266K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Rung Episode 30

Shah Rung by Aneeta

مروہ۔۔۔

مروہ کو جاتے دیکھ کر مہروش نے روکا۔اور دو قدموں کا فاصلہ طے کر کےاس کے پاس ائی۔۔

۔جو گارڈن کی ایک طرف کھڑی تھی۔انسو صاف کرنے کی ایکٹنگ کرتے ۔

تم اگر اج وقت پر نہ اتی تو سائم پتہ نہیں میرے ساتھ کیا کرتا۔مروہ خود بہت الجھی ہوئی تھی۔وہ رکنا نہیں چاہتی تھی لیکن مہروش نے اسے بازو سے پکڑا تھا۔تم شکر مناؤ کہ تم بچ گئی۔میں جانتی ہوں سائم مجھ سے پیار کرتا ہے۔مروہ نے تشکی نگاہ سے اسے دیکھا۔اور اپنے ہاتھ کو پیچھے کیا۔

اس نے مجھے کال کر کے یہاں بلایا۔لیکن مہروش کی ایکٹنگ ختم نہیں ہوئی تھی۔میں انکار نہیں کر پائی۔لیکن شادی سے پہلے یہ سب۔میں نے تو اسے بہت روکا ۔۔

اور پھر یہ سب اس نے پھر رونا سٹارٹ کر دیا تھا۔وہ بہت اچھی ایکٹنگ کر رہی تھی۔لیکن مروہ نے اسے کوئی تسلی نہیں دی تھی جس کی وہ امید کر رہی تھی۔کیونکہ شاید مروہ کو خود کسی کی تسلی کی ضرورت تھی۔وہ کسی کے کاندھے پہ سر رکھ کر رونا چاہتی تھی۔اپنا درد کسے سے کہنا چاہتی تھی۔اج سائم اس کی نظروں سے بالکل گر گیا تھا۔اور اس نے یہ رشتہ شاید یہیں ختم کر دیا تھا۔اسے کبھی نہ بلانے نہ دیکھنے کی قسم وہ ابھی کھا چکی تھی۔۔۔

اس نے ایک نظر مہروش کو دیکھا اور پھر تیزی سے باہر چلی گئی۔۔۔

یہ گیم تو میری سوچ سے بھی زیادہ انٹرسٹنگ ہو گئی۔مہرش نے اپنے جھوٹے انسوں کو صاف کرتے ہوئے کہا۔۔

سائم اب بالکل بے ہوش ہو چکا تھا۔وہ مکمل نشے میں جا چکا تھا۔بیڈ پہ گرتے ہی وہ گہری نیند میں چلا گیا تھا۔لیکن نشے کے باوجود اس نے مروہ کو وضاحت دینا چاہی۔یہی اس کی محبت کی سچائی تھی۔لیکن بدقسمتی سے وہ ہر بار ہار جاتا تھا۔۔

رات اپنے دوسرے پہر میں ڈل چکی تھی۔مروہ جو اتے ہی اپنے کمرے میں روم لاک کر کے بیٹھ گئی تھی۔ابھی بھی اسی کنڈیشن میں بیٹھی ہوئی تھی۔وہ چاہ کے بھی اج کے منظر کو دماغ سے نہیں نکال پا رہی تھی۔وہ سونے کی کوشش کرتی تو ایک دم سے انکھ کھل جاتی۔وہ سائم سے نفرت کرنے لگی تھی۔یا پھر اسے جیلسی ہو رہی تھی۔

تم اتنے گھٹیا کیسے ہو سکتے ہو۔اس کا مطلب ہے سائم تم میرے ساتھ ڈرامہ کر رہے تھے۔اور میرے ساتھ بھی یہی سب کرنا چاہتے تھے۔جو تم مہروش کے ساتھ کر رہے تھے۔وہ زمین پر ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔انکھوں سے مسلسل انسو نکل رہے تھے۔وہ خود سے ہی باتیں کیے جا رہی تھی۔

کیوں کیا تم نے میرے ساتھ ایسا۔اس نے سر کو بیڈ کے ساتھ لگایا۔اور پھر سے رونے لگی۔

میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔کبھی نہیں سائم۔۔

کل تم میرے ساتھ وعدے اور قسمیں کھا رہے تھے۔اور اج۔۔۔

۔

سورج کی کرنیں کمرے میں پڑتے ہی سائم کی انکھ کھل گئی۔چکراتے ہوئے سر کے ساتھ وہ بیڈ پہ اٹھ کے بیٹھا۔

مروہ۔۔۔

اس کی زبان سے جو پہلا لفظ نکلا تھا وہ مروا تھا۔اس کا سر ابھی بھی بری طرح چکرا رہا تھا۔شرٹ کے بٹن کھلے ہوئے تھے۔اور دماغ پہ زور ڈالنے سے اسے وہ سارا منظر یاد اگیا تھا۔اسے سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔مروہ جو پہلے ہی اس سے بدزن تھی۔اسے کھونے کا خوف اب شدت پکڑ رہا تھا۔۔سائم نے سائیڈ پہ پڑے لیمپ کو زور سے زمین پر گرایا ۔

