266K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Rung Episode 3

Shah Rung by Aneeta

70 ڈالر۔۔۔

یہ کہتے ہوئے اس نے بل سائم کی طرف بڑھایا۔۔

تو فائنلی جاب مل گئی سائم نے کارڈاس کو دیتے ہوئے کہا۔۔

اس سے مطلب اپ کو۔لہجہ بہت ہی سخت تھا۔۔۔۔۔۔

مروہ نے کارڈ سکین کیا اور شاپنگ بیگ سائم کے حوالے کیا۔۔

اخر مسئلہ کیا ہے مجھ سے ؟

وہ بھی سوالیہ نظریں جمائے اس کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔

کیا میں کنگریچولیٹ بھی نہیں کر سکتا سائم نے شاپنگ بیگ پکڑتے ہوئے کہا۔۔

نہیں کر سکتے ۔۔لہجے میں کوئی بدلاؤ نہیں تھا۔۔۔۔

اس نے غصے سے جواب دیا اور دوسری طرف چلی گئی ۔۔

سائم شاید اسے روکنا چاہتا تھا لیکن کچھ کہے بغیر وہاں سے چلا گیا۔ ۔۔۔۔

اخر تمہارا مسئلہ کیا ہے کبھی تم نیوز پیپر پڑھنا شروع کر دیتی ہو کبھی تم کاؤنٹر چھوڑ کر ادھر ا جاتی ہو تم یہاں پکنک پہ نہیں ائی عثمان نے مروہ کو پاس کھڑے دیکھ کر کہا تمہارے ساتھ ساتھ یہ مجھے بھی نکال دیں گے اب جاؤ دیکھو کسٹمر ائے ہیں۔۔

عثمان اس سے اچھا خاصا تنگ ا چکا تھا۔۔۔۔۔

مجھے زیادہ ایڈوائس مت دو مجھے پتہ ہے کام کیسے کرتے ہیں مروہ نے عثمان سے بات کرتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔جب اسے اس بات کا یقین ہو گیا کہ سائم چلا گیا ہے وہ کاؤنٹر پر واپس چلی گئی۔۔۔

سائم باہر ہاتھ میں کافی لیے کیفٹ ایریا میں بیٹھا ہوا تھا لیکن اس کا دھیان مروہ کی طرف تھا وہ شاید اس سے بات کرنا چاہتا تھا لیکن اپنی انا کی وجہ سے وہ ایسا کر نہیں پا رہا تھا۔۔۔

مجھے اس سائز میں تھوڑا فرق لگ رہا ہے سائم نے شرٹ شاپنگ بیگ سے باہر نکالی اور اسے دیکھنے لگا۔

مجھے تو فٹ لگ رہا ہے یار سائم نوروز نے بے دہانی میں جواب دیا کیونکہ اس کا سارا دھیان سامنے بیٹھی لڑکیوں میں تھا اور یہی اس کا روز کا کام تھا۔۔۔

سائم نے ایک نظر ان لڑکیوں کو دیکھا اور پھر نوروز کو دیکھ کر سمائل پاس کی اور شاپ کی طرف چلا گیا۔۔۔۔

مروہ نے سائم کو ادھر اتے دیکھا تو منہ دوسری طرف کر لیا کوئی انسان اتنا بدتمیز کیسے ہو سکتا ہے وہ اپنے اپ سے ہی باتیں کر رہی تھی۔۔

ڈیئر۔۔۔سائن شائستگی سے بولا تھا۔شاید رد عمل کے ڈر سے۔۔

مجھے یہ چینج کروانا ہے سائم نے شاپنگ بیگ کاؤنٹر پر رکھا۔۔۔۔۔

یہاں چینج کی کوئی پالیسی نہیں ہے جو چیز ایک دفعہ لے لو تو وہ لے لو اس نے روڈلی جواب دیا اور شاپنگ بیگ اس کی طرف کر دیا۔۔۔

اچھا ایسا ہے تو پھر میں اونر سے بات کرتا ہوں۔۔سائم نے بازو میں پہنی چین کو شہادت کی انگلی میں فولڈ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔

لگتا ہے بہت غرور ہے اپ کو اپ کے پیسے پر میں نے کہا چینج نہیں ہو سکتا تو نہیں ہو سکتا۔مروہ نے اسے گھوڑتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔۔

ور از شاپ اونر (where is shop owner)سائم نے ایک سٹاف ممبر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔۔۔

یس سر میں ائی ہیلپ یو ۔ سامنے کھڑی لڑکی سائم کے پاس ائی۔۔

ائی وانٹ میٹ شاپ اونر سائم نے مروہ کو دیکھتے ہوئے اس لڑکی کو جواب دیا۔وہ شاید اسے ڈرانا چاہتا تھا۔۔۔۔

سائم کی نیت اسے تھوڑا تنگ کرنا تھا اور اسے خود نہیں پتہ تھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔۔۔

