Sheh Rug by Aneeta NovelR50466 Shah Rung Episode 24
Rate this Novel
Shah Rung Episode 24
Shah Rung by Aneeta
میں نے پوچھا مروہ کہاں ہے۔سائم نے پسٹل کو علی کی گردن کے نیچے رکھا ہوا تھا۔وہ گھٹنے کے سہارے زمین پر بیٹھا تھا۔اور علی کو گربان سے پکڑا ہوا تھا۔علی کا چہرہ زخموں سے بڑا ہوا تھا۔اور وہ پورے چھ مہینے بعد اس کو ملا تھا۔
میں نہیں جانتا وہ کہاں ہے ۔
مجھے کچھ علم نہیں ۔علی پچھلے ادھے گھنٹے سے یہی بول رہا تھا۔اور یہی سچ تھا۔مروا اسی دن بھاگ گئی تھی ۔
میں تمہاری کسی جھوٹی داستان پہ یقین نہیں کروں گا۔سائم نے اس کے چہرے پہ ایک اور ضرب لگاتے ہوئے بولا۔وہ اپنے حواس کھو بیٹھا تھا۔ان چھ مہینوں میں اس نے سوائے مروہ کو ڈھونڈنے کے اور کچھ نہیں کیا تھا۔اور یقینا اگر یہاں اج مروہ علی کے ساتھ ہوتی۔تو علی کب کا اپنی اخری سانسیں لے چکا ہوتا۔لیکن اس کی سانسیں صرف اب مروہ کی وجہ سے چل رہے تھی۔
سائم ایک دفعہ اسے بولنے کا موقع دو۔نوروز جو پاس ہی کھڑا تھا۔نے سائم کا ہاتھ پکڑا۔۔
کیا پتہ وہ سچ کہہ رہا ہو۔اگر یہ مر گیا تو تم مروہ تک نہیں پہنچ پاؤ گے۔یہ سنتے ہی سائم نے اپنا ہاتھ روکا تھا۔کیونکہ وہ اسے پھر سے ضرب لگانے والا تھا۔وہ ایک اندھیرے کمرے میں تھے۔جہاں پہ ذرا ذرا روشنی تھی۔اور بالکل حالی جگہ تھی۔
ہم راستے میں ایک جگہ رکے تھے۔مروہ کو شاید ہوش ائی اور وہ وہاں سے بھاگ گئی۔میں نے بہت تلاش کیا لیکن وہ نہیں ملی۔سائم نے ہاتھ روک کر اسے ایک نظر دیکھا ہی تھا کہ وہ طوے کی طرح بولنا شروع ہو گیا تھا۔شاید اسے اپنی جان پیاری تھی۔
تجھے میں بس تب تک زندہ رکھوں گا جب تک مروہ نہیں ملتی۔اور اگر یہ بھی تمہاری من گھڑت کہانی ہوئی۔تو تیرے خاندان سے کوئی نہیں بچے گا۔سائم نے اس کی انکھوں میں انکھیں ڈالتے ہوئے کہا تھا۔سائم کی انکھیں ہلکی نم تھی۔جو مروہ کی وجہ سے تھی۔لیکن غصے نے اس کی انکھوں کی نمی کو چھپا رکھا تھا۔ان چھ مہینوں میں اس نے اپنا حال بگاڑ دیا تھا۔حود کو مروہ کا مجرم سمجھتا تھا۔
مروہ۔۔۔۔۔
سائم نے ایک لمبا سانس لیا تھا۔اس کے ذہن میں عجیب وسوسے ا رہے تھے۔کہ کہیں اس کے ساتھ کوئی حادثہ نہ پیش اگیا ہو۔اور اگر وہ بھاگ گئی تھی تو وہ اس کے پاس کیوں نہیں ائی۔اس نے اپنا ایک ہاتھ دیوار پہ رکھا گردن کو ایک طرف گرایا ہوا تھا ۔اس کی انکھوں میں مروہ سے ملنے کی ٹرپ شدت پکڑ رہی تھی۔
پاکستان۔۔۔۔۔۔۔۔
دادا جان اپ سوئے نہیں ابھی تک مروہ نے نے قدموں کی اہٹ محسوس کر کے پیچھے دیکھا تو اس کا شک صحیح تھا۔دادا جان شاستگی سے اس کے پاس ا رہے تھے۔
