Sheh Rug by Aneeta NovelR50466 Shah Rung Episode 29
Rate this Novel
Shah Rung Episode 29
Shah Rung by Aneeta
تمہارا مسئلہ کیا ہے سائم۔۔۔۔
سائم نے بڑی مشکل سے خود کو کنٹرول کیا تھا۔وہ مسلسل اسے دیکھے جا رہا تھا۔
میرا مسئلہ تم ہو۔سائم تھوڑا اٹھ کر بیٹھا تھا۔
میرے دل میں تمہارے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔کچھ بھی نہیں سائم۔۔۔۔۔۔
مطلب کچھ بھی نہیں۔۔۔
لیکن میرے دل میں بہت کچھ ہے میری جان۔اگر تم سننا چاہو تو؟۔
مجھے جان مت بولنا دوبارہ مروہ کے لہجے میں تھوڑی سختی ائے تھی۔رات بھی اب ختم ہونے کے قریب تھی۔
اچھا تو پھر کیا بولوں۔۔۔
جان کو جان ہی تو بولتے ہیں۔لیکن تم تھوڑی جان لیوا جان ہو۔دل میں بری طرح سے اٹکی ہوئی ہو۔سائم مروہ سے بہت سی باتیں کرنا چاہتا تھا۔وہ اسے اپنے دل کی ہر بات بتانا چاہتا تھا۔اس کے پاس بیٹھنا چاہتا تھا۔اس کی چاہتوں کو محسوس کرنا چاہتا تھا۔
تم ایک بے شرم انسان ہو۔۔
ذرا بھی شرم نہیں ہے تمہارے اندر۔۔
اب تم ایسا سمجھتی ہو تو پھر ایسا ہی صحیح۔سائم اپنی جگہ سے اٹھاہی تھا کہ مروا ایک دم سے سیدھی ہو گئی۔مروہ کی انکھوں میں اب تھوڑی تھوڑی نیند تھی۔کیونکہ رات بہت ہو گئی تھی اور بخار کی وجہ سے۔۔۔
میں نے کہا نہ سائم وہیں رہو۔تمہیں ایک بار سمجھ کیوں نہیں اتی۔کیوں میری جان کے دشمن بنے ہوئے ہو۔
نہیں رہ سکتا۔میں دل کے ہاتھوں مجبور ہوں۔
وہ اٹھنے ہی لگی تھی کہ سائم نے اسے بازو سے پکڑا اور قریب کیا۔۔۔
میں ان سب سے بہت تنگ ا گیا ہوں۔
مجھے تمہاری سخت ضرورت ہے۔یہ سب ختم کر دو۔وہ اس سے التجا کر رہا تھا۔جبکہ مروہ کو بس خوف محسوس ہو رہا تھا۔اس کی قربت سے۔
بولو میری جان۔تمہاری یہ خاموشی میری جان ہے بنی ہوئی ہے۔
سائم نے ایک ہاتھ اس کے گال پہ رکھا۔مروہ پوری طرح سے اس کی گرفت میں تھی۔وہ اسے حیرانگی سے دیکھ رہی تھی۔اور اس کی جرات پہ وہ بہت ہی حیران تھی۔وہ اس کے لمس کو محسوس کر رہی تھی۔مروہ نے اپنا ہاتھ اس کی مضبوط سینے پہ رکھا۔اور پھر سے پیچھے ہٹانا چاہا لیکن وہ ناکام رہی سائم کی گرفت بہت مضبوط تھی۔
اب تھوڑی سی بھی ہلی تم۔ تو اچھا نہیں ہوگا۔سائم نے اسے دھمکی دیتے ہوئے۔تھوڑا اور قریب کیا۔سائم اس کے دل کی دھڑکن سن سکتا تھا جو بہت تیزی سے درک رہا تھا۔وہ اس کے لمس کو محسوس کر رہا تھا۔
کیا کر رہے ہو۔وہ بری طرح سے سہم گئی تھی۔اور اس سے پیچھے کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
بس تھوڑی دیر۔سائم بری طرح اس میں کھو چکا تھا۔اس نے مروہ کی کوئی بات سنائی نہیں دے رہی تھی۔وہ بس اس کے لمس کو محسوس کر رہا تھا اور اس کے قریب جا رہا تھا۔
اس کی بےہودی سے مروہ سہم چکی تھی۔۔۔
