Sheh Rug by Aneeta NovelR50466 Shah Rung Episode 38
Rate this Novel
Shah Rung Episode 38
Shah Rung by Aneeta
سائم تم ایسا کچھ بھی نہیں کرو گے۔مروا نے اس کے ہاتھ کو پیچھے کرتے ہوئے کہا۔۔
یہ کیا بچوں والی حرکت ہے مروہ.اس نے مروہ کا ہاتھ پچھے کیا۔ جو اس کا موبائل پکڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔سائم نے اپنا موبائل اوپر کی طرف کیا۔ مروہ وہاں تک نہیں پہنچ پا رہی تھی۔لیکن بہت محنت کے بعد وہ اس کے بازو کو نیچے لے ائی۔وہ ایڑیاں اٹھا اٹھا کر اسے کھینچ رہی تھی۔اور اب اس کی محنت رنگ لے ائی تھی۔۔
نہیں۔۔۔۔سائم۔۔۔پلیز۔مروہ نے موبائل کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا تھا۔تم علیزے سے کوئی بات نہیں کرو گے ابھی۔۔۔
وہ دونوں مارگلہ ہلز کی ایک چوٹی پر کھڑے تھے۔دن کا ٹائم تھا۔چاروں طرف پہاڑ اور سبزہ تھا۔موسم کافی خوشگوار تھا۔۔
مروہ سیدھی کھڑی رہو۔اگر اپ دوبارہ کھینچا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔سائم نےاب سختی سے بولا تھا۔اور فون ملا کر فون کان کے ساتھ لگا چکا تھا۔۔
السلام علیکم علیزے فون اٹھا چکی تھی۔۔
وعلیکم السلام
کیسی ہو میں سائم بات کر رہا ہوں۔۔۔
سائم۔۔۔۔دوسری طرف سے اواز ائی۔علیزے نے ایک کان سے موبائل دوسرے کان پہ لگایا۔ہاں بولو سائم کوئی کام تھا تمہیں۔۔۔۔
اس نے یہ پوچھنا مناسب نہیں سمجھا تھا کہ نمبر کہاں سے لیا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ شاید مروہ نے دیا ہوگا۔
مجھے اپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔اگر ٹائم ہے تو ۔۔۔
مروہ مسلسل اسے اشارے کر رہی تھی۔سائم نے ایک ہاتھ سے اس کے دونوں ہاتھوں کو قابو کیا ہوا تھا۔وہ بول نہیں سکتی تھی کیونکہ علیزے اس کی اواز سن لیتی اور وہ سمجھ جاتی کہ وہ سائم کے ساتھ ہے۔۔کیونکہ وہ گھر سے افس کا کہہ کر نکلی تھی۔۔۔
ہاں بولو سائم سن رہی ہوں۔علیزے بھی اب ارام سے ایک جگہ بیٹھ گئی تھی۔اسے تجسس تھا۔کہ سائم نے اس سے کیا بات کرنی ہے۔۔۔
میں مروہ۔۔۔مروہ نے سائم کے منہ پہ ہاتھ رکھا۔اور گردن نا میں ہلائی۔۔۔۔
مروہ یہ کیا بچپنا ہے۔سائم نے اس کا ہاتھ اپنے منہ سے ہٹایا۔ایک سیریس بات کرنے والا ہوں۔اب ذرا بھی ہلی تو اچھا نہیں ہوگا۔ابھی تو میں نے میوٹ کر دیا دوبارہ میوٹ نہیں کروں گا۔مروہ بھی سہم کر ایک طرف کھڑی ہو گئی تھی۔کیونکہ سائم سچ میں سیریس ہو چکا تھا۔
علیزے میں مروہ سے پیار کرتا ہوں اور شادی کرنا چاہتا ہوں۔اس نے ایک ہی جملے میں سب کہہ ڈالا۔
علیزے ایک دم سے اٹھی۔سائم یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔علیزے کے لیے یہ بات واقعی ہی حیران کن تھی۔کیونکہ وہ تو یہ جانتی تھی کہ سائم انگیجد ہے۔۔۔
تم تو مہروش کے ساتھ ۔اور کیا مروہ بھی تم سے تیار کرتی ہے اس نے دونوں باتیں کو ایک ساتھ کہا تھا۔
ہاں۔۔۔مروہ ایک دم سے اس کے پاس ائی پھر سے اس کے منہ پہ ہاتھ رکھا۔اب سائم کا پارہ سچ میں ہائی ہو چکا تھا۔۔۔
مروہ یہ کیا بدتمیزی ہے۔اس نے فون کی طرف اشارہ کیا اور ہلکا سا مسکرایا۔کیونکہ اس نے میوٹ نہیں کیا تھا۔۔۔
کیا مروہ تمہارے ساتھ ہے۔سائم نے فون سپیکر پر کر دیا تھا۔۔۔
ہاں مروہ بھی میرے ساتھ ہے اور وہ بھی مجھ سے پیار کرتی ہے۔سائم ایک دم سے بولا۔مروہ تو اب بالکل سست کھڑی تھی۔جیسے کسی نے اس کے سامنے بم پھاڑ دیا ہو۔
مروہ کیا سائم سچ بول رہا ہے۔علیزے نے سوال کیا۔۔جو ہو رہا تھا اس کی سمجھ سے باہر تھا۔۔
