266K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Rung Episode 20

Shah Rung by Aneeta

کیا ہوا کیا کہتا ہے۔سائرہ نے مروہ کو دیکھتے ہی سوال جواب شروع کر دیا تھے۔مروہ تم ٹھیک تو ہو نا اس نے مروہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔جس کا رنگ اڑا ہوا تھا۔

ہاں میں ٹھیک ہوں۔مروہ نے اسے پیچھے ہٹاتے ہوئے کہا جو اس کے راستے میں کھڑی تھی۔

تم نے بتایا نہیں کیا بولا اس نے مروہ کو اگے جاتے دیکھ وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگی۔

وہی سب کچھ۔مروہ بہت نروس تھی۔

میں نے اسے بولا ہے کہ میں بہت جلد علی سے شادی کرنے والی ہوں۔

کیا ۔۔۔۔کیا۔سائرہ نے اس کا رخ اپنی طرف کیا۔

یار ایسا میں نے اس لیے بولا ہے کہ وہ میرا پیچھا چھوڑ دے اور جلدی میں مجھے یہی سمجھ ایا۔مروہ نے اس کے ہاتھوں کو پیچھے کیا اور پھر سے کام کرنے لگی۔۔

ویسے اگر یہ بات سچ بھی ہو تو اس میں کیا برا ہے۔سائرہ نے اسے بازو مارتے ہوئے کہا۔

یار بس کر دو میں نے تمہیں پہلے بھی بولا ہے۔مروہ یہ کہتے ہی دوسری طرف چلی گئی۔کیونکہ وہ جانتی تھی کہ سائرہ چپ نہیں ہوگی۔

اپ نے ابھی تک میڈیسن ختم نہیں کی علی نے کمرے میں داخل ہوتے ہی میڈیسن باکس اٹھایا اور ایمن بیگم کے پاس بیٹھ گیا۔

بس بس کھانے ہی والی تھی۔ایمن بیگم نے سائیڈ سے پانی کا گلاس اٹھایا۔

تم بتاؤ تم نے مروہ سے بات کی۔

نہیں ابھی تک نہیں کی علی نے دو گولیاں نکال کر ان کی ہتھیلی پر رکھی۔

اگر تم نہیں کر پا رہے بات تو میں کر لیتی ہوں۔

نہیں ماما میں کر لوں گا۔علی نے میڈیسن ایمن کھو دی۔اب اپ ارام کریں۔اس نے کمبل ان کے اوپر دیا۔اور خود باہر کی طرف چلا گیا۔

کیا وہ سچ میں شادی کر رہی ہے۔ایسا نہیں ہو سکتا۔لیکن اس نے خود اپنے منہ سے بولا ہے۔سائم نے دونوں ہاتھوں کو سر کے دونوں سائیڈ رکھا ہوا تھا اور گردن نیچے جھکائی ہوئی تھی۔اگر ایسا ہے تو میں تمہیں یہ کرنے نہیں دوں گا۔وہ ایک دم سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔

علی تم نے مجھے اتنی امجنسی میں کیوں بلایا ہے۔انٹی تو ٹھیک ہے نا وہ دونوں کسی سائیڈ ایریا پہ بیٹھے ہوئے تھے۔

مجھے تم سے ضروری بات کرنی تھی اس لیے۔علی نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔مروہ سامنے پڑے بینچ پر بیٹھ گئی تھی۔

بولو تم نے کیا بات مروہ نے اپنے بیگ کو سائیڈ پہ رکھا۔

مجھے سمجھ نہیں ارہی بات کہاں سے شروع کروں۔

علی ایسے بھی کیا بات ہے۔مروہ نے حیرانگی سے پوچھا۔

دراصل۔۔۔۔۔۔۔

مروا میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔اس نے کچھ سوچا اور پھر ایک ہی سانس میں کہہ دیا۔

علی تم ہوش میں تو ہو مروہ وہاں سے اٹھ گئی تھی ۔ایسا بالکل بھی پوسیبل نہیں ہے۔اور نہ ہی میں یہاں شادی کرنے ائی ہوں۔

ایسا کیوں پوسیبل نہیں ہے۔علی نے اس کا ہاتھ پکڑا۔دیکھو میں یہاں تمہاری رضامندی لینے نہیں ایا۔میں تمہیں بتانے ایا ہوں۔علی اج جس لہجے میں مروہ سے بات کر رہا تھا وہ لہجہ اس نے اج سے پہلے استعمال نہیں کیا تھا۔

