Sheh Rug by Aneeta NovelR50466 Shah Rung Episode 22
Rate this Novel
Shah Rung Episode 22
Shah Rung by Aneeta
جی موم ڈیڈ یہ کچھ دن یہیں رہیں گی۔مروہ اور سائرہ کھڑی ان کے ری ایکشن دیکھ رہی تھی مہر وش بھی اپنی سیٹ سے اٹھ گئی تھی۔
کیا مطلب بیٹا۔ارم نے مشکل سے الفاظ جوڑے تھے۔وہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی۔کیونکہ اس نے مروہ کو ایکسیپٹ کرنے کی ایکٹنگ پہلے ہی کی تھی۔
موم مطلب کوئی نہیں یہیں رہیں گی۔سائم اب کھانے کی ٹیبل پر بیٹھ گیا تھا۔اور مروا اور سائرہ کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔دادا جان یہ مروہ ہے۔وہ پہلے ہی فون پر مروہ کے بارے میں دادہ جان کو بتا چکا تھا۔مروہ نے جھک کر سلام کیا۔اور سائرہ نے بھی۔وہ دونوں ایک تو بہت تھکی ہوئی تھی۔دوسرا ارم اور مہروش کا موڈ دیکھ کر انہیں اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
بیٹا اسے اپنا ہی گھر سمجھو بیٹھ جاؤ۔ہارون خود بھی بیٹھا اور انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
بیٹھ جاؤ۔۔۔سائم نے پھر سے اشارہ کیا۔تو دونوں بیٹھ گئی۔
مجھے بتائیں بغیر تم کیسے جا سکتی ہو۔فلیٹ کو خالی دیکھ کر علی کو اندازہ ہو گیا تھا۔وہ افس سوٹ پہنے فلیٹ کے ہال میں کھڑا تھا۔اس نے ٹیبل کو زور سے ہٹ کیا۔میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔یہ بہت مہنگا پڑے گا سائم مردان تمہیں۔وہ تیز تیز قدم اٹھاتا باہر کو ایا۔۔۔
دادا جان بہت جلد میں اپ کو اپنے ساتھ لے جاؤں گی۔یا پھر مروہ کو بولوں گی اپ کو وہاں بلا لیں۔بس اب اور نہیں دیکھ سکتی میں اپ کو ایسے۔علیزے گوند پہنے ان کے پاس بیٹھی تھی۔وہ ابھی ابھی ہی ائی تھی۔
بیٹا میں بالکل ٹھیک ہوں۔دادا جان جو چڑپائی پہ ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔نے علیزے کے سر پہ ہاتھ رکھا۔تم دونوں بہنیں بیکار کی فکر کرتی ہو۔
اب اس عمر میں یہ بیماریاں تو لگی رہتی ہیں۔
اپ جتنے ٹھیک ہو مجھے نظر ارہا ہے۔بس میں کچھ نہیں سننے والی۔بس بہت ہو ۔وہ کافی دیر تک دادہ جان کے پاس بیٹھی رہی۔
سائرہ سائم کے گھر والوں کو بالکل بھی اچھا نہیں لگا۔پتہ نہیں وہ میرے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گے۔وہ دونوں ایک کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی۔جو ہیلپر نے تھوڑی دیر پہلے انہیں دیا تھا۔شاید انہیں اسی کمرے میں رہنا تھا۔
دیکھو انہیں اچھا لگے یا برا لگے۔ہمیں اس سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ہماری زندگی میں جتنے مسئلے ہیں ان کے بیٹے کی وجہ سے ہیں۔تو اس میں اب ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے۔سائرہ نے اپنا فیصلہ سنایا اور اپنے کپڑے بیگ سے نکالنے لگی۔
تم پاگل تو نہیں ہو گئی۔ہم یہاں سے جا رہے ہیں۔اس نے سائرہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
