Sheh Rug by Aneeta NovelR50466 Shah Rung Episode 31
Rate this Novel
Shah Rung Episode 31
Shah Rung by Aneeta
میں نے بھی سب کچھ ختم کر دیا ہے۔مروہ نے استین ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔اور میری ڈائری ۔وہ ڈائری کے متعلق سوال کرنا چاہتی تھی پرسائم نے اپنا ہاتھ اس کے لبوں پر رکھ کر اسے خاموش کروایا۔
اب سب ختم کر چکی ہو نا تو کوئی سوال نہیں۔سائم اسے ٹوکتے ہوئے بولا۔میں تمہارے کسی سوال کے جواب کا پابند نہیں ہوں ۔اس نے ہاتھ کو پیچھے کیا۔
مروہ اس کا یہ لہجہ دیکھ کر تھوڑی حیران تھی۔کہ کہاں مجھ سے بات کرنے کے لیے اس کی منتیں کرتا تھا۔اور اب۔اس بار مروہ نہیں بلکہ سائم اس کے جانے سے پہلے ہی باہر چلا گیا۔۔۔۔
مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔سائم۔۔۔اس نے شاید خود کو تسلی دی تھی۔
میری طرف سے باڑ میں جاؤ۔۔مروہ بھی غصہ جھاڑتے ہوئے باہر کو نکلی۔وہ سائم کے اس رویے سے تھوڑا حیران ضرور تھی۔لیکن پھر بھی وہ اپنا دھیان دوسری طرف بٹانا چاہتی تھی۔
یہ کیا چل رہا ہے۔سمیر نے سائم کی حالت کا جائزہ لیتے ہوئے۔تنزیہ انداز میں پوچھا۔کیونکہ سائم جب سے افس میں ایا تھا۔تھوڑا بے چین تھا۔اور مروہ کو تو ہر دوسرے سیکنڈ میں دیکھتا تھا۔
کیا مطلب کیا چل رہا ہے۔سائم جو پہلے ہی مروہ کی وجہ سے غصے میں تھا۔سمیر کا یہ سوال بھی اسے کچھ اچھا نہیں لگا۔سمیر کو مروہ کی طرف دیکھتے دیکھ کر وہ سمجھ چکا تھا۔
تم جیسا سوچ رہے ہو ویسا کچھ بھی نہیں ہے۔اس نے ایک نظر مروہ کو دیکھا اور پھر اسے بتانا شروع کیا۔مروہ بھی اب اپنے ٹیبل پر ا چکی تھی بتا چکا ہوں کہ مروہ سے کینڈا میں ایک دو دفعہ مل چکا ہوں۔تو ہیلو ہائی کے لیے گیا تھا۔سرسری سا جواب دینے کے بعد سائم اپنے موبائل میں مصروف ہو گیا تھا۔سمیر نے بھی بات کو کھینچنا مناسب نہیں سمجھا اور کام میں مصروف ہو گیا۔۔
سائرہ میں پاگل ہو جاؤں گی۔مروہ اپنی افس چیئر پر بیٹھی سائرہ کو جو ہوا سب بتا چکی تھی۔میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ اتنا گھٹیا نکلے گا۔اب اسے مہروش مل گئی ہے۔میری کیا پرواہ ہو گی۔۔
مروہ جانی میں تو خود حیران ہوں۔یقینا سائم کے بارے میں یہ بات مجھے اگر کوئی اور بتاتا۔تو وہ مر بھی جاتا تو میں یقین نہ کرتی۔لیکن تم کہہ رہی ہو کہ تم نے اپنی انکھوں سے دیکھا۔اور پھر تم جھوٹ کیسے بول سکتی ہو۔سائرہ بھی حیران تھی۔اور اس نے جو سنا تھا اسے یقین نہیں ہو رہا تھا اپنے کانوں پہ۔۔۔۔
میں تو بہت ڈر گئی ہوں۔مروا اج کل کے زمانے میں کسی پہ یقین نہیں کیا جا سکتا۔جب سائم مردان جیسا بندہ ایسا ہو سکتا ہے۔پھر تو میں کہتی ہوں دنیا میں اچھے انسان ہے ہی نہیں۔سائرہ جو ساتھ ساتھ کام میں مصروف تھی۔کینڈا میں تقریبا رات ہو گئی تھی۔۔
سائرہ میں بہت پریشان ہو چکی ہوں۔مروا دھیمے دھیمے لہجے میں بات کر رہی تھی۔کہ کہیں کسی کو اواز نہ چلی جائے۔وہ کچھ بولنے سے پہلے اگے پیچھے ضرور دیکھتی تھی۔پھر جا کر بات کرتی تھی۔کچھ سمجھ نہیں ا رہا کہ اب میں کیا کروں۔
