Sheh Rug by Aneeta NovelR50466 Shah Rung Episode 12
Rate this Novel
Shah Rung Episode 12
Shah Rung by Aneeta
سر کام کرنے کے بعد فائل اپ کے پاس ہی تھی۔ایک لڑکی اپنی سیٹ سے اٹھی اور بولی۔۔
تمہارا مطلب ہے یہ انفارمیشن میں نے خود اس کمپنی کو دی ہے ۔سائم اب افس چیئر سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔
نہیں سر۔۔۔
اس لڑکی نے ڈرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
سائم جو قدم اٹھائے اس کے پاس جا رہا تھا۔ابھی وہ کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ اس کا فون بجنے لگا۔اگر کسی اور کا ہوتا تو وہ ضرور کاٹ دیتا۔سکرین پر مروہ کا نمبر شو ہو رہا تھا۔۔۔۔
۔سائم اگلے ہی لمحے فون کان کے ساتھ لگائے باہر چلا گیا۔۔
کیا خاموش رہنے کے لیے فون کیا ہے۔سائم کچھ دیر رکا کہ شاید وہ کچھ بولے گی۔پر وہ مسلسل خاموش تھی۔۔۔۔
نہیں ۔۔مروہ نے مدہم سی اواز میں کہا۔۔۔۔
تو تم مجھے مس کر رہی ہو۔۔سائم کا چہرہ مسلسل بلش کر رہا تھا۔۔۔
اب ایسا بھی نہیں ہے۔۔۔
مروہ جو ساتھ ساتھ کام کر رہی تھی ۔دھیمے سے لہجے میں بولی۔۔
تو پھر جناب نے فون کیوں کیا ہے؟سائم بات کرتے کرتے اپنے کیبن میں پہنچ چکا تھا۔
اگر تمہیں اچھا نہیں لگا تو میں بند کر دیتی ہوں۔
میں نے ایسا بھی نہیں کہا ۔ایک لمحہ ضائع کیے بغیر سائم نے جواب دیا۔شاید اسے لگا تھا کہ وہ سچ میں فون بند کر دے گی۔۔۔
وہ دونوں کافی دیر تک باتیں کرتے رہے۔۔
_____
یہ کس چیز کے کارڈز ہیں بیگم۔۔
سائم اور مہروش کی اگینجمنٹ کے۔ارم سامنے صوفے پہ بیٹھی کارڈز کو دیکھ رہی تھی۔۔
بیگم تم ہوش میں تو ہو۔۔
کیا سائم کو اس بات کا علم ہے۔؟
ہارون اپنی جگہ سے اٹھا اور کارڈ اٹھا کر دیکھنے لگا۔اس پہ تو اج کی ڈیٹ لکھی ہے۔تم جانتی ہو سائم یہ کبھی نہیں کرے گا۔کیا تم اس کے غصے سے واقف نہیں ہو۔ہارون کے چہرے پہ پریشانی صاف نظر ارہی تھی۔۔۔۔
اپ کو سوسائٹی کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔۔
مسز نورا یہاں صرف اگینجمنٹ کے لیے ائی ہیں۔۔
اور سائم کو میں دیکھ لوں گی اپ اس کی فکر مت کریں۔۔
اس نے مروہ پر تو بالکل شک نہیں کیا ہوگا۔۔اجے افس چیئر پر بیٹھی۔اس سے گول گول گھما رہی تھی۔۔
___________
میں تو اس دن کا انتظار کر رہی ہوں۔جب سائم اپنی محبت سے ہاتھ دھوئے گا۔اور کوئی اور اس سے مروہ کو دور نہیں کرے گا۔بلکہ وہ خود اسے دور کرے گا۔
افس بوائے بالکل اس کے سامنے کھڑا اس کی باتیں سن رہا تھا۔۔
_______
اج تو ٹپ کے ساتھ ساتھ کھانا بھی اچھا ملے گا۔
اچھا کیوں اج کیا خاص ہے۔سائرہ نے پاس کھڑی لڑکی سے پوچھا۔جو شاید کسی اور سے بات کر رہی تھی۔۔۔
اج مردان فیملی میں فنکشن ہے۔ہارون مردان کہ اکلوتے بیٹے کی اگینجمنٹ ہے۔۔
یہ سنتے ہی اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی۔
کیا سائم مردان کی۔۔۔
ہاں ان کا ایک ہی تو بیٹا ہے ۔
سائرہ نے کچھ سوچے سمجھے بغیر مروہ کو فون لگایا۔۔جو اس نے اگلے ہی لمحے اٹھا لیا تھا۔۔
ہاں بولو۔
