266K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Rung Episode 6

Shah Rung by Aneeta

خاموش ہو جاؤ مروہ خاموش اس سے پہلے کہ میں کچھ کر بیٹھوں سائم نے مروہ کو پیچھے ہٹایا شاید اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ اس نے کافی زور سےاسے پکڑا ہے اور اگے پیچھے دیکھنے لگا۔۔

سائم نے دو انگلیوں کو پریشانی پہ ٹھکایا۔۔۔۔۔۔۔

مروا نے بازو کو دباتے ہوئے نظریں اگے پیچھے گھمائی سبھی اپنے اپنے کیمبن سے باہر تھے اور انہیں دیکھ رہے تھے مروہ سائم کے غصے سے بہت ڈر چکی تھی اور کچھ بولے بغیر تیز تیز قدم اٹھاتی وہ افس سے باہر نکلی۔۔۔۔۔

_________

اخر کون ہے یہ لڑکی میٹنگ روم میں بیٹھی اجے نے پاس بیٹھے لڑکے سے کہا اب ہمیں کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں ہے جو کرے گی یہ لڑکی کرے گی اس نے ٹانگ کے اوپر ٹانگ رکھی اس نے بہت تنگ لباس پہنا ہوا تھا جس کے استین تو بالکل بھی نہیں تھے اس کے بال چھوٹے تھے جو بمشکل کندھے تک ا رہے تھے۔۔۔

ہمارے کام یہ کیسے ا سکتی ہے پاس بیٹھی لڑکی نے حیرانگی سے کہا اور کرسی کو اجے کے پاس لے کے اگئی۔۔۔

تم بس اس لڑکی کی ساری انفارمیشن شام تک مجھے دو یہ ہمارے بہت کام ا سکتی ہے یہ کہتے ہوئے وہ اٹھ گئی اور باہر کی طرف چلنے لگی باقی سب پہلے ہی میٹنگ چھوڑ کے جا چکے تھے۔۔۔

______________

اس بات سے ہمارے بزنس پہ کیا اثر پڑے گا تم جانتے ہو میں کچھ پوچھ رہا ہوں سائم کون ہے وہ لڑکی ہارون کو پہلے ہی ساری بات کا علم ہو چکا ہے افس سے۔۔۔۔

میں اس وقت اپ کو کچھ نہیں بتا سکتا پلیز ڈیڈ تھوڑی دیر کے لیے مجھے اکیلا چھوڑ دیں یہ کہتے ہوئے سائم اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔

وہ بہت ہی پزل ہو چکا تھا ان سب میں۔۔۔۔۔۔۔

زندگی میں پہلی دفعہ تم نے کوئی کام اچھے سے کیا ہے اب مرد ہوا تو دوبارہ تمہارے راستے میں نہیں ائے گا سائرہ نے مروہ کو تھپکی دی دونوں ایک ہی بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی ہاتھ میں چائے کا کپ تھا مروہ نے ایک لوز سی شرٹ پہنی ہوئی تھی جس کا رنگ اڑا ہوا تھا وہ سونے سے پہلے یہ شرٹ پہن لیا کرتی تھی جب کبھی اس نے کچھ ہیوی پہنا ہوتا تھا۔۔۔۔۔

مروہ کو بھی اپنے کارنامے پہ کافی فخر تھا ۔۔۔۔۔۔۔

________________

اس لڑکی کا نام مروہ ہے سٹوڈنٹ ویزے پہ یہاں ائی تھی۔۔۔

اب ایک فیری میں جاب کرتی ہے اور اپنی دوست کے ساتھ ایک فلیٹ میں رہتی ہے جو گیس ٹاؤن میں ہی ہے لڑکے نے فائل ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔…..

