Sheh Rug by Aneeta NovelR50466 Shah Rung Episode 37
Rate this Novel
Shah Rung Episode 37
Shah Rung by Aneeta
اپ سب ٹھیک ہو جائے گا۔سائم اسے سینے سے لگائے دنیا بلائے بیٹھا تھا۔لیکن وہ مروہ کے انسو نہیں برداشت کر سکتا تھا۔مروہ کو اپنے سامنے کرتے اس نے اس کے انسو صاف کیے۔۔اب رونا بند کرو میری جان۔۔۔۔۔۔۔۔
ایم سو سوری۔۔یہ سب میری وجہ سے یہ ہوا تھا۔نہ میں تم سے ناراض ہوتا ۔اور نہ ہی یہ سب ہوتا۔سائم کو سچ میں اپنے اپ پر غصہ تھا۔لیکن اب سب ٹھیک ہو جائے گا۔مروہ کی انکھوں میں ابھی بھی انسو بھرے ہوئے تھے۔وہ بس سائم کو دیکھے جا رہی تھی۔
انہیں ان کے کیے کی سزا ملے گی۔سائم نے ایک دفعہ پھر مروا کو سینے سے لگایا۔لیکن اس کی سزا مجھے مت دینا۔میں تمہیں کھونے کے ڈر سے پاگل ہو جاؤں گا اب ۔۔۔۔۔
اس نے ایک دفعہ پھر مروا کو سامنے کیا۔جو بس اس کا کہا سن رہی تھی۔ہم بس شادی کرنے والے ہیں۔یہ سب یہیں پہ ختم ہوگا۔وہ دونوں ہاتھوں سے اس کے چہرے کو تھامے ہوا تھا۔میں تمہاری خاطر پوری دنیا سے لڑ سکتا ہوں۔۔۔۔
سائم۔۔۔
مروہ کی اواز نے اسے ایک دفعہ پھر اندر سے توڑا کیونکہ اس کی اواز میں درد بھرا تھا۔اور اس درد کی وجہ وہ تھا۔اسے ایسا لگتا تھا۔۔۔
بولو میری جان۔۔۔۔وہ اس کے چہرے کو تھامے اسے دیکھے جا رہا تھا۔سائم کی انکھیں بھی نم ہو چکی تھی۔۔
تمہاری موم نہیں چاہتی۔۔
وہ کبھی بھی مجھے تمہارا نہیں ہونے دیں گی۔مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔اس نے کانپتے ہو ئے ہاتھوں سے سائم کا ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹایا ۔۔۔اور تھوڑا دور ہو گئی۔۔۔
مروہ۔۔۔۔پلیز ۔۔۔
میں نے تمہیں پانے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔میں اور برداشت نہیں کر پاؤں گا۔اس نے پھر سے مروہ کو قریب کیا۔میں وہ سب کرنے کے لیے تیار ہوں جسے تم مجھ پر یقین کرو گی۔وہ التجا بڑے لہجے میں اس سے کہہ رہا تھا۔وہ اتنا بے بس ہو چکا تھا۔کہ مروہ کے پاؤں بھی پکڑنے پڑتے تو وہ پکڑ لیتا۔۔۔۔
یہ سب اتنا اسان نہیں ہے۔۔۔
میں اسے اسان بنا دوں گا۔تم بولو میں کیا کروں بتاؤ مجھے۔وہ اس کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔
میں نے کہا نا مجھے ٹائم چاہیے۔مرو نے اسے پیچھے کیا اور ٹیبل سے اپنا بیگ اٹھایا۔۔۔
مروہ۔سائم نے پھر سے اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا۔لیکن مروہ جانے کا ارادہ ترک نہیں کرنے والی تھی۔وہ بنا سنے وہاں سے چلی گئی۔۔۔سائم اسے جاتا دیکھ رہا تھا۔اور پھر دیکھتا ہی رہا۔۔۔۔
کیا تم افس نہیں گئی تھی۔علیزے نے دروازہ کھولتے ہی مروہ سے سوال کیا۔یہ تم کن کاموں میں پڑی ہوئی ہو۔ایسا کون سا افس ہے جب مرضی اؤ جب مرضی جاؤ۔علیزے کے ذہن میں ریحان کی باتیں گونج رہی تھی۔جبکہ مروہ کو کوئی ہوش نہیں تھا۔۔
میں تم سے بات کر رہی ہوں یہ کیا حلیہ بنایا ہوا ہے۔علیزے نے ہاتھ سے پکڑ کر اسے اپنی طرف کیا۔۔
