266K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Rung Episode 17

Shah Rung by Aneeta

کیا ہوا منہ پہ باڑا کیوں بچے ہوئے ہیں۔سائرہ نے پیزا مٹیریل اون میں رکھتے ہوئے کہا۔جو اس نے اور مروا نے ابھی ابھی بنائے تھے۔پھر ا کے مروہ کے پاس کھڑی ہو گئی۔

کچھ نہیں بس علیزے کی وجہ سے پریشان ہوں۔ اس کی شادی ہے اور اس موقع پر میں اس کے ساتھ نہیں ہوں گی

۔تمہیں پتہ ہے ۔ میں نے بچپن سے ہی اس نے اپنا رخ سارہ کی طرف کیا۔میں نے بچپن سے ہی علیزے کی شادی کو لے کر بہت سے خواب سجائے تھے۔کہ یہ کروں گی وہ کروں گی۔لیکن دیکھو نا اب جب وقت ایا ہے۔تو میں اس سے کتنا دور ہوں۔اس نے گردن کو نیچے جھکایا۔اس کی انکھیں نم تھی۔

دیکھو تم یہاں اپنی فیملی کے لیے ہو۔تم علیزے دادا جان سے کتنی محنت کرتی ہوں۔تم یہاں ان کے لیے ہوکہ انہیں کسی چیز کی کمی نہ ہو۔سائرہ نے اپنا ہاتھ اس کی تھوڑی کے نیچے رکھا اور اس کی گردن کو اوپر کیا۔اگر جانا پوسیبل ہوتا تو تم ضرور جاتی۔

ہاں میں جانتی ہوں۔مروہ نے اس کے ہاتھ کو پیچھے ہٹایا۔اور تم جانتی ہو سائرہ اب مجھے فرق نہیں پڑتا خواب ٹوٹنے سے پتہ نہیں دل میں جان نہیں رہی یا پھر یہ پتھر کا ہو گیا ہے۔یا پھر دل نے یہ مان لیا ہے۔کہ ٹوٹے ہوئے خوابوں کو سمیٹتے سمیٹتے بس ہاتھ زخمی ہوتے ہیں خواب نہیں جڑتے۔یہ کہتے ہی مروہ نے پھر سے ایک بول اٹھایا اور میدہ گوندنے لگی۔سائرہ پہلے تو کچھ لمحہ اسے دیکھتی رہی۔پھر وہ بھی اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔

____

انٹی اپ بھی ساتھ چلتی کتنا مزہ اتا۔مہروش ہاتھ میں سوٹ کیس پکڑے ڈرائنگ روم میں کھڑی تھی۔روم میں ہارون ارم اور سائم بھی موجود تھے۔

نہیں بیٹا تم تو جانتی ہو کتنے کام ہوتے ہیں۔اور پھر گھر کو بھی مینج کرنا پڑتا ہے۔تم دونوں جاؤ۔اور سائم کاموں میں نہ بزی رہنا۔مہروش کو اچھے سے گھمانا پھرانا۔ارم دو قدم اٹھا کے سائم کے پاس ائی تھی۔جو کھڑا اپنے استین ٹھیک کر رہا تھا۔…

میں وہاں کام کے سلسلے میں جا رہا ہوں پکنگ پہ نہیں۔یہ کہتے سائم سیڑھیوں کی طرف مڑا جہاں سے حبیب میاں نیچے اتر رہے تھے۔۔

میرے انے سے پہلے اپ نے یہاں سے ہلنا بھی نہیں۔سائم نے اگے بڑھ کر ان کا ہاتھ پکڑا اور سامنے پڑے صوفے پر بٹھایا اور خود بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔

بیٹا میں تو یہیں ہوں۔بس تم اپنا خیال رکھنا۔وقت جیسا بھی ہو کٹ جاتا ہے۔رات کتنی بھی طویل ہو جائے دن نے انا ہی ہوتا ہے۔بس دنیا کے کھیل بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔یہ کہتے ہی انہوں نے سائم کو اپنے گلے سے لگایا۔۔۔

بیٹا یہ فرض ہوتے ہیں کبھی نہ کبھی تو اتارنے پڑتے ہیں۔

دادا جان مجھے اپ کی فکر ہے۔اپ میرے بغیر کیسے رہیں گے۔علیزے بالکل ان کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔وہ ابھی ابھی بازار سے ائی تھی۔