بہت خوب فائل اگلے ہی لمحے اجے کے ہاتھ میں تھی مجھے سب سے پہلے اس سے دوستی کرنی پڑے گی جس کے لیے مجھے بہت اچھا بننا پڑے گا ۔اجے فائل لہراتے ہوئے اس سے بات کر رہی تھی ۔اجے کی کمپنی کو بھی سائم سے مسئلہ تھا۔اور اجے کو پرسنل بی۔

یہ پہلے تو سائم کو بہت پسند کرتی تھی لیکن جب سائم نے اسے گھاس نہیں ڈالی تو اس نے اسے اپنا دشمن مان لیا یہی وجہ تھی کہ وہ ہر کوشش کرنا چاہتی تھی جس سے سائم کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔۔

____________________________

زندگی گزارنے کے لیے دل اور دماغ دونوں کا استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے وہ لوگ ہمیشہ دھوکہ کھاتے ہیں جو صرف دل یا صرف دماغ کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ اگر صرف دل کی نظروں سے دیکھو گے تو ہر ایک کو مظلوم پاؤ گے اور اگر صرف دماغ کا استعمال کرو گے تو تمہیں ساری دنیا ظالم لگے گی۔۔

مروہ کا ایک ہاتھ لیپ ٹاپ کہ ٹچ پیڈ پر تھا جسے وہ لکھتی جا رہی تھی لیپ ٹاپ کی روشنی اس کے چہرے کو چمکا رہی تھی اس نے خود کو گرم کمبل میں لپیٹا ہوا تھا اور بالوں کا جوڑا بنایا ہوا تھا وہ مسلسل لکھے جا رہی تھی ایک صفحے سے دوسرا صفحہ اتا جا رہا تھا ۔۔

اج شاپنگ پر چلیں اگر تمہارے پاس ٹائم ہو مہروش ابھی ابھی حال میں داخل ہوئی تھی سائم کو بیٹھا دیکھ وہ فورا بولی اور اس کے پاس ا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔

تمہاری شاپنگ میں میرا کیا کام سائم کا سارا دھیان ڈائری میں تھا جو اس کے ہاتھ میں تھی اس نے ایک نظر بھی مہروش کو نہیں دیکھا تھا۔۔۔

میرے لیے پلیز مہروش نے ہاتھ سائم کے ہاتھ پہ رکھنا چاہا جس کا اندازہ سائم کو پہلے سے ہو چکا تھا۔۔

میرے دل میں تمہاری لیے کچھ بھی نہیں ہے جتنا جلدی ہو جائے اس بات کو دماغ میں بٹھا لو۔۔

یہ کہتے ہی سائم اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔

لیکن میں اپ کو نہیں جانتی اپ نے مجھ سے کیا بات کرنی ہے مروہ بہت حیرانگی سے اجے کو دیکھا جو اس سے ملنے فیری ائی تھی۔۔

تم مجھے نہیں جانتی لیکن میں تمہیں بہت اچھے سے جانتی ہوں سائم مردان کا اگلا شکار ہو یہ کہتے ہوئے وہ ایک قدم اگے ائی وہ دونوں سمندر کے کنارے کھڑی تھی ہوا بہت تیز تھی جو دونوں کے بالوں سے ٹکرا رہی تھی۔۔۔۔

شکار مطلب۔۔۔

اس نے بہت حیرانگی سے اجے کو دیکھا۔۔

میں بھی سائم مردان کی ہوس کا شکار ہو چکی ہوں اس لیے تمہیں اس کے شر سے بچانا چاہتی ہوں یہ بات کہتے ہوئے اس نے بہت اچھی ایکٹنگ کی تھی کہ مروہ جیسی لڑکی کو تو کبھی شک نہیں ہو سکتا کہ اصل میں یہ ہے کیا۔۔

مجھے اپ کی باتیں سمجھ میں نہیں ارہی مروہ نے ایک نظر سمندر کی طرف دیکھا جس کی لہریں بہت زور سے مچل رہی تھی ۔۔۔۔

تم اس کو جانتی نہیں ہو وہ تمہاری جیسی بولی بالی لڑکیوں کو پہلے اپنے جال میں پھساتا ہے اور پھر اپنا کام نکال کر وہ انہیں کہیں کا نہیں چھوڑتا ا جے کا ہاتھ اب مروہ کے کاندھے پہ تھا اور اب اگلا شکار اس کا تم ہو۔