تم ایسے ہی کینڈا سے چلی گئی۔میں تو کہتی ہوں واپس ا جاؤ میں بہت اکیلی پڑ گئی ہوں۔تمہاری اتنی یاد اتی ہے۔سائرہ کا لہجہ تھوڑا افسردہ تھا۔میں بہت اکیلی رہ گئی ہوں۔وہ دن کتنے اچھے تھے۔جب سائم نہیں ایا تھا ہماری زندگیوں میں۔یہ بات اس نے تھوڑی لاؤڈلی کہی تھی۔لہجہ بھی تھوڑا چینج ہوا تھا۔
ایسا ہی ہے وہ دن بہت اچھے تھے۔سائم کے انے کے بعد سب کچھ گڑبڑ ہو گیا۔میرے تو خواب چکنا چور ہو کے رہ گئے۔کینڈا جانے کے لیے میں نے کتنی محنت کی تھی۔کیا کیا حواب سجائے تھے وہاں کا پی ار لینے کے بعد وہیں سیٹل ہونا تھا مجھے لیکن سب کچھ بیچ میں چھوڑنا پڑا۔لیکن میں کیا کرتی ۔میں علی کاظمی سے بہت ڈر چکی تھی۔اگر میں واپس سائم کے پاس جاتی۔تو علی اور سائم کا پھر سے جھگڑا۔اور سائم اس کے ساتھ پتہ نہیں کیا کرتا۔ان سب سوچوں سے تو میں بھاگی تھی۔مجھے لگا تھا یہاں ا کے سکون مل جائے گا لیکن۔۔۔
خیر چھوڑو۔۔۔۔مروا نے خود کو اچانک بریک لگاتے ہوئے چیئر کے ساتھ ٹیک لگائی۔۔
اب سب ختم ہو گیا نا۔تو بس اسے اس کے حال پہ چھوڑ دو۔اور غلطی سے بھی جاب چھوڑنے کی غلطی مت کرنا۔وہ اج نہیں تو کل کینیڈا واپس ا جائے گا۔تم نے پہلے بھی اس کی وجہ سے کیا کچھ نہیں چھوڑا سائرہ اب اسے بچوں کی طرح سمجھا رہی تھی۔
مروہ کو بولو اگر فائل ریڈی ہے تو اسے لے کے افس میں ائے۔سائم ابھی تک سمیر کے افس میں بیٹھا ہوا تھا۔اور وہ جا بھی کیسے سکتا تھا ۔سمیر کی یہ بات سنتے ہی وہ تھوڑا سیدھا ہو کے بیٹھا۔سمیر نے یہ بات پاس کھڑی ایک لڑکی کو کہی تھی۔جو اس کی بات پہ عمل کرتے اب باہر جا چکی تھی۔سائم کی بے چینی سمیر نے بھی نوٹس کی تھی۔
مروہ سمیر سر نے تمہیں افس میں بلایا ہے۔فائل ریڈی ہے تو انہیں جا کے دکھا دو۔مروا نے ایک نظر افس کو دیکھا۔افس کا دروازہ بند تھا۔
یہ تم لے کے جا کے دکھا دو۔مروہ کی نظریں افس کی طرف ہی تھی۔
یہ تمہارا پروجیکٹ ہے میں کیسے دکھا دوں۔وہ لڑکی بھی تیور دکھاتے ہوئے اپنی چیئر پر چلی گئی۔
پھر سے اس کا سامنا کرنا پڑے گا۔کیا مصیبت ہے۔مروہ نے حود کو بہت مشکل سے تیار کیا۔اور افس کی طرف جانے لگی۔۔۔
۔۔۔۔
مروہ کا اج انٹرویو تھا ابھی تک واپس نہیں ائی۔دادا جان جو ابھی کمرے میں داخل ہوئے تھے۔مروہ کو نہ پا کر انہوں نے علیزے سے سوال کیا۔اور سائیڈ پہ بڑے صوفے پر بیٹھ گئے۔۔
دادا جان اس کی کال ائی تو اس نے کہا کہ اس نے اج سے ہی جوائن کر لیا ہے۔اچھی بات ہے نا دادا جان وہ ویسے بھی بور ہو گئی تھی۔جب سے کینڈا سے ائی ہے گھر میں ہی بس قید ہو کے رہ گئی ہیں۔علیزے بھی اب ان کے پاس ا کر بیٹھ گئی تھی۔
اور ویسے بھی وہ بہت پریشان تھی۔جاب کو لے کر شکر ہے اس سے مل گئی۔
ہاں بیٹا۔جب سے کینڈا
سے ائی ہے کچھ الجھی الجھی سی ہے۔پتہ نہیں کیا پریشانی ہے جو ہم سے بھی چھپا رہی ہے۔اتنی چھوٹی سی تھی۔امجد میاں بہت پیچھے چلے گئے تھے۔ان کی انکھوں میں انسو نمایاں ہو چکے تھے۔پتہ نہیں کب اتنی بڑی ہو گئی۔کہ اپنے مسئلے ہم سے چھپانے لگی علیزے بھی اب تھوڑی پریشان ہوئی۔کیونکہ اس نے بھی یہ بات نوٹس کی تھی۔اور پھر جو کچھ مروہ نے سائم کے بارے میں اسے کہا تھا۔وہ باتیں پھر سے اس کے دماغ میں چلنے لگی تھی۔اس نے نظر اٹھا کے دادا جان کو دیکھا۔وہ بھی گہری سوچ میں جا چکے تھے۔
