Sheh Rug by Aneeta NovelR50466 Shah Rung Episode 15
Rate this Novel
Shah Rung Episode 15
Shah Rung by Aneeta
اس نے نظر اٹھا کر سائم کو دیکھا۔جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔اسے شاید اس کی حالت پہ ترس ا رہا تھا۔وہ اس کے پاس جا کر۔شاید اسے تسلی دینا چاہتا تھا۔ پر انا کے اگے مجبور تھا۔
میں ۔۔۔۔وہ کچھ بولنے ہی والی تھی۔
اس نے سائم کو دیکھا جو مسلسل اسے ہی دیکھ رہا تھا۔اب وہ ٹیبل کی نکر پر بالکل اس کے سامنے بیٹھا تھا۔وہ اسے بری طرح گھور رہا تھا۔۔
وشل فائل لے کر اندر ائی۔سر تصویریں کسی مروہ الیاس کے موبائل میں لی گئی ہیں۔یہ سنتے ہی مروہ تو بس اخری سانسیں گننے لگی وشل نے مروہ کو نہیں دیکھا تھا۔ سنتے ہی سائم کا پاڑاپھر سے ہائی ہو گیا۔اس نے مروہ کو دیکھا
وشل کے ہاتھ سے فائل لی اور اسے جانے کا اشارہ کیا۔
وشل نے ایک نظر مروہ کو دیکھااور پھر باہر چلی گئی۔
مروہ اپنی چیئر سے اٹھ گئی تھی۔وہ پیچھے جانے ہی والی تھی۔کہ سائم نے اسے بازو سے پکڑا۔اور دیوار کے ساتھ لگایا۔یہ گندا کھیل کب سے کھیل رہی ہو۔ذرا بھی شرم نہیں ائی تمہیں۔مروہ کے ہاتھ بہت گرم تھے۔جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ٹھیک نہیں ہے۔وہ ابھی بھی مسلسل خاموش تھی۔
اس معصوم چہرے کے پیچھے اتنی بھیانک شکل ہے۔میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔سائم کا ایک ہاتھ اس کی تھوڑی کے نیچے تھا۔اور دوسرا دیوار پہ۔
تم میری پوری بات تو سنو۔مروہ نے تھرتھراتے ہوئے بات مکمل کی۔
اب سننے کو کیا رہ گیا ہے۔تمہاری حقیقت میرے سامنے اگئی ہے۔۔
اچھا مجھے جانے دو۔مروا نے سائم کو تھوڑا پیچھے کیا۔شاید وہ اس کے غصے سے ڈر گئی تھی۔
سائم پہلے تو اسے بری طرح دیکھتا رہا۔اس کے ماتھے پہ پریشانی کے بل تھے۔اور انکھیں غصے سے لال تھی۔وہ غصہ ہاتھوں سے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ائندہ مجھے اپنی شکل مت دکھانا۔یہ کہتے ہی اس نے اس کا راستہ چھوڑا۔
تم تو کہتے تھے میں تمہاری شہ رگ ہوں کیا یہی تھی تمہاری محبت۔مروہ کی انکھیں انسوؤں سے بھری ہوئی تھی۔وہ شاید سائم کے سینے سے لگ کے رونا چاہتی تھی۔
محبت۔۔۔۔۔
سائم نے رخ مروہ کی طرف کیا۔مجھے نہیں لگتا اس لفظ کے معنی بھی پتہ ہوں گے تمہیں۔فقط تھوڑے سے پیسوں کے لیے۔تم نے میری زندگی تباہ کر دی۔تم ایک لالچی لڑکی ہو۔مجھے اپنے وجود سے گن اتی ہے۔کہ میں نے تم جیسی لڑکی سے محبت کی جسں کواس لفظ کا مطلب بھی نہیں پتہ۔
تم پوری بات سنے بغیر ایسا کیسے کہہ سکتے ہو۔وہ تھوڑا سا اس کے قریب ائی تھی۔جسے سائم نے مشکل سے نظر انداز کیا تھا۔۔۔۔
مجھے تمہاری ایک بات نہیں سننی۔اس سے پہلے کہ میں کچھ غلط کر بیٹھوں یہاں سے دفع ہو جاؤ۔یہ کہتے وہ دوبارہ اپنے چیئر پر بیٹھ گیا تھا۔۔
میں جا رہی ہوں۔۔۔۔
اور اگر کبھی حقیقت کا پتہ بھی چل جائے۔تو کبھی میرے پاس نہ انا۔کیونکہ میں ایک ایسے مرد کے ساتھ اپنی زندگی نہیں گزارنا چاہتی۔جس کی محبت کچھ دنوں میں ختم ہو جائے۔وہ سب صرف باتیں تھی۔اگر میں غلط ہوں تو ٹھیک تم بھی نہیں۔میں نے تم سے جھوٹ بولے ہیں۔میں مانتی ہوں۔لیکن میں نے تم سے محبت جھوٹی نہیں کی۔محبت میں قدم تم نے پیچھے ہٹائے ہیں میں نے نہیں۔۔