یہ تو مجھ سے کیسے بات کر رہے ہو۔ہاتھ چھوڑو اور یہاں سے دفع ہو جاؤ۔

دیکھو مروہ میں بہت پیار سے بات کر رہا ہوں۔میری موم چاہتی ہیں کہ میں تم سے شادی کروں اور ان کو دکھی میں کسی صورت نہیں کر سکتا۔اس کے لیے پھر چاہے مجھے زبردستی شادی کرنی پڑے۔

تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔اج کے بعد میرے پیچھے مت انا۔اس سے پہلے کہ وہ جاتی علی نے اسے پکڑا اخر تم سمجھتی کیا ہو خود کو مجھ میں کس چیز کی کمی ہے۔اور ہم اسی ویک اینڈ شادی کر رہے ہیں۔

میں نے کہا دور ہٹو تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔اب پیچھے ہٹو ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔

کیا تمہیں میری بات سمجھ نہیں ارہی علی نے مروہ کو زور سے اپنی طرف کھینچا تھا۔

تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس سے ہاتھ لگانے کی سائم نے اگلے ہی لمحے علی کو زمین پر گرایا۔مروہ کو ہاتھ کیسے لگایا تم نے اس نے اس کے منہ پر زور سے پش کیا تھا۔

مروہ پاس کھڑی تھی لیکن اسے کچھ بھی سمجھ نہیں ارہا تھا۔علی کا یہ چہرہ دیکھ کر وہ حیران رہ گئی تھی۔کبھی کبھی لوگ ایسے نہیں ہوتے جیسے ہمیں نظر اتے ہیں۔

تم ٹھیک ہو سائم نے مروہ کو بازو سے پکڑ کر پاس کیا۔

اس کی باری قیمت جھکانی پڑے گی۔تم دونوں کو میں نہیں چھوڑوں گا۔یہ کہتے ہوئے علی وہاں سے بھاگا تھا۔

اسے میں دیکھ لوں گا۔تم بتاؤ تم ٹھیک ہو سائم نے مروہ کو گلے سے لگایا۔

ہاں میں ٹھیک ہوں مجھے میرے حال پہ چھوڑ دو مروہ نے اسے پیچھے کیا اور وہاں سے جانے لگی۔

ٹھیک ہے میں تمہیں چھوڑ اتا ہوں۔میں ایسے نہیں جانے دے سکتا۔اس نے اسے گاڑی کی طرف جانے کا اشارہ کیا۔

میں نے کہا نہ میں چلی جاؤں گی۔

ہر بات پہ ضد ضروری نہیں ہوتی۔اور تم اس کی ٹینشن مت لینا۔اس کا دماغ میں اج رات ہی ٹھکانے لگاؤں گا۔

تم کچھ نہیں کرو گے سائم میرے لیے اور مشکلات مت بڑھاؤ۔مروہ نے اپنے انسو صاف کیے۔اور وہاں سے چلی گئی۔سائم کھڑا اسے دور تک جاتے دیکھتا رہا۔

پہلے اس علی کو دیکھ لوں پھر تمہیں دیکھتا ہوں مرو ہ یہ کہتے ہوئے سائم بی گاڑی کی طرف بڑھا اس نے اپنا کوٹ اتار کر گاڑی کی پچھلی سیٹ پر پھینکا پھر زور سے دروازہ بند کیا اور ڈرائیونگ سیٹ پر ا کے بیٹھ گیا۔اس نے گاڑی کے ہینڈل پہ اپنا ہاتھ زور سے مارا تھا۔

پتہ نہیں یہ سب کب ختم ہوگا۔اور ایسا میرے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے۔مروہ کی گود میں تکیہ تھا جس کے اوپر اس نے اپنا سر رکھا ہوا تھا۔

علی ایسا ہوگا میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔سائرہ بھی بیڈ پر جگہ بنائے اس کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ایم سو سوری اس میں غلطی میری بھی ہے۔سائرہ نے اس کے چہرے سے بال پیچھے کیے۔اور تم فکر کیوں کر رہی ہو۔مجھے لگتا ہے سائم اسے دیکھ لے گا۔

سارا یار اب بس کر دو تمہیں ابھی بھی لگتا ہے کہ کوئی دوسرا بندہ ہماری مدد کرے گا اور اگر کوئی دوسرا بندہ ہماری مدد کرے گا تو اپنے مقصد کے لیے کرے گا اور تم یقین بھی کس پر کر رہی ہو سائم پر جیسے تمہیں تو سب بھول گیا ہو۔اس سے پہلے بھی وہ ہماری بہت مدد کر چکا ہے۔اور پھر اچھی حاصی قیمت وصول کر کے گیا تھا۔مروہ نے تکیے کو بیڈ پہ گرایا اور باہر کی طرف چلی گئی۔۔