نہیں دادا جان ایسی کوئی بات نہیں۔ماحول چینج ہوا ہے۔دوستوں سے جدا ہوئی ہے۔اور ویسے بھی دادا جان یہ عمر ہی ایسی ہوتی ہے۔انسان سو دفعہ گرتا سنبھلتا ہے۔علیزے نے ایک ہاتھ ان کے کاندھے پہ رکھا۔اپ پریشان نہ ہوں۔اور ایسی کوئی بات نہیں ہے۔علیزے اور مروہ دونوں ہی انہیں پریشان نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مروہ کی اہٹ محسوس کرتے ہی سائم موبائل میں مصروف ہو گیا تھا۔جیسے اس نے نہ اسے دیکھنے کی قسم کھا لی ہو۔۔
ہاں مروہ ریڈی ہے فائل۔سمیر نے ایک نظر سائم کو دیکھا اور پھر مروہ کے ہاتھ سے فائل لی۔سائم نے نظروں کو موبائل پہ جمایا ہوا تھا۔جبکہ مروہ کے انے سے پہلے وہ بالکل ریلیکس بیٹھا تھا۔مروہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر فائل سمیر کو دی۔۔
مجھے بھی کوئی پرواہ نہیں ہے تمہاری۔اس نے اندر ہی اندر اس کی بے روحی کا جواب دیا تھا۔
میں یہ چیک کرتا ہوں تم ابھی یہاں بیٹھ جاؤ۔سمیر نے سائم کے ساتھ والی چیئر پر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔لیکن سائم نے پھر بھی نظر اٹھا کر اسے نہیں دیکھا۔وہ موبائل میں ہی مصروف رہا۔جیسے وہ مروہ کو جانتا ہی نہ ہو۔سمیر بھی تھوڑا حیران تھا۔کیونکہ سائم کے بقول وہ مروہ کو جانتا تھا۔اور کینڈا میں مل بھی چکا تھا۔تو پھر ایسی بے رخی اور بے نیازی۔۔۔
مروہ نے چیئر پر بیٹھنے سے پہلے بھی ایک نظر سائم کو دیکھا۔لیکن وہ ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے۔مسلسل موبائل میں مصروف تھا۔یا پھر مصروف ہونے کی ایکٹنگ کر رہا تھا۔۔
پھر اج رات کا کیا پلان ہے سائم۔۔
کتنے دنوں بعد ہم کزن اکٹھے ملیں گے۔سمیر نے دہان تھوڑا فائل سے ہٹایا تو سائم کو مخاطب کیا۔
سائم نے ایک نظر مروہ کو دیکھا۔جس کا دھیان اب کہیں اور ہی تھا۔اس نے نظروں کو نیچے جھکایا ہوا تھا۔
ہاں میں نے بھی کافی ٹائم سے اچھا ٹائم نہیں گزارہ۔اس نے طنز کرتے لہجے میں مروہ کو دیکھا۔تھوڑا برک اچھا ہوتا ہے۔اس نے موبائل کو اب ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔۔
اج میں بالکل فری ہو گیا ہوں۔ہر چیز سے ازاد تو پارٹی تو بنتی ہے۔دھیان مروہ کی طرف ہی تھا۔مروہ اس کی باتیں تو سن رہی تھی۔پر اس کی طرف دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔
ہاں میں نے مہروش کو بھی فون کر دیا۔ان الفاظ نے نہ صرف مروہ بلکہ سائم کو بی چونکایا تھا۔دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا سوالیاں نظروں سے۔سائم کہ تو ذہن میں بھی نہیں تھا۔کہ سمیر ایسا کچھ بولیے گا یا وہ مہروش کو انوائٹ کرے گا۔وہ بری طرح سے پزل ہو چکا تھا۔کیونکہ اس سے پہلے وہ مروہ کے سامنے اچھی خاصی ایکٹنگ کر چکا تھا۔اج کے ڈنر کے حوالے سے لیکن اسے کیا خبر تھی کہ وہ مہروش کو بھی انوائٹ کر چکا ہے۔وہ مروہ کی انکھوں میں غصہ صاف دیکھ سکتا تھا۔۔