واٹس ہیپنڈ ٹو یو سر۔ سامنے سے اتے ایک ادمی نے سائم سے پوچھا جو اس شاپ کا اونر تھا۔۔۔

نتھنگ۔۔۔۔۔

سائم کے ادھے الفاظ اس کے منہ میں ہی تھے ابھی کے سامنے کھڑی ایک سٹاف ممبر لڑکی نے سارا ماجرا اونر کو سنا دیا جو شاید سائم کو امپریس کرنا چاہتی تھی۔۔۔

اب تم نے کیا کر دیا ہے اج تمہارا پہلا دن ہے مجھے لگا ہی تھا۔ تم کوئی گڑبڑ کرو گی عثمان کاؤنٹر پر لگے مجمع کو دیکھ کر فورا اس کے پاس ایا اور اتے ہی شروع ہو گیا لیکن اس کی اواز صرف مروہ تک تھی وہ سرگوشوں میں بات کر رہا تھا۔۔۔۔

شاپ اونرنے ایک نظر سائم کو دیکھا اور سمجھ گیا کہ وہ ایک بہت ہی اپر کلاس فیملی سے ہے ۔۔۔

سے سوری ٹو سر شاپ اونر نے مروہ سے سختی سے بات کی۔۔۔۔

مروہ نے ایک نظر سائم کو دیکھا۔۔

جو مسلسل اسے ہی دیکھ رہا ۔ اور وہ ایسا ہرگز نہیں چاہتا تھا اور ایسا ہو جائے گا اس کے ذہن و گمان میں بھی نہیں تھا۔۔۔

نو نیڈ اٹس اوکے۔۔۔

سائم نے بات کو یہیں ختم کرنا چاہا۔۔

سے سوری ٹو سر مس مروہ شاپ اونر نے پھر سے دہرایا۔

ایم سوری۔۔۔وہ ڈرتے ہوئے ایک دم سے بولی۔۔۔۔

اس نے بہت مشکل سے یہ لفظ ادا کیے تھے۔ اس کا ایک دل تو چاہا کہ یہاں سے چلی جائے لیکن اسے یہ جاب بہت مشکل سے ملی تھی اور اس کے لیے بہت ضروری بھی تھی تو اسے مجبوری میں سوری کہنا پڑا۔۔

کیونکہ جب حالات اپ کے بس میں نہیں ہوتے تو اپ کو الفاظ بھی لوگوں کی مرضی کے استعمال کرنے پڑتے ہیں۔یہی دنیا کا اصول ہے۔۔۔

سائم کو اس ٹائم خود پہ بہت غصہ ا رہا تھا ۔وہ یہ کبھی بھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔

سائم جب تک فیری میں رہا۔مروہ کو دیکھنے کے بہانے ڈھونڈتا رہا۔اور مروہ اس سے چھپتی رہی۔۔۔

مروہ نے گھر اتے ہی سارا قصہ سائرہ کو سنایا۔۔

چلو اللہ کا شکر ادا کرو تمہاری جاب تو نہیں گئی ۔

اور تمہیں ایسے لوگوں کے منہ ہی نہیں لگنا چاہیے سائرہ ساری دستان سننے کے بعد مروہ کو تسلی دی سائرا بھی ابھی ہی کام سے واپس ائی تھی۔۔۔

مروہ جو صوفے پہ ٹیک لگائے لیٹی ہوئی تھی گہری سوچ میں گم تھی۔ اس نے تھوڑے سے بال اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے تھے۔جنہیں وہ گول گول گھما رہی تھی۔

پتہ نہیں میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے مروہ نے پلیٹ سے ایک کاجو اٹھایا اور اسے چبانے چابنے لگی کاش میرے بس میں ہوتا میں اس کومروہ کچھ کہتے کہتے چپ ہو گئی۔کیونکہ اس کا فون ساؤنڈ کرنے لگا تھا۔۔۔

ہاں علیزے بولو۔اور مجھے جاب مل گئی ہے۔مروہ نے فون کان کے ساتھ لگاتے ہی علیزے سے باتیں کرنا شروع کر دی۔۔

_______

میری تو سمجھ سے باہر ہے تم کب سے لڑکیوں کے چکر میں پر گئے نو روز نے سائم کو دیکھتے ہوئے کہا جو سمندر کے کنارے بیٹھا اس کو مروہ کے بارے میں بتا رہا تھا۔

کوئی چکر نہیں ہے ۔

اس نے بلو شرٹ پہنی تھی جس کی استین کو کونیوں تک فولڈ کیا ہوا تھا۔۔۔۔

سائم نے ایک پتھر اٹھا کر سمندر کی طرف پھینکا بس میری اس سے ملاقاتیں اچھی نہیں رہی شاید اسی بات کا دکھ ہے ۔یہ کہتے ہوئے وہ اٹھ گیا چلو چلتے ہیں۔دونوں گاڑی کی طرف جانے لگے۔جو تھوڑا فاصلے پر ہی کھڑی تھی۔۔۔۔۔