بیٹا میں تو سو گیا تھا۔تم رات کے اس ٹائم یہاں کیا کر رہی ہو۔مروہ ان کے قریب ا چکی تھی۔اس نے سہارا دیتے ہوئے دادا جان کو لون میں پری چیئر پہ بٹھایا۔اور خود ٹیبل پر بیٹھ گئی۔
داد اجان بس نیند نہیں ا رہی تھی تو سوچا چہل قدمی کر لو۔
بیٹا نیند نہ انے کی کوئی وجہ ہوتی ہے۔۔۔۔۔
مروہ نے شاید ابھی اپنی بات کمپلیٹ نہیں کی تھی۔کہ دادا جان نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے۔کوئی تو بات ہے جو تم اپنے دادا جان سے چھپا رہی ہو۔تم جب سے کینیڈا سے ائی ہو بجھی بجھی سی ہو۔کیا کوئی بات پریشان کر رہی ہے۔
دادا جان ایسی کوئی بات نہیں ہے۔بس تھوڑا موسم چینج ہوا۔تو شاید اسی وجہ سے اس نے نظریں نیچے جھکا کر یہ بات کی تھی۔شاید وہ ان سے اپنا درد چھپانا چاہتی تھی۔
دیکھیں باہر بہت ٹھنڈ ہو رہی ہے۔اب اپ اندر جا کر سو جائیں میں بھی سو جاتی ہوں۔مروہ نے بات کو گھمانا چاہا۔یہ شاید اب وہ کسی اور سوال کا جواب نہیں دینا چاہتی تھی۔اس نے سہارے سے دادا جان کو اٹھایا اور کمرے کی طرف جانے لگی ۔عمر کے اس حصہ میں اب ان کے لیے چلنا بھی مشکل تھا۔
سائم مروہ کو ڈھونڈنے کی پوری کوشش میں لگا تھا۔اس کا دن اسی سے شروع ہوتا تھا اور رات اسی پہ ختم لیکن اسے اندازہ تھا۔اور سائرا یہ بات جانتی تھی کہ مروہ پاکستان میں ہے۔لیکن مروہ کے کہنے پہ اس نے یہ بات سائم سے چھپائی تھی۔
سائرہ۔۔۔۔۔
سائم نے گاڑی کی بریک لگاتے ہی اسے اواز دی۔وہ روڈ کے کنارے کھڑی تھی۔ٹیکسی کا انتظار کر رہی تھی۔سائم کی اواز سنتے ہی اس نے اپنا رخ اس کی طرف کیا۔
کیا مروہ کی تمہارے سوا کوئی اور بھی دوست تھی کینڈا میں سائم نے گاڑی سے اترتے ہی اس سے سوال کیا۔اس نے ہائی نیک شرٹ پہنی تھی۔جس سے گردن پوری کور تھی۔اور نیچے جینز پہنی تھی۔اب وہ بالکل اس کے مقابل کھڑا تھا۔اور جواب کا منتظر تھا۔
ہاں اس کی یونیورسٹی میں بہت سی دوستیں تھی۔لیکن پرسنلی ہم کسی کو نہیں جانتے۔اور زوبیہ کا پہلے ہی میں تمہیں بتا چکی ہوں۔اس نے جان چھڑانے والے انداز میں بات کی تھی۔
تم مجھے یونیورسٹی کے دوستوں کے نمبر دو۔سائم نے سوالیہ نظروں سے دیکھا اور موبائل اس کی طرف بڑھایا۔
تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں نے کسی سے نہیں پوچھا ہوگا۔میں نے سب سے پوچھ لیا اس کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے
اور یہ ساری مصیبتیں تمہاری وجہ سے ائی ہیں۔اور فالتو کی ایکٹنگ کر رہے ہو۔تم نے مروہ کو ایک تماشہ بنایا ہوا ہے۔سائم سوالیہ نظروں سے اسے دیکھے جا رہا تھا۔اور وہ شاید سمجھ نہیں پا رہا تھا اس کا رویہ ۔۔۔ن۔۔
میں نے تم سے نمبر مانگے ہے۔اور ان فالتو باتوں کا مطلب کیا ہے۔مجھے تمہاری سمجھ نہیں اتی سائرہ ۔۔۔
تمہیں مروہ کی پرواہ نہیں ہے؟
نمبر ایڈ کر کے دو مجھے اس نے زبردستی موبائل اس کے ہاتھ پہ رکھا تھا۔شاید یہی اس کی اخری امید تھی۔کیونکہ اس نے جنگل کا کونہ کونہ چھان مارا تھا۔قریب کے شہر اس نے کچھ نہیں چھوڑا تھا۔لیکن وہ گمان بھی نہیں کر سکتا تھا۔کہ مروہ پاکستان جا سکتی ہے۔کیونکہ اس نے سائرہ سے پوچھا تھا۔تو اس کے پوچھنے پر اس نے یہی بتایا تھا کہ میرا اس کی فیملی سے رابطہ ہے۔وہ پاکستان بھی نہیں گئی۔
یہ لو اپنا شوق پورا کر لو سائرہ نے جلدی سے کچھ نمبر موبائل میں ایڈ کیے اور موبائل اس کے ہاتھ میں واپس دیا۔
تمہارا مسئلہ کیا ہے؟
سائم سائرہ کو سمجھنے سے قاصر تھا۔اس کے ذہن میں کوئی سوال اٹھتا بھی تھا تو وہ یہ سوچ کر نظر انداز کر دیتا تھا۔کہ شاید سائرہ مروہ کی وجہ سے اس سے ایسا برتاؤ کرتی ہے۔شاید وہ بھی اسے قصوروار سمجھتی ہے۔وہ ایسے ہی ذہن میں کہیں سوال لیے گاڑی کی طرف بڑا اس نے سائرہ کے جواب تک کا انتظار نہیں کیا۔یا پھر وہ جانتا تھا کہ وہ کوئی جواب نہیں دے گی۔سائرہ بھی چپ چاپ اپنے راستے چلی گئی شاید وہ اس سے جان چھڑانا چاہتی تھی۔اور اس کے اندر کچھ سچائی کا ڈر بھی تھا۔کہ اگر سائم کو علم ہو گیا۔تو وہ اس کے غصے سے واقف تھی۔اور یہ تو معاملہ بھی پھر مروا کا تھا۔جس میں وہ کسی کی ایک نہیں سنتا تھا۔
مروہ کچن میں کھڑی کھانا بنانے میں مصروف تھی۔کہ اس کی موبائل کی رنگ ٹون بجنے لگی۔اس نے ہاتھ کو کپڑے سے صاف کیا۔اور پھر موبائل کو کان کے ساتھ لگایا۔
تم خود بھی مرو گی اور ساتھ مجھے بھی مرواؤ گی۔لائن ملتے ہی سائرہ نے اس پہ لفظوں کا وار کیا تھا۔
کیا ہو گیا ہے ارام سے مروا تسلی سے بیٹھتے ہوئے بولی۔وہ اس کی بات سننے کے موڈ میں تھی۔حالانکہ عموما ایسا نہیں ہوتا تھا۔وہ سارا سے سرسری سی بات کرتی تھی۔کیونکہ ہر دو باتوں کے بعد سائرہ اسے اس کی غلطی کا احساس دلاتی تھی۔اور سائم کی شدت کے بارے میں بتاتی تھی۔کہ وہ کس قدر پاگل ہے اس کے پیچھے اورچھ مہینوں میں اس نے ایک لمحہ بسکون کا نہیں گزارا تھا۔
تمہیں ابھی بھی ارام سوج رہا ہے۔سائم اج پھر ایا تھا۔اور مجھے تو اب ڈر لگنے لگا ہے۔وہ علی کے ملنے کا اسے پہلے ہی بتا چکی تھی۔پہلے تو وہ علی کے پیچھے تھا۔پر اسے حقیقت کا علم ہو گیا ہے۔اگر وہ غلطی سے بھی تمہارے تک پہنچ گیا۔تم تو ٹھہری اس کی جان تمہیں تو بخش دے گا پر میرا کچھ نہیں چھوڑے گا۔سائرہ ایک ہی سپیڈ میں بولے جا رہی تھی۔