ہاں مروہ یہ کام تو بہت ہی زبردست ہے۔میری سوچ سے بھی زیادہ زبردست ہے۔لہجے میں بے تحاشہ خوشی تھی۔سمیر کو سچ میں مروہ کا کام اچھا لگا تھا۔سائم یہ ذرا یہ چیک کرو۔۔سائم جس کی نظریں ابھی تک مروہ پر تھی۔نے اس بات پر غور کرتے ہوئے فائل کو اپنی طرف کیا۔۔
ٹھیک ہے پھر اپ کو کام پسند ایا تو میں چلتی ہوں۔اور بھی بہت کام ہے مجھے لہجے میں غصہ نمایا ہوا تھا۔چیئر کو زور سے اگے کیا اور مروہ باہر کی طرف چلی گئی۔سمیر تو دونوں کی کمسٹری سمجھ نہیں پا رہا تھا۔۔
سائم تم نے کہا تھا تم مروہ کو جانتے ہو۔پھر یہ انجانوں والا رویہ کیوں ۔۔
ہاں میں جانتا ہوں اور اس سے مل چکا ہوں پہلے ہی۔تو کیا بار بار ملوں اب سائم نے فائل اس کی طرف کی۔اور مہروش کو کیوں اور کس سے پوچھ کر انوائٹ کیا ہے۔سائم بھی اب غصے میں تھا۔
یہ کیا بات ہوئی کیوں انوائٹ کیا ہے۔۔
کزنز ہے ہم ساتھ میں ڈنر کر سکتے ہیں۔کیوں کیا ہوا۔کیا تمہارا جھگڑا چل رہا ہے اس سے۔سمیر جو ہر بات سے ناواقف تھا حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا۔اب وہ افس چیئر سے اٹھ چکا تھا ۔اور سائم کے مقابل بیٹھا تھا۔۔۔
میں اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا اب زندگی میں۔اس نے بھی چیئر کو زور سے پیچھے کیا اور باہر کی طرف گیا۔افس کا دروازہ کھولنے سے پہلے اس نے شرٹ ٹھیک کی تھی۔۔
تم ایک نمبر کے گھٹیا انسان ہو۔تو اج رات ڈنر تم اس کے ساتھ کرنے والے ہو۔اسی لیے تو تمہیں میں نظر نہیں ارہی۔ اب میری ضرورت کیوں ہوگی سائم وہ غصے سے لال پی لی خود سے ہی باتیں کیے جا رہی تھی۔۔۔
میں پاگل ہو جاؤں گی پاگل۔۔
لیکن مروہ تمہیں کیوں فکر ہو رہی ہے۔مروا نے اندر سے اتی اواز پہ غور کیا اور پھر کچھ دیر کے لیے خاموش ہوئی۔
مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے اس کی مروہ نے ہاتھ میں پکڑی فائل کو زور سے زمین پر پھینکا۔یہ بات اس نے کافی اونچی اواز میں کہی تھی۔اس نے اپنا رخ جیسے ہی پیچھے کیا تو سائم کھڑا تھا۔سائم ابھی ابھی ہی ایا تھا۔اس نے سوالیہ نظروں سے نیچے گری فائل کو دیکھا اور پھر مروہ کو۔۔۔
کس کی پرواہ نہیں ہے۔اس نے اگے پیچھے دیکھا تو کوئی نہیں تھا۔اور فائل اٹھا کر اس کے ٹیبل پر رکھی۔۔
تمہیں اس سے کیا مطلب ہے۔تمہیں تو اج کے کینڈل لائٹ ڈنر کی تیاری کرنی چاہیے۔مسٹر سائم مردان۔اور کیا ہوا تم اپنی بات پہ قائم نہیں رہ سکے کیا۔۔۔
دیکھو میں جہاں جاؤں جس کے ساتھ جاؤں تمہیں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔اور میں یہاں سے گزر رہا تھا۔اور ایسی پاگلوں والی حرکت پہ کوئی بھی رک سکتا ہے۔دیواروں سے باتیں کر رہی تھی کیا۔۔
اور میرے پاس بچہ ہی کیا ہے سائم۔یہ دیواریں ہی تو ہیں اب بس۔
تم نے چھوڑا کیا ہے میرے پاس ایک ہاتھ سے اسے پیچھے ہٹاتے ہوئے مروا نے راستہ بنایا اور چلی گئی۔اس کی انکھیں تھوڑی نم تھی۔سائم شاید اسے روکنا چاہتا تھا لیکن وہ بھی انا پہ قائم تھا۔مڑ کر ایک نظر اسے دیکھا۔جو کہ اب جا چکی تھی۔اور پھر افس سے باہر نکل گیا۔۔
