You're All Mine by Suneha Rauf NovelR50405 You're All Mine Episode 19
Rate this Novel
You're All Mine Episode 19
You’re All Mine by Suneha Rauf
حیات کے اپنے باپ سے ملتے ہی اس نے میر کو مطلع کر دیا تھا۔۔۔جس نے ڈرائیور کو واپس آنے کا حکم دے دیا تھا۔
“کیسا ہے میرا بیٹا؟”غازیان نے اسے ساتھ لگاتے استسفار کیا۔
کچھ لمحوں کے لیے میر بھول گیا تھا اسے۔۔۔لیکن کب تک بھولتا۔۔۔۔آخر ایک مضبوط رشتہ تھا اب ان کے درمیان۔
“میں ٹھیک ہوں بہت خوش ہوں یہاں آ کر؟”
ماما۔۔۔۔اپنی ماں سے لپٹ کر ان کے دوپٹے کو اس نے کتنی ہی بار ناک کے نتھنوں کے پاس لے جاتے گہری سانس بھری تھی۔
“الہا۔۔۔۔۔مجری پیاری۔۔میری جان۔۔۔میری گڑیا۔۔۔۔”
الہام کو اس نے خود میں زور سے بھینچ لیا تھا۔
“آپا میرا سانس بند ہو رہا ہے۔۔۔”الہام نے گھٹی گھٹی آواز میں کہا تو حیات نے اسے گھورا۔
“چاہ کیسی ہے؟ وہ نہیں آئی تمہارے ساتھ؟”
چاہت ان دونوں کی اچھی دوست تھی بچپن سے۔۔۔اور ان دونوں کی زندگیوں میں بہت کم لوگ رہے تھے، اسی لیے وہ جو مختصر لوگ تھے وہ کافی اہمیت کے حامل تھے۔
“نہیں! اب وہ بزنس وومن بن گئی ہے۔۔۔”
اندر جاتے الہام اسے آہستہ آہستہ سب بتا رہی تھی اور وہ حیرت سے کنگ منہ کھولے اسے سُن رہی تھی۔
اپنے گھر والوں کے ساتھ کھانا کھاتے اس کا دل ایک بار پھر سے کِھل اٹھا تھا۔۔۔اس نے فون تک ایک بار نہ دیکھا جہاں ناجانے کتنے مسڈ کالز تھے۔
“بابا!”
اپنے باپ کو رات میں لان میں اکیلے دیکھتے وہ وہاں آئی تھی۔
نہیں تو تب سے ماں کی گود میں وہ ان سے اور الہام سے گزرے دنوں کی داستان سن چکی تھی۔
الہام کے لیے وہ حیران اور خوش دونوں تھی۔۔۔۔اسے کبھی نہیں لگا تھا کہ اس کی ڈرپوک اور حد سے زیادہ شائے بہن اس سے پہلے شادی کر لے گی۔
لیکن نہیں وہ غلط تھی۔۔۔اس کا نکاح تو ہو چکا تھا۔۔۔اور پہلی بار میر صاحب کی یاد اس کے زہن پر بن موسم کی برسات کی طرح برسی تھی۔
“آحل فیاض کو پسند کر لیا پھر آپ نے الہام کے لیے؟ یہ کیسے ممکن ہوا؟ ابھی تو وہ چھوٹی ہے۔”
“وہ شخص اب تمہاری بہن کا پیچھا نہیں چھوڑنے والا۔۔۔اس کے والد کو میں کافی عرصے سے جانتا ہوں۔۔۔اور آپ کی ماں نے مجھے منا ہی لیا۔”
“وہ اچھا شخص معلوم ہوتا ہے۔۔۔الہا کے لیے کتنا پاگل ہے وہ!” وہ بے خیالی میں بولی۔
اور میر نے تو ایک بار بھی فون تک نہ کیا تھا اسے۔
“آپ بتائیں میری جان کیا مصروفیات رہیں؟”
غازیان اعجاز کے یک دم سوال نے اسے خاموش کروا دیا تھا۔
لیکن پھر میر سے ملاقات کے علاؤہ اس نے سب بتا دیا۔۔۔۔۔۔سب سچ لیکن آدھا سچ۔۔۔کیونکہ اپنے باپ سے جھوٹ اس نے کبھی نہیں بولا تھا۔
لیکن یہ بات وہ ایسے نہیں کھول سکتی تھی۔
“غازیان اعجاز نے گہری نگاہ اس پر ڈالی پھر مسکرا دیے ۔”
رات کو اپنے بستر پر گرتے اس نے فون اٹھایا تو میر کے نام سے کئی مسڈ کالز تھیں۔۔۔۔اس نے فوراً اٹھتے دوبارہ سے کال ملائی۔
جو کہ اٹھائی نہیں گئی تھی پھر اس نے بار بار وہی نمبر ملایا لیکن جواب نداد۔
“اففف۔۔۔۔۔!”
