266K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Rung Episode 2

Shah Rung by Aneeta

اُس نے یہ کہتے ہوئے پورے بیگ کو ٹیکسی پہ اُلٹ دیا اور بکھری چیزوں میں پیسے تلاش کرنے لگی۔۔۔۔

لیکن وہاں پیسے نہیں تھے۔ہوتے بھی کیسے۔۔۔۔۔

او میرے خدا یہ کہاں چلے گئے ۔۔۔

وہ بری طرح سے پزل ہو چکی تھی۔اب ٹیکسی والے سے ادھار کرنے سے تو رہی۔۔۔۔۔۔۔۔

واٹس ہیپن ٹو یو میم( what’s happened to you mam)۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹیکسی ڈرائیور نے باہر نکلتے ہوئے کہا۔اسے بھی اگلی سواری پکڑنی تھی۔۔۔۔۔۔۔

نتھنگ ایکچولی۔۔۔۔(nothing actually)۔۔۔۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی سائم نے ٹیکسی پہ لگے کیو ار کوڈ سے بل پے کر دیا۔اپنے موبائل اکاؤنٹ سے۔۔۔۔۔

اٹس دن (Its done)۔

سائم نے موبائل ٹیکسی ڈرائیور کو شو کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔

تھینک یو سر۔۔۔(thank you sir)

۔ٹیکسی ڈرائیور نے سائم کو شکریہ کا اشارہ کیا اور ٹیکسی میں بیٹھ گیا۔۔۔

مروہ نے جلدی سے اپنی چیزیں ٹیکسی سے اٹھائیں یہ اپ نے کیوں پے کر دیا۔مروہ تیزی سے بول رہی تھی۔۔۔۔

کیونکہ اسے دیر ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

کیونکہ اپ کے بیس ڈالر میرے پاس امانت تھے۔۔۔۔۔۔۔

سائم نے 20 ڈالر کا نوٹ مروا کو تھماتے ہوئے کہا یہ لے۔۔۔

لیکن سات ڈالر تو اپ نے پے کر دیا آپ مجھے باقی کے واپس کر دے۔وہ سمجھ چکی تھی کہ یہ پیسے وہ وہاں چھوڑ ائی تھی۔۔۔۔۔

نہیں ایسی کوئی بات نہیں یہ رقم اتنی بڑی نہیں کہ کے اپ کو واپس کرنی چاہیے۔۔۔

اپ کے لیے اتنا تو کر ہی سکتے ہیں۔۔۔

مروہ کو سائم کی یہ بات ہضم نہیں ہوئی تھی. اس سے پہلے بھی وہ اس کو تار رہا تھا۔جو اسے بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔۔۔۔۔۔

اس بات کا کیا مطلب ہے؟

اور اپ مجھ پہ اتنی مہربانیاں کس لیے کر رہے ہیں آپ جیسے امیر زادوں کو میں بہت اچھے سے جانتی ہوں یہ 20 ڈالر بھی اپ ہی رکھو۔ اس نے 20 ڈالر کا نوٹ سائم کی طرف پھینک دیا۔۔۔

انگریشن کے چکروں میں وہ کافی امیر زادوں سے دھوکہ کھا چکی تھی سیلری کے جکڑوں میں۔وہ جاب کرتی۔اور جب سیلری کی باری اتی تو یہ کہہ کے ٹال دیا جاتا کہ اپ کا سٹڈی پیریڈ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ پیسے اپ کے ہیں۔۔۔۔۔

اور میں کیوں رکھوں گا سائم نے نوٹ کو پکڑتے ہوئے کہا اور مجھے نہیں پتہ اپ کے دماغ میں کیا چل رہا ہے ۔لیکن میں صرف یہ امانت اپ تک پہنچانے ایا ہوں اور یہ رہی اپ کی سٹوڈنٹ ائی ڈی سائم نے دونوں چیزیں مروہ کو تھمائی۔۔۔

ٹیک کیئر۔۔۔۔

سائم سے کسی لڑکی نے ایسے بات نہیں کی تھی وہ ہمیشہ سے اپنے ارد گرد ہر لڑکی کا ائیڈیل رہا ہے۔ لیکن پھر بھی وہ کچھ کہے بغیر وہاں سے چلا گیا اسے بھی مروہ کی بات پسند نہیں ائی تھی۔۔۔

