266K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Rung Episode 9

Shah Rung by Aneeta

چلو جا کے تمہاری فیورٹ پلیس پر بیٹھتے ہیں مروہ کا ہاتھ سائم کے ہاتھ میں ہی تھا اس نے گاڑی لاک کی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اگے جانے لگا۔۔

تمہیں کیسے پتہ یہ میری فیورٹ پلیس ہے۔۔

ہم اپنے دوستوں کی ساری خبریں رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔

سائم نے رخ پیچھے کر کے ہلکی سی سمائل دی۔۔۔۔۔

وہ دونوں اب سٹیم کلاک کہ بالکل سامنے بیٹھے ہوئے تھے مروہ نے وائٹ کلر کا لونگ کوٹ پہنا ہوا تھا بالوں کو کھولا ہوا تھا اور نیچے وائٹ ہی شرٹ پہنی ہوئی تھی وہ بہت ڈیسنٹ اور خوبصورت لگ رہے تھی۔۔

یہ جگہ تمہیں اتنی کیوں پسند ہے؟

کیا تمہیں نہیں پسند ؟

مروہ نے سوال پہ سوال کیا سائم مسلسل اس کی انکھوں میں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔

یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔اس نے نظر اس سے ہٹائی ۔۔۔۔

اس جگہ کو غور سے دیکھو سائم ایسا لگتا ہے کہ کہ اس بناوٹی جگہ میں ایک یہی چیز حالص اور قدیم ہے جو دل کو سکون دیتی ہے مروہ کی نظریں مسلسل کلاک پر تھی اور جانتے ہو یہ جب یہ ساؤنڈ کرتی ہے تو ایک الگ ہی دنیا میں لے جاتی ہے۔۔۔۔

اتنے میں کلاک ساؤنڈ کرنے لگی۔۔۔۔۔

وہ دونوں بہت سکون سے اس ساؤنڈ کو سن رہے تھے اور سائم نے اج اس ساؤنڈ کو دل سے سنا تھا۔۔۔۔۔

تمہاری چوائس بہت یونیک ہے۔۔۔۔۔

کیا تمہیں یہ ساؤنڈ ایفیکٹ نہیں کرتا؟مروہ نے پھر سے سوال کیا تھا۔۔۔۔۔۔

جیسا کہ تم نے کہا ہے کہ یہ ساؤنڈ انسان کو ایک الگ ہی دنیا میں لے جاتی ہے لیکن جس دنیا میں یہ مجھے لے کے جاتا تھا وہاں اندھیرا تھا اور میں سمجھ نہیں پاتا تھا کہ میں اخر یہاں کیوں ہوں لیکن اب مجھے صاف دکھائی دیتا ہے۔۔۔۔

تو اب کیا دکھائی دیتا ہے؟

مروہ نے دلچسپی لیتے ہوئے کہا۔..

مجھے تم دکھائی دیتی ہو مروا تم۔۔۔۔۔۔

میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاں ۔۔۔۔۔ سائم نے اس کا ایک ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا۔

مروہ کچھ دیر تو اس کے لمس کو محسوس کرتی رہی۔

پھر ایک دم سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔

کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے دیر ہو رہی ہے کام سے.۔۔

_______

محبت جتنی شدت سے کی جاتی ہے اتنی ہی تباہی کا باعث بنتی ہے۔۔۔۔۔۔۔

۔۔اجےدور کھڑی دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔

اج سے ہم اپنا کام شروع کریں گے۔۔۔

اس نے پاس بیٹھے لڑکے کو کہا جو اسی کو دیکھ رہا تھا۔

اور اگر اس لڑکی نے اپ کی بات نہ مانی۔

اس کی ڈور میں نے پوری طرح اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔

اجے نے ہاتھ میں پکڑی فائل کو تھوڑا اپنے منہ کے قریب کیا۔۔۔

________

میم بل پلیز(mam bill please)

کاؤنٹر کے اس پار کھڑی لڑکی جو شارٹ سکرٹ میں تھی نے دو تین دفعہ مروہ کو مخاطب کیا جو کسی گہری سوچ میں گم تھی۔۔

مروا تمہارا دھیان کدھر ہے۔عثمان نے اس لڑکی کے ہاتھ سے بیگ لیا اور کاؤنٹر پر رکھا۔۔۔۔

