتشام سے وہ کافی دن ناراض رہا تھا لیکن وہ بھی حق پر تھا۔
نیازی کو خبر ہو گئی تھی کہ اہتشام کو میر حاد ابراہیم نے اس کے سرد کھانے میں لے جانے کا کہا ہے۔۔۔۔اس نے اسی کو بیٹے کو اگواہ کرتے اس سے میر حاد ابراہیم کے گھر کی چابی لی تھی اور اس کے گھر پر حملہ کیا تھا۔
وہ پوری پلیننگ کے ساتھ گیا تھا۔۔۔جس کے لیے میر حاد تیار نہ تھا اس لیے چُوک گیا تھا۔
حیات نے آنکھیں کھولتے اسے دیکھا جو اس پر جھکا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
حیات نے اس کے چہرے پر اپنے ہاتھ رکھے تو وہ انہیں چوم گیا۔
“میر حاد ابراہیم کو چھ دن میں حیات حاد کی یاد نہیں آئی۔۔۔۔کیا یہ بات حیرت میں مبتلا نہیں کرتی آپ کو؟” وہ اس کی جگہ بناتے اسے دیکھتے بولی۔
“میر حاد ابراہیم اپنے ہوئے نقصان پر ماتم کناہ تھا بس۔۔۔۔وقت لگ گیا کچھ اس کے لیے معذرت چاہتا ہوں۔”
حیات نے اس کے بال ماتھے سے پیچھے کئے۔۔۔۔وہ واقع اس بات کا گہرا اثر لے گیا تھا جس سے ثابت ہوتا تھا وہ اس بچے کی آمد پر کرنا خوش ہوا ہو گا۔
“مجھے کیوں نہیں بتایا تھا؟”
“بس چاہتا تھا ہم ایک ساتھ ہر چیز سے آزاد ہو کر اسے منائیں لیکن قسمت کو یہ سب منظور نہ تھا۔”
“آپ اتنے ناامید کیسے ہو سکتے ہیں۔۔۔۔میں نے اس سے پہلے میر حاد کو یوں نہیں دیکھا نہ میں مستقبل میں کبھی دیکھنا چاہوں گی۔۔۔۔”
وہ حیات کے بالوں میں چہرہ چھپا گیا۔۔۔جیسے آگے کی حالت اسے بھی دکھانا نا چاہ رہا ہو۔
“وہ ہمارا بہت نقصان کر گیا ہے حیات۔۔۔۔” اس کی آواز نم ہوئی۔۔۔
حیات نے اس سے زیادہ جذبانی اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
“حاد۔۔۔۔۔”
وہ اسے سمجھانا چاہتی تھی کہ رب العالمین پھر سے انہیں نواز دے گا لیکن وہ سو گیا تھا شاید بہت تھکا ہوا تھا۔
“بخار کم ہوا ہے؟” حاد نے صبح آنکھیں کھولتے اسے دیکھا جو جاگتی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“ہمممم! اب اچھا لگ رہا ہے۔”
درد تو نہیں ہو رہا کہیں؟ اب وہ پھر سے پہلے والا حاد ابراہیم تھا اس کے لیے۔
نہیں! حیات نے اسے دیکھتے سنجیدگی سے کہا۔
“آج ہم باہر کھانا کھائیں گے!” حیات نے کہا۔
“نہیں! ابھی مجھے گھر ہی رہنا ہے تمہارے ساتھ۔۔۔اس گھر کو سیٹ کریں گے ہم۔۔۔”وہ شاید ابھی کہیں نہیں جانا چاہتا تھا۔
کام پر۔۔۔۔؟
“میں نے کچھ چھٹیاں لی ہیں” وہ اسے قریب کرتا بتانے لگا۔
“چلیں اٹھیں! ناشتہ کرنا ہے مجھے بھوک لگی ہے” حیات نے نگاہوں کا مرکز بدلتے کہا جو اسے ہی گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
اپنی گردن پر اس کا لمس محسوس کرتے وہ آنکھیں موند گئی جانتی تھی وہ شخص اس وقت اسے چاہتا تھا بس۔
میرررر! اپنی قمر پر اس کی سرکتی انگلیوں کو محسوس کرتے وہ اسے پکار بیٹھی تھی۔
تم بہت ظالم ہو حیات حاد ابراہیم! حاد نے کہتے اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی اس کے لفظوں کو قید کیا تھا۔
“مجھے اب بھی بخار ہے حاد۔۔۔۔”وہ اسے بتانے لگی۔
دوا میں دے دوں گا بعد میں اس وقت خاموش رہو۔۔۔۔۔حاد کہتا اس میں گُم ہونے لگا تو وہ بھی اس کے لمس کو محسوس کرنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں خود کر سکتا ہوں! وہ کہتا سنجیدگی سے اپنی پلیٹ بھرنے لگا۔
علیزے نے ہاں میں سر ہلایا اور اپنی پلیٹ میں چاول ڈالے لیکن سارا دھیان اس کے تاثرات پر تھا آیا اسے پسند بھی آئے ہیں یا نہیں۔
لیکن تیسرے ہی نوالے پر فرید شاہ نے چمچ زور سے پلیٹ میں دے مارا اور ٹشو پکڑتے منہ سے نوالہ اس میں ڈالا تھا۔
“کھانا تک بنانا نہیں آتا تمہیں؟ صرف لوگوں کو دھوکے دینے ہی سیکھیں ہیں؟” وہ چلایا تو وہ سہم کر کھڑی ہو گئی۔
خانساماں بھی کچن سے باہر آگئی تھی۔
“کیا ہے یہ؟” اس نے ٹشو آگے کیا اس کے منہ میں چاولوں کا پتھر آیا تھا۔
“کوئی کام سیکھا ہے یا نہیں دنیا میں۔۔یا صرف امیروں کو یوں محبت میں پھنسایا ہے؟”
وہ اپنے کام کا غصہ اس پر نکال رہا تھا بے حد بُرے لفظوں میں۔
علیزے کا نوالہ حلق میں اٹکا تھا آنکھیں پانی سے بھر گئیں تو وہ چہرہ جھکا گئی۔
“میں اور لا دیتی۔۔۔۔۔”وہ اس کے سامنے سے پلیٹ اٹھانے لگی۔
“کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔یہ سب کھانا کسی کو دے دو یا خود کھا لو۔۔۔۔”
وہ کہتا تن فن کرتا اپنے کمرے میں چلا گیا جبکہ علیزے نے خانساماں کے سامنے اس قدر تذلیل پر آنسوؤں کو حلق میں اتارا تھا۔
“آپ ایسا نہیں کر سکتے!”
