Sheh Rug by Aneeta NovelR50466 Shah Rung Episode 36
Rate this Novel
Shah Rung Episode 36
Shah Rung by Aneeta
اخر تمہارا مسئلہ کیا ہے تم خود کو کیا سمجھتے ہو۔صبح کے چھ بجے تھے۔اور مروہ سائم کے سرہانے کھڑی تھی۔اس نے ملٹی کلر میں شارٹ باڈی فراک پہنا ہوا تھا۔اس کی انکھیں الگ ہی جلوے بکھیر رہی تھی۔کھلے بالوں میں وہ قیامت لگ رہی تھی۔۔
سائم جو سویا ہوا تھا اس کی اواز سے اٹھا۔اس نے نم الود انکھوں سے اگے پیچھے دیکھا۔کہ یہ اس کا ہی کمرہ ہے۔پھر ایک دم سے اٹھا۔۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔سائم نے سائیڈ پہ پڑے موبائل کو اٹھایا اور ٹائم دیکھا۔وہ بھی اتنی صبح صبح مروہ۔۔۔۔۔ اس نے جمائی لیتے ہوئے پوچھا۔اس کی اواز بھی باری تھی۔۔۔
میری زندگی میں اب صبح اور شام رہی کہاں ہے۔سب کچھ تو تم نے برباد کر دیا۔میں ان سب سے بہت تنگ ا گئی ہوں ۔۔
اف تمہارے ڈائیلاگ۔۔۔ سائم نے اب پاؤں زمین پر رکھے۔اور سلیپر پہننے لگا۔مروہ اب تھوڑا دور ہٹی۔۔۔
لیکن صبح صبح تمہیں دیکھ لیا ہے۔اب اور کچھ نہیں دیکھنا چاہتا۔کاش میری ہر صبح ایسے ہی ہو جائے۔انکھ تمہاری سریلی اواز سے کھلے۔۔۔
سائم کھڑا ہی ہوا تھا کہ مروہ دو قدم پیچھے ہوئی۔
بس اتنی ہی ہمت ہے۔ابھی تو بہت بول رہی تھی۔سائم نے سائیڈ پہ پڑی گھڑی کو پہنا۔اور ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔
چلو میرے ساتھ۔سائم نے مروہ کو بازو سے پکڑ اور باہر کی طرف لے گیا۔۔۔
یہ تم کیا کر رہے ہو کہاں لے کے جا رہے ہو۔مروہ یہی جملے بار بار دہرا رہی تھی۔۔۔
سائم۔۔۔۔
سائم اسے ٹی وی لاؤنج میں لے کے ایا اور صوفے پہ بٹھایا۔کچھ دکھانا ہے تمہیں۔۔
مروہ کے ذہن میں عجیب وسوسے چل رہے تھے۔میں کیوں ائی صبح صبح یہاں اب اسے پچھتاوا ہو رہا تھا۔
مروہ حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔وہ اب سامنے لگی ایل سی ڈی کے پاس گیا۔اسے ان کرنے کے بعد وہ ریموٹ سے اسے کنٹرول کرنے لگا۔۔تھوڑی دیر کی مشقت کے بعد وہ ٹی وی کے اگے سے ہٹا۔۔۔
یہ دیکھو۔۔
اور ذرا انکھیں کھول کر دیکھنا۔۔۔۔۔
وہ اس کے اگے سے ہٹا۔۔۔
سائم نے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج ان کیے تھے۔اسی دن کی فوٹوچ جب مہروش اس کے گھر ائی تھی۔وہ کچن میں کھڑی سائم کی چائے میں کچھ ملا رہی تھی۔
مروہ نے نظریں نیچے جھکا لی۔وہ اچھی خاصی شرمندہ ہو چکی تھی۔
اب بولو۔۔۔۔
سائم چلتا چلتا اس کے پاس ایا۔۔اور اس کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھ گیا۔
اب کیا کہو گی۔
کچھ نہیں مروا اٹھنے لگی تو سائم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر پھر بٹھا دیا۔ایک تو تمہیں جانے کی جلدی ہوتی ہے۔
۔۔ بس کرو مروہ۔۔۔۔
میں بہت تھک گیا ہوں۔۔۔
اور اب تو سچائی تمہارے سامنے ہے۔مروہ نے ایک نظر پھر ایل سی ڈی کی طرف دیکھا۔اور پھر سائم کے ہاتھ کو۔۔۔۔۔