بولو مروا وہ کچھ پوچھ رہی ہے۔سائم نے اسے خاموش دیکھ کر پھر سے بلایا۔سائم اسے انکھیں نکال رہا تھا۔اور بولنے کا اشارہ کر رہا تھا۔۔۔
ہاں علیزے۔۔۔اس نے یہ بات کچھ سائم کے ڈر سے اور کچھ اپنی ہمت کر کے کہی ۔میں سائم سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔۔۔
تم تو افس گئی تھی نا۔مروہ فورا سے پہلے گھر اؤ۔مروہ نے ایک دم سے سائم کے ہاتھ سے فون لیا اور کاٹ دیا۔
تم ہمیشہ میرے لیے مصیبت کھڑی کرتے ہو۔۔
سائم میں اب تم سے بات نہیں کرنے والی۔مروہ نے اپنا رخ دوسری طرف کر لیا۔۔
اوو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری چھوٹی سی جان ناراض ہو گئی۔اس نے مروہ کو پیچھے سے حگ کیا۔سائم بہت ریلیکس فیل کر رہا تھا۔علیزے سے بات کرنے کے بعد۔
تمہیں تو میرا شکریہ ادا کرنا چاہیے کتنی بڑی بات میں نے کتنے ارام سے کر دی۔سائم نے اس کا رخ اپنی طرف کیا۔۔
میں نے کہا نا مجھے بات نہیں کرنی۔مروہ نے جانا چاہا پر سائم اسے قریب کر چکا تھا۔مجھے تو بہت سی باتیں کرنی ہے اپنی جان سے۔وہ اس کا منہ اوپر کرتے ہوئے بولا۔جسے مروا نے نیچے جھکا لیا تھا۔اس کی قربت کے ڈر سے۔
تم جانتی ہو تم غصے میں اور بھی پیاری لگتی ہو۔اور میرا دل کرتا ہے کہ بس۔
مروہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تو وہ چپ ہو گیا۔بولو خاموش کیوں ہو گئے۔۔۔۔۔
جب تم ایسے دیکھو گی تو اچھے اچھے کی بولتی بند ہو جائے گی۔اتنی قاتل نگاہیں۔۔۔۔۔
مجھے گھر جانا ہے ۔پتہ نہیں علیزےمجھ سے کیا کیا سوال کریں گی۔مروہ کافی پریشان ہو چکی تھی۔۔اور سائم کے ارادے بھی سمجھ چکی تھی۔۔۔۔
اور وہ مجھے نہیں لگتا اس معاملے میں تمہیں زیادہ پریشان ہونا چاہیے۔اور اج نہیں تو کل تو ہمیں بات کرنی تھی۔مروہ کو گاڑی میں بٹھا کر اب وہ ڈرائیونگ سیٹ کی طرف ایا تھا۔۔۔
ڈونٹ وری۔۔۔سائم نے پیار بھرے لہجے میں کہا۔۔
مروہ پہلے تو کافی دیر خاموش رہی۔لیکن پھر اس نے ایک نظر سائم کو دیکھا۔۔۔
کیا میں ایک سوال کروں۔مروہ کچھ ریلیکس ہوئی تو سائم کی طرف دیکھ کر کہنے لگی۔۔۔
میری جان ایک نہیں سو سوال کرو۔سائم نے ایک نظر اسے دیکھا ۔اور پھر سامنے دیکھنے لگا۔وہ دونوں ہائی وے پہ تھے۔گاڑی کی سپیڈ بھی زیادہ تیز نہیں تھی۔۔۔۔
کیا مجھ سے پہلے بھی تمہاری زندگی میں کوئی لڑکی تھی۔مطلب کہ کینیڈا میں۔۔۔۔
تمہارے سوا میری زندگی میں کوئی نہیں تھا۔نہ پہلے اور نہ اب۔سائم نےاس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔۔
جھوٹ جھوٹ جھوٹ۔۔مروا نے کمر سیدھی کی اور اس کی طرف دیکھنے لگی۔تم اتنے ہینڈسم ہو۔ہر لحاظ سے پرفیکٹ۔مروا سے غور سے دیکھتے ہوئے بولی۔تو سائم ہلکا سا مسکرایا۔تو ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ تمہاری زندگی میں کوئی لڑکی نہ ہو۔۔۔
لڑکیاں تو بہت تھی پر مجھے تمہاری تلاش تھی۔اور مجھے ایسے لگتا ہے مجھے ہمیشہ سے ہی تمہاری تلاش تھی۔
تو کون تھی مروہ منہ بناتے ہوئے بولی۔۔
میری جان میں انہیں نہیں جانتا۔انہیں بھی بس مہروش جیسا سمجھو۔۔
مجھے کبھی کسی میں انٹرسٹ نہیں رہا۔سائم تھوڑا سنجیدہ ہوا۔۔
اور میں جھوٹ کیسے بول سکتا ہوں۔جب کہ میرے ساتھ جھوٹوں کی ملکہ بیٹھی ہوئی ہے۔مروہ نے ایک دم سے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
تم مجھے جھوٹا کہہ رہے ہو۔لہجے میں شکوہ تھا۔مروہ دونوں ہاتھ باندھے دوسری طرف دیکھنے لگی۔۔۔