وہ نجانے کتنی دیر تک انتظار کرتی رہی تھی جب نیند میں اسے اپنا فون اپنے نیچے وائبریٹ ہوتا محسوس ہوا۔
اس نے نیند میں ہی کال اٹھائی تھی۔
“ہممممم؟ کون؟”
“تمہیں لگتا ہے رات کے اس پہر میرے علاؤہ کوئی تمہیں کال ملا سکتا ہے؟”
دوسری طرف سے گھمبیر آواز پر اس نے مندی مندی آنکھیں کھولیں اور اٹھ کر بیٹھی۔
“نہیں!”
“اٹھ کر منہ دھو کر آؤ اور مجھ سے بات کرو!” دوسری طرف سے حکم دیا گیا تھا شاید۔
“مجھے نیند آ رہی ہے میر!” وہ پھر سے لیٹتے بولی۔
“حیات میر۔۔۔۔اگر تم نے بات نہیں کرنی تو تمہاری مرضی لیکن یاد رکھنا اب یہ نمبر دوبارہ تمہاری سکرین پر بلنک نہیں ہو گا” کہہ کر کال کاٹ دی گئی۔
تو یک دم نیند جاتی رہی وہ فوراً ٹھنڈے پانی سے منہ دھوتی اپنے بال درست کرنے لگی جیسے وہ اسے دیکھ رہا ہو۔۔
پھر واپس اس کا نمبر ملایا جو اٹھا لیا گیا تھا۔
“کیسے ہو؟”
“ٹھیک ہوں! تم کیسی ہو؟”
“ٹھیک ہوں۔۔! بلکہ بہت خوش۔۔۔ماما بابا۔۔۔اور پتا ہے الہا بھی آئی ہوئی ہے۔”
“تو مطلب تم نے دو دن بھی میرے گھر میں نہیں گزارے؟”
وہ لاجواب ہوئی۔۔۔
“میں اکیلی کیسے رہ سکتی تھی۔۔!”
” تمہاری زندگی ہے میں کیا کہہ سکتا ہوں؟۔۔۔”اس کا اتنا کہنا حیات غازیان کو ناگریز گزرا تھا۔
“کب واپس آؤ گے؟”
“معلوم نہیں!”
“میں صبح بالوں کو کٹوا کر نیا رنگ دینے والی ہوں!” “الہام بھی جائے گی اس کا نکاح!”
