266K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Rung Episode 5

Shah Rung by Aneeta

ہر بات کے لیے تمہاری منتیں کیوں کرنی پڑتی ہیں اج تو میں بالکل کچھ بھی نہیں سنوں گا سائم نے اسے بازو سے پکڑا اور گاڑی میں بٹھا دیا۔

میں۔۔۔۔۔

مروہ کے ذہن میں عجیب و غریب وسوسے ا رہے تھے۔وہ اس کے ساتھ تو بالکل بھی نہیں جانا چاہتی تھی۔پر وہ بے بس تھی۔

وہ کچھ کہنے ہی والی تھی کہ سائم نے ہاتھ اس کے ہونٹوں پہ رکھا۔اور سائم کی اس حرکت پر وہ اور ڈر گئی تھی اور اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا اس کا سیٹ بیلٹ باندھنے کے بعد وہ ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھ چکا تھا۔۔

اور تب جا کر مروہ نے سکون کا سانس لیا تھا۔۔۔۔۔۔

تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے مروہ جو ہاتھوں کی انگلیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی یا شاید نظر انداز کرنے کا اس کے پاس یہی طریقہ تھا ایک نظر اسے دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔

میرے مسئلے تم نہیں سلجھا سکتی۔مس مروہ الیاس۔اس کی حالت دیکھ کر سائم تھوڑا پریشان تھا۔اور وہ کسی اور اذیت میں اسے نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔اسی لیے شاید خاموش رہا۔

وہ دونوں تھوڑی ہی دیر میں ایک کلینک پہنچ چکے تھے۔۔۔

یہ ویکنس کچھ نہ کھانے کی وجہ سے ہوئی ہے۔تم اپنا خیال کیوں نہیں رکھتی۔تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا مروا۔

اتنی ویکنس سائم کے ہاتھ میں مروہ کی رپورٹس تھی یہ کہتے ہوئے اس نے مروہ کو سر سے لے کے پاؤں تک دیکھا تھا کہیں ڈائٹنگ تو نہیں کر رہی وہ شاید اس کا موڈ اچھا کرنا چاہتا تھا۔۔۔

اب تمہارا کام ختم ہو چکا ہے۔۔

جاؤ یہاں سے میں خود چلی جاؤں گی مروہ نے رپورٹس کو زور سے اس کے ہاتھوں سے کھینچا تھا لیکن اس کے باوجود رپورٹ سائم کے ہی ہاتھ میں تھی۔

میرا کام تو ابھی شروع ہوا ہے اج سے تمہارا خیال میں نے رکھنا ہے سائم نے رپورٹس کو ایک طرف کیا۔۔

پتہ نہیں کیوں پر مجھے لگتا ہے تم میری ذمہ داری ہو وہ مسلسل اس کی انکھوں میں دیکھ رہا تھا ۔۔

وہ دونوں پرائیویٹ کلینک کے باہر کھڑے تھے۔۔

مروا نے ایک لمبی سانس لی اور دو قدم اگے بڑھائے وہ سائم کو کچھ بھی نہیں کہنا چاہتی تھی۔

چلو اجاؤ بیٹھو سائم نےگاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے اسے اندر بیٹھنے کا کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مروہ بیٹھنا تو نہیں چاہتی تھی لیکن اسے سائم کا بھی اچھے سے اندازہ ہو گیا تھا اسی وجہ سے وہ چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔

تھوڑا دور چلنے کے بعد مروہ کو احساس ہوا کہ یہ اس کے گھر کا راستہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمارا فلیٹ اس طرف نہیں ہے اس نے ایک نظر روڈ پہ دیکھا اور پھر سائم کو دیکھنے لگی سائم کی نظریں روڈ پر تھی اور دونوں ہاتھ سٹیئرنگ وہیل پے تھے جنہیں وہ دھیرے دھیرے گھما رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نے کب کہا کہ میں تمہیں تمہارے فلائٹ میں چھوڑ کے اؤں گا۔

