266K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Rung Episode 25

Shah Rung by Aneeta

اس کے الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے ۔موبائل اب زمین پر گر چکا تھا۔سائم قدم بقدم اس کے پاس ا رہا تھا۔

اتنا بڑا دھوکا۔۔۔۔۔۔۔

سائم نے اب اپنا ایک ہاتھ سامنے پڑے ٹیبل پر رکھا اور اسے زور سے ہلایا تھا۔اس کے پاؤں تھلے زمین نکل گئی.. تھی۔پچھلے چھ سات مہینوں سے جس کی یاد میں وہ سویا نہیں تھا۔اور جس کی تلاش میں اس نے پورا کینڈا چھان مارا تھا۔اور خود کو اس کا ملزم سمجھ رہا تھا۔وہ بہت ارام سے اسے دھوکہ دے رہی تھی۔اس کی محبت کا مان ٹوٹ گیا تھا۔دنیا اجرتی نظر ارہی تھی اسے۔

کیوں کیا تم دونوں نے ایسا۔اس نے سائرہ کو بازو سے پکڑ کر قریب کیا تھا۔میں نے کہا بولو اب ریسٹورنٹ کا سارا سٹاف ایک جگہ پر جمع ہو گیا تھا۔لیکن کوئی بولنے کی ہمت نہیں کر سکتا تھا۔کیونکہ سب سائم مردان کو اچھے سے جانتے تھے۔۔

م۔۔میں نہیں۔

میں کیا نہیں۔سائم نے اسے زور سے پیچھے گرایا تھا۔جو پیچھے کھڑی ایک سٹاف لڑکی کے ساتھ بری طرح ٹکرائی تھی۔اور اس لڑکی نے ساتھ ہی میں جگہ چھوڑ دی تھی۔شاید وہ اس معاملے میں پڑھ کر خود کو مسئلے میں نہیں ڈال سکتی تھی۔

مجھے مروانے منع کیا تھا سائم۔وہ بھی بہت ڈر گئی تھی۔

ڈر گئی تھی۔سائم پھر اب اس کے مقابل کھڑا تھا۔اور اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا اس نے۔کس سے ڈر گئی تھی اور کیوں ڈر گئی تھی۔کیا اسے میری محبت کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔اتنا بڑا کھیل کھیل رہے تھی وہ میرے ساتھ۔۔۔

ہاں سائم مردان ہاں ہم کھیل کھیل رہے تھے۔سائرہ نے ایک جھٹکے سے اسے پیچھے کیا۔اور تم کیا اس کے ساتھ زبردستی کرو گے۔وہ نہیں کرتی تم سے پیار اسں لیے وہ تمہیں چھوڑ کر چلی گئی۔نفرت کرتی ہے وہ تم سے۔

اب ایک لفظ بھی بولا نا توسا ئم نے پسٹل نکال کر اس کی گردن پہ رکھی۔ایڈریس دو اس کا۔اس نے ایک نظر پیچھے پڑے موبائل پر دہرائے۔اور پاس کھڑی لڑکی کو اشارہ کیا اٹھا کے دینے کا۔جس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر موبائل سائم کے ہاتھ میں دیا۔

کھولو پاسورڈ اس کا۔۔۔

سائرہ کانپتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی۔

میں نے کہا پاسورڈ کھولو۔۔۔وہ اب زور سے چیخا تھا۔سارا سٹاف ایک دفعہ پھر چونکا۔۔۔۔

سائرہ کا دماغ کام نہیں کر رہا تھا اس وقت اور سائم کی پسٹل اسے اور ڈرا رہے تھی۔اس نے ٹائم ضائع کیے بغیر موبائل کا پاسورڈ کھول دیا۔مروہ کی چیٹ پہلے ہی اوپن تھی۔اس نے نمبر چینج کیا ہوا تھا۔پسٹل ابھی سائرہ کی گردن پر ہی تھی۔

تم مروہ کو اس بارے میں کچھ نہیں بتاؤ گی۔سائم نے پسٹل سائرہ کے گردن میں تھوڑی اور دبئی۔لیکن میں جانتا ہوں ایسا ہو نہیں سکتا تم اپنا منہ بند نہیں رکھ سکتی میں جانتا ہوں۔سائم گیسٹ لگاتے ہوئے اسے بتا رہا تھا۔اس نے کچھ دیر سوچا۔اور پھر سائرہ کو بازو سے پکڑ کر باہر کی طرف جانے لگا۔

کہاں لے کے جا رہے ہو سائم سائرہ نے اسے روکنے کی پوری کوشش کی تھی۔لیکن وہ سائم مردان تھا۔

چپ چاپ چلو اب ایک بھی اواز ائی تو ہمیشہ کے لیے منہ بند کر دوں گا۔اس نے اسے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بٹھایا۔اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔گاڑی کی رفتار بہت تیز تھی۔سائرہ سارے سفر مسلسل اس سے سوال کیا جا رہے تھی۔جب کہ سائم کے دماغ میں غصہ تھا۔جو شاید مروہ کے ملنے کے بعد ہی ٹھنڈا ہو سکتا تھا۔

مروہ نے سائرہ کی کسی بات کو سیریس نہیں لیا تھا۔وہ ہاتھ میں کتاب لیے گہری سوچ میں گم تھی۔میں نہیں جانتی میں نے سائم کے ساتھ اچھا کیا یا برا۔پر میں بہت ڈر گئی تھی۔اور سائم کا مقام میرے دل میں کیا ہے میں یہ بھی نہیں جانتی۔وہ خود سے باتیں کیے جا رہی تھی ۔وہ سائم سے دور تو اگئی تھی۔لیکن اس کا دل سکون میں نہیں تھا۔یا ایسا شاید اس وجہ سے تھا۔کہ سائم سکون میں نہیں تھا۔