مروہ نے ایک زور کے جھٹکے خود کو پیچھے کیا۔تو پیچھے پڑے ٹیبل کے ساتھ ٹکڑائی تو وہ بری طرح جا کے دیوار کے ساتھ لگی تھی۔ٹیبل کی نوک لگنے کی وجہ سے اس کا پاؤں بری طرح زخمی ہوا تھا۔یہ سب اتنی جلدی ہوا تھا کہ سائم اسے سنبھال نہیں پایا تھا۔وہ اس میں اس قدر کھویا ہوا تھا۔مروہ زور سے چیخی تھی۔کیونکہ وہ نو ک بہت باریک تھی اور گہرا زخم کر چکی تھی۔۔
مروہ۔۔۔۔
سائم نے ایک لمحے میں اسے پکڑا تم ٹھیک ہو۔۔
اس کے پاؤں سے ٹپکتا خون دیکھ کر سائم نے انکھوں کو ایک منٹ کے لیے بند کیا۔
ایم سو سوری۔اس نے ہاتھ کو فورا پاؤں پہ رکھا۔۔۔
وہ مروہ کا درد ایسے ہی محسوس کر رہا تھا جیسے مروہ۔ کچھ دیر پہلے اس کے چہرے پہ جو تاثرات تھے وہ اب پریشانی میں بدل گئے تھے۔اس سے مروہ کے پاؤں کو اپنے ہاتھ میں لیا۔زحم کی جگہ اس نے ہاتھ رکھا ہی تھا کہ مروا ایک دفعہ مچلی اور اس کا ہاتھ پیچھے کیا۔
سائم۔نہ۔۔۔۔۔نہیں۔۔سائم نے بھی فورا ہی ہاتھ اٹھا لیا تھا۔
اورمروہ کو باہوں میں اٹھایا۔اور بیڈ پر لٹایا۔۔اور نظریں اگے پیچھے گھمائیں۔کچھ نہ ملا تو اس نے مروہ کی شال کو دو ٹکڑوں میں کیا۔درد کی وجہ سے مروہ کو کچھ ہوش نہیں تھا۔خون کو صاف کرتے ہوئے اس نے اس شال کو زخم کے اگے پیچھے لپیٹ دیا۔۔۔۔
مروہ۔۔۔
پریشانی کے عالم میں سائم نے مروہ کو پکارا۔اس کے ماتھے پہ بوسہ دیا اور بلینکٹ اس کے اوپر اڑایا۔
ایم سو سوری میری جان۔۔۔۔
سائم۔اب اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا۔سائم کی انکھیں نم تھی۔اور اسے خود پر شدید غصہ تھا۔کہ یہ زخم اس کی موجودگی میں اسے لگا۔اور اس کی وجہ سے۔وہ بیڈ کی نکر پر لیٹا تھا اس کے دونوں پاؤں نیچے تھے۔ وہ ہر دو منٹ بعد مروہ کا زخم دیکھتا تھا۔
علیزے اور ریحان گہری نیند سوئے ہوئے تھے۔دادا جان بھی اپنے کمرے میں سوئے ہوئے تھے۔دھیرے دھیرے رات صبح میں ڈل گئی تھی۔
صبح کے پانچ بج چکے تھے۔۔
سائم۔۔
مروہ کی انکھ کھلی ہی تھی جب اس نے سائم کو پیچھے ہٹایا۔سا ئم جو ہلکی نیند میں تھا۔ایک دم اٹھ کر چونکا تھا۔پھر مروہ کو دیکھنے کے بعد اسے رات کا منظر یاد اگیا تھا۔
مر وہ۔۔
زخم کیسا ہے۔اس نے کمبل کو پاؤں سے ہٹانا چاہا۔یہاں سے جاؤ اب مروا نے اٹھنا چاہا پر درد کی شدت کی وجہ سے وہ اٹھ نہیں پائی۔
میں چلا جاؤں گا مجھے ایک دفعہ دیکھنے دو۔اور ہم ڈاکٹر کے پاس چلتے ہے ۔
دیکھو ابھی سب سو رہے ہیں۔تم چلے جاؤ۔پلیز۔۔
سائم اس کی نہ سنتے ہوئے اس کے پاؤں کی طرف جھکا تھا۔
میں نے کہا نا میرے لیے اور پرابلم مت کرییٹ کرو۔پلیز ابھی سب سو رہے ہیں تم جاؤ۔۔
میں تمہیں ایسے چھوڑ کے نہیں جا سکتا یہ تم جانتی ہو۔
پلیز۔۔۔۔۔۔