________

وہ مجھے لینے نہیں ایا اور اپ میری شادی کے خواب سجائے بیٹھی ہے مہروش فون کان کے ساتھ لگائے چہل قدمی کرتے ہوئے بات کر رہی تھی اسے میری کوئی پرواہ نہیں ہے پتہ نہیں کس بات کا غرور ہے۔۔اس نے وائٹ ٹاپ پہنا ہوا تھا۔بال کھلے ہوئے تھے۔اور ہلز پہنی ٹہل رہی تھی۔اس کا رنگ دودھ کی طرح سفید تھا۔۔۔۔

صبر کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے کچھ بھی کر کے سائم کے دل میں اپنی جگہ بناؤ مردان فیملی کی بہو تم ہی بنو گی ۔۔

۔دوسری طرف سے اواز ائی۔ مہروش اور سائم کی دوستی بہت اچھی تھی۔پرسائم اسے دوستی کی نظر سے ہی دیکھتا تھا۔اور مہروش اس سے محبت کر بیٹھی تھی۔لیکن وہ سائم کی زندگی میں زبردستی مسلط ہونا چاہتی تھی۔

________________

سائم نے کمرے کی لائٹس اف کی ہوئی تھی۔بس ایک لیمپ آن تھا۔جس کی روشنی بس بیڈ تک تھی۔اس کے ذہن میں ابھی تک مروہ چل رہی تھی۔کہ اس کی نظر سامنے ڈائری پر پڑی جو اگلے ہی لمحے اس کے ہاتھ میں تھی۔

میں پہلے ہر خوبصورت لمحے کو قید کرنا چاہتی تھی۔مجھے کچھ بھی بدلنے سے ڈر لگتا تھا۔کسی کے انے سے کسی کے جانے سے۔لیکن میں جتنی بھی کوشش کر لوں کوئی بھی لمحہ ٹھہرتا نہیں تھا۔اور پھر مجھے سمجھ اگئی۔کہ ہم لمحوں کو قید نہیں کر سکتے۔کسی کو انے سے کسی کو جانے سے۔ہم نہیں روک سکتے۔کیونکہ میرا ماننا ہے دنیا میں موجود ہر چیز۔ایک منزل کی مسافر ہے۔اور ہر کوئی اپنی منزل کی طرف رواں ہے۔…

سائم ایک پیج سے دوسرے پیج پڑھے جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔

اور نہ جانے کب تک پڑھتا رہا تھا۔

صبح ناشتے کے ٹیبل پر سبھی موجود تھے۔ یہاں تو گھر ائے مہمانوں کو ویلکم بھی نہیں کیا جاتا مہروش نے سائم کو ٹیبل کی طرف اتے دیکھا تو یکدم بولی ۔۔۔۔۔

گڈ مارننگ ایوری ون۔۔۔

سوری میں تھوڑا مصروف تھا۔

کیسی ہو تم اور سفر کیسا رہا سائم نے چیئر پیچھے کرتے ہوئے کہا ۔اور اگلے ہی لمحے اس کے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔۔

میں ٹھیک ہوں تم تو پہلے سے زیادہ ہینڈسم ہو گئے ہو انٹی لگتا ہے اپ کا بیٹا سارا دن جم میں ہی گزارتا ہے۔۔۔

میرا بیٹا تو شروع سے ہی ہینڈسم ہے ارم نے بریڈ کے سلائس سائم کو سرو کرتے ہوئے کہا۔۔۔

ایسا کچھ نہیں ہے میں نے کبھی خود پہ اتنا دھیان نہیں دیا سائم نے اسے نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔۔۔

تو اس نے منہ بنا لیا۔۔۔۔۔۔

کل وہ پھر پیسے لینے ایا تھا۔ علیزے کچن میں برتن سمیٹ رہی تھی میں اج مروہ کو فون کروں گی کچھ نہ کچھ تو بیج ہی دے گی۔۔۔

نہیں نہیں اگر اس کے پاس ہوتے تو وہ خود ہی بیج دیتی۔۔

میں نے دکان والے راشد سے بات کی ہے کچھ نہ کچھ کر ہی دے گا دادا جان صحن میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔زیادہ فاصلہ نہیں تھا تو وہ ارام سے علیزے کو سن سکتے تھے۔۔۔

میرا خیال ہے ہمیں مروہ سے بات کر لینی چاہیے اس نے پھر سے کہا۔۔۔۔

________________

صبح کے نو بجے تھے ہلکی ہلکی بوندا باندی نے موسم کو بہت خوشگوار بنا رکھا تھا مروہ ہاتھ میں چھتری پکڑے روڈ کے کنارے ٹکسی کا انتظار کر رہی تھی اس نے سرخ ڈفلکورٹ پہنا ہوا تھا بلیک ٹاپ کے نیچے جینز تھی۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں اس کے پاس ایک کالے کلر کی گاڑی رکی۔۔