کہاں ہو تم۔سائرہ کی اواز سے پریشانی صاف ظاہر ہو رہی تھی۔
میں گھر جا رہی ہوں اور کدھر ہونا۔کیوں کیا ہوا تم پریشان لگ رہی ہو۔
تمہیں کچھ پتہ ہے اج کیا ہے۔۔سائرہ نے پھر سے سوال کیا۔
نہیں۔۔
تمہاری سالگرہ تو بالکل بھی نہیں۔۔مروہ ہلکی سی مسکرائی تھی۔کیونکہ جب اس کی سالگرہ ہو تو وہ ایسے ہی یاد کرواتی تھی۔۔
اج سائم مردان کی اگینجمنٹ ہے۔یہ سنتے ہی مروہ ایک دم سے رک گئی تھی۔۔
کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی۔۔مروہ بہت تیزی سے بولی تھی۔
ہمارے ریسٹورنٹ کو ارڈر ملا ہے۔
کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی۔۔
اس نے تمہارے ساتھ ٹائم پاس کرنا تھا جو اس نے کر لیا ہے۔دوسری طرف سے لائن کٹ گئی تھی۔۔
مروہ نے جلدی سے سائم کو فون ملایا۔اس نے سائم کو کافی کالز کی تھی۔سائم نے ایک بھی پک نہیں کی تھی۔اسے سچ میں لگنے لگا تھا۔کہ سائم نے اسے دھوکہ دیا ہے ۔۔
مروہ سمندر کے کنارے بیٹھی تھی۔اس کی انکھوں میں انسو تھے۔اور وہ زار و قطار روئی جا رہی تھی۔۔سمندر کی لہریں بھی زور و شور سے مچل رہی تھی۔لیکن اج وہ اسے لطف اندوز نہیں کر پا رہی تھی۔۔
کیونکہ جب دل مڑجا جائےتودنیا کی کوئی لذت انسان کو سکون نہیں دیتی۔پھر چاہے وہ کتنی ہی خوبصورت کیوں نہ ہو۔۔۔۔
مروہ۔۔۔
سائم اگلے ہی لمحے مروا کے سامنے تھا۔تم رو رہی ہو۔اس نے مروہ کو ہاتھ سے پکڑ کر کھڑا کیا۔اور اس کے انسو پہنچنے لگا۔۔
دور ہٹو۔مروہ زور سے چلائی۔۔
سائم حیرانگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔اب کیا ہوا ہے۔وہ اسے سمجھ نہیں پا رہا تھا۔
کیونکہ اسے کسی بات کا علم نہیں تھا۔
تم نے دھوکہ دیا ہے سمندر کی ہوائیں مروہ کے بالوں سے ٹکرا رہی تھی۔اس کی انکھ میں ابھی بھی انسو تھے۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں ارہا ۔مجھے پوری بات بتاؤ سائم دو قدم اگے ایا۔اس نے پھر سے مروہ کو پکڑنا چاہا۔پر وہ دو قدم پیچھے چلی گئی۔۔سائم نے سکائی بلو شرٹ پہنی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
کیا اج تمہاری اگینٹمنٹ نہیں ہے۔۔۔۔۔
اب یہ تمہیں کس نے کہہ دیا۔۔سائم اس کے سامنے حیران کھڑا تھا۔ہاتھ کی ایک اگلی ماتھے پہ تھی۔۔۔۔۔۔
____________________
سائم ابھی تک نہیں ایا۔۔انٹی سب کیا سوچیں گے۔
مہروش نے وائٹ میکسی پہنی ہوئی تھی۔اور ایک دلہن جیسی تیار ہوئی تھی۔
وہ ا جائے گا۔تم ایسے ہی پریشان ہو رہی ہو۔۔۔۔۔۔
وہ نہیں ائے گا۔کبھی نہیں ائے گا۔اپ بس مجھے جھوٹی تسلی دے رہی ہے۔نورا بھی پاس ہی کھڑی تھی۔۔
____________
تم نے ایسا سوچ بھی کیسے لیا۔کہ میں تمہیں چھوڑ کر کسی اور کو انگوٹھی پہناؤں گا۔اور میری انگیجمنٹ تو تم سے ہو چکی ہے نا۔سائم اور مروہ سمندر کے کنارے لیٹے ہوئے تھے۔مروہ کا سر سائم کے بازو پر تھا۔۔۔
اگیجمنٹ تو تمہاری تھی۔میں نے غلط تو نہیں سوچا تھا۔۔
سائم نےمسکرا کر ایک نظر مروہ کو دیکھا جو حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
