Sheh Rug by Aneeta NovelR50466 Shah Rung Episode 4
Rate this Novel
Shah Rung Episode 4
Shah Rung by Aneeta
یہ تمہیں ہی لے کے جانے پڑے گی مجھے یہ ایریا بھی ڈیکوریٹ کرنا ہے سائرہ نے دوبارہ پھولوں کو ہاتھ میں پکڑا اور کام میں مصروف ہو گئی۔۔۔۔۔۔
مروہ کچھ دیر تو کھڑی اسے دیکھتی رہی پھر قدموں کا رخ واپس موڑ لیا۔۔۔۔
مجھے تو سچ میں یقین نہیں ہو رہا کہ سائم نے یہ سیٹ میرے لیے لیا ہے اس کی چوائس بہت ڈفرنٹ ہے مہروش ہاتھ میں پکڑے نیکلس کو لمحہ بہ لمحہ دیکھ رہی تھی۔۔
جسے اگلے ہی لمحے وہ گلے میں زیب تن کر چکی تھی۔۔۔
پتہ نہیں وہ میرے بارے میں کیا سوچ رہی ہوگی ہمیشہ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے اس نے لیمپ کے بٹن کو اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا اور ان اف کرنے میں مصروف تھا اتنے میں دروازے پہ دستک ہوئی جو اس نے سنی ان سنی کر دی اور پھر سے خیالات کی دنیا میں مگن ہو گیا۔۔
مروہ باہر دروازے پہ کھڑی نوک کر رہی تھی اس کے ایک ہاتھ میں فائل تھی جسے اس نے فولڈ کیا ہوا تھا اور دوسرا ہاتھ دروازے پر تھا۔۔۔۔
اب کیا مسئلہ ہے ؟
سائم نے دروازے کو بہت تیزی سے کھولا تھا اتنا تیزی سے کہ اگر مروہ کا ہاتھ دروازے پر ہوتا تو یقینا وہ اندر کی طرف گرتی ۔۔
مروہ کو دیکھتے ہی سائم کے تاثرات بدل چکے تھے۔
وہ کافی دیر اسے دیکھتا رہا۔۔۔۔
اس نے ایک نظر اس کے ہاتھ میں پکڑی فائل کو دیکھا اور اندر داخل ہونے کے لیے راستہ چھوڑ دیا۔۔۔۔۔
یہ فائل۔۔
مروا نے ہاتھ میں پکڑی فائل سائم کو دینا چاہیی اس کے ہاتھ مسلسل کانپ رہے تھے اور وہ سائم کو بالکل بھی دیکھنا نہیں چاہتی تھی اس نے جھکی ہوئی نظروں سے بات مکمل کی۔۔۔۔
اسے اندر لے کر اؤ۔۔۔۔
سائم کی سمجھ سے باہر تھا کہ اسے کیا کہنا ہے وہ شاید اس سے بات کرنا چاہتا تھا اس نے ایک دفعہ پھر اسے اندر انے کا کہا اور ایک نظر باہر دہرائی جہاں پہ ویٹر کام میں مصروف تھے۔۔۔
میں یہ فائل دینے ائی ہوں۔ اپ پلیز پکڑ لے اس نے فائل کو سائم کے سینے پہ رکھا اور جانا چاہا لیکن اگلے ہی لمحے سائم نے اسے ہاتھ سے پکڑا اور کمرے کے اندر کر لیا۔۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔
میرا ہاتھ چھوڑیں مروہ نے دوسرے ہاتھ کو حرکت میں لاتے ہوئے اپنے ہاتھ کو سائم کی گرفت سے چھڑوانا چاہا لیکن سائم بہت مضبوط جسم کا مالک تھا اسے اس کی حرکت کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ سائم نے اگلے ہی لمحے روم لاک کیا اوراس کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اتنی سردی میں بھی مروہ کا جسم اگ کی طرح گرم تھا جس کی گرمائش سائم بھی محسوس کر رہا تھا اس نے مروہ کے ہاتھ کو بہت زور سے پکڑا ہوا تھا مروہ کا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا جسے سائم بھی محسوس کر رہا تھا۔۔۔
