266K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Rung Episode 14

Shah Rung by Aneeta

تمہیں لگتا ہے میں تمہاری کسی بھی بات کا یقین کر لوں گا۔سائم نے فائل کو دوبارہ سے ٹیبل پر رکھا۔اور اپنی چیر سے اٹھ گیا…..

نہیں یقین تو جا کے اپنی چہیتی سے پوچھ لو۔وہ تمہیں سارا سچ بتا دے گی۔میں نے کہا چپ رہو۔سائم اس کی بات پہ یقین نہیں کرنا چاہتا تھا۔

تو مروہ سے پوچھ لو اس نے انکار کیا تو میں جھوٹی۔

یہ بات سننے کے بعد سائم نے فائل کو ٹیبل سے اٹھایا۔اور باہر کی طرف چلا گیا۔

اصل گیم تو اب شروع ہوگی۔۔۔

اجے کہکا لگاتے اس کے پیچھے نکل گئی۔۔۔

_____

تھینک یو سو مچ سر۔مروہ نے بیگ کسٹمر کو دیا۔جس کا اس نے بل کیا تھا۔اس نے بیگ سے اپنا موبائل نکالا۔اور سائم کی چیٹ اوپن کی وہ ٹائپ ہی کر رہی تھی کہ سائم اس کے سامنے کھڑا تھا۔جسے دیکھتے ہی مروہ نے سمائل کی۔

میں تمہیں ہی مس کر رہی تھی۔ مروہ نے ہنستے ہوئے سائم کو دیکھا۔

ائی مس یو ٹو۔۔۔۔اس نے مروہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔

سائم کو ابھی بھی اجے کی باتوں پہ یقین نہیں تھا۔کیا ہم تھوڑی دیر باہر چل کے بات کریں۔وہ یہاں بہت غصے سے ایا تھا۔پر مروہ کو دیکھنے کے بعد اس کا غصہ غائب ہو گیا تھا۔۔

ہاں کیا ہوا۔اب وہ دونوں فیری کے روف پر کھڑے تھے۔۔

کیا تم اجے کو جانتی ہو مروہ سائم نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔اور وہ مسلسل دیکھ رہا تھا۔

یہ سنتے ہی مروہ کا چہرہ پیلا پڑ گیا تھا۔

ہاں ۔۔۔نہیں۔

وہ نظریں سائم سے چوڑا رہی تھی ۔جسے دیکھنے کے بعد سائم اور پریشان ہوا۔

یہاں دیکھو مروہ۔اس نے ہاتھ اس کی تہوڑی کے نیچے رکھا۔اور اپنی طرف مخاطب کیا۔۔

میں تمہیں بتانے ہی والی تھی۔یہ کہتے مروہ چپ ہو گئی۔

کیا بتانے والی تھی۔۔سائم کا غصہ پھر سے نمایاں ہو رہا تھا۔وہ سوالیہ نظروں سے مروہ کو دیکھ رہا تھا۔جو اب مسلسل چپ تھی۔

میں کچھ پوچھ رہا ہوں۔اس کی اواز بہت اونچی تھی۔جسے سنتے مروہ ڈر گئی۔۔

کیا تم نے اجے کے کہنے پہ یہ سب کیا۔کیا تم نے اس سے پیسے لیے تھے۔وہ الفاظ کو جوڑ نہیں پا رہا تھا۔اسے اپنی دنیا اجڑتے ہوئے نظر ارہی تھی۔۔

میں کچھ پوچھ رہا ہوں مروہ۔سائم نے اسے بازوں کی کہنیوں سے پکڑا تھا۔اور تھوڑا اپنے قریب کیا تھا۔

کیا تم نے یہ سب کیا۔مجھے بس ہاں یا نہ میں جواب دو۔

ہاں لیکن۔۔مروہ کی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔

کیا مطلب ہے تمہاری اس بات کا۔سائم نے اسے تھوڑا اور قریب کیا۔سائم کی انکھوں میں خون اتر ایا تھا۔وہ غصے سے سرخ ہو گئی تھی۔اس کے ماتھے پہ پریشانی کے گہرے بل تھے۔۔

