266K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Rung Episode 21

Shah Rung by Aneeta

شام کو جہاں ملے تھے وہاں تمہارا انتظار کروں گا۔اور فیصلہ تمہارے انے یا نہ انے پہ ہوگا سائم نے اتنی سی بات کر کے فون بند کر دیا تھا۔جبکہ دوسری طرف مروہ نے ایک دفعہ پھر فون لگانے کی کوشش کی۔لیکن سائم نے کاٹ دیا۔۔

سائرہ مروہ کے پیچھے ہی ائی تھی اور وہ ساری باتیں سن چکی تھی۔اب کیا ہوگا سائرہ وہ تو بات سننے کو تیار ہی نہیں ہے۔مروہ ماتھے بے پریشانی کے بل لیے بیڈ پر بیٹھ چکی تھی۔

تم جاؤ ملو اور اس سے بات کرو۔مروہ اگر اس نے علی کے ساتھ کچھ کر دیا تو بہت بڑا مسئلہ ہو جائے گا۔یہ پاکستان نہیں ہے۔سائرہ اس کے مقابل اتے ہوئے بولی۔۔مروہ نے کچھ سوچا پھر بیڈ پہ پڑے کوٹ کو پہننے لگی۔۔۔

__________

دوسری طرف ایمن نے بھی پولیس میں کمپلین درج کروا دی تھی۔اور پولیس علی کو ڈھونڈنے میں مصروف تھی۔

مروہ تھوڑی ہی دیر میں اس جگہ پہنچ چکی تھی۔سائم پہلے سے ہی وہیں موجود تھا۔اسے دیکھتے ہی قدم اس کی طرف بڑھائے۔۔۔۔۔۔

بولو اب۔۔۔۔۔مروہ اس کے مقابل اتے ہوئے بولی۔۔۔۔

اخر تمہیں ڈر کس بات کا ہے اور تمہیں یہ لگا بھی کیسے کہ میں اسے ایسے ہی چھوڑ دوں گا وہ اپنے کیے کی قیمت جھکائے گا۔سائم دو قدم اور اگے بڑھا۔۔۔

اس نے جو کیا ہے ۔مسٹر سائم مردان میں اپنے معاملات خود دیکھ سکتی ہوں۔اس نے سرد لہجے میں یہ بات کہی تھی۔جبکہ سائم یہ بات سنتے ہی ہاتھ سے غصہ کنٹرول کرنے لگا تھا۔سائم نے مروہ کو بازو سے پکڑ کر قریب کیا۔

تم خود کو کیا سمجھتی ہو۔اور اپنے جھوٹ کے بارے میں تو بتاؤ۔۔

کون سا جھوٹ میں نے تم سے کوئی جھوٹ نہیں بولا۔

اچھا تو کیا علی تمہارا فیونسی نہیں تھا تم لوگ شادی نہیں کرنے والے تھے۔سائم نے اس کی انکھوں میں دیکھا۔تم نے یہ جھوٹ کیوں بولا میرے ساتھ۔۔

کیونکہ میں چاہتی ہوں تم میری زندگی سے دفع ہو جاؤ۔مجھے تم ایک انکھ بھی پسند نہیں ہو۔مروہ نے ہاتھ اس کے سینے پہ رکھا۔اور پیچھے کیا۔جب کہ سائم نے دوبارہ اس کا ہاتھ پکڑا اور گاڑی کی طرف لے گیا۔جبکہ مروہ حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔

یہ کیا کر رہے ہو اب۔مجھے کہاں لے کے جا رہے ہو وہ مروہ کو گاڑی میں بٹھا چکا تھا۔اور خود ڈرائیونگ سیٹ کی طرف جا رہا تھا۔اس نے ایک نظر مروہ کو دیکھا جو مسلسل گاڑی کھولنے کی کوشش کر رہی تھی۔پر اسے فکر نہیں تھی کیونکہ وہ گاڑی کو پہلے ہی لاک کر چکا تھا۔اور پھر گاڑی کو سٹارٹ کر لیا۔۔