ایسا کیوں ہوتا ہے ہر بار۔میں تم سے انکھیں کیسے ملا پاؤں گا مروہ۔۔تمہارے سامنے کیسے کھڑا ہو پاؤں گا۔یہ کیا کر دیا میں نے۔میں جانتا ہوں تم میری کسی بات پہ یقین نہیں کرو گی۔وہ منظر اس کی انکھوں کے سامنے گھوم رہے تھے۔جب وہ مہروش کے قریب ہوا۔اور جب مروہ نے اسے ایسی حالت میں دیکھا۔وہ زور سے چیخا تھا۔۔

مہروش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔

وہ لڑکھڑاتے ہوئے قدموں کے ساتھ بیڈ سے اٹھا۔سامنے پڑے لیپ ٹاپ کو بھی اس زور سے زمین پر گرایا اس نے۔اس کا غصہ بے قابو ہوتا جا رہا تھا۔اس کی انکھیں سرخ ہو چکی تھی۔اسے بس فکر تھی تو مروا کی۔اور غصہ تھا تو مہروش پے۔لیکن فی الحال کے لیے وہ مہرش کے بارے میں کچھ نہیں سوچ رہا تھا۔

مروہ تمہیں مجھ پر یقین کرنا پڑے گا۔یہ کہتے ہی اس نے دونوں ہاتھ چہرےپہ پھیرے اور نظریں اگے پیچھے گھمائیں۔یقینا وہ موبائل تلاش کر رہا تھا۔جو اسے صوفے کے ساتھ پڑا ملا۔

اس نے مروہ کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔

اٹھاؤ پلیز اٹھاؤ۔۔۔۔۔

اس کے لہجے میں عجیب بے چینی تھی۔وہ صوفے سے اٹھ کر اب چہل قدمی کر رہا تھا۔

پلیز۔۔۔

لیکن مروہ کی طرف سے کوئی جواب نہیں مل رہا تھا۔اس نے موبائل کو ایک طرف گرایا اور گاڑی نکالی۔وہ گاڑی کو کافی تیز سپیڈ سے چلا رہا تھا۔باہر نکلنے سے پہلے ہی اس نے شرٹ تبدیل کر لی تھی۔

مروہ کی انکھ ابھی ہی کھلی تھی۔وہ زمین پہ ہی ٹیک لگائے سو گئی تھی۔اس کے ساتھ اس نے زمین پہ اگے پیچھے ہاتھ مارا تو موبائل اس کے ہاتھ ایا۔جہاں سائم کی کافی کالز ائی ہوئی تھی۔موبائل سائلنٹ تھا تو اسے پتہ نہیں لگا۔اور اگر پتہ لگتا بھی تو شاید نہ اٹھاتی۔

اس کی کمر میں شدید درد تھا۔ایسے سونے کی وجہ سے وہ مشکل سے اٹھ کر بیڈ پے ائی۔

میں تم سے اب کوئی تعلق نہیں رکھوں گی۔اس نے موبائل کو ایک طرف پھینکا۔

گڈ مارننگ ۔۔۔۔۔

علیزے مروہ پاس سے ملاقات ہو سکتی ہے۔مجھے ضروری بات کرنی ہے۔علیزے نے دروازہ کھولا ہی تھا تو سائم نے ایک ہی سانس میں اس سے یہ بات کہی۔۔۔

ہاں۔۔۔وہ سائم کی حالت دیکھ کر تھوڑی حیران ہوئی تھی۔وہ کافی الجھا ہوا لگ رہا تھا۔وہ کمرے میں ہی ہے تم ا جاؤ۔ریحان کام پہ جا چکا تھا۔جبکہ دادا جان ابھی تک سو رہے تھے۔تو علیزے نے اسے اندر انے کی اجازت دے دی۔۔۔۔

تم یہاں کیا کر رہے ہو۔سائم نے اندر داخل ہوتے ہی روم لاک کر دیا تھا۔کیونکہ شاید وہ جانتا تھا کہ مروا ارام سے اس کی بات نہیں سنیں گی۔مروہ جو ابھی اٹھی ہی تھی۔اسے دیکھ کر تھوڑا چونکی۔دروازہ کیوں لاک کر رہے ہو۔۔

مرو ہ۔پلیز ایک دفعہ میری بات سن لو۔

مجھے کچھ نہیں سننا۔دروازہ کھولو اور یہاں سے دفع ہو جاؤ۔ہماری فیملی تمہاری فیملی کی طرح بغیرت نہیں ہے۔جہاں رشتوں کا کوئی پاس نہیں رکھا جاتا۔مروہ نے دروازے کے ہینڈل پہ ہاتھ رکھا ہی تھا کہ سائم نے اس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا۔۔۔

دیکھو تم نے جو دیکھا وہ غلط تھا۔وہ حقیقت نہیں ہے۔سائم کو الفاظ نہیں مل رہے تھے کہ وہ اپنی وضاحت کیسے دے۔مر وہ نے اس کا ہاتھ زور سے پیچھے کیا۔سائم نے دوبارہ سے اس کا ہاتھ پکڑا اور دیوار کے ساتھ لگایا۔

