266K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Rung Episode 19

Shah Rung by Aneeta

اگر تمہاری محبت جھوٹی نہیں تھی تو وہاں سے ایسے کیوں ائی اور یہاں ا کے یہ سب وہ بولتے بولتے چپ ہو گیا تھا۔اس نے اپنے ہاتھ کو زور سے گاڑی پہ مارا۔

یہ سب کیا مروہ نے حیرانگی سے پوچھا۔

وہ لڑکا کون تھا۔سائم ابھی بولنے ہی والا تھا۔

اور مہروش تو تمہاری صرف دوست تھی۔اتنی اچھی دوستی کے ہر جگہ ساتھ ساتھ گھومتے ہو۔اور میرے سامنے تو ابھی ایسی ایکٹنگ کر رہے ہو۔جیسے بہت ہی اذیت اٹھائی ہو میرے بغیر جبکہ سائم مردان ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔میں تمہاری حقیقت سے واقف ہو چکی ہوں۔

میں نے تم سے پوچھا کہ وہ لڑکا کون ہے۔سائم نے اس کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔

وہ جو بھی ہے تمہیں اس سے کیا مسئلہ ہے۔اور تم کوئی حق نہیں رکھتے مجھ سے پوچھنے کا۔

تو تم بھی حق نہیں رکھتی۔اس نے انکھوں کو کھولتے ہوئے اسے دیکھا۔اس کی انکھوں میں غصے کے سوا اور کچھ بھی نہیں تھا۔

اور اور تمہارے جیسی لڑکیوں کا شاید یہی کام ہوتا ہے۔اس نے بازو سے پکڑ کر اسے پاس کیا تھا۔

اپنی حد میں رہو تو بہتر ہوگا۔مروہ اپنے بازو کو اس کے ہاتھوں سے کھینچ رہی تھی۔

مروہ کو اب سب گھومتا ہوا نظر ا رہا تھا۔ایکسیڈنٹ کی وجہ سے اس کے دماغ پہ گہری ضرب لگی تھی۔جس کا درد اسے کبھی کبھی شدت سے ہوتا تھا۔اس نے دوسرا ہاتھ بھی سائم کے بازو پہ رکھا۔جسے دیکھ کر سائم حیران تھا۔اس نے ایک اس کےبازو کو دیکھا۔اور پھر مروہ کو دیکھنے لگا۔

کیا ہوا تم ٹھیک ہو نا سائم حیرانگی سے اسے دیکھ رہا تھا مروہ اگلے ہی لمحے نیچے گرنے والی تھی۔کہ سائم نے اسے تھام لیا۔

کیا ہوا ہے تم ٹھیک ہو نا سائم کے ماتھے پہ پریشانی کے بل تھے۔مروہ سائم نے اسے اٹھانے کی کوشش کی۔پر مروا اپنی انکھیں بند کر چکی تھی۔کیا ہو گیا ہے تمہیں سائم کا دل تیزی سے درک رہا تھا۔اس نے اگلے ہی لمحے اسے گاڑی میں بٹھایا۔

یہ لڑکی ابھی تک نہیں ائی سارا جو کچن میں کھڑی چیز کا پیکٹ کھول رہی تھی۔نے اسے سائیڈ پہ رکھا اور اپنا موبائل اٹھایا۔وہ مروہ کا نمبر ڈائل کرنے ہی والی تھی۔کہ ایک کسٹمر اگیا۔اس نے موبائل کو سائیڈ پہ رکھا۔اور اس کے ارڈر کی طرف ہو گئی۔۔

اب کیسی ہے وہ سائم ہاسپٹل کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ڈاکٹر کو اتے دیکھ کر اس نے پوچھا۔اس کی انکھیں نم تھی۔اسے خود پر غصہ تھا کہ اس نے غصے سے بات کیوں کی۔

دیکھیں ابھی تو ان کی حالت بہتر ہے۔لیکن ہم پہلے بھی وان کر چکے تھے۔کہ اب ان کا دماغ پہلے کی طرح کام نہیں کرتا۔وہ اہستہ اہستہ اپنے جگہ پر ائے گا۔اب ذرا ذرا سی ٹینشن انہیں افیکٹ کرے گی۔ڈاکٹر ابھی بول ہی رہی تھی۔