کیا تمہاری موم تم سے ناراض نہیں ہوگی۔۔اس نے اگلے ہی لمحے سوال کیا۔
مجھے تمہارے سوا کسی کی پرواہ نہیں ہے۔یہ کہتے ہی سائم نے مروہ کو تھوڑا اور قریب کیا۔تم میری شہ رگ ہو میں بہت پہلے تمہیں بتا چکا ہوں۔۔۔
میں اب تمہارے بغیر رہنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔تم جانتے ہو اج میں کتنا ڈر گئی تھی۔۔
مجھے تمہارے منہ سے اقرار سننا اچھا لگتا ہے۔مجھے ایسا لگتا ہے کہ میری محنت کا پھل مل گیا۔تم جانتی ہو تم میری زندگی کی پہلی چیز ہو جس کے لیے میں نے اتنی محنت کی ہے۔مجھے زندگی میں سب کچھ بہت اسانی سے مل گیا ہے
۔بس ایک تم تھی۔جو ماننے سے بھی نہیں مانتی تھی۔۔
سائم کی نظر اسمان پر تھی۔اور وہ مسلسل بولے جا رہا تھا۔جب کافی دیر تک اسے کوئی جواب نہ ملا۔تو اس نے مڑ کر مروہ کو دیکھا۔جو گہری نیند سو رہی تھی۔سائم ہلکا سا مسکرایا تھا۔۔۔
عثمان مروہ کا کوئی پتہ نہیں ہے ادھی رات گزر چکی ہے۔وہ دونوں روڈ پہ گھوم رہے تھے۔۔۔
تم نے سائم کو کال کی۔کی ہے پر اس کا نمبر بھی بند جا رہا ہے۔۔
_________
۔
وہ دونوں کافی دیر سے مروہ کو ڈھونڈ رہے تھے۔لیکن مروہ انہیں کہیں نہیں ملی تھی۔۔
او میرے خدا یہ لڑکی کبھی بھی سکون سے نہیں رہنے دیتی۔
میری ادھی زندگی تو اسی کے مسئلوں میں گزر جائے گی۔
کہیں مروا نے خود کشی تو نہیں کر لی۔عثمان نے اپنی رائے دی۔۔۔۔
سائرہ نے عثمان کو غصے بڑی نگاہ سے دیکھا۔۔۔۔
کیا فلموں میں ایسا نہیں ہوتا جب کسی کے ساتھ بے وفائی ہوتی ہے تو وہ خود کشی کر لیتا ہے۔میں تو اسی لیے کہہ رہا تھا۔اب تمہارے سامنے ہم نے اسے کہا نہیں ڈھونڈا۔
تمہیں مروہ کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔سائرہ نے ہاتھ کے اشارے سے پوچھا۔
اگر پرواہ نہ ہوتی تو ابھی یہاں ہوتا۔ذرا دیکھو تو رات کے تین بج گئے ہیں۔
____
اپ کے بیٹے نے مجھے کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔سب لوگ اتنی باتیں کر رہے تھے۔اور بیچاری مہروش کا کیا قصور ہے۔ارم بیڈ کی ایک سائیڈ پر بیٹھے بولے چلی جا رہی تھی۔۔
کیا میں نے تمہیں پہلے نہیں سمجھایا تھا۔تم سائم کو اچھے سے جانتی ہو۔جب وہ انکار کر دے تو اس کا مطلب انکار ہی ہوتا ہے۔۔۔
یہ کہتا ہی ہارون دوسری طرف سو گیا تھا۔جبکہ ارم مسلسل سائم کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔
__&&&&&
گڈ مارننگ سویٹ ہارٹ۔مروہ کی انکھ کھلتے ہی سائم نے بولا۔۔۔۔
سائم۔۔۔۔
مروہ نے حیرانگی سے اگے پیچھے دیکھا۔ایک دم سے اٹھ گئی۔کیا میں یہیں سو گئی تھی۔سائم بھی اٹھ کے بیٹھ گیا تھا۔
ہاں تم یہیں سو گئی تھی۔میں نے اٹھانا مناسب نہیں سمجھا۔سائم کی اواز سے لگ رہا تھا کہ وہ رات بھر نہیں سویا۔
تم مجھے اٹھا دیتے۔میں ساری رات تمہارے بازو پہ سوئی رہی ۔کیا یہ درد نہیں کر رہا۔۔
یہ تو ایک رات تھی۔تم ساری زندگی بھی اسے ایز ا پلو استعمال کر سکتی ہو۔سائم پیار بڑی نظروں سے اسے دیکھا۔
میرا موبائل۔۔
مروہ اگلے ہی لمحے اس سے دور ہو گئی تھی۔سائرہ تو پریشان ہو گئی ہوگی ۔
