Sheh Rug by Aneeta NovelR50466 Shah Rung Episode 7
Rate this Novel
Shah Rung Episode 7
Shah Rung by Aneeta
ابھی ہمیں چلنا چاہیے؟
مروہ نے ایک نظر سائم کو دیکھا اور پھر اٹھ گئی اور اپنا بیگ کیری کرنے لگی۔۔
تم کچھ کھاؤ گی نہیں؟
نہیں مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
اس کے اٹھتے ہی اسد بھی اٹھ گیا تھا تم فکر مت کرنا میں تمہارا کام ضرور کر دوں گا ہے تو تھوڑا مشکل ہی تمہارے ڈاکومنٹس بھی تو کمپلیٹ نہیں ہے اس نے ایک نظر فائل کو دیکھتے ہوئے کہا وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے باہر جا رہے تھے اور اور سائم کا دھیان مسلسل دونوں پر تھا۔۔
______________
تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کے وقت سے پہلے اس کی حقیقت کا پتہ لگ گیا سائرہ نے اپنی انگلیوں کی مدد سے مروہ کے بالوں کو پیچھے کیا جو اس کے کاندھے پہ سر رکھے بیٹھی تھی۔۔۔۔
لیکن جو اج ہوا مجھے نہیں لگتا وہ میری جان چھوڑے گا مروہ نے گردن کو تھوڑا سیدھا کیا دونوں نے خود کو ایک سفید چادر سے کور کیا ہوا تھا جو کافی نرم تھی وہ دونوں کھڑکی کے سامنے بیٹھی باہر کے نظاروں سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔۔
کیسے نہیں چھوڑے گا؟
یہ کہتے ہوئے سائرہ تھوڑا رکی اور اپنا رخ مروہ کی طرف کیا جس نے اب سر اس کے کاندھے سے اٹھا لیا تھا۔۔۔۔
یہ جنگل کا قانون تھوڑی ہے کہ کوئی کچھ بھی کرتا پھرے گا یہ کہتے ہی سائرہ اٹھی۔۔۔۔۔
اس کے پاس پیسہ ہے اور اس سے بڑی طاقتور چیز اس دنیا میں نہیں ہے۔
مروا نے سائرہ کی بات سن کر پیچھے ٹیک لگائی اور چادر سیدھی کی۔۔۔۔
ایسا کچھ نہیں ہوگا تم ایسے ہی ٹینشن لے رہی سائرہ جاتے جاتے بول رہی تھی۔۔۔۔۔
اس پروجیکٹ میں سکائی کمپنی بھی انویسٹ کرنا چاہتی ہے سر وشل نے فائل کو ٹیبل پر رکھا اور سائم کو دیکھنے لگی وہ جواب کی منتظر تھی۔۔۔۔
بالکل بھی نہیں سائم نے فائل کو ایک ہاتھ سے پیچھے ہٹایا۔اس کے دوسرے ہاتھ میں کافی تھی۔۔۔۔
اس نے بلیک سوٹ پہنا تھا ہاتھ میں سمارٹ واچ تھی اور بلیک کوٹ کو پیچھے چیر پہ لگایا ہوا تھا سائم نے ایک نظروشل کو دیکھا جو دونوں ہاتھ باندھے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
میں نے کہا تھا یہ فائل مجھے دوبارہ نظر نہ ائے ؟
وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سر
اسے یہاں سے لے جاؤ اور ادھے گھنٹے میں میٹنگ رکھ رہا ہوں۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کے ویشل کچھ بولتی سائم نے فائل کو اٹھانے کا کہا وہ ٹیبل پہ موجود دوسری فائلز کو دیکھنے لگا۔۔
______
عثمان تم اتنی باتیں کیوں کرتے ہو تم خود سائرہ سے جا کر کیوں نہیں پوچھتے مروہ کاؤنٹر پر کھڑی عثمان کو تیزی سے کہہ رہی تھی اس کا ایک ہاتھ کمپیوٹر بورڈ پر تھا اس نے یلو کلر کی ہائی نیک سٹائل سویٹر پہنی ہوئی تھی جس کے اوپر وائٹ کلر کے پھول تھے۔۔
کیا تم اتنا بھی نہیں پوچھ سکتی۔
ہاں میں نہیں پوچھ سکتی مجھے تھوڑا کام کرنے دو گے۔
عثمان نے ایک نظر کمپیوٹر پہ دیکھا اس کے دونوں ہاتھ ٹیبل پر تھے اور ایک پاؤں اٹھا کر وہ کمپیوٹر پہ جھکا تھا۔۔
اب اس میں کیا ہے عثمان تم نے یہاں سے جانا ہے یا نہیں۔
مروہ اور عثمان ابھی باتیں کر ہی رہے تھے کہ ا جے شاپ میں داخل ہوئی۔۔۔