مروہ کو اجے کی ایک ایک بات سچ لگی اس کے ماتھے پہ پریشانی کے بل پڑ چکے تھے لیکن کہیں اسے اطمینان بھی تھا کہ وہ اس کے جانسے میں نہیں ائی۔۔

ایسی کوئی۔۔

مروہ کچھ بولنے ہی لگی تھی کہ اس کا موبائل بجنے لگا جسے اس نے فورا سائلنٹ کر دیا اور پھر سے اجے کو دیکھنے لگی وہ پھر سے کچھ کہنے لگی کہ دوبارہ سے موبائل بچنے لگا۔۔۔

کوئی بات نہیں مروہ تم پہلے فون سن لو۔۔

ایکس کیوز می۔۔۔

مروہ نے کوٹ کے پاکٹ سے موبائل نکالا اور کان کے ساتھ لگایا۔۔

جی کون بات کر رہا ہے۔۔کیونکہ نیا نمبر تھا۔۔۔

وہی جس کے پیسے دینے ہیں تم لوگوں نے۔۔۔۔

یہ سنتے ہی مروا نے ایک نظر اجے کی طرف دیکھا شاید وہ اس بات کا یقین کرنا چاہتی تھی کہ اواز اجے تک نہ جائے۔۔

مل جائیں گے دوبارہ میرے گھر مت جانا مروہ غصے سے چلائی۔۔

بس ایک مہینے کا ٹائم ہے۔۔

دوسری طرف سے اواز ائی اس کے بعد میں پولیس اسٹیشن جاؤں گا۔۔

ایک مہینے میں میں 35 لاکھ کہاں سے لاؤں گی میری جاب ابھی ابھی لگی ہے مروہ ایک دم سے چلائی لیکن دوسری طرف سے لائن کاٹ دی گئی تھی۔۔۔۔

اجےنے مروہ کی ساری باتیں سن لی تھی۔۔

کیا کوئی مسئلہ ہے تو مجھ سے شیئر کر سکتی ہو۔۔

نہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے مروا نے ایک نظر موبائل دیکھا اور فورا ہی اسے پاکٹ میں ڈال لیا۔۔۔۔۔

_________

جب اس لڑکی کو تمہاری قدر نہیں ہے تو کیوں اپنے اپ کو ذلیل کر رہے ہو اور تم تو ایسے بالکل بھی نہیں تھے نوروز نے سائم کے کاندھے پہ ہاتھ رکھا دونوں ہی کلاؤ کلب میں بیٹھے ہوئے تھے سائم کے ہاتھ میں شراب کا گلاس تھا کلب مسلسل فلیش کر رہا تھا میوزک کی اواز کافی زیادہ تھی۔۔

اب نہیں جاؤں گا اس کے پیچھے ایک بار کہہ چکا ہوں یہ کہتے ہوئے سائم نے گلاس منہ کے ساتھ لگایا۔۔۔

کیا تم ڈانس کرو گے شارٹ پہنے ایک لڑکی سائم کے پاس ائی جس کے ایک ہاتھ میں شراب کا گلاس تھا اس کے بال سرخ کلر کے تھے۔۔

ائی ڈونٹ لائک یہ کہتے ہوئے سائم نے گلاس ٹیبل پر رکھا اس کا دھیان ابھی بھی مروہ کی طرف تھاوہ منہ سے تو کہہ چکا تھا کہ اس کے پیچھے نہیں جائے گا لیکن وہ ابھی تک اس کے پیچھے ہی تھا۔

سائم نے ٹیبل سے گاڑی کی کی اٹھائی اور باہر کی طرف چلا گیا کلب میں موجود اکثر لڑکیوں کی نظر سائم پر تھی ۔۔

اس ہینڈسم کو کیا ہوا ایک لڑکی نوروز کے پاس اتے ہی بولی۔۔

کچھ نہیں اس کے حالات کچھ اچھے نہیں ہیں یہ کہتے ہوئے نوروز نے اس لڑکی کو اپنی باہوں میں لے لیا۔۔۔۔