میں سمجھا نہیں مروہ پہلے بھی یہاں ا چکی ہے۔اس نے پریشانی کے عالم میں پوچھا۔

جی ایکسیڈنٹ کے بعد وہ تین مہینے یہیں رہی ہیں اسی ہاسپٹل میں ان کا علاج ہوا ہے۔

ایکسیڈنٹ۔سائم نے حیرانگی سے ڈاکٹر کو دیکھا۔جو ہاتھ میں فائل لیے اس کے سامنے کھڑا تھا۔

جی ان کا کافی بھیانک ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔تین سال پہلے۔

سائم نے اپنے ہاتھ کو زور سے دبایا تھا۔اس کی انکھیں سرخ ہو گئی تھی۔

اب کوشش کریں کہ انہیں کم ٹینشن دیں۔یہ کہتے ہوئے ڈاکٹر اگے چلا گیا تھا۔جب کہ سائم زمین پر ہی بیٹھ گیا تھا۔ایک دفعہ پھر وہ غلط نکلا تھا۔اسے اپنے کیے پہ پچھتاوا تھا۔

اب کیسی ہو سائم نے اس کے ماتھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔

پلیز ہٹ جاؤ سائم میں نے اگے بھی تمہاری ہمدردیوں کی بڑی قیمت چکائی ہے۔اب میرے بس کی بات نہیں۔مروہ نے اپنا منہ دوسری طرف کر لیا تھا۔

تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا۔

اتنا سب کچھ ہو گیا مروا اب وہ اس کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔

میں نے کہا سائم جاؤ پلیز۔

مروہ علی زور سے دروازہ کھولتے اندر ایا تھا۔جسے دیکھ کر سائم حیران تھا۔

کیا ہوا ہے تمہیں۔مجھے ڈاکٹر کی کال ائی تھی۔کہ تم ہاسپٹل میں ہو۔یہ کہتے ہی علی نے ایک نظر سائم کو دیکھا۔

میں ٹھیک ہوں بس تھوڑے چکر اگئے تھے۔مروا نے اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کی۔

لیٹی رہو علی نے اگے بڑھ کے اسے پکڑنا چاہ پرسائم پہلے ہی اس کی ارادوں کو سمجھ گیا تھا۔اس نے زور سے اسے ڈھکا دیا۔

بہت ہو گیا تمہارا۔۔

یہ کیا بدتمیزی ہے اور تم کون ہو علی خود کو سنبھالتے اگے ایا۔

سائم پاگل ہو گئے ہو۔مروہ اب اٹھ کے بیٹھ گئی تھی میں نے تمہیں کہا ہے کہ یہاں سے دفع ہو جاؤ۔علی نے ایک نظر مروہ کو دیکھا اور پھر سائم کو شاید وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔

مرو ہ تم بتاؤ گی اسے یا پھر میں بتاؤں۔چلو میں ہی بتاتا ہوں۔لوگ مجھے سائم مردان کے نام سے جانتے ہیں۔اور یہ جو سامنے بیڈ پر لیتی ہے۔یہ لاوارث نہیں کہ جسے تم کہیں سے بھی ا کے پکڑ لو گے فیونسی ہے میری۔سائم نے ایک نظر مروہ کو دیکھا۔

سب جھوٹ ہے مروہ اس کی بات ختم ہوتے ساتھ ہی بولی۔

سن لیا سائم مردان تم نے اور تمہیں لگتا ہے کہ یہاں اکے تم کچھ بھی بولو گے اور میں یقین کر لوں گا۔شرافت سے یہاں سے چلے جاؤ ورنہ مجھے دوسرا طریقہ بھی اتا ہے۔

اور مجھے بس دوسرا طریقہ اتا ہے سائم نے اسے گھوڑتے ہوئے کہا۔

مروہ نے اپنا ہاتھ اب اپنے ماتھے پہ رکھ لیا تھا۔اتنے میں ڈاکٹر شور کی اواز سن کر اندر ائی۔دیکھیں میں نے پہلے بھی اپ لوگوں کو بات سمجھائی ہے۔کہ پیشنٹ کے سر پر شور نہیں کرنا۔سائم نے ایک نظر پیچھے دیکھا۔اور فورا سے مروہ کے پاس ایا۔