مروہ نے ہاتھ میں پکڑی چھتری کو تھوڑا اوپر کیا اور گاڑی کو دیکھنے لگی اس کے شیشے بلیک تھے تو اسے کچھ نظر نہیں ایا۔

اج ٹیکسی ملنا مشکل ہے میں اپ کو چھوڑ دیتا ہوں سائم گاڑی سے اترتے بولا۔

مجھے لگتا ہے اپ کو عزت راس نہیں ہے ۔

اپ ہر بار میرے سامنے کیوں ا جاتے ہیں مروہ غصے سے بولتی ہوئی دو قدم پیچھے ہو گئی مجھے جہاں جانا ہوگا میں خود چلی جاؤں گی۔۔

اس دن کے لیے سوری کہنا چاہتا ہوں سائم نے اس کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔

اور مجھے کوئی شوق نہیں ہے ۔

اور نہ ہی میں اپ کو فالو کر رہا ہوں یہ ملاقاتیں صرف ایک اتفاق ہے سائم نے اپنی بے بی چھپاتے ہوئے کہا اور بس میں یہی باتیں کلیئر کرنا چاہتا ہوں۔

مجھے کوئی شوق نہیں ہے کچھ بھی کلیئر کرنے کا اپ کل بھی میرے لیے اجنبی تھے اور اج بھی اجنبی ہیں اور مجھے تو اپ کا نام بھی نہیں پتا اس نے ہاتھ میں پکڑی چھتری کے اشارے سے اسے یہ بات سمجھائی ۔۔۔

سائم مردان ۔۔۔۔

مجھے اپ کے نام میں کوئی دلچسپی نہیں ۔

پلیز اپ جائیں یہاں سے مروہ نے فورا سائم کو ٹوکا اور روڈ پہ نظریں گھمانے لگی لیکن اس سے دور دور تک کوئی ٹیکسی نظر نہیں ارہی تھی۔۔

دیکھیں میں فیری ہی جا رہا ہوں مجھے ٹیکسی والا ہی سمجھ کے ا جائیں مجھے نہیں لگتا ابھی یہاں کوئی ٹیکسی ائے گی سائم اس موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتا تھا وہ اس سے بات کلیئر کرنا چاہتا تھا۔۔

اگر اج بھی لیٹ ہو گئی تو نوکری جاتی رہے گی مروہ کچھ دیر سوچنے کے بعد گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔

کیونکہ شاید وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی جاب جائے۔۔

سیٹ بیلٹ باندھ لو ۔۔

سائم نے ایک نظر اسے دیکھا پھر گاڑی سٹارٹ کر دی ۔۔۔

اس نے بلیک افس سوٹ پہنا ہوا تھا۔جو اس سے بہت سوٹ کر رہا تھا اگر یہاں کوئی اور لڑکی ہوتی تو شاید ایک بار کہنے سےاس کی افر ایکسیپٹ کر لیتی۔۔

اس دن کے لیے سوری ایک نظر مروہ کو دیکھنے کے بعد سائم نے اپنی بات شروع کی ۔مجھے اس چیز کا اندازہ نہیں تھا۔۔۔

اپ جیسوں کو کسی چیز کا اندازہ نہیں ہوتا کیونکہ اپ کو زیرو سے سٹارٹ نہیں لینا پڑتا سب کچھ پہلی سجا سجایا مل جاتا ہے۔

میں سوری بول تو رہا ہوں۔۔

سائم کا دھیان روڈ پر تھا وہ 80 کی سپیڈ پہ گاڑی چلا رہا تھا شاید وہ اس سفر کو ختم نہیں کرنا چاہتا تھا۔

ریڈ کلر کافی سوٹ کرتا ہے۔

سائم یہ کہے بغیر نہیں رہ سکا یا شاید اسے سمجھ نہیں ارہی تھی کہ اسے اس سے کیا بات کرنی چاہیے۔

اخر تم خود کو کیا سمجھتے ہو گاڑی کو روکو ابھی اور اسی وقت تم جیسا بغیرت انسان میں نے اج تک نہیں دیکھا ۔۔

مائنڈ یور لینگویج ڈیئر۔۔۔۔

سائم نے گاڑی کو تیزی سے بریک لگائی تھی اب یہ کچھ زیادہ ہو رہا ہے۔۔

ائندہ مجھے اپنی شکل مت دکھانا مروہ نے یہ کہتے ہی گاڑی سے اترنا چاہا پر سائم نے گاڑی لاک کر دی۔۔

اسے کھولو ۔۔۔۔۔

وہ گھبراتے ہوئے بولی ۔۔

اور پھر سے ڈور کھولنا چاہا۔اس کا ہاتھ دور ہولڈر پر تھا۔

اخر تمہارا مسئلہ کیا ہے تم اتنا غلط کیوں سوچتی ہوں۔۔

میں بہت تمیز سے بات کر رہا ہوں۔اور تم سر پر چڑھے جا رہی ہو۔کیا سمجھتی ہو خود کو۔سائم کی انکھیں غصے سے لال ہو چکی تھی۔۔