ائی لو یو سو مچ۔۔۔سائم نے اس کے ہاتھ پہ بوسا دیا۔تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا میں۔رہنا تو دور کی بات میں تو ایکٹنگ بھی نہیں کر سکتا۔تم بہت ضروری ہوتی جا رہی ہو۔وہ اب کھڑا ہو چکا تھا۔۔
اب خاموش نہ رہو۔اس خاموشی نے میری زندگی میں طوفان کھڑا کیا ہوا ہے ۔۔۔
تمہاری خاموشی بہت جان لیوا ہے۔۔
سائم ۔۔
مروہ کی انکھیں نم ہو چکی تھی۔
بولو سن رہا ہوں۔سائم اس کی انکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
کچھ نہیں۔۔۔۔
مجھے گھر جانا ہے۔اس نے اپنا رخ موڑا ہی تھا کہ سائم نےپھر سے اپنی طرف کیا۔
اپ اتنی صبح صبح ائی ہو تو تمہارے ہاتھ کا ناشتہ کیسے مس کر سکتا ہوں۔اتنا تو کر ہی سکتی ہو۔وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
میں فریش ہو کے اتا ہوں تم ناشتہ بناؤ۔
م۔۔۔میں۔۔۔
دیکھو یہ تو تمہیں کرنا ہی پڑے گا۔
م۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں تم۔فیوچر کے لیے پریکٹس ہو جائے گی تمہاری۔اب جلدی جاؤ مجھے بہت بھوک لگی ہے۔میں فریش ہو کے اتا ہوں۔یہ کہتے ہیں سائم کمرے کی طرف چلا گیا۔۔
میں کیسے ناشتہ بناؤں۔اور کیوں بناؤں۔ٹھیک ہے میں نے غلط سمجھا ۔اور باقی کی باتیں۔وہ پھر سے سوچ میں پڑ گئی۔
مروا نے پھر سے ایک نظر ایل سی ڈی پہ دہرائی۔تو اسے اپنے کہے گے الفاظوں پہ پھر سے شرمندگی ہوئی۔وہ قدم اٹھاتی کچن کی طرف گئی۔۔
مروہ اج بہت جلدی نہیں افس چلی گئی۔ریحان نے علیزے سے سوال کیا جو ناشتہ کر رہا تھا۔
ہاں پتہ نہیں بتا کہ نہیں گئی۔شاید کوئی کام ہو ضروری۔۔۔
دیکھو تم اس کی بہن ہو۔تھوڑی خبر رکھا کرو۔جوان لڑکی ہے سو حادثات ہو جاتے ہیں۔۔۔
میں کہہ تو دوں لیکن وہ برا منا دے گی۔اسی لیے میں کچھ کہتا نہیں۔لیکن وہ مجھے سگی بہنوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔وہ کھاتے ہوئے بولے جا رہا تھا۔اور علیزے بھی اس کی باتیں سن کر تھوڑا پریشان ہوئی۔۔
پراٹھا بنا دیتی ہوں۔
نہیں املیٹ اور بریڈ ٹھیک ہے۔
نہیں نہیں پراٹھا۔مروہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی۔
سائم نےابھی ابھی شاور لیا تھا وہ شیشے کے سامنے کھڑا اس نے پرفیوم لگائی اور پھر بلیک کلر کا ویسٹ کوٹ پہنا۔کالر کو فولڈ کیا۔اس کے سفید نکھرے چہرے پر بلیک وسیٹ کوٹ بہت سوٹ کر رہا تھا۔اس کی خوشی چہرے سے جھلک رہی تھی۔اس نے سامنے ڈرا کو کھولا اور اس میں سے ایک ڈبی اٹھا کر جیب میں ڈالی۔بلیک افس شوز پہننے کے بعد وہ باہر ایا۔۔
کچن میں داخل ہوتے ہی سائم نے گلا صاف کیا۔وہ شاید مروہ کو اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہتا تھا۔جو سلنڈر کے پاس کھڑی چائے بنا رہی تھی۔۔۔۔
مروہ نے ایک نظر دیکھا۔پھر اسے سر سے لے کے پاؤں تک گھوڑا۔وہ اس کی تیاری پر حیران تھی۔
تو کیا بن گیا ناشتہ۔ وہ قدم در قدم اس کے قریب ا رہا تھا۔
ہا۔۔۔ہاں۔۔۔اس کی اواز سے وہ چونکی اور اپنی نظریں دوسری طرف کی۔۔
یہ کیا ہے مروہ۔سائم نے حیرانگی سے ٹیبل کی طرف دیکھا۔اور پراٹھے کو ہاتھ میں اٹھایا۔۔
