Sheh Rug by Aneeta NovelR50466 Shah Rung Episode 10
Rate this Novel
Shah Rung Episode 10
Shah Rung by Aneeta
میں کچھ پوچھ رہا ہوں مروا۔
کیا کوئی مسئلہ ہے کسی نے کچھ کہا ہے تمہیں۔۔۔۔
نہیں۔۔اس نے گھبرا کر کہا۔۔۔۔۔۔
مروہ کے ذہن میں اجے کی باتیں گھوم رہی تھی اور اس کے پاس کوئی اپشن نہیں تھا شاید یہی وجہ تھی کہ وہ سائم کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔
نہیں۔۔تو کل ایسے بات کیوں کی تم نے۔سائم بھی مروہ کو سمجھ نہیں پا رہا تھا۔زندگی میں پہلی دفعہ اس نے خود کو بے بس محسوس کیا تھا۔اور کسی کے ہاتھ کا کھلونا بن گیا تھا۔۔۔۔۔۔
سورج ڈل چکا تھا رات ہونے والی تھی وہ دونوں سمندر کے کنارے بیٹھے تھا۔۔۔۔۔
سائم نے کچھ سوچا۔اور پھر اس نے فیصلہ کیا۔کہ اسے اپنے دل کی بات مروہ کو بتانی چاہیے۔وہ اس کے ذہن میں بندی گڑھوں کو کھولنا چاہتا تھا۔اور اس کے دل کی ہر بات جاننا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
میں نے جب پہلی دفعہ تمہیں دیکھا تھا میں تب سے اپنے حواس کھو بیٹھا ہوں۔۔۔۔۔
تم وہ پہلی لڑکی ہو جس نے میری اندھیری زندگی میں ایک شمع جلائی ہے۔۔۔۔۔
میں تم سے اپنے دل کی ہر بات کرنا چاہتا ہوں اور تمہارے دل کی ہر بات سننا چاہتا ہوں۔۔۔
سائم گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا تھا اس نے مروہ کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے ۔۔
یہ سب اتنا اسان نہیں ہے جتنا تم سوچ کے بیٹھے ہو۔۔
مروہ نے اپنے ہاتھ پیچھے کیے۔۔جو کچھ بھی ہو رہا تھا اس کی سمجھ سے باہر تھا۔ایک طرف اجے تو ایک طرف سائم۔۔۔۔۔۔
میری زندگی تمہاری زندگی کی طرح نہیں ہے ۔مروا نے اپنا رخ دوسری طرف کیا۔سائم نے بھی گردن کو اس طرف گھمایا۔اس کے ہاتھ پیچھے کرنے سے وہ پریشان تھا۔۔۔۔۔
میری کچھ ذمہ داریاں ہیں۔مروہ نے پھر ایک نظر سائم کو دیکھا۔۔۔۔۔
میں ہر قدم پہ تمہارا ساتھ دوں گا۔وہ بات ختم ہوتے ہی بولا۔۔۔۔
میں ہر ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار ہوں تمہارے ساتھ جھڑے ہر رشتے ہر انسان کی ذمہ داری۔اس نے مروہ کا رخ اپنی طرف کیا تھا۔۔۔۔
بعض راستے اتنی خوبصورت ہوتے ہیں کہ انسان کو منزل بھلا دیتے ہیں لیکن انسان کی منزل ایک منزل ہی ہوتی ہے راستہ نہیں۔۔۔
مروہ نے پاس رکھا بیگ اٹھایا۔اور ہاتھ کے سہارے سے اٹھی۔سائم بھی اب اٹھ گیا تھا۔۔۔
مروا اس کی انکھوں میں دیکھ رہی تھی۔۔۔