اپ سے تم پر ا گئے اس سے اگے جاتے بھی تمہیں دیر نہیں لگے گی ۔یہی تمیز ہے تمہاری۔اسے کھولو ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔

مروا کا ہاتھ ابھی تک ڈور ہولڈر پر تھا۔وہ اس سے مسلسل پریس کر رہی تھی۔اس کے ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے۔۔

سائم کچھ کہتے کہتے رکا۔ اور پھر گاڑی کا لاک کھول کر اس کو جانے کا کہا لیکن مروہ لاک کھولتے ہی گاڑی سے اتر گئی۔سائم بھی تیزی سے گاڑی کو کٹ کرتے وہاں سے جا چکا تھا۔

میں جب سے ائی ہوں اس نے سیدھے منہ مجھ سے بات تک نہیں کی مہروش اورارم لانچ میں بیٹھی ہوئی تھی۔

سویٹی تم جانتی ہو وہ اج کل کتنا مصروف ہے۔۔۔۔

ہارون بی بہت کم ٹائم دیتے ہیں گھر کو کام کا بلڈن کچھ زیادہ ہے بس اسی لیے۔ارم نے بات کرتے کرتے پیچھے دیکھا تو صائم بہت تیزی سے اندر ا رہا تھا۔

لو سائم بھی اگیا۔۔۔۔

بیٹا یہاں اؤ۔۔۔

وہ اس ٹائم شدید غصے میں تھا وہ کچھ کہے سنے بغیر اپنے روم میں چلا گیا۔

۔۔۔اور دروازہ بری طرح بند کیا۔۔

تو دیکھ لیا اپ نے مہروش نے اسے جاتا دیکھ اور اپنی جگہ سے اٹھ گئی۔شاید اسے میرا انا ہی برا لگا ہے ۔

دیکھو بزنس پرابلم ہوگی ۔کوئی تم ایسے ہی پریشان ہو رہی ہو میں اج ہی اس کے ڈیڈ سے بات کرتی ہوں ارم نے مہروش کا ہاتھ پکڑا۔اور اسے دوبارہ بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

لگتا ہے کام میں دل نہیں لگ رہا مروہ کو گھمسن دیکھ کر عثمان نے کہا ۔۔

خیر تو ہے۔وہ اب کاؤنٹر پر ا چکا تھا۔

کچھ نہیں بس طبیعت نہیں تھی یہ کہتے وہ خاموش ہو گئی لیکن اس کی پریشانی اس کے چہرے سے صاف ظاہر ہو رہی تھی۔۔۔

کچھ تو گڑبڑ ہے اگر تم نہیں بتانا چاہتی تو کوئی بات نہیں عثمان نے ایک دفعہ پھر پوچھنے کی کوشش کی۔۔۔

بولا تو ہے کچھ بھی نہیں بس طبیعت نہیں ٹھیک یہ کہتے ہیں اس نے منہ دوسری طرف کر لیا۔اس بار اس کا لہجہ سرد تھا۔

رات اپنے دوسرے حصے میں ڈل چکی تھی مروہ ہاتھ میں لیپ ٹاپ لیے بالکنی میں بیٹھی گہری سوچ میں گم تھی۔وہ کافی دیر سائم کے بارے میں سوچتی رہی۔

وہ لیپ ٹاپ پر نظریں جمائے مسلسل لکھے جا رہی تھی ۔اس کے دونوں ہاتھ لیپ ٹاپ کے ٹچ بورڈ پر تھے۔

مروہ۔۔۔۔۔

سائرہ اواز دیتے ہوئے اس کے پاس ائی اج سونے کا ارادہ نہیں ہے۔۔

اور یہ کیا ہر وقت تم لکھتی رہتی ہو اس نے لیپ ٹاپ کو دیکھتے ہوئے کہا۔

نہیں اج بالکل بھی نیند نہیں ا رہی اور پتہ نہیں ایسا کیوں ہے مروہ نے اسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

کیوں کیا ہوا کوئی مسئلہ ہے کیا سائرہ سامنے پڑے ٹیبل پر بیٹھ گئی بتاؤ کیا ہوا ہے۔۔

کیا پھر سے تو نہیں نوکری چلی گئی۔۔

نہیں بابا ۔۔

مروہ نے نہ میں سر ہلایا۔۔

میں نے تمہیں بتایا تھا نا اس لڑکے کے بارے میں ۔۔

وہ بڑی سی گاڑی والا سائرہ نے دلچسپی لیتے ہوئے کہا۔۔

تھوڑی ہی دیر میں مروہ نے سارا قصہ سائرہ کو سنا دیا۔۔

یہ امیر لوگ ایسے ہی ہوتے یہ لوگوں کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتے ہیں سائرہ نے دونوں پاؤں ٹیبل کے اوپر رکھے اور تسلی سے بیٹھ گئی۔۔ ۔