کیا مسئلہ ہے علیزے یار۔مروہ نے اپنے ہاتھ کو زور سے پیچھے کیا۔کیا میں دو گھڑی سکون کے نہیں گزار سکتی۔میں اگے بہت پریشان ہوں۔مروہ کے لہجے میں انتہا کا غصہ اور شکوہ تھا۔اس کا چہرہ اترا ہوا تھا۔گلابی گال بھی ماند پڑ چکے تھے۔وہ شکایت بھرے لہجے میں۔علیزے کو دیکھتی اندر چلی گئی۔۔۔
یہ لڑکی پاگل ہو چکی ہے۔اب علیزے کو بھی بے چینی ہونے لگی تھی۔وہ چہرے پہ افسردی لیے وہیں بیٹھ گئی۔اور اس کی سوچوں نے چلنا شروع کر دیا۔وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اخر مروہ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔۔۔
موم کال اٹھائے۔وہ غصے میں پاگل ہو چکا تھا۔اور مروہ کے جانے کے بعد اس نے نہ جانے کتنی کالے ارم کو کی تھی۔۔
۔لیکن ارم پہلے ہی جان چکی تھی۔مہروش نے ساری کہانی انہیں سنا دی تھی۔۔
سائم نے اپنے موبائل کو زمین پر مارا۔ اس کی سکرین ٹکڑے ہو چکی تھی۔وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔یقینا اگر اج اس کی ماں کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ اسے کبھی نہیں چھوڑتا۔لیکن اب وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔اس نے تقریبا اپنے ارد گرد ہر چیز کو توڑنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔
موم اپ ایسا کیسے کر سکتی ہے۔۔
اپ نے سب برباد کر دیا۔اس نے اپنا ہاتھ زور سے دیوار پر مارا۔۔
فائل تو ریڈی ہے لیکن وہ مروہ کے پاس تھی۔سمیر کے پاس کھڑی لڑکی نے ایک فائل کو ٹیبل پر رکھا۔لیکن وہ اج نہیں ائی اور میں نے اسے کافی کالز بھی کی ہیں۔وہ ابھی بتا ہی رہی تھی۔۔
کہ سمیر اپنی چیئر سے اٹھا۔اوکے تم یہ فائل لے جاؤ میں مروہ سے منگواتا ہوں۔سمیر نے اسے باہر جانے کا اشارہ کیا۔اور ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھایا۔۔۔۔
مروہ فون کیوں نہیں اٹھا رہی۔اس کی تقریبا یہ تیسری کال تھی مروہ کو لیکن جواب پھر بھی نہیں ملا تھا۔تو اسے دوسرا اپشن نظر ایا۔۔۔
لیکن سائم کو فون کرتے ہی وہ سوئچ اف ملا۔سائم کا نمبر بند کیوں جا رہا ہے۔اس نے ایک ہاتھ ماتھے پہ رکھتے ہوئے کہا۔
کیا پھر سے اس میں اور مروہ میں جھگڑا تو نہیں ہو گیا
اب یہ فائل کیسے منگواؤں۔اس نے پہلے چیئر پر بیٹھنے کا سوچا۔اور پھر پتہ نہیں دماغ میں کیا ایا کہ باہر کی طرف چلا گیا۔۔۔
مہروش یہ تم نے کیا کر دیا۔ارم اپنے کمرے میں تیزی سے ٹہل رہی تھی۔اس پاگل لڑکی نے سب کچھ بگاڑ کے رکھ دیا۔وہ جینز ٹاپ پہنے۔کبھی دائیں تو کبھی بائیں جاتی۔۔۔
سائم تو اب اس بے وقوف لڑکی سے شادی کر لے گا۔ارم کو ابھی بھی مروہ کی ہی ٹینشن تھی۔کہ کہیں وہ اس کے گھر کی بہو نہ بن جائے۔اور ایسے لوگوں کی فطرت ایسی ہی ہوتی ہے۔۔
میں یہ کبھی ہونے نہیں دوں گی۔وہ پھر سے ارادہ کرتے۔دائیں سے بائیں طرف گئی۔کمرے میں اس کی ہیلز کی اواز گونج رہی تھی۔۔۔