“تم بال نہیں کٹوا رہی ہو بیوی!” اس کی آواز پر وہ ٹھٹکی۔
“لیکن کیوں؟”
“بس میں کہہ رہا ہوں!” دوسری طرف سے وہی سرد لہجہ۔
“میں کسی کے مطابق زندگی نہیں گزارتی۔۔۔۔”اس نے پرانی بات کا بدلہ لیا تھا۔
“مجھے لمبے بال نہیں پسند۔۔۔۔چھوٹے اچھے لگتے ہیں۔۔۔ماما بابا بھی میری مرضی میں راضی ہیں۔۔۔تم کیسے کہہ سکتے ہو؟ دیکھو یہ بات جان لو کہ حیات غازیان کسی کے طور طریقوں پر نہیں چل سکتی۔۔۔”وہ بولنے پرآئی تو بولتی چلی گئی۔
“اور؟”
کال کٹ گئی تھی۔۔۔۔۔
حیات نے آنکھیں بند کر کے کھولیں تو احساس ہوا کہ وہ زیادہ بول گئی ہے۔۔۔لیکن پھر بھی وہ اسے نہیں روک سکتا تھا۔
یہ جدیدیت کا زمانہ تھا۔۔۔اس کے حساب سے عورت سب کر سکتی تھی پھر چاہے کسی بھی رشتے میں ہو۔۔۔لیکن شاید وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ رشتہ مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ حساس بھی ہوتا ہے۔۔۔دونوں کو ایک دوسرے کی پسند کے مطابق ڈھلنا پڑتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاہت پوری رات اس بارے میں سوچتی رہی تھی۔۔۔۔اس پرفیوم اور وجدان چوہدری کے بارے میں۔
“کیا اسے یہ کرنا تھا یا کرنا چاہیے؟”
“کیا وہ پرفیوم دنیا کو نہیں دینے والی تھی؟”
“کیا وہ پرفیوم وجدان چوہدری کی اب کبھی پسندیدہ تھی؟”
“وہ اس خوشبو کے لیے اتنا انسکیور کیوں تھا؟”
اس نے ایک فیصلہ کرتے آنکھیں موندی۔۔۔
صبح اٹھتے ہی اس نے وہ پرفیوم اچھے سے خود پر چھرکا تھا۔۔۔۔اور اسی کو بیگ میں رکھتے آفس کے لیے روانہ ہوئی۔
اور وجدان چوہدری آج ایک نئے جزبے سے آشنا ہوا تھا ۔۔۔رات ساری بے چینی میں کٹی تھی۔۔۔صبح اس کے دل نے اس خوشبو کی طلب کی تھی اس نے اچھے سے وہ خود پر چھرکا۔
لیکن وہ تشنگی نا مٹا پایا جو دل میں لگ چکی تھی۔
یہ خوشبو اسے چاہت خالد کی یاد دلاتی تھی۔۔۔ اس سے منسوب تھی۔
دونوں نے ایک دوسرے کو لفٹ کے سامنے دیکھا تھا۔۔۔۔لیکن آج چاہت نے پھر نے سیڑھیوں کا انتخاب کیا تو وہ لب بھینچ کر رہ گیا۔
“کیا مسئلہ ہے اس لڑکی کے ساتھ؟”
“کیوں بھاگ رہی ہے مجھ سے؟” لفٹ کی دیوار پر زور سے ہاتھ مارتے اس کی دماغ کی رگیں تنی۔
وہ اوپر جاتے ساتھ اس کے پاس گیا لیکن وہ اپنے میز پر تھی ہی نہیں۔۔۔وہ سیدھا اسد کے آفس میں گیا۔
چاہت مجھے بات کرنی ہے تم سے!
“میں سر اسد سے بات کر کے آتی ہوں!” چاہت نے دھیرے سے کہا۔
“وجدان!”
“مس چاہت نے مجھے یہ پرفیوم دی ہے تحفے میں جو تمہیں دی تھی دیکھو اب صرف تم ہی وہ خوش نصیب نہیں ہو جس کے پاس یہ موجود ہے۔”
اسد نے چہکتے بتایا پھر چاہت کو دیکھا۔
چاہت نے آنکھیں چرائی کیونکہ ایک ٹیسٹر وہ اس فلئیر کمپنی کو بھی پہنچا چکی تھی آتے وقت۔
وجدان نے اسد کی طرف قدم بڑھائے اور اس کے ہاتھ میں موجد بوتل کو اٹھا کر دیوار پر دے مارا۔
چاہت کے منہ سے گھٹی گھٹی چیخ نکلی تھی وہیں اسد نے غصے سے وجدان چوہدری کو دیکھا جس کو فرق نہیں پڑا تھا۔
وجدان نے سرخ ہوتی نگاہوں سے پہلے اسد کو دیکھا پھر چاہت کا ہاتھ تھاما اور اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا۔
“چھوڑیں وجدان!” وہ چیخی۔۔!
لوگ ان کی طرف متوجہ تھے لیکن وہ کہاں کسی پر دھیان دے رہا تھا۔۔۔بس اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے اپنے ہاتھ میں تھامتا اسے تقریباً کھینچ کر لے جا رہا تھا اپنے ساتھ۔
پھر آفس کے بیچ و بیچ چاہت نے اپنا ہاتھ جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے نکالا اور جانے لگی کہ وہ اس کے آگے کھڑا ہوتا اسے روک گیا۔
“تو چاہت خالد۔۔۔!”