ایک دفعہ بات سن لو پھر چلی جانا۔

سائم یہ میرا گھر ہے۔کچھ تو شرم کرو۔مروہ نے اپنا رخ دوسری طرف کر لیا تھا۔کیونکہ سائم اس کے بہت قریب ا چکا تھا۔وہ اس کی انکھوں میں نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔مجھے کچھ سمجھ نہیں ائی۔۔

کیا سمجھ نہیں ائی سائم۔مجھے تو بولتے ہوئے اتنی شرم ا رہی ہے۔کہ تم ایسے انسان ہو۔تم تو کہتے تھے کہ وہ تمہاری بچپن کی دوست ہے۔تمہاری کزن ہے۔تو تمہارا اور اس کا رشتہ ایسا تھا۔اور نہ جانے کتنیوں کے ساتھ ایسا ہے۔

ایسا کچھ بھی نہیں. ایک دفعہ مجھے ایکسپلین کرنے کا موقع تو دو۔اس نے ایک ہاتھ سے مروہ کا رخ اپنی طرف کرنا چاہا۔لیکن مروا نے اس کا ہاتھ پیچھے کر دیا۔اس نے اس کی باہوں سے نکلنے کی کوشش بھی کی تھی۔لیکن پھر سے ناکام رہی۔

تم کیا ایکسپلین کرو گے۔جو میں نے اپنی انکھوں سے دیکھا ہے اس کے بعد بھی کچھ ایکسپلین کرنے کی ضرورت ہے۔

اور ایک موقع سائم؟

میں نے تمہیں کتنے موقع دیے مجھے تو گنتی بھی یاد نہیں رہی اب ۔۔

میرے اور اس کے بیچ میں ایسا ویسا کچھ بھی نہیں۔اس نے میری چائے میں کچھ ملایا اس کے بعد مجھے ہوش نہیں رہی۔میں نے جوکیا مجھے کچھ یاد نہیں۔لیکن ہم دونوں کے بیچ میں ایسا ویسا کچھ نہیں ہوا۔

بس کر دو بس۔۔مروہ نے پھر سے اس سے پیچھے ہٹانا چاہا۔

وہ تمہارے ساتھ تمہارے فلیٹ میں کیا کر رہی تھی۔اور تم دونوں کی دوستی کیا پھر سے بحال ہو گئی تھی کہ وہ تمہارے لیے چائے بنانے چلی گئی۔اور پھر تم نے اس کے ہاتھوں سے چائے پی بھی لی۔اور پھر۔وہ بولتے بولتے چپ ہوئی ۔۔

مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی جاؤ یہاں سے اب۔۔مروہ نے اپنے ہاتھ اس کے سینے پہ رکھے۔اور اسے پیچھے کیا۔۔

تم سچ سننا ہی نہیں چاہتی۔سائم پہلے ہی الجھا ہوا تھا۔اس نے بھی اب سرد لہجہ اختیار کیا۔۔

کیونکہ تم نے کبھی مجھ سے محبت کی ہی نہیں مروہ۔

اور اب میں محبت کی بھیک مانگ مانگ کے تھک گیا ہوں۔میں ہر بار بچوں کی طرح ایکسپلین نہیں کر سکتا۔اس کے لہجے میں تھوڑی سختی ائے تھی۔اور اس نے بھی مروہ سے تھوڑا اور فاصلہ بنایا ۔

اب میں اخری دفعہ پوچھوں گا۔۔۔

تمہیں اخری دفعہ بھی پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ہاں مجھے نہیں ہے تم سے محبت اور نہ ہی کبھی تھی۔مروہ نے بھی اسی کے لہجے میں جواب دیا۔

اوکے دفع ہو رہا ہوں تمہاری زندگی سے۔میں بی ان سب سے بہت تنگ اگیا ہوں۔تم میری محبت کے قابل ہی نہیں ہو مروہ۔۔

ہاں اب تو تمہاری محبت کے قابل صرف مہروش ہوگی۔تم جیسوں کو ایسی ہی لڑکیاں پسند اتی ہیں۔جیسے خود بغیرت ویسے ہی پورا خاندان۔۔

یہ بات سنتے ہی سائم نے اسے زور سے بازو سے پکڑا۔اب ایک اور لفظ کہا نا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔۔

سننے میں تکلیف ہوتی ہے کرنے میں نہیں۔مروہ بھی اج اس سے ڈر نہیں ر ہی نہیں تھی۔یا شائد اس کے دماغ کی گڑیں کھول گئی تھی۔

دفع ہو جاؤ اور دوبارہ مجھے کبھی اپنی شکل مت دکھانا۔مروہ نے دروازے کا لاک کھولا اور اسے جانے کا کہا۔۔

ائندہ تم بھی میرے راستے میں نہ انا۔سائم نے اس کے ہاتھ کو دروازے پہ سے زور سے پیچھے کیا۔اور دروازے کو بہت زور سے بند کر کہ باہر کی طرف چلا گیا۔

علیزہ جو کچن میں چائے بنانے میں مصروف تھی۔چائے لے کر کمرے میں ائی لیکن سائم جا چکا تھا۔۔