مروہ کہہ تو تم بھی صحیح رہی ہو۔مجھے تو سن کر ہی ڈیزی فیل ہو رہا ہے سائرہ خود سے ہی باتیں کر رہی تھی۔۔۔

میں شاپنگ کے لیے ائی ہوں اور اپ کے بیٹے کا مجھے کچھ پتہ نہیں۔اور اپ تو ایسے پوچھ رہی ہیں جیسے وہ میرے ساتھ ہی ہوتا ہے۔اسے میری کوئی پرواہ نہیں ہے مہروش فون کان کے ساتھ لگائے۔ایک مال میں کپڑے دیکھ رہی تھی۔

اور ابھی تو پھر سے اسے مروہ جی مل گئی ہیں۔مجھے نہیں لگتا میرا کوئی چانس بنے گا۔

تم ایسے ہی پریشان ہو رہی ہو۔ضروری نہیں کہ وہ مروہ کے پیچھے ہی ہو اور اس لڑکی مروہ کو تو کبھی میں اپنے گھر کی بہو نہیں بناؤں گی۔دوسری طرف سے ارم اسے اگے کی پلاننگ بتا رہی تھی۔

سر یہ رہی علی کاظمی کی ساری ڈیٹیل اس نے حال ہی میں اپنا بزنس کینڈا میں شفٹ کیا ہے۔جبکہ اس سے پہلے اس کے یہاں پہ کچھ ریسٹورنٹ اور شاپس ہیں۔جو کسی اور کے اندر ہیں۔ادھی فیملی کینڈا ہے جب کہ ادھی فیملی پاکستان میں۔اس نے فائل سائم کے سامنے رکھی تھی۔

مجھے بس علی کاظمی سے مطلب ہے اس کی فیملی سے نہیں۔سائم نے فائل کو اٹھایا اور دیکھنے لگا اس نے گلے کی ٹائی کو تھوڑا نیچے کیا تھا۔

دادا جان اپ یہاں ٹھیک تو ہیں۔مجھے اواز سے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ اپ ٹھیک نہیں مروہ ان کی کانپتی ہوئی اواز سن کر پریشان ہو گئی تھی۔بولے دادا جان ٹھیک ہیں اپ۔

بیٹا میں بالکل ٹھیک ہوں۔بس موسم تبدیل ہو رہا ہے نا تو اسی وجہ سے۔اور علیزے کے بغیر بھی دل بڑا اداس ہے۔تم دونوں میرے جگر کا ٹکڑا ہو۔

دادا جان تو اپ علیزے کو فون کریں نا اسے بلائیں۔میں تو نہیں ا سکتی وہ تو پاس ہی ہے نا۔ ۔مروہ واشنگ مشین کے پاس کھڑی تھی۔اس نے کپڑوں کو سپنر کرنے کے لیے ڈالا ہوا تھا۔

بیٹا وہ اب اپنے گھر کی ہو گئی ہے۔اور بیٹیاں اپنے گھر ہی اچھی لگتی ہے۔

دادا جان یہ پرانے وقتوں کی باتیں تھی۔اب زمانہ بدل گیا ہے۔اپ رکیں میں اسے فون کرتی ہوں وہ اپ کو ملنے ائے۔اپ رکھیں فون۔مروہ نے فون کو بند کیا اور علیزے کو میسج کرنے لگی۔کیونکہ شاید وہ اف لائن تھی۔

سائم تم کیوں نہیں ارہے۔تمہارا کام تو ایک ہفتے کا تھا نا۔یا پھر تم اب مروہ کی وجہ سے رک گئے ہو۔مہروش کے ہاتھ میں بیگ تھاوہ اس کے سامنے کھڑی تھی۔شاید اس کے جانے کی تیاری تھی۔جب کہ سائم اپنے روم میں بیٹھا لیپ ٹاپ میں مصروف تھا۔مہروش کی بات سن کر وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور قدم بڑھا کے اس کے پاس ایا اسے بازو سے پکڑا۔

تمہیں کس نے حق دیا ہے کہ مجھ سے پوچھو۔اور رہی بات مروہ کی تو اگے سے تمہاری زبان پہ اس کا نام نہ ہو سائم نے اسے زور سے پیچھے کیا اور روم سے باہر چلا گیا۔