کیسا؟ وہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلا رہا تھا اب۔
“مجھ سے محبت کرنا چھوڑنا۔”
“کیوں؟”
“کیونکہ اب میں آپ کی بیوی ہوں!”
“تو کیا تم مجھ سے محبت کرتی ہو؟”
“پتا نہیں!”
خاموشی چھا گئی!
فرید شاہ نے محسوس کیا وہ اس کے ہاتھ کو اور مضبوطی سے تھام گئی تھی وہ تو کہتی آئی تھی کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتی تو پھر کیوں اس کی توجہ کی طلب گار تھی اب کیوں اس کی بے رخی پر یوں بستر سے جا لگی تھی۔
اس پر جھکتے اس کے ماتھے کو چوما تھا فرید شاہ نے تو وہ آنکھیں کھولتی مسکرا دی۔
وہ اسے نہیں سمجھ پایا تھا۔
دوبارہ کریں اچھا محسوس ہوا ہے۔۔۔۔اس کے الفاظ اسے مزید حیران کر گئے تھے لیکن پھر جھکا اور اس کے ماتھے کے ساتھ کتنے ہی لمحے اس کی آنکھوں پر بھی لب رکھے۔
“فرید سر بھی دبائیں!”
وہ اسے ہوش دلاتی بولی تو وہ واپس اس کا سر دبانے لگا جب تھوڑی دیر بعد اسے لگا کہ وہ سو گئی ہے وہ اس کا سر تکیہ پر رکھا اور خود اٹھنا چاہا۔
جب اس نے پھر سے اس کا ہاتھ تھامتے مندی مندی آنکھیں کھولتے سر نفی میں ہلایا تھا۔
فرید شاہ وہیں اس کے کمفرٹر کو اوڑھتا اس کے ساتھ لیٹ گیا۔
وہ اب بھی ہلکا ہلکا کانپ رہی تھی اسے اتنی سردی نجانے کیوں لگتی تھی۔
اسے خود میں بھینچتے اپنے ہاتھوں سے اس کی قمر سہلائی جس سے وہ پُرسکون ہوئی تھی۔
فرید!
بولو! اس کے بالوں کو چومتا وہ بولا تھا۔
“میں چاول اچھے سے صاف کروں گی اگلی بار پلیز مجھے یوں بے مول مت کیا کریں کسی کے سامنے!”
وہ بولی تو فرید شاہ نے جھٹکے سے اس کا چہرہ سامنے کیا تو وہ کیا وہ اس کی یہ بات دل پر لگاتی بیمار پڑ گئی تھی۔
اففففف!
اس نے دل میں خود کو سو صلواتیں سنائی اور اسے دیکھنے لگا۔
پھر اس کے گالوں پر جھکتا انہیں چوم گیا اپنی بیرڈ والے گال اس کے گالوں پر رگڑنے لگا۔
فریدددددد! وہ اسے پیچھے کرتی منہ بسوڑتے بولی۔
مجھ سے اتنی خدمت کروائی ہے مجھے بھی تو بدلے میں کچھ دو وہ پھر سے وہی عمل دہرا گیا تو علیزے نے شکایتی نظروں سے اسے دیکھا۔
میں بیمار ہوں!
اور اس بندہ بشر کا حال بھی بیماروں سے کم نہیں چھوڑا تم نے۔
علیزے نے گلے میں معدوم سی گلٹی ابھرتی محسوس کی پھر یک دم اس کے گلے میں بازو ڈالتے اس کے سینے میں سر چھپایا تھا جیسے اس سے نگاہیں نہ ملانا چاہ رہی ہو۔
فرید شاہ اس دھوکے کے بارے میں سب پوچھنا چاہتا تھا لیکن وہ ان لمحات کو تباہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اب بھی لگ رہی ہے سردی؟ اس کا سر اٹھاتے اس سے پوچھا تو وہ سر نفی میں ہلا گئی۔
“تم مجھے پاگل کر دیتی ہو علیزے فرید شاہ!”