تم ٹھیک ہو نا اور اٹھ کیوں گئی لیٹی رہو۔

سا ئرہ بی اب ہاسپٹل ا چکی تھی۔۔

سائم میں نے کہا یہاں سے جاؤ۔پلیز جاؤ وہ زور سے چلائی تھی۔

۔سائم نے ایک نظر علی کو دیکھا اور پاس پری چیر کو زور سے ہٹ کیا۔ابھی تو میں جا رہا ہوں۔وہ بات کرتے کرتے پھر سے علی کے پاس ایا تھا۔تم مجھے دوبارہ اس کے اس پاس نظر نہ انا ورنہ تم مجھے جانتے نہیں ہو۔سائم نے ایک نظر مروہ کو دیکھا۔جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔اور پھر باہر چلا گیا۔کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی وجہ سے مروہ کی طبیعت اور بگڑے۔

علی کے کچھ بولنے سے پہلے ہی وہ باہر چلا گیا تھا۔

ایم سوری علی مروہ بولنے ہی لگی تھی۔

تم کیوں سوری بول رہی ہو۔ریلیکس اور میں اسے دیکھ لوں گا تم پریشان نہ ہونا وہ بالکل اس کے سامنے بیٹھ گیا تھا۔

سر میٹنگ سٹارٹ ہو چکی ہے ۔سائم فون کان کے ساتھ لگائے سمندر کے کنارے بیٹھا تھا۔دوسری طرف سے اواز سنتے ہی اس نے فون کو ایک کان سے دوسرے کان پہ لگایا۔

تم لوگ ہینڈل کر لو میں اج نہیں ا رہا۔

سر اس پروجیکٹ کو شروع سے اپ دیکھ رہے ہیں۔

میں نے کہا نا میں نہیں ا رہا یہ کہتے ہی سائم نے فون بند کر دیا تھا۔اور فون کو زور سے زمین پر مارا تھا۔وہ اپنا غصہ ہاتھوں سے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

تم کتنی پیاری لگ رہی ہو کاش میں بھی اس موقع پر تمہارے ساتھ ہوتی۔مروہ کی انکھ میں انسو تھے۔وہ ویڈیو کال پہ علیزے سے بات کر رہی تھی۔علیز دلہن بنی بیٹھی تھی۔

ہم سب تمہیں بہت یاد کر رہے ہیں۔دادا جان بھی ساتھ ہی بیٹھے تھے۔ان کی انکھوں میں بھی انسو تھے۔سیج سجی ہوئی تھی۔لوگ زیادہ نہیں تھے۔

اچھا ٹھیک ہے اب تم رونا بند کرو ورنہ تمہارا میک اپ خراب ہو جائے گا۔مروا نے اپنے انسو صاف کیے اور ہنستے ہوئے علیزے کو کہا۔

علیزے بھی ہلکی سی مسکرائی تھی۔

تم اتنی کمزور کیوں لگ رہی ہو مروہ علیزے نے حیرانگی سے پوچھا۔

نہیں میں تو بالکل ٹھیک ہوں۔کمزور کہاں سے لگ رہی ہوں۔اس نے بات کو گھماتے ہوئے کہا۔

دادا جان ذرا دیکھیں اسے اس نے موبائل دادا جان کی طرف کیا۔

بیٹا علیزےبالکل ٹھیک کہہ رہی ہے دیکھو تو صحیح تمہارا رنگ کیسے پیلا پڑ گیا ہے۔

دادا جان یہ ایسے ہی اپ کو تنگ کر رہی ہے۔اور یہاں سردی ہے نا اس وجہ سے اور کمزور تو مجھے اپ لگ رہے ہیں اپ کو نہیں پتہ مجھے کتنی فکر ہو رہی ہے علیزے کے بعد پتہ نہیں اپ کیسے رہیں گے۔بس میں جلدی ہی اپ کو یہاں بلا لوں گی۔مروہ کی انکھیں پھر سے نم تھی۔