۔۔۔۔۔
مہروش نے بجتے ہوئے موبائل کی طرف دیکھا اور غصے سے اسے کان کے ساتھ لگایا اب اپ کو کیا چاہیے مجھ سے اپ کے بیٹے نے تھوڑا ذلیل کیا ہے جو۔دیکھیں انٹی مجھے اب اپ کی کسی بات پہ کوئی یقین نہیں ہے ۔سائم مجھ سے پیار نہیں کرتا نہیں کرتا ۔میں اس کے ہاتھوں بار بار ذلیل نہیں ہو سکتی۔۔
ریلیکس ہو جاؤ ڈارلنگ۔ارم نے پیار بڑے لہجے میں اسے خاموش کروایا۔کیا ہو گیا ہے۔۔
سب کچھ برباد ہو گیا ہے۔اب وہ ہاتھ ماتھے پہ رکھے بیڈ پر بیٹھ چکی تھی۔سب کچھ برباد ہو گیا سائم مجھ سے دور ہو گیا۔اپ کے بیٹے نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا ہے۔۔
کیا یہ کب ہوا۔ارم کو بھی یہ سن کر کافی شوقد لگا تھا۔کیا ہوا ہے مجھے ساری بات بتاؤ۔اب وہ سب کچھ جاننا چاہتی تھی۔وہ بھی تسلی سے ایک جگہ بیٹھ گئی جو مسلسل چہل قدمی کر رہی تھی۔۔۔
مہروش نے بھی ساری کہانی انہیں سنا دی۔
اپ کے بیٹے کو ابھی بھی مروہ کی پرواہ ہے۔اس لڑکی نے اس پہ جادو کر دیا ہے۔اسے مروہ کے سوا کوئی نظر ہی نہیں اتا۔۔
مہروش نے فون کو بند کر کے ایک طرف پھینک۔اس کے اخری الفاظ اس قدر اونچے تھے۔کہ ارم نے موبائل کو کان سے تھوڑا سائیڈ پہ کیا۔۔۔
یہ لڑکی بہت ہی جذباتی ہے فورا سے فیصلہ کر لیتی ہے۔ارم نے اپنے موبائل کو ایک نظر دیکھا اور پھر رکھ دیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام ہونے کو تھی مروہ ابھی ابھی افس سے گھر ائی تھی۔لیکن اس کا دماغ سائم پہ اٹکا ہوا تھا۔اس نے بیگ کو بیڈ پہ رکھا ہی تھا کہ علیزے کی امد ہوئی۔
تم تو پہلے دن ہی اتنا تھک گئی ہو۔12 کیوں بچے ہیں تمہارے منہ پہ وہ سوالوں کا ٹوکرا لیے اس کے سامنے بیٹھ چکی تھی۔مروہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر بیڈ پہ بیٹھ گئی۔۔
سچ میں ۔۔۔۔
بہت تھک گئی ہوں۔اس نے گہری سانس لیتے ہوئے گردن کو تھوڑا پیچھے مرا۔ہر چیز سے بہت تھک گئی ہوں۔مروہ کہیں اور ہی چلی گئی تھی۔
کیا ہوا کسی نے کچھ کہا ہے کیا۔۔۔
نہیں افس میں کام زیادہ تھا اس وجہ سے تھک گئی ہوں۔مروا نے بیگ اٹھا کر سائیڈ پہ کیا۔کیا اج بھوکا رکھنے کا ارادہ ہے۔کھانا لے اؤ مجھے بہت بھوک لگی ہے۔اس نے تکیے کو اپنی طرف کھینچا۔اور بیڈ پر لیٹ گئی۔جب کہ علیزے کچھ بولتے بولتے رکی اور پھر باہر کو چلی گئی۔کھانا وہ پہلے ہی بنا چکی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے ایسے نہیں بولنا چاہیے تھا۔۔۔
سائم ایک کافی شاپ پر بیٹھا تھا۔وہ تو سچ میں یہی سمجھے گی کہ میں محروش کے ساتھ نہیں نہیں۔اس نے نظر اگے پیچھے گھمائی۔اس کے ہاتھ میں موبائل تھا جسے وہ گول گول گھما رہا تھا۔
پتہ نہیں وہ کیا سوچ رہی ہوگی۔۔اس کا ذہن سوالوں سے بڑھ چکا تھا۔۔
اس نے جو کچھ دیکھا تھا۔وہ تو اسے سچ سمجھے گی۔اس کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔۔
کافی بھی کافی ٹھنڈی ہو چکی تھی۔اس نے کچھ سوچا اور موبائل کو پاکٹ میں ڈالا ٹیبل سے گلاسز اٹھائی اور گاڑی کی طرف بڑھا۔بل وہ پہلے ہی دے چکا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