کوئی کہیں نہیں جا رہا مروا۔سائم نے کمرے میں داخل ہوتے ہی کہا۔اور اس نے ان دونوں کی باتیں سن لی تھی۔
اور یہاں کسی کو برا نہیں لگا تمہارے انے سے۔سائم نے کمرے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔
کیا تم دونوں ایک ہی روم میں رہو گی۔
جی ہاں۔۔۔۔دونوں یک زبان ہو کر بولی تھی۔اور اس لفظ پر کافی زور لگایا گیا تھا۔
اوکے۔۔۔۔۔۔
سائم نے کپڑے چینج کیے تھے۔اب اس نے ہلکی سی شرٹ پہنی تھی۔اور نیچے جینز۔۔
اس نے ایک نظر مروہ کو دیکھا اور پھر باہر اگیا۔
اب اپ کیا کریں گی۔وہ تو شادی سے پہلے ہی اپ کے گھر اگئی۔مہروش اس ٹائم مروہ سے بہت جیلس فیل کر رہی تھی۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے ہاتھ سے پکڑ کر باہر نکالیں۔۔
تم جیسا سوچ رہی ہو مہروش میں ایسا کچھ نہیں ہونے دوں گی۔
میں سوچ نہیں رہی بالکل ایسا ہی ہونے والا ہے۔اپ بس تماشہ دیکھیں۔
تماشہ تو ہم دیکھیں گے لیکن اپنا نہیں۔اس مروہ الیاس کا۔یہ کہتے ہوئے ارم باہر چلی گئی۔
دادا جان میں نے کتنا مس کیا اپ کو حبیب میاں صحن میں بیٹھے ہوئے تھے۔اس سے پہلے وہ کتاب پڑھ رہے تھے۔ہر سائم کے انے کے بعد انہوں نے کتاب رکھ دی تھی۔
اب اپ کو جلدی نہیں جانے دوں گا میں۔۔
میرے جگر کے ٹکڑے میں نہیں جاؤں گا۔تمہاری شادی تک تو رکوں گا۔انہوں نے ہنستے ہوئے یہ بات کہی تھی۔جبکہ سائم خاموش ہو گیا تھا۔اس کی خاموشی دیکھ کر حبیب میاں اس کے پاس ا کر بیٹھے ۔
کیا کوئی بات ہے بیٹا۔۔
نہیں بات تو کوئی نہیں۔بس شاید میں اس کے دل کی بات نہیں جان پا رہا۔مجھے سمجھ نہیں ارہی ہے مجھے کیا کرنا چاہیے۔میں اسے بتانا چاہتا ہوں۔کہ میں اس سے کتنی محبت کرتا ہوں۔اس کے بغیر میں نے کیسے دن گزارے پر۔۔
بیٹا یہ جو محبت ہوتی ہے نا۔اس سے زیادہ دیر تک چھپایا نہیں کرتے۔محبت ایک بہت خوبصورت احساس ہے۔اور اگر اپ کی محبت میں شدت ہوتی ہے۔تو اگلا نہ چاہتے ہوئے بھی اپ کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔انہوں نے ہاتھ سائم کے کندھے پر رکھا۔اور اسے ہلکی سی تھپکی دی۔
دوسری طرف علی مسلسل مروہ اور سائم کی تلاش میں تھا۔لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ وینکوور میں ہے۔
دن کی روشنی اندھیرے میں ڈل گئی تھی۔سردی نے بھی زور پکڑ لیا تھا۔
کیا میں اندر ا جاؤں۔سائم نے دروازہ نوک کیا۔مروہ سوفے پہ بیٹھی تھی ایک دم سے اٹھی۔سارا کہیں باہر تھی ۔مروہ سائم کو دیکھ کر ڈر گئی تھی۔
مجھے بات کرنی ہے ۔سائم نے اس کی حالت کا معائنہ لیتے ہوئے کہا۔
ب ۔۔بات کون سی بات وہ الفاظوں کو بہت مشکل سے جوڑ پائی تھی۔
بہت سی باتیں ہوتی ہیں مروہ کیا ہم پہلی دفعہ بات کر رہے ہیں۔وہ مروہ کے بالکل پاس ا کے بیٹھا تھا۔تم اتنی کنفیوز کیوں ہو جاتی ہو۔اس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔
میں کیوں ہوں گی کنفیوز۔بس میں تم سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔
اور ابھی جو کچھ ہو گیا ہے اس کے بعد بھی بات کرنا رہتا ہے۔اور علی کا کیا سا ئم اب مروہ میں تھوڑی ہمت ائی تھی۔اور اس نے سوال جواب شروع کیے ۔
میں یہاں اس کی بات نہیں کرنے ایا کیا ہم دونوں اپنے بارے میں بات نہیں کر سکتےوہ تھوڑا اس کے قریب ہوا۔تو مروہ صوفے سے اٹھ گئی تھی۔
مجھے تمہاری جھوٹی کہانیوں میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے۔مروا نے اپنا رخ دوسری طرف کر لیا۔
مروہ ۔۔۔۔
میں مانتا ہوں میری غلطی ہے۔اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کیا۔مجھے تم سے ایسے بے خبر نہیں ہونا چاہیے تھا۔لیکن مجھے لگا کہ شاید تم میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔تو میں زبردستی تھوڑی کر سکتا تھا۔سائم ابھی بات کر ہی رہا تھا کہ مروہ اس سے دور ہو گئے تھی۔
اُس وقت تمہیں لگتا تھا اور اب جب حقیقت ہے تو تم زبردستی کر رہے ہو۔
یہ حقیقت نہیں ہے مروہ۔۔ نہ ہی تو میری محبت اتنی کمزور ہے۔اور نہ ہی تمہاری۔
پلیز سائم محبت کے ڈرامے اب بند کر دو۔اور میری زندگی میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
مجھے گنجائش بنانا اتی ہے۔تم ہاں تو کرو۔۔
ملاقات کا ٹائم ختم ہو گیا۔سائرہ کمرے میں داخل ہوتے ہی بولی۔مسٹر سائم مردان۔۔
تو کیا مجھے تمہاری اجازت لینی پڑے گی۔سائم نے اب قدم اس کی طرف بڑھائے۔اس کی انکھوں میں غصے کی لہر تھی۔
مجھے مروہ مت سمجھنا۔سائری دو قدم اگے ائی۔۔
پلیز بس کر دو اب۔اس سے پہلے کہ دونوں میں کوئی جھگڑا ہوتا۔مروہ نے دونوں کو روکتے ہوئے کہا۔میں تنگ ا گئی ہوں ان سب سے کیا دو گری بندہ چین کی نیند بھی نہیں سو سکتا۔یہ کہتے ہوئے مروہ باہر چلی گئی تھی۔
مروہ ڈر ڈر کر قدم اٹھا رہی تھی۔کہ کہیں ارم سے نہ ٹکر ہو جائے۔یا پھر مہروش سے وہ بھی دو قدم اگے ہی بڑھی تھی کہ پیچھے سے اواز ائی۔
مروہ بیٹا۔۔۔
یہ حبیب میاں کی اواز تھی۔جسے سنتے ہی مروہ چونکی تھی۔پر حبیب میاں کو اگے دیکھ کر وہ تھوڑا ریلیکس ہوئی تھی۔
جی۔۔یہ کہتے ہوئے مروہ ان کے پاس ائی۔کیا کوئی کام ہے اپ کو۔
نہیں بیٹا یہاں بیٹھ جاؤ۔یہ سنتے ہی مروا وہاں بیٹھ گئی تھی۔مروہ تھوڑا سا کنفیوز تھی۔ایک جگہ بھی نئی تھی اور لوگ بھی۔
بیٹا انسان کچھ بھی سوچ لے ۔لیکن ہردنا اگلے دن سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔انسان بس سوچ سکتا ہے۔ہماری زندگیوں پر اللہ کا بھی حق ہوتا ہے۔اور کچھ فیصلے اللہ کے ہوتے ہیں۔اور اللہ کے فیصلے سب سے بہترین ہوتے ہیں۔جب سب کچھ سمجھ سے باہر ہو جائے تو خود کو اللہ کے حوالے کر دینا چاہیے۔وہ سب معاملات دیکھ لیتا ہے۔اور پھر اس کا دیکھا زمانہ دیکھتا ہے۔
مروہ کافی دیر ان کے پاس بیٹھی رہی۔مروہ کی ان سے بہت اچھی دوستی ہو گئی تھی۔اور حبیب میاں بھی مروہ اور سائم کے درمیان جو بھی تھا سب جانتے تھے۔لیکن انہوں نے ظاہر نہیں کیا تھا۔