میں مذاق کر رہا ہوں۔میری جان ایک تو تم ناراض بہت جلدی ہوتی ہو۔اور میں ہر بار بناؤں گا نہیں اب۔۔۔
اور شادی کے بعد میں سب حساب کلیئر کرنے والا ہوں۔تو ذرا دھیان سے سائم نے مروہ کو سر سے لے کے پاؤں تک دیکھا۔اور مروہ کے دیکھتے ہی اسے انکھ ماری۔۔۔۔۔
تو ٹھیک ہے میں علیزے کو جا کے بول دوں گی کہ مجھے۔تم سے شادی نہیں کرنی وہ دھمکی دیتے ہوئے بولی۔پھر تم کیا کرو گے۔۔۔
پھر میں تمہیں اٹھا کے لے جاؤں گا۔وہ ہنستے ہوئے بولا اور پھر سے روڈ کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ لڑکی پاگل ہو گئی ہے۔۔پتہ نہیں کیا چل رہا ہے۔علیزے مسلسل مروہ کا انتظار کر رہی تھی۔وہ ٹہلتی کبھی ایک طرف تو کبھی دوسری طرف جاتی ۔۔۔۔۔
سائم۔۔۔۔۔
سے شادی ۔۔۔
۔تو اس کی تو پہلے سے فیونسی ہے۔وہ اپنے دماغ کو ہر طرف لگائے جا رہی تھی۔سائم اسے اچھا لگتا تھا۔لیکن فیونسی والی بات اسے کھٹک رہی تھی۔۔
یا اللہ یہ لڑکی کب ائے گی اب۔علیزے نے پھر سے دروازے کی طرف دیکھا۔اور تو اور افس بھی نہیں گئی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائم مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔علیزے کو میں کیا کہوں گی تھوڑی ہی دیر میں وہ دونوں گھر پہنچ چکے تھے۔مروہ گاڑی سے تو اتر گئی تھی لیکن اس کا اندر جانے کو بالکل بھی ارادہ نہیں تھا۔۔۔
تو ٹھیک ہے میں بات کر لیتا ہوں۔سب کلیئر کر دیتا ہوں۔سائم قدم اندر کی طرف بڑھانے لگا تھا کہ مروا نے اسے روکا۔۔۔
نہیں میں خود بات کروں گی ۔تم اب جاؤ۔۔
مروا میں تمہیں ایسے پریشان نہیں دیکھ سکتا۔یہ بات تم اچھے سے جانتی ہو۔اور علیزے کا مسئلہ اتنا بڑا نہیں ہے۔۔۔
میں نے کہا نا تم جاؤ۔اس بار لہجہ تھوڑا سخت ہوا تو سائم نے بھی جانا ہی مناسب سمجھا۔اوکے ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔
پر علیزے کو سب سچ بتانا۔میں اب اور انتظار نہیں کر سکتا۔وہ مروہ کے تھوڑا قریب ہوا۔ائی لو یو سو مچ۔۔۔
سائم ہم باہر کھڑے ہیں کیا ہو گیا ہے۔مروہ نے اسے پیچھے کیا اور اندر کی طرف جانے لگی۔۔۔
سائم نے مڑ کر اسے ایک نظر دیکھا۔اور جب تک وہ اندر نہیں جاتی باہر ہی کھڑا رہا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کب سے انتظار کر رہی ہوں تم اب ائی ہو۔تم افس نہیں تھی سائم کے ساتھ تھی۔یہ چل کیا رہا ہے۔۔۔
ہم دونوں افس میں ہی تھے بتا چکی ہوں کہ وہ بھی اسی افس میں ہوتا ہے۔اور تم اتنے سوال کیوں کر رہی ہو۔مروہ نے بیگ اتار کر ٹیبل پر رکھا اور چیئر پر بیٹھ گئی۔لیکن وہ اندر سے بہت ڈر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
کیا کیا۔۔۔۔میں اب بھی سوال نہ کروں چپ بیٹھ جاؤں۔
سائم کی تو ایک فیونسی تھی۔
تو اب وہ تم سے شادی کرنا چاہتا ہے۔
اور تمہارے بقول تو وہ ایک اچھا انسان بھی نہیں تھا۔
علیزے بھی اس کے ساتھ بیٹھ چکی تھی۔اور سوال پہ سوال کیے جا رہی تھی۔مروہ نے ایک نظر ٹیبل پر دہرائی۔شاید اسے پانی کی ضرورت تھی۔۔
میں نے تم سے جھوٹ کہا تھا۔میرا اور سائم کا جھگڑا ہو گیا تھا۔اس وجہ سے ۔وہ بولتے بولتے چپ ہوئی۔۔۔
اور فیونسی۔۔۔
وہ بھی جھوٹ تھا۔اور علیزے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔
تو کیا وہ تم سے شادی کرنا چاہتا ہے۔علیزے اب تھوڑا ریلیکس ہوئی۔
ہاں وہ شادی کرنا چاہتا ہے۔مروا نے تھوڑا جھجکتے ہوئے کہا۔
اور کب سے ہے تم دونوں کا یہ چکر۔
چکر تو نہ کہو اب۔۔۔۔۔۔۔