علیزے بیٹا تم کیوں پریشان ہو رہی ہو۔میں ابا جی کو اپنے ساتھ لے کے جاؤں گا مبشر جو پاس ہی کرسی پہ بیٹھا ہوا تھا۔علیزے کو تسلی دیتے ہوئے بولا۔مبشر مروہ اور علیزے کا چچا تھا۔لیکن وہ لالچی طبیعت کا مالک تھا۔لوگوں کو ہمیشہ پیسے پہ فوقیت دینے والا۔اور ابھی بھی شاید وہ مروہ کے پیسوں کی لالچ میں ان کی ذمہ داری اٹھا رہا تھا۔

مروہ میں سات دن تمہاری یادوں کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔اور تم تین سال سے سائم من ہی من میں خود سے باتیں کر رہا تھا۔وہ گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا اس کی نظریں سٹیم کلاک پہ رکی ہوئی تھی۔

سائم ہماری فلائٹ ہے ۔مہروش جو ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی تھی اسے دیکھتے ہوئے بولی۔کیا تمہیں یہ جگہ خوبصورت لگتی ہے۔جواب نہ ملنے کی صورت میں اس نے پھر سے سوال کیا۔

جگہ کا تو پتہ نہیں پر جن انکھوں سے اس جگہ کو دیکھا تھا وہ بہت خوبصورت تھی۔سائم نے ایک لمبی سانس لی اور پھر گاڑی سٹارٹ کر دی۔مہروش ابھی تک اس کے جواب پہ اٹکی ہوئی تھی۔

_______

یہ رات کا پہلا پہل تھا۔مروہ ۔پوائنٹ پیلی پارک میں رک گئی تھی ۔جو کینڈا کا ایک خوبصورت پارک ہے۔مروا نے جمپر سویٹر کے نیچے جینز پہنی ہوئی تھی۔سویٹر بی بی پنک اور وائٹ کلر کا تھا۔اور ہائی نیک تھا۔اس نے دونوں طرف سے بالوں کو اگے کیا ہوا تھا۔اس ایکسیڈنٹ کی وجہ سے اس کے سر میں اکثر درد رہتا تھا۔اور کبھی کبھی تو یہ شدت پکڑ لیتا تھا۔اج بھی اسے سر میں ہلکا سا درد تھا۔۔۔۔

۔تھوڑی دور جانے کے بعد وہ ایک بینچ پر بیٹھ گئی تھی۔اس نے لیپ ٹاپ کھول کر اپنی گود میں رکھا تھا۔

کبھی کبھی ہم زندگی کے ایسے موڑ پر کھڑے ہوتے ہیں۔کے چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پاتے۔نہ اگے جا سکتے ہیں نہ پیچھے بس کھڑے ہو کر اپنا تماشہ خود ہی دیکھتے ہیں۔اور یہ وقت مشکل ترین ہوتا ہے۔مروا نے نگاہیں لیپ ٹاپ سے ہٹائی تو اگے پیچھے دیکھنے لگی۔

انسان کتنا بھی طاقتور ہو۔اسے قدرت کے اگے ہار ماننی پڑتی ہے۔قسمت ہمیشہ انسان کا ساتھ نہیں دیتی۔اور شاید یہی اس کی مار ہے سائم بھی اسی پارک کے کونے میں بیٹھا ہوا تھا۔لیکن دونوں ایک دوسرے سے ناواقف تھے۔۔۔

_______

وہ تو جب سے ایا ہے اس نے مجھے دیکھا بھی نہیں۔بس ہم ساتھ میں ہوٹل تک ائے ہیں۔اس کے بعد اس نے مڑ کر مجھے پوچھا بھی نہیں مہروش فون کان کے ساتھ لگائے۔ہوٹل کی بالکنی میں کھڑی تھی۔۔۔۔

دیکھو مرد کے دل میں جگہ بنانی پڑتی ہے۔دوسری طرف سے ارم کی اواز ائی جو ڈرائنگ روم میں بیٹھی اس سے باتیں کر رہی تھی۔

مردوں کو تھوڑا ٹائم لگتا ہے لیکن وہ اپنی جگہ پر ا جاتے ہیں۔

پتہ نہیں اپ کی باتیں کبھی سچ ہوں گی بھی کہ نہیں۔مجھے تو ہوتی نظر نہیں اتی مہروش نے اپنا رخ اندر کی طرف کیا۔اور ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئی۔