یہ سب مہروش کی بے وقوفی کی وجہ سے ہوا ہے۔وہ کیسے ایسا کر سکتی ہے۔انے والے حالات ارم کی سوچ سے باہر تھے۔وہ کبھی خود کو تسلی دیتی تو کبھی خود کو بے چین کرتی۔اور دوسروں کو بے چین کرنے والے خود کبھی چین سے نہیں رہتے۔۔۔
سائم۔۔۔
سمیر نے بکھرے ہوئے کمرے کو دیکھا اور حیرانگی سے سائم کی کی طرف ایا۔۔
یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے۔وہ تیزی سے قدم اٹھاتا سائم کے پاس ایا جو صوفے پہ بیٹھا تھا۔کہنیوں کے سہارے دونوں ہاتھ ماتھے پہ رکھے ہوئے تھے۔سمیر کو دیکھ کر وہ تھوڑا سیدھا ہوا۔چہرہ مرجھایا ہوا تھا۔اور کچھ دیر پہلے کی تیاری بالکل غرق ہو کے رہ گئی تھی۔شرٹ کی استین کھلے تھے۔ویسٹ کوٹ ایک طرف پڑا تھا۔گھڑی اتار کر اس نے دوسری طرف پھینکی تھی۔
کچھ بتاؤ گے کیا ہوا ہے۔سمیر اس کے بالکل سامنے ا کے بیٹھا۔اس کے چہرے سے پریشانی نما تھی۔وہ حیرانگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوا۔سائم نے خود کو سنبھالتے ہوئے اسے تسلی دی۔۔
مروہ سے جھگڑا ہوا ہے۔سمیر نے پھر سے سوال کیا۔تو سائم اپنی جگہ سے اٹھ گیا۔۔۔
میں کچھ دیر سکون کا سانس لینا چاہتا ہوں۔اس نے اپنا روح کھڑکی کی طرف کیا اور باہر کا نظارہ دیکھنے لگا۔
اخر کب تک ایسے رہو گے۔۔۔
تمہارے دل میں جو ہے وہ مروہ کو بتاتے کیوں نہیں۔
تم اس لڑکی کے بغیر نہیں رہ سکتے۔اسے جا کر اپنے دل کا حال بتاؤ۔۔سمیر ہر بات سے لاعلم تھا۔تو اس نے اپنا ہی دماغ لڑانا شروع کیا۔اور سائم کو مشورہ دینے لگا۔۔
تو تمہیں لگتا ہے کہ میں نے نہیں بتایا ہوگا۔وہ دوسروں کے کیے کی سزا ہمیشہ مجھے دیتی ہے۔اور میں بھی اس اسے کوئی سکون نہیں دے پایا۔غصے بڑے لہجے میں ایک دم سے شاستگی ائی تھی۔اواز بھی تھوڑی دیمی ہو گئی تھی۔۔اس کے لہجے میں شکوہ اور شکایت دونوں تھے۔۔۔۔
اسے پیار سے سمجھاؤ۔اگر ناراض ہے تو مناؤ۔میں نے مروہ کی انکھوں میں کبھی خوشی نہیں دیکھی۔میں جب سے اسے ملا اسے کھویا ہوا ہی پایا ہے۔سمیر نے ہاتھ سائم کے کاندھے پہ رکھا۔تم دونوں ایک دوسرے کے لیے بنے ہو۔تو پھر یہ دوری یہ جھگڑے کس لیے ہے۔۔
دوسروں کے کیے کی سزا خود کو مت دو۔۔
ابھی بھی وقت ہے۔اپنی محبت کو پا لو۔اسے جا کر منا لو۔
وہ ناراض ہو تو میں مناؤں نا۔وہ بیزار ہو چکی ہے۔مجھ سے اور مجھ سے وابستہ ہر چیز سے۔۔۔
اسے مجھ پر یقین نہیں ہے۔میری محبت پر یقین نہیں ہے۔
تو اسے یقین دلواؤ نا۔اسے ابھی تمہاری زیادہ ضرورت ہے۔یہ وقت ہاتھ سے مت جانے دو۔سمیر کے ان الفاظ نے سائم کے دل پہ وار کیا تھا۔اس نے ایک نظر سمیر کو دیکھا اور پھر باہر دیکھنے لگا۔۔
مروہ کو اب سائم کی محبت کا احساس تو ہو گیا تھا۔لیکن ارم کی وجہ سے وہ پیچھے ہٹ چکی لیکن اس کہ دل میں سائم کے لیے محبت جاگ گئی تھی۔اور یہ شاید سائم کی شدت کی وجہ سے تھا۔یہ شاید یہ محبت کبھی ختم ہی نہیں ہوئی تھی۔۔
مروہ دروازہ کھولو۔علیزے پہلے بھی دو تین دفعہ ا چکی تھی۔پر اس بار کچھ زیادہ بے چین تھی۔۔