ایسا کچھ بھی نہیں ہونے والا۔یہ وقتی بے چینی ہے سائرہ جو ٹھیک ہو جائے گی۔اور کچھ ٹائم بات تو وہ میرا نام بھی بھول جائے گا۔اور ایسا پہلی بار نہیں مروہ ہوا اب تھوڑا روکی شاید پھر سے سوچوں کا حملہ ہوا تھا۔اس کی شدتیں پہلے بھی دیکھی ہیں میں نے جان جان کہہ کر اس نے بے جان کر دیا ہے۔اس کے پاس کھیلنے کے لیے کوئی اور کھیل نہیں ہے۔لیکن میری زندگی کی دوڑیں اتنی الجھی ہوئی ہیں۔کہ انہیں کھولتے کھولتے کہیں اور دھیان ہی نہیں جاتا۔
بس کر دو بس کر دو مروہ تمہارے ہوتے ہوئے ہماری زندگیوں میں کبھی سکون نہیں ا سکتا۔ایک سائم ہی نہیں ہم سب ہی بے چین ہیں۔اور یہ ڈرامہ کر کے نا تم نے میری ایموشنل کو بھی ہرٹ کیا تھا۔تم نے مجھے بھی بتانا مناسب نہیں سمجھا تھا کہ تم پاکستان جا رہی ہو۔میری مانو تو واپس ا جاؤ۔ہم کہہ دیں گے کہ تم مل گئی ہو۔سائرہ نے اسے ایک مشورہ دینے کی کوشش کی۔
ان دونوں کی باتیں یوں ہی چلتی رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائم مجھے نہیں لگتا یہاں سے بھی کچھ پتہ چلنے والا ہے۔اب صبح دیکھ لیں گے نوروز نے تھکن کے باعث سائم کی طرف دیکھا۔جو اب مروہ کی اخری یونی فرینڈ کی لوکیشن کو ٹریس کر رہا تھا۔اور وہ صبح سے نہ جانے کتنے در گھوم چکا تھا۔
چلو بس اگیا ہے۔سائم نے اسے گاڑی سے باہر انے کا اشارہ کیا۔اور خود اگے جانے لگا۔نوروز کے پاس بھی اب کوئی چارہ نہیں تھا۔اس نے اس کے پیچھے جانا ہی مناسب سمجھا۔لیکن یہاں سے بھی وہی جواب مل رہا تھا جو باقی سب جگہوں سے ملا تھا۔کیونکہ ان سب دوستوں سے مروہ یونیورسٹی کے بعد نہیں ملی تھی۔نوروز تو اب گھر جا چکا تھا۔پر سائم سوچوں کا بوجھ لیے وہیں دربدر بھٹک رہا تھا۔
ہے مولا تو ہی کوئی راستہ دکھا۔میں اب پاگل ہو جاؤں گا۔سائم نے اسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔اس کا لہجہ درد بڑا تھا۔اور انکھیں نم تھی۔بس ایک دفعہ میں اسے اب دنیا سے چھپا لوں گا۔لیکن وہ ٹھیک سے دعا بھی نہیں مانگ سکتا تھا۔اس کے ذہن میں عجیب وسوسے تھے۔وہ خیالاتوں میں بری طرح سے جکڑا ہوا تھا ۔مروہ کہاں ہے؟
کیسی ہے؟
کہیں وہ کسی مشکل میں تو نہیں ہے؟
اور یا پھر علی اس سے جھوٹ بول رہا ہے؟
