266K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Rung Episode 33

Shah Rung by Aneeta

یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔میں ایسا کچھ نہیں کر رہا سمیر نے نہ میں سر ہلایا۔۔

تمہیں بس جتنا کہا ہے نا اتنا کرنا۔سائم سمیر کو سمجھاتے ہوئے پھر سے صوفے پر بیٹھ گیا۔ایک نظر مروہ کو دیکھنے کے بعد وہ اپنے بازوں کو دائیں بائیں گھمانے لگا۔۔۔

ایسے ہی تنگ کر رہے ہو اتنی پیاری لڑکی کو۔اور اب مجھے بھی شامل کرنا چاہتے ہو۔سمیر کو اس کی بات کچھ اچھی نہیں لگی تھی۔پر وہ کر بھی کیا سکتا تھا۔اس کے اگے سائم مردان بیٹھا تھا۔جو بس فیصلہ سناتا تھا۔۔

سائم۔۔۔ابرش بھی پکارتے ہوئے افس میں ائی۔۔

اج کل افس کے بڑے چکر لگ رہے ہیں۔ابرش بھی صوفے پر سائم کے ساتھ ا کے بیٹھ گئی تھی۔جہاں پہ سمیر اور سائم پہلے سے بیٹھے ہوئے تھے۔..

ہمیں بھی کچھ بتا دو۔ابرش نے سائم کی طرف دیکھا اور موبائل کو ٹیبل پر رکھا اس نے جینز ٹاپ پہنا ہوا تھا۔اور صوفے پر ٹیک لگا کے بیٹھ گئی۔جیسے سائم ابھی اسے ساری دستان سنا دے گا۔

کیا تمہیں ہر بات بتانا ضروری ہوتی ہے۔یا تمہارا ہر بات میں انا ضروری ہوتا ہے۔ابرش تھی تو سائم سے چھوٹی لیکن تینوں کی انڈرسٹینڈنگ بہت زیادہ تھی۔لیکن یہ بات شاید سائم انہیں بھی نہیں بتانا چاہتا تھا۔۔۔

سمیر اب افس چیئر پر جا کر بیٹھ چکا تھا۔جبکہ ابرش اور سائم وہیں صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے۔کچھ دیر پہلے سمیر نے مروہ کو انے کا کہا تھا۔۔۔

اس لڑکی کا کچھ نہیں ہو سکتا سارے کمرے کا حلیہ بگاڑ رکھا ہے۔ علیزے مروہ کے کمرے میں داخل ہوتے ہی بڑبڑانے لگی۔پتہ نہیں کب بڑی ہوگی۔اس نے بیڈ پہ بکھرے کپڑوں کو الماری میں رکھا۔اور بیڈ کی چادر ٹھیک کرنے لگی۔۔

اپ نے بلایا تھا۔مروہ نے سفید کلر کی فراک پہنی تھی۔جو گون سٹائل میں تھی۔دوپٹہ بھی وائٹ تھا۔جو گلے میں تھا۔سفید رنگ میں اس کا چہرہ اور نکھر رہا تھا۔۔

مروا نے ایک نظرسائم اور ابرش کو دیکھا۔جو باتوں میں مصروف تھے۔اور پھر سمیر کے کہنے کے مطابق چیئر پر بیٹھ گئی۔مروہ کے ہاتھ میں فائل تھی جو اب اس نے ٹیبل پر رکھ دی تھی۔۔

تم نے پچھلے پروجیکٹ پر بہت اچھا کام کیا تھا۔مارکیٹ میں اس کا رزلٹ بھی کافی اچھا رہا تھا۔لیکن یہ پروجیکٹ بہت سپیشل ہے۔یہ ڈیل ہم چائنہ کی ایک کمپنی کے ساتھ کریں گے۔تو ہمیں اس پروجیکٹ پر زیادہ دھیان دینا پڑے گا۔تاکہ یہ پروجیکٹ ہمیں ہی ملے ہمیں ۔مروہ بہت دھیان سے اس کی بات سن رہی تھی۔تھوڑی دیر کے لیے اس نے سائم کو اگنور کیا ہوا تھا ۔