اس نے ایک نظر اس کو دیکھا ۔اور دوبارہ سے روڈ پہ دیکھنے لگا۔

اس بات کا ک۔۔۔۔۔۔۔۔کیا مطلب ہے۔۔۔۔۔

مروا نے کمر سیدھی کی اور اپنا رخ سائم کی طرف کر لیا مجھے کہاں لے کے جا رہے ہو۔وہ ڈر چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

ریلیکس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ سامنے دیکھو میری فیورٹ پلیس بس یہیں سے ہم کھانا کھائیں گے دیکھو نا ہماری گنتی کی کتنی ملاقاتیں ہو گئی۔۔۔۔۔۔

۔ابھی تک ہم نے ساتھ بیٹھ کے کھانا نہیں کھایا سائم ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

مروا نے ایک نظر سامنے دہرائی جہاں بڑے سے بورڈ کے اوپر سٹار ریسٹورنٹ لکھا تھا اور شیشے کے دونوں جانب انڈیا کا جھنڈا لگا ہوا تھا جگہ دیکھنے میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔

یہاں انڈین پاکستانی ہر ڈش مل جاتی ہے میں اکثر یہاں اتا ہوں سائم نے مروا کو ریسٹورنٹ کا معائنہ کرتے دیکھ کر کہا اب چلو اترو بھی وہ گاڑی کو پہلے ہی بریک لگا چکا تھا اب شاید مروہ کے اترنے کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔

یہ انڈیا کا ریسٹورنٹ ہے میں یہاں نہیں جاؤں گی مجھے انڈیا اچھا نہیں لگتا ۔۔

سائم کا ہاتھ ڈور ہینڈل پہ تھا جسے شاید وہ کھولنے والا تھا۔اس نے ہنستے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پسند تو تم مجھے بھی نہیں کرتی پھر بھی یہاں تک تو ا ہی گئی ہو اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ روح مروہ کی طرف کیا مروہ کا ہاتھ بھی ڈور ہینڈل پر ہی تھا۔

مروہ کو ان کے لاونچ میں کی گئی باتیں یاد اگئی اور وہ سمجھ چکی تھی کہ سائم نے وہی طنز کیا ہے۔۔۔۔۔

___________________

نہیں وہ ابھی تک تو گھر نہیں ائی کیا اس کی طبیعت زیادہ خراب تھی سائرہ فون کان کے ساتھ لگائے کچن میں کھڑی تھی عثمان کی بات سن کر وہ پریشان سی ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔

اگر اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو تم خود چھوڑنے اتے ۔۔۔

میں کیسے چھوڑنے اتا یہاں کیا تمہارے فرشتے کام کرتے ہیں۔

عثمان کاؤنٹر پر کھڑا سیلنگ لسٹ چیک کر رہا تھا۔ اس نے ایک ہاتھ سے موبائل کان کے ساتھ لگایا ہوا تھا جب کہ دوسرا ہاتھ اس کا کمپیوٹر بورڈ پر تھا۔۔۔۔۔

تم سے تو کوئی بات کرنا ہی فضول ہے یہ کہتے ہوئے اس نے فون فورا بند کر دیا اس لڑکی کا کچھ نہیں ہو سکتا یہ کہتے ہوئے وہ سامنے پڑی چیئر پر بیٹھ گئی اور اس کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔۔۔۔۔۔

_____________________________

تو کیا کھانا پسند کریں گی۔

سائم نے مینیو کارڈ دیکھتے ہوئے کہا وہ بالکل مروہ کے سامنے بیٹھا ہوا تھا اس نے ہاتھوں سے فٹنس گلوز اتار کر ٹیبل پر رکھیں۔۔۔

کچھ بھی کر دو۔مروہ نے نظریں نیچے جھکائی ہوئی تھی۔

چلو شکر ہے مجھے لگا تمہیں کھلانا بھی زبردستی پڑے گا یہ کہتے ہوئے سائم نے ویٹر کو اشارہ کیا۔۔