کیا تم نے یہ سب پیسے کے لیے کیا۔مروہ بس ہاں یا نہ۔سائم نے تھوڑا اسے اوپر کیا۔اور اس کی انکھوں میں دیکھنے لگا۔

تم میری پوری بات تو سنو۔مروہ مسلسل کانپ رہی تھی۔اسے سائم کے غصے سے ڈر لگ رہا تھا۔

بس ہاں یا نہ۔۔اس نے ایک دفعہ پھر مروہ کو جنجوڑا۔۔۔۔۔

ہاں ۔۔۔۔لیکن

مروہ کے الفاظ ابھی ادھے منہ میں ہی تھے۔کہ سائم نے اسے زور سے پیچھے گرایا تھا۔اس نے اپنا ہاتھ سامنے پڑے ٹیبل پر زور سے مارا۔کیونکہ وہ شاید مروہ پہ غصہ نہیں کر سکتا تھا۔۔۔

میری بات تو سنو۔مروہ نے اگلے ہی لمحے خود کو سنبھالا اور سائم کے قریب ائی۔۔۔

میری نظروں سے دور ہٹ جاؤ۔۔میں کچھ کر بیٹھوں گا ۔اس نے ایک دفعہ پھر اسے پیچھے ہٹایا۔

تم نے پیسوں کی خاطر۔۔سائم کہتے کہتے چپ ہو گیا تھا۔جیسے وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔

کیسے کر سکتی ہو تم یہ۔۔۔۔اس نے ایک دفعہ پھر مروہ کو قریب کیا۔مروہ اب بری طرح کانپ رہی تھی۔کیونکہ اس نے اس سے پہلے اسے اتنے غصے میں نہیں دیکھا تھا۔

کچھ بولو گی اب۔اس نے اسے بازوؤں کی کہنیوں سے بہت زور سے پکڑا ہوا تھا مروہ کے دونوں ہاتھ سائم کے سینے پر تھے۔۔

میری بات تو سنو۔۔۔مروہ کی انکھ میں انسو تھے۔۔

کیا سنو میں کیا تم نے اجے سے پیسے نہیں لیے تھے۔۔۔

ہاں لیکن۔۔۔اس بار بھی سائم نے اسے بات مکمل نہیں کرنے دی۔

دل تو کرا ہے تمہاری جان ابھی لے لوں۔سائم نے ایک دفعہ پھر اسے پیچھے گرایا۔مروہ ایک ٹیبل پر جا کے گری تھی۔

کیوں کیا تم نے ایسا۔۔اگلے ہی لمحے سائم نے اسے پھر سے بازو سے پکڑا۔

جو کچھ بھی ہو رہا تھا مروہ کی سمجھ سے باہر تھا۔وہ خود کو سنبھال نہیں پا رہی تھی۔

ان جھوٹے انسوں پہ اب کوئی یقین نہیں رہا۔اس ڈرامے کو یہیں ختم کر دو۔اس نے اس کا دایاں ہاتھ پکڑا۔اور زور سے اس میں سے انگوٹھی اتار لی۔اس نے اس شدت سے اتاری تھی۔کہ مروہ کی انگلی پر نشان پڑ گیا۔۔

ائندہ مجھے اپنی شکل مت دکھانا۔۔

اگر اج مروہ کی جگہ کوئی اور ہوتا۔تو شاید ابھی تک اوپر ہوتا۔

مروہ مسلسل روئے جا رہے تھی۔

سائم نے ایک نظر اسے دیکھا۔اور پھر زور سے پاؤں کو سامنے والے ٹیبل پہ مارا۔اور وہاں سے چلا گیا۔۔

دیکھیں سائم بھی اگیا۔ارم اور ہارون جو پہلے سے ہی باتیں کر رہے تھے۔ارم نے سائم کو دیکھتے ہی کہا۔