بس تھوڑی دیر یہاں بیٹھو مجھے بات کرنی ہے سائم نے ایک دفعہ پھر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ شاید اطمینان سے اس سے بات کرنا چاہتا تھا۔۔
میرا ہاتھ چھوڑو۔۔۔
مروہ نے دوسرا ہاتھ سائم کو تھپڑ مارنے کے لیے اٹھایا جسے اگلے ہی لمحے سائم نے پکڑ لیا۔۔۔
یہ غلطی دوبارہ مت کرنا اب مروہ کے دونوں ہاتھ سائم کے ہاتھوں میں تھے وہ بہت بے بس ہو چکی تھی اور بس کسی طرح اپنے ہاتھوں کو اس کی گرفت سے چھڑوانا چاہتی تھی۔۔
مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی۔۔
تمہیں مجھ سے مسئلہ کیا ہے پلیز ہاتھ چھوڑو مروہ نے سائم کی انکھوں میں دیکھا جو مسلسل اسے دیکھے جا رہا تھا۔۔
سائم نے ایک جھٹکے میں اسے اور قریب کیا۔
اس کو گھبراتے دیکھ سائم نے اگلے ہی لمحے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنی گرفت سے ازاد کر دیا تھا اسی افرا تفریح میں اس کے ہاتھ پہ بندہ بریسلٹ جو کالے موتیوں سے بنا ہوا تھا ٹوٹ کر زمین پر بکھر گیا مروہ کے بازو پہ گہرا سرخ نشان پڑ گیا تھا اس نے ایک نظر بکھرتے موتیوں کو دیکھا پھر دروازے کی طرف منہ کر کے اسے کھولنا چاہا۔ ۔
سائم مسلسل اسے دیکھے جا رہا تھا اسے دروازے کی طرف جاتا دیکھ اس نے ایک دفعہ پھر اسے روکا مجھے بس بات کرنی ہے پھر چلی جانا سائم نے اپنا ایک ہاتھ دروازے پہ رکھ چکا تھا جو شاید لاک سے بھی زیادہ مضبوط تھا۔۔
تم یہ کیا کر رہے ہو۔پلیز جانے دو۔۔
اور تم نے مجھ سے کیا بات کرنی ہے اور کیوں کرنی ہے میں تمہاری کیا لگتی ہوں مروہ کے ہاتھ ابھی تک بری طرح کانپ رہے تھے سائم جو کہ اس کی پشت پہ کھڑا تھا اس کی گھبراہٹ اچھے سے محسوس کر رہا تھا۔۔۔
دو منٹ سننے میں تمہارا کیا جاتا ہے اگر تم ارام سے بات سن لو گی تو مجھے یہ سب نہیں کرنا پڑے گا۔۔ سائم نے اپنے ہاتھ سے اس کے بال پیچھے کیے اور اسے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔۔ ۔۔۔
اگلے ہی لمحے مروا اس سے دور ہو چکی تھی کیونکہ سائم کی اس حرکت سے اسے اندازہ ہوا کہ ابھی تک وہ دونوں بہت قریب کھڑے ہیں اس سے پہلے کہ سائم کچھ کہتا دروازہ نوک ہونا شروع ہو گیا جسے سن کر سائم تو ریلیکس تھا لیکن اتنی سردی میں بھی مروہ کے ماتھے پے سینہ انا شروع ہو گیا اس نے ایک نظر دروازے کو دیکھا اور پھر سائم کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔
سائم دروازہ نہیں کھولنا چاہتا تھا اس نے کچھ سوچا اور پھر دروازہ کھول دیا۔۔۔
نیچے پارٹی شروع ہو چکی ہے سر میم اپ کو بلا رہی ہے دروازے پہ کھڑی لڑکی نے ابھی بات مکمل بھی نہیں کی تھی کہ مروہ فورا سے باہر اگئی شاید اسے دوبارہ سے کمرہ لاک ہونے کا ڈر تھا۔۔