سائم کا تعلق ایک اپر کلاس فیملی سے تھا ۔اور اس کی پیدائش بھی کینیڈا کی تھی اس کے والد ہارون مردان کا نام ٹاپ بزنس مینز کی لسٹ میں آتا تھا وہ پاکستان ایک دو دفعہ ہی گیا تھا لیکن وہ اپنے دادا سے بہت محبت کرتا ہے اور اس کے دادا نے پوری کوشش کی تھی اسے پاکستان کے ریتی رواج میں ڈالنے کی اور وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہو گئے تھے۔۔۔

سائم مردان خود سے محبت کرنے والا انسان تھا۔۔۔

بزنس میں بھی اس کا اپنا ہی نام تھا وہ جس پروجیکٹ پہ کام کرتا اس کی ویلیو مارکیٹ میں زیادہ بڑھ جاتی۔ تھی کیونکہ سائم کی پرسنلٹی ہی ایسی تھی۔ان کی کمرشل کمپنی تھی۔۔

اور ان کے بزنس کی شاہیں کئی ملکوں میں پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔۔

یہ نوکری بھی اس کی وجہ سے ہاتھ سے چلی گئی۔

وہ بلڈنگ سے باہر نکلتے ہوئے بڑبڑا رہی تھی اتنے میں اس کے فون کی بیل بجی مروا نے فون سننے کے لیے روڈ پہ پڑے بینچ پر جا کے بیٹھ گئی اور بیگ سے فون نکال کرکان کے ساتھ لگایا۔۔۔۔

ہاں سائرہ بولو۔۔۔۔

کیا ہوا جاب کا یہی پوچھنے کے لیے کال کی ہے سائرہ جو دوسری طرف کام میں مصروف تھی وہ ایک ریسٹورنٹ میں جاب کرتی تھی نے ایک ہی سانس میں پوچھا۔۔۔

کیا ہونا ہے ۔۔۔

وہی جو روز ہوتا ہے۔۔۔

مروہ ایک سپیڈ میں بولی چلی جا رہی تھی۔اس کے اگے پیچھے بڑی بڑی بیلڈنگز تھی۔اور روڈ پہ اتی جاتی گاڑیاں۔۔۔۔

اچھا کسٹمر اگیا ہے میں بعد میں بات کرتی ہوں سائرہ نے پیچھے سے اواز سنتے ہوئے کہا اور فون بند کر دیا۔۔۔

________

سائم نے گھر میں داخل ہوتے ہی سیدھا اپنے روم میں جانا چاہا۔وہ مروہ کی باتوں سے اچھا حاصہ ڈسٹرب ہو چکا تھا۔۔۔۔۔

میرا بیٹا تو اتنا مصروف ہو گیا ہے کہ اپنی ماما کے لیے ایک منٹ بھی نہیں نکال سکتا ارم نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔

وہ جو سیڑھیوں سے اوپر جا رہا تھا۔ابھی اس نے قدم ہی رکھا تھا کہ واپس اگیا۔۔

اتنی سویٹ اور ینگ موم کے لیے کیسے کوئی ٹائم نہیں نکال سکتا سائم اچھے سے جانتا تھا کہ اسے اپنی ماما کا موڈ کیسے ٹھیک کرنا ہے سائم نے ارم کو سر پہ بوسہ دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

تمہیں پتہ ہے نہ کل مہرو ش ا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔

تو کل کے دن کے لیے افس کو نہ کر دو ارم نے سائم کے ہاتھوں پہ تھپکی دی۔سائم ان کے مقابل ا کے بیٹھ گیا۔۔۔۔

موم یہ بات میں اپ کو کئی دفعہ کہہ چکا ہوں مجھے اس میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے۔۔۔۔

جب تمہیں کوئی لڑکی بھی پسند نہیں ہے۔۔۔۔۔

تو پھر اس میں کیا مسئلہ ہے۔۔۔۔

وہ کل صبح کی فلائٹ سے ا رہی ہے میں اب کچھ نہ سنو ارم نے سخت لہجے میں سائم کو سمجھاتے ہوئے کہا۔۔۔