سائم تو محروش کے ساتھ ہوگا۔مروہ نے گھڑی کی طرف دیکھا اور پھر ایک نظر موبائل کو دیکھا۔اب اسے میری کیا پرواہ۔تو کیا چاہتی ہو کہ وہ تمہاری پرواہ کرے۔اندر کی اواز نے پھر سے مروہ کو اپنی طرف مخاطب کیا۔میں کیوں چاہوں گی کہ وہ میری پرواہ کریں۔اچھا ہے میری جان چھوٹی اس سے۔پاس پرے تکیے کو اس نے زور سے گرایا جو سیدھا زمین پہ جا کے گرا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم علیزے کیسی ہو۔دروازے کے دستک سن کر علیزے دروازے کے پاس ائی۔اس نے سمجھا تھا شاید ریحان ہوں گے۔۔۔
سائم۔۔۔۔۔اس نے حیرانگی سے کہا۔
ہاں مجھے مروا سے ملنا ہے کیا ملاقات ہو سکتی ہے۔سائم بھی تھوڑا پزل ہوا ۔۔۔
ہا۔۔اس کے ادھے الفاظ اس کے منہ میں ہی تھے۔کہ علیزے کے ذہن میں مروہ کی باتیں گھومنے لگی۔(سائم ایک اچھا انسان نہیں ہے۔اج کے بعد اسے اندر نہ نہیں انے دینا) ۔
علیزے۔۔۔سائم نے اسے گہری سوچ میں دیکھ کر ایک دفعہ پھر مخاطب کیا۔
مروہ تو باہر گئی ہے گھر پہ نہیں ہے۔علیزے دروازہ پکڑ کر کھڑی تھی۔مروہ کے غصے کو جانتے ہوئے اس نے جھوٹ بولا۔۔
باہر۔۔۔۔
باہر کہاں۔۔
ایک کزن کے ساتھ گئی ہے ڈنر پر۔علیزے کے ذہن میں یہی ایا تھا۔
کزن۔۔لہجہ تھوڑا الجھا ہوا تھا۔۔۔
ہاں۔وہ فرات کے ساتھ گئی ہے۔مروہ لوگوں کا ایک ہی کزن تھا۔تو علیزے کے ذہن میں اسی کا نام ایا۔فرات علیزے کے چچا کا بیٹا تھا۔اور مروہ کو اپنی چھوٹی بہنوں کی طرح سمجھتا تھا۔تو اس نے اسی کا نام لے لیا۔۔۔
فرات۔۔لڑکے کا نام سنتے ہی اس کا افسردہ لہجہ غصے میں بدل گیا تھا۔اگر تمہیں کوئی کام ہے تو بتا دو گی۔۔۔
نہیں کوئی کام نہیں تھا۔کزن سے یاد ایا مجھے بھی اج اپنی کزن کو ڈنر پر لے کے جانا تھا۔اچھا ہوا جو مروا مجھے گھر نہیں ملی۔وہ علیزے کے ذریعے پیغام مروہ تک پہنچانا چاہتا تھا۔کہ وہ مہروش کے ساتھ ڈنر پر گیا ہے۔اوکے میں چلتا۔ ہوں سی یو۔۔۔
مرو ہ تم کبھی سدھر نہیں سکتی۔۔۔
میری طرف سے جس مرضی کے ساتھ جاؤ۔اور اب مجھے بھی کوئی پرواہ نہیں تم جو کچھ مرضی سمجھو۔تم نے ہمیشہ میرے ایموشنذ کے ساتھ کھیلا ہے ۔اس نے گاڑی کے ٹائر کو زور سے ہٹ کیا۔اور ایک نظر مروہ کے گھر کی طرف دیکھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا ریحان بھائی نہیں تھے کیا۔مروہ کچن میں چائے بنا رہی تھی۔علیزے کو اتے دیکھ کر اس نے سوال کیا۔
نہ۔۔۔۔نہیں۔علیزے نے کچھ سوچا اور پھر بس اتنا ہی جواب دیا۔وہ شاید مروہ کو نہیں بتانا چاہتی تھی کہ باہر سائم تھا۔مروا نے چائے کا ایک کپ علیزے کی طرح بڑھایا۔
اچھا تو کون تھا۔اس نے چیئر کو اگے کھینچا اور اس پر بیٹھ گئی۔
ریحان کا دوست تھا اس کا پوچھ رہا تھا۔تم مجھے یہ بتاؤ کہ سائم کے ساتھ کیا مسئلہ ہے۔علیزے نے ساتھ ہی سوال دہرایا اب وہ بھی چیئر پر بیٹھ چکی تھی۔۔
کوئی مسئلہ نہیں ہے۔بس وہ مجھے اچھا نہیں لگتا۔مروا نے چائے کا ایک گھونٹ ہلک میں اتارا اور تم بار بار کیوں اس کے بارے میں پوچھ رہی ہو۔۔۔