“آپ نا بنا کریں پاگل!” وہ دوبدو بولی تھی۔۔۔شاید کسی سے پہلی بار اتنی توجہ اور محبت ملنے پر وہ نازاں تھی۔
فرید نے اس کے کندھے پر جھکتے گہری سانس بھرا۔
تمہیں دیکھتے میرا دل پاگل ہو جاتا ہے مجھے یاد دلاتا ہے کہ اس نے کبھی تمہارے علاؤہ کسی کو دیکھ کر اپنا آپ باغی ہوتا محسوس نہیں کیا۔
علیزے نے سر اٹھاتے اس کے چہرے کو دیکھنا چاہا لیکن وہ اس کے کندھے پر جھکا تھا۔
فرید ۔۔۔!
شش!
مجھے محسوس کر لینے دو وہ کہتا اس کے کندھے پر ہونٹ رکھ گیا تو علیزے کا وجود کپکپا گیا جسے محسوس کرتے فرید شاہ فوری طور پر دور ہوا۔
“تم مجھ سے خوفزدہ ہو؟”
گھر لاتے بھی اس نے الہام کا کافی دھیان رکھا تھا۔۔۔۔اس کی ہر ضرورت کو پورا کیا تھا۔
آحل؟ وہ پھر سے اسے بلا رہی تھی جو ابھی ہی اٹھ کر باہر گیا تھا۔
“کیا مسئلہ ہے الہام؟”
وہ زِچ ہو گیا تھا کیونکہ اس نے کل سے ایک بھی لمحہ سکون کا نہیں گزارنے دیا تھا آحل کو۔
“امممم۔۔۔پیاس لگی ہے۔۔۔پانی پلا دیں۔۔۔”
تمہارے ساتھ میز پر پڑا ہے۔۔۔۔اٹھاؤ اور پی لو! اس نے غصے سے کہا۔
“لیکن میرے ہاتھ میں تو درد ہے نا!” الہام نے شرارت سے کہا۔
وہ اپنے گھر کو اس سنجیدہ ماحول میں نہیں دیکھنا چاہتی تھی اور وہ جانتی تھی کہ غلطی اس کی ہے۔۔۔
اور اپنی گاڑی کا سنتے بھی وہ بے حد دُکھی تھی۔
آحل نے اسے پانی پلایا اور اسے دیکھا۔
کیا کچھ اور چاہیے؟ ابھی بتا دو میں دوبارہ نہیں آؤں گا۔
“آپ مجھ سے ناراض ہیں؟”
بالکل! وہ صاف گوئی سے بولا۔
“لیکن کیوں؟”
“کیونکہ آپ نے میرے بات نہیں مانی الہام۔۔۔۔آپ کو ڈرائیونگ نہیں آتی تھی اور جو چیزیں آپ نہیں کر سکتے اس کی ضد بھی نہیں کرنی چاہیے۔”
“میری گاڑی کب واپس آئے گی۔۔۔۔”وہ پُرجوشی سے اس کی تمام باتیں نظرانداز کرتی بولی۔
“کبھی نہیں!” وہ کڑھ کے بولا۔
لیکن کیوں؟ مجھے وہ چاہیے۔۔۔۔
“میں ایک بار پھر رسک نہیں لے سکتا۔۔۔۔”وہ سنجیدگی سے بولا تو الہام نے اس کے گال کھینچے۔
میں سیکھ جاؤں گی! وہ اسے پچکارتے بولی۔
وہ سو گئی تو آحل باہر آ گیا۔۔۔۔فزا کی تمام معلومات اس کے میز پر موجود تھیں وہ مسکرا دیا۔
“تو فزا میڈیم اور کتنوں سے عشق کا یوں ہی ظہار کیا ہے تم نے۔۔۔۔! افسوس کی بات ہے۔۔۔ایسی لڑکیاں بھی ہوتی ہیں۔۔۔”اس نے ساری معلومات اور فائلز کو دیکھتے کہا۔
فزا انڈسٹری کے معروف اداکاروں کے ساتھ تعلقات میں رہی تھی۔۔۔۔لیکن کسی کے کردار پر جانے کی اجازت اسے اس کا ضمیر ہرگز نہ دیتا تھا نہیں تو فزا اکبر کہیں کی نا رہتی۔
“کیا ہے؟”
الہام نے اپنے بار بار بجتے فون کو بیزاری سے ہاتھ مارا کر سکرین پر دیکھا جہاں ایک انجانا نمبر چمک رہا تھا۔
“اگر کوئی کال نہ اٹھائے تو سمجھ جائیں کہ کوئی مصروف ہے یا سو رہا ہے کہیں کون ہے کیا مسئلہ درپیش آ گیا ہے آپ کے ساتھ؟”
“فزا بول رہی ہوں۔۔۔۔”
الہام نے منہ ٹیڑھا کیا۔
جی بولیں؟
“سنا ہے حادثے کا شکار ہوئی ہو تم؟ کیسے لگی چوٹ؟” وہ مصنوئی فکر سے استسفار کرنے لگی۔
“اب ٹھیک ہوں شکریہ۔”
“کیا تمہیں پتا ہے وہ حادثہ کیسے ہوا تھا؟”
“جی! کچھ اور کہنا ہے یا کال کاٹ دوں؟”