وہ لڑکی اتنی سی بات کر کے جا چکی تھی۔۔۔۔
مروہ۔سائم نے اسے روکنا چاہا۔پر وہ تیز تیز قدم اٹھاتی وہاں سے چلی گئی۔۔۔
____
مروا تم یہاں کھڑی ہو میں پورے گھر میں تمہیں ڈھونڈ رہی ہوں مروا گھر کے پچھلے حصے میں کھڑی تھی ۔جہاں ایک بڑا سویمنگ پول تھا اور چاروں طرف بڑے بڑے گھاس تھے وہ ایک کونے میں کھڑی ابھی تک اپنے ہاتھ کو پکڑے ہوئی تھی۔۔۔
میں تم سے بات کر رہی ہوں سائرہ اس کے بالکل سامنے کھڑی تھی اس کی انکھیں سوالیہ نظروں سے مروہ کو گھوڑے جا رہی تھی۔۔۔
میں نے تمہیں کہا تھا نا یہاں سے چلو۔۔
مروہ نے ایک لمبی سانس لیتے ہوئے بات شروع کی اس کے ہاتھ ابھی تک کانپ رہے تھے اگلے ہی لمحے اس نے سارا واقعہ سنا دیا۔۔۔
اس کی ہمت کیسے ہوئی تم ابھی چلو ہم کمپلین کرتے ہیں سائرہ کو بہت غصہ ایا تھا یہ امیر گھروں کے لڑکے بگڑے ہوئے ہی ہوتے ہیں جنہیں نہ تو اپنی عزت کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ کسی اور کی۔۔۔۔
کہیں سے نہیں لگتا کہ یہ ایک مسلمان خاندان ہے یا ان کا بھی تعلق پاکستان سے ہے ان کے ڈریسنگ ان کا لائف سٹائل سب کچھ یورپین سٹائل مروہ یہ کہتے ہوئے چپ ہو گئی۔۔ اور دوبارہ سے اپنا ہاتھ دیکھنے لگی جو کچھ لمحہ پہلے سائرہ کے ہاتھ میں تھا۔۔
تم ایک دفعہ مجھے دکھاؤ تو یہ سائم ہے کون پھر دیکھنا میں کیسے لائن پہ لے کے اتی ہوں سائرہ نے دوبارہ سےاس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا اتنی دیر میں اوپر سے ایک سیٹی کی اواز ائی سائرہ اور مروہ دونوں چونک کر اوپر دیکھنے لگی۔۔۔
سائم جو بالکنی میں کھڑا کب سے ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا دونوں کو دیکھ کر ایک ہلکی سی سمائل دی اور انکھ کے اشارے سے اپنا تعارف کروایا۔۔۔ جیسے وہ سائرہ کو بتانا چاہتا تھا کہ وہ سائم مردان ہے سائم کے دونوں ہاتھ پلر پر تھے۔۔
کیا یہ سائم ہے سائرہ نے سرگوشی سے پوچھا۔۔۔۔
ہاں یہی ہے اس کی نظریں سائم پر تھی اور بات وہ سائرہ سے کر رہی تھی۔۔
اس نے تو ساری باتیں سن لی ہوں گی مروہ نے تھوڑا سائرہ کے قریب ہو کر کہا۔۔
ویسے اپس کی بات ہے یہ ہے بہت ہینڈسم ہے سائرہ نے پھر ایک دفعہ اوپر دیکھا۔۔
سائم کی نظریں مسلسل مروہ پر تھی وہ چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ لیے اسے دیکھے جا رہا تھا۔۔۔
اس کی نیت اچھی نہیں ہے ہمیں یہاں سے چلنا چاہیے مروہ نے بہت زور سے سائرہ کا بازو پکڑا اور دروازے کی طرف چلنے کا کہا سائرہ نے پہلے تو کچھ سوچا پھر اس کی گبراہٹ دیکھ کر اس کے ساتھ چل پڑی۔۔