پراٹھا ہے یہ اور کیا ہے۔مروہ نے بھی حیرانگی کا مظاہرہ کیا۔اور اپنا رخ سائم کی طرف کیا۔۔۔
کیا میں مارننگ کا سٹارٹ اتنا ہیوی کرنے والا ہوں۔یہ بہت ائلی ہے۔سائم نے پراٹھے کا جائزہ لیتے ہوئے مروہ کو کہا۔
تو کیا تم نہیں کھاؤ گے۔۔۔مروہ نے منہ بناتے ہوئے پوچھا۔۔
ایسا ہو سکتا ہے۔اگر اج تم اس کی جگہ مجھے زہر بھی کھلاتی تو میں خوشی خوشی کھا لیتا۔وہ اب اس کے قریب ا چکا تھا۔.۔۔
تھینک یو سو مچ۔۔سائم نے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا۔اب تو سب کلیئر ہو گیا نا تمہارے دماغ میں۔اس نے ہاتھوں سے نظر اٹھا کے مروہ کو دیکھا۔۔۔
بولو میری جان۔۔
تمہاری خاموشی کسی دن میری جان لے لے گی۔
سائم۔۔۔مروا کچھ بولتے بولتے چپ ہو گئی۔مجھے سوچنے کا ٹائم چاہیے۔
اور اگر میں نہ دوں۔سائم کی انکھیں نم ہو چکی تھی۔اس نے اپنے پاکٹ سے ڈبی نکالی۔وہ وہی ڈائمنڈ رئنگ تھی جو وہ پہلے پہنا چکا تھا۔مروہ تم جانتی ہو۔اس دن میں تمہیں پھر سے پرپوز کرنے والا تھا۔پر پھر علی۔۔وہ بولتے بولتے چپ ہو۔اور ڈبی کو دیکھنے لگا۔کالے رنگ کی ڈبی میں ایک بہت ہی خوبصورت ڈائمنڈ رئنگ تھی۔۔۔
لیکن ابھی میں پچھلی باتوں کو دہرانا نہیں چاہتا۔میں اب کچھ بھی دہرانا نہیں چاہتا۔یہ رئنگ میں نے صرف تمہارے لیے لی تھی۔اور اسے پہننے کا حق بھی صرف تمہارا ہے۔سائم نے ایک ہاتھ سے انگوٹھی کو ڈبی سے نکالا۔اور ڈبی سائیڈ پہ رکھی اور مروا کو پہنا دی۔مروہ سب سن اور دیکھ رہی تھی۔سائم نے مروہ کو تھوڑا قریب کیا۔۔
نہ۔۔۔۔مروہ نے تھوڑا فاصلہ بنایا۔اسے سمجھ نہیں ا رہا تھا کہ کیا کرنا چاہیے۔وہ بری طرح سے پزل ہو چکی تھی۔
کیا ہے۔۔سائم نے اس کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
ناشتہ۔۔۔مروہ یک دم بولی۔
ناشتہ ٹھنڈا ہو جائے گا۔اس نے ٹیبل کی طرف اشارہ کیا۔سائم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے قدموں کا رخ بدلا اور ٹیبل کی طرف گیا۔۔مروا نے بھی چائے کپ میں ڈالی۔اور پھر سائم کو دی۔۔
اب بیٹھ جاؤ۔۔۔
سائم نےسامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔تو مروہ فورن سے بیٹھ گئی۔وہ تھوڑا پزل تھی۔۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی۔سا ئم نے ایک نوالہ اس کی طرف بڑھایا۔یہ اس نے پہلا نوالہ توڑا تھا۔کھاؤ۔۔مروہ نوالے اور اسے گھور رہی تھی۔۔کہ سائم کی اواز سے چونکی اور پھر اس کا ہاتھ پکڑا اور نوالہ منہ میں ڈالا۔۔۔۔
یہ بہت ٹیسٹی ہے میری جان۔سائم نے پہلا نوالہ کھاتے اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔تم اتنی ایکسپرٹ ہوگی میں نہیں جانتا تھا۔۔۔
ویسے پہلے بریک فاسٹ کون بناتا تھا۔مروانے حیرانگی سے پوچھا۔کیونکہ وہ جانتی تھی کہ سائم یہاں اکیلا رہتا ہے۔۔۔
سوری صاحب اج مجھے انے میں دیر ہو گئی۔اس سے پہلے کہ سائم کچھ بولتا۔ہیلپر کچن میں داخل ہوتے ہی بولی۔اور مروہ کو دیکھ کر تھوڑا حیران ہوئی۔۔۔