کیا مروہ کے دل میں سچ میں اب کچھ نہیں ہے۔سائم گہری سوچ میں گم تھا۔اس نے فروا کی ڈائری کو اپنے سینے پہ رکھا ہوا تھا۔اس کا غصہ جائز ہے۔میں بھی تو اس سے باخبر رہا۔لیکن دل کا حال تو اللہ جانتا ہے۔اے میرے مولا جیسے تم نے میرے دل میں محبت ڈالی ہے۔جیسے تم نے مجھے بے چین کیا ہے۔ایسے ہی اس کے دل میں ڈال دے۔مجھ میں اب اسے کھونے کی ہمت نہیں رہی۔سائم کی انکھیں ریڈ ہو چکی تھی۔وہ بھی سوچ رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔
نوروز۔۔
وہ دروازے کی طرف دیکھتے ہی اٹھا۔نوروز نے بھی قدم اگے بڑھائے دونوں نے ایک دوسرے کو گلے سے لگایا۔تو کیسا رہا تیرا یو اے ائی کا وزٹ۔
اچھا تھا بس تمہیں مس کیا۔۔دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر بہت خوش تھے۔ویسے تو سائم کے بہت سے دوست تھے۔پرنورو سے یاری کچھ الگ ہی تھی۔
وہ دونوں ابھی بیٹھے ہی تھے کہ مروہ دروازے پر ائی وہ نوک کرنے ہی والی تھی۔کے سائم نے اسے اندر انے کا کہا۔
نوروز مروہ۔مروہ یہ میرا دوست ہے نور وز۔
کیا کیا۔۔یہ کب ہوا اور میرے بغیر ہی۔سائم اور مروہ دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔
سوری بابھی میں نے شادی مس کر دی۔مروہ نے حیرانگی سے اسے دیکھا اور پھر سائم کو دیکھنے لگی۔۔سائم نے مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کی۔
او نہیں یار ایسا کچھ نہیں ہے۔۔مروہ کچھ بولے بغیر باہر چلی گئی۔
جب کہ سائم اس سوچ میں تھا کہ وہ ائی کیوں تھی۔
تو ایک منٹ بیٹھا ایا۔سائم تیزی سے قدم اٹھاتا باہر گیا۔
کوئی کام تھا مروہ۔اس نے مروہ کا راستہ روکتے ہوئے پوچھا۔
نہیں مجھے کوئی کام نہیں ہے۔اور تم نے ہر جگہ یہ کیا بتا رکھا ہے۔تمہاری کوئی عزت نہیں ہوگی لیکن میری بہت عزت ہے۔مروہ کافی سرد لہجے میں بات کر رہی تھی۔
وہ سمجھ چکا تھا کہ یہ ری ایکشن کس وجہ سے ہے۔
مروہ وہ نہیں جانتا تھا۔۔وہ اؤٹ اف کنٹری تھا۔مروہ کچھ کہے بغیر ہی وہاں سے چلی گئی۔سائم نے اسے روکنا چاہا پر پھر نوروز کے خیال سے کمرے میں چلا گیا۔
سائرہ اب اٹھ بھی جاؤ۔مروہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی تھی۔جب کہ سائرہ ارام سے سو رہی تھی۔وہ پہلے بھی اسے ایک دو دفعہ اٹھا چکی تھی۔ابھی صبح کا سورج نکلا ہی تھا کے مروا نے تیاری پکڑ لی۔
اتنی صبح صبح کہاں جانا ہے۔سائرہ نے مروہ کو حیرانگی سے کہا۔اس نے بازو کے سہارے سے سر کو اوپر کیا تھا۔اور جمائیاں لیتے ہوئے اس سے پوچھ رہی تھی۔
اس کا کیا مطلب ہے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں ۔مروہ اب اس کے پاس ا کر بیڈ پر بیٹھی تھی۔
کیا ساری زندگی یہیں رہنے کا ارادہ ہے۔
ہم دونوں جاب ڈھونڈنے جا رہی ہیں۔اور جب جاب مل جائے گی تو جگہ بھی مل جائی گی۔یہاں پہ ایک نیو پاکستانی بوتیک اوپن ہوئی ہے۔مجھے زوبیہ کی کال ائی تھی۔وہیں پہ جا رہے ہیں ہم۔
تم نے جانا ہے تو جاؤ میں اج نہیں جا رہی۔ایک دن تو ریسٹ کا ہونا چاہیے نا۔یہ کہتے ہی سائرہ دوبارہ سے سو گئی تھی۔
تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا۔مروہ اٹھی بیگ اٹھایا اور باہر کی طرف چل پڑی۔گھر میں شاید ابھی سبھی سو رہے تھے۔حبیب میاں اٹھے تھے جو گارڈن میں پودوں کو پانی دے رہے تھے۔مروہ کو دیکھتے ہی انہوں نے اپنا رخ اس کی طرف کیا۔
السلام علیکم۔۔۔
وعلیکم السلام بیٹا صبح صبح کہاں جا رہی ہو۔مروا نے انہیں دیکھتے ہی سلام کیا۔
میں جاب کے لیے جا رہی ہوں۔اپ میرے لیے دعا کرنا۔
انشاء اللہ بیٹا اللہ ضرور کامیاب کرے گا۔انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔بیٹا ناشتہ تو کر کے جاؤ۔میں چائے بنواتا ہوں
نہیں نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے ۔مجھے پہلے ہی دیر ہو رہی ہے۔اللہ حافظ اپنا خیال رکھیے گا۔یہ کہتے ہی مروہ وہاں سے چلی گئی۔
دن کے دس بج چکے تھے۔سائرہ ابھی تک اپنے کمرے میں ہی بیٹھی ہوئی تھی۔کہ ارم کمرے میں داخل ہوئی۔جسے دیکھتے ہی سارا اٹھ گئی تھی۔
تمہاری دوسری دوست کدھر ہے۔ارم نے الجھے ہوئے لہجے سے پوچھا ۔
وہ جاب کے لیے گئی ہے۔سارا نے کنفیڈنٹلی جواب دیا۔کیوں کیا ہوا۔
تو کب تک یہاں رہنے کے ارادے ہیں۔ارم ابھی بول ہی رہی تھی کہ سائم کمرے میں داخل ہوا۔
مجھے لگتا ہے میں اپ کو بتا چکا ہوں کہ یہ کب تک یہاں رہیں گی۔تو دوبارہ سے پوچھنے کا مقصد۔سائم نے اپنا رخ ارم کی طرف کیا۔اس نے افس سوٹ پہنا ہوا تھا۔
کیونکہ یہ میرا گھر ہے میں پوچھ سکتی ہوں۔ارم نے سائم کی طرف غصے سے دیکھا تھا۔یہ ہوسٹل نہیں ہے کہ کوئی بھی ا کے رہنے لگے۔یہ کہتے ہوئے وہ باہر چلی گئی تھی۔
تو ہمیں بھی کوئی شوق نہیں ہے ۔یہ سب اپ کے بیٹے کی وجہ سے ہوا ہے۔سائرہ نے اسی کی اواز میں جواب دیا تھا۔
تم کہیں چپ نہیں رہ سکتی۔سائم نے سائرہ کو ترشی نگاہ سے دیکھا۔مروہ کو بولو ناشتے کی ٹیبل پر ائے۔سائم نے نظریں اگے پیچھے گھمائی تھی۔اور اسے لگا تھا شاید مروہ واش روم میں ہے۔
وہ تو جاب کے لیے چلی گئی۔سائم جو باہر جانے لگا تھا۔اس کی بات سنتے ہی رک گیا۔
کے۔کیا کہاں جاب کے لیے۔وہ غصے سے اگے بڑھا۔کب گئی ہے اور کہاں گئی ہے میں کچھ پوچھ رہا ہوں۔
وہ صبح سے گئی ہے اور کہاں گئی ہے یہ مجھے نہیں پتہ۔سائرہ ایک سائیڈ پہ بیٹھ گئی تھی۔سائم نے کچھ سوچا اور تیزی سے باہر چلا گیا۔مہروش جو ابھی اپنے کمرے سے نکلی ہی تھی سائم کو ایسے جاتا دیکھ وہیں کھڑی ہو گئی۔وہ بہت غصے سے باہر گیا تھا۔
یہ نمبر ونکور میں ایکٹو ہے سر۔
وینکوور۔۔۔۔۔۔علی یہ کہتے اپنی سیٹ سے اٹھا تھا۔اس نے مروہ کے نمبر کی ڈیٹیل نکلوائی تھی۔اس کی ایگزیکٹ لوکیشن مجھے فارورڈ کرو۔یہ کہتے علی وہاں سے باہر چلا گیا تھا۔
میں نے پوچھا کس کی مرضی سے ائی ہوں۔سائم بالکل مروہ کے مقابل کھڑا تھا۔
میں اپنی مرضی سے ائی ہوں۔تمہیں مسئلہ کیا ہے۔اور میں یہی جاب کرنے والی ہوں۔وہ دونوں ایک بوتیک کے باہر کھڑے تھے۔سائم نے بنا کچھ بولے اس کا ہاتھ پکڑا اور گاڑی کی طرف لے گیا۔
ٹھیک ہے جاب ہی کرنی ہے نا تو میرے افس میں چلو۔
میں تمہارے افس میں جاب نہیں کرنے والی۔ہاتھ چھوڑو ورنہ میں شور مچا دوں گی۔