اس کے ذہن میں ایسے ہی عجیب وسوسے تھے۔وہ بری طرح سے سوچوں میں گرا ہوا تھا۔وہ ان چھ مہینوں میں ایک رات بھی سکون سے نہیں سویا۔اگر کہیں انکھ لگتی بھی۔تو مروہ کی فکر سے کھل جاتی۔گھر افس وہ سب بلائے بیٹھا تھا۔۔
ارم بیگم جو بری طرح سے مروہ کے خلاف تھی۔سائم کہ اس رویے کے بعد وہ مروہ کو اپنی خوشیوں کا قاتل سمجھتی تھی۔
اس لڑکی نے ہمارے بیٹے کو پاگل کر دیا ہے۔میں اپ کو پہلے سمجھاتی تھی۔وہ ہارون کے سامنے بیٹھے بولے چلے جا رہی تھی۔ہارون بھی سائم کو لے کر بہت پریشان تھے۔اور وہ ارم جیسا نہیں سوچتے تھے۔
بیگم۔۔۔
اس بات کو بس تھوڑی دیر کے لیے چھوڑ سکتی ہو۔ہارون نے لیپ ٹاپ اٹھایا اور کمرے کی طرف چلا گیا۔
اس گھر میں میری سنتا کون ہے۔
میں تو پاگل ہوں۔۔۔۔
پردیس نے تمہیں سب کچھ سکھا دیا ہے۔دیکھیں دادا جان اس نے کتنی اچھی کوکنگ کی ہے۔کینٹد جانے سے پہلے تو اسے انڈا ابال کرنا بھی نہیں اتا تھا۔علیزے کھانے کے ساتھ ساتھ اس کی تعریفیں کر رہی تھی۔اور مروہ نے کھانا بنایا بھی بہت مزے کا تھا۔
تم باہر کیوں اگئی ہو۔علیزے نے چائے کا کپ مروہ کی طرف بڑھایا۔جو صحن میں ایک طرف کھڑی تھی۔علیزے کے ذہن میں بھی بہت سے سوال تھے لیکن مروہ نے اسے کبھی کچھ سچ نہیں بتایا۔لیکن وہ اس کی بہن تھی وہ جانتی تھی کہ کچھ نہ کچھ تو ہے۔جو مروہ اس سے چھپا رہی ہے۔
بس ایسے ہی اگئی۔علیزے نے مروہ کو سوچوں کے دلدل سے کھینچا تھا۔تو اسے کچھ سمجھ نہیں ارہی تھی کہ اسے کیا جواب دینا چاہیے۔تو اس نے یہی کہنا مناسب سمجھا۔
ایسے ویسے کچھ نہیں مجھے بات بتاؤ۔علیزے نے اس کا رخ اپنی طرف کیا۔شاید وہ اس کی انکھیں پڑھنا چاہتی تھی۔
کیا بتاؤں؟؟
جو بات ہے وہ بتاؤ۔تم اچانک سے پاکستان ائی۔اور اب تمہیں چھ مہینے ہو گئے ہیں۔کینڈا تو تمہاری ڈرم کنٹری تھی۔اور وہاں سیٹل ہونے کے لیے پی ار لینے کے لیے۔تم نے کتنی محنت کی تھی۔پھر اچانک سے یہ سب کیوں چھوڑ دیا۔مجھے سب بتاؤ میں تمہاری بہن ہوں۔
خواب تو ہوتے ہی ٹوٹنے کے لیے اور میرحواب ٹوٹے نہیں مر گئے ہیں۔اور ان مرے ہوئے خوابوں کی صندوق پے میں بس اپنی اخری سانسیں گن رہی ہوں۔اس نے دل میں اس کی بات کا جواب دیا تھا۔وہ اس کے سامنے نہیں کہہ سکتی تھی شاید وہ اسے یا تو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔یا پھر اس کے سوالوں کے جواب نہیں دینا چاہتی تھی۔
مروہ میں کچھ پوچھ رہی ہوں۔
ہاں۔۔۔۔۔۔۔
مروہ نے چونکتے ہوئے کہا۔وہ اس کی اواز سے ڈر گئی تھی۔
کہاں گم ہو جاتی ہو۔
یہ کہہ کے علیزے اس کی طرف دیکھنے لگی جبکہ مروہ مکمل خاموش تھے۔