اس لیے یہ پروجیکٹ تم سائم کے ساتھ مل کے بناؤ گی۔لیکن شاید اگنور کرنا اس کی قسمت میں نہیں تھا۔وہ ایک دم چونک کر بیٹھی۔اور پیچھے سائم کو دیکھنے لگی۔

ن۔۔۔۔۔نہیں۔مروہ کی تو جیسے جان حلک تک ا گئی ہو۔سائم کے ساتھ کیوں اس نے ایک نظر پیچھے دیکھا۔..

اس سے پہلے کہ سمیر کچھ بولتا ٹیبل پہ پڑا سائم کا موبائل بچنے لگا۔جو کہ بالکل مروہ کے سامنے پڑا ہوا تھا۔مروہ نے جھک کر اس کے موبائل کی طرف دیکھا۔جسے دیکھتے ہی وہ پھر سے غصے سے لال پیلی ہو گئی۔کیونکہ سکرین پر مہروش کا نمبر چمک رہا تھا۔۔۔۔

تو یہ ابھی تک اس کے رابطے میں ہے۔اندر ہی اندر خود کو کوستے نظریں موبائل سے گھمائیی۔سائم بھی موبائل اٹھانے کے لیے اب ٹیبل تک ا چکا تھا۔سائم نے جیسے ہی موبائل اٹھایا ۔تو فورا سے مروہ کی طرف دیکھا۔جو اسے ترشی نگاہ سے دیکھ رہی تھی۔سائم نے فورا سے کال کاٹ دی۔۔

ارے سائم مہروش کی کال تھی۔سمیر بھی اس کی سکرین دیکھ چکا تھا۔تو اسے تھوڑی حیرانگی ہوئی۔اٹھا لو نا۔کتنی اچھی انڈرسٹینڈنگ تھی تم دونوں کی بلکہ وہ دن کتنے اچھے تھے۔شاعرانہ انداز میں سمیر کچھ پیچھے چلا گیا تھا۔اب دیکھو نا ہم سب کتنے مصروف ہو گئے ہیں۔ایک دوسرے کے لیے ٹائم نکالنا بھی مشکل ہے۔۔مروہ کو یہ الفاظ کانٹے کی طرح چب رہے تھے۔کیونکہ انسان کے پاس کتنی بھی بیکار چیز کیوں نہ پڑ ی ہو جب وہ کسی اور کے ہاتھ میں جاتی ہے تو اسے برا لگتا ہے۔اور یہ تو پھر بھی سائم تھا۔۔

سائم کی سمجھ سے باہر تھا کہ اسے کیا کہنا چاہیے اور کیا کرنا چاہیے۔اس نے موبائل کو پاکٹ میں ڈالا۔۔

ہاں مروہ تو تم کیا کر رہی تھی۔۔۔

میں اس کے ساتھ پروجیکٹ نہیں بناؤں گی۔مروہ نے اپنا فیصلہ سناتے ہی جاننا چاہا۔۔۔

اوکے۔سمیر کے الفاظ ابھی منہ میں ہی تھے کہ سائم نے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا ۔۔ن

اج سے تمہارا باس میں ہوں وہ نہیں۔تو تمہیں میرے اندر ہی کام کرنا پڑے گا۔ورنہ۔۔۔

ورنہ کیا۔سائم کے چپ ہوتے ہی مروا بولی۔۔۔

ورنہ تم اچھے سے جانتی ہو میں کیا کیا کر سکتا ہوں۔یہ بات اس نے تھوڑی سرگوشی میں کہی تھی۔۔

سمیر بھی اب کھڑا ہو چکا تھا۔اور سائم کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔

پھر مجھے یہاں کام ہی نہیں کرنا۔میں ر زائن کر دوں گی۔لہجہ تھوڑا سخت تھا۔اور ارادہ بھی پختہ لگ رہا تھا۔مروہ نے ایک نظر سائم اور پھر سمیر کو دیکھا۔۔۔

یہ اتنا اسان نہیں ہے مس مروہ۔۔

س۔۔سمیر کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ سائم نے ہاتھ سے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔کہیں بھی کام کرنے کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔اور اس کمپنی کا اصول ہے اپ ایئر سے پہلے ریزائن نہیں کر سکتے۔اور اگر کوئی اصولوں کے خلاف جاتا ہے۔وہ گھومتے گھومتے اس کے پیچھے ایا ۔تو کمپنی اسے پولیس کے حوالے کر دیتی ہے۔لیکن تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔تمہیں میں پولیس کے حوالے تو نہیں کروں گا۔وہ تھوڑا کان کے قریب ہوا پر دوسری سزا اس سے بھی زیادہ سخت ہوگی۔تم برداشت نہیں کر پاؤ گی۔مروہ اس کی بے باکی پہ حیران ہوتے دوسری طرف کھڑی ہو گئی۔اس نے ایک نظر افس میں دہرائی سمیر اور ابرش دونوں ہی انہیں دیکھ رہے تھے۔اور پھر باہر کی طرف چلی گئی۔وہ بہت پزل ہو چکی تھی۔

کچھ دیر سائم نے اسے جاتے دیکھا۔اور پھر چیئر پر بیٹھ گیا۔

یہ کیا تھا سائم۔۔سمیر نے چیئر کو سائم کی طرف کیا اور بیٹھ گیا۔جیسے کسی نے اسے کھڑے ہونے کی سزا دی تھی ۔اور وہ اب جا کے کہیں ختم ہوئی تھی۔۔۔

یہ چل کیا رہا ہے ذرا ہمیں بتاؤ گے۔ا برش نے بھی ویسے ہی ایکٹنگ کی تھی۔۔

کچھ نہیں چل رہا۔سائم بھی اب ان کے ساتھ بیٹھ چکا تھا۔ارادہ تو اس کا مروہ کے پیچھے جانے کا تھا۔لیکن پتہ نہیں پھر دماغ میں کیا ایا ۔

ہم یہ سن سن کر اب تنگ ا گئے ہیں۔ہمیں بات بتاؤ کیا پتہ ہم تمہاری کوئی مدد کر سکے۔ابرش نے سمیر کو حامی بھرنے کا اشارہ کیا اور پھر اس سے پوچھا۔ہاں بالکل ایسا ہی ہے سمیر نے بھی گردن ہلائی۔۔۔

تم نے اپنی اوقات دکھا ہی دی۔تم سب ہی ایک جیسے ہو۔مروہ اپنے ٹیبل پر اتے ہی شروع ہو گئی تھی۔۔

یا اللہ یہ پرابلم کب ختم ہوگی۔مروہ نے چیئر کو اگے کیا اور اس پر بیٹھ گئی۔یہ کب میری زندگی سے دفع ہوگا۔۔

وہ اب بری طرح پھنس چکی تھی ۔کیونکہ وہ سائم کو جانتی تھی۔کہ وہ کس حد تک جا سکتا ہے۔وہ خود کو بہت بے بس محسوس کر رہی تھی۔۔۔

ہارون اپ جانتے ہیں کہ نورا کے ساتھ میرے کتنے اچھے تعلقات ہیں۔ہماری سوسائٹی کی سب سے ایکٹو لیڈی ہے وہ۔۔

کتنے تھوڑے ٹائم میں وہ اپنے بزنس کو کہاں سے کہاں لے گئی۔اگر اس نے اپ کے بیٹے کے کارنامے لوگوں کو بتانا شروع کر دیے۔۔۔۔۔۔

تو ہم سوسائٹی میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے وہ ڈریسنگ گون پہلے شیشے کے سامنے کھڑی تھی۔ابھی ابھی شاور لیا تھا تو بال گیلے تھے۔جبکہ ہارون پیچھے بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ میں مصروف تھا۔اس نے ایک نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر سے مصروف ہو گیا۔۔