دھیرے دھیرے رات کا اجالا ہر طرف چھا گیا تھا۔یہ شدید سردیوں کی راتیں تھی سائم اپنے کمرے میں جائے نماز پر بیٹھا تھا اس نے ابھی ابھی عشاء کی نماز پڑھی تھی۔اور نہ جانے کتنے ہی عرصے بعد اس نے نماز پڑھی تھی۔نماز کے فورا بعد اس نے ہاتھ دعا کے لیے اٹھا لیے تھے۔یا شاید اس نے نماز ہی دعا کے لیے پڑھی تھی ۔۔

ہے میرے مولا میں جانتا ہوں میرا تجھ سے تعلق اتنا مضبوط نہیں ہے۔میں بہت ہی بے بس ہو کے تیرے در پر ایا ہو۔میں نے سنا ہے کہ تو اپنے بندے کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتا ہے۔تو اس کے دل کا حال جانتا ہے۔اور شاید مجھ سے بہتر جانتا ہے کہ میرے دل کی کیفیت کیا ہے۔میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔دل کے ہاتھوں مجبور ہوں۔مجھے اس کے سوا کچھ نظر نہیں اتا۔میں نہیں جانتا وہ کہاں ہے۔پر تو سب جانتا ہے۔تجھے تیری رحمت کا واسطہ بس ایک اخری دفعہ مجھے اس سے ملا دے۔میں دوبارہ زندگی میں تجھ سے کچھ نہیں مانگوں گا۔سائم کی انکھیں نم تھی۔انسو انکھوں سے ہتھیلیوں پہ گر رہے تھے۔اور پھر نہ جانے وہ کتنی ہی دیر سجدے میں روتا رہا۔اور اللہ سے مروہ کو مانگتا رہا۔۔۔۔۔۔

مروہ بھی اپنی بالکنی میں کھڑی گہری سوچ میں گم تھی۔ٹھنڈ کی وجہ سے اس نے خود کو ایک سفید چادر سے کور کیا ہوا تھا۔

چائے بنانے جا رہی ہوں تمہارے لیے بھی بناؤں۔سائرہ کھڑکی کے اس پار کھڑی اس سے پوچھ رہی تھی۔اور بات کرتے کرتے اب اس کے پاس اگئی تھی۔

نہیں میرا دل نہیں کر رہا اس نے نظر گھما کر اسے دیکھا۔اور چادر ٹھیک کرنے لگی۔

اج عثمان کا فون ایا تھا۔کچھ دنوں تک وہ واپس ا رہا ہے کینیڈا۔میں تو پاکستانی سنیک کتنے مس کر رہے تھی مجھے تو اس کے انے کا بے صبری سے انتظار ہے۔سائرہ مسلسل بولے جا رہی تھی جبکہ مروہ نے اس کی ایک بات بھی دھیان سے نہیں سنی تھی۔

علیزے کی شادی کی تیاریاں کیسی ہیں۔

ہاں اس سے بات ہوئی تھی ۔کہہ رہی تھی بس

تھوڑی سی شاپنگ رہتی ہے۔مروہ نے سرسری سا جواب دیا تھا ۔

ویسے میری تو کوئی بہن نہیں ہے۔پر میں جان سکتی ہوں تمہاری تکلیف مروہ نے اسے پیچھے سے حگ کیا علیزے بھی تمہیں بہت بہت مس کر رہی ہوگی۔

ہاں یہ تو ہے دادا جان کے سوا ہمارا کوئی بھی نہیں ہے۔ہم دونوں ہی ایک دوسرے کا سہارا ہے۔

اچھا تو تم نے مجھے بیچ میں سے مائنس کر دیا۔سارہ نے اس کو ٹوکتے ہوئے کہا۔

تم مائنس کرنے والا انسان ہی نہیں ہو۔مروا نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر اگے کھینچا اور زور سے گلے لگا لیا۔۔۔۔۔

مروہ ایک اچھی لڑکی ہے اسے کون ناپسند کرے گا۔لیکن اپ کے دل میں کیا چل رہا ہے میں نہیں جانتا۔علی نے کافی کا کپ ایمن بیگم کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا۔جو بیڈ پہ کمل اوڑے بیٹھی تھی۔