۔مروہ علیزے کی انڈرسٹینڈنگ بہت اچھی تھی ۔ اس سے ہر بات شیئر کر لیا کرتی تھی۔۔۔
اچھا تو پھر کیا کہوں۔تم نے مجھ سے چھپایا یہ سب۔علیزے نے اب شکایت کی۔۔
تم بتاؤ نا تمہیں کیسا لگا سائم؟؟
مرو مجھے تو وہ پہلے دن سے اچھا لگا تھا۔یہ سن کر مروہ کو تھوڑا سکون ملا۔لیکن یہ گڑیا گڈے کا کھیل نہیں ہے۔
۔مجھے سوچنے کا ٹائم دو ریحان سے بات کروں گی دادا جان سے بات کروں گی اصل فیصلہ تو وہی لیں گے نا۔۔
تو تمہیں کیا لگتا ہے دادہ جان منع کریں گے۔مروہ نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
نہیں میری جان ایسا نہیں ہے۔لیکن ہر کام کرنے کا کوئی نہ کوئی طریقہ ہوتا ہے۔سائم ائے گا اس کی فیملی ائے گی۔فیملی کا سن کر مروہ تھوڑی پریشان ہوئی۔
اس کے بعدہی ہم کوئی فیصلہ کریں گے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پتہ نہیں مر وہ سچ بتا پائے گی یا نہیں۔سائم بہت بے چین ہو رہا تھا۔اس نے مروہ کا نمبر ٹرائی کیا تھا لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔کیونکہ اس کا موبائل سائلنٹ تھا اور بیگ میں تھا۔۔۔
مروہ۔۔۔۔
ان دنوں کا انتظار سائم نے بے صبری سے کیا تھا۔اب وہ برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔
وہ گارڈن میں ٹہتا نہ جانے کتنی دفعہ موبائل دیکھ چکا تھا۔
رات کے اٹھ بجے تھے۔مروہ نے اپنے کمرے میں اتے ہی موبائل اٹھایا۔۔
کب سے انتظار کر رہا ہوں کہاں تھی۔۔۔
مروا نے فون کان کے ساتھ لگایا اور بیڈ پر بیٹھ گئی۔
علیزے سے بات ہو گئی کیا کہتی ہے۔وہ بے چینی سے پوچھ رہا تھا۔سائم کچن میں چائے بنا رہا تھا۔اس نے ایک ہاتھ سے موبائل پکڑا تھا جب کہ دوسرا ہاتھ۔چائے کے لیے استعمال کر رہا تھا۔۔۔
سائم۔علیزے تو مان گئی لیکن۔۔
لیکن۔۔لیکن کیا میری جان۔سائم اب چائے بنا چکا تھا اس نے چائے کا کپ وہیں پہ رکھا۔اور چیئر کو اگے کر کے اس پر بیٹھ گیا۔بولو مروا خاموش نہ رہو۔۔۔۔
تم اپنی فیملی کو کیسے مناؤ گے۔سائم نے موبائل ایک کان سے اتار کر دوسرے کان کے ساتھ لگایا اور اٹھ گیا۔اس نے پھر سے چائے کا کپ اٹھایا۔۔
دادا جان کو لے کے اؤں گا۔یہ اتنی بڑی پریشانی نہیں ہے۔
اور انٹی انکل۔۔مروہ نے پھر سے سوال کیا۔۔۔
مروہ ڈیڈ ائیں گے۔۔وہ خاموش ہو چکا تھا۔۔
اور انٹی۔۔۔۔
کیا ہم کوئی اور بات کریں۔سائم کا چہرہ اتر چکا تھا۔۔
ائی لو یو سو مچ۔۔اپ سب ٹھیک ہو جائے گا۔تم میری ہو جاؤ گی۔اور پھر تمہاری زیادتیوں کے بدلے میں تم سے گن گن کر لوں گا۔یاد رکھنا۔وہ اپنے کمرے میں ا چکا تھا۔۔۔
اچھا تو تم شادی مجھ سے اس لیے کر رہے ہو۔مروہ نے بھی اس موضوع کو پھر سے کھولنا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔
ہاں کیا تم نے مجھ پہ کم ظلم کیا ہے۔اتنی دوری مروہ۔۔۔۔
اب بس بچ کر رہنا۔وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے ابھی مجھے نیند ارہی ہے۔صبح بات کرتے ہیں۔مروہ فون رکھنے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔
تم ایسے موقعوں پہ بھاگتی کیوں ہو۔مجھے بات کرنی ہے پھر سو جانا۔سائم اب پیڈ کرون کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھ چکا تھا۔۔۔
میں نے کہا نا میں سونے لگی ہوں۔۔
اب تم رومانس کی توہین کر رہی ہو۔اگر تو تم پاس ہوتی ۔تو
سائم۔۔۔۔۔۔
مروہ کی اواز نے اسے چپ کروا دیا تھا۔
سن رہا ہوں۔۔وہ تھوڑا بد مزہ ہوا تھا لیکن پھر اس نے اسے سننا ہی بہتر سمجھا۔۔