جب سائم نہیں ا رہا تھا تو تم نے بھی وہیں رہنا تھا۔تم مروہ کی جگہ خود ہی بنا کر ا گئی ہو۔ارم مہروش کے مقابل کھڑی تھی۔جبکہ مہروش غصے سے اگے پیچھے دیکھ رہی تھی

جیسے کچھ بھی اس کی مرضی کا نہیں ہوا۔

میں اب یہاں نہیں رکنے والی۔اس نے میری اتنی انسلٹ کی ہے۔میں وہاں رہ کے اور انسرٹ نہیں کروانا چاہتی تھی۔اور وہ وہاں صرف مروہ کے لیے رکا ہے۔مہروش بات کرتے کرتے صوفے پر بیٹھ چکی تھی۔جبکہ ارم پریشانی کے عالم میں ٹہل رہی تھی۔

میں ہارون کو فون کرتی ہوں۔وہ ان کی بات نہیں ٹالے گا واپس ا جائے گا۔ارم خود سے ہی پلاننگ بنا رہی تھی۔

اپ کا ہر پلان فیل ہوتا ہے۔اپ نے تو اپنی طرف سے مروہ کو مار دیا تھا۔لیکن دیکھیں وہ پھر سے اگئی۔اور مجھے نہیں لگتا کبھی جائے گی۔۔۔۔

میں اس لڑکی کو اس گھر کی بہو کبھی نہیں بناؤں گی۔تم یہ بات ہی اپنے دل سے نکال دو ارم اسے تسلی دینے کے انداز میں بولی۔جبکہ یہ بات بھی مہروش پے اثر نہیں کی تھی اس کا موڈ ویسا ہی تھا۔

یہ تم کہاں لے کے ا گئے ہو۔کتنا اندھیرا ہے یہاں سائم نے مروہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔اور وہ ایک سنسان جگہ سے گزر رہے تھے۔راستہ بہت خراب تھا۔مروہ مشکل سے چل پا رہی تھی۔جبکہ سائم نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔۔

سائم پلیز بتا تو دو مجھے ڈر لگ رہا ہے۔مروہ نے اسے روکا۔

جب میں ساتھ ہوں تو ڈر کس بات کا سائم نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر سے چلنا شروع کر دیا۔۔۔۔

مجھ سے نہیں چلا جا رہا۔مروہ واقعی میں بہت مشکل سے چل پا رہی تھی۔اس نے پمپی ٹائپ شوز پہنے ہوئے تھے۔جو مٹی میں ڈس جاتے تھے۔نیچے کہیں کہیں کھڈے بنے ہوئے تھے۔

تو کیا اٹھا لوں تمہیں سائم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا۔وہ شاید اس کا رد عمل دیکھنا چاہتا تھا۔

مروہ نے ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑوایا۔میں خود ہی چل لوں گی اس کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

مذاق کیا تھا۔سائم نے پھر سے اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑا۔اسے اتنی اپنی فکر نہیں تھی جتنی مروہ کی تھی۔وہ لوگ ایک روشنی کو فالو کر رہے تھے جو کچھ فاصلے پے تھی۔

تو یہ رہی ہماری منزل جسے دیکھتے ہی مروہ کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی۔اسے سمجھ نہیں ا رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔اس کے سامنے ایک چیئر پہ علی بندھا ہوا تھا۔جو شاید بالکل بھی ہوش میں نہیں تھا۔اس کی حالت بہت بری تھی۔پورا چہرہ زخموں سے بڑا ہوا تھا۔اور اس نے گردن کو ایک طرف گرایا ہوا تھا۔۔

کیا تم نے اسے مار دیا۔مروہ بری طرح سے کانپ رہی تھی۔بولو سائم۔۔۔۔۔

نہیں ابھی تک تو زندہ ہے۔اور بہت جلد میں اسے اوپر بیچنے والا ہوں۔اور یہ کام میں تمہارے خوبصورت ہاتھوں سے کرواؤں گا۔تاکہ ائندہ سے تم ڈرو مت۔یہ کہتے ہی سائم نے پیچھے سے بندوق نکالی تھی۔اس نے ٹرنچ کوٹ پہنا ہوا تھا۔اور وہ قدم بڑھا کے مروہ کے پاس ا رہاتھا۔مروہ بری طرح سے کانپتی ہوئی پیچھے ہوئی۔کیونکہ یہ سین اس نے اپنی زندگی میں پہلی دفعہ دیکھا تھا۔

