Sheh Rug by Aneeta NovelR50466 Shah Rung Episode 11
Rate this Novel
Shah Rung Episode 11
Shah Rung by Aneeta
یہ وقت اور یہ جگہ ہم دونوں کو ہمیشہ یاد رہے گی۔ابھی
سائم بات کر ہی رہا تھا۔۔۔۔۔
کہ گھڑی نے ساؤنڈ کرنا شروع کر دیا۔جسے سنتے دونوں مسکرائے تھے۔۔۔
ان دونوں کی نظریں سٹیم کلاک ( steam clock) پر تھی۔۔۔۔
اس نے تمہیں پروپوز کر دیا بات اتنی اگے چلی گئی۔سائرہ غصے سے لال پیلی ہو رہی تھی۔اس کے ایک ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا۔جو وہ شاید مروہ کو دینے والی تھی۔۔۔۔
تم جانتی نہیں ایسے لڑکوں کو وہ تمہاری زندگی تباہ کر دے گا۔میرے اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے تمہیں اس سے دور رہنے کا کہا تھا۔وہ مسلسل اشارے سے بات کیے جا رہی تھی۔اس نے گلاس کو اپ ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔
مروہ دونوں ٹانگیں صوفے پہ رکھے بیٹھی تھی۔اور اسے خود سمجھ نہیں ارہا تھا۔کہ اس نے یہ کیوں اور کیسے کیا۔یہ اس نے اجے کے کہنے پہ کیا۔یا وہ دل کے ہاتھوں مجبور تھی۔۔۔۔
ذرا انگوٹھی تو دکھانا۔یہ کہتے ہی سائرہ نے مروہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔جانتی ہو یہ کتنی مہنگی ڈائمنڈ ہے۔اس نے دیکھتے ہی کہا۔وہ ٹیبل پر بیٹھ چکی تھی۔۔۔۔
لیکن اسے کیا فرق پڑے اس کے پاس تو اتنا پیسہ ہے۔۔۔۔
ایسا نہیں ہے تم جانتی ہو اسد سے اس نے مجھے کیسے بچایا تھا۔اس کے علاوہ بھی اس نے میری کتنی مدد کی ہے۔اگر وہ ایسا ہوتا۔تو ابھی تک اپنا کام کر چکا ہوتا۔۔۔۔
یہ کہتے ہی مروہ اٹھ گئی۔۔۔۔
______________
ہم اب کرایہ دے رہے ہیں تو اپ کیوں نہیں لے رہے۔مروہ بہت زور سے چلائی تھی۔جب ہمارے پاس ہوتا نہیں تب تو اپ روز روز ا جاتے ہو۔..
میں نے کہا میں نہیں لے سکتا۔اب جاؤ تم دونوں۔۔
سائرہ اور مروہ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ وہ ادمی دروازہ پکڑ کر کھڑا تھا۔مروہ اور سائرہ نے بھی ایک ایک ہاتھ سے دروازہ پکڑا ہوا تھا۔۔
اپ کا کرایہ مجھے مل گیا ہے۔۔
کیسے مل گیا ہم نے تو نہیں دیا۔ان دونوں نے پھر سے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔
میں اس کا نام نہیں بتا سکتا بس مل گیا ہے۔یہ کہتے ہی ساتھ میں اس نے دروازہ بند کرنا چاہا۔لیکن مروہ اور سائرہ نے دروازے کو بہت زور سے پکڑ رکھا تھا۔۔۔
ہمیں بتائیں ہمارا کرایہ کس نے دیا ہے۔۔وہ دونوں ایک ہی زبان میں بولی۔۔
میں نہیں بتا سکتا ۔۔۔
نہیں بتا سکتا۔۔۔۔
ایسے کیسے نہیں بتا سکتے۔۔
اس ادمی نے ایک لمبی سانس لی۔مجھے اس کا نام تو نہیں پتا۔ایک اچھا نوجوان ادمی تھا۔بڑی سی گاڑی تھی۔وہ ادمی ابھی بول ہی رہا تھا۔۔
سائم مردان۔۔