نہیں کوئی بات نہیں۔تمہاری فیوچر مالکن نے ابھی سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں وہ ہلکا سا مسکرایا اور مروا کی طرف دیکھنے۔اور ایک نوالہ توڑ کر پھر سے اس کے منہ میں ڈالا۔ ۔ہیلپر اپ باہر جا چکی تھی۔۔۔
اگر تمہارا دل کر رہا ہے میرے ہاتھوں سے کھانے کا تو بتا دو۔اسے پھر سے بیٹھے دیکھ کر سائم نے کہا۔اور ایک نوالہ توڑ کر اس کی طرف بڑھایا۔۔
نہ۔۔۔نہیں مروا جو گہری سوچ میں گم تھی۔اچانک سے باہر ائی۔مجھے بہت دیر ہو گئی ہے۔میں بتا کر نہیں ائی۔مجھے جانا پڑے گا۔وہ ابھی اٹھی ہی تھی کہ سائم نے اس کا ہاتھ پکڑا پھر سے بٹھایا۔ناشتے کے بغیر تو مٹ کہیں نہیں جانے دوں گا۔۔۔
میں کر چکی ہوں۔اس نے بیٹھتے ہوئے کہا۔پر سائم نے ایک نوالہ اس کی طرف بڑھایا۔جو اسے کھانا ہی پرا۔۔۔۔
میں ایک منٹ علیزے کو کال کر کے اتی ہوں۔مروہ نے اپنا موبائل اٹھایا اور باہر کی طرف گئی۔شاید وہ اس کی قربت سے بچنا چاہتی تھی۔۔
وہ ابھی گارڈن میں ائی ہی تھی۔کہ اسے مہروش اتی ہوئی نظر ائی۔جس کے ہاتھ میں ایک پھولوں کا بکا تھا۔اپنے پلان کے مطابق وہ سائم سے سوری کرنے ائی تھی مروا نے اسے دیکھتے ہی موبائل کو نیچے کیا۔مہروش بھی اسے دیکھ کر حیران ہوئی۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو۔مہروش نے غصے سے پوچھا۔۔۔
میں تمہارے کسی سوال کا جواب دینے کی پابند نہیں ہوں۔اور صبح صبح میرے منہ لگنے کی ضرورت نہیں ہے۔مروہ اس کی حقیقت جان چکی تھی۔اس نے دو قدم اگے بڑھائے وہ بالکل اب مہر وش کے مقابل کھڑی تھی۔۔۔
تم اسی دن مر جاتی تو اچھا تھا۔تم یہ جو سائم کے حواب دیکھ رہی ہو نا یہ کبھی بھی پورے نہیں ہوں گے۔تمہیں وہ ایکسیڈنٹ تو یاد ہوگا نا۔مہروش تھوڑا اس کی اور قریب ہوئی۔۔اس نے ہمیشہ کی طرح جینز پینٹ پہنی ہوئی تھی۔جو بالکل جسم کے ساتھ چپکی ہوئی تھی۔نیچے ہائی ہیلز تھے۔
مروہ نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا۔۔
وہ ایکسیڈنٹ تمہارا ارم انٹی نہیں کروایا تھا۔مروہ کی انکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی۔وہ تمہیں کبھی بھی سائم کے ساتھ برداشت نہیں کریں گی۔
وہ ابھی بول ہی رہی تھی کہ ہال کا دروازہ بہت زور سے کھلا۔سائم اس کی ساری باتیں سن چکا تھا۔اس نے اتے ہی مہروش کو بالوں سے پکڑا۔یہ تم کیا کہہ رہی ہو۔مہروش کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ سائم سن لے گا۔اب اسے جان کے لالے پڑ گئے تھے۔اس کے ہاتھوں سے پھولوں کا بکے نیچے گر چکا تھا۔۔
وہ۔۔۔م۔۔وہ بہت مشکل سے بول پائی۔میں اس متعلق کچھ بھی نہیں تھی جانتی۔مجھے تو انٹی ارم نے بعد میں بتایا تھا۔وہ کپکپاتے ہوئے لبوں کے ساتھ اسے بتا رہی تھی۔
مروہ کچھ کہے بغیر اندر کی طرف گئی اس کی انکھوں میں انسو تھے۔سائم نے اسے ایک زور کے جھٹکے میں چھوڑا۔اور پھر مروہ کے پیچھے گیا۔۔
مروہ۔۔۔کچن میں اتے ہی زار و قطار رونے لگی۔۔
میری جان۔۔۔۔سائم نے ایک ہاتھ سے اس کا منہ اوپر کیا۔اس کے آنسو صاف کیے۔۔
مروہ کو کچھ سمجھ نہیں ارہا تھا۔اس نے اپنا سر سائم کے سینے پہ رکھا۔۔سائم دنیا بھول چکا تھا۔۔