سائم بیٹا یہاں اؤ۔۔یہ اواز ہارون کی تھی۔اگر ارم کی ہوتی تو یقینا سائم نہ سنتا۔

جی ڈیڈ۔۔۔۔سائم نے سر نیچے جھکایا ہوا تھا۔

تمہاری موم راضی ہو گئی ہے۔اب بتاؤ کب رکھیں انگیجمنٹ۔ہارون کے چہرے پہ خوشی تھی۔ارم بھی اچھی خاصی ایکٹنگ کر رہی تھی۔سائم نے ایک نظر دونوں کو دیکھا۔

میرا اس لڑکی سے اب کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ سن کر ہارون تو پریشان ہوا پر ارم کو ساری بات سمجھ ا چکی تھی۔

کیوں بیٹا کیا ہوا کیا تم دونوں میں جھگڑا ہوا ہے۔ارم نے ہاتھ سائم کے کندھے پہ رکھا اور وہ بہت اچھے سے ایکٹنگ کر رہی تھی۔

سائم کچھ کہے بغیر اپنے کمرے میں چلا گیا۔دروازے پہ کھڑی مہروش بھی ساری باتیں سن رہی تھی ۔اس کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی۔وہ اپنے ایک ہاتھ سے بالوں کی لٹ پکڑے ہوئی تھی ۔۔۔

تم نے میری ایک بات بھی نہیں سنی۔مروہ بالکنی میں بیٹھی اپنے ہاتھ کی انگلی کو دیکھ رہے تھی۔جس میں سائم نے انگوٹھی پہنائی تھی۔اس کی انکھ میں انسو تھے۔جو بوند بوند اس کی کلائی پر گر رہے تھے۔

کیا یہی محبت ہے تمہاری۔

کیوں کیا تم نے ایسا تم ایک واحد لڑکی تھی جس نے میرے دل میں گھر کیا تھا۔سائم کے ہاتھ میں مروہ کی تصویر تھی جس سے اگلے ہی لمحے اس نے دو ٹکڑے کر دیا تھا۔اس نے ٹیبل پہ پڑے جگ کو زور سے زمین پر مارا تھا۔

۔ایک یہی طریقہ ہے اسے راستے سے ہٹانے کا۔اج نہیں تو کل سائم کو حقیقت کا پتہ چل جائے گا۔لیکن اس سے پہلے ہم مروہ کو اس سے بہت دور کر دیں گے۔مہروش ارم کے بالکل پاس بیٹھی تھی اور اسے ایک بھی بات سمجھ نہیں ارہی تھی۔

دن یوں ہی گزرتے گئے۔سائم مروہ کو بلانے کی کوشش کر رہا تھا۔جس میں شاید وہ کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔دوسری طرف مروہ مسلسل اس کی یاد میں تڑپ رہی تھی۔اج وہ ہمت کر کے اس کے افس میں ائی تھی۔

کیا میں اندر ا جاؤں۔۔مروہ دروازے کے پاس کھڑی تھی ۔

سائم نے اسے دیکھا کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔

مجھے بس بات کرنی ہے۔۔مروہ دھیمے لہجے میں بول رہی تھی۔شاید اسے اس کے غصے سے ڈر لگنے لگا تھا۔۔۔۔

وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی۔۔اس کے پاس ائی۔ایک دفعہ میری بات سن لو پھر جو تمہارا فیصلہ ہوگا میں مان لوں گی۔میں تمہارے پیچھے نہیں اؤں گی۔کہتے ہی وہ چیئر پر بیٹھی تھی۔سائم نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔مروہ کا چہرہ پیلا پڑا تھا۔وہ اواز سے بھی ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔اور اسے دیکھتے ہی سائم کو اندازہ ہو گیا تھا۔۔

بولو۔۔۔۔سائم نے ایک لمبی سانس لینے کے بعد اسے کہا۔وہ اب اپنی چیئر سے اٹھ گیا تھا۔اور اس بات سے مروہ کو بہت ڈر لگا۔