تم پاگل ہو گئے ہو۔۔

پلیز اس کو کھولو۔۔وہ مسلسل پیچھے جا رہی تھی۔اور ایک پتھر سے ٹکرانے کی وجہ سے وہ بری طرح نیچے گری تھی۔

دیکھو ارام سے۔سا ئم اگلے ہی لمحے اس کے پاس ایا تھا۔دکھاؤ ذرا اس نے اس کے پاؤں کو موڑتے ہوئے کہا۔پاؤں ہلکا سا سرخ ہوا تھا۔۔

میں ٹھیک ہوں۔اگلے ہی لمحے مروہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔پلیز اس کو کھول دو۔پلیز سائم

۔میں یہ نہیں کر سکتا مرو ہ۔چلو یہاں اؤ میں بندوق چلانا سکھاتا ہوں۔سائم ریلکس موڈ میں تھا۔اس کے لیے یہ بات نئی نہیں تھی۔جبکہ مروہ بری طرح کانپ رہی تھی۔

سائم تمہیں سمجھ کیوں نہیں ارہی پلیز اب وہ اس کے بالکل سامنے کھڑی تھی۔اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے پسٹل پر ہاتھ رکھا۔اس نے ایک لمبی سانس لی تھی اسے پیچھے کرو۔۔

جب اس طرح بولو گی پھر تو کرنا پڑے گا۔اس نے سرگوشی میں یہ بات بولی تھی۔

سر پولیس اس کو ٹریس کر رہی ہے۔سامنے سے اتے دو لڑکوں نے سائم کو کہا۔ان کے ہاتھوں میں بھی پسٹل تھا۔

دیکھا میں نے کہا تھا نا۔اب سزا بھی ہوگی اور ہم ڈیپورٹ بھی ہوں گے۔

سائم اس کی بات پہ ہلکا سا مسکرایا تھا۔میں نے یہ پہلی دفعہ نہیں کیا مروہ

مروہ حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔سائم یہ پاکستان نہیں ہے۔کہ تم کچھ بھی کرتے پھرو گے۔تمہارے لیے تو یہ بڑی بات نہیں ہوگی۔اور میرے سارے خواب ٹوٹ جائیں گے۔

دیکھو تمہیں ہاتھ لگانے والے کا میں نے کیا حشر کیا ہے۔تو جو خواب توڑے گا وہ کہاں بچ کے جائے گا۔سائم بالکل ریلیکس تھا۔جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔جب کہ مروہ مسلسل کانپ پے جا رہی تھی۔سائم نے اس کے کانپتے ہوئے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے۔۔

اب تم ٹینشن لینا بند کرو۔اور ویسے بھی مرا نہیں ہے زندہ ہے۔اس نے علی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔جو ابھی بھی بے ہوش تھا۔مروہ نے بھی ڈرتے ہوئے گردن اس سائیڈ پہ گھمائی۔اور ایک دم ہی سائم کو دیکھنے لگی۔مروہ کی اس حرکت پر سائم ہلکا سا مسکرایا تھا۔

تو کیا یہ پولیس کمپلین نہیں کرے گا۔مروا نے سائم کی انکھوں میں دیکھا۔یہ پولیس کو سب بتا دے گا۔

یہ پولیس کو کچھ نہیں بتائے گا۔اور اگر بتا بھی دے گا تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔مروہ نے سکون کا سانس لیا تھا۔شاید یہ سائم پہ یقین کی وجہ سے تھا۔جنگل میں ہر طرف سناٹا تھا۔کہیں کہیں سے کوئی جانور بولتا تھا۔چاروں طرف اندھیرا تھا۔بس کچھ لائٹیں جلی ہوئی تھی۔جن کی روشنی بھی مدم تھی۔۔۔