“تمہارے شوہر پر جانی حملہ تھا وہ۔۔۔۔لیکن قسمت اچھی تھی تمہارے شہزادے کی بچ گیا۔”
“یہ کیا بکواس ہے؟” الہام نے تیز لہجے میں کہا۔
“نہیں یقین تو پوچھ لو اپنے ڈئیر ہسبینڈ سے! اور ہاں اسے گھر بٹھا کر رکھو کیونکہ اگر وہ میرا نہیں ہوا تو تم جیسی کا تو بالکل نہیں ہو گا۔”
ہاہاہا وہ قہقہہ لگا گئی۔
“میری بات سنیں آپ فزا۔۔۔۔زندگی موت رب العالمین کے ہاتھوں میں ہے تم جیسوں کے ہاتھوں میں ہوتی تو آج دنیا میں بہت کم لوگ زندہ ہوتے۔۔۔۔آئیندہ کال مت کرنا۔۔۔۔اور میرے شوہر سے دور رہو۔۔۔تم جیسوں کو آحل فیاض جیسا انسان مل ہی نہیں سکتا۔۔۔”
وہ کہتی کال کاٹ گئی اور اس کا نمبر بلاک کر دیا۔
آحل جو اسے دیکھنے آیا تھا مسکرا دیا۔
“اتنا کوئی ہنسنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔میں تو پہلے ہی کہتی تھی وہ اچھی لڑکی نہیں ہے۔۔۔”الہام نے غصے میں کہا تو وہ ہنس دیا۔
وہ حادثے کی بات کا زکر نہیں کرنا چاہتی تھی جانتی تھی وہ اسی وجہ سے پریشان ہے، لیکن جلد ہی سنبھال لے گا سب۔
“کھانا کیا کھانا ہے؟”
“آپ بنائیں گے؟ یا باہر سے لائیں گے؟”
میں بیچارہ ہی بناؤں گا۔۔۔۔وہ مصنوئی دکھ سے بولا تو الہام نے اسے گھورا۔
پاستہ کھاؤں گی!
“آپ نے جان بوجھ کر سب سے مشکل چیز بتائی ہے مجھے۔۔۔”
ہاہاہا آرڈر کرلیں۔۔۔۔تو وہ سر ہلا گیا۔
زاکر؟ اس نے فون کان کے ساتھ لگایا۔
جی؟
“مجھے ایک عورت کو ایکسپوز کرنا ہے۔۔۔اس کا کافی ہاتھ غیر قانونی کاموں میں رہا ہے۔”
اچھا اس کا تعلق کہاں سے ہے؟ اس کے دوست نے سرسرسی سے انداز میں پوچھا۔
“انڈسٹری سے۔۔۔ماڈل ہے وہ۔۔۔”
“نہیں میں یہ کام نہیں کر سکتا۔۔۔ایسے لوگوں کے بہت اونچے لوگوں سے تعلقات ہوتے ہیں مجھے نقصان پہنچائیں گے وہ۔۔۔۔”
کیسے صحافی ہو یار تم! آحل نے غصے سے کال کاٹ دی۔
میر حاد کا نام سکرین پر چمکتے دیکھ وہ مسکرا دیا۔
اسلام علیکم!
“وعلیکم السلام! بچ گئے ہو زندہ؟” میر حاد نے پوچھا۔
“بالکل! بس آپ کی سالی صاحبہ کو چوٹ آئی ہے۔۔۔۔لیکن تمہیں کیا ہی فرق پڑتا ہے پڑتا تو تم آتے۔”
“ڈرامے نہیں کرو زیادہ! حادثہ کیسے ہوا سب تفصیل سے بتاؤ!” حاد نے سنجیدگی سے پوچھا تو آحل نے سب بتا دیا۔
“اچھا مجھے اس کی معلومات بھیج دو میں سنبھال لوں گا۔۔۔۔”
“میں سنبھال لوں گا یار۔۔۔”آحل نے کہا۔
“آحل مجھے ساری معلومات فوراً بھیجو۔۔۔۔ابھی”
اوکے بھائی۔۔۔۔۔! آحل مسکرا دیا۔
اور پھر کیسے لیکن فزا ملک سے باہر چلی گئی تھی جاتے ہوئے اس نے آحل فیاض کو ایک خط بھیجا تھا جس میں اس نے اپنے کیے کی معافی مانگی تھی۔
الہام بھی حیران ہوئی تھی لیکن آحل نے یہی کہا تھا کہ وہ نئی زندگی شروع کرنے کے لیے بیرونِ ملک چلی گئی ہے۔
میر حاد نے اسے اس کے غیر قانونی کاموں میں پھنسا دیا تھا جس سے بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑا تھا اسے۔
میر حاد نے اسے یہاں سے ہمیشہ کے لیے جانے کا کہا تھا نہیں تو وہ اسے انہیں کیسوں میں زندگی بھر کے لیے پھنسا دیتا اور وہ یہی سنتی ڈر کر چلی گئی تھی۔
آحل وہ بس سی آر ہے ہماری کلاس کا!
