266K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Rung Episode 26

Shah Rung by Aneeta

علیزے یار یہ کیا ہے۔مروہ نے علیزے کا موبائل پیچھے کرتے ہوئے کہا۔جو اسے کچھ لڑکوں کی تصویریں دکھا رہی تھی۔دیکھو مجھے ابھی شادی نہیں کرنی۔اور اگر میں شادی کر لوں گی تو دادا جان کا کیا ہوگا۔اور گھر کا خرچہ کیسے چلے گا۔

مروہ بہت اگے تک چلی گئی تھی۔اور اس کی باتیں کہیں تک بجا بھی تھی۔

دیکھو دادا جان کو ہم اپنے ساتھ رکھیں گے۔بس میں کچھ نہیں سننے والی۔مجھے کچھ نہیں سننا مروہ نے ابھی کچھ بولنے کی کوشش ہی کی تھی کہ علیزے نے اسے چپ کروایا۔۔۔

دیکھو بہت ماڈرن فیملی ہے۔تم پہلے خود لڑکے سے ایک دفعہ مل لو وہ بھی تم سے ملنا چاہتا ہے۔

علیزے مجھے کسی سے نہیں ملنا۔۔

دیکھو ریحان کے جاننے والے ہیں۔تم مجھے ان کے سامنے شرمندہ کرنا چاہتی ہو۔ایک دفعہ ملنے کا ہی تو کہہ رہی ہوں نا پسند ایا تو انکار کر دینا۔علیزے کے لہجے میں عجیب بے چینی تھی۔اور مروہ اسے بے چین نہیں دیکھ سکتی تھی

پلیز مروہ۔۔۔

علیزے نے اسے سوچتا دیکھ کر ایک اور وار کیا۔میری خاطر بس ایک دفعہ مل لو۔۔

اچھا ٹھیک ہے۔۔مروہ کا ذہن تو پہلے ہی مسئلوں سے بڑا پڑا تھا پر اس نے حامی بھر لی تھی۔اور اسے خود بھی سمجھ نہیں تھی کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔۔

میری جان۔۔۔علیزے نے مروہ کو زور سے حگ کیا۔۔۔۔

اگلے دن کا سورج ڈل چکا تھا۔مروہ کاموں سے فارغ ہوئی اور اب علیزے اسے دلہن کی طرح تیار کر رہے تھی۔اس نے لڑکے سے ملنے ایک ریسٹورنٹ میں جانا تھا۔کسی شہزادی سے کم نہیں لگ رہی ذرا دیکھو۔۔۔۔

ایسا کچھ بھی نہیں ہے مجھ سے بھی زیادہ خوبصورت لڑکیاں ہیں ۔۔۔۔

ہوں گی ہم نے تو نہیں دیکھی۔علیزے اج بہت خوش تھی۔کیونکہ اس کی ساری خوشیاں مروہ سے وہ بستہ تھی۔

میرا موبائل بھی اس کمینے کے پاس رہ گیا۔۔

کیا وہ تمہارا موبائل بھی لے گیا۔۔

سارا اور عثمان دونوں باتیں کرتے ہوئے روڈ سے جا رہے تھے۔پاکستان پہنچتے ہی سائم نے سائرہ کو چھوڑنے کی ہدایات کی تھی۔

تم مروہ کو میسج کرو۔۔۔

وہ یقینا پاکستان پہنچ چکا ہوگا۔سائرہ نے اس کے موبائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔جو کہ اس کی کوٹ کے جیب میں تھا۔

میرے پاس تو اس کا نمبر ہی نہیں عثمان نے موبائل باہر نکالا اور اسے دکھاتے ہوئے کہا۔

اور تم ایسے ہی پریشان ہو رہی ہو۔

اچھا ہوا ہے۔سائم اس سے پیار کرتا ہے اور میں سمجھ سکتا ہوں کہ ایک عاشق کی فیلنگ کیا ہوتی ہے۔اس نے افسردہ لہجے میں یہ بات کہی تھی۔