سائم چلا گیا۔اس نے حیرانگی سے کمرے کو دیکھا۔اور چائے ٹیبل پر رکھی۔۔

ہاں وہ چلا گیا۔علیزے تم پاگل ہو کہ کسی کو بھی میرے کمرے میں بیچ دیتی ہو۔اب وہ سائم کا غصہ لیزے پر نکال رہی تھی۔اور وہ بھی اتنی صبح صبح دادا جان ا جاتے تو میں کیا کہتی۔

وہ تمہارا دوست ہے مجھے لگا کوئی ضروری بات ہوگی۔کیوں کیا ہوا ہے۔کیا تم دونوں کا جھگڑا چل رہا ہے۔شک تو مجھے پہلے سے ہی تھا مجھے سب سچ بتاؤ۔

سچ یہ ہے کہ وہ اچھا انسان نہیں ہے وہ۔بہت ہی گھٹیا ہے۔

کیا مطلب ہے اس بات کا۔علیزے تھوڑا پریشان ہوئی تھی۔مجھے تو وہ ایسا بالکل بھی نہیں لگتا۔ایک اچھا انسان لگتا ہے۔

دیکھو میں تمہارے کسی سوال کا جواب نہیں دینے والی بس اج کے بعد وہ گھر کے اندر داخل نہ ہو۔یہ کہتے وہ کمرے سے باہر چلی گئی تھی۔کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اب علیزے کے سوالوں کی ڈائری کو کوئی بند نہیں کر سکتا۔۔

۔۔۔

بس بہت ہو گیا سائم۔اب اسے اس کے حال پہ چھوڑ دو۔میں اب تمہارے پیچھے آنے والا نہیں۔سائم خود سے ہی سوال کر رہا تھا اور حود جواب دے رہا تھا۔تم نے بہت تماشہ بنا لیا میرا مروہ۔۔۔گاڑی کی سپیڈ بہت تیز تھی۔۔۔

اج دو دن گزر گئے سائم نے مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔کیا سچ میں وہ ۔مروہ شیشے کے سامنے کھڑی خود سے سوال کر رہے تھی۔کیوں کرے گا وہ اب اس کے پاس مہروش ہے۔۔

اسے میری کیا ضرورت ہے۔اور مجھے اتنی فکر کس بات کی ہو رہی ہے۔مروہ تمہیں تو شکر ادا کرنا چاہیے۔کہ تمہاری جان چھوٹ گئی۔لیکن اس نے ایک نظر موبائل کو بھی دیکھا تھا۔شاید اسے کوئی امید تھی۔۔۔۔

وہ گہری سوچ میں گم تھی۔کے علیزے نے دروازہ نوک کیا۔۔

ہاں اجاؤ۔۔

یہ تمہارے نام پہ کوئی پارسل ایا ہے۔۔۔

میرے نام پر۔کیا ہے۔اس نے حیرانگی سے ڈبے کو پکڑا جو پیک ہوا تھا۔مجھے نہیں پتہ میں نے کھولا نہیں ہے تم کھول کے دیکھ لو۔میں اتی ہوں ریحان کو کھانا دینا ہے۔یہ کہہ کے وہ باہر چلی گئی تھی۔مروہ نے فورا سے ڈبے کو کھولنا شروع کیا۔۔۔

یہ تو میری ڈائری ہے۔اس نے حیرانگی سے ڈائری کو دیکھا۔یہ تو کینڈااس نے ڈائری کو ہاتھ میں لیا ہی تھا کہ سائم کی کال اگئی۔جسے اگلے ہی لمحے مروا نے اٹھا لیا تھا۔

میرے پاس یہ تمہاری اخری نشانی تھی۔اور تمہاری کوئی بھی چیز میں اپنے پاس اب رکھنا نہیں چاہتا۔اس لیے یہ بھی تمہارے حوالے کر دی ہے۔۔۔

یہ تمہارے پاس کیسے۔مروہ بیڈ پر بیٹھ چکی تھی۔ڈائری ابھی بھی اس کے ہاتھ میں تھی۔۔۔

بولو۔۔۔دوسری طرف سے جواب نہیں ملا تھا۔

بد قسمتی سے مجھے کہیں سے مل گئی تھی۔مروہ بھی سمجھ چکی تھی کہ۔جہاں اس نے گھمائی تھی وہیں سے اسے ملی ہوگی۔وہ تھوڑا حیران تھی لیکن۔پھر اس کے سوالوں کے جواب اسے خود ہی مل گئے تھے۔

اج سے ہم دونوں کے راستے جدا ہیں۔یہ یاد رکھنا۔سائم کا ارادہ پکا لگ رہا تھا۔۔

لیکن۔۔۔۔

مروہ شاید اس سے بات کرنا چاہتی تھی۔لیکن سائم نے پہلے ہی فون بند کر دیا تھا۔۔

مروہ کے ذہن میں ہزاروں سوال تھے۔جن کے جواب شاید صرف سائم کے پاس تھے۔۔

پہلے تو بات کرنے کے لیے مرتے تھے۔اور اب فون بند کر دیا۔ہاں اب تمہیں مہر وش جو مل گئی ہے کہاں میں اور کہاں وہ۔مروہ نے خود کو شیشے میں دیکھا۔ڈائری ابھی بھی اس کے ہاتھ میں تھی۔۔