اور تم دونوں میں تو اتنی اچھی انڈرسٹینڈنگ ہے تو پھر کیا مسئلہ ہے۔۔

سائم کچھ کہے بغیر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا وہ شاید اس ٹاپک پہ بات ہی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔

اس کے دل و دماغ میں بس مروہ چل رہی تھی اور وہ پہلی لڑکی تھی جس کے لیے وہ اتنا بے چین ہوا تھا۔۔

رات کا سناٹا ہر طرف چھایا ہوا تھا مروہ گود میں لیپ ٹاپ رکھے کھڑکی کے پاس بیٹھی تھی کچھ دیر پہلے کی بارش سے ہر چیز بھیگی ہوئی تھی لیپ ٹاپ کی روشنی اس کے چہرے کو چمکا رہی تھی۔اس کے ہاتھ لیپ ٹاپ کی بورڈ پہ مسلسل چل رہے تھے۔۔

اگر اللہ کے بعد انسان کو کوئی بہت اچھے سے جانتا ہے تو وہ انسان خود ہوتا ہے ہم کسی انسان کہ کتنے بھی قریب ہو جائیں لیکن ہم اس انسان کو نہیں جان سکتے اتنا نہیں جان سکتے جتنا وہ انسان خود کو جانتا ہے ۔وہ مسلسل لکھنے میں مصروف تھی۔۔۔

اس کو ڈائری لکھنے کا شوق تھا۔ اسی لیے وہ روز کچھ نہ کچھ لکھتی رہتی تھی۔۔۔۔۔

شاید وہ جانتا نہیں ہے وہ کس سے بات کر رہا ہے۔اسے بولو دوسری طرف اس کا باپ ہے۔سائم مردان اس نے موبائل کو دیوار کے ساتھ مارا اور ٹیبل کو زور سے ہٹ کیا۔سائم کا غصہ بہت بے قابو تھا۔

کیامروہ کا فون نہیں ایا اج۔ امجد میاں پانی کا گلاس ہاتھ میں پکڑے بیڈ پہ بیٹھے ہوئے تھے ۔ان کی انکھوں سے بڑھاپا جھلکتا تھا۔وہ کمزور جسم کے مالک تھے۔علیزے پاس ہی بیٹھی ہوئے تھی۔ان کا گھر تھوڑا پرانا سا تھا۔چھوٹا تھا پر دونوں بہنوں نے پھولوں اور پودوں سے سجا رکھا تھا۔۔۔

صبح میری اس سے بات ہوئی تھی وہ ٹھیک ہے اپ اس کی فکر مت کیا کریں دادا جان اور کہہ رہی تھی اج نوکری مل جائے گی۔۔۔

____________

یار ایک تو اس لڑکے نے تمہارے پیسے واپس کر دیے۔۔۔۔

اوپر سے تمہارا ٹیکسی کا کرایا بھی دیا۔۔۔

تمہیں اسے شکریہ کرنا چاہیے تھا نہ کہ ایسے بولنا چاہیے سائرہ جو ہاتھ میں کپ لیے بیٹھی تھی مروہ کی داستان سننے کے بعد بولی۔ وہ دونوں ایک ہی صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔

تم ایسے لوگوں کو ابھی جانتی نہیں۔۔۔۔۔

ان امیر لوگوں کا یہی مسئلہ ہوتا ہے بس ہر ایک کے منہ سے اپنی واہ واہ سننا چاہتے ۔ ہر لڑکی کو اپنے اگے پیچھے گھومتا دیکھنا چاہتے ہیں وہ ابھی تک ہاتھ میں لیپ ٹاپ لیے بیٹھی ہوئی تھی۔۔

کس بات پہ بحث شروع ہے عثمان نے کمرے میں داخل ہوتے ہی مروہ اور سائرہ کو مخاطب کیا۔۔۔۔۔۔

بس اسی کی کمی رہ گئی تھی مروہ نے عثمان کو دیکھتے ہی کہا۔۔

عثمان کا تعلق بھی پاکستان سے ہے مروہ عثمان اور سائرہ کی دوستی بہت اچھی ہے لیکن عثمان کے بہت زیادہ بولنے سے مروہ کو ہمیشہ سے مسئلہ رہا ہے۔۔۔۔