میں تمہارے بغیر اب نہیں رہ سکتا سائم نے ایک قدم اگے بڑھایا لیکن اس سے پہلے مروہ دو قدم پیچھے ہو گئی تھی اس نے اپنا رخ بدلا اور چل پڑی۔۔
مروہ۔۔۔۔
سائم نے اسے اواز دی۔اور مروا نے ایک نظر بھی پیچھے نہیں دیکھا۔تو اس نے بھی روکنا مناسب نہیں سمجھا۔۔
سائم نے لمبی سانس لی اور سمندر کی طرف دیکھنے لگا۔
میری محبت کی شدت اس سمندر سے بھی کہیں گہری ہے اگر تم اسے راستہ سمجھ رہی ہو تو میں اس راستے کو کبھی ختم نہیں ہونے دوں گا۔اور اس منزل کو راستے سے ختم کر دوں گا جہاں پہ ہمارا ملنا ممکن نہیں ہے۔۔۔۔۔
وہ سمندر کے کنارے بیٹھا اور وہی رات ہو گئی اور یہ رات کب ختم ہوئی ۔اور صبح کب ہوئی اسے کچھ اندازہ نہیں تھا۔شاید یہی اس کی محبت کی شدت تھی۔۔
مروہ بھی ساری رات اس کی باتیں سوچتی رہی تھی کہیں وہ اسے ہمدرد لگتا تو کہیں وہ اسے اجے کی نظروں سے دیکھتی ایسے ہی ساری رات گزر گئی۔۔۔۔
مروہ اٹھنا نہیں ہے کیا۔۔۔۔
تم سے ملنے باہر اجے آئی ہے۔۔۔۔
یہ سنتے ہی مروا فورا سے اٹھی۔۔
وہ کب اور کیوں ائی ہے مروہ نے کمبل کو پیچھے کرتے ہوئے پوچھا اس نے سفید رنگ کی لوز شرٹ پہنی ہوئی تھی۔
تم اب باہر اؤ اور خود ہی اس سے پوچھ لو مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔۔
یہ کہتے سائرہ باہر چلی گئی۔مروہ بھی فریش ہو کے اب اجے کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
میں نے کہا میں یہ نہیں کر سکتی۔۔۔۔
تو ٹھیک ہے میں تم پر کیس کروں گی ثبوت تو تم نے اپنی انکھوں سے دیکھ ہی لیا تھا۔۔
اور تمہاری فیملی کا کیا ہوگا۔۔
کچھ سوچا ہے تم نے۔۔
تم اب سائم کی ہاں میں ہاں ملاؤ گی۔
کرو گی یا پھر میں کیس کروں جرمانہ تمہیں الگ سے ہوگا اور ڈی پورٹ تو تم نے ہونا ہی ہونا ہے اور اچھی خاصی سزا بھی ملے گی۔۔۔۔
اور رہی بات تمہاری فیملی کی۔۔۔۔
تو انہیں میں خود سزا دوں گی۔تم سے پہلے ہی اوپر پہنچا دوں گی۔۔۔۔
مروہ پہلے تو کھڑی سوچتی رہی۔لیکن اسے پھر کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں ایا۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے۔۔۔
مروہ بہت زور سے چلائی۔۔
یہ ہوئی نہ بات اجے دو قدم اگے ائی اج سے تمہارا کام شروع ہوتا ہے۔۔۔۔
وہ جس پروجیکٹ پہ کام کرے گا تم مجھے اس کی انفارمیشن دو گی تم اس کے ساتھ ایسے جھڑ جاؤ گی جیسے اس کا سایہ ہو وہ اشاروں سے مروہ کو سمجھا رہی تھی۔۔۔۔
ا جے تو یہ باتیں کر کر چلی گئی تھی۔پر مروہ کا ذہن سارا دن یہیں اٹکا رہا۔اس کی سمجھ سے باہر تھا کہ اب اسے کیا کرنا ہے۔۔۔۔