چلو اب چلتے ہیں رات بہت ہو گئی ہے۔سائم نے اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑا۔اور لڑکوں کو اشارہ کیا۔اس کا اشارہ مروہ کی سمجھ میں تو نہیں ایا تھا۔لیکن ان لڑکوں نے اشارہ ملتے ہی۔ہاتھ پاؤں چلانا شروع کر دیے تھے۔شاید وہ سارے ثبوت مٹانا چاہتے تھے۔

مروا نے ایک نظر اگے پیچھے گھمائی اور پھر سائم کے پیچھے پیچھے چلنے لگی۔

یا اللہ یہ لڑکی کہاں چلی گئی ہے۔سارا پریشانی کے عالم میں اگے پیچھے ٹہل رہی تھی کبھی وہ فون کی طرف دیکھتی تو کبھی وہ دروازے کو دیکھتی۔کہیں سائم اس کو اپنے ساتھ تو نہیں لے گیا۔اس کے ذہن میں عجیب و غریب خیال ا رہے تھے۔

کچھ بولو گی نہیں۔۔

مروہ کو چپ بیٹھے دیکھ کر سائم نے اسے مخاطب کیا۔جس سے مروہ پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔

میں تم سے بات کر رہا ہوں۔وہ کبھی روڈ پہ دیکھتا تو کبھی مروہ کو وہ کافی سلو سپیڈ میں گاڑی چلا رہا تھا۔اب وہ جنگل سے کافی اگے ا چکے تھے۔

کیا بولوں میں اب مروہ ابھی تک سکتے میں تھی جو کچھ ہوا وہ اس کی سمجھ سے باہر تھا۔اور شاید اس کے انجام سے بھی وہ ڈر گئی تھی۔وہ مکمل سرد پڑ چکی تھی۔جیسے جسم میں جان نہ ہو۔

اسے ایسے دیکھتے ہوئے سائم نے اپنے بالکل سامنے پرے باکس کی طرف نظریں جمائیں۔وہ اسے اٹھانے ہی لگا تھا کہ مروا نے اٹھا لیا۔یہ وہی انگوٹھی تھی۔جو سائم نے پہلے مروا کو پہنائی تھی۔سائم نے ایک نظر اسے دیکھا وہ اس کی حرکت پہ حیران تھا۔

مروا نے اگلے ہی لمحے اس باکس کو ونڈو کھول کر باہر پھینک دیا۔جو سیدھا جا کر سمندر میں گرا تھا۔روڈ کی دونوں طرف سے پانی گزر رہا تھا۔وہ ایک برج سے گزر رہے تھے ۔لیکن مروہ حیران ہوئی کہ سائم نے کوئی ری ایکٹ نہیں کیا تھا۔

گرا دیا؟

سائم نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔وہ بالکل ریلیکس تھا۔یہ دیکھ کر وہ تھوڑی حیران ہوئی۔اس نے منہ سے تو کوئی جواب نہیں دیا تھا پر اس کی نظریں سائم سے سوال کر رہی تھی۔

باکس ویسے بھی بیکار تھا۔اس نے اپنے کوٹ کے پاکٹ میں ہاتھ ڈالتے ہوئے انگوٹھی باہر نکالی۔وہ مسکراتے ہوئے مروا کو دیکھ رہا تھا۔

مروہ کو سمجھ نہیں ارہی تھی کہ اب اسے کیا کرنا چاہیے۔اس نے تو اپنی طرف سے انگوٹھی سمجھ کر ہی گرایا تھا۔پر وہ صرف باکس تھا۔

میں اسے بھی گرا دوں گی۔مروا نے اس کے ہاتھ سے انگوٹھی لینا چاہی۔لیکن سائم نے اس سے مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔چلو اسے گرا کر بتاؤ ۔سائم نے گاڑی کو بریک لگائی اور انگوٹھی کو مروہ کی طرف بڑھایا۔مروہ نے اپنا رخ دوسری طرف کر لیا۔شاید وہ سائم سے ڈر گئی تھی۔

میں نے کہا پھینکو اسے سائم نےاب ذرا سختی دکھائی تھی۔

پکڑو۔۔۔۔۔

اس نے انگوٹھی اس کے ہاتھ میں تھمائی تھی۔۔جسے اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے پکڑا تھا۔وہ انگوٹھی کو مسلسل دیکھے جا رہے تھی۔