یہ کہتے ہی مروہ تیزی سے باہر چلی گئی۔۔
سائم کافی دیر تک اسے دیکھتا رہا۔۔۔۔۔
میں تو پہلے کہتی تھی ان کاموں میں نہ پرو۔ان امیروں کے لاکھوں دشمن ہوتے ہیں۔ان کی زندگی ہمارے جیسی نہیں ہوتی۔اور مجھے تو پہلے پتہ تھا سائم یہی کرے گا ۔اگر اسے ذرا سی بھی محبت ہوتی۔تو وہ ایک لمحے کے لیے تمہاری بات ضرور سنتا۔سائرہ مسلسل بولے جا رہی تھی۔اور مروہ کسی اور ہی دنیا میں گم تھی۔اس کی نظریں تو سارا پر تھی۔اور اس کا دھیان سائم کی طرف تھا۔وہ اپنے کمرے میں ٹیک لگائے زمین پر بیٹھی تھی۔اس کے دونوں ہاتھ گھٹنوں کے اوپر تھے۔اور اس نے اپنا سر ان کے اوپر رکھا تھا۔اس کی انکھیں نم تھی۔۔
سائرہ بولتے بولتے چپ ہو گئی۔شاید اسے لگا تھا کہ مروہ اکیلا رہنا چاہتی ہے۔وہ کچھ ہی دیر میں کمرے سے باہر چلی گئی۔۔
____
گزرتے گزرتے اج تین دن گزر گئے تھے۔سائم نے مروہ سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔۔
تمہارے موبائل پہ کال ارہی ہے۔سائرہ کے ہاتھ میں مروہ کا موبائل تھا۔
کس کی؟مروا جو کچن میں کھانا بنانے میں مصروف تھی۔اپنے ہاتھ صاف کرتے ہوئے موبائل لیا۔کوئی ان نون نمبر تھا۔
یہ کون ہے؟یہ کہتے ہی مروا نے کال اٹھائی۔اور فون کان کے ساتھ لگایا۔
ہیلو۔۔ابھی مروہ بولی ہی تھی۔
کیسی ہو مروہ۔دوسری طرف سے اواز ائی۔میں سائم کی موم بات کر رہی ہوں۔
یہ سنتے ہی مروا نے فون دائیں سے بائیں کان کی طرف لگایا۔
جی۔مروہ نے حیرانگی سے کہا۔
بیٹا اگر تمہارے پاس ٹائم ہو تو اج مجھے ملو۔وہ بہت نرم انداز میں بات کر رہی تھی۔مروہ نے کچھ سوچا اور پھر حامی بھر لی۔
سائم کو اج مروہ کی شدت سے یاد ا رہی تھی۔وہ وہ بے چینی سے اس کا انتظار کر رہا تھا۔
اس نے اس کی چیٹ اوپن کی وہ اس کا لاسٹ سین ہر منٹ بعد ہی دیکھتا تھا۔پر وہ کچھ ٹائپ کرتے کرتے رک گیا۔
وہ سنسان روڈ پہ کھڑی تھی۔
اتنی رات کو انہوں نے مجھے یہاں کیوں بلایا ہے مجھے کچھ سمجھ نہیں ارہی۔
اس نے پاکٹ سے موبائل نکالا۔اور شاید کال کرنے والی تھی۔کہ ایک گاڑی تیزی سے ائی۔اور اسے ہٹ کرتی ہوئی اگے چلی گئی۔مروہ بہت اوپر سے نیچے گری تھی ۔۔اس کے سر سے مسلسل خون بہہ رہا تھا۔اور کافی دیر سے وہاں کوئی نہیں ایا تھا۔۔
تمہارا کام ہو گیا مہروش۔مروہ میڈم ہمیشہ کے لیے گہری نیند سو گئی۔کیا مطلب ہے اپ کی اس بات کا۔مہرش نے حیرانگی سے کہا۔ارم جس نے ابھی ابھی فون کان سے اتارا تھا وہ کسی سے بات کر رہی تھی۔
مروہ میڈم کا بہت بہت برا ایکسیڈنٹ ہوا ویسے تو وہ بچے گی نہیں۔لیکن پھر بھی اگر اس کی کچھ سانسیں بچ گئی۔تو وہ جس روڈ پر پڑی ہے۔وہاں رات کو کوئی چرند پرند بھی نہیں ہوتا۔جو اس کی مدد کرے گا۔
کیا یہ سب اپ نے کروایا۔مہروش نے حیرانگی سے پوچھا۔
ہاں یہ سب میں نے کروایا صرف تمہارے لیے ارم نے موبائل کو ٹیبل پر رکھا اور مہروش کی طرف دیکھنے لگی۔
اور اگر سائم کو پتہ لگ گیا۔مہروش کے ماتھے پہ تھوڑے تھوڑے پریشانی کے بل تھے۔۔۔۔۔
تم فکر مت کرو اسے کچھ بھی پتہ نہیں لگے گا۔۔۔۔