مروہ کے دونوں ہاتھ ٹیبل پر تھے وہ اوپر لگے گلوبز کو دیکھ رہی تھی جس میں مختلف رنگ کی لائٹنگ کبھی آن ہوتی تو کبھی اف مروہ کے ذہن میں بہت سے سوال تھے سائم کو لے کے۔ایک پل کے لیے وہ اچھا لگنے لگا تھا لیکن وہ اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھی۔۔

_________________

یہ لڑکی میری کال کیوں نہیں اٹھا رہی۔۔۔۔۔۔

پتہ نہیں میری زندگی میں کب سکون ائے گا۔سائرا مسلسل اسے کالیں کیے جا رہے تھی۔پر مروا کا موبائل سائلنٹ پر تھا۔۔

تنگ ا کر اس نے فون کو ٹیبل پر رکھا۔۔۔۔۔۔

پتہ نہیں کیوں نہیں اٹھا رہی________

___________

میں جانتا ہوں تمہیں بہت بھوک لگی ہے اگر میری وجہ سے شرما رہی ہو تو میں دوسرے ٹیبل پہ چلا جاتا ہوں سائم نے سنجیدہ نظروں سے مروہ اور کھانے کو دیکھا۔ اور ایسا لگتا تھا کہ وہ سچ میں دوسرے ٹیبل پر چلا جائے گا کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ مروہ اچھے سے کھانا کھائے۔۔

یہ سنتے ہی مروہ نے روٹی کا ایک نوالہ توڑا اور سالن میں لگانے لگی۔

اگر نہاری پسند نہیں ہے تو کچھ اور ارڈر کر لوں سائم کی نظر مروہ پر ہی ٹھہری ہوئی تھی اور وہ ساتھ ساتھ کھانا بھی بہت اچھے سے کھا رہا تھا۔۔

نہ نہیں۔۔۔۔۔۔مروہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر سے کھانے لگی۔۔۔۔۔

___________

یا اللہ یہ لڑکی فون کیوں نہیں اٹھا رہی سائرہ ابھی تک کھڑی اس کا انتظار کر رہی تھی۔۔

سائم اور مروہ نے کھانا کھایا۔اور پھر واپس اگئے۔

تو یہ ہے جناب کا فلیٹ سائم نے ایک روڈ پہ گاڑی کو روکا جہاں ایک ہی سٹائل میں چھوٹے چھوٹے گھر بنے ہوئے تھے۔

سائرہ اوپر بالکنی سے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

مروہ سارے راستے بھی خاموش تھی اور ابھی بھی خاموش تھی۔۔۔۔۔

اپنا خیال رکھنا اور میڈیسن ٹائم پر کھانا سائم نے میڈیسن مروہ کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا وہ بالکل اس کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔

مروہ بنا کچھ کہے فلیٹ کی طرف بڑھی اس نے ایک نظر بھی پیچھے نہیں دیکھا تھا جبکہ سائم مسلسل اسے جاتا دیکھ رہا تھا۔۔۔

مروہ کے نوک کرنے سے پہلے ہی سائرہ نے دروازہ کھول دیا تھا ۔۔

اج تو میرے ہاتھ سے نہیں بچنے والی یہ سب کیا تھا؟

سائرہ نے غصے سے سائم کو ایک نظر دیکھا اس کی نظر میں اتنی شدت تھی کہ اگر سائم اس کے پاس ہوتا تو یقینا وہ اس کا گلا دبا دیتی اس نے دروازے کو بہت زور سے بند کیا جس کی اواز سے سائم بھی چونک گیا تھا۔۔

تم اس کے ساتھ تھی؟

میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں؟

مروہ نے ٹیبل پر میڈیسن رکھی اور جا کر صوفے پر بیٹھ گئی سائرہ بھی اس کے پاس ا کے بیٹھ گئی اس کے ذہن میں بہت سے سوال تھے۔۔

تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا مروہ اسے اج کا سارا قصہ سنا چکی تھی جسے سنتے ہی سائرہ ہائپر ہو گئی۔۔۔۔

تمہاری عقل کہاں چلی گئی تھی اس ٹائم اور تو اور تم اسے فلائٹ تک لے ائی۔۔۔۔

تم جانتی نہیں ایسے لڑکوں کو یہ پہلے تو تمہارے سامنے بہت اچھا بنے گا بہت کول مین اس نے اشارے سے یہ بات کہی تھی اور پھر تمہارے ساتھ وہی کرے گا جو لڑکے کرتے ہیں۔۔۔۔

کیا سچ میں ایسا ہے؛مروہ اس کی بات سن کر چونک گئی تھی۔۔۔۔۔

سچ میں نہیں بلکہ ایسا ہی ہے اور تم تو اس کی فیونسی سے بھی ملی ہو جب اس کی ایک عدد فیونسی ہے تو وہ تمہارے پیچھے کیوں پڑا ہے شادی تو وہ اسی سے کرے گا۔۔

مروہ کی نظریں اب مہروش پہ چلی گئی تھی اور اسے سائرہ کی کہی ہر بات سچ لگی۔۔۔

میں اسے چھوڑوں گی نہیں۔۔۔۔

میں صبح ہی حساب برابر کروں گی۔

اس نے مجھے بھی باقی لڑکیوں کی طرح سمجھ رکھا ہے مروہ صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور دوسرے ہی لمحے اس نے اپنا بیگ اٹھایا۔۔۔۔۔

اس نے مجھے اپنا کارد دیا تھا یہ کہتے ہوئے مروہ نے اپنا سارا بیگ صوفے پہ الٹ دیا وہ کارڈ اس کے قدموں میں گر گیا تھا جسے فورا ہی اس نے اٹھا لیا اب دیکھو میں کیا کرتی ہوں یہ کہتے ہوئے مروا پھر سے صوفے پر بیٹھ گئی۔

اچھا تو اب اپ کیا کرو گی جب کرنا چاہیے تھا تب تو کیا نہیں۔۔

سائرہ نے اس کے ہاتھ سے کارڈ لیا یہ تو اس کے افس کا کارڈ ہے اب کیا تم اس کے افس جاؤ گی۔۔۔۔۔۔

اب تم صبح تو ہونے دو یہ کہتے ہوئے مروہ کچن کی طرف چلی گئی شاید وہ پانی پینا چاہتی تھی۔۔۔

______

مہروش بہت اچھی لڑکی ہے ہارون اپ کے لاڈلے کو پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے ارم جو بالکل ہارون کے سامنے بیٹھی تھی وائٹ کلر کی نائٹی پہنیں ہارون جو لیپ ٹاپ میں مصروف تھا ایک نظر اسے دیکھا اور پھر لیپ ٹاپ بند کر دیا۔۔۔

زندگی سائم نے گزارنی ہے تم نے نہیں اچھا ہوگا کہ اسے اس کے حال پہ چھوڑ دو۔۔۔۔

مجھے پتہ تو چلے کہ مہروش میں کیا مسئلہ ہے ارم جو اپنے ناخن تراش رہی تھی ایک پل کے لیے رک کر بولی مردان فیملی کی بہو مہروش کے سوا کوئی نہیں بن سکتی یہ بات اپ دونوں لکھ لو۔۔۔۔۔

____________

اتنا سب کچھ ہو گیا تم مجھے ابھی بتا رہی ہو میں اس کے پیسے اس کے منہ پر ماروں گی اُس سے بولو بس کچھ ٹائم صبر کریں۔۔۔۔

علیزے کی بات سنتے ہی مروہ غصے سے لال پیلی ہو رہی تھی تم مجھے اس کا نمبر سینڈ کرو میں خود بات کرتی ہوں۔ ۔۔۔۔