آحل غصے میں تھا کیونکہ الہام کے بقول اس کے کلاس کے سی آر نے اسے مسکرا کر “پیاری لگ رہی ہو” کہا تھا۔
“تم نے اسے کیوں نہیں بتایا کہ شادی شدہ ہو تم؟”
“وہ میری بات کو مزاق سمجھتے ہیں۔۔۔۔”الہام کو مزہ آرہا تھا اس کو جیلس ہوتے دیکھ۔
“تم سب کو دعوت پر بلاؤ۔۔۔مجھ سے ملواؤ۔۔۔۔ان کو پتا چلے کہ تم شادی شدہ ہو۔۔۔۔”وہ اپنا فون سائیڈ پر رکھتا بولا۔
آحلللل! وہ ہنستی چلی گئی۔
“کل ہی بلا لو۔۔۔۔مجھے بالکل پسند نہیں کہ کوئی تمہاری تعریف کرے یا اس نظر سے دیکھے”
آحل نے اسے دیکھتے کہا تو الہام نے ان آنکھوں میں دیکھا جہاں جذبات کا ٹھاٹے مارتا سمندر تھا۔
وہ کبھی کبھی اس محبت پر تشکر سے رو پڑتی تھی رب کے سامنے۔۔۔اتنی محبت اور اتنا اچھا مرد زندگی میں ملنا کسی نعمت سے کم تو نہیں۔
“اچھا مجھ پر دھیان دو اب!” آحل نے اس کے کندھے پر سر رکھتے کہا۔
“میں نے صبح یہ اسائنمنٹ جمع کروانی ہے آحل!”
“مجھے کچھ بھی نہیں سننا۔۔۔۔”آحل نے اس کے نوٹس سائیڈ پر رکھے اور اس کے ہاتھ تھام کر انہیں لبوں سے لگایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ عرصے بعد:
صبح ناشتے کی اشتہار انگیز خوشبو پورے گھر میں پھیلی تھی۔۔۔وجدان باہر نکلا تو وہ میز لگا رہی تھی۔
“خیریت کس کے لیے اتنا تکلف کیا جا رہا ہے؟”
“بس ہیں میرے ایک کھڑوس سے شوہر! اب وہ مجھ سے بہت محبت نہیں کرتے تو کیا ہوا میں نے سوچا میں ہی ان کے لیے کچھ اچھا سا کر دوں!” چاہت نے شرارت سے کہا۔
“عورتیں کبھی خوش نہیں ہو سکتی!” وہ قریب آتا اس کے بالوں سے کلپ اتارتے بولا۔
چاہت نے اسے منہ چڑھایا تو وہ گھور کر رہ گیا۔
کیا بنایا ہے؟
“آپ کے آلو کے پراٹھے!”
لیکن تم نہیں کھاؤ گی۔۔۔۔! وجدان نے صاف انکار کیا۔
“کیوں بھئی میں نے بنائیں ہیں!”
“بہت اؤئلی ہوتے ہیں تمہاری طبیعت خراب ہو جاتی ہے پھر۔۔۔۔۔”وجدان سختی سے کہتا اندر منہ ہاتھ دھونے چلا گیا۔
اس کے واپس آتے تک وہ آدھا کھا چکی تھی۔
“کیا کہہ کر گیا تھا میں؟”
کچھ نہیں ہوتا! چاہت نے کندھے اچکائے۔۔۔۔اور ایسا کرنے کے بعد وہ اپنا پورا پراٹھا کھاتی وجدان کی پلیٹ میں آدھے بچے پراٹھے کو دیکھ رہی تھی۔
“کتنی ندیدی ہو تم چاہت۔۔۔۔بالکل نہیں ملے گا۔۔۔میرے کپڑے نکالو جا کر۔”
چاہت منہ بسوڑتی اٹھ گئی۔۔۔اس کی چائے اسے پکڑاتی اس کے کپڑے نکالنے لگی۔
اسے لگا ان کی شادی شدہ خوشگوار زندگی اب شروع ہوئی ہو۔
وجدان جا چکا تھا۔۔۔۔۔ملازمہ گھر کی صفائی کر رہی تھی جب اسے اپنی طبیعت خراب ہوتی محسوس ہوئی۔
آپا؟ اس نے انہیں آواز دی۔
“ڈرائیور کو بولیں گاڑی نکالیں اور وجدان کو فون کر دیں پلیز۔۔۔۔”۔وہ ضبط سے بولی تھی۔
وجدان پاگلوں کی طرح یہاں وہاں چکر کاٹ رہا تھا۔۔۔۔دادی بھی خبر سنتے فوراً ہی وہاں سے نکل گئیں تھیں۔
“مبارک ہو سر آپ کی بیٹی ہوئی ہے!”