سردی کی وجہ سے عثمان نے اپنے اپ کو پورا کور کیا ہوا تھا عثمان کی پرسنلٹی بھی کسی سے کم نہیں تھی ۔اس کا رنگ ہلکا براؤن تھا۔قد بھی نارمل ہی تھا۔بالوں کا اس نے عجیب و غریب سٹائل بنایا ہوا تھا۔۔۔

وہ ہر وقت لوگوں کو ہنستا ہنساتا رہتا تھا۔۔۔۔

سائرہ تم دیکھ لو اسے عثمان نے ایک نظر سائرہ کو دیکھا تم نے لگتا ہے اسے بتایا نہیں اج میں کیوں ایا ہوں۔۔۔

بتانے کی کیا ضرورت ہے مجھے پہلے ہی پتہ ہے تم یہاں بس دماغ کھانے ائے ہو۔۔۔۔

مروہ جانی یہ تمہاری جاب کا بندوبست کر کے ا رہا ہے سائرہ نے مروہ کا لیپ ٹاپ بند کیا۔اور اس کے ساتھ ہی چپک کر بیٹھ گئی۔شاید وہ اس کا رد عمل دیکھنا چاہتی تھی۔۔

کیا سچ میں ۔۔۔

وہ زور سے چلائی۔۔

اس نے مڑ کر سائرہ کو دیکھا۔۔۔۔۔

کہاں پہ اور کیسے ۔۔۔۔

وہ عثمان اور سائرہ دونوں کو برابر دیکھ رہی تھی۔اس نے لیپ ٹاپ کو سائیڈ پہ کر دیا تھا۔۔

میں جس فیری میں کام کرتا ہوں وہیں ایک کیشیر کی ضرورت تھی۔۔۔

اور بولنا مت یہ جاب تمہیں میری ریفرنس سے مل رہی ہے عثمان نے خود کو سرہاتے ہوئے کہا ۔جو ٹیبل کی نکر پر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔

فیری سمندری جہاز جیسی ہوتی ہے جسے واٹر بورڈ بھی کہا جاتا ہے اور کینیڈا میں زیادہ تر لوگ فیری کے ذریعے سفر کرتے ہیں اور فیری میں تقریبا ہر قسم کی سہولت موجود ہوتی ہے شاپ ریسٹورنٹ کیفٹ ایریا۔۔۔

ہاں ہاں نہیں بھولوں گی اگر زندگی میں کوئی ایک اچھا کام کر دیا مروہ نے عثمان کو دیکھتے ہوئے کہا لیکن پتہ نہیں وہاں تمہیں کیسے برداشت کروں گی۔۔۔۔۔

صحیح کہتے ہیں کسی احسان فراموش پہ احسان نہیں کرنا چاہیے اب اسی خوشی میں منہ میٹھا کروا دو عثمان اب اٹھ کر سامنے پڑے صوفے پہ بیٹھا تھا۔جو چھوٹا تھا۔۔۔

کروا دوں گی پہلے جاب کا تو بتاؤ وہ عثمان کے سامنے ا کے بیٹھ گئی تھی جاؤ سائرہ چائے بنا لو یہ کہتے ہوئے اس نے پھر سے عثمان کو دیکھا وہ جواب کی منتظر تھی۔۔

کیشیر کی سیٹ ہیں۔۔۔۔

اور 2500 ڈالر سیلری پیکج ہے۔۔

فلحال کے لیے کافی ہے مروہ ۔

سائرہ جو سامنے کچن میں چائے بنانے میں مصروف تھی بولی۔۔

اور ایسی جگہوں پہ ٹپس بھی بہت ملتی ہیں ہے نا عثمان۔۔

ہاں ٹھیک ہے میں نے کب اعتراض کیا۔۔۔۔۔۔

مروہ اب دوبارہ اپنی پرانی جگہ پر بیٹھ گئی تھی۔

صبح سے ہی جوائن کرنا ہے۔۔

اور صبح تھوڑی جلدی ا جا نا ۔۔۔

سائرہ تم بھی وہیں کیوں نہیں جوائن کرتی۔۔

ہاں تمہارا دل لگا رہتا مروہ نے طنز کرتے ہوئے کہا۔۔ مروہ جانتی تھی کہ عثمان سائرہ کو پسند کرتا تھا۔۔