تم نے بھی ٹھیک سنایا ۔۔

میرا تو بس نہیں کر رہا تھا کہ اس کا گلا دبا دوں مررہ کو پھر سے وہی منظر یاد اگیا تھا۔۔

دوسری طرف سائن بھی نوروز کو داستان سنانے میں مصروف تھا۔

تو تمہیں ضرورت کیا تھی۔ ۔۔

اس کے پیچھے جانے کی نوروز جو ہاتھ میں موبائل پکڑے صوفے پہ بیٹھا تھا ایک دم سے چونک کر بولا ۔۔

تمہیں بتانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم اپنے فالتو کے ائیڈیاز دو بس مجھے ایسا لگتا ہے میں نے غلط کیا ہے ۔سائم نے وائٹ کلر کی لوز شرٹ پہنی ہوئی تھی۔اور نیچے بلو جینز۔

مجھے اتنا کچھ نہیں بولنا چاہیے تھا سائم کھڑکی کے پاس کھڑا تھا پیچھے مڑتے ہوئے بولا اور میں نے بھی پتہ نہیں کیا کیا بول دیا وہ کافی ہرٹ ہوئی ہوگی۔۔

سائم نے دیوار کے ساتھ ٹیک لگائی اور ایک لمبی سانس لی اسے اپنے کیے پہ بہت پچھتاوا تھا لیکن اب وہ اس کا سامنا بھی نہیں کرنا چاہتا تھا شاید یہ ایگو کی وجہ سے تھا ۔۔

تو ٹھیک ہے ۔۔۔

جا کے اس سے معافی مانگ لو نو روز مسلسل موبائل میں مصروف تھا اور سائم کی باتوں میں اس کا خاص دھیان نہیں تھا۔

اب ایسا بھی نہیں ہے سائم نے اس کو موبائل میں مصروف دیکھ کر بات ختم کرنا چاہی۔۔

ہاں یار اس محبت جیسے بلا سے دور ہی رہنا سنا ہے جان لیوا ہوتی ہے نوروز نے سائم کو انکھ مارتے ہوئے کہا۔۔۔

دن یوہی گزرتے گئے لیکن سائم کسی طرح مروہ سے بات کرنا چاہتا تھا۔۔ اسے لگتا تھا شاید وہ وقت کے ساتھ اسے بھول جائے گا لیکن کبھی کبھی وقت بھی انسان کا ساتھ نہیں دیتا وہ دن بدن اس کے اور قریب ا رہا تھا وہ دن رات اس کی کی سوچوں میں گم رہتا تھا۔۔۔

ایسی کوئی بات نہیں دادا جان اور ابھی انشاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا اہستہ اہستہ میں سارا قرض اتار دوں گی مروہ موبائل کان کے ساتھ لگائے کچن میں چائے بنا رہی تھی۔۔

بس تم اپنا خیال رکھنا پردیس بہت سخت ہوتا ہے۔۔

میرا دھیان تمہاری طرف ہی رہتا ہے دوسری طرف سے اواز ائی۔جو کافی ککھپاتی ہوئی اواز تھی۔

اپ نے پھر سے وہی باتیں شروع کر دی بس اپ اپنا دھیان رکھو باقی کسی بات کی ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے مروہ نے ایک ہاتھ سے موبائل پکڑا تھا اور دوسرے ہاتھ سے چائے کپ میں ڈال رہی تھی اچھا میں بعد میں کال کرتی ہوں مجھے سائرہ کی کال ا رہی ہے مروہ نے موبائل کی سکرین کو دیکھتے ہوئے کہا جوسائرہ کا نام شو کر رہا تھا۔۔

مروہ کی بچی کہاں گم ہو کب سے کالیں کر رہی ہوں یار یہاں کسی گھر میں ایک فنکشن ہے ہمارے ریسٹورنٹ کو ارڈر ملا ہوا ہے سٹاف کم پڑ رہا ہے تم بھی ا جاؤ بس تین چار گھنٹے کا کام ہے ۔

120 کی شفٹ ہے۔۔

اچھا ۔۔۔

فروہ نے کچھ سوچا اور پھر انے کی حامی بھر لی ۔۔

کچھ ہی دیر میں ان کی گاڑی ایک ایک بڑی سی کوٹی کے سامنے ا کے رکی جو کسی محل سے کم نہیں تھی۔۔۔

یار یہ تو بالکل ایک محل جیسی ہے سائرہ نے کوٹھی کو چاروں طرف دیکھتے ہوئے کہا جہاں چاروں طرف بڑے بڑے گلوبس لگے ہوئے تھے۔بہت ہی شاندار گھر تھا