میں کچھ کہہ رہی ہوں۔ارم قدم اٹھا کر اب بیٹھ کی طرف ائی۔ن

بیگم میں فی الحال کام کر رہا ہوں۔تمہارا صاحبزادہ بھی وہاں جا کے بیٹھ گیا ہے۔اور تمہیں ابھی بھی نورا کی فکر ہے۔۔

کام کا سارا بوجھ میرے کندھے پہ ا گیا ۔ہارون کچھ تھکا ہوا لگ رہا تھا۔۔

یہ سب اپ کی ڈیل کا تیجہ ہے۔وہ دوبارہ سے بیڈ سے اٹھی اور شیشے کے سامنے کھڑی ہوگی۔۔

دیکھو اسے تھوڑا ٹائم چاہیے۔تم اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔ہارون اب تھوڑا ریلیکس ہوا تھا۔اور ویسے بھی ساری زندگی اسی نے تو کام کرنا ہے ۔۔

اچھا ہوا جو اس نے تھوڑا بریک لے لیا۔

اپ ۔۔۔۔۔۔اپ کو ابھی بھی کام کی پڑی ہے میں نے کچھ اور بھی کہا ہے۔سوسائٹی۔۔۔

سوسائٹی سوسائٹی سوسائٹی۔بیگم کبھی تو سائم کے بارے میں بھی سوچ لیا کرو۔وہ کیا چاہتا ہے اس کی کیا مرضی ہے۔وہ بیٹا ہے ہمارا۔۔۔

اور مجھے اس کی خوشی کے اگے کسی کی خوشی عزیز نہیں ہے۔یہ بات اپنے ذہن میں بٹھا لو۔ہارون اور ارم کی بحث یوں ہی چلتی رہی۔اور پھر ہارون اٹھ کر کمرے سے باہر چلے گئے۔۔کینڈا میں تقریبا رات ہونے والی تھی۔۔

لگتا تمہیں میرا پیغام نہیں ملا۔سائم اتے ہی مروہ پر پھر حملہ اور ہوا تھا۔جب کہ وہ پھر سے اس کی قربت سے ڈر گئی ۔۔نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔پر کوئی جواب نہیں دیا۔

چلو۔جلدی اؤ بہت کام کرنا ہے ہمیں۔سائم نے اسے بازو سے پکڑا۔اور کھڑا کیا۔۔

کام ہم یہاں بھی بیٹھ کے کر سکتے ہیں۔مروہ نے اسے پیچھے کی طرف کھینچا۔جو مروہ کو لے جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔

سائم نے ایک نظر اس کے ٹیبل پر ڈالی۔اور پھر مروہ کو دیکھا۔۔۔

بوس میں ہوں تم نہیں۔سائم نے ٹیبل پر پری فائل اٹھائی اور اسے لے کر اندر کی طرف جانے لگا اس نے مروہ کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔

ہم یہاں بیٹھ کر کام کریں گے۔سائم نے اسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔

نہیں۔۔۔

مجھے کام نہیں کرنا۔اس نے روح دوسری طرف کیا۔اور یقینا باہر جانے کا سوچ رہی تھی۔لیکن سائم نے اسے بازو سے پکڑا اور صوفے پر بٹھایا۔۔۔

میں تمہیں پہلے بتا چکا ہوں کہ اب ہم دونوں میں کچھ بھی نہیں ہیں۔اور میں کام کے لیے ہی یہاں بیٹھا رہا ہوں۔

۔مجھے شوق نہیں ہے یہ شکل بار بار دیکھنے کی۔ اپنی انگلی کو گول گما کر اس نے یہ بات کہی تھی اشارہ مروہ کے چہرے کی طرف تھا۔