پھینکو مروہ۔۔سائم کی اواز نے اسے ایک دفعہ پھر سے ڈرایا تھا۔اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے ہی انگوٹھی کو سامنے رکھ دیا۔جہاں سے سائم نے اٹھائی تھی۔

کیوں نہیں پھینکی تم نے۔

ابھی تم نےمیرا پیار دیکھا ہے غصہ نہیں۔

وہ شاید ڈر گئی تھی۔کیونکہ سائم کو سمجھنا بہت مشکل تھا۔وہ کچھ بھی کر سکتا تھا۔شاید اسی وجہ سے اس نے انگوٹھی کو ارام سے رکھ دیا تھا۔سائم نے ایک نظر دیکھا اسے کچھ سوچا اور پھر گاڑی سٹارٹ کر دی۔شاید وہ کچھ کہنے کے موڈ میں نہیں تھا۔یا پھر اسے مروہ پر ترس ا گیا تھا۔اب گاڑی کی سپیڈ پہلے سے زیادہ تھی۔۔

اب اس سائم مردان کو میں سیدھا کرتی ہوں۔سائرہ اپنا اور مروہ کا سامان سوٹ کیس میں ڈال رہی تھی۔اب یہ خود ہم سے جان چھڑائے گا۔مروہ کا نام لیتے ہوئے 10 دفعہ سوچے گا۔وہ غصے سے بولے چلے جا رہی تھی۔کیونکہ اج جو ہوا تھا اسے اس کا علم ہو گیا تھا۔۔

کیا علی مل گیا ہے۔ایمن جو پولیس اسٹیشن میں ہی بیٹھی ہوئی تھی۔خوشی کے تاثرات دیتے ہوئے بولی۔کس نے کیا ہے یہ کون تھا وہ۔وہ انگلش میں پوچھے جا رہی تھی۔

دیکھیں ابھی تک ہمیں کوئی سراخ نہیں ملا۔یہ تو اپ کا بیٹا ہی بتا سکتا ہے۔پولیس والے نے ایمن بیگم کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔اور انہیں پاس رکھی چیئر پر بٹھا دیا۔پانی پہلے ہی ان کے پاس پڑا ہوا تھا جو وہ خود ہی اٹھا کے پینے لگی۔

یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔۔۔۔۔۔۔

وہ ہاتھ اوپر اٹھائے دعائیں کر رہی تھی۔۔۔

سائم نے گاڑی کو بریک لگایا وہ مروہ کے فلیٹ کے باہر ا چکا تھا۔لیکن وہاں کا منظر دیکھ کر مروا اور سائم دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔سائرہ سارے سامان کے ساتھ روڈ پہ بیٹھی ہوئی تھی۔انہیں دیکھتے ہی گاڑی کی طرف ائی۔ ۔مروہ کے چہرے پہ پریشانی تھی۔کیونکہ وہ جانتی تھی وہ جس فلیٹ میں رہ رہی تھی۔اور جہاں کام کرتی تھی وہ علی کے ہی تھے۔اسے یہ سمجھنے میں زیادہ ٹائم نہیں لگا تھا۔

اترنے کی ضرورت نہیں ہے دونوں کو ۔سائم سیٹ بیلٹ کھول کر نیچے اترنے ہی والا تھا۔کہ اچانک سے سارا بولی۔وہ اپ ونڈو کے پاس ا چکی تھی۔

کیا مطلب سائرہ کیا ہوا ہے۔مروہ نے حیرانگی سے پوچھا۔سائم بی اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

تم لوگوں کو کیا لگتا ہے۔۔

کہ جو علی کے ساتھ ہوا ہے وہ ہمیں یہاں رہنے دے گا۔رہنا تو دور کی بات وہ ہمیں پولیس کے حوالے کر دے گا۔اس لیے مسٹر سائم مردان ہمارے پاس تو اب کوئی ٹھکانہ نہیں بچا رہنے کا تو مجبوری ہے ہماری۔اب جہاں اپ وہاں ہم۔