ہم صبح بات کریں گے۔وہ اس کے لہجے سے تھوڑا پریشان ہوا۔لیکن اس کے پوچھنے سے پہلے ہی وہ فون بند کر چکی تھی۔۔اور اس نے دوبارہ فون کرنا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔
لیکن اس کی ساری رات ٹینشن میں گزری تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مروہ سائم اور اس کے دادا ائے ہیں۔مروہ جو افس کے لیے تیار ہو رہی تھی ایک دم سے چونکی۔کیونکہ وہ اس متعلق کچھ نہیں جانتی تھی۔اور پھر علیزے کو دیکھنے لگی۔
کیا کیا۔۔۔۔۔وہ کب ائے۔مروہ جو بیگ بازو میں ڈالے جانے ہی لگی تھی۔ایک دم بیگ کو بیڈ پر رکھا۔اور علیزے کی طرف ائیں۔۔
کیا انہوں نے کوئی بات تو نہیں کر دی۔۔
فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں نے رات کو دادا جان سے بات کر لی تھی۔علیزے نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔
کیا سچی مروہ کی اکسائٹمنٹ کچھ اگلے ہی لیول کی تھی
دادا جان نے کیا کہا۔۔۔
انہوں نے جو کہا میں بتا دوں گی ابھی تم اؤ۔علیزے کو جلدی تھی کیونکہ اسے چائے کا بھی دیکھنا تھا۔تو اس نے مروہ کو بھی انے کا کہا اور باہر چلی گئی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سبی ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے۔مروہ بالکل سائم کے سامنے بیٹھی تھی۔اس نے گرین کلر کا سمپل سا سوٹ پہنا ہوا تھا۔جس میں اس کی رنگت اور بھی نکھر۔۔
رہی تھی۔۔۔۔
سائم نے ہلکی براؤن کلر کی شرٹ پہنی تھی۔جو ایک طرف سے پینٹ میں دی ہوئی تھی ۔بالوں کو پونی سٹائل میں پیچھے باندھا ہوا تھا۔اور چہرے پہ اطمینان تھا۔۔
مروہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھتی اور پھر نظریں نیچے کر لیتی۔لیکن سائم اسے مسلسل دیکھے جا رہا تھا۔۔
مروہ چائے کا کہہ کے اپ کچن میں ا چکی تھی۔۔
یا اللہ سب ٹھیک ہو جائے۔۔۔مروہ بے چینی میں ٹہلے جا رہی تھی۔علیزے چائے لے کر اندر جا چکی تھی۔مروہ کبھی بیٹھتی تو کبھی کھڑی ہو جاتی۔۔۔
وہ کھڑی ابھی سوچ رہی تھی۔کہ اچانک سے سائم نے ا کر اسے اپنی گرفت میں لیا۔سائم نے اپنے دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھے اور اسے ان میں قید کر چکا تھا۔وہ مروا کی پشت پہ کھڑا اسے بہت پاس سے محسوس کر رہا تھا۔۔۔
سائم ۔۔اس نے گھبراتے ہوئے اسے پیچھے کرنا چاہ۔یہ کیا کر رہے ہو کوئی ا جائے گا۔۔۔
رات کو کال کیوں کاٹی تھی۔اس سرگوشی میں پوچھتے ہوئے اس کے کان پر لمس چھورے۔اب اس کا حساب تو دینا پڑے گانہ۔۔۔
سائم۔۔مروہ نے زور سے اسے پیچھے کرنا چاہا۔پر سائم نےاسے تھوڑا اور اگے کی طرف کیا۔۔
جو پوچھا ہے اس کا جواب دو۔مروہ نے اس کے ٹیبل پہ رکھے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا اسے اٹھانے کے لیے۔پر سائم نے اسے بھی قید کر لیا۔اس نے ایک ہاتھ سے اس کے بالوں کو ایک طرف کیا۔وہ اس کی گردن پہ جھکنے ہی والا تھا۔کہ اچانک سے کچن میں علیزے ائی۔وہ دونوں بری طرح سے پزل ہو چکے تھے۔سائم نے اسے ایک دم سے پیچھے کی اور اپنا رخ دوسری طرف کیا۔ مروہ بھی اس سے تھوڑا دور ہٹ گئی۔۔
سائم تم یہاں کیا کر رہے ہو۔اندر سب یاد کر رہے ہیں۔علیزے مروہ کو انکھیں نکالتے ہوئے سائم سے مخاطب ہوئی۔۔
وہ۔۔سائم تھوڑا پزل ہوا۔میں پانی پینے ایا تھا۔اس نے ایک نظر مروہ کو اور پھر علیزے کو دیکھا۔مروہ کے ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے۔۔
میں اندر چلتا ہوں۔۔سائم کی بھی سمجھ میں نہیں ا رہا تھا کہ اسے کیا کہنا چاہیے۔اتنا کہہ کے وہ باہر نکل گیا۔۔
