266K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Rung Episode 23

Shah Rung by Aneeta

اچھا تو اسے میرے پیچھے تم نے بھیجا تھا۔مروہ نے ٹانگ بیڈ کے اوپر کر کے رخ اس کی طرف کیا۔

میں اسے کیوں بھیجوں گی تمہارے پیچھے۔وہ دیوانہ ہے تمہارا۔میرے کہنے نہ کہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔

مروہ نے بیڈ پہ پڑے تکیے کو اس کی طرف گرایا۔میری خوشیوں کی قاتل صرف تم ہو پہلے تمہیں علی دیوانہ لگتا تھا اور اب سائم۔مروہ بول ہی رہی تھی۔کہ ایک اواز سے وہ چپ ہو گئی۔

اچھا تو علی کو اس کے پیچھے لگانے والی تم ہو۔سائم جو باہر کھڑا دونوں کی باتیں سن رہا تھا۔اچانک سے اندر ایا۔سائرہ جو الماری سے کپڑے نکال رہی تھی۔اسے دیکھ کر رک گئی۔

ہاں میں ہوں تو کیا کر لو گے۔وہ دونوں ہاتھ باندھے اس کے سامنے کھڑی تھی۔بولو مسٹر سائم مردان۔۔۔۔

بندے کو سیدھا کرنے میں مجھے دیر نہیں لگتی۔اگر شک ہو تو اپنی دوست سے پوچھ لو۔سائم نے مروہ کی طرف اشارہ کیا۔جو سکون سے ان کی باتیں سن رہی تھی۔

مجھے اس سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔کیونکہ اج سارا دن نا میں نے تمہاری بچپن کی دوست مہروش کے ساتھ گزارا ہے۔تو مجھے اچھے سے اندازہ ہو گیا ہے کہ تم کس ٹائپ کے لڑکے ہو ۔سائرہ دوبارہ سے کپڑے نکالنے لگی ۔۔

جبکہ مروہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔اور سائم کا ری ایکشن بھی کچھ ایسا ہی تھا۔

یہ اپ کیا کہہ رہے ہیں اب وہ لڑکی اس کی افس میں بھی کام کرے گی۔ارم ہارون کی بات سن کر اپنے حواس پہ قابو نہیں رکھ پائی تھی اس لڑکی کو افس کا کچھ بھی نہیں پتا۔

بیگم یہ کیسی باتیں کر رہی ہو۔وہ کینیڈا سے گریجویٹ ہوئی ہے۔اور تم اچھے سے جانتی ہو کہ سائم اسے پسند کرتا ہے۔تو اگے فیوچر میں ان دونوں نے ہی سب کچھ سنبھالنا ہے۔

یہ اپ کیا کہہ رہے ہیں۔ہارون اپ نے سوچ بھی کیسے لیا۔میرے ہوتے ہوئے ایسا کبھی بھی نہیں ہوگا۔ارم نے اپنا رخ ہارون کی طرف کیا اور سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔

تمہیں اپنے بیٹے کی خوشیاں نظر نہیں ارہی اس میں۔کیسی ماں ہو تم۔بس اپنے ایگو کی خاطر بیٹے کی خوشیوں کے خلاف ہو۔ہارون نے اج سرد لہجے میں ارم سے بات کی تھی۔سائم جیسے چاہتا ہے ویسے ہی ہوگا۔اور میں اب کچھ بھی برداشت نہیں کرنے والا۔

گڈ نائٹ نہیں بولو گی۔۔۔

مروہ نے اپنے کمرے میں قدم رکھا ہی تھا کہ سائم نے اسے پیچھے کھینچا۔اب اس کے دونوں ہاتھ سائم کے کاندھے پر تھے۔

یہ کیا بدتمیزی ہے سائم۔۔مروہ نے تھوڑا پیچھے ہونا چاہا۔پر وہ سائم کی باہوں میں بری طرح سے جکڑی ہوئی تھی۔

میری ڈکشنری میں تو اسے پیار کہتے ہیں۔اور تم بدتمیزی بول رہی ہو وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔اس کی نظروں میں شرارت صاف نظر ارہی تھی۔

کسی کے قدموں کی اہٹ سن کر مروانے زور سے سائم کو پیچھے کیا۔اپنی حد میں رہو تو زیادہ اچھا ہوگا۔