تم پاگل تو نہیں ہو گئی۔مروہ نے گاڑی سے اترنا چاہا لیکن سائم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

صحیح تو کہہ رہی ہے۔

ویسے مجھے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔کیا تم دونوں ایڈجسٹ کر لو گی میرے ساتھ اس نے دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔اور اس کی نظریں کچھ اچھے تاثرات نہیں دے رہی تھی۔وہ شاید مروہ کا موڈ ٹھیک کرنا چاہتا تھا۔

تمہارے کہنے کا کیا مطلب ہے۔مروہ نے اپنا ہاتھ زور سے پیچھے کیا اپنے لمٹ میں رہنا سیکھو۔اور کوئی تمہارے ساتھ کہیں نہیں جا رہا۔یہ کہتے ہیں مروا نے اترنا چاہا پر گاڑی وہ لاک کر چکا تھا۔کیونکہ وہ مروہ کو اتنا تو سمجھ ہی گیا تھا۔

میں مذاق کر رہا ہوں۔سائم نے ہلکی سی سمائل دی اور گاڑی سے اترا۔اس نے سارا کا سامان ڈگی میں رکھا۔اور اس سے پیچھے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔اور دوبارہ اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔

سارا تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔یہ تم کیا کر رہی ہو مروہ نے انکھیں نکالتے ہوئے سائرہ سے پوچھا یقینا اگر وہ اس ٹائم اس کے پاس ہوتی۔تو وہ اسے مارے بغیر نہیں نہیں رہتی۔۔

اب نہ ہی تو ہمارے پاس رہنے کے لیے گھر ہے۔اور نہ ہی کوئی جاب تو یہی لاسٹ اپشن تھا ۔

کیوں سائم مردان اپ کو کوئی مسئلہ تو نہیں ہے نہ۔سارا تھوڑا اگے جھکی تھی اس کی ایک کونی مروہ کی سیٹ پہ جب کہ ایک سائم کی سیٹ پہ تھی۔شاید وہ اس کا ری ایکشن دیکھنا چاہتی تھی۔

مائی ڈیئر میں پہلے ایکسپلین کر چکا ہوں۔میں تو ایک ساتھ چار بھی ایکسپیرینس کر چکا ہوں ۔تم تو پھر دو ہو۔اس نے ہنستے ہوئے پیچھے دیکھا۔سارا اس کی بات سنتے ہی پیچھے ہو گئی تھی۔اب اسے لگنے لگا تھا یہ اس سے بھی بڑی گیم ہے۔

جب کہ مروہ غصے بڑی نگاہ سے اسے دیکھے جا رہی تھی۔اس کے بس میں نہیں تھا کہ وہ یہاں سے اتر جائے۔مروا نے سوالیا نظروں سے پیچھے سارا کی طرف رخ کیا شاید وہ اس بات سے اس کا رد عمل جاننا چاہتی تھی۔

مروہ تم ٹھیک سے بیٹھو یہ گاڑی ہے۔صوفہ نہیں سائم نے اسے وان کرتے ہوئے کہا۔مروہ بے بسی کے عالم ہے ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اُڑ کے پیچھے چلی جائے۔اور سائرہ سے پوچھے کہ یہ سب کیا ہے۔۔

اپ اپنے لاڈلے کو کچھ سمجھائیں گے۔ارم بیگم نے ہارون کے اتے ہی اپنے دل کی برس نکالنا شروع کر دی۔حبیب میاں بھی وہیں موجود تھے۔اور شاید اپنے کمرے میں جانے لگے تھے۔لیکن ارم کی بات سن کر رک گئے تھے۔ہارون نے بھی پہلے انہیں سلام کیا۔ان کی خیریت پوچھنے کے بعد وہ اس کی طرف مخاطب ہوئے۔

وہ واپس نہیں ایا۔۔

میری تم سے پہلے ہی اس سے بات ہو گئی ہے۔وہ کام کے سلسلے میں گیا ہے ا جائے گا تمہیں اتنی فکر کیوں ہو رہی ہے۔تم سائم کو لے کے کچھ زیادہ ہی ایموشنل ہو رہی ہو۔۔