اچھا تم کیسے سمجھتے ہو کیا تم نے بھی کسی سے پیار کیا ہے۔سائرہ نے اپنی پرابلمز کو پیچھے چھوڑا اور اس سے سوال کیا۔شاید تو اس کے دل کا حال جاننا چاہتی تھی۔

ہاں میں کرتا ہوں۔پر مجھے نہیں لگتا کہ وہ بھی کرتی ہے۔اس کا اشارہ سائرہ کی طرف ہی تھا۔

وہ دونوں باتیں کرتے کرتے اپنی منزل تک پہنچ چکے تھے۔اور ان کی باتوں کو کوئی منزل نہیں ملی تھی۔

تم نے سائم کی محبت دیکھی ہے نفرت نہیں۔اب تمہیں اپنے ہونے پہ پچھتاوا ہو گا مروا۔سائم شاید خود کو مروہ سے نفرت کے لیے تیار کر رہا تھا۔کیونکہ یہ بہت مشکل کام تھا اس کے لیے۔یا سچ میں اس کے دل میں اب مروہ کی محبت نہیں رہی تھی۔وہ صبح کی فلائٹ سے ہی پاکستان پہنچا تھا۔اور پھر ساتھ ہی اس نے کراچی سے اسلام اباد کی فلائٹ لی تھی۔اس کے دماغ میں بس اگ لگی ہوئی۔مروہ کی لوکیشن وہ پہلے سے ٹریس کیے ہوئے تھا۔اور پاکستان میں یہ کام مشکل نہیں تھا۔۔۔

اور بتائیں اپ کی ہوبیز کیا ہیں۔۔۔

مروہ ایک لڑکے کے ساتھ ریسٹورنٹ میں بیٹھی ہوئی تھی۔وہ لڑکا سوال پہ سوال کر رہا تھا۔پر مروا سرسری سا جواب ہی دیتی تھی۔۔

کچھ خاص نہیں۔مروہ کچھ بولنے ہی والی تھی۔کہ اس نے اپنے بازو پہ کسی کی گہری گرفت محسوس کی اس نے نظر اٹھا کے اوپر دیکھا۔تو سائم اس کے مقابل کھڑا تھا ۔

لوگوں کو دھوکہ دینا اور بے وقوف بنانا اس کی ہوبس ہے۔اور ابھی بھی وہی کر رہی ہیں۔تمہارے ساتھ اس نے سامنے بیٹھے لڑکے کو دیکھا اور مروہ کو بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا۔مروہ تو پہلے ہی سکتے میں جا چکی تھی۔کچھ بولے بغیر اپنے بازو کو اس کی گرفت سے ازاد کروانا چاہا۔

کون ہو تم اور کیا بدتمیزی ہے۔اس کا ہاتھ چھوڑو۔اس لڑکے نے مردانگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے دھمکایا۔لہجے میں خاصہ غصہ تھا۔

اس معاملے سے جتنا دور رہو گے تمہارے لیے اتنا اچھا ہوگا۔سائم نے لڑکے کو ہاتھ سے پیچھے ڈکیلا ۔جس نے اسے گریبان سے پکڑنے کی کوشش کی۔اور مروہ کو بازو سے پکڑ کر باہر کی طرف جانے لگا۔اس لڑکے نے پیچھے انا چاہا لیکن سائم نے بندوق دکھائی۔تو اس کے قدم وہیں رک گئے۔

بازو چھوڑو۔۔۔۔

لوگ دیکھ رہے ہیں۔۔۔

مروہ یہی جملے دو تین بار بول چکی تھی۔اس کے دماغ نے تو جیسے کام کرنا چھوڑ دیا ہو۔ایک اچانک سائم کا انا پھر اس لڑکے کے سامنے یہ اس کے دماغ میں بہت سے سوال چل رہے تھے۔کہ سائم نے اسے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بہت زور سے گرایا تھا۔خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہوئے گاڑی کو لاک کر دیا ۔۔