“تم کامیاب ہوئی۔۔۔کامیاب ہوئی تم وجدان چوہدری کو مات دینے میں۔۔۔میں اپنی شکست قبول کرتا ہوں!”
چاہت وہاں لوگوں کی نظروں کا ایک بار پھر مرکز بنتے خوفزدہ تھی۔
“وجدان نہیں کریں!” وہ منمنائی۔۔۔۔وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی وہ کیا چاہتا ہے۔
“میں نے محبت جیسی خرافات پال لی ہے چاہت خالد اور ایسا کرنے پر تم نے مجھے مجبور کیا ہے۔۔۔”وہ آخر کار اظہار کر گیا تھا۔
اتنےدنوں کی ازیت اور اضطرابی کیفیت سے چھٹکارا پانے کے لیے۔۔۔وہ چاہت کے اظہار کے بعد سو تک نہ پایا تھا سکون سے۔۔۔
یہ جانے بنا کہ وہ اپنی محبت سے شاید خود نکل کر اسے اس کا شکار بنا گئی ہے۔
چاہت نے سب کو دیکھا پھر آنکھیں بند کر کے کھولیں اور سامنے اس کے کیبن میں چلی گئی تو وہ بھی سب نظرانداز کرتا تیز قدموں سے اس کے پیچھے آیا۔
“چاہت؟”
وہ مڑی اور اس کے قریب آئی۔۔۔آنسؤوں کا گولہ حلق میں اٹکا تھا لیکن اسے مضبوط بننا تھا وہ مضبوط تھی اسے یہ ثابت کرنا تھا۔
“یہ اظہارِ محبت کسی بھی لڑکی کا خواب ہو سکتا ہے مسٹر وجدان۔۔۔۔”
اس نے گہری سانس بھر کر کہنا شروع کیا۔
“مطلب؟؟”
وہ دو قدم اس کی طرف بڑھاتا اضطرابی کیفیت میں بولا۔
“یاد کریں۔۔۔اتنے ہی لوگ اس رات بھی تھے یا شاید اس سے بھی زیادہ جب آپ نے مجھے دھتکارا تھا مجھے رسوا کیا تھا ان جیسے لوگوں کے سامنے۔”
“اور میں تو بے حیا، منہ پھٹ، حد سے زیادہ لبرل، اور لڑکوں کو یوں ہی پرپوز کر دینے والی لڑکی ہوں نا تو پھر اب کیا ایسا مجھ میں بدل گیا جو یوں آپ میرے سامنے کھڑے ہیں۔”
“یہ الفاظ میں نے استعمال ہرگز نہیں کیے تھے چاہت۔۔۔۔اور ان سب کا کیا مقصد ہے؟” وہ ازیت سے چہرے پر ہاتھ رکھتا بولا۔
“سب نارمل ہو تو گیا تھا! ہم اچھے تھے ایک دوسرے کے ساتھ۔۔۔”
وہ اس سے زیادہ شاید خود کو دلاسہ دے رہا تھا۔
“کیا واقعی؟” وہ دو قدم اس کے قریب ہوئی۔
“میں چاہتی تو آپ کو بھی ویسے ہی دھتکارتی، آپ بھی وہ سب برداشت کرتے جو میں نے کیا تھا۔
لوگوں کی نظریں جن میں حقارت تھی، تمسخر اڑاتی نگاہیں، قہقہہ لگاتے گروہ، آنسوں کا مزاق اڑاتے لوگ، مجھ پر زندگی تنگ کر دی گئی کیوں؟”
“میرا جرم صرف اتنا تھا کہ میں نے محبت کا اظہار کیا آپ سے؟”
“کیا اتنا بڑا جرم تھا میرا؟”
“میں نے آپ کو دھتکارا نہیں باہر اتنے وسیع مجمعے میں ۔۔۔مسٹر وجدان کیونکہ میں وہ ازیت محسوس کر چکی ہوں جس سے کسی دشمن کو بھی نا گزاروں۔”
“لیکن چاہت چوہدری اتنی کمزور نہیں ہے اور نا اتنی مہربان کہ آپ کو اپنا لے۔”
“تم ایسا نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔؟”
آنکھوں کی سرخی اب بڑھنے لگی تھی مٹھیاں بھینچے ہوئے وہ بولا۔
“میں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا ہے!”