نہیں وہ اس کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔مروہ کے ذہن میں عجیب بے چینی تھی۔وہ جس مرضی کے ساتھ ہو مجھے کیا۔اس نے تو یہ ڈائری بھی پڑھ لی ہوگی۔۔پتہ نہیں کب سے اس کے پاس تھی۔اس نے ڈائری کو اگے پیچھے کیا۔۔۔۔۔

کیا ہوا مرو ہ طبیعت تو ٹھیک ہے۔علیزے کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا۔اس نے چائے کا کپ مروہ کی طرف بڑھایا۔تو اس کی حالت کا اندازہ لگایا۔اور پارسل میں کیا تھا۔

کچھ نہیں ۔کچھ ڈاکومنٹ تھے کینیڈا کے ۔۔

اگر طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو ریسٹ کر لو۔

نہیں اج انٹرویو ہے کیسے ریسٹ کر سکتی ہوں۔مروہ نے چائے کا کپ ہاتھ میں لیا۔اور خود کو تھوڑا ریلیکس کیا۔

دیکھو تم مجھے کچھ پریشان لگ رہی ہو۔مجھے دوست سمجھ کر بتاؤ۔کیا کوئی مسئلہ ہے۔کسی نے کچھ کہا ہے۔یا کوئی تمہیں پریشان کر رہا ہے۔علیزے نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔وہ بالکل اس کے مقابل بیٹھی تھی۔اور سوالیہ نظروں سے اس کی انکھوں میں دیکھنے لگی کیا سائم نے کچھ کہا ہے۔۔۔

تمہیں میں نےاتنا پریشان پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

علیزے ایسی کوئی بات نہیں ہے۔بس جاب کی ٹینشن تھی۔اور ایسی ویسی کوئی بات نہیں ہے۔اس نے انکھیں علیزے سے چھپانا چاہیی۔لیکن بڑی بہن ماں کی جگہ ہوتی ہے۔وہ اس کی انکھوں کو اچھے سے پڑ چکی تھی۔وہ سمجھ چکی تھی۔کہ کچھ تو ہے۔۔

انشاءاللہ جاب مل جائے گی۔تم پریشان نہ ہو اس معاملے میں۔۔

کیا ہوا میری شہزادی کو۔امجد میاں بھی کمرے میں داخل ہوئے۔

کچھ نہیں دادا جان بس یہ ایسے ہی تنگ کر رہی ہے۔دادا جان اس کے پاس ا کے بیٹھے۔بیٹا میں بھی کچھ دنوں سے نوٹ رہا ہوں۔کوئی پریشانی ہے تو مجھے بتاؤ۔

دادا جان ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔اپ بھی اس کی باتوں میں اگئے۔علیزے جو سر پر کھڑی تھی ۔اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگی۔یہ تو ایسے ہی بولتی رہتی ہے۔مروہ نے اپنا سر دادا جان کے سینے پہ رکھا۔شاید اسے سکون کی ضرورت تھی۔دادا جان نے اس کے سر پہ بوسہ دیا۔بیٹا میں ہر قدم پہ تمہارے ساتھ ہوں۔اگر کوئی پریشانی ہو۔تو ایک دوست سمجھ کر مجھے بتانا۔علیزے کی بھی انکھیں نم ہو چکی تھی۔اور مروہ کی انسو تو پہلے ہی اس کے کا گا لوں پہ ا چکے تھے۔۔۔۔

سائم شاور لے کر بیڈ روم میں ایا ہی تھا۔کہ اس کا موبائل بجنے لگا ۔۔اس نے ایک نظر خود کو شیشے میں دیکھا۔انکھیں حاصی سرخ ہو چکی تھی۔۔اس نے شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے فون کان کے ساتھ لگا۔

ہاں سمیر کیسے ہو۔سائم نے فون کان کے ساتھ لگاتے ہی الجھے ہوئے لہجے میں اس کا حال پوچھا۔وہ فون اٹھانا تو نہیں چاہتا تھا۔ پرسمیر اس کا کزن تھا۔اور دونوں کے تعلقات بھی اچھے تھے۔۔

تم اتنے بے فیض نکلو گے سائم۔۔میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔پاکستان ائے اور مجھے بتایا بھی نہیں۔سمیر افس چیئر پر بیٹھا سائم سے بات کر رہا تھا۔۔

نہیں ایسی بات نہیں ایک ضروری کام کے لیے ایا تھا۔بس اسی میں مصروف تھا۔سائم نے موبائل ایک کان سے دوسرے کان پہ لگایا۔

اج لنچ میرے ساتھ کرو گے تم۔اور میں پوچھ نہیں رہا بتا رہا ہوں۔افس میں تمہارا انتظار کروں گا پھر ساتھ میں چلیں گے۔یہ کہتے ہی اس نے فون بند کر دیا تھا۔۔

نہ۔۔۔۔سائم کے بولنے سے پہلے ہی وہ فون بند کر چکا تھا۔۔

مروہ ویٹنگ ہال میں بیٹھی اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی۔کہ ایک لڑکی نے اس کا نام لے کر اسے اندر جانے کا کہا۔تو وہ بالوں کو ٹھیک کرتے اندر کی طرف گئی۔۔