ایسے خاموش ہی بیٹھنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے کہا تم نے مجھ سے بات کرنی ہے میں سب کچھ چھوڑ کے ایا ہوں صرف تمہارے لیے وہ دونوں اسٹینلے پارک کی ایک چوٹی پر بیٹھے ہوئے تھے۔سورج کی مدم سی روشنی کا عکس پانی پہ تھا جو اس جگہ کو اور خوبصورت بنا رہا تھا سورج بس غروب ہونے ہی والا تھا۔۔۔
میں نے سوری کہنا تھا۔۔۔۔
سوری کس لیے۔۔۔۔۔
صائم ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا۔۔
اس دن میں نے بہت کچھ کہہ دیا تھا۔۔۔
یہ کس دن کی بات ہو رہی ہے میں تو جب بھی تم سے ملا ہوں تم نے مجھے بہت کچھ کہا ہے۔اس کے چہرے پہ ہلکی سی مسکان تھی۔جبکہ مروہ ڈری سہمی بیٹھی تھی ۔۔۔۔
لیکن مجھے تمہاری کسی بات کا برا نہیں لگتا یہ بات اس نے اس کے کان کے قریب ہو کر کہی تھی۔۔
ایسا کیوں۔۔۔۔
مروہ نے اپنا رخ اس کی طرف کیا وہ اس کے بہت قریب تھا۔لیکن پھر بھی اس نے اور قریب انا چاہا۔۔
میں کچھ پوچھ رہی ہوں۔۔۔
مروا نے اسے پیچھے ہٹایا۔۔۔۔
اب تم مجھے بتاؤ گی۔۔۔
میں۔۔۔
میں کیا بتاؤں مروہ بالکل اس کے سامنے کھڑی تھی۔۔
یہی کہ جب تمہارے دل میں کچھ بھی نہیں۔تم مجھ سے ملنے کیوں ائی۔۔
پتہ نہیں۔۔
مروہ نے ایک لمبی سانس لی۔۔۔
کیونکہ تم بھی مجھ سے محبت کرتی ہو۔اور یہ میں اپنی محبت میں یقین کی وجہ سے کہہ رہا ہوں۔بتاؤ کیا نہیں کرتی۔سائم کی نظریں اب مروہ پر تھی۔وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
نہیں کرتی۔اس نے بنا ٹائم ویسٹ کیا جواب دیا۔جیسے اسے سوال کا پہلے سے علم ہو۔۔۔۔۔۔
__________
ہمیں سائم مردان سے ملنا ہے۔عثمان اور سائرہ ریسپشن پر کھڑے تھے۔
سر تو کافی ٹائم سے نکل گئے ہیں۔کاؤنٹر پر کھڑی لڑکی نے کہا جو کہ انگلش میں بات کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
عثمان اس کا افس تو بہت بڑا ہے سائرہ نے افس کو گھوڑتے ہوئے کہا۔۔۔
تم شاید بھول رہی ہو ہم یہاں کیوں ائے ہے سیدھی کھڑی ہو جاؤ۔۔
ہاں ہاں پتہ ہے۔۔۔
یہ کہتے ہی سائرہ نے پھر سے افس کا معائنہ لینا شروع کر دیا۔۔
جب یہ کینڈا میں اتنے امیر ہیں۔عثمان ذرا سوچو پاکستان میں کتنے ہوں گے۔۔۔۔
گڈ ایوننگ سر( good evening sir)
ریسپشن پے کھڑی لڑکی نے سائم کو دیکھتے ہی کہا۔۔۔
گڈ ایوننگ ٹو یو( good evening to you)
یہ کہتے ہی سائم کی نظر سامنے پڑی جہاں سائرہ اور عثمان بیٹھے ہوئے تھے۔
تھوڑی ہی دیر بعد وہ دونوں سائم کے ساتھ افس میں موجود تھے۔۔