وہ واپس دو قدم دور ہوتی کھڑی ہوئی اور پھر ہمت اکٹھی کرتی بولی۔
وجدان کا کب کا تھاما صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹا اور اس کے قریب آتا اس کے بازو پر گرفت سخت کی۔
“تم ایسا میرے مرنے پر ہی کر پاؤ گی بس یاد رکھنا۔”
“مجھے یہاں کام نہیں کرنا پلیز۔۔۔۔”چاہت کے کب کے رکے آنسو اب بہنے لگے تھے۔
“چاہت خالد تمہارے نام کے آگے میرا نام ہی لگے گا جتنا بھاگ سکتی ہو بھاگ لو۔۔۔میں سب اذیتوں کا ازالہ کر دوں گا۔۔۔چاہو گی تو دس بار معافی مانگ لوں گا!”
“کیا معافی مانگنے سے میری تکلیف کا واقع ازالہ ہو جائے گا؟”
“ہاں اور اگر نہ بھی ہوا تو وجدان چوہدری تمہاری کھوئی ہوئی عزت کو واپس لوٹائے گا تمہیں یہ وعدہ ہے میرا۔۔۔تم وقت لے سکتی ہو۔۔”
“لیکن یہ بات اپنی روح کو سمجھا دو کہ اس پر وجدان چوہدری کا حق ہے جو مرتے دم تک وہ کسی کو نہ دے۔”
وجدان چوہدری وہ شخص تھا جو بات تک نہ زیادہ کرتا تھا کسی سے ۔۔۔۔کسی کو کچھ سمجھتا نہ تھا اور آج۔۔۔
آج!
ایک لڑکی کے سامنے اپنی محبت کے لیے جھکا تڑپ رہا تھا اور اسے جھکانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کو تیار تھا۔
چلو!
اس کا ہاتھ تھاما جو اس اس نے چھڑوانا چاہا لیکن وجدان چوہدری نے پکڑ اور مضبوط کر دی۔
پھر اسے لیتا سب لوگوں کے درمیان باہر نکلا۔۔۔سب دم سادھے انہیں ہی دیکھ رہے تھے۔
اسے لیتا نیچے گیا اور اپنی گاڑی میں زبردستی بٹھاتے ڈرائیور کو اسے چھوڑ کر آنے کو کہا۔۔۔۔
جھک کر اس کے قریب۔۔۔۔اس کے آنسو صاف کرنا چاہے پھر رک گیا وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“یہ کام اب حق حاصل کرنے کے بعد ہی کروں گا” اس کے کان کے پاس بولتا وہ ہٹا تو ڈرائیور نے گاڑی چلائی اور نکل گیا۔
وہ بھی واپس آگیا۔۔۔سب کی نظریں اس پر تھی لیکن اس نے کسی کو جواب نہ دیا۔
جواب اب وہ چاہت خالد کو چاہت وجدان بنانے کے بعد ہی دیتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بابا؟”
آحل کے جاتے ہی وہ اپنے باپ کے پاس آئی تھی۔۔۔۔
غازیان اعجاز نے اسے ساتھ لگاتے اس کا سر چوما تو رابیل مسکرائی۔۔۔۔غازیان نے اسے دیکھ کر آنکھ بند کی تو وہ جھینپ گئی۔
“بابا کیا ہوا؟” الہام نے ڈرتے ڈرتے اپنے باپ سے پوچھا۔
“بھیج دیا اسے میں نے اب کبھی نہیں آئے گا۔۔۔”انہوں نے شرارت سے کہا تو رابیل نے اسے گھورا۔۔۔۔
الہام کی آنکھیں لبا لب پانیوں سے بھر گئیں۔
“آپ ایسا نہیں کر سکتے!” وہ منمنائی۔
“کیوں نہیں کر سکتا میں باپ ہوں تمہارا اور ابھی تم بہت چھوٹی ہوں۔”
“میں اٹھارہ سال کی ہو گئی ہوں بابا!”