ایک تو یہ تمہاری دوست ہمیشہ غلط ٹائم پر اینٹری مارتی ہے۔سائم نے مروہ کو غور سے دیکھا۔

مروا نے جینز کے اوپر بی بی پنک کلر کی سویٹر پہنی ہوئی تھی۔اس نے کمرے کا دروازہ سائم کے منہ پر بند کیا۔اور اندر چلی گئی۔

سب کچھ اپ کے ہاتھ سے نکل گیا ہے اپ یہ سب مان کیوں نہیں لیتی۔

مہروش مہروش۔تم ٹھنڈے دماغ سے کیوں نہیں سوچتی۔بس تھوڑا صبر کرو پھر دیکھو۔وہ دونوں کمرے میں بیٹھ کر پلاننگ کر رہی تھی۔

مجھے زندگی پہ لکھنا اچھا لگتا ہے۔لیکن مجھے اس بات کا افسوس رہے گا۔کہ میں زندگی کو کبھی اچھے لفظوں میں نہیں لکھ سکی۔میں نے بہت سی کتابوں میں پڑھا ہے کہ زندگی بہت خوبصورت ہے۔لیکن یہ بات صرف میں نے کتابوں میں دیکھی ہے۔حقیقت اس کے برعکس ہے۔سب سے مشکل سفر زندگی سے موت کا ہوتا ہے۔جو نہ چاہتے ہوئے بھی ایک انسان کو طے کرنا پڑتا ہے۔مروہ لیپ ٹاپ گود میں رکھے صحن میں بیٹھی تھی۔اس نے بالوں کو ایک طرف کیا ہوا تھا۔اس کا ایک ہاتھ لیپ ٹاپ پر تو ایک۔کے سہارے اس نے گردن کو ایک طرف کیا ہوا تھا۔وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔

سا ئم اپنی بالکنی میں کھڑا نہ جانے کب سے اسے دیکھ رہا تھا۔اس کے ہاتھ میں مروہ کی ڈائری تھی۔اس نے وائٹ کلر کی شرٹ پہنی تھی۔جو ایک طرف سے پینٹ میں دی ہوئی تھی۔استینوں کے بٹن کھلے ہوئے تھے۔اور رات کی روشنی اس کے چہرے کو چمکا رہی تھی۔

صبح کی روشنی ہر طرف پھیل گئی تھی۔سائم ریڈی ہو کر صحن میں ایا تھا۔

دادا جان یہ اپ کیوں کر رہے ہیں۔اپ کی کمر میں درد ہو جائے گا۔سائم نے انہیں اٹھانے کی کوشش کی۔جو زمین پر بیٹھے پودوں کی صفائی کر رہے تھے۔

نہیں بیٹا اب یہی سب کر کے سکون ملتا ہے۔حبیب میاں نے سائم کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

بیٹا عمر کا جو یہ حصہ ہوتا ہے نا۔یہ کہیں خوبصورت بھی ہوتا ہے تو کہیں بد صورت بھی انہوں نے اپنی طرف اشارہ کیا تھا۔سائم ان کی باتوں کو غور سے سن رہا تھا۔

بدصورت ایسے کہ انکھوں کی روشنی کے ساتھ دنیا کے ہر رنگ پھیکے پڑ جاتے ہیں۔اس عمر میں انسان خود کو بوجھ سمجھنے لگتا ہے۔اور گزرتی زندگی کے ورقوں کو پڑھتا رہتا ہے۔اور خوبصورت ایسے کےاس حصے میں ایک روشنی کی چمک پہلے سے زیادہ ہو جاتی ہے۔اور وہ چمک ہوتی ہے اللہ کا راستہ اس عمر میں انسان اللہ کے اور قریب ہو جاتا ہے۔اور اللہ کی قربت سے زیادہ بلا اور کیا چیز خوبصورت ہو سکتی ہے ۔۔

کیا تمہیں منتیں کروانے میں مزہ اتا ہے۔مروہ جلدی بیٹھو ہمیں دیر ہو رہی ہے۔سائم ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ چکا تھا۔جبکہ مروہ منہ بسیرے دوسری طرف کھڑی تھی۔