اسے بل کرو۔عثمان نے ہاتھ سے مروہ کو ذرا سا ہلایا تھا۔

وہ میں۔۔۔۔۔

مروہ کچھ کہتے کہتے رکی اور فورا سے سکین کرنے لگی۔۔۔

یہاں سے گھر جاتے ہوئے ڈاکٹر کو چیک کروا کے جانا مجھے لگتا ہے تمہارے دماغ میں پکا کوئی مسئلہ ہے۔۔۔۔۔

عثمان تمہیں تو موقع چاہیے۔ہاں ٹھیک ہے یہ جاب مجھے تمہاری وجہ سے ملی ہے۔۔۔۔

میرا باپ بننے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔

وہ دونوں باتیں کر ہی رہے تھے کہ اجے کی انٹری ہوئی۔۔۔

بس اسی کی کمی تھی۔عثمان نے دور سے اتی اجے کو دیکھ کر کہا۔۔۔

اب جلدی واپس ا جانا۔۔۔۔۔

کچھ ہی دیر میں دونوں سامنے والے کیفٹ ایریا میں امنے سامنے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔

کیا کوئی کام تھا اپ کو ؟

مروہ نے اجے کے ہاتھ میں فائل دیکھ کر حیرانگی سے پوچھا۔۔۔۔۔

______________

سائم ابھی بھی مروہ کے خیالوں میں گم تھا۔وہ ہاتھ میں بال پوائنٹ لے کر اسے تیزی سے گھما رہا تھا۔

سر۔۔۔

وشل دو تین دفعہ سائم کو پکار چکی تھی۔وہ دروازے پہ کھڑی مسلسل نوک کر رہی تھی۔۔

میں ائی کمنگ( may I coming)۔

یس ( yes)

سائم نے کمر کو سیدھا کیا اس کا ایک ہاتھ ماتھے پر تھا۔کہ شاید وہ اپنی حرکت پر شرمندہ تھا۔اور پھر کوٹ کو سیدھا کرنے لگا۔۔۔۔

_______________________

میں ایسا نہیں کر سکتی۔۔۔

یہ کہتے ہوئے مروہ ایک دم سے اٹھی تھی۔

تمہیں یہ کرنا ہی ہوگا۔۔۔۔

ورنہ۔۔۔۔

ورنہ کیا مروہ اب دوبارہ سے بیٹھ گئی تھی تو اپ نے میری مدد اس لیے کی تھی کہ اپنے گندے کھیل میں مجھے شامل کر سکیں۔۔۔۔

اس فائل میں سب کچھ موجود ہے تم دیکھ سکتی ہو۔اجے نے فائل کو مروا کے حوالے کیا اجے کی خوفناک مسکراہٹ دیکھ کر مروہ نے فورا سے اس فائل کو کھولا۔

کیا ہے یہ؟اس نے فائل کو دیکھنا شروع کیا۔۔

میں نے اپ سے 35 لاکھ لیے ہیں ایک کروڑ نہیں۔وہ فائل دیکھتے ہی بولی۔

یہ تو صرف میں اور تم جانتے ہیں کہ تم نے مجھ سے کتنے پیسے لیے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

یہ فائل تو کچھ تو کچھ اور ہی کہہ رہی ہے۔۔۔۔۔

اور لوگ ثبوت مانگتے ہیں مائی سویٹ ہارٹ۔اس نے یہ کہتے ہی فائل اس کے ہاتھ سے لے لی۔۔۔۔۔۔۔

یہ سب تم کیوں کر رہی ہو۔مروہ کی سمجھ سے باہر تھا۔۔۔۔۔۔

اس کے ماتھے پہ پریشانی کے بل تھے۔۔۔۔۔۔

تمہیں بس سائم کو اپنے پیار کے جال میں جکڑنا ہے اور پھر جیسا میں کہوں گی بالکل ویسا کرنا ہے۔۔۔۔

اور اگر۔۔۔۔

یہ کہتے ہی اس نے دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھے اور تھوڑا سا اگے جھکی۔۔۔۔۔

اور اگر تم نے ایسا نہیں کیا تمہارے ساتھ تو جو ہوگا وہ ہوگا تمہارے پیارے دادا جان اور تمہاری معصوم بہن کو بھی اس کا قرض اتارنا پڑے گا۔۔۔۔۔