اس نے مزاحمت کرنی چاہی پھر اٹھی جانے کے لیے کہ غازیان اعجاز کا قہقہہ گونجا۔
“اس کے والد صاحب سے مل لیتے ہیں۔۔۔۔اگر انہیں آپ پسند آ گئیں تو!”
الہام نے پھٹی آنکھوں سے اپنے باپ کو دیکھا۔۔۔آیا وہ مزاق تو نہیں کر رہے لیکن وہ سچ بول رہے تھے وہ اچھلتے کودتے ان کے گلے لگ گئی۔
“آپ کو وہ پسند ہے؟”
“بے حد! مجھے بس وہی چاہیے”
آنکھوں میں پختگی تھی اس کا باپ جان گیا کہ اگر وہ زبردستی بھی کرتے تو کبھی اپنی بیٹی کے دل سے اس شخص کو نا نکال پاتے۔
اور شاید وہ شخص چاہے جانے کے ہی قابل تھا۔۔۔۔مرد وہی ہے جو محبت پر ڈٹا رہے۔۔۔اور اپنی محبت کو پانے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دے۔
وہ مطمئن ہو گئے تو رابیل نے مسکرا کر اپنے شوہر کو دیکھا۔
شاید ہر باپ کو غازیان اعجاز ہی طرح کا ہونا چاہیے۔۔۔۔
غیرت اور انا ما مسئلہ بنائے بغیر اپنی بیٹی کی پسند سے ملنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہونی چاہیے۔۔۔رتبے اور دولت یہ تو دنیا کے بنائے سٹینڈرڈز ہیں۔۔۔ہمارے ہاں بڑا مسئلہ اولاد اور ان کے والدین کی سوچ میں ہے۔۔۔والدین اپنی بیٹیوں کی پسند پر اپنی پسند کو ترجیح دیتے ہیں وہ اپنی جگہ بالکل درست ہیں انہوں نے پالا ہے یہ ان کا حق ہے لیکن ان کے حق میں ان کی بیٹیوں کا حق کہاں گیا جو اپنی پسند کی شادی کا یا ہمسفر چننے کا ہے۔۔۔۔یہ حق تو اسلام تمام لڑکیوں کو دیتا ہے۔۔۔۔ہمارے معاشرے میں غیرت پر قتل کردیے جاتے ہیں ہم نے اسلام کو اپنی (کنوینیننس) آسانی کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔۔۔۔جو باتیں ہمارے لیے ٹھیک ہیں وہ اسلام کہتا ہے لیکن جو باتیں کسی اور کے لیے ہمیں پسند نہیں اس میں ہمیں اسلام یا آ جاتا ہے۔۔۔۔ہمارے ہاں ہزاروں ایسی کہانیاں ہیں جہاں والدین اپنی بیٹی کو مار دھار کر اپنی پسند پر رضامند کر لیتے ہیں۔۔۔۔وہ ان سب میں کامیاب تو ہو جاتے ہیں لیکن اپنی بیٹی کے دل سے وہ شخص نہیں نکال پاتے۔۔ اولاد سمجھوتا کرتے وہ سب کر لیتی ہے جو وہ چاہتے ہیں۔۔۔۔اور پھر والدین اپنی بیٹی وہ اپنی آنکھوں کے سامنے جب تباہ ہوتے دیکھتے ہیں تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ زندگی میں کیے فیصلے ہمیشہ درست ثابت نہیں ہوتے۔
اور دوسری طرف وہ اولاد جو والدین کا ساتھ تک نہیں دیتی۔۔۔۔والدین نے ہرطرح کا حق دیا ہے مگر انہیں احساس تک نہیں۔۔۔ہمیشہ ان کے دم پر عیش کرنے والے۔۔۔ہمسفر اپنی پسند کا چننے والے زندگی میں آگے بڑھتے بھول جاتے ہیں کہ وہ کس کے دم پر آج اس مقام پر ہیں۔۔۔بحرحال۔۔۔اس بحث کو طویل نہیں کرتے لیکن حقوق و فرائض وہی اچھے جو دونوں طرف سے ادا کیے جائیں۔