سائم تم یہاں کھڑے ہو چلو پارٹی سٹارٹ ہو چکی ہے مہروش نے ہاتھ سائم کے کاندھے پہ رکھا اس کی ہیلز کی ٹک ٹک سے سائم کو پہلے ہی اس کے انے کا اندازہ ہو چکا تھا اس نے اگلے ہی لمحے اس کا ہاتھ کاندھے سے ہٹایا۔۔
تمہاری ویلکم پارٹی میں میری اینٹری ضروری نہیں ہے جتنا جلدی اس بات کو سمجھ لو گی اتنی اذیت سے بچ جاؤ گی مروا کی وجہ سے سائم اپنے سے باہر ہو چکا تھا یہ کہتے ہی وہ کمرے کی طرف چلا گیا۔۔
وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہونے ہی والا تھا کہ اس کی نظر زمین پر بکھرے موتیوں پر پڑی جنہیں اٹھانے کے لیے وہ نیچے جھکا اس نے سارے موتیوں کو زمین سے اٹھا لیا تھا۔
ان موتیوں کا رنگ کالا تھا اور درمیانے سائز کے تھے اور تعداد میں 12 موتی تھے سائم کافی دیر تک ان موتیوں کو ہاتھ میں پکڑے اسی کی سوچوں میں گم تھا شاید اس کے ذہن میں یہ بھی نہیں تھا کہ وہ زمین پر کس انداز میں بیٹھا ہوا ہے۔
ہاں یہ سیٹ سپیشل سائم نے میرے لیے بنوایا ہے مہروش پاس کھڑی دو لڑکیوں کو دکھاتے ہوئے بولی اور پہنایا بھی خود ہی ہے اس کی انگلیاں ابھی تک نیکلس پر ہی تھی۔
سائم پارٹی میں کیوں نہیں ایا پاس کھڑی لڑکیوں میں سے ایک بولی جنہوں نے ہاتھ میں جوس کہ گلاس اٹھائے ہوئے تھے۔
اس کی ارجنٹ میٹنگ اگئی تھی اب بزنس بھی تو نہیں چھوڑ سکتے نا مہروش نے بات گھمانے کی کوشش کی یہ سپیشل ڈرنک نہیں ٹرائی کرو گی اس نے پاس کھڑے ویٹر سے ایک گلاس لیا اور انہیں بھی لینے کا اشارہ کیا اور دوسری طرف چلی گئی۔سبھی لوگ پارٹی انجوائے کر رہے تھے۔پورے لان کو پھولوں سے ڈیکوریٹ کیا ہوا تھا۔اور لائٹنگ بھی بے شمار تھی۔ڈی جے انگلش گانے لگا رہا تھا۔
رات کافی ہو چکی تھی پر مروا ابھی تک اج کے واقعے میں گم تھی وہ سائم کی محبت سے بالکل باخبر تھی وہ اسے ایک بگڑا ہوا لڑکا تصور کر رہی تھی۔۔ وہ صوفے پہ ٹیک لگائے بیٹھی تھی اس کے دونوں پاؤں سامنے رکھے ہوئے ٹیبل پر تھے ۔
زندگی سمندر جیسی گہری ضرور ہے۔پر سمندر جتنی خوبصورت نہیں۔سمندر کی لہریں انسانی روح کو سکون دیتی ہیں۔جبکہ زندگی کی لہریں انسان کے عکس تک کو مٹا دیتی ہیں۔۔۔
سائم ہاتھ میں ڈائری لیے صوفے پہ بیٹھا ہوا تھا۔اس کی ایک ٹانگ صوفے پر تھی جسے اس نے فولڈ کیا ہوا تھا۔جبکہ دوسری زمین پر۔اس نے سر کے نیچے کوشن رکھا ہوا تھا۔اور سائیڈ لیمپ آن کیا ہوا تھا۔لیکن اج اسے کہیں بھی سکون نہیں مل رہا تھا۔وہ مروہ میں ہی گم تھا۔تھوڑی ہی دیر بعد اس نے ڈائری کو بند کر کے اپنے سینے پہ رکھا۔لگتا ہے محبت میں کتابیں بھی اثر نہیں کرتی۔دھیمے لہجے میں کہتے ہوئے سائم نے انکھیں بند کر لی۔
تمہاری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی مروہ۔۔
ایسا کرو اج چلی جاؤ میں کاؤنٹر پہ بیٹھتا ہوں عثمان نے ایک نظر مروہ کو دیکھا اس کو بہت تیز بخار تھا۔۔