اب یہ مصیبت اگئی۔میری زندگی میں سکون کیوں نہیں رہتا۔فون بند ہوتے ہی مروہ خود سے باتیں کرنے لگی۔۔

اب اتنے پیسے کہاں سے لاؤں گی۔۔۔۔۔۔۔

_______________

سائم بیٹا یہ پروجیکٹ ہمارے لیے بہت اہم ہے میٹنگ ہمارے ہی افس میں ہوگی اور سکائی کمپنی سے بھی کوئی ائے گا تو اپنے غصے پہ کنٹرول رکھنا۔۔

سکائی سے کوئی نہیں اجے ہی ائے گی اپ بھی یہ بات اچھے سے جانتے ہیں اور مجھے وہ ایک انکھ نہیں پسند اس نے پہلے جو کچھ کیا ہے اپ کے سامنے ہے اور مجھے نہیں لگتا یہ پروجیکٹ اتنا اہم تھا ۔اس نے جوس کا ایک شپ لیا۔اس نے وائٹ کلر کی شرٹ پہنی تھی جسے کونیوں تک فولڈ کیا ہوا تھا۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔

بیٹا بس اج برداشت کر لو سائم کی بات ابھی مکمل ہوئی نہیں تھی کہ ہارون بولا ناشتے کی ٹیبل پر وہ ان کی ساتھ والی چیئر پر بیٹھا تھا۔۔۔۔

سائم کے پاس ان کو دینے کے لیے کوئی جواب نہیں تھا۔وہ ناشتے میں مصروف ہو گیا۔

_____

اج تم یہ پہن لو میں یہ پہنتی ہوں سائرہ نے گرین کلر کی شرٹ جو نرم کپڑے سے بنی تھی مروہ کے ہاتھ میں دی جس کا گول بند گلا اور فل استین تھی۔۔۔۔۔۔۔

سیدھا کہو نا کہ وہ تمہیں پہننا ہے مروہ نے اس کے ہاتھ سے شرٹ لی اور باتھ روم کی طرف چلی گئی۔۔۔

وہ تم پہ سوٹ کرے گی اس لیے کہہ رہی ہوں۔سائرہ منہ بناتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تھوڑی دیر میں وہ سائم کے افس کے باہر پہنچ چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔

۔اس نے اور سائز سویٹر پہنا تھا۔جس میں اس کی شرط تو بالکل چھپی ہوئی تھی۔اس کے بازو بھی بہت کھلے تھے۔۔۔۔۔

مجھے سائم مردان سے ملنا ہے۔۔

مروہ نے ریسپشن پہ کھڑی لڑکی کو کہا اس کے دونوں ہاتھ ریسپشن ٹیبل پر تھے اس نے بالوں کو بہت ٹائٹ کر کے باندھا ہوا تھا اور دونوں طرف سے اگے کیے ہوئے تھے اسے ہر سٹائل ہی سوٹ کرتا تھا لیکن یہ کچھ زیادہ ہی اچھا لگا رہا تھا۔۔۔۔۔

سوری میم ابھی میٹنگ چل رہی ہے اپ تھوڑا ویٹ کریں ریسپشن پہ کھڑی لڑکی نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔

مجھے بھی ڈیوٹی پر جانا ہے اسے فون کر کے بتاؤ کہ میں ائی ہوں مروہ نے فون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

دیکھیں بہت ضروری میٹنگ چل رہی ہے میں نے کہا نا اپ ویٹ کریں۔۔۔۔۔۔

میں ویٹ نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔۔

یہ کہتے ہی مروہ افس کی طرف بڑی ریسپشن پہ کھڑی لڑکی دوڑتی ہوئی اس کے پیچھے ائی لیکن تب تک مروہ سائم کے کیبن تک پہنچ چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔

جہاں بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے تھے سائم نے بلیک شرٹ کے اوپر ٹرینچ کوٹ پہنا تھا جو وہ اکثر پہنتا تھا۔اور نیچے جینز پہنی ہوئی تھی۔اس نے گلے میں چین پہنی ہوئی تھی۔اور بالوں کو پونی سٹائل میں باندھا ہوا تھا وہ میز کی پہلی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا اور اور ساتھ بیٹھا لڑکا اسے فائل دکھا رہا تھا اس میٹنگ میں لڑکے لڑکیاں دونوں موجود ہیں۔۔

مروہ نے بہت زور سے دروازہ کھولا تھا جس کی اواز سے سب کا دھیان اس کی طرف ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔

سر میں نے انہیں روکنے کی بہت کوشش کی پر زبردستی اندر اگئی۔۔

مروہ کو دیکھتے ہی سائم اٹھ کھڑا ہوا تھا اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا۔۔۔۔۔۔

مروہ نے بیگ سے کچھ نوٹ نکالے اور سائم کے منہ پر مارے یہ لو کل کی میڈیسن اور کھانے کا بل یہ کہتے ہوئے اس نے دو قدم اگے بڑھائے میٹنگ میں بیٹھے سبھی لوگوں کا دھیان مروہ کی طرف تھا اور سائم کو سمجھ نہیں ارہا تھا کہ اسے ہوا کیا ہے۔۔۔۔

وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔وہ مروہ کی ہمت ہے حیران بھی تھا۔۔۔۔

تم نے ہر لڑکی کو ایک جیسا سمجھا ہوا ہے ایک فیونسی ہونے کے باوجود تم ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑے ہو تم تم جیسوں کا کام ہی یہی ہوتا ہے مروہ ایک ہی سانس میں بولی چلی جا رہی تھی ۔۔۔۔

مروہ یہ کیا بدتمیزی ہے سائم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور باہر کی طرف لے کے جانا چاہا پر مروہ نے اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے ازاد کروا لیا ۔۔۔

ان سب کو بھی تو پتہ چلے کہ تم اصل میں کیا ہو مروہ نے پھر اپنا رخ پیچھے کیا اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور بولتی سائم زبردستی اسے باہر لے گیا۔۔

کیا پاگل پن ہے یہ۔۔۔۔

باہر اتے ہی سائم نے مروہ کو دوسرے بازو سے پکڑ کر بالکل اپنے سامنے کیا۔۔۔۔

پاگل ہو گئی ہوں

اندر میٹنگ چل رہی ہے۔۔۔۔

یہ کیا بدتمیزی ہے مروہ کچھ بھی بولے چلی جا رہی ہو میں نے یہ ایکسپیکٹ نہیں کیا تھا اس نے مروہ کو بہت زور سے پکڑا ہوا تھا اتنا زور سے کہ وہ اگر چاہے بھی تو اس کی گرفٹ سے ازاد نہیں ہو سکتی تھی ۔۔۔۔۔

سائم شدید غصے میں تھا۔۔

میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں سائم نے ایک دفعہ پھر مروہ کو جنجوڑا جو اپنے اپ کو اس کی گرفت سے ازاد کرنے کی کوشش میں مصروف تھی۔اس کے بال بری طرح سے بکھر گئے تھے۔۔۔۔۔

مجھے اپنے کیے پہ کوئی پچھتاوا نہیں ہے ائندہ میرے راستے میں مت انا مروہ سائم کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی سائم کی انکھیں سرخ ہو چکی تھی۔۔۔

خاموش ہو جاؤ مروہ خاموش اس سے پہلے کہ میں کچھ کر بیٹھوں وہ کنٹرول نہیں کر پا رہا تھا۔غصے پہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپ کے رسپانس پر اگلی ایپیسوڈ پوسٹ ہوگی۔جتنا اچھا رسپانس ہوگا اتنی جلدی ایپیسوڈ ائے گی۔