مروہ بالکل خاموش تھی۔وہ بھی خاموشی سے گھر کا معائنہ کر رہی تھی۔

دراصل یہ گھر سائم کا ہی تھا اج سائم کی امی نے مہر وش کی ویلکم پارٹی رکھی ہوئی تھی۔

وہ دونوں ابھی لاؤنج میں بات ہی کر رہی تھی کہ ارم بیگم کو اپنے پاس اتے دیکھا جن کی عمر تو زیادہ تھی پر فیشن 20 سال کی لڑکی والے تھے ۔۔۔

ارم نے خود کو بہت مینٹین رکھا ہوا تھا۔اور وہ ایک بہت ہی مغرور عورت تھی۔

تم دونوں بھی یہاں کام کرنے ہی ائی ۔ کچھ ہی دیر میں گیسٹ ا جائیں گے تو کیا ہم اپ کا انتظار کریں کہ اپ کب فری ہوں گی تو کچھ ارینجمنٹ کریں گی۔۔

وہ میم ہم بس ا رہی تھے سائرہ نے جلدی سے جواب دیا اور مروہ کا ہاتھ پکڑ کر اگے چلنے لگی۔

ایک منٹ تم دونوں میں سے ایک اوپر مہروش کے کمرے میں جائے ریڈی ہونے میں اس کی مدد کریں ارم نے دونوں کو روکتے ہوئے کہا۔

ارم کافی غصے سے بات کر رہی تھی۔اور مروہ پتہ نہیں کیسے برداشت کر رہی تھی۔

مروا تم چلی جاؤ میں نیچے دیکھ لیتی ہوں۔۔

یہ کیا ڈرامہ ہے یار مجھے نہیں کرنا میں جا رہی ہوں ۔

یار جانی 120 ڈالر کی بات ہے تھوڑا سا برداشت کر لو سائرہ نےمروہ کو تھپکی دی۔۔

مروہ نے ریسٹورنٹ کا یونیفارم پہنا تھا۔جس کی شرٹ ملٹی کلر میں تھی۔اوپر ریسٹورنٹ کا ٹیگ لگا تھا۔اور نیچے اس نے جینز پہنی تھی۔بالوں کی اونچی پونی باندھی ہوئی تھی۔ایک ایک لٹ دونوں طرف سے باہر تھی۔جو کافی سوٹ کر رہی تھی۔

میم کیا میں اندر ا جاؤں مروا نےمہروش کے ڈور کو ناک کرتے ہوئے کہا۔۔

ہاں ہاں اجاؤ ۔۔مروہ کو دیکھتے مہروش سمجھ گئی کہ وہ اس کی ہیلپ کے لیے ائی ہے ۔

مروا نے مہروش کے کمرے کو غور سے دیکھا جو بہت عالی شان تھا ضروریات زندگی کی ہر چیز موجود تھی۔۔

تھوڑے ہی ٹائم میں مروہ اور مہروش کی اچھی خاصی انڈرسٹینڈنگ ہو گئی تھی۔۔۔

ذرا بتاؤ یہ مجھ پہ کیسا لگے گا یہ تو اپ پہ بہت سوٹ کر رہا مروہ نے جھوٹی تعریف کرتے ہوئے کہا اپ کی موم اپ سے بہت پیار کرتی ہے اسی لیے اتنی بڑی پارٹی رکھی اپ کے لیے۔

ارے وہ میری موم نہیں ہے۔۔

وہ تو میری ہونے والی مدر ان لا ہے۔۔ مہروش نے اکراتے ہوئے کہا ۔۔ تم جانتی ہو میرے فیونسی مجھ سے کتنا پیار کرتے ہیں ۔۔اس پہ ہزاروں لڑکیاں مرتی ہیں لیکن وہ صرف مجھ سے پیار کرتا ہے یہ کہتے ہوئے اس نے بالوں سے ایک بال علیحدہ کیا

اپ بہت خوش قسمت ہیں اللہ اپ کی جوڑی سلامت رکھے ۔مروہ نے اس کی باتوں پہ زیادہ دھیان نہیں دیا تھا۔۔

اج میں نے اس کے لیے ویلکم پارٹی رکھی ہے مصروفیات میں کافی دن گزر گئے یہ ڈائمنڈ سیٹ اج تم اسے گفٹ کرو گے۔۔

میں کس لیے اور کیوں گفٹ کروں گا۔ سائم جو لیپ ٹاپ سامنے رکھا کام میں مصروف تھا ایک دم سے بولا موم اپ کو سمجھنا بہت مشکل ہے میں ایک دفعہ کہہ چکا ہوں کہ مجھے اس میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے تو بس نہیں ہے۔

میری جان صرف اج کا دن اپنی موم کی عزت رکھ لو۔۔

ارم کے بہت اصرار کرنے پر سائم رضامند ہو گیا۔۔

یہ گفٹ میں اسے ابھی جا کے دوں گا کیونکہ میرا پارٹی اٹینڈ کرنے کا کوئی موڈ نہیں یہ کہتے ہوئے سائم نے ڈبہ ارم کے ہاتھ سے لیا اور روم سے باہر چلا گیا جیسے وہ اس کام کو بس ختم کرنا چاہتا تھا۔۔