تم ہمیشہ ایسا کیوں کرتی ہو۔سائم نے مروہ کے ہاتھ سے موبائل لیا۔کیا میرا تم پر کوئی حق نہیں ۔ہمیشہ دور بھاگتی ہو۔۔
مروہ خاموش اس کے سامنے بیٹھی تھی۔۔
اچھا چلو اچھا سا بریک فاسٹ کرتے ہیں۔پھر میں تمہیں گھر چھوڑ دوں گا۔۔
نہیں سائم مجھے کام پر جانا ہے۔بہت دیر ہو جائے گی۔
تم اج سے میرے افس میں کام کرو گی۔سائم نے ہاتھ مروا کی طرف بڑھایا۔جو ابھی تک زمین پر بیٹھی ہوئی تھی۔
نہیں سائم ایسا نہیں ہو سکتا۔اس نے ہاتھ سائم کے ہاتھ میں ہاتھ دیا۔اور اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔
ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔کیا تم 24 گھنٹے میری انکھوں کے سامنے نہیں رہنا چاہتی۔۔۔۔
میں نے کہا نہ نہیں تو نہیں اب اس ٹاپک پہ بات نہیں کریں گے۔۔۔
وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے جا رہے تھے۔۔
_______________
تم کہاں تھی ساری رات۔۔۔۔
مروہ کیا تم میری جان لینا چاہتی ہو۔سارا میں کسی دادی جان کی روح اگئی تھی۔مروہ ابھی دروازے پر تھی۔کہ سارہ نے پوچھنا شروع کر دیا۔۔
مجھے اندر تو آنے دو۔مروا نے اسے دروازے سے ہٹایا اور اندر آگئی۔
کیا کیا تم سائم کے ساتھ تھی۔
ہاں میں سائم کے ساتھ تھی۔۔
او میرے اللہ۔۔۔۔۔
تم پاگل ہو گئی ہو۔۔
وہ کافی دیر مروہ سے لڑتی رہی۔
تم کہاں تھی ساری رات سائم میں کچھ پوچھ رہی ہوں۔ارم بالکل سائم کے سامنے کھڑی تھی۔
کیا میں چھوٹا بچہ ہوں۔یہ میں نے پہلی دفعہ رات گھر سے باہر گزاری ہے۔
کل میں نے تمہارا اور مہروش کا فنکشن رکھا تھا۔۔
کس کی مرضی سے رکھا تھا۔ابھی ارم کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی۔کہ سائم نے فورا سے کہا۔اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔۔
اس نے اندر سے روم لاک کر لیا تھا۔شاید وہ کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔
تمہارا کام میں کیوں کروں عثمان ۔ مروہ نے کپڑے کا اک ڈبہ عثمان کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا۔یہ تمہارا کام ہے میرا نہیں۔
تمہاری وجہ سے میں ساری رات نہیں سویا۔
کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا میں نے اور سائرہ نے تمہیں۔اب یہ کام تم ہی کرو گی۔عثمان نے ڈبہ واپس مروہ کو دیا۔
ہیلو مروہ۔۔۔
مروہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اجے تھی۔کیسی ہو تم۔وہ مسکراتی ہوئی اس سے پوچھ رہی تھی۔اسے دیکھتے ہی مروہ کا رنگ اڑ گیا تھا۔۔
بس اسی کی کمی تھی۔عثمان اپنے ہی من میں بڑبڑا رہا تھا۔
میں اب ایسا کچھ نہیں کروں گی۔تمہیں جو کرنا ہے کر لو۔میں خود سائم کو سارا سچ بتا دوں گی۔اس کے بعد تمہارا کھیل ختم ہو جائے گا۔۔۔۔۔
اور یہ سننے کے بعد سائم تمہیں اپنے ساتھ رکھے گا۔اسے جھوٹ سے سخت نفرت ہے اور دھوکہ دینے والے کو وہ کبھی معاف نہیں کرتا۔اور تم نے تو اس سے جھوٹ بھی بولا۔اور دھوکہ بھی دیا۔تو تمہارے ساتھ تو پتہ نہیں وہ کیا کرے گا۔۔
میں نے اس سے کوئی جھوٹ نہیں بولا۔جو کیا ہے وہ تم نے کیا ہے۔