کیسے ہو تم سب؟
ہم تو ٹھیک ہیں اپ کیسی ہے۔۔۔۔۔
مروہ ابھی اسے دیکھ ہی رہی تھی کہ عثمان نے جواب دیا۔
اجے نے کالے رنگ کی منی سکرٹ اور اس کے اوپر لیدر کی جیکٹ پہنی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔
دیکھیں یہ بہت بڑی رقم ہے اپ مجھے کیسے دے سکتی ہے۔
اگلے ہی لمحے اجے اور مروہ فیری کہ روف پر تھی دونوں امنے سامنے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔
میں نے تمہیں اس دن باتیں کرتے سنا تھا اور میں تمہاری پریشانی سمجھ سکتی ہوں میں بس تمہاری مدد کرنا چاہتی ہوں اجے نے اپنا ہاتھ مروہ کے ہاتھ پہ رکھا اجے نے بازو میں ڈائمنڈ بریسلٹ پہنا ہوا تھا دیکھنے میں بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔۔
اور تم یہ پیسے مجھے اہستہ اہستہ واپس کرتی رہنا۔۔۔
میں بس تمہاری پرابلم حل کرنا چاہتی ہوں۔۔
میں یہی تو نہیں سمجھ پا رہی کہ اپ ایسا کیوں کرنا چاہتی ہیں۔۔۔۔
مروا نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا اور اپنے ہاتھ کو پیچھے کر لیا وہ شاید ا جے کو سمجھ نہیں پا رہی تھی۔۔
دیکھو سوچو مت تمہاری فیملی مصیبت میں ہے اور میں بس ایک اچھی دوست بننا چاہتی ہوں۔۔۔
اور مجھے لوگوں کی مدد کر کرنا بہت سکون ملتا ہے۔۔۔
اور میں کہہ تو رہی ہوں کہ یہ پیسے تم مجھے اہستہ اہستہ واپس کر دینا یہ میرا کارڈ رکھ لو مجھے سوچ کر ضرور بتا دینا اس نے بیگ سے ایک کارڈ نکالا اور اسے ٹیبل پر رکھ دیا۔
میں چلتی ہوں اپنا خیال رکھنا۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہتے ہی اجے وہاں سے چلی گئی تھی اس نے ہائی ہیلز پہنی تھی مروہ نے ایک نظر اسے جاتے دیکھا پھر ایک نظر اس کارڈ کو دیکھا کچھ سوچا پھر اس کارڈ کو بیگ میں ڈال لیا وہ ایک انجان بندے سے مدد تو نہیں لے سکتی تھی اور اس نے ایسا کرنے کا سوچا بھی نہیں تھا یا شاید اسے امید تھی کہ اسد کچھ نہ کچھ کر دے گا۔۔۔۔۔
وہ لڑکا کون تھا اس کے ساتھ وہ مجھے منانے بھی نہیں ائی کیا سچ میں اس کے دل میں میرے لیے کچھ بھی نہیں ہے سائم ٹینک ٹاک پہنے جس کا رنگ بلیک تھا جم کی رننگ مشین پر کھڑا تھا ۔اسے ابھی تک اس لڑکے پہ غصہ تھا۔
مروہ سمندر کے کنارے لیپ ٹاپ لیے بیٹھی تھی سمندر کی لہریں کبھی اس کے پاؤں تک اتی تو کبھی دور سے ہی واپس مُر جاتی اس کی دونوں انگلیاں لیپ ٹاپ پیڈ پے مسلسل چل رہی تھی اس کے بال ہوا میں اڑ رہے تھے۔۔
رات کے سناٹے میں سمندر کی لہروں کی اواز ایک زندہ دل انسان کے کانوں میں رس گھولتی ہے اور یہ ٹھنڈی ہوائیں انسان کو اس دنیا میں لے جاتی ہیں جہاں وہ ہمیشہ سے رہنا چاہتا ہے کیونکہ میرا ماننا ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اپنی پسندیدہ جگہ پر موجود نہیں ہے کوئی مجبوری میں تو کوئی غلطی سے اپنے راستوں سے بھٹکا ہوا ہے اور یہ دنیا ایک دھوکے سے زیادہ اور کچھ نہیں ہے اور یہ اکثر اپنے سلجھانے والوں کو بھی دھوکے میں ڈال دیتی ہے اور اس دنیا سے اگے کیا ہے یہ ہم میں سے کوئی نہیں جانتا۔
مروہ نے یہ لکھتے ہی لیپ ٹاپ کو فولڈ کیا اپنے شوز اتار کر ایک طرف رکھیں اس نے وائٹ جوگر پہنے ہوئے تھے اور ننگے پاؤں سمندر میں چلنے لگی کبھی وہ سمندر کی لہروں کے پاس جاتی تو کبھی لہروں کا انتظار کرتی اس کے بال ہوا میں اڑ رہے تھے اور وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنی جرسی پکڑے ہوئی تھی ۔۔