وہ ہاتھ میں پکڑے ٹشو کی مدد سے انکھ سے نکلنے والے پانی کو صاف کر رہی تھی جو بخار کی وجہ سے ا رہا تھا اس نے ملٹی کلر کی شال سے خود کو کور کیا ہوا تھا۔۔
ہاں مجھے نہیں لگتا میں اور کھڑا ہو سکتی ہوں۔
مروا نے شال ٹھیک کرتے ہوئے کہا اور سامنے ٹیبل پر پڑے اپنے بیگ کو اٹھایا اور اپنی چیزیں اس میں ڈالنے لگی۔۔
یہ روز کے ڈراموں سے میں تنگ اگیا ہوں مجھے اس مہینے اپنے پورے پیسے چاہیے ایک 30 35 سالہ لڑکا حالد میاں کے دروازے پہ کھڑا تھا اور بہت زور سے چلا رہا تھا حالد میاں بہت مشکل سے دروازے کا سہارا لے کے کھڑے ہوئے تھے۔۔
داد دادا جان میں بات کرتی ہوں۔۔
علیزے جو دادا جان کی پشت پہ کھڑی تھی انہیں ہلکا سا پیچھے کیا جنہوں نے کھانستے ہوئے اسے کچھ اشارہ کرنا چاہا۔۔
تمہارے پیسے مل جائیں گے اس مہینے کے اینڈ پر اب یہاں سے دفع ہو جاؤ اور دوبارہ نہیں انا علیزے جو ایک ہاتھ میں دروازہ پکڑے کھڑی تھی نے زور سے دروازہ بند کیا۔۔
ہاں یہ مہینہ اخری سمجھو پھر میں پولیس اسٹیشن کا رخ کروں گا اس ادمی نے ایک دفعہ پھر اواز لگائی اور وہاں سے چلا گیا۔
دادا جان میں نے اپ کو کہا تھا مجھے مروہ سے بات کرنے دیں کچھ نہ کچھ تو کر ہی دے گی علیزے نے دادا جان کو سہارا دیتے ہوئے چارپائی پہ بٹھایا اور کچن میں پانی لینے چلی گئی۔
یہ رقم بہت بڑی ہے ابھی پچھلے مہینے تو اس کی نوکری لگی ہے وہ کیسے کرے 35 لاکھ کا انتظام دادا جان نے کھانستے ہوئے بات مکمل کی۔۔
میری قسمت اس معاملے میں کیوں خراب ہے جب بھی ایمرجنسی ہوتی ہے مجھے ٹیکسی نہیں ملتی مروہ کا جسم اگ کی طرح تپ رہا تھا اس کی انکھوں سے مسلسل پانی ا رہا تھا اس کی انکھیں مکمل ریڈ ہو چکی تھی اور ناک بھی۔۔
کیا میں چھوڑ دوں۔۔
سائم نے بریک لگاتے ہی ونڈو نیچے کی اور انکھوں سے گلاسزکو ہٹایا اس نے ہاتھ پہ فٹنس گلبس پہنے ہوئے تھے۔شاید جم سے ا رہا تھا۔۔۔
مروہ نے ایک نظر سائم کو دیکھا لیکن اسے اس ٹائم کسی چیز کی ہوش نہیں تھی اس نے رخ دوسری طرف کر لیا ۔مروہ کی حالت کا اندازہ کوئی دور سے بھی لگا سکتا تھا۔سائم اسے دیکھتے ہی گاڑی سے نیچے اترا۔۔
تم ٹھیک تو ہو۔۔۔
سائم نے اس کی حالت دیکھتے ہوئے کہا اس نے بلیک کلر کی کارگن اور نیچے سیم جوگر پہنے ہوئے تھے اور کسی ہیرو سے کم نہیں لگ رہا تھا۔۔
تم یہاں سے چلے جاؤ اج میں پولیس کمپلین کر دوں گی وہ دو قدم پیچھے جاتے ہوئے بولی لیکن اس کی اواز سے اس کی حالت کا اندازہ ہو رہا تھا۔۔
اپنی حالت تو دیکھو چلو اؤ یہاں پاس ہی کلینک ہے سائم نے ہاتھ اس کی طرف بڑھایا مروہ نے نا میں سر ہلایا۔ اور ہاتھ میں پکڑے بیگ کو مضبوطی سے پکڑ لیا کیونکہ اس ٹائم سہارے کے لیے اس کے پاس یہی تھا ۔