سلام کے بعد اس نے فائل ٹیبل پر رکھی اور سامنے والی چیئر پر بیٹھ گئی۔اس نے پنک کلر کا شارٹ فراک پہننا تھا۔اونچی پونی باندھی ہوئی تھی۔اور نیچے وائٹ کلر کی ٹائٹس تھی۔۔

اپ کینیڈا سے گریجویٹ ہوئی ہو تو پھر وہاں جاب کیوں نہیں کی۔یہ سائم کے کزن سمیر کا افس تھا۔

کچھ فیملی پرابلم کی وجہ سے مجھے واپس انا پڑا۔مروہ نے سرسری سا جواب دیا اور پھر سے نظریں نیچے کر لی سمیر نے ایک نظر مروہ کو دیکھا اور پھر فائل کو۔سمیر ایک بہت ہی اچھا لڑکا تھا۔اور اگر سائم کی خاندان میں کسی سے بنتی تھی تو وہ سمیر تھا۔

اوکے پھر اپ کل سے جوائن کر لو۔اسے مروہ اس پوسٹ کے لیے پرفیکٹ لگے تھی۔

تھینک یو۔۔مروہ نے سمیر کی طرف دیکھ کر جواب دیا۔اس کے دونوں ہاتھ اس کی گود میں تھے۔بالوں کو دونوں طرف سے اگے کیا ہوا تھا۔

کیا میں ابھی سے جوائن کر سکتی ہوں۔مروہ شاید خود کو مصروف رکھنا چاہتی تھی۔اور اگر نہ رکھتی تو سائم کے نام سے پاگل ہو جاتی۔۔۔

جی جی کیوں نہیں۔اپ جیسے ہارڈ ورکنگ ورکر کی ضرورت تو ہمیشہ رہتی ہے۔اپ سے جوائن کر سکتی ہے۔

بس کچھ فارمیٹس پوری کرنی ہوں گی۔اس کے بعد اپ کو سٹاف ممبر کام سمجھا دیں گے۔سمیر نے فائل کو ٹیبل پر رکھا اور کچھ پیپرز مروہ کی طرف کیے۔مروہ نے ان پر سائن کیا۔تھوڑی ہی ٹائم بعد اس نے کا م سٹارٹ کر دیا تھا۔۔۔

اتنا سب کچھ ہو گیا اور تم مجھے ابھی بتا رہے ہو۔ارم بھی سننے کے بعد خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی۔بس اب تم مروہ کے ذہن میں ڈالو۔کہ تم سائم کی کتنا قریب ا چکی ہو۔

لیکن سائم مجھے چھوڑے گا۔وہ مجھے جان سے مار دے گا اپ اس کے غصے سے واقف مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے اس سے۔۔مہروش سائم سے اس دن سے چھپ رہی تھی۔۔

تم نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ میں تمہیں ایسے ہی چھوڑ دوں گا۔سائم نے موبائل اس کے کان سے اتارا اور زمین پر پھینکا۔تمہیں لگتا ہے ۔ہے کہ تم مجھ سے چھپ سکتی ہو۔

اتنی بیہودہ حرکت تم کیسے کر سکتی ہو۔تمہیں جیسا بھی سمجھتا تھا اتنا گرا ہوا کبھی نہیں سمجھا تھا۔مہروش کے بال اب اس کے ہاتھ میں تھے۔اور زور سے پیچھے کی طرف کھینچے ہوئے تھے سائم نے۔۔

پلیز میری بات سنو ۔ مہرش نے ہاتھ سے بالوں کو چھڑانا چاہا۔پلیز سائم چھوڑ دوں۔سائم نے ایک جھٹکے میں اسے پیچھے گرایا۔۔۔

مروہ کو تم نے کیا کہا تھا۔مجھے سب سچ سننا ہے۔

تم مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے مروہ کو کیا بتایا تھا۔شاید وہ مروہ کے بارے میں جاننا چاہتا۔اسے کیا کہانی سنائی تھی۔سائم کا غصہ بے قابو ہو چکا تھا۔

میری اس سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔اس نے

کیوں کیا تم نے سائم اس کے قریب ہوا۔۔

کیونکہ پیار کرتی ہوں میں تم سے۔مہروش قدم بقدم اس کے پاس ا رہی تھی۔وہ مروہ نہیں نہیں تھی پیچھے ہٹتی۔

ائی لو یو سو مچ۔مہروش نے بے شرمی سے محبت کا اظہار کیا تھا۔اس نے اپنے بازو اس کے گلے میں ڈالنے کی کوشش کی لیکن سائم نے اسے ایک جھٹکے میں پیچھے گرایا۔

تم اگر لڑکی نہ ہوتی تو میں تمہیں ابھی بتاتا۔اس کے بازو سے کھینچ کر اس نے پیچھے گرایا تھا۔ائندہ کبھی میرے قریب انے کی کوشش مت کرنا۔ورنہ جو کروں گا ساری زندگی یاد رکھو گی۔

ابھی بھی شکر ادا کرو کہ بچ گئی ہو۔ورنہ جو تم کر چکی ہو وہ کافی تھا۔تمہیں سبق سکھانے کے لیے۔۔