سائم سائم۔۔۔۔۔سائم۔۔۔۔۔

مروہ نے کتاب کو زور سے بیڈ پہ پھینکا۔پتہ نہیں یہ کب میری زندگی اور دل سے نکلے گا۔۔۔۔۔

اپنا منہ بند کر کے یہاں رہو گی جب تک میں مروہ سے نہیں مل لیتا۔اور فکر مت کرو میں اسے بھی بہت اچھے سے ملنے والا ہوں۔سائم نے سائرہ کو ایک کمرے میں بند کر دیا۔وہ دروازے کے پاس کھڑا اسے ہدایت کر رہا تھا۔

تمہارے کہنے کا کیا مطلب ہے سائم دروازہ کھولو پلیز وہ دروازے کو زور زور سے پیٹ رہی تھی۔میں پولیس کو انفارم کر دوں گی۔وہ اب دھمکی دینے پر اتر ائی تھی۔پرسائم ارام سے گاڑی کی طرف چلا گیا تھا۔اس نے دروازے کے بعد دو گاڈ کھڑے کیے تھے۔جینے کچھ ہدایات کرتے وہ گاڑی میں بیٹھ گیا تھا۔سائرہ کا موبائل ابھی بھی اس کے پاس تھا۔اس نے لمحہ بلمحہ مروہ کا ہر میسج پڑھا تھا۔اور ایسا کوئی میسج نہیں تھا جس میں مروا نے سائم سے نفرت کا اظہار نہ کیا ہو ۔اور یہ دیکھ کر سائم کا دل بہت دکھا تھا۔کیونکہ اس نے مروہ کو پانے کے لیے بہت محنت کی تھی ۔نہ جانے کتنی بار اپنے ہاتھوں کو خون سے رنگا وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا گہری سوچ میں گم تھا۔حالات اس کی سمجھ سے باہر تھے۔اسے نہیں معلوم تھا اسے مروہ کے ملنے کی خوشی منانی چاہیے یا غم۔

مروہ بند کمرے میں گہری سوچوں میں گم تھی۔اور اس کی سوچوں میں سوائے سائم کے اور کچھ نہیں تھا۔وہ اس سے دور تو بھاگ ائی تھی۔پر شاید یہ اس کی محبت کی شدت تھی۔کہ وہ اسے دل اور دماغ سے نہیں نکال پا رہی تھی۔یا شاید یہی عورت کی فطرت ہوتی ہے۔میں نہیں جانتی میں نے ایسا کیوں کیا۔لیکن میں نے بہت اچھا کیا۔اس کے لہجے میں اب سختی ائی تھی۔سائم یہی ڈیزرو کرتا تھا۔اس کی وجہ سے میں نے کیا کچھ نہیں دیکھا۔اگر اور یہ مجھے سچ میں اپنے ساتھ لے جاتا تو پتہ نہیں میرے ساتھ کیا کرتا ہوں۔اور کیا سائم کی محبت تب بھی قائم رہتی۔نہیں کبھی نہیں۔اس نے محبت کی ہی نہیں۔یہ بس اس کی ضد تھی۔اس نے ہاتھ میں پکڑی بک کو اب بیڈ پہ گرایا۔اور دونوں ہاتھوں کو ماتھے پہ رکھا۔

۔۔۔۔۔۔ سائم۔۔۔۔سائم۔۔۔۔سائم۔۔

کیا تمہارے پاس اور کوئی ٹاپک نہیں ہے؟

مروہ نے خود سے سوال کیا تھا۔وہ اؤٹ اف کنٹرول ہو گئی تھی۔

میں پاگل ہو جاؤں گی۔۔۔۔یہ کہتے ہی وہ کمرے سے باہر جانے لگی شاید وہ خود کو مصروف کرنا چاہتی تھی۔

اب اچانک پاکستان جانے کا پلان کیوں بنا لیا تم نے ارم سائم کے سر پر سوار تھی۔سائم جو بیگ میں کپڑے ڈال رہا تھا مسلسل انہیں اگنور کر رہا تھا۔اور ارم اس کے اگے پیچھے مینڈک کی طرح منڈلا رہی تھی۔

میں کچھ پوچھ رہی ہوں۔

تم تو مجھے کچھ سمجھتے ہی نہیں۔

ماں ہوں تمہاری اتنا تو پوچھ سکتی ہوں۔ارم نے سائم کو تھوڑا ایموشنل کرنا چاہا تھا۔پر شاید وہ نہیں جانتی تھی۔

میں دادا جان کے پاس جا رہا ہوں۔اور اپ تو ایسے پریشان ہو رہی ہیں جیسے میں پہلی دفعہ جا رہا ہوں۔وہ بہت تیزی سے بیک پیک کر رہا تھا۔ٹکٹس اس نے پہلے ہی کروا دی تھی۔

پہلی دفعہ نہیں جا رہے۔پر تم اتنے شوق سے کبھی پاکستان گئے بھی نہیں۔وہ شاید سوال کرنے کے موڈ میں تھی۔پرسائم نے ارم بیگم کی ایک بھی نہیں سنی۔اور بیگ لے کر باہر کی طرف چلا گیا۔

کہیں یہ مروہ کے پیچھے تو نہیں گیا۔۔

یا اللہ میں اس لڑکے کا کیا کروں۔ارم اس کے پیچھے ہی گئی تھی۔لیکن سائم کسی کے سننے کے موڈ میں نہیں تھا ۔