دروازہ کھولو باہر سائم ایا ہے۔مرو ایک دم سے بیڈ سے اٹھی اور دروازہ کھول دیا۔کہاں ہے سائم مروہ نے ایسے ری ایکٹ کیا تھا جیسے وہ اس کا انتظار بے تابی سے کر رہی ہے۔۔۔
ڈرائنگ روم میں بیٹھا ہے دادا جان اور ریحان کے پاس۔اور علیزے کو صبح والی بحث کا غصہ تھا۔تو وہ ابھی بھی مروہ سے غصے میں بات کر رہی تھی۔۔۔
وہ وہاں کیوں بیٹھ گیا وہ ان سے کیا بات کرے گا۔مروہ نے جلدی سے بیڈ سے اپنا دوپٹہ اٹھایا۔یہ ان سے کوئی بات ہی نہ کر دے۔مروہ تیز تیز قدم اٹھاتی ڈرائنگ روم کی طرف
گئی۔۔
لیکن وہ جیسے ہی وہاں پہ پہنچی تو صورتحال کچھ اور تھی۔سائم اور دادا جان اور ریحان کسی بات پہ خوب ہنس رہے تھے۔سائم نے صبح والی ڈریسنگ ہی کی ہوئی تھی۔اس نے ہنستے ہنستے مروہ کی طرف دیکھا اور چپ ہو گیا۔مروہ بالکل دروازے کے بیچ کھڑی تھی۔۔
لو مروہ بیٹی بھی اگئی۔دادا جان نے اسے اندر انے کا اشارہ کیا۔لیکن مروہ پہلے ہی اندر ا چکی تھی۔۔۔
وہ سائم کو انکھیں نکالتے ہوئے اس کے سامنے بیٹھ گئی۔
میں ذرا علیزے کو دیکھتا ہوں چائے ابھی تک نہیں بنی۔ریحان یہ کہتا ہوا باہر نکلا۔۔
مروہ بیٹا تم نے کبھی سائم کا ذکر نہیں کیا۔ہم نے تو بیٹا اس کے منہ سے عثمان اور سائرہ کے بارے میں ہی سنا تھا۔اور اس نے یہ بھی نہیں بتایا کہ یہ تمہارے افس میں کام کرتی ہے۔۔
مروہ نے پھر سے نظریں سائم کی طرف کی۔کتنے جھوٹے ہو تم سائم اس نے دل میں کہا۔اور یہاں کیا لینے ائے ہو۔وہ بہت بے چین ہو رہی تھی۔
دادا جان اپ فکر کیوں کرتے ہیں۔اب میں اگیا ہوں نہ میں اپ کو ساری باتیں بتایا کروں گا۔اور بھی بہت کچھ ہے جو اپ مروہ کے بارے میں نہیں جانتے۔مروہ نے پھر سے حیرانگی سے اسے دیکھا۔وہ تھوڑی دیر کے لیے اپنی ٹینشن بھول گئی تھی۔اور یہ ٹینشن پال لی تھی۔۔
امجد میاں کی سائم سے تھوڑے ہی وقت میں اچھی دوستی ہو گئی تھی۔بڑھاپے کی اس عمر میں انسان کو چاہیے کیا ہوتا بس ایک انسان جو ان کے دکھ درد شیئر کر سکے۔وہ خوش نصیب ہوتے ہیں۔جن کے سر پہ بڑوں کا سایہ ہوتا ہے۔۔
دادا جان اپ کی میڈیسن کا ٹائم ہو گیا ہے۔مروہ نے ان کی بات کو کاٹتے ہوئے کہا۔پھر سے شوگر ہائی ہو جائے گی۔اپ کو میڈیسن کھا کے ارام کرنا چاہیے۔اور سائم بھی جانے والا ہے۔مروہ نے پھر سے اسے انکھیں نکالی۔۔۔مروہ کو ٹینشن تھی کہ کہیں وہ دادا جان کو کچھ بتا نہ دے۔ سائم کتنا جذباتی ہے وہ اچھے سے جانتی تھی۔۔۔
بیٹا سائم تو کوئی افس کا کام کرنے ایا ہے۔کہہ رہا تھا فائل تمہارے پاس دادا جان کھانستے ہوئے بولے تو مروا نے ان کے کمر پر ہاتھ رکھا۔دیکھا اپ نے میڈیسن نہیں کھائی نا۔سائم بھی ان کی دوسری طرف ا کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
بالکل اپ کو میڈیسن ٹائم پر کھانی چاہیے۔سائم نے انہیں پانی کا گلاس دیتے ہوئے۔اپنا ہاتھ مروہ کے ہاتھ پہ رکھا۔جو مروا نے دادا جان کی کمر پر رکھا تھا۔مروہ نے اسے انکھیں نکالی۔لیکن سائم پر کوئی اثر نہیں ہوا۔وہ اپنی انگلیوں کو اس کے ہاتھ پہ پھیر رہا تھا۔کہ اچانک سے علیز ے ائی۔تو دونوں سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔۔
سوری تھوڑی دیر ہو گئی۔گیس نہیں ا رہی تھی۔علیزے نے چائے کا کپ سائم کے سامنے رکھا۔دادا جان کے سامنے اور پھر مروہ کے ۔۔
مہروش کو بھی ساتھ لے اتے۔اس سے بھی ملاقات ہو جاتی۔
سائم نے ابھی چائے کا کپ اٹھایا ہی تھا۔ایک دم سے علیزے کی بات سن کر اسے زور کا دھچکا لگا۔چائے اس کی شرٹ پر گر گئی تھی۔۔
یا اللہ۔۔
یہ کیا ہو گیا۔علیزے فورا سے اٹھی۔اور ٹشو سائم کی طرف بڑھایا۔ جو پہلے ہی ٹیبل پر پڑا ہوا تھا۔۔۔
نہیں علیزے میں کر لوں گا سائم نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھا۔واش روم کس سائیڈ ہے۔سائم نے ایک ہاتھ سے شرٹ کے اس حصے کو پکڑا ہوا تھا۔۔
مروہ بیٹی دادا جان نے پکارا ہی تھا۔۔
ہاں میں لے کے جاتی ہوں۔مروہ فورا سے اٹھی۔کیونکہ وہ خود سائم سے سوال کرنا چاہتی تھی۔کہ وہ یہاں کیوں ایا ہے۔۔۔
تمہارے جھوٹوں کی کوئی حد نہیں ہے مروہ۔وہ دونوں اب باتھ روم میں کھڑے تھے۔سائم پانی سے شرٹ کو صاف کر رہا تھا۔ویسٹ کوٹ اتار کر اس نے مروہ کو دیا تھا۔اب بتاؤ میں علیزے کو کیا بتاؤں۔ ضرورت کیا تھی یہ بولنے کی۔سائم کو سچ میں سمجھ نہیں ارہا تھا۔کے وہ کیسے ایکسپلین کرے گا۔۔۔
مجھے غصہ تھا۔مروہ جو دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑی تھی۔اسے دیکھتے ہوئے بولی۔۔
تو غصہ مجھ پہ نکالتی نا۔سائم نے روح اس کی طرف کیا۔۔
۔اب تم علیزے کو بتاؤ سچ۔وہ قدم اٹھا کر اس کے پاس ایا تو مروہ بھی سیدھی ہو کے کھڑی ہو گئی۔۔۔
کیوں سچ بتانے کی کیا ضرورت ہے۔مروہ نے منہ بناتے ہوئے کہا۔۔۔
سائم اب اس کے قریب ا رہا تھا۔اچھا ضرورت نہیں ہے۔
یہ کیا کر رہے ہو۔یہ ہمارا گھر ہے۔۔
کیوں تم لوگوں کے گھر میں پیار کرنے پہ کوئی پابندی ہے۔سائم کا ایک ہاتھ اب دیوار پہ تھا۔اور مروہ اس کی گرفت میں تھی۔۔۔
جو تھوڑی عزت تمہاری علیزے کے سامنے رہ گئی ہے نا وہ بھی چلی جائے گی۔پیچھے ہٹو۔۔۔۔۔۔۔
مروہ نے اس کے سینے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے پیچھے کیا۔ویسٹ کوٹ اس کے ہاتھ میں دیا اور کمرے کی طرف ا گئی۔۔۔
سائم نے ہلکی سے مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا۔اور پھر اس کے پیچھے ایا۔۔۔
تم اتنا بھاگتی کیوں ہو مروہ۔سائم نے اسے اپنی طرف کیا۔
سائم تم پاگل ہو گئے ہو۔سب گھر پہ ہے۔اب جلدی سے جاؤ یہاں سے۔۔
میں کہیں نہیں جانے والا۔تب تک جب تک تمہارا موڈ اچھا نہیں ہوتا۔اور ان گالوں پہ سمائل نہیں دیکھتا۔اس نے اس کے گال کو کھینچتے ہوئے کہا۔۔
کیا کر رہے ہو۔مروہ کو درد محسوس ہوا تو اس نے اس کا ہاتھ پیچھے کیا۔اور اپنا ہاتھ گال پہ رکھا۔سائم چہرے پہ مسکراہٹ سجائے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
ائی لو یو سو مچ۔۔۔۔۔سائم نے اس کے ماتھے پہ بوسہ دیا۔۔۔