وہ خوشی سے جھوم اٹھا۔۔۔۔۔۔اس نے بے جا چیزوں پر پیسے خرچ کرنے کی بجائے کئی ضرورت مند لوگوں کو سردیوں کے لیے سرد کپڑے اور کمبل وغیرہ دلوائے تھے یہ اس کی خوشی منانے کا ایک طریقہ تھا۔
“تمہیں میں نے کہا تھا کہ اوئلی چیزوں سے تمہاری طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔۔۔”
چاہت نے صدمے سے اسے دیکھا۔۔۔اسے تو لگا تھا وہ کچھ بہت اچھا بولے گا۔
“بس کریں وجدان! نہیں آپ کے گھر کا گھی ختم ہوتا” وہ چِڑ کر بولی تو وہ مسکرا دیا۔
“پرنسس دیکھی ہے ہماری؟” وجدان نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے پوچھا۔
“دکھائیں!”
وجدان نے اس کے ساتھ لٹا دیا تو وہ نم ہوتی آنکھوں سے اپنی اولاد کو دیکھنے لگی جسے بہت ازیتون کے بعد اس نے حاصل کیا تھا۔
“یہ آپ پر گئی ہے وجدان!” خوشی سے اس کی آواز نم ہو گئی تھی۔
ہاں! وہ خود بھی خوش تھا۔۔۔۔دیکھو رب ہم سے کتنا خوش ہے ہمیں رحمت سے نوازا ہے وہ بولا تو چاہت سر ہلا گئی۔
اس کے گھر آنے پر ایک الگ تقریب کی گئی تھی۔۔۔وہ دونوں اپنی زندگی میں خوش تھے۔
“چاہت صباء کو معاف کر دیا تم نے؟” دادی نے اس کے سر میں تیل ڈالتے پوچھا۔
دادی پلیز! وجدان نے انہیں ٹوکنا چاہا۔
“جی دادی! اس دن جائماز پر بیٹھے میں نے رب سے اپنی مغفرت کی دعا مانگی اس یقین سے کہ وہ معاف کر دے گا پتا ہے میرے زہن میں کیا آیا؟
میرے زہن میں آیا کہ جب ہم گناہ کر کے معافی کے طلب گار ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ معافی مل جائے گی تو پھر ہم کون ہوتے ہیں کسی انسان کی غلطیوں کو معاف نہ کرنے والے۔۔۔۔۔”وہ کہتی آنکھیں بند کرتی مسکرا دی۔
“وہ بہت ازیت میں ہے۔۔۔۔”
“اب تو لفظ بھی اس سے صحیح سے ادا نہیں ہوتے۔۔۔۔اس نے سب بتا دیا تھا کیسے اس نے دھکا دیا تھا۔۔۔پھر کیسے کسی اور شخص کو تمہارے لیے بلایا اور خود اس حادثے کا شکار ہو گئی وہ بھول گئی کہ رب بڑا بے نیاز ہے۔۔۔۔۔سب دیکھ رہا ہے۔۔۔۔لیکن اب وہ ازیت میں ہے کتنا عرصہ ہو گیا اس بیماری سے لڑ رہی ہے وجی تو بھی معاف کر دے۔”
“جس کے ساتھ سب ہوا اس نے معاف کر دیا تو میں نے بھی کر دیا۔۔۔وجدان نے اس شخص کو سزا دلواتے وہ تصویرین تب کی ختم کر دی تھیں۔۔۔۔”
وہ چاہت کو دیکھتا اپنی بیٹی کو چومتا بولا۔
اور پھر وہ صباء سے ملنے گئے تھے اپنی بیٹی کو ملوانے جہاں اس کی حالت میں سدھار آیا تھا۔
وجدان نے واپس آتے چاہت کو دیکھا جو حنفہ کو ہاتھ میں لیے یہاں وہاں گھوم رہی تھی۔
“کیا ہوا؟”
سو نہیں رہی! چاہت نے تھکاوٹ سے چور آواز میں کہا۔
لاؤ مجھے دو! اور وجدان کے پاس آتے ہی وہ سو گئی تو وہ بھی لیٹ گیا۔
“مجھے وقت دینا بھول گئی ہو اب تم چاہت وجدان!” اس نے چاہت کو حصار میں لیتے ناراضگی سے کہا۔
آپ کی بیٹی مجھے کہاں سکون سے رہنے دیتی ہے وہ اس کی خوشبو خود میں بساتے بولی۔
“لیکن مجھے بالکل پسند نہیں ہے تمہارا مجھے وقت نہ دینا۔۔۔۔پرنسس کو جلدی سلایا کرو۔۔۔۔!” وہ اس کے بالوں کو چومتا بولا۔
پھر اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
مجھے نیند آرہی ہے! چاہت نے نگاہیں جھکاتے اسے بتایا۔
“اب میری اجازت پر سونا ڈارلنگ!” وجدان چوہدری نے اس کے چہرے کے ہر نقش پر اپنا خوبصورت لمس چھوڑا تو تشکر کے احساس سے اس کا دل بھر گیا۔
ہر آزمائش کے بعد سویرا ہوتا ہے ان کی زندگی کا سویرا بھی ہو گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الہام صبح سے اسے اٹھا رہی تھی جو اپنی چھٹی کا بھرپور فائیدہ اٹھاتا سویا ہوا تھا۔
“آحل آرہے ہیں یا نہیں؟”
“یار آج کے دن تو سونے دیں!”