اب تم بھی اندر ا جانا۔علیز ے غصے سے کہتی ہوئی باہر کی طرف گئی۔۔۔
سائم۔۔تم کسی دن مجھے بھی مرواؤ گے اور خود بھی مروں گے۔مروا کچھ سیکنڈ کے لیے چیئر پر بیٹھی اور پھر اٹھ کے باہر اگیی۔۔۔۔
سائم پہلے ہی دادا جان کو سب سمجھا چکا تھا۔۔۔
اگر سائم کے والد اور والدہ بھی ا جاتے ۔تو ہمیں خوشی ہوتی۔امجد میاں نے حبیب میاں کو دیکھتے ہوئے کہا اور پھر سائم کو دیکھنے لگے۔۔۔
ایسے موقعوں پر والدین کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے اور ہم خاندانی لوگ ہیں۔پھر اپ کو پتہ ہے لوگوں کی زبانوں کو نہیں پکڑا جا سکتا۔لوگ طرح طرح کے سوال کرتے ہیں۔۔۔
اور ویسے ہمیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔کیونکہ مروہ اور سائم ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔اور ہمیں اپنی بیٹی پہ پورا یقین ہے کہ وہ کبھی غلط فیصلہ نہیں لے ل گی لیکن دنیا داری کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔۔
بالکل ایسا ہی ہے ریحان نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی۔
حبیب میاں نے ایک نظر سائم کو دیکھا۔سائم پہلے ہی سب کچھ بتا چکا تھا۔ٹھیک ہے اپ ہمیں نکاح کی ڈیٹ دے دیں اس کے والدین بھی ا جائیں گے۔سائم نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا۔کیونکہ وہ کسی صورت بھی ارم کو نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔۔
لیکن اس نے ان دنوں کا بے صبری سے انتظار کیا تھا۔یہ دن اس کے لیے ہر چیز سے زیادہ سپیشل تھا۔تو وہ کچھ نہیں بولا اور خاموش رہا۔۔تین دن بعد نکاح کی ڈیٹ فائنل ہوئی۔لیکن یہ تین دن بھی اس کے لیے صدیوں کے برابر تھے۔کیونکہ وہ مروہ کو ایک سیکنڈ بھی خود سے دور نہیں کر سکتا تھا۔اور اسے کھونے کا ڈر اس کے دل میں بیٹھ چکا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(سائم نے ہارون سے بھی بات کر لی تھی۔اور ہارون سائم کے لیے بہت خوش تھا۔لیکن وہ ارم کو لے کر پریشان تھا۔اور ہارون لوگوں نے یہی ڈیسائڈ کیا تھا کہ نکاح پاکستان میں ہو گا اور باقی کے فنکشن کینڈا میں۔اور سائم اس بات پہ مشکل سے مانا تھا۔)
دادا جان اپ نے یہ بات کیوں کہی۔سائم نے گھر اتے ہی ان سے سوال کیا۔میں کسی صورت بھی اس عورت کو برداشت نہیں کروں گا۔میں اپ کو بتا چکا ہوں۔اور رہی بات ڈیڈ کی۔
۔پاکستان میں ہم صرف نکاح کر رہے ہے۔۔
وہ حبیب میاں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔اور انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔سائم اج بہت خوش تھا۔لیکن پھر کہیں نہ کہیں اسے مروہ کو کھونے کا ڈر کیونکہ وہ پہلے بہت کچھ برداشت کر چکا تھا۔اس لیے وہ اب کچھ بھی برا نہیں چاہتا تھا۔۔
حبیب میاں نے اس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا۔بیٹا۔۔۔
اب تمہاری شادی ہونے والی ہے نا۔تو تمہیں یہ بات جاننے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔کہ بچے ماں باپ کے لیے کیا ہوتے ہیں۔۔
اور تم ان کی اکلوتی اولاد ہو۔ایسے موقع پہ تم انہیں نہیں بلاؤ گے۔ ارم نے جو کیا۔بے شک وہ معاف کرنے کے قابل نہیں ہے۔لیکن وہ تمہاری ماں ہے اور اس کا تم پر حق ہے۔
میں نے کب کہا میں نہیں بلا رہا۔میں ڈیڈ کو بلاؤں گا لیکن موم کو نہیں۔۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ مرو انہیں پھر سے دیکھے۔اور اس کے زخم تازہ ہو جا ئے۔۔۔۔