نوروز کی تو صبح ہی پارٹیوں سے ہوتی تھی پر سائم مہینے میں ایک دو بار وہ بھی نوروز کے اصرار کرنے پر کلب ا جایا کرتا تھا۔۔

بارش کی وجہ سے روڈ بیگی ہوئی تھی مروہ روڈ کنارے بینچ پر بیٹھی سٹیم کلاک کو دیکھ رہی تھی وہ شاید اس کے بجنے کا انتظار کر رہی تھی کیونکہ اسے اس کی اواز بے حد پسند تھی اس کی نظریں گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ ہی چل رہی تھی وہ کبھی اس پہ لگے سبز پتوں کے ڈیزائن کو دیکھتی پھر ان سے نظریں ہٹاتی تو سوئیوں کو دیکھنے لگتی ۔۔۔۔۔۔

سائم اس سے دور کھڑا کچھ فاصلے پر اسے کب سے دیکھ رہا تھا وہ گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا اور مسلسل مروہ کو دیکھے جا رہا تھا اس نے شراب پی رکھی تھی شاید اس وجہ سے وہ اس کے پاس نہیں انا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔

تھوڑی دیر میں گھڑی کی اواز چاروں طرف گونجنے لگی جسے سنتے ہی مروہ بہت خوش ہو گئی اور اس کی خوشی ایک بچے جیسی تھی۔۔۔۔

سائم نے ایک نظر گھڑی کو دیکھا پھر مروہ کی ایکسائٹمنٹ دیکھ کر اس نے ہلکی سی سمائل کی اتنی سردی میں بھی اس نے ایک پتلی سی شرٹ پہنی ہوئی تھی ۔۔۔

__________

اور جس طریقے سے اس نے مجھ سے بات کی ہے اپ کو لگتا ہے مجھے یہاں رکنا چاہیے مہروش بیگ میں کپڑے ڈال رہی تھی ارم بیگم بالکل اس کے پاس کھڑی تھی جو اسے روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔

دیکھو بزنس کا کچھ مسئلہ ہے اور ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

اپ کا بیٹا مجھے صاف لفظوں میں کہہ چکا ہے اور اپ ابھی بھی مجھے تسلی دے رہی ہیں۔۔

مہروش بہت تیزی سے بیگ میں کپڑے ڈال رہی تھی اس نے جینز پینٹ پہنی ہوئی تھی اور اس کے اوپر ہاف شرٹ۔

وہ اج ہی تم سے معافی مانگے گا اور تمہیں کہیں باہر لے کے جائے گا ارم نے اپنا ہاتھ اس کے بیگ کے اوپر رکھا اور ایک ہاتھ اس کے کاندھے پہ رکھا اگر ایسا نہیں ہوا نا تو تم بے شک چلی جانا۔

یہ سننے کے بعد مہروش بیڈ پہ بیٹھ چکی تھی ۔

اور یہ اخری دفعہ ہوگا۔۔

________

میں نے کہا تھا نا یہ لڑکی ہمارے بہت کام ا سکتی ہے اس کا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے ہے اور اسے 35 لاکھ روپے چاہیے ۔۔

تو اب اپ کیا کریں گی پاس کھڑے لڑکے نے پوچھا۔

یہ معمولی سی رقم اب سائم مردان کی زندگی تباہ کر دے گی ۔۔۔۔

وہ کیسے؟؟؟

پاس کھڑے لڑکے نے حیرانگی سے پوچھا۔وہ اجے کا سیکرٹری تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ محبت بری ظالم چیز ہے جب انسان خود کو اسکے حوالے کر دیتا ہے تو پھر یہ انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی یہ کہتے ہی اس نے چیئر کو گول گھمایا اور کہکا لگایا۔۔۔۔

کیا تم اپنی موم کی اتنی سی بھی بات نہیں مانو گے؟

ارم سائم سے بہت پیار سے بات کر رہی تھی۔اور وہ جانتی تھی اسے ایموشنل کیسے کرنا ہے۔۔