میرا بیٹا ہے وہ میں نہیں فکر کروں گی تو کون کرے گا۔ارم نے ہارون کا بیگ لے کر ایک طرف رکھا۔اور اسے پانی کا گلاس دیا۔جو ہیلپر پہلے سے ہاتھ میں لیے کھڑی تھی۔

مہروش کو اکیلا بھیج دیا اپ کے لاڈلے نے۔۔

اچھا تو مسئلہ اس بات کا ہے۔ہارون نےارم کی بات سنتے ہی کہا۔تم اُسے کیوں اس پہ زبردستی مسلط کرنا چاہتی ہو۔وہ اج کے زمانے کا لڑکا ہے۔اُسے جینے دو اس کی زندگی۔یہ کہتے ہوئے ہارون کمرے میں چلا گیا۔جبکہ ارم وہیں صوفے پر بیٹھ گئی ۔شادی تو اس کی مہروش سے ہی ہوگی۔اس نے اندر ہی اندر پلاننگ بناتے ہوئے کہا۔

چلو اؤ یہاں سے کچھ کھا لیتے ہیں۔میری فیورٹ پلیس ہے۔اور کھانا بھی لاجواب ہوتا ہے سائم نے گاڑی کوPonte Girevole برج کے کہیں پاس ہی روکا تھا۔جہاں سمندر کے کنارے ایک چھوٹا سا ریسٹورنٹ بنا ہوا تھا۔گنتی کے پانچ چھ ٹیبل ہی لگے ہوئے تھے۔اور جگہ بہت خوبصورت تھی۔سمندر کے کنارے تھی بالکل ۔۔۔

سائری تو گاڑی کے رُکتے ہی اتر گئی تھی۔جبکہ مروہ کا کوئی ارادہ نہیں لگ رہا تھا۔

اپنی دوست سے تھوڑی فرما برداری سیکھو۔یہ کہتے ہی سائم نے مروہ کو اترنے کا اشارہ کیا۔

سائری اور سائم دونوں گاڑی کے باہر تھے جبکہ مروہ گاڑی کے اندر۔ایک تو یہ لڑکی سائم یہ کہتے ہوئے۔اس کی سائیڈ گیا اور دروازہ کھول کر اسے اترنے کا کہا۔۔

جلدی اترو ورنہ میں خود اتاروں گا۔

مجھے بھوک نہیں لگی۔۔۔

تمہیں نہیں لگی مجھے بہت لگی ہے۔یہ نہ ہو میں تمہیں کھا جاؤں۔اب جلدی سے نیچے اؤ مروہ اگلے ہی لمحے اس کے مقابل کھڑی تھی۔

تمہارا یہ حال کس نے کیا بیٹا۔ایمن علی کے سرہانے کھڑی تھی۔کچھ بتاؤ گے جب سے ائے ہو خاموش ہو۔

میں ٹھیک ہوں۔کیا مروہ اور سائرہ میں سے کوئی ایا تھا یہاں۔علی جو مشکل سے اٹھ کر بیٹھا تھا سوال کیا۔

نہیں بیٹا وہ دونوں تو نہیں ائی کیوں کیا ہوا۔

نہیں کچھ نہیں بس میں نے ایسے پوچھا۔علی کو سمجھ نہیں ا رہا تھا۔اسے شک تو پورا سائم پر تھا۔لیکن سائم خود اس کے مقابل نہیں ایا تھا۔جس کی وجہ سے وہ اس کا نام نہیں لے سکتا تھا۔اور اگر وہ سائم کا نام لے بھی لیتا۔تو بات ساری کُھل کر سامنے ا جاتی۔

یہ میری فیورٹ پلیس ہے۔مروہ سائم اور سارا تینوں ایک ایک گول ٹیبل کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے۔جو لکڑی کا تھا۔ان کے اوپر تار سے بندے کچھ گلوپ لگے ہوئے تھے اور ساتھ ہی پانی اپنا رقص جمائے بیٹھا تھا۔مروہ سمندر کی سائیڈ دیکھے جا رہے تھی۔یا شاید وہ سائم کو نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔سائم نے کھانے کا ارڈر پہلے ہی دے دیا تھا۔جو کہ اب ٹیبل پر تھا۔ایک سالم فش فرائی ہوئی تھی۔اور ساتھ میں بریڈ نما روٹیاں تھی۔