آج ہمیں بابا اور ماما سے ملنے جانا ہے۔۔۔۔۔چاہت بھی آرہی ہے آج۔۔۔۔افففف جنفہ بھی آئے گی آج۔۔۔وہ اتنی پیاری ہے آحل!
آحل نے کروٹ بدلتے اسے دیکھا جو الماری سے کپڑے نکال رہی تھی۔
“یہ نہیں وہ پرپل والا!’ اس نے کہا تو الہام نے اسی کا بتایا پرپل ڈریس نکال لیا۔
“اٹھیں آپ بھی۔۔۔۔آپا اور میر بھائی تو پہنچ بھی گئے ہیں۔۔۔۔۔۔چاہت اور وجی بھائی بھی راستے میں ہیں۔”
آحل کو اٹھنا پڑا اور اسے دیکھا جو اب مزید خوبصورت ہو گئی تھی۔
وہ اپنی یونیورسٹی کے آخری سال میں تھی۔۔۔۔۔لیکن اس نے ایک بھی دن اپنی زمہ داریوں سے منہ نہیں موڑا تھا
“اچھا یہاں تو آئیں یار!” آحل نے کہا تو مُڑ کر حیرت سے دیکھنے لگی پھر اس کے کپڑے نکالنے لگی۔
“بالکل نہیں! ہم لیٹ ہو رہے ہیں!”
ایک تحفہ ہے آپ کے لیے! یہ درازسے نکال لیں!
اس نے کہا تو الہام نے اسے آنکھیں چھوٹی جرتے دیکھا آیا وہ سچ بول رہا ہے یا نہیں۔
لیکن تحفے کی لالچ میں قریب جاتی دراز کھولنے لگی جو خالی تھا۔
آحللللل!
آحل نے جھٹکے سے اسے پاس بٹھایا۔
“کتنی بھوکی ہیں آپ الہام۔۔۔تحفے کا سنتے ہی بس میرے پاس آئیں ہیں آپ!”
اس کے سر سے ٹاول اتارا تو بھیگے بال سارے چہرے اور پشت پر پھیل گئے۔
“آج ڈرائیو میں کروں گی اور اس جھوٹ کی سزا یہ ہے کہ آپ مجھے اب سچ میں ایک تحفہ دیں گے۔”
جو حکم! آحل نے اس کے گال چومتے کہا اور پھر لیٹ گیا۔
لیکن الہام نے اس کا کمفرٹر اور تکیہ کھینچ کر سامنے صوفے پر رکھا تو اسے اٹھنا پڑا۔
تیار ہوتے وہ دونوں غازیان اعجاز کے گھر کی اور روانہ ہوئے تھے۔
“یہ کیا پہنا ہے؟”
“تھوڑی سی تو ہیل ہے اور میرے کپڑوں کے ساتھ بس یہی میچ ہو رہی ہے۔۔۔۔۔”حیات نے بیچارگی سے کہا۔
“اسے فوراً چینج کرو!”
اس نے حیات کے بھاری سراپے کو دیکھتے کہا۔۔۔۔انہیں رب العالمین نے پھر سے نوازا تھا اور اسی لیے میر حاد حد سے زیادہ اس کا خیال رکھ رہا تھا۔
“حاددد پلیزززز!”
“نووو۔۔! جانا ہے تو بدل کر آؤ۔۔۔نہیں تو بابا کو فون کر کے منع کر دیتا ہوں میں” اس نے دھمکی دی تو حیات فوراً جوتے بدلنے چلی گئی۔
حیات نے سارے راستے اسے نہیں بلایا تھا میر نے بھی کوئی خاص ردّعمل نہ دیا تھا اس کے بے جا غصے کا۔
وہاں جاتے حیات نے سارے وقت ہی اسے نظرانداز کیا تھا اور چاہت اور الہام کے ساتھ لگی رہی تھی۔
اب کھانا کھاتے وقت اس نے میر کو پلیٹ بنا کر دی تھی اور اپنی کوک سے بھرا گلاس اٹھایا تھا۔
حیات؟
جی!
“یہاں آؤ!”
حیات سب کو ایک نظر دیکھتی اس کی طرف گئی۔
یہ مجھے دے دو۔۔۔۔کیونکہ تم نہیں پی رہی یہ۔۔۔۔اس نے اس کے ہاتھ سے بوتل کا گلاس پکڑتے کہا تو حیات نے اسے غصے سے دیکھا۔
“کیوں نہیں پیو گی میں؟” وہ قمر پر ہاتھ رکھ کر بولی تو سب مسکرا دیے۔
حیات۔۔! میر نے تنبیہہ کی تو وہ منہ بسوڑتی وہیں بیٹھ گئی۔
میر حاد بھی فون آنے پر باہر چلا گیا۔
“چاہت حنفہ کو مجھے پکڑا دو۔۔۔”
اس نے چاہت کو کہا۔۔۔۔تو چاہت نے اسے پکڑا دیا اور خود کھانا کھانے لگی۔
غازیان اعجاز اور رابیل غازیان نے ان سب کو یوں مسکراتے دیکھا تو خود بھی ایک دوسرے کو دیکھتے مسکرا دیے۔
آج سب نے وہیں قیام کرنا تھا۔۔۔۔۔چاہت تو گھر جانا چاہتی تھی کہ یہ ان دونوں بیٹیوں کی دعوت تھی لیکن ان دونوں نے ایسا نہیں ہونے دیا تھا اسی لیے وہ بھی وہیں رُکیں تھی اس وقت وہ سب باتوں میں مصروف تھے۔
حیات؟ میر کی چوتھی آواز پر وہ انہیں شب خیر کہتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
اندر آتے خاموشی سے دروازہ بند کیا۔
“میر کھانا کھا رہا تھا کیونکہ اس نے شام میں نہیں کھایا تھا۔”
یہاں اؤ!