سائرہ ایک دم سے بولی۔وہ ادمی بھی اب دروازہ بند کر چکا تھا۔کیونکہ اس کا نام سنتے ہی مروہ تھوڑی پیچھے ہو گئی تھی۔
کیا اس نے۔۔
نہیں وہ کیسے دے سکتا ہے وہ ان کو کیسے جانتا اور اسے کیسے پتہ کہ ہم نے کرایہ نہیں دیا۔مروہ نے حیرانگی سے اسں کی طرف دیکھا۔جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔
تو میری جان ہماری زندگی میں اس سے زیادہ امیر ادمی تو کوئی بھی نہیں۔اور اچھا کیا جو اس نے دے دیا۔ہمیں بھی تو کوئی فائدہ ہوا اس کا۔۔یہ کہتے ہوئے وہ سیڑھیوں سے نیچے اتری۔۔۔۔۔
اگر ایسا ہے تو میں اسے پیسے واپس کروں گی۔مروہ بھی اس کے پیچھے پیچھے جا رہی تھی۔۔۔
کوئی ضرورت نہیں ہے۔اور ویسے بھی اتنے سے پیسوں سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ان دنوں وہ تمہیں امپریسڈ کرنے کے چکروں میں ہے۔اور جو انگوٹھی اس نے تمہیں دی ہے۔اسے بیچ کر ہم ایسے دو تین گھر لے سکتے ہیں۔۔۔
کیا سچ میں وہ بہت مہنگی ہے۔مروہ حیرانگی سے بولی۔اور پیچھے گھروں کو دیکھنے لگی۔جو ایک جیسے ایک ہی لائن میں تھے۔۔
میری بات پہ یقین نہیں تو گوگل کر لو۔سائرہ نے پرجوش لہجے میں یہ بات کہی۔وہ دونوں اب روڈ پہ پہنچ چکی تھی۔ٹھیک ہے پھر ملتے ہیں۔سائرہ نے مروہ کے گال پہ کس کی۔عثمان کو کہنا اج شام کو ائے گا۔ہم کہیں باہر چلیں گے۔۔۔
_____
موم 22 کو ا رہی ہے۔مہروش نے شاید ارم کے سوال کا جواب دیا تھا۔۔
بس پھر ہم پہلی تاریخوں کو ہی۔اگینجمنٹ کی ڈیٹ رکھ لیں گے۔۔
اپ نے سائم سے بات کی اس متعلق۔مہروش نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا۔۔
تم اس کی فکر مت کرو۔۔
اج شام کو ہی میں اس سے بات کر لوں گی۔۔یہ کہتے ارم روم میں چلی گئی۔
مہروش وہیں بیٹھی سائم کے خواب دیکھ رہی تھی۔۔
__________
تم نے مجھے یہاں کیوں بلایا ہے۔۔۔
کیا نہیں بلا سکتا۔اتنا بھی حق نہیں ہے۔اخر کار فیونسی ہو میری۔۔۔۔
اچھا تو پہلی کا کیا کرو گے۔مروہ نے غصے سے دیکھا تھا۔
تم کس کی بات کر رہی ہو۔سائم ہلکا سا مسکرا رہا تھا۔اس نے ویسٹ پہنا ہوا تھا۔وہ گلے میں لگی ٹائی کو ڈھیلا کر رہا تھا۔اور مروہ کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔
مہر وش جس کو مجھ سے پہلے تم ڈائمنڈ سیٹ گفٹ کر چکے ہو۔مروہ مسلسل اسے دیکھ رہی تھی۔۔
تو کیا تم جیلس ہو رہی ہو۔سائم نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا۔۔۔
جبکہ مروہ اس کے جواب پر اور پریشان ہو گئی تھی۔
وہ دونوں کوڑا کرم ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے تھے ۔جو ایک پاکستانی ریسٹورنٹ تھا۔اور بہت ہی خوبصورت جگہ پہ لوکٹ تھا۔۔۔
اس کا مطلب ہے وہ تمہاری فیونسی ہے۔مروہ نے اس کے سوال کو نظر انداز کیا۔اور پھر سے اپنا سوال دہرایا۔۔۔۔