ہاں۔۔

تم جو سمجھتے ہو سمجھتے رہو میں پیار کرتی ہوں تم سے اور تمہارے بغیر ایک منٹ نہیں رہ سکتی۔تم اس مروہ کے پیچھے پاگل ہو جسے تم پر یقین نہیں۔وہ پھر سے اس کے قریب ائی تھی۔وہ اس کو بہکانے کی پوری کوشش میں لگی تھی۔وہ سائم کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی تھی۔

تمہیں سمجھ نہیں ا رہی سائم نے ایک زوردار تھپڑ اس کے منہ پہ مارا۔ائندہ میرے قریب مت انا۔ورنہ میں سب بھول جاؤں گا۔وہ بری طرح سے بیڈ پر گری۔سائم اس کے ارادوں کو باپ چکا تھا۔تو ٹائم ضائع کیے بغیر وہاں سے چلا گیا۔مہروش ایک بار اس کے پیچھے ضرور ائی تھی۔اور اس کا غصہ دیکھ کر وہیں رک گئی۔۔

میں تمہیں اپنا بنا کر دم لوں گی۔۔

اس کا ہاتھ ابھی بھی اس کے منہ پر تھا۔تم صرف میرے ہو صرف میرے۔۔وہ چلاتی ہوئی بیڈ پر بیٹھی تھی۔۔۔۔

اگر سائم کو مروہ کی ٹینشن نہ ہوتی۔تو یقینا اج مہرش نے نہیں بچنا تھا۔لیکن سائم کا ذہن دو طرف بھٹکا ہوا تھا۔اس میں ۔وہ بہت بے بس ہو چکا تھا۔

مروہ اپنی افس چیئر پر بیٹھی۔کام میں مصروف تھی۔ہاتھ میں بال پوائنٹ لیے ایک پیپر پہ سائن کرنے کے بعد اس نے پانی کا گلاس ہاتھ میں لیا۔جو پہلے سے ٹیبل پر پڑا ہوا تھا۔۔۔

اج سورج کہاں سے نکلا ہے۔ سمیر کے افس سے نکلتی ہوئی ایک لڑکی جس نے جینز ٹاپ پہنا ہوا تھا۔اور نیچے ہائی ہیلز پہنی ہوئی تھی۔قدم بقدم افس کے ہال میں ا رہی تھی۔۔

مسٹر سائم مردان۔۔۔

مروہ جس نے پانی کا گلاس ابھی منہ کے ساتھ ہی لگایا تھا اسے زور سے دچکا لگا۔اس نے کھانستے ہوئے سائم کی طرف دیکھا۔سائم بھی اسے دیکھ چکا تھا۔۔

کیسے ہو۔۔۔ابرش سمیر کی چھوٹی بہن تھی۔اور سائم کو بھی اپنے بڑے بھائی کی طرح سمجھتی تھی۔۔

اج ہم غریبوں کے لیے کیسے ٹائم مل گیا۔اس نے ہاتھ سائم کی ہاتھ سے ملایا تھا.سائم نے ابرش کے ہاتھ سے ہٹاتے ہی پھر سے مروہ کو دیکھا۔لیکن پھر اگنور کرتے ہوئے اگے بڑھا۔

تو میں اپنے کزنوں کے بالکل بھی یاد نہیں اتی۔وہ باتیں کرتے ہوئے اندر جا رہے تھے۔۔

یہ بھی اس کی کزن ہے۔یہ میری جان کب چھوڑے گا۔۔

اگنور تو ایسے کر رہا ہے جیسے میں اسی کے لیے بیٹھی ہوں۔مجھے پرواہ نہیں ہے تمہاری مروہ یہ کہتے ہوئے لائبریری کی طرف چلی گئی۔کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہیں وہ اپنا غصہ نکال سکتی۔۔

تو ٹائم مل گیا جناب کو۔سمیر ابرش اور سائم تینوں ہی افس میں بیٹھے تھے۔سمیر نے کافی کا ارڈر دیا تھا۔جو اب ٹیبل پر موجود تھی۔

مروہ نے جہاں کب سے جوائن کیا۔۔

سمیر اس کے سوال پہ چونکا تھا۔ابرش جو موبائل میں لگی ہوئی تھی اس نے ابھی نظریں سائم کی طرف گھمائی۔

کیا تم جانتے ہو مروا کو۔۔

ہاں۔۔یہ کہہ کے سائم چپ ہو گیا تھا۔۔

اس نے کچھ دن پہلے ہی جوائن کیا ہے۔ہاں وہ بھی کینڈا سے گریجویٹ ہوئی ہے۔

کیسے جانتے ہو ذرا یہ بھی بتا دو ہمیں ابرش نے موبائل ایک طرف رکھا اور سائم کو دیکھنے لگی۔کیا یہ ہماری ہونے والی بابی تو نہیں ہے۔

ایسا کچھ نہیں ہے۔کینڈا میں ایک دو دفعہ ملاقات ہوئی تھی۔اس نے ایک نظر پیچھے دیکھا۔افس سے کیبن تو نظر ارہا تھا لیکن مروا نہیں تھی۔اور جب سے بیٹھا تھا۔تقریبا ہر دوسرے تیسرے منٹ وہ پیچھے دیکھتا تھا۔اور یہ بات ابرش اور سمیر نے بھی نوٹ کی تھی۔۔