ہم بس یہی چاہتے ہیں کہ اپ ہماری دوست کی زندگی سے چلے جائیں اپ کے انے سے اس کی زندگی میں کافی پرابلمز اگئی ہیں۔۔سائرہ ایک ہی سانس میں بولی چلی جا رہی تھی۔
تو تم دونوں یہ کہنے یہاں ائے ہو۔۔۔۔۔
تو ایک دفعہ اپنی دوست سے بھی پوچھ لینا تھا میں تو ابھی اسی کے ساتھ ڈیٹ پر تھا سائم دونوں کی باتیں سن کر مسلسل مسکرا رہا تھا۔۔اس نے ریلیکس بیٹھتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا وہ اپ کے ساتھ ڈیٹ پر تھی۔۔۔
سائرہ اور عثمان ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔۔۔۔۔
اور پھر وہاں سے چلے گئے۔۔۔۔۔
ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔میں بس اس سے بات کرنے گئی تھی۔۔۔۔
میں ابھی اس سے بات کرتی ہوں ۔یہ کہتے ہی مروا نے اپنا موبائل اٹھایا اور روم کی طرف چلی گئی۔۔۔
مروہ نے پہلے کال کرنا چاہیی۔لیکن پھر کچھ سوچ کر میسج ٹائپ کرنے لگی۔۔۔۔۔
اخر تمہارا مسئلہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔
مروہ نے جلدی سے ٹائپ کیا اور اسے سینڈ کر دیا۔۔۔۔۔۔
میرا مسئلہ تو تم ہو۔۔۔۔۔
اگلے ہی منٹ میں اس کا ریپلائی اگیا تھا۔۔اور اگے بھی ٹائپنگ شو ہو رہا تھا۔۔۔۔
اور غصہ کس بات کا ہے۔ویسے تووہ سمجھ گیا تھا ۔
سائم نے پھر سے لکھا۔۔۔۔۔
۔میں اج کے بعد تم سے نہیں ملوں گی۔۔۔۔
میں تو ملوں گا اس نے سات ہارٹ والے ایموجی بھیجے تھے۔۔۔۔
مروہ بیڈ پر لیٹی تھی موبائل کی روشنی اس کے چہرے کو چمکا رہی تھی اس نے دونوں ہاتھوں سے موبائل پکڑا ہوا تھا۔۔۔۔
تمہیں بالکل بھی شرم نہیں اتی۔
اج کے بعد مجھ سے ایسے بات مت کرنا۔۔۔
سائم اس ٹائم جم کی رننگ مشین پر تھا. اس نے بلیک ( tank tak ) پہنا تھا جو وہ اکثر جم میں پہنتا تھا۔۔
میں نے اب ایسا بھی کچھ نہیں کہا سائم کا چہرہ بلش کر رہا تھا۔۔
اگے سے کوئی ریپلائی نہیں ایا تھا۔
اس سے بات کرنا بھی فضول ہے مروہ نے موبائل کو سائیڈ پہ رکھا اور شاید سونے لگی تھی۔۔۔۔
میں کل ایوننگ میں پک کروں گا۔۔۔۔۔۔
مروہ کے موبائل کا نوٹیفکیشن ساؤنڈ بجا۔جو اس نے اگلے ہی لمحے اٹھا لیا۔
اس نے کوئی ریپلائی نہیں دیا ۔۔
_________
تم نے میری محبت کو ٹھکرایا تھا۔اب تمہیں تمہاری ہی محبت کی موت مارو گی اجے اندھیرے میں بیٹھی ہوئی تھی اس کے سامنے لیپ ٹاپ کی سکرین پر سائم کی تصویر چمک رہی تھی۔۔۔
وہ شاید خود کو تسلی دینے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔
_________
گروسری تو کر لی۔اور اب گھر کا رینٹ کیسے دیں گے۔سائرہ اور مروہ کے ہاتھ میں کچھ سامان تھا۔وہ دونوں ماٹا سٹور سے نکلی تھی ۔….