لگتا ہے تمہیں یہ جاب ہضم نہیں ہو رہی عثمان نے مروہ کو انکھ کے اشارے سے چپ رہنے کو کہا۔۔

_____________

اگر اس پروڈکٹس کو ہم اور ممالک میں بھی انٹروڈیوس کروائیں گے تو ہمیں کافی پرافٹ ہو سکتا ہے کینڈا میں اس کی ویلیو دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔۔ وشل نے فائل کو سائم کے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔

وہ نیو پروڈکٹس کو اپنی کمپنی کا ٹیگ دے کر مارکیٹ میں لاتے تھے۔۔۔۔۔۔

وشل سائم کی سیکٹری تھی۔وہ بلیک پینٹ کوٹ پہنے اس کے سامنے کھڑی تھی۔۔

یہ اپ فائل ایک دفعہ چیک کر لیں ۔۔۔۔

اس کا دھیان ابھی بھی مسلسل مروہ میں تھا اور اسے خود سمجھ نہیں ارہی تھی کہ یہ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔۔

سر یہ فائل چیک کر لیں وشل نے ایک دفعہ پھر سائم کو مخاطب کیا جو گہری سوچ میں گم ہاتھ میں پکڑے بال پوائنٹ کوگھمائی جا رہا تھا۔۔۔

ہاں کیا کہا سائم کا دھیان وشل کی کسی بات میں نہیں تھا۔۔

وہ یہ فائل اپرووڈ کرنی تھی وشل سائم کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔

کیونکہ اس سے پہلے سائم نے ایسا کبھی نہیں کیا تھا۔وہ اپنے کام کو لے کے ہمیشہ سنجیدہ رہتا تھا۔وہ کام کو ایک سائیڈ پر جبکہ باقی دوسری چیزوں کو دوسری سائیڈ پہ رکھتا تھا۔اس نے کام کے بارے میں کبھی لاپرواہی نہیں کی۔

یہ ہم کل کرتے ہیں اج ویسے بھی ٹائم بہت ہو گیا ہے یہ کہتے ہوئے سائم باہر کی طرف چلا گیا۔۔

تقریبا رات ہو گئی تھی۔۔۔۔

ڈیڈ اپ اگئے۔۔۔۔۔

ہارون نے جیسے ہی سائم کے کمرے کا دروازہ کھولا۔سائم نے انہیں دیکھتے ہی کہا۔۔۔

ہاں میں تو اگیا ہوں۔تم بتاؤ اج کے پروجیکٹ کا کیا ہوا۔۔۔

کچھ نہیں ڈیڈ اج ٹائم بہت زیادہ ہو گیا تھا۔کل فائنل ٹچ دے کر اسے اناؤنس کر دیں گے۔۔۔

وہ سامنے بیڈ پہ بیٹھا تھا۔اس کے ہاتھ میں ایک پرانی سے ڈائری تھی۔جسے وہ اکثر پڑھتا تھا۔یہ ڈائری اسے کینیڈا کے ایئرپورٹ سے ملی تھی۔اس پہ کسی کا نام نہیں لکھا تھا۔وہ اکثر کام سے فارغ ہو کر اسے پڑھتا تھا۔۔۔۔

تھوڑی دیر میں ہارون باہر گئے تو اس نے پھر سے ڈائری پڑھنا شروع کی۔۔۔۔۔۔۔

_____________

صبح کے پانچ بج چکے تھے صبح کی روشنی اور رات کا اندھیرا مل کر رقص کر رہے تھے رات کے اندھیرے میں روشنی دھیرے دھیرے اپنے قدم رکھ رہی تھی۔۔

میرے مولا میں تیرا جتنا شکر ادا کروں کم ہے مروہ ہاتھ اٹھائے جائے نماز پر بیٹھی دعا کر رہی تھی تو جانتا ہے میں یہاں کتنی مشکلوں سے پہنچی میں نے بہت محنت کی اور میں کوئی شکایت نہیں کر رہی اپ سے بس مجھے اس قابل بنا دے کہ اپنے ساتھ جڑے رشتوں کے لیے خوشی کا باعث بن سکوں مروہ نے دعا مکمل کرتے ہوئے ایک سجدہ کیا۔۔۔۔