۔وہ بھی اس کے ساتھ بیٹھ چکا تھا۔اس کے بیٹھتے ہی مروا نے تھوڑا فاصلہ بنایا۔پرسائم نے ایک جھٹکے میں اسے پھر سے اگے کیا۔وہ اپنا دوسرا ہاتھ صوفے کی پشت پر مروہ کے پیچھے رکھ چکا تھا۔۔۔

چلو اب فائل کھولو۔۔مروہ نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے فائل کھولی۔۔۔سائم نے اس کا ڈر دیکھتے ہوئے۔بہت مشکل سے اپنی ہنسی کو کنٹرول کیا ہوا تھا۔۔۔

ابھی اتنی بھی سردی نہیں ہوئی۔سائم نے فائل پکڑنے کے بہانے اس کے ہاتھ کو مضبوطی پکرا ۔

یہ۔۔۔یہ کیا کر رہے ہو۔۔

تمہیں وم کر رہا ہوں تاکہ سردی نہ لگے۔دیکھو تو کیسے کانپ رہی ہو۔سائم اس کے بالوں سے اس کی خوشبو محسوس کرتے ہوئے بولا۔اور پھر اس کی انکھوں میں دیکھنے لگا مروہ کا رخ اسی کی طرف تھا۔۔۔

میرا ہاتھ چھوڑو پلیز۔ہاتھ چھڑوانے کے چکر میں مروا نے فائل بھی نیچے پھینک دی۔جب کہ سائم پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔۔

میں کچھ کہہ رہی ہوں۔مروا نے پھر سے اس کی طرف دیکھا۔۔

میں سن رہا ہوں۔سائم پھر سے دیوانوں کی طرح اس میں کھو گیا تھا۔اس کی خوشبو اور حسن اسے پاگل کر رہا تھا۔سائم نے تھوڑا اور قریب کیا۔بولو میں سن رہا ہوں۔۔۔

تم نے مجھے بھی محروش کی طرح سمجھ رکھا ہے۔مروہ نے اس کے دونوں ہاتھوں کو پیچھے کرنے کی اب کوشش کی وہ بری طرح سے اس کے بازوں میں الجھی ہوئی تھی۔اس کا ایک ہاتھ اس کے کاندھے پہ جب کہ دوسرے ہاتھ سے اس نے اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔۔۔

تم مجھے ایسا ہی تو سمجھتی ہو۔تو پھر حرج کیا ہے۔سائم کسی چیز کی پرواہ کیے بغیر اسے محسوس کر رہا تھا۔

مروا نے ایک نظر باہر دہرائی۔۔

ہمیں کوئی نہیں دیکھ سکتا باہر سے بے فکر رہو۔سائم اس کے کانوں پہ جھکا اور سرگوشی میں کہا۔۔

تم ایک گھٹیا انسان ہو۔تمہں نہ اپنی عزت کی پرواہ ہے نہ کسی اور کی۔لیکن میں مہروش نہیں ہوں۔۔

تم یہ نام لے لےکر ٹھکتی نہیں۔مہروش کے نام سے اسے تھوڑا غصہ ایا ۔اس وقت بس اپنی بات کرو۔مروہ بری طرح کانپنے لگی تھی۔اسے سمجھ نہیں ارہا تھا ۔کہ وہ خود کو کیسے ازاد کروائیں۔۔۔

سائم نےایک ہاتھ اس کے چہرے پہ رکھا۔جسے مروہ نے ایک جھٹکے میں پیچھے کیا۔اور اگلے ہی لمحے سائم نے پھر سے گرفت مضبوط کی۔تو مروہ بری طرح سے سہم چکی تھی۔اس نے سائم کے بازو پہ زور سے کاٹا سائم اس حملے کے لیے تیار نہیں تھا۔تو اس نے بازو کو تیزی سے پیچھے کیا۔موقع دیکھتے ہی مروہ اٹھی ہی تھی۔کہ سائم نے اس کا ہاتھ کھینچ کر پھر سے سوفے بے گرایا۔۔۔

