Sheh Rug by Aneeta NovelR50466 Shah Rung Episode 13
Rate this Novel
Shah Rung Episode 13
Shah Rung by Aneeta
بہت پچھتاؤ گی تم۔۔اجے یہ کہتے وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔۔
لیکن مروہ کے ذہن میں بہت سی باتیں ڈال گئی۔وہ وہیں بیٹھ گئی تھی۔شاید اسے سائم کو کھونے کا ڈر تھا۔۔۔۔
سائم مجھے تم سے بات کرنی ہے۔میں نے اسی لیے تو بلایا تھا۔۔۔
تمہاری بات بھی سن لوں گا ابھی ہم ہمارے گھر جا رہے ہیں۔میں تمہیں اپنی موم ڈیڈ سے ملاؤں گا۔سائم گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔مروہ اس کےساتھ میں بیٹھی تھی۔۔
وہ سائم کو سب بتانا چاہتی تھی۔۔
کیا تمہارے موم ڈیڈ مجھے ایکسیپٹ کر لیں گے۔مروہ نے سوالیہ نظروں سے سائم کو دیکھا۔۔۔۔
میں تمہیں اس لیے نہیں لے کے جا رہا۔کہ وہ تمہیں ایکسیپٹ یا ریجیکٹ کریں ۔میں بس انہیں اپنی پسند دکھانے جا رہا ہوں۔اور تم اتنا کیوں گھبرا رہی ہو۔۔۔۔
مروہ مردان۔وہ ہلکا سا مسکرایا تھا ۔۔۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ سائم کے گھر پہنچ چکے تھے۔
مروہ بہت گھبرا رہی تھی۔ارم مروہ کو دیکھتے ہی ہائپر ہو گئی تھی۔۔۔۔
کیا تم اس لڑکی کو مردان فیملی کی بہو بناؤ گے۔جو اس گھر میں ویٹر کا کام کرنے ائی تھی۔ہال میں سبھی لوگ موجود تھے۔مہروش بھی وہی کھڑی تھی۔جو مروہ کو غور سے دیکھے جا رہی تھی ۔۔۔۔
موم ۔۔۔۔سائم بہت غصے سے چلایا ۔۔
لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا مروہ وہاں سے باہر چلی گئی۔۔۔
مروہ۔۔
سائم پکارتے ہوئے مروہ کے پیچھے گیا۔اس نے بازو سے پکڑ کر اسے اپنی طرف کیا۔تم رو رہی ہو۔اس نے اس کے انسو صاف کیے۔میں تمہیں پہلے بتا چکا ہوں میں صرف ملوانے لے کے ایا تھا۔ان کی رائے لنے نہیں۔اور یہ بھی میری بہت بڑی غلطی تھی۔سائم اس کے انسو صاف کر رہا تھا۔اس کے دونوں ہاتھ مروہ کے گالوں پر تھے۔
وہ صحیح تو کہہ رہی ہیں۔
ہم دونوں میں زمین اسمان کا فرق ہے۔مروہ سائم کی انکھوں میں دیکھ رہی تھی۔
ہاں ہم دونوں میں بہت فرق ہے۔میں تمہارے قابل نہیں۔اور پھر بھی تم نے مجھے اپنا لیا۔۔۔۔
______
کیا اس نے ایک ویٹر کے لیے مجھے چھوڑا۔مہروش اپنے کمرے میں تیز تیز چہل قدمی کر رہی تھی۔میرا مقابلہ اس دو ٹکے کی لڑکی کے ساتھ ہو گا ۔۔۔۔
میں اسے جان سے مار دوں گی۔وہ من ہی من میں بڑبڑا رہی تھی۔اب اس کے دونوں ہاتھ اس کے ماتھے پہ تھے۔اس نے زور سے اپنے بالوں کو پکڑا ہوا تھا۔وہ شاید خود پہ کنٹرول نہیں کر پا رہی تھی۔۔
_____
ہارون وہ لڑکی مردان فیملی کی بہو نہیں بن سکتی۔اپ نے اس کی ڈریسنگ دیکھی تھی۔کہیں سے بھی وہ یہاں میچ نہیں کرتی۔ارم کبھی بیٹھتی۔تو کبھی کھڑی ہو جاتی۔سوسائٹی میں ہم کیا منہ دکھائیں گے۔۔