موم۔۔۔۔۔

بس میں کچھ نہیں سنوں گی تم اسے لے کے جا رہے ہو۔۔

سائم نے ابھی اپنی بات مکمل نہیں کی تھی کہ ارم نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

سائم نے ہلکا براؤن پول لو سویٹر پہنا ہوا تھا جو گلے کے نیچے سے فولڈ تھا اس کے سفید سرخ رنگ پر یہ بہت جچ رہا تھا۔۔

اچھا ٹھیک ہے۔۔۔

بہت اسرار کرنے پر وہ مان گیا تھا۔۔

____________

ان ڈاکومنٹس پہ تو لون ملنا مشکل ہے پر تمہیں عثمان نے بھیجا ہے تو کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا وہ لڑکا مروہ کے بالکل سامنے بیٹھا تھا ڈی گریک ریسٹورنٹ میں وہ دونوں امنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔…..

اگر ایسا ہو جائے تو میرے لیے بہت اسانی ہو جائے گی مروہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اپنے مفرل کو ٹھیک کرنے لگی اس نے ایک ہاتھ سے بالوں کو پیچھے ہٹایا تھا۔۔

ویسے میرا نام اسد ہے میں یہاں ٹکٹس کا کام کرتا ہوں اور یہاں سیٹل ہوں پی ار بھی مل چکا ہے وہ ایک ہی سانس میں بولے چلے جا رہا تھا بس اب کوئی اچھی سی لڑکی ڈھونڈ رہا ہوں اس نے مروہ کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔

مروہ خاموش اس کی باتیں سن رہی تھی۔۔۔۔۔

تم فکر مت کرو میں کچھ نہ کچھ کروں گا۔۔۔۔۔۔۔

صرف اور صرف تمہارے لیے۔۔۔۔

مطلب؟؟

مروہ جو ابھی تک بال ٹھیک کر رہی تھی ایک دم سے رکی ۔۔

مطلب تم عثمان کی دوست بس اسی لیے۔۔۔

تم جانتے ہو یہ ریسٹورنٹ مجھے کتنا پسند ہے مہروش اور سائم بھی اسی ریسٹورنٹ میں موجود تھے۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ سائم کوئی جواب دیتا اس کی نظر مروہ پر پڑی اسے لڑکے کے ساتھ بیٹھا دیکھ اس نے گردن کو دائیں بائیں گھمایا مروہ بھی اسے دیکھ رہی تھی۔

سائم غصے سے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو دبا رہا تھا۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا۔۔۔۔کہ اسے ہاتھ اسے پکڑ کر یہاں لے ائے۔۔۔

یہاں کا چائنیز میرا فیورٹ ہے۔۔

مہروش نے بیگ ٹیبل پہ رکھتے ہوئے کہا۔۔

جبکہ سائم کی نظر مسلسل مروہ پر تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس لے ائے اسے کسی کےساتھ دیکھ کر وہ برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔

تم اپنے ڈاکومنٹس میرے حوالے کرو انشاءاللہ بہت جلد کچھ کر دوں گا۔۔

مروہ نے اگلے ہی لمحے بیگ سے ڈاکومنٹس نکالے اور انہیں ٹیبل پر رکھ دیا وہ اپنے ہاتھ پیچھے کرنے ہی والی تھی کہ اسد نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پہ رکھا ۔۔

تم فکر مت ۔۔۔۔۔۔

ٹھھں۔۔۔۔۔

دوسرے ٹیبل سے کچھ ٹوٹنے کی اواز ائی سائم نے شیشے کے گلاس کو بہت زور سے نیچے گرایا تھا اس کی نظر مسلسل مروہ پر تھی اس نے ایک دفعہ پھر گردن کو دائیں بائیں گھمایا اور بہت غصے سے مروہ کو دیکھا۔۔

تم ٹھیک ہو تمہیں لگی تو نہیں مہروش نے سائم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا اس نے دونوں ہاتھوں سے سائم کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔۔

مروہ یہ سین دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