پتہ نہیں تمہاری زندگی میں کتنی لڑکیاں ہیں سائم پہلے مہروش اور اب یہ اور اس کے بعد نہ جانے کون کون۔تم ایک گھٹیا انسان ہو۔ایک بے شرم انسان۔۔۔

نہ جانے کتنی لڑکیاں ہیں تمہاری زندگی میں۔

لیکن مجھے کوئی پرواہ نہیں۔۔۔

وہ اپنے آپ باتیں کیے جا رہے تھی۔۔

تو تم کیا ہو۔۔سائم پیچھے کھڑا اس کی ساری باتیں سن رہا تھا۔مروہ نے ایک منٹ کے لیے انکھوں کو بند کیا۔وہ سانپ کی اواز پہچان چکی تھی ۔ایک لمبی سانس لینے کے بعد اپنا رخ پیچھے کیا۔وہ لائبریری میں کھڑی تھی۔اور سائم لائبریری کے دروازے پر اس نے کچھ کہے بغیر وہاں سے جانا چاہا۔پر سائم اپنے بازو سے دیوار بنا چکا تھا۔میری بات کا جواب تو پھر چلی جانا۔مجھے شوق نہیں تمہیں روکنے کا۔اس نے ساتھ ہی وضاحت بھی دے دی تھی۔تاکہ مروہ کو پتہ لگے کہ وہ اپنی بات پہ قائم ہے ۔

مجھے کسی بات کا جواب نہیں دینا سائم۔پلیز مجھے جانے دو۔

مروہ نے اس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا اور اسے پیچھے کرنا چاہا۔لیکن سائم کو شاید اسی کا انتظار تھا۔اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے پیچھے کیا۔میری باتوں کا جواب دو پھر جہاں جانا ہو چلی جا نا سائم نے مروہ کو اپنی طرف کھینچا۔وہ بری طرح سے اس کے ساتھ ٹکر ائی تھی۔یہ کیا بدتمیزی ہے اب دور ہٹو۔پرائم اپنی گرفت مضبوط کر چکا تھا۔

پہلے مہروش ابرش اور اب میں کسی ایک کے ساتھ ہی سنسیر ہو جاؤ۔تاکہ تمہاری زندگی میں بھی سکون ائے۔

ابرش میری کزن ہے۔اور جیسا تم سمجھ رہی ہو ہمارا ایسا کوئی کنکشن نہیں ہے۔ضروری نہیں انسان جس سے ملے اس سائم کی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔

ہاں تم کزنوں کا جیسا کنکشن ہوتا ہے۔مجھے علم ہے اس کا مہروش بھی تو تمہاری کزن تھی۔ایک گھٹیا خاندان سے تعلق ہے تمہارا۔

مروہ۔۔سائم کے لہجے میں اب غصہ تھا۔زبان سنبھال کر بات کرو۔اور مجھ تک ہی رہو تو اچھا ہوگا۔۔۔

اچھا کتنا برا لگا تمہیں۔اپنی چہیتیوں کے بارے میں سن کر اس نے سائم کو پیچھے ہٹانا چاہا۔لیکن سائم کے بازو بہت مضبوط تھے۔۔۔

میں نے کہا نا میرا کسی کے ساتھ ایسا کنکشن نہیں ہے۔۔

تم مجھے جھوٹا کہتے ہو تم خود جھوٹے ہو۔تمہارا جس کے ساتھ جیسا کنکشن ہے میں اپنی انکھوں سے دیکھ چکی ہوں۔اور تم ابھی بھی بے شرموں کی طرح میرے سامنے کھڑے ہو۔مجھے بھی اپنی کزنوں جیسا سمجھا ہے۔ہٹو ورنہ شور مچا کے سارے افس کو اکٹھا کرو گی اور تمہاری اصلیت سب کو پتہ لگ جائے گی۔

سائم غصے سے مروہ کو گھور رہا تھا۔مروہ نے اپنا رخ دوسری طرف کر لیا تھا۔اب مجھے جانے دو گے۔۔۔

شور بچاؤ۔۔

ایسے تو میں بھی نہیں جانے دوں گا۔چلو جلدی کرو ٹائم نہیں ہے میرے پاس مروہ۔اس نے تھوڑا اور مروہ کو قریب کیا۔چلو جلدی کرو۔ ۔۔

اخر تم چاہتے کیا ہو۔کیوں میرے پیچھے پڑے ہو۔

میں نے تمہیں تمہارے حال پہ چھوڑ دیا تھا۔اور ابھی بھی اپنی بات پہ قائم ہوں۔لیکن تم نے اپنی طرف مائل کیا مجھے میرے بارے میں ایسی بات کیوں کر رہی تھی۔جبکہ میں سب کچھ ختم کر چکا تھا اس دن ۔

ائندہ تمہاری زبان پہ میرا نام نہ ائے۔اسے خاموش دیکھ کر سائم نے پھر سے لفظوں کا وار کیا۔میں سب کچھ ختم کر چکا ہوں۔تو اس کا مطلب ہے سب کچھ ختم ہو گیا۔اس نے سرگوشی میں سمجھاتے ہوئے اسے پیچھے کیا۔۔۔