چلو مچاؤ۔۔سائم نے اس کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے کہا۔
چلو جلدی کرو ٹائم نہیں ہے۔۔سائم اپناہاتھ تھوڑی کے نیچے رکھا اسے دیکھ رہا تھا۔جب کہ مروہ چپ چاپ اس کے سامنے کھڑی تھی۔
اب بنا کچھ بولے گاڑی میں بیٹھو۔سائم نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔مروہ بھی چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ گئی۔تھوڑی دیر میں وہ افس پہنچ چکے تھے۔
بریک فاسٹ۔سائم نےسامنے ایک لڑکے کو اشارہ کیا تھا۔جواسے سلام کرنے کے لیے اٹھا تھا۔وہ بھی اس کے اشارے پہ عمل کرتا۔کچن کی طرف گیا تھا۔مروہ چپ چاپ اس کے پیچھے ا رہی تھی۔اور سائم نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔
مجھے کچھ نہیں کھانا۔افس میں پہنچتے ہی مروا نے اپنا ہاتھ زور سے پیچھے کیا اور ایک کونے میں جا کے بیٹھ گئی۔جہاں ایک نرم صوفہ پڑا ہوا تھا۔جو کہ افس ٹیبل سے تھوڑا دور تھا۔
اوکے مرضی ہے تمہاری۔پھر سارا دن بھوکے پیٹ کام کرنا پڑے گا۔سائم نے افس چیئر پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
میں یہاں کوئی کام نہیں کرنے والی۔مروہ نے اپنا رخ دوسری طرف کر لیا۔شاید وہ سائم کو دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔جبکہ سائم مسلسل اسے دیکھ رہا تھا۔اس کی بات سنتے ہی وہ اپنی چیئر سے اٹھا تھا۔مروہ کو بھی اس کے اٹھنے کی اواز ائی تو اس کی طرف مخاطب ہوئی۔وہ قدم بقدم اس کے پاس ا رہا تھا۔مروہ کے ہاتھ پاؤں پھر سے کانپنا شروع ہو گئے تھے۔
تمہیں ارام سے کوئی بات سمجھ کیوں نہیں اتی۔سائم اس کے پاس بیٹھا ہی تھا کہ مروہ نے تھوڑا دور ہونا چاہا۔لیکن اس سے پہلے سائم اس کا ہاتھ پکڑ چکا تھا۔
دیکھو۔مروہ تھوڑی چُپ ہوئی اور اس کی طرف دیکھنے لگا۔وہ بُری طرح سے کانپ رہی تھی ۔
ہاں بولو۔۔سائم نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔اور اس کے تھوڑا اور قریب ہوا۔
سر بریک فاسٹ۔۔دروازہ کھلتے ہی ایک لڑکی جس نے ہاتھ میں ایک ٹرے اٹھائی ہوئی تھی۔سائم کو دیکھ کر پزل ہوئی۔سائم بھی جلدی سے مروا سے تھوڑا دور ہوا۔
ہاں لے اؤ ادھر۔سائم نے ایک نظر مروہ کو دیکھا۔وہ بہت نروس تھی۔
چلو اب کھانا شروع کرو۔سائم نے ایک املیٹ کی پلیٹ اس کی طرف بڑھائی۔اور اس کے سامنے رکھی۔لیکن وہ سٹل ویسے ہی بیٹھی ہوئی تھی۔
کیا کھلانا بھی زبردستی پڑے گا۔سائم نے اپنا کوٹ اتار کر سائیڈ پہ رکھا۔اور ویسٹ کے اوپر سے ٹائی کو تھوڑا نیچے کیا۔اس کی بات سنتے ہی مروہ نے کھانا شروع کر دیا تھا۔جس پہ سائم نے ہلکی سے سمائل دی تھی۔سائم کھا کم رہا تھا اور اسے دیکھ زیادہ شاید اسے دیکھتے دیکھتے ہی اس کا پیٹ بڑھ گیا تھا۔
کیا مروہ اور سائم کا پیچ اپ ہو گیا ہے۔مہروش نے تنزیہ انداز سے پوچھا تھا۔جو سارہ کے بالکل پاس بیٹھی ہوئی تھی۔