اور ایسے موقع پر تو بالکل بھی نہیں۔سائم یہ کہتے ہی اپنے کمرے کی طرف جا چکا تھا۔وہ کچھ بھی سننا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مروہ یہ تم کیا بات کر رہی ہو۔تم جانتی ہو ہمارے خاندان والوں کو۔اسے اپنے پیرنٹس کو لے کر انا ہوگا۔اور موم کے ساتھ کیا مسئلہ ہے اسے۔مروہ سے سچ نہیں بتانا چاہتی تھی۔۔۔
تو علیزے اس کے دادا جان ائیں گے نا۔اور سمیر ابرش اور بھی بہت سے لوگ ائیں گے۔اس کے ڈیڈ بھی ائیں گے اور باقی کے فنکشن تو وہ کینیڈا میں کریں گے۔تو فیملی وہاں ضروری ہے۔
مروہ کینٹدا میں صرف ہم جائیں گے پورے خاندان کو لے کر نہیں جا رہے۔اور تمہیں اچھے سے پتہ ہے کہ دادا جان کتنی مشکل سے مانے ہیں۔۔
لوگ کہیں گے کہ پیسہ دیکھ کر بیٹی دے دی۔۔۔۔
مروہ میری بات کان کھول کر سن لو۔نکاح پہ سائم کے پیرنٹس کا ہونا ضروری ہے۔میں اپنے سسرال میں کیا جواب دوں گی۔سائم سے بات کرو اور پھر مجھے بتاؤ۔یہ کہتے ہی علیزے باہر کی طرف چلی گئی۔۔۔
اگلے دن کا اغاز ہو چکا اج سائم نے مروہ کو شاپنگ پہ لے کے جانا تھا۔تو ایز ڈیوٹی وہ صبح صبح ہی ان کے گھر پہنچ چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تھوڑی ہی دیر میں۔ایک بڑی سی شاپ میں اگئے تھے۔
سائم یہاں تو سب بہت ایکسپینسو ہوگا۔مروا نے شاپ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔جو مکمل شیشے سے کور تھی ۔اور بڑے بڑے برائڈل ڈریس چاروں طرف لگے ہوئے تھے۔۔۔
سائم ہلکا سا مسکرایا۔وہ بلش کر رہا تھا۔میری جان تم کہو تو یہ سارا مول خرید کر تمہارے نام کر دو۔اس نے نظر چاروں طرف گھمائی تھی۔میرا سب کچھ تمہارا ہی تو ہے۔اس نے اپنا رخ اس کی طرف کیا اور اس کے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے اسے پیار بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔۔۔
ویلکم۔۔۔۔ویلکم۔۔۔جینز پینٹ میں ملوث ایک انٹی۔ہائی ہیلز پہنیں سائم کی پاس ائی۔یہ سمیر کی امی تھی۔
ماشاءاللہ۔۔۔۔۔
کتنی پیاری ہے یہ۔وہ قدم اٹھا کر مروہ کے پاس ائی اور ہاتھ اگے کیا۔مروہ تھوڑی حیران تھی لیکن پھر اس نے ہاتھ اگے کیا۔اور ان سے سلام لیا۔۔
مروہ یہ میری ممانی اور سمیر ابرش کی موم ہے یہ شاپ انہی کی ہے۔۔
۔پاکستان کی سب سے بیسٹ ڈیزائن ہے۔سائم نے ان کا تعارف کروایا۔اور مروہ کا تعارف وہ پہلے ہی کروا چکا۔۔۔
سائم تم نے جو سلیکٹ کیا تھا۔بس اسی کا انتظار ہے۔تم دونوں اندر جا کے بیٹھو۔میں کافی بجواتی ہوں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائم میری خاطر۔۔مروا اسے علیزے کی ساری باتیں بتا چکی تھی۔اور اب اس سے ریکویسٹ کر رہی تھی کہ ارم انٹی کو لے کے ا ئے۔وہ بھی انہیں پسند نہیں کرتی تھی۔اور کہیں نہ کہیں خوف محسوس کرتی تھی۔
مرو ایک دفعہ منع کر دیا ہے نا۔اب دوبارہ یہ بات نہیں کرنا۔۔
میری حاضر بھی نہیں۔وہ دونوں ایک ہی صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے۔مروا اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے۔پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے لہجے میں پیار اور التجا دونوں تھے۔اور اس کی یہ معصومیت دیکھ کر سائم کو بھی اس پہ پیار اگیا تھا۔وہ پہلی بار اس سے کچھ مانگ رہی تھی۔
اوکے ٹھیک۔۔۔۔سائم نے اس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا۔
تھینک یو سو مچ۔۔۔مروہ نے اس کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔۔
صرف تھینک یو سے کام نہیں چلے گا۔سائم نے ایک جھٹکے میں اسے اپنے پاس کیا۔۔
سائم۔۔۔۔مروہ نے دونوں ہاتھ اس کے بازوں پہ جمایے۔۔۔
پلیز مروہ۔۔۔۔سائم نے اگلے ہی لمحے اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے تھاما اور اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کر لیا۔اس کی شدت بڑھتی جا رہی تھی۔اس کا انداز محبت بڑا پر شدت سے بھرپور تھا۔۔
سائم۔۔۔۔۔۔۔مروہ نے ایک زور کے جھٹکے سے اسے پیچھے کیا۔۔
اس گھٹیا حرکت کی مجھے مجھے بالکل بھی امید نہیں تھی۔مروا نے اونٹوں پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔کیونکہ اس کی لپسٹک خراب ہو چکی تھی۔
میری جان۔۔۔۔۔۔۔سائم ابھی اٹھا ہی تھا۔کہ کچھ لڑکیاں ایک ڈریس لے کر روم میں ائی۔بے بی پنک کلر کے میکسی جو چاروں طرف سے کھلی ہوئی تھی۔۔۔
سائم تمہاری چوائس بہت یونیک ہے۔ڈیزائنر نے اسے دن رات ایک کر کے ریڈی کیا ہے ۔الفت نے اندر اتے ہی۔مروہ کو ڈریس دکھائے اور اسے ٹرائی کرنے کا کہا۔۔۔
مروا منہ سجائے ڈریس کو لے کر ڈریسنگ روم میں چلی گئی۔
کچھ ہی دیر میں وہ باہر ا چکی تھی۔وہ ایک پری کی طرح لگ رہی تھی۔سائم اسے دیکھتے ہی پاگل ہو چکا تھا اور بہت مشکل سے خود کو کنٹرول کیا تھا۔۔
وہ اسے بس دیکھے جا رہا تھا۔۔۔۔۔
ماشاءاللہ تم تو دول کی طرح لگ رہی ہو۔الفت نے اسے دیکھتے ہی بولی اور وہ سچ میں ایک پری ہی لگ رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سب میں تمہیں اتنی اسانی سے جیتنے نہیں دوں گی۔ارم کو خبر مل چکی تھی۔
اب جو میں کروں گی مروہ وہ تمہاری سوچ سے بھی باہر ہوگا۔وہ دماغ میں کوئی پلان بنائے بیٹھی تھی۔لیکن وہ کیا کرنے والی تھی کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔۔
اپ سائم کو نہیں بتائیں گے کہ میں بھی پاکستان ارہی ہوں۔
۔
وہ مروہ کی وجہ سے مجھ سے تھوڑا ناراض ہے لیکن میں اسے منا لوں گی۔اور اپنے اکلوتے بیٹے کی خوشی میں شامل نہیں ہوں گی۔وہ ہارون کے سامنے اچھی خاصی ایکٹنگ کر رہی تھی۔جبکہ حقیقت میں جب سے اس نے سنا تھا اسں کے اندر اگ لگی ہوئی تھی۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کسی طرح کچھ کر کے مروہ کو اس دنیا سے ہی بھیج دے۔لیکن اب اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی تک ناراض ہو۔۔
وہ دونوں ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔لیکن مروہ اس سے کوئی بات نہیں کر رہی تھی۔
اچھا سوری نا ۔۔۔۔
تمہارے معاملے میں میرا خود پر کنٹرول نہیں رہتا۔اور اس میں قصور تمہارا ہے۔سائم نے بڑے ارام سے کہا اور پھر سے کانٹے سے کباب کا ایک ٹکڑامنہ میں ڈالا۔۔۔۔
تم اتنی خوبصورت ہو۔میں نے ایسا حسن اج تک نہیں دیکھا۔یا تو پھر تم نے مجھ پر جادو کروا دیا ہے۔وہ ہلکا سا مسکرایا ۔اور ہاتھ ٹشو سے صاف کیے۔مروہ بس اسے غصے بڑی نگاہ سے دیکھے جا رہی تھی۔
اس کی بے باکی کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
اور تمہارا تو ابھی سے یہ حال ہے اگے جا کے کیا ہوگا۔اور یاد رکھنا اس معاملے میں میں بالکل بھی بخشنے والا نہیں ہوں۔اس نے تھوڑا اس کے قریب جھک کر یہ بات کہی۔اور پھر اٹھ گیا۔مروا بھی کھانا ختم کر چکی تھی۔
ائی ہیٹ یو۔۔۔مروا نے یہ کہتے ہی اپنا بیگ اٹھایا۔سائم ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔۔۔۔۔
ائی لو یو ٹو میری جان۔۔۔۔۔۔۔۔
مروہ نے افق نگاہ اس پر ڈالی۔۔۔۔۔۔۔۔