مروہ یہ کیا بات ہوئی۔مجھے بات بتاؤ بات کیا ہے۔کیا کوئی جھگڑا ہوا ہے کوئی بات ہوئی ہے۔علیزے کی پریشانی بجا تھی۔کیونکہ مروا نے جواب ہی ایسا دیا تھا۔۔۔
بولو گی اب۔اسے خاموش پا کر علیزے نے پھر سے اسے اپنی طرف مخاطب کیا۔
بس مجھے نہیں پتہ۔مروہ کو الفاظ نہیں مل رہے تھے۔کہ وہ کیسے اس بات کو کور کرے۔۔
کیا ہم کوئی اور بات کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ۔
تم مجھے پہلے ٹھیک سے جواب دو۔
بتاؤ کیا مسئلہ ہے میں تمہاری بڑی بہن ہوں۔اگر اس نے کوئی بدتمیزی کی ہے کچھ کہا ہے۔تو مجھے بتاؤ۔تم کینڈا سے ایسے اگئی ہو اور پھر یہ سب۔۔۔
علیزے یار۔مروا نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھا۔میں کچھ دیر کے لیے سکون سے رہنا چاہتی ہوں۔وہ چیر سے اٹھی۔اور اس ٹاپک پہ مجھ سے دوبارہ بات مت کرنا۔میں بچی نہیں ہوں اپنا اچھا برا دیکھ سکتی ہوں۔ہر بات بچوں کی طرح ایکسپلین نہیں کر سکتی۔اپنا موبائل اٹھا کر وہ کمرے کی طرف چلی گئی تھی۔چائے بھی وہیں چھوڑ گئی تھی۔۔۔
یہ اپنے ساتھ ساتھ مجھے بھی پاگل کر دے گی۔علیزے نے بھی چائے کے کپ کو ٹیبل پر رکھا۔اور اسے جاتا دیکھنے لگی۔۔
کیا مجھے اسے کال کرنی چاہیے۔سائم کے ہاتھ میں موبائل تھا۔رات کے تقریبا 12 بج چکے تھے۔لیکن اس کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی وہ ڈنر پر بھی نہیں گیا تھا۔نہیں جب اسے پرواہ نہیں ہے تو مجھے بے پرواہ نہیں ہے۔۔بڑی مشکل سے فیصلہ کرتے ہوئے اس نے موبائل کو ایک طرف رکھا۔اور لیپ ٹاپ اٹھا لیا شاید وہ اس کو مصروف رکھنا چاہتا تھا۔۔۔
مجھے تو پہلے پتہ تھا سائم نہیں ائے گا۔تم لوگوں نے مجھے ایسے ہی یہاں بلا لیا۔ابرش اور سمیر مہروش کو غور سے دیکھ رہے تھے۔
کیا تم دونوں کا جھگڑا ہوا ہے۔ابرش نے سوال کیا۔سمیر تو پہلے سے ہی جانتا تھا۔
نہیں۔۔مہروش اتنا سا جواب دیکھ کر وہاں سے چلی گئی۔ابرش اور سمیر ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔وہ ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے تھے۔سائم کا کافی انتظار کیا انہوں نے۔لیکن نہ ہی وہ خود ایا اور نہ ہی اس نے کوئی کال ریسیو کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مروہ ا کر افس چیئر پر بیٹھی ہوئی تھی کہ اسے ابرش اتی نظر ائی۔
ابرش۔۔
مروہ نے اسے اواز دی۔ہاں مروہ ۔۔
تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد مروہ مدے پر ائی ۔
کیا رات کے ڈنر پر مہروش بھی تھی۔مروا نے شائستگی سے پوچھا تھا۔اور وہ نہ میں جواب سننا چاہتی تھی۔۔
ہاں مہروش بھی تھی۔ویسے تم اسے کیسے جانتی ہو۔اب ابرش نے سوالیہ نظروں سے مروہ کو دیکھا۔۔
او اچھا۔تم سائم کی وجہ سے جانتی ہو گی۔اس کی اور سائم کی دوستی بہت پرانی ہے۔وہ بھی بات کر ہی رہی تھی کہ اس کے موبائل نے بجنا شروع کردیا۔ایک منٹ مروہ۔۔ابرش تو وہاں سے چلی گئی تھی۔لیکن مروہ کو گہری سوچ میں مبتلا کر چکی تھی۔۔
تم کتنے گھٹیا انسان ہو۔میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی۔تمہیں میری کوئی پرواہ نہیں ہے۔۔