اچھا رکو میں اتا ہوں۔سائم نے گاڑی کا دروازہ کھولا ہی تھا۔کہ مروہ فورا سے ا کے دوسری طرف بیٹھ گیی۔

عجیب ڈرامہ ہو قسم سے سائم نے یہ کہتے گاڑی کا دروازہ زور سے بند کیا۔ویسے تمہیں مجھ پر ترس بھی نہیںاتا۔اسنے افس سوٹ پہنا ہوا تھا۔

تمہیں ایا تھا مجھ پر مروہ نے الٹا اس سے ہی سوال کیا۔

میں نے کب نہیں کھایا ترس تم پر بتاؤ ذرا۔

تم جانتے تھے میرا ایکسیڈنٹ ہوا ہے مروہ ابھی بول ہی رہی تھی۔

میں نہیں جانتا تھا۔اگر جانتا ہوتا تو تمہیں لگتا ہے کہ میں۔

پلیز سائم اور ڈرامہ نہیں۔مروہ نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔

مجھے انٹی نے ملنے کے لیے بلایا تھا۔اس سنسان روڈ پر کیا وہ جب وہاں ائی ہوں گی انہیں نہیں پتہ ہوگا کہ یہاں پہ ایک بہت بڑا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔

ایک سیکنڈ۔۔سائم نے گاڑی کو بریک لگائی۔

انٹی۔۔۔۔

ہاں مجھے ارم انٹی نے بلایا تھا۔کیا تمہیں نہیں پتہ۔

سائم بالکل خاموش ہو گیا تھا۔اس کی انکھیں سرخ ہو گئی تھی وہ اپنے ہاتھوں سے غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔کیا ہوا ہے۔مروہ نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔وہ تھوڑا ڈر بھی رہی تھی۔

کچھ نہیں۔سائم نے سرسری سا جواب دیا اور گاڑی پھر سے سٹارٹ کر دی۔اس بار سپیڈ پہلے سے تھوڑی تیز تھی۔اور مروہ نے خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا۔

عثمان تمہیں میں نے کتنا مس کیا ہے تم جانتے ہو۔وہ دونوں کیفٹ ایریا میں بیٹھے ہوئے تھے۔سائرہ نے براؤن شرٹ اور وائٹ پینٹ پہنی ہوئی تھی۔جبکہ عثمان نے ہڈی پہنی ہوئی تھی۔

میں نے بھی تم دونوں کو بہت مس کیا۔اور اتنا سب کچھ ہو گیا تم نے مجھے بتانا بھی مناسب نہیں سمجھا۔عثمان نے کافی کا کپ منہ کے ساتھ لگایا۔

اور مروہ بالکل ٹھیک کہتی ہے ۔تم لوگ سائم کے گھر میں کیوں رہ رہے ہو۔میں اج کوئی فلائٹ دیکھتا ہوں۔

دیکھو سائم کو ہم نے بہت غلط سمجھا تھا۔میں نے اس کی انکھوں میں مروہ کے لیے محبت دیکھی ہے ۔جس طرح اس نے علی کو مارا اور بھی بہت کچھ کیا۔مجھے نہیں لگتا اس کی محبت جھوٹی ہو سکتی ہے۔بس اسی لیے میں مروہ کو اس کے قریب کرنا چاہتی ہوں۔

سائم میں سمجھ نہیں پا رہی۔کیا سچ میں تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔اور اگر کرتے تھے تو تین سال مجھ سے باخبر کیوں رہے۔محبت کی شدت نے اس وقت اپنا اثر کیوں نہیں دکھایا۔تمہاری وجہ سے میں نے کیا کچھ نہیں دیکھا۔ ۔مروہ سائم کے افس کےباہر کھڑی اسے دیکھے جا رہی تھی۔اور اندر ہی اندر خود سے باتیں کر رہی تھی۔جب کہ سائم اندر میٹنگ میں مصروف تھا۔اس کے ساتھ دو اور بندے بیٹھے ہوئے تھے۔سائم کی نظر پڑتے ہی مروہ نروس ہو گئی۔اور جلدی سے اپنے کیبن میں چلی گئی۔