تم ایسا نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔۔

مروہ نے اجے کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔اور پھر سے اٹھ گئی۔اس کے چہرے سے پریشانی واضح تھی۔بیٹھے بٹھائی مصیبت اس کے سر پر ان پڑی تھی۔۔۔۔۔۔۔

یہ کر کے تمہیں کیا ملے گا؟

اور۔۔۔۔۔۔۔ اور میرے اور سائم کے بیچ میں ایسا ویسا کچھ بھی نہیں ہے اور نہ ہی میں اسے پسند کرتی ہوں تو میں اس کے ساتھ ایسا کھیل کیوں کھیلوں گی۔۔۔۔

میرے لیے ۔۔وہ شوخ انداز میں بولی۔۔۔

صرف اور صرف میرے لیے۔۔۔

ورنہ تمہارے ساتھ تو یہاں جو ہوگا وہ ہوگا تمہاری فیملی کو بھی بہت کچھ دیکھنا پڑے گا۔۔

یہ کہتے وہ وہاں سے اٹھ گئی۔۔۔

لیکن مروہ کو گہری سوچ میں ڈال گئی۔۔۔۔۔۔۔

_________

کیا مروہ نے اج فون نہیں کیا ؟

کھانے کی میز پر دادا جان نے علیزے سے پوچھا جو سامنے بیٹھے انہیں کھانا پڑوس رہی تھی۔۔۔۔۔

دادا جان یہاں کے ٹائمنگ میں اور وہاں کی ٹائمنگ میں بہت فرق ہے۔۔۔۔

اسی لیے وہ کم فون کرتی ہے۔جب وہ فارغ ہوتی ہے ہم سو چکے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔

اور جب ہم فارغ ہوتے ہیں تو وہ سو چکی ہوتی ہے۔۔۔۔

دادا جان نے ایک نظر علیزے کو دیکھا اور پھر کھانا کھانے لگے۔وہ اندر ہی اندر مروہ کو بہت یاد کرتے تھے۔ویسے تو علیزے بھی ان کی پوتی تھی۔ لیکن مروہ میں ان کی جان بستی تھی۔۔۔۔۔۔۔

_____________

ض

مروہ نہیں جا رہی ہے ہمارے ساتھ عثمان بالکل تیار کھڑا تھا ۔۔۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔

پتہ نہیں اسے کیا ہوا ہے جب سے ائی ہے کمرے میں بند ہے سائرہ نے بلیک کلر کی ہڈی پہنی ہوئی تھی نیچے جینز اس کے بال چھوٹے سے تھے تو ہر وقت وہ کھلے ہی رکھتی تھی۔

اج تو بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔۔۔

عثمان نے اسے دیکھتے ہی کہا وہ مسلسل اسے دیکھے جا رہا تھا۔۔

تم بتاؤ کیا ۔ کوئی بات ہوئی ہے۔۔سائرہ کو شاید مروہ کی ٹینشن تھی۔۔۔۔۔

مروہ کے دماغ میں کوئی مسئلہ ہے یا مجھے لگتا ہے اس پہ کوئی اسیب ہے یہ مجھے نارمل نہیں لگتی۔۔

وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے باہر چلے گئے۔۔

_________

اور وہ مجھ سے ایسا کیوں کروانا چاہتی ہے۔میں یہ کبھی نہیں کر سکتی۔۔۔۔

کمرے میں مکمل اندھیرا تھا لیپ ٹاپ کی روشنی مروہ کے چہرے کو چمکا رہی تھی اور وہ اس پہ لکھے جا رہے تھی۔۔۔۔