مروہ نے تکلیف کے ساتھ اس سے منت کی۔تو سائم نے جانا ہی مناسب سمجھا۔اس نے ایک نظر مروہ کو دیکھا۔اور پھر شرٹ کو ٹھیک کیا اور باہر نکل گیا۔۔۔۔
سب سو رہے تھے۔تو وہ اسانی سے چلا گیا تھا۔
کیا سائم یہاں نہیں ایا۔۔۔
مہروش نے حیرانگی سے گھر کی میٹ سے پوچھا۔۔
نہیں بی بی جی وہ ائے تھے بڑے صاحب سے مل کر چلے گئے۔
کچھ بتایا نہیں کہ کہاں گیا ہے۔مہرش نے جینز ٹاپ پہنا ہوا تھا۔جو بالکل جسم کے ساتھ چپکے ہوئے تھے۔
سا ئم۔۔
مہرش نے کچھ سوچا اور پھر گارڈن میں اگئی۔۔
اگر وہ یہاں نہیں ہے تو پھر کہاں ہو سکتا ہے۔کہیں وہ اسلام اباد تو نہیں گیا۔مہروش جانتی تھی کہ ان کا ایک فلیٹ اسلام اباد میں ہے تو اس نے اپنی طرف سے گیسٹ لگایا تھا۔
یقینا وہ وہیں ہوگا۔۔۔۔
مہرش نے موبائل پاکٹ سے نکالا۔اور ان لائن سیٹس بک کرنے لگی۔۔
مروہ۔۔۔
تم ابھی تک نہیں اٹھی۔۔
علیزے کمرے میں داخل ہوئی تو اس نے مروہ کے پاؤں کو دیکھا۔۔
یا اللہ یہ کیا کر لیا۔وہ دوری ہوئی اس کے پاس ائی۔
یہ کیا ہوا ہے۔۔
کچھ نہیں۔وہ ٹیبل لگ گیا تھا۔
اف اللہ کتنا گہرا زخم ہے کیسے لگ گیا ٹیبل۔اج کل تمہارا دھیان کہیں اور رہتا ہے۔اف مروہ یہ کتنا گہرا ہے۔۔
چلو جلدی سے ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔
نہیں اتنا گہرا نہیں ہے۔اور اب بالکل ٹھیک ہے۔۔
مروہ جو بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی اپنا رخ دوسری طرف کرتے ہوئے بولی۔اور وہ کہیں نہیں جانا چاہتی تھی۔کیونکہ رات کی منزل اور وہ سب اس کے ذہن میں ہی تھا ابھی۔وہ چاہا کے بھی انہیں اپنے ذہن سے نہیں نکال پا رہی تھی۔
اچھا میں تمہارے لیے ناشتہ لے کے ا رہی ہوں فریش ہو جاؤ۔علیزے تیزی سے کچن کی طرف چلی گئی تھی۔کیونکہ مروہ خالی پیٹ تھی۔اور پھر اس کی چوٹ نے ا سے پریشان کر دیا تھا ۔۔
اور اس کی بات پر عمل کرتے ہوئے مروہ فریش ہونے کے لیے اٹھی ہی تھی۔۔کہ اس کا موبائل بچنے لگا۔۔
نمبر ان نون تھا لیکن مروہ سمجھ چکی تھی کہ سائم ہے۔اس نے کال کاٹ دی تھی۔وہ بہت مشکل سے ان سوچوں سے نکلی تھی۔کہ اس کال نے دوبارہ سے اسے اس دنیا میں کھینچ لیا تھا۔
سائم نے نمبر چینج کیا تھا کیونکہ اس کا پہلا نمبر بلاک تھا۔
تم میری جان کب چھوڑو گے۔۔
مروہ نے بلیک کلر کا فل سوٹ پہنا ہوا تھا۔اور بالوں کا جوڑا بنایا ہوا تھا۔
اب وہ بیڈ سے اٹھنے ہی لگی تھی کہ میسج کی نوٹیفکیشن ائی۔تو اس نے اگلے لمحے ہی موبائل اٹھا لیا۔
اوکے مروا میں ا رہا ہوں پھر مجھ سے گلہ مت کرنا۔مجھے فکر ہو رہی ہے تمہاری۔۔
یہ میسج پڑھتے ہی مروہ نے اسے کال کی ۔۔
تم کیوں مجھے مصیبت میں ڈالنا چاہتے ہو۔ایک بار کا کہا تمہیں سمجھ نہیں اتا۔لائن ملتے ہی۔مروہ نے سخت لہجے میں بات کی تھی۔۔
اب کیسی طبیعت ہے تمہارا زحم۔۔۔