تم ایک کام کرو اس ڈریس کو وال ڈراپ میں رکھ دو مہر وش نے مرواکے ہاتھ میں کپڑے تھماتے ہوئے کہا جس سے اگلے ہی لمحے وہ ورڈ ڈراپ میں رکھنے کے لیے چلی گئی تھی۔

تم ابھی تک تیار نہیں ہوئی تم لڑکیاں بھی کتنا ٹائم لیتی ہو۔۔

یہ لو تمہارے لیے سائم نے ڈبہ مہروش کی طرف بڑھایا جسے اس نے فورا ہی لے لیا اور کھول کے دیکھنے لگی۔۔۔

واؤ یہ کتنا خوبصورت ہے مجھے تو یقین نہیں ا رہا کہ یہ تم نے میرے لیے لیا ہے مہروش نے ڈائمنڈ کے سیٹ پر انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا اب لے ائے ہو تو پہنا بھی دو یہ ڈریس کے ساتھ میچ ہو رہا ہے۔۔

سائم نے کچھ سوچا اور پھر ڈبے میں سے نیکلس اٹھا لیا اب وہ بس شاید اپنی جان چھڑانا چاہتا تھا۔

مہروش نے منہ کا رخ دوسری سائیڈ پہ کیا اور ایک طرف سے بالوں کو اگے کر لیا۔سائم بالکل اس کے پیچھے کھڑا تھا۔

میں نے کپڑے رکھ دیے ہیں۔۔ مروہ بے دہانی میں کمرے میں داخل ہوئی مروہ کے دیکھنے سے پہلے سائم نے اس کو دیکھ چکا تھا اس کو دیکھتے ہی سائم نے گھبراہٹ میں ہار کو ڈبے میں رکھ دیا۔

مروہ نے بھی اسے دیکھ لیا تھا۔

ایم سوری ۔۔۔

مجھے لاک کرنا چاہیے تھا مروا کے ہاتھ مسلسل کانپ رہے تھے وہ ایک نظر سائم کو دیکھتی تو ایک نظر مہروش کو۔

ہاں یہ تو ہے تمہیں نوک کرنا چاہیے تھا مہروش کو اس پر شدید غصہ تھا اس نے اس کا سپیشل مومنٹ خراب کیا تھا۔

ایسی کوئی بات نہیں سائم نے مہروش کی بات کاٹتے ہوئے کہا سوری بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔

سائم کی سمجھ سے باہر تھا کہ اسے خوش ہونا چاہیے یا اداس۔

اس سے پہلے کہ کوئی کچھ اور بولتا مروہ کمرے سے باہر چلی گئی وہ بھی سائم کو دیکھ کر کافی گھبرا گئی تھی اس نے اپنا ہاتھ دل پہ رکھا ہوا تھا جو بہت زور سے دھڑک رہا تھا۔۔

سائرہ یہاں سے چلو وہ اگلے ہی لمحے سائرہ کے پاس اگئی تھی اس نے الفاظ کو جوڑتے ہوئے ایک جملہ مکمل کیا۔

کیوں کیا ہوا سائرہ نے ہاتھ میں کچھ پھول پکڑے ہوئے تھے اس نے فورا ان کو ایک سائیڈ پہ رکھا اور مروہ کو دیکھنے لگی جو اسے کافی گھبرائی ہوئی محسوس ہو رہی تھی یہ تمہارے ہاتھ اتنے کیوں کانپ رہے ہیں سائرہ نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے۔

یہ سائم کا گھر ہے اس نے ہاتھوں کو اس کے ہاتھوں کی گرفت سے باہر نکالتے ہوئے کہا۔اور گھر کی طرف اشارہ کیا۔

تم تو ایسے ڈر رہی ہو جیسے وہ زندہ انسانوں کو کھاتا ہو۔۔

سائرہ ایک قدم اٹھاتے ہوئے بالکل اس کے پاس اگئی تھی ہم یہاں کام کرنے ائے ہیں یہاں کون رہتا ہے کون نہیں رہتا ہمیں اس سے کوئی مطلب نہیں ہے سائرہ نے اس کی پشت پر ہاتھ رکھا اور ہلکی سی تھپکی دی۔

مروہ کچھ ہی دیر میں ریلیکس ہو گئی تھی۔اور دوبارہ کام کرنے لگی تھی۔۔

یہ فائل تم دونوں میں سے کوئی اوپر چھوڑ ائے بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس ایک ادمی ان دونوں کے پاس ایا اور نیلے رنگ کی فائل ان کی طرف بڑھائی جسے اگلے ہی لمحے مروہ نے پکڑ لیا۔