کیا مسئلہ ہے اس لڑکی میں۔اچھے خاندان کی لگتی ہے۔خود محنت کرتی ہے۔ہارون پاس بیٹھا فائلز کو دیکھتے ہوئے بولا۔اس کا دھیان کام کی طرف ہی تھا۔۔
اب بولو تمہیں مجھ سے کیا بات کرنی تھی۔سائم مسلسل اس کی انکھوں میں دیکھ رہا تھا۔جبکہ مروہ کو ارد گرد کے لوگوں کی فکر تھی۔
تم اتنا ڈرتی کس لیے ہو۔۔مروہ نے بہت کوشش کی لیکن وہ سائم کو نہیں بتا پائی۔۔
دن یوں ہی گزرتے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہرش نے مروہ کی ساری انفارمیشن اکٹھی کر لی تھی۔
کیا یہاں کوئی مروہ الیاس رہتی ہے۔مہروش پوچھتے پوچھتے مروا کے گھر تک پہنچ گئی تھی۔
مروہ تمہیں یہ سب ہمیں تو بتانا چاہیے تھا۔سائرہ عثمان دونوں مروہ کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے۔۔
میں کیسے بتاتی میں بہت ڈر گئی تھی۔لیکن اب مجھے کچھ سمجھ نہیں ارہا میں سائم سے کیسے بات کروں۔اجے نے اگر سائم کو بتا دیا۔تو وہ تو مجھے ہی غلط سمجھے گا۔اسے لگے گا میں نے پیسوں کے لیے اس سے دھوکہ دیا۔جبکہ یہ سچ نہیں ہے۔
کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔مروہ لوگ دروازے کے تھوڑا سا پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے۔مہروش اس سے پہلے کے دروازہ نوک کرتی۔اس نے مروہ لوگوں کی ساری باتیں سن لی تھی۔نہ صرف سنی تھی بلکہ ریکارڈ بھی کر لی تھی۔۔
اب ائے گا کہانی میں ٹوسٹ۔مہروش نے موبائل کو بیگ میں ڈالا۔اور انہی قدموں پہ واپس ہو گئی۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ سائم سے بات کرے۔تم خود سائم کو سب کچھ بتا دو عثمان نے بھی اسی بات پہ زور دیا۔کہ اسے سائم کو بتا دینا چاہیے۔۔
دوسری طرف اجے بھی پلاننگ کر رہی تھی۔۔
اس سے پہلے کہ وہ لڑکی سائم کو کچھ بتائے۔اور ہمارا سارا کھیل خراب ہو جائے۔ہمیں خود سائم کو بتانا پڑے گا۔اجے سائم کے لیے ایسے ہی پلاننگ کرتی تھی جیسے میٹنگ کر رہی ہو۔
اپ کو ڈر نہیں لگے گا۔اپ سائم مردان کے غصے کو اچھے سے جانتی ہیں۔
پاس کھڑے لوگوں میں سے ایک بولا۔۔
جب انسان کی اپنی جان کسی اور میں اٹکی ہو۔تو وہ کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔اب وہ اب سائم مردان نہیں رہا۔انسان پیار میں اکثر اپنی شناخت بھول جاتا ہے۔اجے بات کرتے اس کے بالکل قریب ا گئی تھی۔
تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا۔یہ ویڈیو تم اسے نہیں دکھاؤ گی۔ارم کے ہاتھ میں مہروش کا موبائل تھا۔جسے دیکھتے ہی اس نے کہا تھا۔
کیا مطلب ہے اپ کا۔ہمارے ہاتھ ثبوت لگا ہے۔