ایسا کچھ نہیں ہے۔وہ میری ایک اچھی دوست تھی۔اور ہمارے فیملی فرینڈ بھی ہیں اور وہ گفٹ موم نے دیا تھا۔۔
میرے تھرو۔اس نے اب استین کے بٹن کھولے تھے۔اور انہیں موڑ رہا تھا۔تمہیں کس نے کہا وہ میری فیونسی ہے۔سائم نے پھر مروہ کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔
تم تو اسے خود پہنانے والے تھے۔مروہ نے برا سا منہ بنایا تھا۔جبکہ سائم صرف مسکرا رہا تھا۔۔۔
تو تم جیلس ہو رہی ہو۔۔
نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔
تم نے اتنی مہنگی انگوٹھی مجھے کیوں دی۔مروہ نے انگوٹھی دیکھتےہوے کہا۔اور تم نے رینٹ بھی دیا گھر کا۔اس نے کچھ سوچا اور اس سے اگلا سوال کیا۔۔
یہ تم سے زیادہ مہنگی نہیں ہے۔۔۔
اور میرے بس میں ہو تو میں دنیا تمہارے نام لگا دوں۔۔
میں نے کچھ اور بھی پوچھا ہے۔مروہ نے مدہم سی اواز میں کہا۔۔۔۔
کیونکہ تم میری ذمہ داری ہو۔اور میں کچھ نہیں کہوں گا۔۔
اب بتاؤ کیا کھاؤ گی۔۔وہ استین کو کہنیوں تک فولڈ کر چکا تھا۔۔۔۔۔۔
اس نے مینیو کارڈ ہاتھ میں اٹھایا ہوا تھا۔۔۔
مروہ کے موبائل پہ ایک میسج رسیو ہوا۔۔۔
سائم کی گاڑی میں ایک فائل ہے اس کی تصویر بنا کے بھیجو۔اور میری نظریں تم پر ہی ہیں۔جسے پڑھنے کے بعد مروہ کافی پریشان ہو گئی تھی۔۔۔۔
کیا ہوا سب ٹھیک ہے نا۔سائم نے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا۔جس کا رنگ ایک دم سے اڑ گیا تھا۔۔
ہاں سب ٹھیک ہے۔۔
یہ کہتے ہی مروہ نے اگے پیچھے دیکھنا شروع کر دیا۔شاید وہ جاننا چاہتی تھی کہ کون اسے دیکھ رہا ہے۔یا پھر وہ سائم سے نظریں چوڑا رہی تھی۔۔
تم وہاں کیوں بیٹھی ہو۔سائم تنزیہ مسکرا رہا تھا۔
کیوں یہاں کیا ہے۔
تمہیں میرے پاس بیٹھنا چاہیے۔سائم تھوڑا اگے جھکا تھا۔
چلو یہاں اؤ۔۔۔
میں یہی ٹھیک ہوں وہیں بیٹھے رہو۔مروہ نے کمر سیدھی کی اور چیئر کے ساتھ ٹیک لگائی۔۔
________
اسے میں نے کہا تھا کہ اج شام کو ہم باہر جائیں گے۔دیکھا پھر اس کے ساتھ چلی گئی۔۔سائرہ خود سے ہی باتیں کر رہی تھی۔۔۔۔۔
بہت ہی عجیب لڑکی ہے یہ۔۔یہ کہتے ہی وہ موبائل میں مصروف ہو گئی تھی۔۔۔
اگر اس نے فائل کی تصویر نہ بھیجی۔۔پاس کھڑے لڑکے نے کہا جو بالکل اجے کے مقابل کھڑا تھا۔۔۔۔
وہ بھیجےگی ضرور بھیجے گی۔۔۔
اس پروجیکٹ سے ہمیں کوئی زیادہ فائدہ تو نہیں ہوگا۔لیکن یہ سائم کی زندگی تباہ کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔کیونکہ یہ کام اس کے کسی دشمن نے نہیں بلکہ دوست نے کیا ہوگا۔۔
اور تم جانتے ہو سب سے زیادہ دکھ انسان کو کب ہوتا ہے۔جب کوئی اپنا اسے دھوکہ دیتا ہے۔۔
سیٹ بیلٹ باندھ لو۔۔