حیات کے آنے پر الہام نے اسے سب کچھ بتایا تھا۔۔۔وہ اپنے نکاح کے لیے بے حد خوش تھی۔
آخر کون خوش نہ ہو اپنا پسندیدہ شخص پا لینے کے بعد۔۔۔۔آحل کے باپ نے آتے ہی اس سے ملنے کی خواہش کی تھی۔
الہام تو انہیں شروع سے ہی پسند تھی۔۔۔بیٹے کی ضد پر انہوں نے اسی جمعے نکاح کا بولا تھا۔۔۔
رابیل کے کہنے پر نکاح جمعے کو رکھا گیا تھا۔۔۔۔الہام غازیان نے نہ سہی لیکن آحل فیاض نے وہ دن گن گن کر گزارے تھے۔
اسے الہام کو ایک مضبوط رشتے میں لانا تھا اور پھر وہ اسے وہاں سے یہاں لے آتا کیونکہ چاہت نے اسے بتایا تھا کہ وہ یہاں کسی بڑی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی۔
چاہت کو الہام نے بہت کالز کی تھی لیکن اس نے نہیں اٹھائیں تھیں اور نہ آحل نے چاہت کو بتایا تھا کیونکہ وہ اپنے باپ اور ماں کے ساتھ ہی کشمیر روانہ ہوا تھا۔
دو لوگ اپنی محبت کو پا چکے تھے۔۔۔۔دیکھنا صرف یہ تھا کہ وہ اس محبت کے آنے والے امتحانوں میں پاس ہو پائیں گے یا نہیں۔
“اسلام علیکم!”
“وعلیکم السلام!” الہام نے آحل کو دیکھتے جواب دیا۔
“کیسی ہو زندگی؟”
آحل نے اس کے ہاتھ تھامے۔۔۔یہ حق وہ کچھ لمحے پہلے ہی پا گیا تھا۔
“ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں؟”
اس وقت وہ پچھلے لان میں تن تنہا آسمان پر بھرے تاروں کے نیچے موجود تھے۔
“خوش ہوں بہت!”
“مطمئن رہیں!” الہام کی طرف سے ملی تجویز پر اس نے سر خم کیا۔
“اپنی پڑھائی تم اب وہاں آ کر پوری کرو گی۔”
“نہیں! میں پوری کر کے آؤں گی یہاں میں دوست بنا چکی ہوں!” الہام نے فوراً کہا۔
اس رشتے سے وہ خوش تھی لیکن ڈری ہوئی بھی تھی ابھی وہ وقت چاہتی تھی اسی وجہ سے رخصتی نہ کی گئی تھی۔
لیکن آحل ایسا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔وہ جلد غازیان اعجاز سے بات کرنے والا تھا اسے یہاں سے لے جانے والا تھا۔
“نہیں تم وہاں آؤ گی۔۔۔”
“میں جلد رخصتی کی بات کر لوں گا۔۔۔۔اس سمسٹر کے فوراً بعد ہی تبادلہ کروا دوں گا میں۔”
“مجھے ابھی رخصتی نہیں چاہیے۔۔۔”الہام کے کہنے پر آحل نے اسے دیکھا۔
“وجہ جان سکتا ہوں؟” اسکا ہاتھ تھامتے استسفار کیا گیا۔
“میں ابھی ان سب کے لیے تیار نہیں ہوں!” وہ نظریں جھکائے ہی بولی۔
“تو تیار کر لو الہام آحل”
” کیونکہ ایسا ہی ہو گا” اس کے کان کے پاس جھکتے اس کے کان پر لب رکھے پھر اس کی گردن کے ساتھ ناک سہلاتے وہ پیچھے ہٹا اور وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
اور الہام آحل پہلی بار اس کا لمس محسوس کرتے وہیں جمی رہی تھی جیسے برف کا مجسمہ ہو۔۔۔۔
“نہیں!”
وہ کانپ گئی۔۔۔ہچکچاہٹ حد سے زیادہ تھی اور وہ لمس۔۔۔وہ سب ابھی نہیں چاہتی تھی۔
وہ نہیں جائے گی اس کا فیصلہ وہی تھا۔