مجھے ایسے کیوں دیکھا جا رہا تھا۔سائم مروہ کے پیچھے ہی ایا تھا۔

کیسے؟

پیار بڑی نظروں سے اور کیسے۔سائم نے ایک ہاتھ سے اس کے بال پیچھے کیے وہ زیادہ فاصلے پہ نہیں تھا۔

ایسا کچھ نہیں ہے میں یہ فائل دینے ائی تھی لیکن تم بزی تھے۔تو میں واپس اگئی مروہ نے اس کے ہاتھ کو پیچھے کیا۔اور فائلز کو دیکھنے لگی۔

تمہارے دل میں جو بھی ہے میں جانتا ہوں۔مروہ کیا ایک موقع نہیں دے سکتی۔میں اپنی محبت ثابت کر کے بتاؤں گا۔میں ہر وہ کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔جس سے تمہیں خوشی ملے۔اس نے توری سے پکڑ کر اس کا منہ اپنی طرف کیا تھا۔

بس ایک اخری موقع۔اس کی نظروں میں پیار جھلک رہا تھا۔اور بے بسی بھی صاف نظر ارہی تھی۔

میں تمہیں موقع دے چکی ہوں ۔شاید تم بھول گئے ہو۔جو انسان اپ کے بغیر تین سال رہ سکتا ہے۔تو ساری زندگی بھی گزار سکتا ہے۔یہ محبت کی باتیں اب مجھ سے مت کرنا۔ورنہ میں افس اور تمہارے گھر دونوں سے چلی جاؤں گی۔

تم اتنی ضدی کیوں ہو۔

سر ویئر کی کمپنی سے کچھ لوگ ائے ہیں۔میں نے انہیں اپ کے افس میں بٹھایا وشل دروازہ نوک کرتے ساتھ ہی بولی۔

مروہ جو اس کے سامنے کام کرنے کی ایکٹنگ کر رہی تھی۔اس کے جاتے ہی اس نے لمبا سانس لیا۔اور چیئر کے ساتھ ٹیک لگا لی۔وہ پھر سے سائم کے بارے میں سوچنا شروع کر چکی تھی۔وہ افس چیئر کو گول گھما رہی تھی ۔

شام کوسائم نے گھر اتے ہی ارم سے سوال جواب شروع کیے۔

اپ کا بیٹا ہوش میں نہیں ہے جو کچھ بھی بولے جا رہا ہے۔

تو اپ جواب دیں نا اپ نے مروہ کو وہاں کیوں بلایا تھا۔سائم اس وقت شدید غصے میں تھا۔حال میں ہارون اور ارم دونوں موجود تھے۔

میں اسے کیوں بلانے لگی۔وہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہے۔تمہیں اپنی ماں پہ یقین ہے یا کل کی ائی لڑکی پہ۔وہ لڑکی پیسے کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہے۔پہلے بھی تم دیکھ چکے ہو۔لیکن تمہاری انکھوں پہ تو محبت کی پٹی بندھی ہوئی ہے۔

اب چپ کر جائیں۔سائم نے زوردار اواز سے انہیں چپ کروایا۔اور اگر یہ سچ ہوا نہ تو اپ بھول جانا کہ اپ کا کوئی بیٹا تھا۔

بیٹا یہ تم اپنی موم سے کس لہجے میں بات کر رہے ہو۔ہو سکتا ہے مروا کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو۔

ڈیڈ اپ تو ایسے کہہ رہے ہیں جیسے موم کو جانتے نہیں ہیں۔میں کہہ چکا ہوں کہ اگر یہ سچ ہوا۔تو زندگی میں میری شکل دیکھنے کے لیے ترسیں گی۔یہ کہتے ہوئے سائم اپنے کمرے میں چلا گیا۔

ابھی فیملی کا حصہ بنی نہیں ہے اور اپنا کام کرنا شروع کر دیا اس نے یہ چھوٹے گھروں کی لڑکیاں ایسی ہی ہوتی ہے۔

اب بس بیگم تم بھی چپ کر جاؤ۔بندہ افس سے تھکا ہوا اتا ہے۔گھر سکون کے لیے ہوتے ہیں۔ہارون بھی لیپ ٹاپ اٹھائے اپنے کمرے میں چلا گیا۔