سائم نے اس کی کسی بات پر غور نہیں کیا تھا۔یا پھر یہی باتیں سن سن کر وہ اب تنگ ا گیا تھا۔وہ ڈائریکٹ مدے پر ایا تھا۔
مری نہیں زندہ ہوں میں۔تم نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
میں ابھی نہیں اؤں گا لیکن تم سے ملنے میں اج ضرور اؤں گا۔میں دیکھے بغیر نہیں رہ سکتا۔اس بار بھی سائم نے باتوں کو نظر انداز کیا تھا۔۔
تم نہیں اؤ گے۔۔۔
دیکھو اگے بہت پرابلمز ہیں۔میرے لیے اور مصیبت کھڑی مت کرو۔۔
میں نے کہا میں اؤں گا تو مطلب اؤں گا۔وہ اپنی بات پہ اٹل تھا۔
تم نہیں اؤ گے۔اور مروہ بھی ضد پر تھی
میں دیکھے بغیر نہیں رہ سکتا بتا چکا ہوں۔اب کوئی اور بات نہیں سنوں گا۔
دیکھو سائم ۔۔
مروا نے کچھ سوچا اور چپ ہو گئی۔کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ ضرور ائے گا۔میں خود تم سے ملنے اؤں گی۔جلدی میں اسے یہی سوجا تھا۔
تم نہیں اؤ گی جانتا ہوں۔اور پھر تمہاری چوٹ۔
ٹھیک ہوں میں اس کی بات کاٹتے ہوئے مروانے کہا تھا۔میں اؤں گی کہاں نہ تو اؤں گی۔یہ کہتے ہیں مروا نے فون کاٹ دیا تھا۔اور پھر سے لیٹ گئی تھی۔موبائل کو اس نے ایک طرف گرایا تھا۔
تمہیں اب میرا ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔
مہر وش صبح کی فلائٹ سے ہی۔اسلام اباد پہنچ چکی تھی۔اور اب وہ سائم کے فلائٹ کے باہر موجود تھی۔اس کے ہاتھ میں ایک شیشی تھی۔جسے دیکھ کر اس نے یہ الفاظ کہے تھے۔
اج تم میرے بن جاؤ گے۔
اور میں مہرش مردان بن جاؤں گی۔۔
وہ خود سے ہی باتیں کیے جا رہی تھی۔
اگر ارم انٹی کے اشاروں پہ چلتی۔تو ہمیشہ کی طرح وہی ہونا تھا جو ہوتا ایا ہے۔لیکن یہ مہروش کا پلان ہے۔جو کبھی ناکام نہیں ہوگا۔اج میں سائم کے دل کے ملکہ بن جاؤں گی۔
اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میرا ہو جائے گا۔
اس نے شیشی کو دوبارہ سے بیگ میں ڈالا۔۔اور اندر کی طرف چلی گئی۔۔
میں جانتی ہوں سارے گھر کی ذمہ داری ریحان بھائی پر اگئی ہے۔پر میں نے ایک دو جگہ ٹرائی کیا ہے۔انشاءاللہ جلدی میری جاب لگ جائے گی۔تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔
علیزے اور مروہ دونوں کھانے کی ٹیبل پر بیٹھی ہوئی تھی۔دادجان بھی ابھی ہی اٹھ کر گئے تھے۔تو اب دونوں باتیں کر رہی تھی۔
ایسی کوئی بات نہیں پہلے تم ٹھیک ہو لو۔علیزے نے اس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا۔
اور کیا تم کینیڈا واپس نہیں جاؤ گی۔اس نے پھر سے سوال کیا۔اور مروہ کو دیکھنے لگی۔
نہیں۔۔۔
مروہ نے ایک لفظ میں جواب دیا تھا اور پھر کھانے میں مصروف ہو گئی۔اور وہ شاید اس ٹاپک پہ بات ہی نہیں کرنا چاہتی تھی کیونکہ کینیڈا کے بارے میں وہ جب بھی سوچتی تھی۔سائم علی اجے اور وہ سارے خیالات اس کے ذہن میں ا جاتے تھے۔۔