تو ان کا بریک اپ کب ہوا تھا۔سائرہ نے بھی ہنستے ہوئے جواب دیا۔سائم تو مروا سے اتنی محبت کرتا ہے کہ میں کیا بتاؤں۔اس کا پورا ارادہ تھا مہروش کو جلانے کا۔وہ ہمیں زبردستی یہاں لے کر ایا۔اللہ ان کو کسی کی نظر نہ لگائے۔سائرہ نے یہ بات اس کے کان کے قریب جا کے کہی۔مہروش نے اپنے غصے پہ بڑی مشکل سے کنٹرول کیا تھا۔
میں سائم کو بچپن سے جانتی ہوں۔وہ ایسا ہی ہے دل پھینک قسم کا۔
اچھا مجھے تو نہیں لگتا کہ وہ ایسا ہے۔سائرہ نے اس کی بات میں دلچسپی دکھائی۔
اگر وہ دل پھینک ہوتا۔تو تمہیں لفٹ ضرور دیتا۔یہ کہتے ہی سارا وہاں سے جانے لگی تھی۔کہ مہروش کی زوردار اواز نے اسے روک لیا۔
اس بات کا کیا مطلب ہے ۔اچھا ہوگا اپنی اوقات میں رہو۔تم جیسی نا ہمارے گھروں میں ویٹرز کا کام کرتی ہوں۔مہروش ابھی بول ہی رہی تھی۔کے پیچھے سے ایک زوردار اواز ائی۔
مہروش۔جو کہ ہارون کی اواز تھی۔گھر ائے مہمانوں سے ایسے بات کرتے ہیں۔وہ قدم اٹھا کے ان کے پاس ایا تھا۔کیا یہی تربیت ہے تمہاری۔
انکل اپ نے اس کی باتیں نہیں سنی۔مہروش نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا۔
بس اب چپ کر جاؤ۔سارا بالکل خاموش تھی۔سائرہ بیٹا اپ اپنے کمرے میں جاؤ اگر کسی چیز کی ضرورت ہو۔تو ہیلپر سے وہ اپنے کمرے کی طرف چلی گئی تھی۔اور مہروش اس سے پہلے ہی جا چکی تھی۔
یہ دونوں خود کو کیا سمجھتی ہیں۔اس نے کمرے میں اتے ہی اپنا موبائل زور سے بیڈ پہ گرایا تھا۔اس نے گرین کلر کا سویٹر اور نیچے جینز پہنی ہوئی تھی۔ان دونوں کو میں یہاں سے نکلوا کے دم لوں گی۔وہ اپنے کمرے میں تیز تیز قدم اٹھا رہی تھی۔ارم گھر پہ موجود نہیں تھی ورنہ یقینا وہ اسی کے پاس جاتی۔
وشل مروہ اج سے یہی کام کریں گی۔اسے کام سمجھا دو۔مروہ وشل کے ساتھ جاؤ۔۔
میں کہیں نہیں جا رہی۔مروہ نے ایک نظر وچل کو دیکھا۔اور دوبارہ سے ریلیکس ہو کر بیٹھ گئی۔
تو کیا سارا دن میرے سامنے بیٹھنے کا ارادہ ہے۔سائم نے ہلکے سی مسکراہٹ کے ساتھ مروہ کو اوپر سے لے کے نیچے تک دیکھا۔مروہ کھڑی ہوئی اس کا وشل کے ساتھ چلنے کا ارادہ تھا۔سائم نے اپنی ہنسی کو مشکل سے کنٹرول کیا تھا۔
کیا اپ بھی پاکستان سے ہو۔وشل نے مروہ سے سوال کیا۔وہ انگلش میں بات کرتی تھی۔اس کا تعلق اذربائجان سے تھا۔
ہاں میں پاکستان سے ہوں۔مروہ نے ہاں میں سر ہلایا۔وہ دونوں ویشل کے افس میں کھڑی تھی۔وشل کو اندازہ تو ہو ہی گیا تھا۔کہ مروہ کچھ سپیشل ہے۔
ہاں تو کام سمجھ اگیا۔سائم مروہ کے بالکل پاس ا کے رکا تھا۔وہ ہلکا سا ٹیبل پر بیٹھا تھا۔جیسے نہ بیٹھنے کے برابر۔اور اس کی اچانک انے سے مروہ چونک گئی تھی۔جب کہ ویشل نے باہر جانا مناسب سمجھا۔
کیا کروں اب دل نہیں لگتا تمہارے بغیر۔مروہ کو حیرانگی سے دیکھتے ہوئے سائم نے کہا۔مجھے تو سائری کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔جو اس نے تمہیں میرے اتنا قریب کر دیا۔وہ تھوڑا سا اگے جھکا تھا۔مروہ بالکل خاموش اسے دیکھ رہی تھی۔
میں نے کہا مجھے یہاں جاب نہیں کرنی۔مروا نے سائم کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔اس کا لہجہ تھوڑا سرد تھا۔