اب یہی لاسٹ طریقہ ہے۔تم سائرہ سے اس کا کوئی ڈاکومنٹس لو۔نوروز جو لیپ ٹاپ میں کوئی ویب سائٹ اوپن کیے بیٹھا تھا۔
ڈاکومنٹس۔۔۔۔
سائم یہ کہتے ہی کہیں گم ہو گیا تھا۔اسے اخری امید ملی تھی۔
ہاں سائم ڈاکومنٹس۔
تم جانتے ہو کینیڈا میں ہر ڈاکومنٹس پہ سکینر ہوتا ہے۔اگر مروہ نے کہیں پناہ بھی لی ہوگی۔تو اس کے ڈاکومنٹس وہاں ریفریش ہوئے ہوں گے۔تو ایگزیکٹلی ہمیں لوکیشن پتہ لگ سکتی ہے۔وہ خوشی کے تاثرات دیتے ہوئے اپنی چیئر سے اٹھا تھا۔سائم کو بھی ایک امید کی کرن نظر ائی تھی ۔اس نے اپنے موبائل سے سائرہ کا نمبر ڈائل کیا۔لیکن پھر اس نے وہاں جانا مناسب سمجھا اور موبائل اپنی پاکٹ میں ڈال لیا۔ان چھ مہینوں میں اس کی انکھیں مکمل ریڈ ہو گئی تھی۔اسے سوائے مروہ کہ کچھ نہیں سوجا تھا ۔اس کی شیف بھی بڑی ہوئی تھی۔
اف اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائرہ نے موبائل دیکھتے ہی اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا لیے تھے۔جب سائم کی کال اتی ہے تو مجھے لگتا ہے موت کا فرشتہ مجھے بلانے ا رہا ہے۔مروہ خود تو سکون سے بیٹھی ہوئی ہے پاکستان۔مجھے سولی پہ لٹکایا ہوا ہے۔وہ من ہی من میں بڑبڑا رہے تھی۔اس کے ہاتھ میں فون تھا جہاں سائم کی ایک مس کال تھی۔صبح کا ٹائم تھا وہ ابھی ابھی ہی ریسٹورنٹ ائی تھی۔۔
مروہ یار سائم کی پھر کال ائی تھی۔سائرہ نے فون ملاتے ہی بڑبڑانا شروع کر دیا۔اگر اس سے غلطی سے بھی پتہ لگ گیا تو میری شامت ہے۔تم تو بچ جاؤ گے لیکن میں نہیں بچوں گی۔وہ ساتھ ساتھ کام کر رہی تھی۔اور جتنی تیزی سے کام کر رہی تھی اتنی ہی تیزی سے زبان چلا رہی تھی۔
تم ایسے ہی ٹینشن لے رہی ہو۔پاکستان میں اس ٹائم رات ہو چکی تھی۔اور مروہ اپنے بیڈ پہ لیٹ کر اس سے بات کر رہی تھی۔اس کے ایک ہاتھ میں ایک کتاب تھی۔جسے اب اس نے اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا تھا۔
اور مجھے سائم سے کچھ بھی مطلب نہیں ہے اپ۔تم بار بار اس کا نام لے کر تھکتی نہیں ہو۔اس کا نمبر بلاک کر دو۔اس نے ایک سرسری سا مشورہ دیا تھا۔
ہاں نمبر بلاک کر دو۔سائرہ کا لہجہ تھوڑا تنزیہ تھا ۔میں اس کا نمبر بلاک کروں اور مجھے دنیا سے بلاک کر دے۔تمہارے پیچھے تو ویسے بھی پاگل ہے۔سائرہ نے بات کرتے کرتے جیسے پیچھے دیکھا۔تو سائم اپنے ہاتھوں سے غصہ کنٹرول کرے اسے دیکھ رہا تھا۔اب اس نے پاس پڑے گلاس کو زور سے زمین پر پھینکا تھا۔سائرہ نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے موبائل بند کر دیا تھا۔اور چار قدم پیچھے ہو گئی تھی ۔
س ۔۔۔سائم۔