وہ تم سے سچی محبت کرتا ہے مروہ۔سائرہ جو مروہ کے کاندھے پہ سر رکھے بیٹھی تھی ۔

سارا تم پھر سے شروع ہو گئی۔تم وہ سب بھول گئی ہو جو اس نے کیا۔سائرہ نے اس کا سر اپنے کندھے سے پیچھے کیا۔

مجھے محبت پر اب کوئی یقین نہیں ہے۔محبت دھوکے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔اور لفظ محبت کی ڈکشنری بہت خطرناک ہے۔اس کی ڈکشنری میں ہر لفظ کا مطلب موت ہے۔اور موت بھی ایسی جو اپنی انکھوں سے خود ہی دیکھنی پڑتی ہے۔محبت میں انسان خود کو خود ہی دفناتا ہے۔

ایک تم اور تمہاری مشکل باتیں میری سمجھ سے باہر ہیں۔محبت کی ڈکشنری کا تو نہیں پتہ پر تمہاری ڈکشنری بہت مشکل ہے۔

صبح سب کچھ پرفیکٹ ہونا چاہیے۔سائم فون کان کے ساتھ لگائے لون میں ٹہل رہا تھا۔اس کا ایک ہاتھ پاکٹ میں تھا۔جب کہ دوسرے سے اس نے فون پکڑا ہوا تھا۔

صبح کے دن کو میں بہت سپیشل بنانا چاہتا ہوں۔کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے۔سائم کافی دیر فون پر باتیں کرتا رہا اور پھر فون بند کر دیا۔

مروہ اپنی بالکنی میں کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔

عورت محبت کے معاملے میں بڑی لالچی ہوتی ہے۔کہیں سے ایک ذرا بھی ملے تو سنبھال لیتی ہے۔لیکن مجھے لگتا ہے کہ عورت کو سمجھنا ایک مرد کے بس کی بات نہیں۔مرد کو مضبوط بنایا گیا ہے۔جبکہ عورت موم سے بھی نازک ہوتی ہے۔اور پتھر دل ہمیشہ موم پہ حکمرانی کرتا ہے۔بھلا موم کی پتھر کے سامنے کیا اوقات وہ گہری سوچ میں گم سائم کو دیکھے جا رہے تھی۔

لیکن میں یہ غلطی نہیں کروں گی۔دل کتنا بھی مجبور کر ے میں خود کو محبت کے حوالے نہیں کروں گی۔محبت وہ راستہ ہے جس کی کوئی منزل نہیں۔اور راستہ اتنا دشوار ہے۔کہ انسان کی روح تک کرچی کرچی ہو جاتی ہے۔اور لذت ایسی کہ وہ پھر بھی سفر نہیں چھوڑتا۔

سائم نے ٹہلتے ٹہلتے اوپر دیکھا۔وہ بھی گہری سوچ میں گم تھا اور اس کی سوچوں میں مروہ کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔

مرد کی محبت عورت سے بہت مختلف ہوتی ہے۔جہاں عورت محبت میں کمزور پڑ جاتی ہے۔وہی مرد محبت میں پہلے سے زیادہ طاقتور ہو جاتا ہے۔اور اس کی ساری طاقتیں اس کی محبوبہ کے لیے ہوتی ہے۔وہ ہر کوشش کرتا ہے اسے سکون دینے کی۔لیکن اگر بد قسمتی سے مرد کی محبت اس سے دور ہو جائے۔تو دنیا کی کوئی لذت اسے سکون نہیں دے سکتی۔مرد کے دل میں گھر کرنا مشکل ہوتا ہے۔لیکن اگر گھر بن جائے تو پھر اسے توڑنا مشکل ہوتا ہے ۔

وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے۔اور اندر ہی اندر دونوں ایک دوسرے سے ہی بات کر رہے تھے۔مروہ کے دل میں کہیں نہ کہیں محبت کا شعلہ بھڑک رہا تھا۔۔۔

علیزے تمہیں پتہ نہیں یہ بات سن کر میں کتنی خوش ہوں۔مجھے دادا جان کی اتنی فکر ہو رہی تھی۔بہت اچھا کیا جو تم لوگ دادا جان کے پاس اگئے۔اور یہ بھی تو تمہارا ہی گھر ہے ۔تم فکر مت کرو۔میں کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دوں گی۔