تمہاری شادی دیکھے بغیر میں اس دنیا سے نہیں جانے والی۔اور سچ بتاؤں تو مروہ سے اچھی لڑکی میں نے نہیں دیکھی ۔

ماما اپ کو کچھ نہیں ہوگا۔ایسی باتیں کر کے اپ میرا دل دکھا دیتی ہیں۔علی اٹھ کر اب ان کے پاس اگیا تھا۔اور اس کے چہرے کا رنگ سچ میں اڑ گیا تھا۔کیونکہ وہ ایمن بیگم سے بہت محبت کرتا تھا۔اور ایمن بیگم کچھ بیمار سی رہتی تھی۔

تم نے دوسری بات تو بیچ میں چھوڑ دی۔

ماما پہلے میں خود تو اس سے بات کر لوں۔بس مجھے موقع ملے گا تو میں مروہ سے بات کروں گا۔وہ بہت ہی عجیب ہے۔اور مجھے نہیں پتہ کہ مجھے اس سے بات کیسے کرنی ہے علی ہلکا سا مسکرایا تھا۔۔

چلیں اب اپ ارام کریں۔مجھے کچھ فائلز ای میل کرنی ہے پھر میں بھی سو جاؤں گا۔یہ کہتے ہوئے علی اٹھ گیا تھا۔اور اس کی کافی بھی باتوں باتوں میں ختم ہو گئی تھی۔اس نے دونوں کپ اٹھائے اور باہر کی طرف چلا گیا۔۔

اگلی صبح کا سورج نمودار ہونا شروع ہو گیا تھا۔ہر طرف ہلکی ہلکی روشنی تھی۔

سائم اگر تمہارے پاس وقت ہے تو ہم کہیں باہر لنچ کے لیے چلیں۔پاس ایک پیزا ہارٹ ہے۔وہاں سے پیزا کھاتے ہیں۔سائم جو لیپ ٹاپ ہاتھ میں لیے بیٹھا تھا نے غصے سے اسے دیکھا۔۔

کیا تمہیں نظر نہیں ا رہا میں کام کر رہا ہوں۔

اور میں یہاں پکنگ منانے نہیں ایا۔تم نے کچھ کھانا ہے تو ریسپشن سے منگوا لو یا پھر خود کہیں باہر چلی جاؤ اس نے نظریں پھر لیپ ٹاپ پر جما لی تھی۔

دیکھو مجھے سمجھ نہیں اتا میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے۔ہم دونوں سکول ٹائم سے اچھے دوست ہیں۔تو باہر جا کر کچھ کھانے میں کیا حرج ہے۔اب وہ اس کے سامنے بیٹھ چکی تھی ۔

سائم نے پہلے تو کچھ سوچا۔پھر نظریں اس کی طرف گھمائیں۔

اچھا ٹھیک ہے۔تم نیچے جاؤ میں ڈریس اپ ہو کے اتا ہوں۔اس کے بہت اصرار کرنے پر سائیم مان گیا تھا۔مہروش بھی خوشی خوشی نیچے جانے لگی۔

یہ پنک والا لے لو تم پر سوٹ کرے گا۔مروہ نے موبائل بالکل اپنے سامنے رکھا تھا علیزے ویڈیو کال پہ موجود تھی۔اور اسے کپڑے دکھا رہی تھی۔مروہ ساتھ ساتھ پیزا بھی ریڈی کر رہے تھی۔

میں چاہتی ہوں میری بہن سب سے زیادہ خوبصورت لگے۔

ہاں علیزے مجھے بھی یہی والا اچھا لگ رہا ہے۔سا ئرہ نے بھی اپنی رائے دیتے ہوئے کہا۔دونوں نے سرخ کلر کے اپریل پہنے ہوئے تھے۔جن کے اوپر ریسٹورنٹ کا ٹیگ لگا ہوا تھا۔وہ دونوں علی کے ہی ایک ریسٹورنٹ میں کام کرتی تھی۔اور علی کے کینیڈا میں بہت سے ریسٹورنٹ اور شاپس وغیرہ موجود تھی۔

یہ ارڈر ٹیبل نمبر دو پہ پہنچا دو۔ایک کینڈین لڑکی نے مروہ کے ہاتھ میں رسید دیتے ہوئے کہا۔اس نے انگلش میں بات کی تھی۔