مروہ تم مجھ سے باتیں چھپانے لگی ہو؟
میں بہن ہوں تمہاری تم بتا سکتی ہو اپنے دل کا حال۔
مروہ کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر علیزے پریشان ہو گئی تھی۔
ایسی کوئی بات نہیں ۔بس کچھ سوالوں کے جواب نہیں ہوتے۔یہ کہتے ہی مروہ وہاں سے اٹھ گئی تھی۔پر علیزے کو گہری سوچوں میں ڈال گئی تھی۔مروہ کا ذہن بھی اب کینڈا میں الجھا ہوا تھا۔۔۔
میں ویٹ کر رہا ہوں۔
اگر شام تک تم نہ ائی تو مجھے انا پڑے گا۔سائم کا میسج پڑھتے ہی مروہ پھر سے خوف کے سمندر میں گر گئی تھی۔
یا اللہ۔۔۔۔
اس نے موبائل کو بیڈ پہ گرایا تھا۔سائم نے اسے لوکیشن بھی بیچی تھی اپنے گھر کی۔۔
مجھے اخری دفعہ مل کر سب کلیئر کرنا چاہیے۔اور اگر وہ یہاں اگیا۔یہ سوچتے ہی مروہ اپنی الماری کی طرف تیزی سے بڑی اس کے پاؤں میں ابھی بھی ہلکا ہلکا درد تھا۔پرسائم کا ہوف درد سے زیادہ تھا۔۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔
مہرش کو دیکھتے ہی سائم۔غصے سے چلایا تھا۔
کیا میں نہیں ا سکتی۔مہروش نے دو قدم اگے بڑھائے۔اس نے ہائی ہیلز پہنی ہوئی تھی۔سائم کے ہاتھ میں جوس کا گلاس تھا جو اس نے ٹیبل پر رکھا۔اور مہرش کے قریب ایا۔
میں تمہیں سمجھا چکا ہوں کہ مجھ سے دور رہو۔اور میرا پیچھا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔تو پھر کیوں میرے پیچھے پیچھے اتی ہوں۔
سائم ۔۔
مہر وش اب چیر پر بیٹھی ۔میں یہاں سے گزر رہی تھی۔میں اپنی ایک دوست سے ملنے اسلام اباد ائی تھی۔تو مجھے پتہ لگا تم یہاں رکی ہو تو میں ملنے ا گئی۔ہم بچپن کے دوست ہیں۔کیا میں ملنے بھی نہیں ا سکتے۔۔
سائم جو بڑی مشکل سے غصہ کنٹرول کر رہا تھا۔چپ چاپ اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔اس کے ذہن میں مروہ چل رہی تھی۔۔
اوکے میرے خیال میں اب تم نے مل لیا ہے مجھ سے۔اب تمہیں جانا چاہیے۔سائم کو مروہ کی ٹینشن تھی۔کہ اگر اس نے مہروش کو یہاں دیکھ لیا۔تو اگے اس کو لے کے بہت شکی ہے۔۔
کیا ایک کپ چائے بھی نہیں پی سکتے۔۔
اب سائم کو بھی ہر بات پہ انکار کرنا مناسب نہیں لگ رہا تھا۔اس نے وائٹ کلر کی پلین شرٹ پہنی تھی۔استین کو اوپر تک فولڈ کیا ہوا تھا۔کچھ سوچا اور پھر اپنی جگہ سے اٹھا۔۔
اوکے ٹھیک ہے میں بنا لاتا ہوں چائے۔
نہیں۔تم کیوں بناؤ گے میں بنا کے لاتی ہوں تمہارے اور اپنے لیے۔یہ کہتے ہی مہر وش کچن کی طرف بڑی۔سائم اسے روکنا چاہتا تھا۔لیکن وہ کچھ سننے سے پہلے ہی جا چکی تھی ۔۔
وہ دوبارہ سے اپنی جگہ پر بیٹھ گیا تھا۔اس مصیبت نے بھی ابھی انا تھا۔یہ کہتے ہی اس نے اپنا موبائل دبانا چیک کیا۔