رات نے اپنے دوسرے حصے میں قدم رکھ لیا تھا۔سائم کافی وقت سے ایک ہی جگہ بیٹھا ہوا تھا۔وہ کبھی لیمپ ان کرتا تو کبھی اف کرتا۔اس کی سوچیں اور نظریں مروہ پر اٹکی ہوئی تھی۔اس نے پاس نظر دہرائی تو وہی ڈائری پڑی ہوئی تھی۔اور اب تقریبا اس نے وہ ڈائری ادھی پڑھ لی تھی۔اور اس ڈائری پہ لکھا ہر لفظ اس کے دل پہ اترا تھا۔لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ کون ہے۔یہ کس کے الفاظ ہیں۔اس نے جہاں سے چھوڑا تھا وہیں سے پڑھنا شروع کیا۔

لوگ کہتے ہیں کہ جاگتی انکھوں سے دیکھے گئے خواب کبھی پورے نہیں ہوتے۔لیکن میرا ماننا ہے۔کہ بس وہی حواب پورے نہیں ہوتے جن کے لیے انسان محنت نہیں کرتا۔لیکن ہاں کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے۔کہ انسان کو محنت کرنے کے لیے بھی محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کے پاؤں زنجیروں سے بندھے ہوتے ہیں۔اور نہ نظر انے والی زنجیریں نظر انے والی سے زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔انسان چاہ کر بھی انہیں نہیں کھول سکتا۔سائم ابھی ڈائری پر ہی رہا تھا۔کہ اس کی نظر سامنے والے پیج پر پڑی جس پہ مروہ الیاس لکھا تھا۔اس نام کو پڑھتے ہی وہ چونک گیا تھا۔اس نے تیزی سے ڈائری کو اگے پیچھے کیا۔تو تقریبا ہر دوسرے تیسرے پیج کے بعد مروا نے اپنا نام لکھا ہوا تھا۔

کیا یہ ڈائری مروہ کی ہے۔وہ گہری سوچ میں چلا گیا تھا۔

مروہ وہ کچھ کہتے کہتے چپ ہو گیا تھا۔اور اس نے ڈائری کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔

کیا علی نے تم سے پوچھا نہیں کہ سائم کون ہے۔سائ نے ہلکی سی اواز میں پوچھا تھا۔شاید وہ ڈر گئی تھی ۔کیونکہ ان دنوں مروہ بہت ہی زیادہ غصہ کرتی تھی۔

نہیں اس نے نہیں پوچھا۔مروہ جوگر کے تسمے بند کر رہی تھی۔اس نے ہلکی سے جرسی پہنی ہوئی تھی۔جس کے بازو کچھ لمبے تھے۔اور نیچے بلو جینز پہنی ہوئی تھی۔بالوں کو اس نے اوپر کی طرف باندھا ہوا تھا۔اور ایک دو ماتھے پہ ا رہے تھے۔

ویسے بھی وہ کیوں پوچھے گا وہ کہتے کہتے کچن کی طرف گئی تھی۔

ابھی تک مروہ نہیں ائی سائم نے کاؤنٹر پر کھڑی لڑکی سے پوچھا۔اور جواب نہ میں ملا تو سامنے ایک ٹیبل پر بیٹھ گیا تھا۔۔

اج کافی دیر ہو گئی ہے تمہاری وجہ سے ایک تو جناب اٹھی بھی لیٹ اور مروہ تیار تو تم ایسے ہوتی ہو سوچ سوچ کے ادھا دن تو وہیں گزر جاتا ہے وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے ریسٹورنٹ میں داخل ہو رہے تھی۔

گڈ مارننگ سائم مروہ کو دیکھتے ہی اپنی چیئر سے اٹھ گیا تھا۔کیسی ہیں أب طبیعت جناب کی۔

تم نے پھر سے وہی ڈرامے شروع کر دیے۔۔۔

مروہ تم چپ کرو اس سے میں دیکھتی ہوں یہ کہتے ہی سائرہ نے دو قدم اگے بڑھائے۔

مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ کیوں نہیں ہماری جان چھوڑ دیتے اگے اس کی زندگی میں جو کچھ ہوا ہے وہ تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔بلکہ ہم سب کی زندگی میں تمہاری وجہ سے مسئلے ہیں۔