مجھے نہیں کھانا! حیات نے کہتے اپنے جھمکے اتارے۔
“پوچھا نہیں ہے میں نے!” میر کی سنجیدہ سی آواز پر وہ اس کے پاس جا کر بیٹھی تو اسنے اپنی ہی پلیٹ میں اس کا چمچ رکھتے اسے کھانے کا اشارہ کیا۔
“آپ نے مجھے کیوں سب کے سامنے منع کیا تھا۔”
“کیا تمہیں گھر میں یہ سب اوٹ پٹانگ کھانے پینے کی اجازت ہے؟ تو یہاں کیوں ہو گی؟” حاد نے اسے دیکھتے کہا جو تھکی سی لگ رہی تھی۔
“تھک گئی ہو؟”
ہم۔۔۔۔۔۔!
اس نے سر تیزی سے ہلایا تو میر حاد اپنے برتن خود ہی رکھ آیا واپسی پر اسے دوا دی۔۔۔وہ اس کی چھوٹی چھوٹی چیزوں کا دھیان یوں ہی رکھتا تھا۔
وجدان اگلے روز ہی چاہت کو لینے آیا تھا۔۔۔۔میر حاد اور آحل فیاض سے اس کی اچھی دوستی ہو گئی تھی۔
اور ابھی وہ سب باہر لان میں کرکٹ کھیلتے اب واپس جانے کی تیاریوں میں تھے۔
“آپ کی بیویوں نے میری بیٹی کا بُرا حال کر دیا ہے۔۔”
وجدان نے مسکراتے آحل اور حاد کو دیکھتے کہا جو انہیں ہی دیکھ رہے تھے۔
کل سے اب تک الہام اور حیات نے ان کی بیٹی کو چوم کر ہی ادھ موا کر دیا تھا اس کے لیے اتنے تحفے لائیں تھیں وہ۔
“ہم معذرت خواہ ہیں!”
آحل اور حاد اکٹھے بولے تو فضا میں ان کے قہقہے بلند ہوئے۔
چلیں! وہ سب اپنی گاڑیوں میں بیٹھ رہے تھے۔
“مجھے کیا پتا تھا آپ کو بے بے بیز اتنے پنسد ہیں میں تب سے ہی کچھ سوچ لیتا۔۔۔”
آحل نے الہام کی طرف جھکتے کہا تو الہام نے اس کے کندھے پر پنچ مارا۔
“میں واپس پر آئس کریم کھاؤں گی۔۔۔”حیات نے کہا تو حاد نے اسے گھور کر دیکھا۔
“میری بیٹی کی نظر اتار دینا گھر جا کر۔۔۔۔۔میری پرنسس کو دیکھو چوم چوم کر کیا بنا دیا ہے۔۔۔۔”حنفہ سو گئی تھی اس کے گالوں پر اب بھی حیات اور الہام کی لپسٹکس کے نشانات تھے۔
چاہت بس مسکرا دی۔۔۔۔وہ سب روانہ ہو گئے تھے اپنے گھر، اپنے اصلی ٹھکانوں کی طرف۔
ایک پُرسکون زندگی گزارنے۔۔۔جہاں میر حاد نے اپنے مرحوم والدین کے قاتل کو اس کے انجام تک پہنچا دیا تھا اور اپنی بیوی کے ساتھ بے حد خوش تھا۔۔۔۔بیٹے کی پیدائش پر اس نے حیات کو نم آنکھوں سے دیکھا تھا وہ مسکرا دی تھی وہ جانتی تھی کہ وہ کتنا خوش ہے۔۔۔۔۔وجدان نے دادی کو اپنے ساتھ بلا لیا تھا۔۔۔صباء کی شادی ہو گئی تھی۔۔۔اسے اس کا سبق مل گیا تھا جو اس نے کیا تھا جس کی وہ معافی کئی بار چاہت سے مانگ چکی تھی۔۔۔چاہت اور وجدان اپنی بیٹی کے ساتھ خوش تھے۔۔۔آحل فیاض اپنے دن بدن بڑھتے کاروبار کو مزید پھیلا رہا تھا۔۔۔۔لیکن دھیان سارا الہام کی طرف تھا جو خود بھی اب ایکسپیکٹ کر رہی تھی۔۔۔۔وہ سب خوش تھے۔۔۔۔چھوٹی چھوٹی نوک جھونک نے ان سب کو رشتے کو مزید نکھار دیا تھا۔