مروہ کہاں کی تیاری ہے۔
علیزے نے مروہ کو ریڈی ہوتے دیکھا۔تو اس کے کمرے میں اگئی۔ایک دوست سے ملنے جا رہی ہوں۔مروہ نے پنک کلر کی شارٹ فراک۔اور نیچے وائٹ ٹروزر پہنا تھا۔بالوں پہ بھی ربن لگایا ہوا تھا۔وہ کسی پڑی کی طرح لگ رہی تھی۔نیچے پلیم جوتے پہنے ہوئے تھے۔
اچھا جلدی ا جانا۔
مجھے ریحان کے ساتھ جانا ہے۔تو دادا جان اکیلے ہوں گے۔
ہاں میں بس ا جاؤں گی۔مروہ نے موبائل بیگ میں ڈالتے ہوئے جواب دیا۔۔اسے سائم کا ڈر بھی تھا۔لیکن اس کے یہاں انے کا زیادہ ڈر تھا اسے۔تو وہ بس جلدی سے اس کام کو نمٹانا چاہتی تھی۔یہ پتہ نہیں اس کے دل میں کیا تھا۔وہ چاہ کر بھی سمجھ نہیں پا رہی تھی۔۔۔
چائے بن گئی۔۔
سائم جو اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔لیپ ٹاپ کے سامنے افس کو اس سے کچھ کام کرنا تھا۔ اسے چائے ٹیبل پر رکھنے کا اشارہ کیا۔اس نے پھر سے ایک نظر موبائل کو دیکھا تھا۔کہ کہیں مروہ کا کوئی میسج تو نہیں ایا۔مہرش بھی بالکل اس کے ساتھ والے صوفے پر بیٹھ گئی تھی۔
بس یہ دوری ابھی کے لیے ہے۔یہ چائے تمہں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میرا کر دے گی۔مہروش چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے دل ہی دل میں بول رہی ہے۔۔۔
تم ٹیسٹ نہیں کرو گے۔مہروش نے سائم کو مصروف دیکھا تو پھر سے چائے اگے بڑھائی۔
سائم جو بڑی مشکل سے اسے برداشت کر رہا تھا۔چائے کا کپ اٹھایا اور پینے لگا۔کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ جلدی سے چائے ختم ہو اور یہ یہاں سے جائیں۔
مہرش بھی خاموش اسے دیکھ رہی تھی۔اسے بھی چائے ختم ہونے کا انتظار تھا۔۔
ریحان مجھے لگتا ہے مروہ کو کوئی مسئلہ ہے۔وہ بہت الجھی الجھی سی رہتی ہے۔مجھے سمجھ نہیں ارہا میں کیا کروں۔ہاتھ میں چائے کا کپ لیے وہ ریحان کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔
دیکھو ۔۔ایسا کچھ نہیں ہے۔ماحول چینج ہوا ہے دوست چینج ہوئے ہیں۔کتنا عرصہ وہ کینیڈا میں رہ کر ائی ہے۔تو یہاں ایڈجسٹ ہونے میں تھوڑا ٹائم لگے گا۔تم ایسے ہی وہم کھا رہی ہو۔
اپ جاب ڈھونڈنے میں اس کی ہیلپ کریں نا۔مجھے لگتا ہے وہ جاب کی وجہ سے پریشان ہے۔
ہاں مروہ نے مجھ سے بات کی تھی۔
میں نے اپنے ایک دو دوستوں کو کہا ہے۔ایک ملٹی نیشنل کمپنی ہے۔وہ کہہ رہا تھا وہاں پہ کوئی پوسٹ خالی ہے۔اور مروہ کو اسانی سے مل بھی جائے گی۔
میں شام کو پھر کال کروں گا اس دوست کو
مروہ نظر نہیں ارہی۔
وہ اپنے کسی دوست کی طرف گئی ہے۔کہتی تھی جلدی ا جاؤں گی۔۔۔۔
کیا ہوا سائم۔تم ٹھیک تو ہو۔۔
سائم کا سر بری طرح سے چکرا رہا تھا۔اس نے ادھی چائے ختم کر لیی تھی۔مہرش نے چائے میں نشے کی ڈز ڈالی تھی۔جنہوں نے اب اثر شروع کر دیا تھا۔مہرو ش بالکل اس کے پاس ا کر بیٹھ گئی تھی۔