میں مروہ سے بات کر رہا ہوں۔سائم نے اسے چپ کرواتے ہوئے کہا۔

مروہ نے تم سے کوئی بات نہیں کرنی۔سائرہ نے بھی ساتھ ہی جواب دیا۔

تم میرے ساتھ چلو سائم نے مروہ کا بازو پکڑا ۔

اس کا بازو چھوڑا سائم ورنہ اج بہت برا ہوگا۔اس نے مروہ کو پیچھے کھینچتے ہوئے کہا۔

رکو سا ئرہ ۔سائرہ ابھی دو قدم اگے ہی بڑی تھی کہ مروہ نے اسے ہاتھ سے اشارہ کیا۔

اور سائم کے ساتھ باہر اگئی۔

اس لڑکی کا کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔وہ ریسٹورنٹ کے کچن میں چلی گئی۔

اخر تمہارا مسئلہ کیا ہے سائم مروہ نے زور سے بازو پیچھے کیا تھا۔

میں تمہاری طبیعت پوچھنے ایا ہوں۔سائم اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔جیسے اس کی حالت کا جائزہ لے رہا ہو۔

تمہارے انے سے پہلے میں بالکل ٹھیک تھی۔

میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہے مروہ تم جب تک نہیں تھی میں جیسا بھی تھا ٹھیک تھا۔

تو پھر پیچھا چھوڑ کیوں نہیں دیتے ۔

کیونکہ میں اب نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر۔

کیا۔۔۔۔کیا لگتا ہے وہ تم سب بھول گئے۔

جو تین سال پہلے تم نے مجھے کہا تھا۔تمہیں تو میرے نام سے بھی نفرت تھی۔تم نے مجھے دفع ہونے کا کہا تھا۔

وہ صرف الفاظ تھے مروہ میں پیچھے تو نہیں ہٹا تھا۔وہ دو قدم اگے ایا تھا۔میں اس دن بھی تم سے نفرت نہیں کرتا تھا۔بلکہ میں تم سے کبھی نفرت کر ہی نہیں سکتا۔چاہے تم مجھے جان سے ہی کیوں نہ مار دو۔

یہ سب ڈائیلاگ فلموں میں ہی اچھے لگتے ہیں اور میرے سامنے تو یہ سب مت بولو میں تمہیں بہت اچھے سے جان چکی ہوں۔تم ایک بزدل انسان ہو۔جو کسی انسان کو پہلے تو سبز باغ دکھاتا ہے۔اور پھر ایسے بھول جاتا ہے کہ جیسے اس کا کچھ تھا ہی نہیں۔

یہ سچ نہیں ہے مروہ میں تمہیں کبھی نہیں بھولا ۔میں پوری طرح سے اپنے اپ کو تمہارے حوالے کر چکا ہوں۔

اچھا اور مہرش کو ساتھ لیے کیوں گھوم رہے ہو مجھے تمہاری کسی بات پہ یقین نہیں رہا اب۔

اور دوسری بات میں بہت جلد یہ کہتے کہتے مروہ چپ ہوئی تھی۔

بہت جلد کیا مروہ بولو میں سن رہا ہوں۔وہ تھوڑا اگے جھکا تھا۔

میں بہت جلد علی سے شادی کرنے والی ہوں۔سائم دو قدم پیچھے ہٹا تھا۔وہ مروہ کی انکھوں میں دیکھ رہا تھا۔اسے اپنی دنیا رکتی ہوئی محسوس ہوئی۔

تم ایسے کیسے کر سکتی ہو سائم بڑی مشکل سے الفاظ کو جوڑ پایا تھا۔

یہی سچ ہے مسٹر سائم مردان یہ کہتے ہی مروا اندر کی طرف چلی گئی تھی۔وہ باہر پارکنگ ایریا میں کھڑے تھے۔جبکہ سائم وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا تھا۔اسے لگا تھا اب سب کچھ ختم ہو گیا ہے ۔وہ وہاں کافی دیر کھڑا رہا۔اس کی سمجھ سے باہر تھا کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