ہر انسان کا اللہ سے بہت گہرا تعلق ہوتا ہے اور یہ تعلق ایک ایسا واحد تعلق ہوتا ہے جس کے لیے ہمیں صفائیاں نہیں دینی پڑتی اور نہ ہی وفا کے بدلے وفا کی شرط ہوتی ہے ہم کھڑے رہیں یا نہ رہیں وہ ہمیشہ کھڑا رہتا ہے اور بندے کو سنتا رہتا ہے۔۔۔

__________

سائم بیٹا اج کی میٹنگ تم دیکھ لینا میں تھوڑی دیر سے افس اؤں گا ہارون نے سائم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جو کہ کھانے کی ٹیبل پر بالکل ان کے سامنے بیٹھا تھا۔…

ٹھیک ہے لیکن اس سے پہلے مجھے نوروز کے ساتھ جانا ہے نیو برانچ کے لیے جگہ دیکھنی ہے سائم نے گلاس میں جوس ڈالتے ہوئے کہا ۔۔

ہاف میں جوائن کرتا ہوں۔۔سائم نے ویسٹ پہنا ہوا تھا۔اور بہت فرصت سے تیار ہوا تھا۔۔۔۔

بیٹا میں نے کل تمہیں کہا تھا کہ کل کے دن کچھ بھی نہیں کرنا اتنے میں ارم بولی ۔۔۔۔

تمہیں مہروش کو لینے جانا ہے۔۔۔

میری پیاری موم میں نے فیری کی سیٹس بک کر لی ہیں ۔۔

ویکٹوریا میں ایک ضروری کام ہے اور ویسے بھی اس نے ادھر ہی انا ہے نا تو ملاقات ہو جائے گی سائم یہ کہتے ہوئے اپنے روم کی طرف چلا گیا۔۔۔

سائم اج اسی فیری میں سفر کرنے والا تھا جہاں مروہ کو جاب ملی تھی۔۔۔

اج اس کا پہلا دن تھا وہ سات بجے ہی ریڈی ہو چکی تھی۔

میں نے سینڈوچ بنا دیے ہیں تم اٹھ کر کھا لینا مروہ شیشے کے سامنے کھڑی اپنے کوٹ کو دیکھ رہی تھی اس نے ملٹی کلر کا ٹاپ اور جینز پہنی تھی۔۔۔۔

سرخ رنگ کی بوبل کیپ سر پر پہنی تھی جو اسے بہت سوٹ کر رہی تھی جسے ہم گرم ٹوپی کہتے ہیں۔۔۔

تمہارا اج پہلا دن ہے میرا نہیں میری نیند کیوں خراب کر رہی ہو لائٹ بند کر دو سائرہ نے یہ کہتے ہوئے کروٹ بدلی۔

بس جا رہی ہوں۔۔۔۔

سوتی رہو تم۔۔۔

مروہ اج خوش تھی کہ اسے جاب مل گئی۔۔۔۔

_______

ہاں بس ادھے گھنٹے تک پہنچ جاؤں گا۔ یہ کہتے ہوئے سائم نے فون کو ایک طرف رکھا اور ڈریسنگ سے سفید کلر کی جیکٹ نکالی اور اسے پہننے لگا۔۔

میں کب سے یہاں کھڑی تمہارا ویٹ کر رہی ہوں۔ مروہ فون کان کے ساتھ لگائے فیری کے پارکنگ ایریا میں گھوم رہی تھی اب جلدی سے ا جاؤ۔..