اگر اس مہینے نہ دیا وہ تو پکا ہمیں نکال دے گا۔مروا نے ایک شاپر کو دوسرے ہاتھ میں پکڑا شاید اس میں سامان زیادہ تھا۔اور تھوڑا نیچے جھکی۔۔۔۔
لو شیطان کا نام لیا اور شیطان حاضر۔یہ کہتے مروہ نے سائرہ کو اپنی طرف کھینچا۔اور وہ دونوں روڈ پہ کھڑی گاڑی کے پیچھے چھپ گئی ۔۔۔۔
سامنے سے ایک 40 45 سال کا ادمی ا رہا تھا۔جسے دیکھ کر یہ چھپی تھی۔وہ مالک مکان تھا جس سے انہوں نے پچھلے تین مہینے کا کرایہ نہیں دیا تھا۔۔۔۔۔
شکر ہے اس نے ہمیں دیکھا نہیں۔۔۔۔۔
مروہ اور سائرا ادھی نیچے جھکی ہوئی تھی۔اور دھیرے دھیرے قدموں سے دوسری طرف نکلی تھی۔۔۔۔
اور یہ سارا سین سامنے گاڑی میں بیٹھے سائم دیکھ رہا تھا۔اس کے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔مروا اور سائرہ کے وہاں سے جاتے ہی۔سائم گاڑی سے اترا۔اور اس ادمی کو فالو کرنے لگا۔کچھ اگے جا کے ہی وہ ایک سٹور پہ رکا۔۔۔۔۔
کچھ دیر بات کرنے کے بعد اس ادمی نے ساری کہانی سائم کو سنا دی۔۔۔۔
ان دونوں لڑکیوں نے جینا حرام کیا ہوا ہے۔ایک تو ٹائم یہ کرایا نہیں دیتی۔اور جب مانگنے جاؤ تو ایک الگی ہی کہانی سناتی ہے۔اس ادمی کو شاید ان پر بہت غصہ تھا۔وہ ایک ہی سانس میں بولے چلے جا رہا تھا۔۔۔۔۔
یہ پیسے رکھے اپ۔سائم نے وائلٹ سے کچھ پیسے نکالے جو کچھ زیادہ تھے۔اور اس ادمی کے حوالے کیے۔۔۔۔
اس نے بھی اگے سے کوئی سوال نہیں کیا کیونکہ اسے صرف پیسوں سے غرض تھا۔۔۔۔
اس بات کا علم ان دونوں کو نہ ہو۔اپ کہنا بس کرایہ معاف کر دیا۔۔۔۔
اس ادمی نے ایک نظر پیسوں کو دیکھا سائم کو دیکھا اور پھر اس کی گاڑی کو دیکھا۔شاید اس کی امیری کا اندازہ لگا رہا تھا۔۔۔
مجھے کرایہ مل گیا مجھے بس اسی سے مطلب ہے۔اور تم فکر مت کرو میں بول دوں گا۔یہ کہتے ہوئے وہ ادمی اگے جانے لگا۔۔
____________
مروہ اس سے ہر بات شیئر کرتی تھی لیکن یہ بات اس نے سائراسے بی شیر نہیں کی تھی۔شاید وہ اجے سے ڈر گئی تھی۔کیونکہ اس نے یہاں تک انے کے لیے بہت محنت کی تھی۔اور دوسری طرف اسے اپنی فیملی بھی بہت عزیز تھی۔کیونکہ وہ پہلے ہی بہت لوگوں کو کھو چکی تھی۔۔
_________
مجھے پتہ تھا تم یہیں ملو گی سائم نے قریب جا کر مروہ کے کان میں یہ بات کہی رہی تھی۔یہ اگلا دن تھا۔
رات اپنا پہلا قدم رکھ چکی تھی۔گیس ٹاؤن میں ہر طرف رات کو روشن کرنے کے لیے لائٹنگ آن ہو چکی تھی۔وہ معمول کی طرح سٹیم کلاک کہ تھوڑا سا فاصلے پر بیٹھی تھی۔۔۔۔
میں نے کہا تھا مجھے تم سے بات نہیں کرنی۔۔۔
مروہ اپنے ٹرینچ کورٹ میں ہاتھ دبائے کھڑی تھی جو وہ اکثر پہنا کرتی تھی۔۔
روشنی سے اس کا چہرہ چمک رہا تھا۔انکھیں اپنا ہی جلوہ بکھیر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
لیکن مجھے تو تم سے بہت سی باتیں کرنی ۔