سائم کے ہاتھ گاڑی کے ہینڈل پر تھے۔وہ سٹارٹ کرنے ہی والا تھا۔کہ مروہ نے اسے روکا۔۔
سائم۔۔۔۔۔۔
یہ سنتے ہی سائم مروہ کی طرف مخاطب ہوا۔اسے اس کا بلانا اچھا لگا تھا۔یہ شاید مروہ نے پہلی دفعہ اسے پیار سے بلایا تھا۔۔۔
بولو۔۔۔۔۔
۔وہ بہت پیار سے مروہ کو دیکھ رہا تھا۔۔
مروہ کو سمجھ نہیں ا رہا تھا کہ وہ فائل کی تصویر کیسے لے۔۔۔۔
مجھے بھوک لگی ہے۔سائم تھوڑا حیران ہوا کیونکہ اس نے ابھی کھانا کھایا تھا۔۔
سائم ہلکا سا مسکرایا تھا۔چلو اؤ۔وہ گاڑی سے اترا اور مروہ کو اترنے کا کہا۔۔۔
تم لے اؤ نا۔۔۔
مجھے سردی لگ رہی ہے۔اس نے سردی لگنے کی سستی ایکٹنگ کی تھی۔۔۔
سائم مسلسل مسکرا رہا تھا۔جس سے اس کے چہرے پر ہلکا سا ڈمپل پڑتا تھا۔شاید اسے مروہ کا اس طرح ڈیمانڈ کرنا بہت اچھا لگا تھا۔۔۔
اوکے تم بیٹھو میں لے کے اتا ہوں۔۔۔
اب ان میں سے کون سی فائل ہے۔سائم کے جاتے ہی مروانے پاس پری تین فائلوں کو اٹھایا۔اور تینوں کی تصویریں بنانے لگی۔۔
_______
دیکھا میں نے کہا تھا نا یہ لڑکی کام کرے گی۔۔
یہ دیکھو۔۔اجے خوشی سے جھومنے لگی تھی۔۔
اس نے تصویریں پاس کھڑے۔سیکٹری کو دکھاتے ہوئے کہا۔
تھوڑی ہی دیر میں سائم اور مروہ اس کے فلیٹ پہنچ چکے تھے۔
صبح ملتے ہیں۔۔۔۔
یہ کہتے ہی سائم نے مروہ کو دیکھا۔وہ پیار بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
ایسے مت دیکھا کرو۔اس کے جواب سے وہ مسکرایا تھا۔
کیوں ایسے دیکھنے میں کیا جاتا ہے۔۔
مروہ سائم کی بات کا جواب دیا بغیر چلی گئی۔
______
موم اپ ہوش میں تو ہیں۔میں اپ کو کہہ چکا ہوں کہ مجھے مہروش میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے۔اور اپ انگیجمنٹ کی بات کر رہی ہیں۔۔
مہروش میں اخر مسئلہ کیا ہے۔۔۔
موم اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔میں کسی اور کو پسند کرتا ہوں۔سائم نے پاس رکھے ٹیبل کو پیچھے کیا۔
کیا پسند کرتے ہو۔۔۔
دیکھو۔۔
نورا کو میں زبان دے چکی ہوں۔اب کسی حرکت کی گنجائش نہیں ہے۔۔
ارم بھی اب سائم کے سامنے کھڑی ہو گئی تھی۔سوسائٹی میں بہت انسلٹ ہو جائے گی۔
میں نے کہا میں کسی کو پسند کرتا ہوں۔موم اپ اسے دیکھیں گی اپ بھی پسند کریں گی۔سائم کا موڈ اج اچھا تھا۔کیونکہ مروہ نے اس سے اچھے سے بات کی تھی۔
تمہاری شادی مہروش سے ہی ہوگی۔ارم ابھی بول ہی رہی تھی کہ سائم اپنے کمرے میں چلا گیا ہے۔۔
مروہ دن بدن سائم کے قریب ہو رہی تھی۔وہ بھی سائم سے محبت کرنے لگی تھی۔کیونکہ ایک لڑکی کو جیسا ہم سفر چاہیے ہوتا ہے۔سائم میں وہ سب تھا۔۔
اس پروجیکٹ کی انفارمیشن سکائی کمپنی تک کیسے پہنچی۔یہ پروجیکٹ ابھی تک صرف افس میں تھا۔اب کوئی بولے گا۔
پورا افس میٹنگ روم میں موجود تھا۔۔
سائم اس وقت شدید غصے میں تھا۔۔۔۔