اچھا تو تم چاہتی ہو کہ وہ تمہاری پرواہ کرے۔اندر کی اواز نے مروہ کو پھر سے ٹینشن میں ڈال دیا تھا۔اور وہ تمہاری پرواہ کیوں کرے گا اس کے پاس مہروش ہے۔
میں چاہتی بھی نہیں کہ وہ میری پرواہ کریں۔اور تم بھی یہاں سے دفع ہو جاؤ۔مروہ نے فائل کو زور سے نیچے گرایا۔سائم جو ابھی ابھی اس کے پاس ایا تھا۔اس نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کی اور نیچے سے فائل کو اٹھایا۔
یہاں تو کوئی نہیں ہے۔ کسے دفع ہونے کا کہہ رہی ہو۔مروہ بری طرح سے شرمندہ ہوئی۔۔
ایک منٹ۔سائم تھوڑا جھکا۔تمہارے سر پر چوٹ لگی تھی۔یہ کہیں اس کا اثر تو نہیں۔سائم نے ہاتھ اس کے ماتھے پہ رکھنا چاہا۔جسے پہلے ہی مروانے پیچھے کر دیا۔تمہیں کسی اچھے سے ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے۔سائم نے بھی فائل کو ٹیبل پر رکھا۔ورنہ کچھ دنوں تک بالکل پاگل ہو جاؤ گی۔یہ بات اس نے سرگوشی میں کہی اور سمیر کے افس کی طرف چلا گیا۔۔۔
تم خود کو سمجھتے کیا ہو۔مروا نے زور سے ٹیبل کو ہٹ کیا۔پتہ نہیں کب جان چھوڑے گا میری۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
سائم یہ ڈنر صرف تمہارے لیے تھا۔ایسے تھوڑی کرتے ہیں۔سائم اسے پہلے ہی ایکسپلین کر چکا تھا۔لیکن سمیر کا غصہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔جب کہ سائم ہر دوسرے سیکنڈ پیچھے مڑ کے دیکھتا تھا۔پہلے تو اسے مروہ نظر ارہی تھی۔لیکن اب پچھلے پانچ چھ منٹس سے وہ نہیں تھی۔
سائم میں تم سے بات کر رہا ہوں۔۔
میں نے کہا نا۔مجھے ضروری کام پڑ گیا تھا۔سائم ساتھ ہی چیئر سے اٹھا تھا۔۔
اب کہاں کی تیاری ہے۔سمیر نے ٹائی کو ٹھیک کرتے ہوئے سوال کیا۔جو افس چیئر پہ بیٹھا لیپ ٹاپ کے ساتھ لگا ہوا تھا۔یہی ہوں ا رہا ہوں۔۔۔
پتہ نہیں کیا چل رہا ہے۔سمیر نے ہاتھ کے اشارے سے خود کو کہا۔اور پھر لیپ ٹاپ میں مصروف ہو گیا۔۔۔
مروہ لائبریری میں بیٹھی۔جب اسے کسی کے قدموں کی اہٹ محسوس ہوئی۔وہ سمجھ چکی تھی کہ سائم ہی ہو سکتا ہے۔
اب تو تم میرے پیچھے ا رہے ہو۔وہ ڈائیلاگ بس ایک دن کے لیے تھے۔یہ مہروش سے بھی دل بڑھ گیا ہے تمہارا۔۔۔
تم میرے بارے میں اتنا کیوں سوچتی ہو۔اور یہ لائبریری ہے کوئی بھی ا سکتا ہے۔مجھے تمہاری اجازت کی ضرورت نہیں ہے میرے خیال میں۔۔
اوکے ٹھیک ہے تم بیٹھو پھر میں جاتی ہوں۔مروہ نے کتاب کو ٹیبل پر رکھا۔باہر جانے ہی لگی تھی کہ سائم نے اس کا ہاتھ پکڑا۔۔۔
اب یہ کیا ہے۔۔
مجھے شوق نہیں ہے روکنے کا۔۔۔
ہاں تمہیں روکنے کا شوق نہیں ہے۔بس ٹچ کرنے کا ہے۔مروہ نے اپنے ہاتھ کو زور سے پیچھے کیا۔میں پہلے بتا چکی ہوں کہ میں مہروش نہیں ہوں۔۔
کیا تم نے مہروش مہر وش کی رٹ لگائی ہوئی ہے۔سائم نے ایک جھٹکے میں اسے قریب کیا۔اور میں جب چاہوں ٹچ کر سکتا ہوں۔روک سکتی ہو۔مروہ اس کی اس حرکت پر سہم گئی تھی۔
چھوڑو یہ کیا کر رہے ۔مروہ نے دونوں بازوؤں کو اس کی گرفت سے چھڑوانا چاہ۔لیکن وہ سائم تھا اس کے مضبوط بازو پر یہ حرکت ایک چڑی کی مانند تھی جسے شاید وہ محسوس بھی نہیں کر رہا تھا۔۔