ہاں مروہ میں بھی بہت پریشان تھی۔بس اسی لیے ریحان نے یہ قدم اٹھایا۔

ریحان بھائی کو میری طرف سے بہت بہت شکریہ کہنا۔وہ سچ میں بہت اچھے ہیں۔

ٹھیک ہے انہیں میں شکریہ کہہ دو گی تم بتاؤ تم کیسی ہو۔علیزہ نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔

میں ٹھیک ہوں۔مجھے بس اپ لوگوں کی فکر رہتی ہے۔

تو مروی ملنے ا جاؤ نا۔ہم سب بھی تمہیں بہت مس کرتے ہیں۔اور دادا جان تو ایسا کوئی دن نہیں ہے جب تمہیں یاد نہیں کرتے۔

ا جاؤں گی ا جاؤں گی۔۔

ہاں جلدی انے کی تیاری کرو تمہارے ہاتھ بھی پیلے کرنے ہیں۔

ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔مروہ نے سرسری سا جواب دیا۔

وہ دونوں کافی دیر تک باتیں کرتی رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائم یہ تم کہاں لے کے جا رہے ہو۔راستہ دیکھو کتنا سنسان ہے۔اور ہم تو افس جانے والے تھے نا۔

ایک بات پوچھو مروہ سچ بتاؤ گی۔سائم نے اس لہجے میں مروہ سے پہلی دفعہ بات کی تھی اس کے انداز میں بے بسی تھی۔

ہاں پوچھو۔مروہ کو بھی اب بے چینی تھی۔

کیا تم خود کو میرے ساتھ محفوظ سمجھتی ہو؟

سائم کی نظریں مروہ پر جمی ہوئی تھی۔اور مروہ کو سمجھ نہیں ارہا تھا کہ وہ کیا کہیے۔کیونکہ یہ سوال اس سے اس بندے نے پوچھا تھا۔جس نے ہر وقت اس کی حفاظت کی ہے۔اور شاید اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر۔

میں نے کچھ پوچھا ہے ؟

مروہ پہلے تو چپ رہی۔پھر ہاں میں سر ہلایا۔اس کے جواب نے سائم کو بہت سکون پہنچایا تھا۔شاید یہ سوال اس کے لیے بہت اہمیت رکھتا تھا۔

لیکن تم نے مجھے جواب نہیں دیا ہم کہاں جا رہے ہیں۔مروا نے جلدی سے اپنا سوال دہرایا۔

جب پہنچے گے تو دیکھ لینا۔سرپرائز ہے تمہارے لیے۔

وہ ایک سنسان روڈ سے گزر رہے تھے۔اگے پیچھے درختوں کا بسیرا تھا۔کوئی اتا جاتا نظر نہیں ا رہا تھا۔

سرپرائز۔

مروہ تھوڑا حیران ہوئی۔کیسا سرپرائز؟

سائم کچھ بولنے ہی والا تھا۔کہ گاڑی کے اگے ایک ادمی بھاگتا ہوا ایاتھا۔سائم نے فورا سے بریک لگائی۔ونڈو کھولتے ہی اس نے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے۔وہ شکل سے ہی پاکستانی لگ رہا تھا۔

میرا چھوٹا بھائی وہاں زخمی ہے۔ہم ان لیگل ائے ہیں تھوڑی مدد کر دو اسے ہاسپٹل میں لے کے جانا ۔اپ کے پاس گاڑی ہے۔

ٹھیک ہے اپ اسے لے ائیں ہم چلتے ہیں ہاسپٹل۔

وہ زخمی ہے اگر تم مدد کر دو گے۔تو ارام سے اسے یہاں لے ائیں گے۔سائم نے کچھ سوچا اور پھر گاڑی سے اتر گیا۔مروہ تم گاڑی اندر سے لاک کر لو۔سائم نے اسے اشارہ کیا اور جانے ہی لگا تھا کہ مروہ نے اواز دی۔

سائم مجھے ڈر لگے گا۔۔

جان اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے میں ا رہا ہوں۔اس نے انکھ مارتے ہوئے اسے کہا۔تم گاڑی لاک کرو۔یہ کہتے ہی سائم اس ادمی کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔

اس ویران جگہ پہ پتہ نہیں کون سا سرپرائز ہے۔مروہ ٹیک لگا کے بیٹھی ہی تھی۔کہ اسے کچھ ادمی گاڑی کے ارد گرد نظر ائے۔جو بہت تیزی سے گاڑی کی طرف بڑھ رہے تھے۔ان کے ہاتھ میں پسٹل تھے۔پھر اچانک سامنے سے ایک گاڑی ائی۔اس گاڑی نے بہت زور سے بریک لگایا تھا۔سائم کی گاڑی کو کراس کرتے ہوئے۔۔

مروہ بری طرح سے کانپ رہی تھی۔یہ لوگ کون ہیں اور یہاں کیوں ا رہے ہیں۔وہ خود سے سوال کر رہی تھی۔کے سامنے والی گاڑی سے علی نکلا۔

تمہیں کیا لگا میں تمہارا پیچھا اتنی اسانی سے چھوڑ دوں گا ۔مروہ نے زور سے سائم کو اواز دی۔لیکن گاڑی کے اندر سے اس کی اواز باہر نہیں ائی تھی۔

لاک کھولو ورنہ علی نے پسٹل دکھاتے ہوئے اسے لاک کھولنے کا کہا۔ مروہ نے نہ میں سر ہلایا۔

اگلے لمحے علی نے ڈرائیونگ سیٹ کی سائیڈ سے گاڑی کا شیشہ توڑا اور لاک کھول لیا۔

دوسری طرف کے ادمی نے مروہ کو بازو سے پکڑ کر باہر نکالا۔علی بھی اب اس کے قریب ا چکا تھا۔

تمہیں کیا لگا کہ اتنی اسانی سے تمہیں چھوڑ دوں گا۔تم دونوں کو بدلہ جھکانا پڑے گا۔تمہیں میرے ساتھ رہ کر۔اور سائم کو تمہارے بغیر رہ کر۔یہ کہتے ہی اس نے لڑکے کو اسے گاڑی میں بٹھانے کا کہا۔

نہیں علی پلیز۔۔مجھے کسی بات کا علم نہیں تھا۔مجھے جانے دو پلیز۔۔مروہ کے بولنے کا کسی پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔

سائم۔۔۔اس نے زور سے سائم کو اواز دی۔لیکن شاید سائم بہت دور تھا۔

سائم مردان۔علی نے ایک خط اس کی گاڑی میں پھینکا ۔اور اپنی ٹیم کو لے کے وہاں سے چلا گیا۔۔

میں کہہ رہا ہوں دروازہ کھولو۔اس ادمی نے دھوکے سے سائم کو اندر کر کے باہر سے دروازہ بند کر دیا تھا۔کیوں اپنی موت کو اواز دے رہے ہو دروازہ کھولو۔یہ سب ہونے والا ہے سائم کو بالکل ائیڈیا نہیں تھا۔

تو ایسے نہیں مانے گا۔۔

سائم نے دروازے کو زور سے ہٹ کیا۔جو ٹوٹ چکا تھا۔وہ ہے بھی بہت پرانا لکڑی کا تھا۔

لیکن باہر کوئی بھی نہیں تھا۔سائم کے ماتھے پر پریشانی کے بل تھے۔وہ تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف بھاگا۔اسے مروہ کی فکر تھی۔۔

مروہ۔۔۔۔گاڑی میں مروہ کو نہ دیکھ کر سائم زور سے چلایا۔اس نے گاڑی کو بہت زور سے ہٹ کیا۔کیونکہ گاڑی کا شیشہ ٹوٹا دیکھ کر وہ سمجھ چکا تھا۔اچانک اس کی نظر نوٹ پر پڑی جو علی چھوڑ کر گیا تھا۔اس نے فورا ہی اس کو اٹھا لیا۔

تمہاری جان اب میرے قبضے میں ہے۔اور ہمیں ڈھونڈنے کی بیکار کوشش مت کرنا۔کیونکہ تم جب تک مجھے ڈھونڈو گے۔تب تک بہت دیر ہو جائے گی۔تمہارا رقیب علی کاظمی۔۔۔

علی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائم کی اواز پورے جنگل میں گونجی تھی۔