سائم پہ اب پوری طرح سے نشہ طاری ہو چکا تھا۔اسے پورا کمرہ گھومتا ہوا نظر ا رہا تھا۔۔
سائم نے ایک نظر مہروش کو دیکھا جو بالکل اس کے قریب ا گئی تھی۔تمہیں ارام کرنا چاہیے۔مہروش اپنے پلان کے مطابق اب چلنے لگی تھی۔جب اسے اندازہ ہو گیا کہ سائم پورے طرح سے نشے میں جا چکا ہے۔تو اس نے بھی ایکٹنگ بند کر دی تھی۔۔
تم جانتے ہو میں نے تمہیں پانے کے لیے کتنی کوشش کی ہے۔اس نے سائم کے گرد اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی۔اور اپنی شرٹ کے بٹن ایک ہاتھ سے کھولنے لگی۔۔
ائی لو یو سو مچ ۔۔
مہر وش نے خود کو پوری طرح سے سائم کے حوالے کر دیا تھا۔سائم بھی پیچھے نہیں ہٹا تھا کیونکہ وہ نشے میں تھا۔جو کچھ ہو رہا تھا اسے ہوش نہیں تھا۔وہ بنا سوچے سمجھے اس کے لبوں پہ جھکا۔مہروش تو چاہتی ہی یہی تھی۔تو اس نے بھی ذرا بھی دیر نہیں لگائی تھی۔اس کے لبوں کو قید کرنے میں۔۔
سائم۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مروہ جو ابھی کمرے میں داخل ہوئی ہی تھی۔کے ہاتھ سے بیگ بری طرح نیچے گرا تھا۔اس کی اواز پہ سائم چونکا۔اس نے ایک جھٹکے میں مہرش کو دوڑ ہٹایا۔وہ بری طرح صوفے سے نیچے گری تھی۔مروہ کو دیکھ کر وہ بھی چونک گئی تھی۔
مروہ۔۔سائم نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن پھر سے گر گیا۔۔
تمہارے بارے میں جو سنا تھا وہ سب ٹھیک تھا۔تم ایک گرے ہوئے انسان ہو۔تمہیں بس لڑکیوں کے جسم سے مطلب ہے ۔تم اب کیا وضاحت دو گے سائم۔میں نے سب اپنی انکھوں سے دیکھ لیا۔مروہ کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی۔اس نے ایسا کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔اس کا مان بری طرح سے ٹوٹا تھا۔
سائم کا نشہ ابھی تک ٹوٹا نہیں تھا۔لیکن مروہ کی اواز سے وہ ہوش میں ا گیا تھا۔ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔اس نے ٹوٹے پھوٹے لفظوں کے ساتھ بات مکمل کی۔اور مشکل سے مروہ کے پاس ایا۔۔۔
تم میری بات سنو۔
مجھے کچھ نہیں سننا۔مروہ نے اسے زور سے پیچھے گرایا تھا۔سائم بری طرح بیڈ پر گرا تھا۔کیونکہ وہ نشے میں تھا تو خود کو سنبھال نہیں پایا۔مہرش کی تو جیسے دل کی ارزو پوری ہوئی ہو۔
وہ مروہ کے سامنے رونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے اپنے شرٹ کے بٹن بند کرنے لگی۔جو اس نے خود ہی کھولے تھے اور باہر کی طرف بھاگی۔وہ مروہ کے سامنے مظلوم بننا چاہتی تھی۔جو کہ وہ بن چکی تھی۔۔۔
اج سے مروہ تمہارے لیے مر چکی ہے۔وہ دونوں ہاتھوں سے انسو صاف کرتے ہوئے۔باہر کی طرف بھاگی۔۔۔۔۔۔۔۔