تم بہت معصوم ہو میری جان۔ارم نے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے کہا۔موبائل ابھی بھی اس کے ہاتھ میں تھا۔
اگر سائم نے یہ ویڈیو دیکھ لی۔تو وہ مروہ کو معصوم سمجھے گا ۔میں اجے کو بہت اچھے سے جانتی ہوں۔وہ سائم سے بدلہ لینا چاہتی ہے۔اب ہم چپ چاپ اسے اپنا کام کرنے دیں گے۔ہمیں کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ہم بس بیٹھ کے تماشہ دیکھیں گے۔اور دیکھنا سائم خود چل کر تمہارے پاس ائے گا۔
یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں۔مہروش نے ارم کی پلاننگ کو سرہاتے ہوئے کہا۔
اور گہری سوچ میں گم ہو گئی۔
بس اب تم بیٹھ کر تماشہ دیکھو۔اس مروا الیاس کا۔وہ دونوں اب ہنسنے لگی تھی
۔۔
تم بہت جلدی غصہ ہو جاتے ہو میری جان۔ا جے نے سائم کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا۔جو اس کے بالکل سامنے بیٹھی تھی۔سائم نے اگلے ہی لمحےمیں اس کا ہاتھ پیچھے کیا۔
جو بات کرنے ائی ہو وہ کرو اور یہاں سے دفع ہو جاؤ۔سائم اب اپنی چیئر سے اٹھ گیا تھا۔اس نے زور سے چیر کو تھوڑا پیچھے کیا۔جو دیوار کے ساتھ جا کے رکی تھی۔
اج تو تمہیں میری بات ارام سے سننی پڑے گی۔کیونکہ اج کا موضوع مروہ الیاس ہے۔اجے بھی اپنی چیئر سے اٹھی تھی۔وہ اب سائم کی پشت پہ کھڑی تھی ۔
اپنی گندی زبان سے اس کا نام مت لینا۔
اس نے شاید اپنا جملہ مکمل بھی نہیں کیا تھا۔کہ سائم ایک دم سے بولا۔
کیا میں اپنے پارٹنر کا نام لیتے ہوئے بھی تم سے اجازت لوں گی۔اجے کے چہرے پہ تنزیہ سمائل تھی۔
تمہاری اس بات کا مطلب کیا ہے۔سائم تھوڑا اگے بڑھا تھا
۔اس کے ماتھے پہ پریشانی کے بل تھے۔میں نے کہا نا اس کا نام نہ لو۔وہ ایک بار پھر چلایا تھا۔وہ اجے کو اتنے غصے سے دیکھ رہا تھا۔کہ اگر وہ لڑکا ہوتی۔تو شاید ابھی زندہ نہ ہوتی۔
یہ دل بھی انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا۔اس نے ایک لمبی سانس لی۔اور دوبارہ چیئر پر بیٹھ گئی۔
جو بات ہے وہ کرو اور یہاں سے دفع ہو جاؤ۔سائم کے دونوں ہاتھ اب ٹیبل پر تھے ۔وہ تھوڑا سا جھکا ہوا تھا۔
مس مروہ الیاس نے اپ سے محبت کا ڈرامہ کرنے کے لیے۔مجھ سے پورا ایک کروڑ لیا ہے۔۔
اس کی بات سنتے ہی سا ئم نے زوردار کہکا لگایا تھا۔اور وہ ہنستے ہنستے چیئر پر بیٹھ گیا۔اور تمہیں لگتا ہے تم یہاں ا کے کچھ بھی بولو گی۔اور میں یقین کر لوں گا۔۔
میں صرف باتیں لے کر نہیں ائی سائم مردان۔یہ کہتے ہی اجے نے فائل سائم کے ٹیبل پر پھینکی۔جسے اگلے ہی لمحے سائم نے اٹھا لیا۔وہ جیسے جیسے صفحہ اگے کر رہا تھا۔اس کے ماتھے کے بل اور گہرے ہو رہے تھے۔وہ ایک نظر اجے پھر ایک نظر فائل کو دیکھتا۔۔