مہروش اس کے غصے سے ڈری وہیں کھڑی تھی۔وہ اپنے بازو کو دیکھ رہے تھی جو ریڈ ہو چکا تھا۔۔۔

یہ تم لوگ مجھے کہاں لے کے جا رہے ہو میرے ہاتھ کھولو ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔علی کو کچھ لوگوں نے زبردستی گاڑی میں بٹھایا اور اس کے ہاتھ باندھ دیے۔وہ اسے لے کے سنسان روڈ سے ہوتے ہوئے ایک جنگل میں پہنچے تھے۔جہاں دور دور تک کوئی ابادی نہیں تھی۔جنگل بھی کافی گنا جنگل تھا۔

میں نے کہا کون ہو تم لوگ علی مسلسل ان سے سوال جواب کر رہا تھا۔جب کہ کسی نے بھی اس کی باتوں پہ غور نہیں کیا سب بس اپنا اپنا کام انجام دے رہے تھے۔

سر لے ائے ہیں اس کو ایک لڑکے نے علی کو درخت کے ساتھ باندھا اور پھر سائم کو بتایا۔یہ سائم کے ہی ادمی تھے۔

اج رات اس کی اچھے سے خدمت کرو۔میں صبح اتا ہوں۔سائم نے یہ کہتے موبائل کو بیڈ پہ گرایا۔۔۔

مروہ یار بہت بڑا مسئلہ ہو گیا ہے سارا بھاگتی ہوئی اس کے پاس ائی۔مروہ جو کچن میں مصروف تھی فورا سے اس کی طرف ائی۔

کیا ہوا ہے اب کیا ہو گیا اس نے اسے دونوں بازوں سے پکڑ لیا تھا۔اور اس کے چہرے کے تاثرات بھی بالکل بدل گئے تھے۔

ایمن انٹی کا فون ایا تھا۔انہوں نے بتایا کہ کچھ لوگ علی کو لے گئے ہیں۔انہوں نے پولیس کمپلین بھی کر دی ہے۔اور یہ سائم کا ہی کام ہے۔اگر بات پولیس تک پہنچی تو تمہارا نام بھی ا جائے گا۔

کے کیا۔مروہ مشکل سے الفاظ کو جوڑ پائی تھی۔وہ پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر ٹہلنے لگی تھی۔

تمہارے موبائل میں سائم کا نمبر تھا نا۔تم اسے کال کرو۔سائرہ کی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی کہ مروہ کمرے کی طرف بھاگی۔اس نے پہلے بیڈ پہ موبائل کو دیکھا۔دو تین جگہ پر دیکھنے کے بعد وہ اسے ٹیبل پر ملا جسے اس نے جلدی سے اٹھایا۔اور کنٹیکٹ لسٹ دیکھنے لگی۔اس نے نمبر تو چینج کیا تھا لیکن اس کے موبائل میں سائم کا نمبر تھا۔

ہیلو سائم۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ مروہ کی اواز پہچان چکا تھا۔ہاں بولو تم گھبرائی ہوئی کیوں ہو ۔۔

کیا علی تمہارے ساتھ ہے۔اس نے الجھے ہوئے الفاظ میں پوچھا اس کے لفظ اگے پیچھے تھے۔

میں نے کہا نا یہ میرا اور اس کا معاملہ ہے۔سائم نے سرسری سا جواب دیا۔تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔میں خود ہی ہینڈل کروں گا سب۔

یہ تمہارا معاملہ کیسے ہے اس کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی مروا چیخی تھی۔یہ میرے اور علی کے بیچ کی بات ہے۔میں خود اسے سالو کر لوں گی۔اور تم میرے معاملات سے دور رہو اگے بھی تمہاری وجہ سے کم مسئلے ہوئے ہیں۔

مروہ میں نے کہا نا اس معاملے سے دور رہو سائم شاید اس ٹاپک پہ مروا سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔وہ ہر بات کا کا جواب دو لفظوں میں دیتا تھا۔

پلیز سمجھنے کی کوشش کرو مروہ کو اب لگ رہا تھا کہ سائم اس کی بات نہیں مانے گا تو اس نے دوسرا لہجہ اختیار کیا۔۔

شام کو یہاں ملے تھے وہاں تمہارا انتظار کروں گا۔اور فیصلہ تمہارے انے یا نہ انے پہ ہوگا سائم نے اتنی سی بات کر کے فون بند کر دیا تھا۔جبکہ دوسری طرف مروہ نے ایک دفعہ پھر فون لگانے کی کوشش کی۔لیکن سائم نے کاٹ دیا۔