سائم کیا کر رہے ہو۔تھرتھراتے ہوئے لبوں کے ساتھ اس نے یہ جملہ کہا اور ہاتھ اس کے سینے پر رکھے۔اس کی انکھیں اب انسوؤں سے بھر چکی تھی۔جنہیں دیکھتے ہی سائم ایک دم سے پیچھے ہوا ۔۔۔

تم رو کیوں رہی ہو۔مروہ سیدھی ہو کر بیٹھ چکی تھی۔سائم نے اس کے انسو صاف کیے۔سائم کا دل اب تیزی سے درکنے لگا تھا۔

مروہ۔۔۔میں سائم کچھ بولنے ہی لگا تھا۔

کہ مروہ انسو صاف کرتے دوپٹہ ٹھیک کیا اور باہر کی طرف گئی۔۔۔

مروہ۔۔سائم نے پھر سے روکنا چاہا ۔پر مروا تیزی سے باہر جا چکی تھی۔۔اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور چلی گیی۔جبکہ سائم وہیں پہ بیٹھا خود کو کوس رہا تھا۔وہ اس کے انسو برداشت نہیں کر سکتا تھا۔اور اسے اپنی بے خودی پہ بھی غصہ تھا۔

یہ کیا کیا تم نے۔اس نے اپنا دائیں ہاتھ کو زور سے دیوار پے مارا۔تم خود پر کنٹرول نہیں کر سکتے۔پتہ نہیں وہ کیا سمجھ رہی گی۔وہ تیز تیز قدم اٹھاتا باہر کی طرف ایا۔پر مروہ جا چکی تھی۔۔۔

کیا ہوا جلدی اگئی۔علیزے نے دروازہ کھولتے ہی اس سے سوال کیا۔مروا نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اندر ائی۔اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا جس کی وجہ سے علیزے بے چین ہوئی۔اور اس کے پیچھے پیچھے ہی کمرے میں ائی۔

میری جان کیا ہوا ہے۔۔۔

کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے مروہ کو اپنی طرف کیا۔جو کمرہ بند کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔کیا کسی سے کوئی جھگڑا ہوا ہے۔۔۔

نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔بس طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔تھوڑی دیر سونا چاہتی ہوں۔اگر تمہاری اجازت ہو۔۔۔

علیزے کو تسلی تو نہیں ہوئی تھی۔لیکن پھر بھی وہ کمرے سے باہر چلی گئی۔اس کے جاتے ہی مروہ نے کمرے کو لاک کیا۔اور دروازے کے پاس بیٹھ کے پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی۔

میں نے ہمیشہ تمہیں غلط سمجھا۔تم نے کبھی محبت کی ہی نہیں تھی۔مروہ نے سر دروازے کے ساتھ لگایا اور اوپر دیکھنے لگی۔اس کی انکھیں انسوں سے تڑ تھی۔

مروہ کیوں چلی گئی کیا تم نے کچھ کہا ہے۔سائم کے افس میں داخل ہوتے ہی سمیر نے سوال کیا ۔سائم یہ تم کیا کر رہے ہو مجھے کچھ سمجھ نہیں ا رہی۔۔۔

جبکہ سائم خاموشی سے ایک طرف بیٹھ گیا تھا۔اس کا چہرہ اترا ہوا تھا۔سمیر جو افس چیئر پر بیٹھا تھا اٹھ کر اس کے پاس ایا۔۔

کیا کوئی بات ہوئی ہے۔اس نے اس کے کاندھے پہ ہاتھ رکھا۔اور ہلکی سی تھپکی دی۔چیئر کو اس نے تھوڑا اگے کر لیا تھا۔اب وہ اس کا چہرہ قریب سےدیکھ سکتا تھا۔۔۔

نہیں کچھ نہیں۔سائم نے چیئر کی پشت کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے اسے جواب دیا۔اس کا ذہن ابھی بھی وہیں اٹکا ہوا تھا۔