BC فیری کا سسٹم سیم ایئرپورٹ کی طرح تھا کیونکہ یہ

ایک بہت بڑی فیری تھی ۔

تھوڑی ہی دیر میں اس نے کام سٹارٹ کر دیا تھا۔۔۔

یہ پروجیکٹ تم انکل کو ہینڈل کرنے دیتے سائم اور نو روز فیری کے کیفٹ ایریا میں بیٹھے اپس میں باتیں کر رہے تھے۔

تم بات مجھ سے کر رہے ہو یا ان سے سائم نے ایک نظر نوروز کو دیکھا جو سامنے بیٹھی لڑکیوں کو تار رہا تھا۔ میں ایسا کرتا ہوں درمیان سے ہٹ جاتا ہوں تاکہ تمہارے سگنل کہیں سلو نہ پڑ جائے یہ کہتے ہوئے سائم نے خود کو تھوڑا پیچھے کیا۔۔۔۔

یار میں کہاں دیکھ رہا ہوں دیکھو وہی دیکھے جا رہی ہیں۔

نو روز کی پرسنلٹی ایسی ہی تھی۔وہ دیکھنے میں تھوڑا سمارٹ سا تھا۔لیکن اس کی پرسنلٹی کافی چارمنگ تھی۔۔۔۔

مجھے نہیں لگتا کہ ان کے اتنے برے دن ائے ہیں کہ وہ تمہیں دیکھنے میں اپنا وقت برباد کریں سائم نے سامنے بیٹھی لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے کہا جو مسلسل سائم کو لفٹ دے رہی تھی۔

نو روز کینیڈا کا رہائشی تھا اور سائم کا بیسٹ فرینڈ تھا سائم اپنے دل کی ہر بات نو روز سے شیئر کرتا تھا دونوں کی دوستی بہت پرانی تھی۔۔

چلو اؤ کچھ شاپنگ کر لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

ویسے بھی ابھی ادھا گھنٹہ ہے وکٹوریا میں پہنچنے کے لیے نو روز نے سامنے والی شاپ کی طرف اشارہ کیا۔جو زیادہ دور نہیں تھی۔۔۔۔

ہاں چلو چلتے ہیں یہ کہتے ہوئے سائم اپنی کرسی سے اٹھا ۔اس نے اپنی کافی وہیں پہ رکھ دی تھی۔۔۔۔

دونوں شاپ میں پہنچ چکے تھے سائم شرٹس چیک کر رہا تھا کہ اتنے میں مروہ کی نظر سائم پر پڑ ی اس سے پہلے کہ سائم اسے دیکھتا اس نے نیوز پیپر اپنے منہ کے اگے رکھ لیا۔شاید وہ نروس ہو گئی تھی۔۔۔۔

سائم کو ایک شرٹ پسند اگئی جس کو پیک کروانے کے بعد وہ کاؤنٹر پہ پہنچا لیکن مروہ نیوز پیپر منہ کے اگے رکھے اس سے اپنا چہرہ چھپا رہی تھی۔۔۔

شاید وہ اسے شو نہیں کروانا چاہتی تھی کہ وہ یہاں جاب کرتی ہے۔۔۔۔۔

بل اٹ( Bill it)

سائم نے کارڈ اگے بڑھایا۔پر مروہ میں کوئی ہلچل نہیں ہوئی۔۔۔۔۔۔

سائم نے دو تین دفعہ یہ بات کہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

جب اگے سے کوئی ریپلائی نہیں ایا سائم نے پھر سے وہی الفاظ دہرائے۔۔۔۔۔

ہیلو مس بل اٹ پلیز۔۔۔۔۔

سائم نے جب دو تین دفعہ یہ بات دہرائی تو عثمان جلدی سے کاؤنٹر پر اگیا۔۔۔

مروہ یہ تم کیا کر رہی ہو اج تمہارا پہلا دن ہے اور تم خبریں پڑھنے میں مصروف ہو گئی ۔۔۔۔

عثمان کے منہ سے مروہ کا نام سنتے ہی سائم چونک گیا۔۔۔

مروہ کے پاس کوئی اپشن نہیں تھا ۔ اس نے فورا سے نیوز پیپر نیچے رکھا اور سائم کے ہاتھ سے شاپنگ بیگ پکڑا ۔۔۔

ہاں عثمان مجھے نیوز پیپر پڑھنے کا بہت شوق ہے کیا تم نہیں جانتے۔اس نے ساتھ ہی عثمان کو جواب دیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادھر کرے۔۔

سوری سر عثمان نے سائم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تمہیں میں بعد میں دیکھتا ہوں یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔۔

مروہ نے سائم کو مسلسل اگنور کرتے ہوئے کیو ار سکین کرنے لگی۔جیسے وہ سائم کو جانتی ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