یہ کینڈا نہیں ہے ۔یہ کیا بدتمیزی

مجھے کچھ بھی نہیں سننا مرو ہ سائم نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔گاڑی کی سپیڈ بہت تیز تھی۔تم نے جو کیا ہے اس کا بدلہ تو جھکانا پڑے گا۔اور فکر مت کرو نہیں انے والا پیچھے اج بس حساب برابر کروں گا۔مروہ کو بہت ڈر لگ رہا تھا کیونکہ وہ سائم کے غصے سے اچھے سے واقف تھی۔۔

اپ کا بیٹا بنا بتائے چلا گیا۔۔

یہ مجھے پاگل کر دے گا۔ہارون ابھی کمرے میں داخل ہی ہوا تھا کہ ارم نے لفظوں کا وار کرتے ہوئے۔اسے اپنی طرف مخاطب کیا۔اپ کو جوان بیٹے کی کوئی پرواہ نہیں۔

کیسے باپ ہیں اپ۔

وہ ہارون کو بولنے کا موقع نہیں دے رہی تھی۔اور ہارون کچھ بولنا بھی نہیں چاہتا تھا۔کیونکہ وہ پہلے ہی سائم سے بات کر چکا تھا۔۔

یہ کس کا گھر ہے۔سائم نے مروہ کو بازو سے پکڑ کر باہر نکالا اور اندر کی طرف جانے۔مروہ سوال پہ سوال کر رہی تھی۔لیکن سائم اسے کھینچتے ہوئے اندر لے کے جا رہا تھا۔

کیوں لے کے ائے ہو۔سائم کمرے میں داخل ہوتے ہی اسے ایک طرف گرایا۔وہ ایک بڑے سے بنگلے میں ائے تھے جو سا ئم کا ہی گھر تھا پر وہاں رہتا کوئی نہیں۔

کیوں کیا تم نے یہ سب۔۔

بتاؤ مروہ۔وہ اب مروہ کے مقابل کھڑا تھا۔

تم نے ہر بار مجھے دھوکہ دیا ہے۔کبھی محبت کی ہی نہیں تم نے۔میں کچھ پوچھ رہا ہوں۔

اسے خاموش دیکھ کر سائم ایک دفعہ پھر چلایا تھا۔

کیوں کیا تم نے ۔

کیونکہ تم ڈزرو کرتے ہو سائم مروہ نے بھی اسی کے لہجے میں جواب دیا تھا۔

اور تم یہ ڈیزرو کرتی ہو۔سائم نے مروہ کے منہ پہ زور سے تھپڑ مارا مروہ اس حملے کے لیے بالکل تیار نہیں تھی۔تو وہ بری طرح سے پیچھے گری۔اس کا ایک ہاتھ اس کے گال پہ تھا جہاں سرخ نشان بہت گہرا پڑ گیا تھا۔اور انکھیں انسوؤں سے بڑھ گئی تھی۔اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے اوپر دیکھا تو سائم کہ غصے میں کوئی کمی نہیں ائی۔اور اب اسے سائم سے ڈر لگنے لگا تھا ۔

یہ مگرمچھ کے انسو میرے سامنے نہیں ۔اب ساری زندگی پچھتاؤ گی ۔تم دھوکے باز ہو ۔لیکن یہ دھوکا بہت مہنگا پڑنے والا ہے ۔سائم نے بازو سے پکڑ کر مروہ کو کھڑا کیا ۔اس نے زندگی میں پہلی دفعہ کسی عورت پہ ہاتھ اٹھایا تھا۔۔

رونا بند کرو۔۔۔

سائم اس کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا ۔مروہ بالکل بے ہوش میں نہیں تھی۔اسے سمجھ نہیں ا رہا تھا کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔

ابھی تو ایک تھپڑ پڑا ہے اور یہ حالت ہو گئی ہے۔ابھی تو بہت کچھ دیکھنا ہے مس مروا لیکن مجھے کسی بات کا پچھتاوا نہیں ہے۔کیونکہ یہ کھیل تم نے شروع کیا تھا۔لیکن اسے ختم میں کروں گا۔