ٹنننننننننن۔۔۔

وہ ابھی لکھ ہی رہی تھی کہ اس کے موبائل پہ نوٹیفکیشن ریسیو ہوئی۔۔

اس نے ایک نظر دیکھا تو انجان نمبر تھا۔۔

ہیلو۔۔۔۔۔۔۔

مروہ نے اسے خاص اہمیت نہیں دی اور پھر سے لیپ ٹاپ میں مصروف ہو گئی۔

اس نے دوبارہ ہاتھ لیپ ٹاپ پہ رکھا ہی تھا۔کہ اسی نمبر سے کال انا شروع ہو گئی۔۔۔۔

جی کون۔۔۔

مروہ کا ایک ہاتھ لیپ ٹاپ پر تھا دوسرے سے اس نے فون کان کے ساتھ لگایا۔۔۔

سائم مردان۔۔دوسری طرف سے ایک خوبصورت سی اواز مروہ کے کانوں سے ٹکرائی تھی۔۔

جی کہیں۔۔۔مروا نے برا سا منہ بناتے ہوئے پوچھا۔۔۔

کیا ہوا موڈ کیوں اف ہے سائم نے اس کی اواز سے اندازہ لگایا تھا۔۔

مروہ نے ایک لمبی سانس لی جسے سائم نے بھی محسوس کیا تھا۔۔۔

اخر تم میری جان چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔۔

میری زندگی میں پہلے سے ہی بہت پرابلمز ہیں۔تم لوگ اپنے کھیلوں میں میری زندگی تباہ کر رہے ہو اپنی گندی دنیا سے مجھے دور رکھو۔۔

مروہ کہ لہجے سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ کتنی پریشان ہے۔۔۔۔

اور جب تمہاری فیونسی ہے تو تم میرے پیچھے کیوں پڑے ہو۔۔۔۔

میں سمجھ نہیں پا رہا مروہ۔اور میری کوئی فرانسی نہیں ۔بہت غلط انفارمیشن اکٹھی کی ہے۔جدھر سے بھی کی ہے۔۔۔۔

اخر تم ایسی کیوں ہو۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور بولتا مروہ نے فون لائن کاٹ دی اور سوئچ اف کر دیا۔۔۔۔۔

سائم نے دوبارہ سے فون ملایا لیکن نمبر اف جا رہا تھا۔۔۔

اس نے فون کو بہت زور سے نیچے گرایا۔۔۔۔

اس کے بازو کی دونوں کہنیاں اس کے گھٹنوں پر تھی اور اس نے دونوں ہاتھوں سے سر کو پکڑا ہوا تھا اس کے کمرے میں اندھیرا تھا کہیں سے مدم سی روشنی ا رہی تھی۔۔۔

_________

تم ایسے کیوں کہہ رہے تھے کہ مروا ایسی ہے ویسی ہے عثمان اور سائرہ دونوں دی گری ریسٹورنٹ پہ بیٹھے ہوئے تھے۔۔..

کیونکہ وہ مکمل پاگل ہو چکی ہے۔۔

وہ سائم کی وجہ سے ڈسٹرب ہے۔۔۔سائرہ نے اس کی بات کو کاٹا۔۔

میں کل ہی سائم سے ملتا ہوں ۔۔اگر یہی وجہ ہے تو۔۔۔

ہاں عثمان میں بھی یہی سوچ رہی تھی۔۔

اسے یہ تو نہ لگے کہ مروہ اکیلی ہے۔ہم دونوں کل اس سے بات کرنے جائیں گے۔اس کا افس سب وے کی طرف ہے مروہ بتا رہی تھی بڑا سا مردان لکھا ہوگا۔۔۔۔۔

وہ دونوں کھانے میں مصروف باتیں کر رہے تھے ۔۔

________

تمہاری مدر

اگلے مہینے ا رہی ہے نا تو ہم تمہاری اور سائم کی اگینجمنٹ رکھ لیں گے۔ارم کے ہاتھ میں کافی تھی۔۔۔۔۔۔

کیا سچی۔۔۔

مہروش نے بہت اونچی اواز سے پوچھا۔اور ارم اور ہارون کو دیکھنے لگی۔۔۔۔

ہارون ان دونوں کو دیکھے جا رہا تھا اج سائم ابھی تک اٹھا نہیں تھا۔۔۔۔۔

کیا تم نے سائم کی رضامندی پوچھی۔ہارون کے ہاتھ میں بھی کافی تھی۔وہ چیر کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔۔۔۔

کیا سائم کی زندگی میں کوئی لڑکی ہے نہیں نا تو انکار کی کوئی وجہ ہی نہیں بنتی۔۔۔

اور ویسے بھی وہ میرا بیٹا ہے میں اسے اچھے سے جانتی ہوں ارم نے مہروش کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔۔۔

مہروش بھی خوشی سے انہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