تم دونوں کا جھگڑا چل رہا ہے۔یہ بات تو مجھے سمجھ اگئی ہے۔لیکن جھگڑے سے پہلے کیا چل رہا تھا یہ سمجھ نہیں ا رہا۔سمیر بھی اب تھوڑا پیچھے ہو کے بیٹھا۔وہ افس سوٹ میں ملبوس تھا۔۔۔

سب کچھ گڑبڑ ہے تمہیں میں کیا بتاؤں ۔سائم نے ٹیبل پہ رکھے ہوئے پانی کے گلاس کو ہاتھ میں لیا۔اور ایک گھونٹ حلق میں اتارا۔

میں اسے بتانا چاہتا ہوں۔کہ میں اس سے کتنی محبت کرتا ہوں۔سمیر کے لیے یہ بات نئی نہیں تھی۔کیونکہ وہ پہلے ہی اندازہ لگا چکا تھا۔

لیکن وہ سمجھ نہیں پا رہی۔وہ مجھے ایک اواڑا انسان سمجھتی ہے۔سائم کی نظریں اور ذہن ایک جگہ پہ رکے ہوئی تھی۔اسے سب کچھ بکھرتا نظر ارہا تھا۔لیکن وہ کیا کرتا۔مروہ کو دیکھنے کے بعد اسے کچھ ہوش نہیں رہتا تھا۔وہ تو اپنا اپ بھول جاتا تھا۔

پیار سے سمجھاؤ اسے۔۔۔سمیر جو ہر چیز سے لاعلم تھا۔اسے سرسری سا مشورہ دیتے ہوئے بولا۔۔۔

شام ہو چکی تھی۔علیزے کے بہت اسرار کرنے پر مروہ اس کے ساتھ مارکیٹ ائی تھی۔۔

گڈ ایوننگ۔۔

مر وہ اور علیزے نے پیچھے دیکھا۔تو سائم کھڑا تھا وہ گاڑی لاک کرتے ہوئے ان کے پاس ایا۔۔۔۔

مروہ نے اپنا رخ دوسری طرف کر لیا تھا۔اس کا چہرہ ابھی تک اترا ہوا تھا۔۔

کیسی ہو مروہ۔۔سائم نے سر سے پاؤں تک ا سے دیکھا۔۔

مروہ نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔۔۔

ہم ٹھیک ہیں اپ کیسے ہیں۔اسے خاموش دیکھ کر علیزے نے جواب دیا۔۔۔

میں بھی ٹھیک۔میں اپ کے گھر کی طرف ہی جا رہا ہوں میں چھوڑ دیتا ہوں۔اس نے ایک نظر مروہ کو دیکھا۔مجھے کام ہے وہاں پہ کچھ۔۔۔۔

مسٹر سائم ہم چلے جائیں گے۔اپ کے پہلے بھی ہم پر بہت احسانات ہیں۔ان کا بدلہ جھکانا مشکل ہے تو اپ کی اور مہربانیاں ہمیں اور مشکل میں ڈال دے گی۔۔لہجہ اچھا خاصا تنزیہ تھا۔مروہ نے اپنا رخ بدلا ہی تھا کہ سائم نے اس کا بازو پکڑا۔مروہ نے ایک نظر علیزے کو دیکھا جو روڈ پر ٹیکسی دیکھ رہی تھی۔پھر جلدی سے اپنا ہاتھ چھڑوایا۔چپ چاپ ا کر گاڑی میں بیٹھو ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔وہ سرگوشی میں بولتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف بڑا۔کیونکہ وہ جانتا تھا کہ مروا آئے گی۔۔

مروہ جو اگے ہی ڈری ہوئی تھی۔نے پھر سے کپکپاناشروع کر دیا۔۔

مروہ تمہیں کیا ہوا ہے۔علیزے واپس اس کے پاس ائی۔

دیکھو میری طبیعت اگے ہی ٹھیک نہیں۔ہم اس ساتھ ہی چلتے ہیں…