اپ کو لگتا ہے کہ وہ لڑکی ائے گی سامنے ٹیبل پر بیٹھے دو لڑکوں میں سے ایک بولا دونوں کی نظریں اجے پر تھی وہ میٹنگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے۔۔
ہاں وہ ضرور ائے گی کیونکہ یہ مروہ جیسے لوگ بڑے بے وقوف ہوتے ہیں یہ اپنے بارے میں کم اور اپنے سے جڑے رشتوں کے بارے میں زیادہ سوچتے ہیں اور یہ ان کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔۔
تم بس یہ ڈاکومنٹس ریڈی کرواؤ۔۔
اور اس طریقے سے کروانا کہ مروہ کو شک بھی نہ ہو۔
جی میم اپ بے فکر ہو جائیں۔
اگر تم نے مجھے پیسے دینے ہیں تو ہم کسی ریسٹورنٹ میں مل لیتے ہیں مروہ فون کان کے ساتھ لگائے سڑک پر کھڑی تھی۔۔
دیکھو یہ کینڈا ہے۔۔
کیوں سمگلنگ کے کیس میں میں پڑھنا ہے۔۔۔۔
دوسری طرف سے اواز ائی جو کہ اسد کی تھی اور وہ بہت تیزی سے بول رہا تھا جیسے اسے کسی کام کی جلدی ہو۔
اب تم نے انا ہے کہ نہیں۔۔
اچھا تو مجھے لوکیشن بھیجو یہ کہتے ہی مروا نے فون کان سے اتارا اور ٹیکسی دیکھنے لگی۔۔
__________
سر ابھی کلائنٹس کو تھوڑا ٹائم لگ جائے گا ہمیں ویٹ کرنا پڑے گا وشل فائلز لیے سائم کے پاس کھڑ ی تھی وہ دونوں ایک ہوٹل کے ویٹنگ حال میں بیٹھے ہوئے تھے ۔
مجھے انتظار کرنے کی عادت نہیں ہے بس پانچ منٹ ۔۔۔
یہ کہتے ہی سائم نے ٹیبل سے نیوز پیپر کو اٹھایا اور پڑھنے لگا۔
مجھے 56 روم نمبر میں جانا ہے مروہ بھی اسی ہوٹل کے ریسپشن پہ کھڑی تھی اس نے بالوں کو اوپر کی طرف باندھا ہوا تھا جیسے کوئی کام کرنے لگی ہو۔۔
مروہ کی اواز سن کر سائم چونکا اور نیوز پیپر کو ہٹایا۔
میم ائی ڈے پلیز؟
ریسپشن پہ کھڑے لڑکے نے ہاتھ اگے بڑھایا۔
یس۔۔
یہ کہتے ہی مروہ نے اپنی ائی ڈی اس کے حوالے کی۔۔
دس از یور کی میم”(this is your key mam)
ریسپشن پے کھڑے لڑکے نے ایک کارڈ مروہ کے ہاتھ میں دیا جسے لیتے ہی وہ اوپر کی طرف چلی گئی۔۔
اس نے سائم کو بالکل نہیں دیکھا تھا۔۔
سائم پہلے تو کھڑا اسے دیکھتا رہا پھر اس کے جاتے ہی ریسپشن پہ پہنچا۔۔
یہ لڑکی کون سے روم میں گئی ہے سائم نے انگلش میں پوچھا تھا۔۔
سوری سر میں اپ کو انفارمیشن نہیں دے سکتا یہ پرسنل ڈیٹا ہے۔۔
ریسپشن پہ کھڑے لڑکے نے بات کو اگنور کیا۔۔
سائم نے ایک نظر اوپر دیکھا ۔
تم نے مجھے یہاں کیوں بلایا ہے مروا ڈرتے ڈرتے کمرے میں داخل ہوئی تھی اسد بالکل سامنے صوفے پر بیٹھا ہوا تھا۔۔
میں فون پہ بتا چکا ہوں۔
سمگلنگ ایشو ہوتا ہے۔۔۔
یہ کہتے اسد دروازے کی طرف ایا مروہ بھی مڑ کر اسے دیکھنے لگی اگلے ہی لمحے اس نے دروازے کو لاک کر دیا تھا۔۔
تم نے دروازہ کیوں لاک کیا؟
یہ کہتے ہی مروہ اس کی طرف بڑھی اور اپنا ہاتھ دروازے کے ہینڈل پر رکھا جسے اگلے ہی لمحے اسد نے پیچھے کیا۔۔
دیکھو تمہارے ڈاکومنٹس سارے میرے پاس ہیں اور میں تمہیں پیسے بھی دینے والا ہوں تو بدلے میں مجھے بھی تو کچھ ملنا چاہیے وہ قدم با قدم مروہ کے پاس ا رہا تھا مروہ ڈر کے مارے پیچھے جا رہی تھی۔۔۔۔۔
تم ہوش میں تو ہو میں تم سے قرض لے رہی ہوں۔۔
تم جیسی خوبصورت لڑکی قرض لیتے اچھی نہیں لگتی یہ کہتے ہی اس نے اپنا ہاتھ مروہ کے چہرے پہ رکھنے کی کوشش کی اس کا دوسرا ہاتھ دیوار پہ تھا اور مروہ مکمل اس کی گرفت میں تھی۔