تم ایک ہی بات کر کر کے تھک نہیں جاتی۔میں نے جاب نہیں کرنی میں نے کھانا نہیں کھانا۔میں تمہارے ساتھ نہیں جانا۔بس نہیں کہ سوا اور کوئی اپشن نہیں ہے۔تمہارے پاس۔
کیا تم نے کوئی اپشن چھوڑا ہے۔مروہ نے الٹا اس سے ہی سوال کیا۔تم تو مجھ پر حکمرانی کر رہے ہو۔مجھے کمزور سمجھ کر۔
مروہ تم پر حکمرانی کرنے کا میں سوچ بھی نہیں سکتا۔لیکن ہاں میرے دل پہ تمہاری حکومت ہے۔وہ قدم بقدم اس کے پاس ارہا تھا۔تمہارے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔مروہ کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
یہ وہی افس ہے جہاں سے تم نے مجھے دفع کیا تھا۔مروا نے اس کے سینے پہ ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کیا۔
اس سے پہلے کہ سائم کچھ بولتا ہارون افس میں داخل ہوئے۔سائم نے انہیں سلام کیا اور مروہ نے بی۔
مروہ بیٹا اپ یہاں۔ہارون نے سلام کے بعد حیرانگی سے پوچھا۔
جی ڈیڈ اج سے یہ یہی کام کرے گی۔مروہ کچھ بولنے ہی والی تھی کہ سائم نے جواب دیا۔اور مروہ کو چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
سر یہ فائلز اپ نے منگوائے تھی۔وشل نے کچھ فائلز ہارون کو دی۔ہاں سائم بیٹا ان پہ سائن کر دینا۔مروہ بیٹی اسے اپنا ہی افس سمجھنا۔
ڈیڈ اسی کا تو ہے۔سائم مروہ کے تھوڑے سے قریب ہو کر اس کے کان میں بولا۔اور مروہ کو اب شاید سائم کی سمجھ اگئی تھی۔کہ وہ کہیں بھی کچھ بھی بول سکتا ہے۔اس نے کوئی ری ایکشن نہیں دیا تھا۔بلکہ چپ چاپ وہاں سے چلی گئی۔
بیٹا میں نے سنا ہے مروا لوگ یہاں سے چلی گئی ہیں۔کیا ہوا۔بیٹا تم کچھ تو مجھ سے چھپا رہے ہو۔جو بات ہے بتاؤ۔ایمن خود کو شال میں لپیٹے۔علی کے پاس ائی۔
ماما وہ کام کے سلسلے میں گئی ہے۔اپ فکر مت کریں اپ کی بہو کو بہت جلدی لے اؤں گا۔ا اس کی سمائل بہت خطرناک تھی۔اور اپ کی بہو مروہ کے سوا اور کوئی نہیں بن سکتی۔
ایمن ذرا سا مسکرائی۔ہاں وہ لڑکی میرے دل کو بہت اچھی لگتی ہے۔کیا تم نے اس سے بات کر لی تھی۔اس بات سے علی کو دھچکا لگا۔
ج۔جی کر لی تھی میں نے یہ کہتے وہ وہاں سے چلا گیا۔جبکہ ایمن سمجھ چکی تھی کہ کچھ تو گڑبڑ ہے۔
اف اللہ یہ سارا کہاں چلی گئی۔۔مروہ سارہ کو پورے گھر میں ڈھونڈ چکی تھی۔اسے افس سے ائے بھی تقریبا دو گھنٹے ہو چکے تھے۔لیکن سارا کا کوئی اتا پتہ نہیں تھا۔وہ بیڈ سے اٹھنے ہی والی تھی کہ سائرہ کی امد ہوئی۔
کہاں تھی تم۔مروہ نے اسے دیکھتے ہی حیرانگی سے پوچھا۔
میں پہلے جس ریسٹورنٹ میں جاب کرتی تھی وہاں سے فون ایا تھا۔دیکھ لو اپنی بہن کی عزت اس نے کوٹ کے کالر کو اچھالتے ہوئے کہا۔اور مروہ کے پاس بیٹھ گئی۔
میں نے بھی کہا کہ اس بار سیلری بڑھائیں گے تو اؤں گی۔اور ساتھ ہی انہوں نے سیلری بڑھا دی۔وہ خود کو دات دیتے ہوئے اسے بتا رہی تھی۔
تم بتاؤ۔جاب تو تمہیں ملی نہیں ہوگی کیونکہ سائم نے تمہیں جانے نہیں دیا ہوگا۔