سائم نے ٹکسڈو کے نیچے اکسفورڈ شوز پہنے تھے۔بالوں کو بھی اچھے سے بنایا ہوا تھا۔دونوں ساتھ میں بہت سوٹ کر رہے تھے۔
کیا تمہیں میں اچھا نہیں لگتا؟
یہ پوچھتے ہی سائم نے مروہ کو دیکھا۔وہ ہاتھ پہ پہنی چین کو ٹھیک کر رہا تھا۔۔
لگتا ہے تمہیں یہ سننے کی عادت ہو گئی ہے۔نہیں لگتے تم مجھے اچھے۔۔
بالکل بھی نہیں۔
سائم نے اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا جو اس نے اگلے ہی لمحے دور کر لیا تھا۔۔
میں نے کہا مجھ سے دور رہو۔۔۔
نہیں رہ سکتا اب کیا کروں۔یہ کہتے ہی اس نے زبردستی مروہ کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔کچھ لے کر ایا ہوں تمہارے لیے۔یہ کہتے ہی اس نے اپنا دوسرا ہاتھ اپنی پاکٹ میں ڈالا۔اور ایک بلیک کلر کی ڈبی نکالی۔۔
یہ کیا ہے؟
مروہ حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
وہ اگلے ہی لمحے گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا تھا۔
یہ چھوٹا سا تحفہ ہے تمہارے لیے۔اس نے باکس کو کھولا اور مروہ کی طرف بڑھایا۔وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا۔۔۔۔۔۔
کیا تم میری شاہ رگ بنو گی؟
تم۔۔۔۔
مروہ کچھ کہنے ہی لگی تھی کہ اس کی نظر سامنے پڑی اجے کچھ دور فاصلے پہ کھڑی تھی۔اس نے اشارے سے اس انگوٹھی پہننے کا کہا تھا۔۔
کیا ہوا بات مکمل کرو۔
کچھ نہیں۔۔۔
تو کیا تم میری شہ رگ بنو گی؟اس نے پھر سوال دہرایا۔
شہ رگ؟مروا نے ارام سے کہا۔۔۔
ہاں تم میری شہ رگ ہو۔۔۔۔
تم جانتی ہو یہ رگ بہت اہم ہوتی ہے۔اس پہ زندگی کا انصار ہوتا ہے۔اور میری زندگی کا انصار تم پر ہے۔تم میری زندگی کی شہ رگ ہوں۔
سائم کی انکھوں میں انسو ابھر ائے تھے۔اور شاید یہی اس کی محبت کی شدت تھی۔اس نے دھیرے سے مروہ کو انگوٹھی پہنائی۔
مروہ کو بھی اس کی باتیں سچ لگنے لگی تھی۔
اس نے اسے روکا نہیں تھا۔۔۔۔
اس انگوٹھی کو کبھی حود سے جدا مت کرنا۔سائم نے اس کے ہاتھ پہ بوسہ دیا۔
تم نے میری رائے پوچھے بغیر مجھے انگوٹھی پہنا دی۔مروہ نے رخ سائم کی طرف کیا جو اگلے ہی لمحے اس کے مقابل بیٹھا گیا تھا۔مروہ کا ہاتھ ابھی بھی اس کے ہاتھ میں تھا۔۔
تمہیں لگتا ہے تم انکار کرو گی اور میں تمہیں نہیں پہناؤں گا۔۔۔۔۔
زبردستی کرو گے۔۔۔۔
پیار میں زبردستی نہیں ہوتی ۔بس شدت ہوتی ہے۔اور یہ شدت سامنے والے کو مجبور کر دیتی ہے۔اور مجھے اپنی محبت پر یقین ہے۔۔۔۔۔
یہ کہتے ہی سائم نے مروہ کو دیکھا۔اور تھوڑا قریب ہوا۔۔۔
ابھی بات اتنی بھی اگے نہیں ائی ہے۔مروہ نے اسے پیچھے ہٹایا ۔۔۔
اتنا ڈرتی کیوں ہو مجھ سے سائم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا میں کھا تو نہیں جاؤں گا۔۔۔
ایسی کوئی بات نہیں۔میں کیوں ڈروں گی۔یہ بات بھی اس نے کافی ڈرتے ہوئے کہی تھی۔کہ کہیں وہ وضاحت نہ مانگ لے۔۔
یہ لمحہ اتنا خوبصورت تھا کہ مروہ کو اجے کی ہوش ہی نہیں رہی۔۔۔۔