چلو اب کھانا شروع کرو۔سائم نے مروہ کو کھانا پڑوسہ تھا۔

جبکہ سائری اس کے کہنے سے پہلے ہی کھانا شروع کر چکی تھی۔

مروہ تمہارے ہر بات میں نہرے ہوتے ہیں۔شروع کرو اب۔

سائم تمہیں اس کا باپ بننے کی ضرورت نہیں ہے۔اور میری دوست سوچ سمجھ کر کھانا کھاتی ہے۔سائرہ نے گول بریڈ کو پلیٹ میں رکھتے ہوئے کہا۔

مروہ چلو شروع کرو اور میں تمہارے ساتھ ہوں اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔میں نے بہت دیکھا ان جیسوں کو۔سا ئرہ کی یہ بات سن کر سائم نے اسے غصے بڑی نظر سے دیکھا۔

یہ انکھیں کسی اور کو نکالنا مجھے دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔سائری پھر سے کھانے میں مصروف ہو گئی تھی۔اور سائم بھی کچھ نارمل ہو گیا تھا۔مروہ نے بھی کھانا شروع کر دیا ۔اور اسے کھاتے دیکھ سائم نے کھانا شروع کیا تھا۔یقینا جب تک وہ نہ کھاتی سائم بھی نہ کھاتا۔۔

کیا ہم دادا جان کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے علیزے نے ریحان سے پوچھا جو بالکل اس کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔مجھے ہر وقت ان کی فکر رہتی ہے۔

دیکھو ہماری جوائن فیملی سسٹم ہے۔اگر ہم اکیلے ہوتے تو یقینا انہیں ساتھ رکھ لیتے لیکن اب تم بھی سمجھ سکتی ہو۔ریحان نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔اور ویسے بھی وہ اپنے بیٹے کے پاس ہیں۔مبشر انکل ان کا اچھے سے دھیان رکھیں گے۔

اپ انہیں نہیں جانتے۔وہ اپنی بیوی کے اشارے پر ناچتے ہیں۔اور ابھی بھی بس پیسوں کی لالچ میں انہوں نے ساتھ رکھا ہے دادا جان کو۔

ریحان جو کھاتے کی کاپی ہاتھ میں لیے بیٹھا تھا۔اس کی اپنی دکان تھی۔نے کاپی کو سائیڈ پہ رکھا۔اور اپنا رخ علیزے کی طرف کیا۔دیکھو میں تمہاری پریشانی سمجھتا ہوں۔لیکن تم تو میری مجبوری سمجھو۔۔

میں سمجھتی ہوں ریحان۔علیزہ کچھ کہتے کہتے چُپ ہوئی تھی۔یا شاید وہ بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔میں اپ کے لیے چائے بنا کہ لاتی ہوں یہ کہتے ہوئے وہ باہر کی طرف چلی گئی۔۔

سائری کچھ بولو گی تم نے ایسا کیوں کیا۔جلدی بولو سائم ا جائے گا۔سائم سائیڈ پہ کھڑا کسی سے فون پہ بات کر رہا تھا۔جبکہ مروہ اور سائرہ دونوں اب ایک دوسرے کے بالکل قریب ہو گئی تھی۔

دیکھو اور کہاں جاتے ہم بتاؤ۔۔

اور یہی ایک طریقہ ہے اس سے جان چُھڑانے کا ہم اس کے سر پہ سوار ہو جائیں گے پھر خود ہی جان چھڑاتا پھرے گا۔سائری ابھی بھی کھانے میں مصروف تھی۔

تم اب کھانا بند کرو گی۔اور یہ کیا فضول بات کی ہے ۔ایسا کچھ بھی نہیں ہونے والا ہم اب اپنے راستے جائیں گے اور یہ اپنے بس بہت ہو گیا۔یہ کہتے ہی مروا سمندر کی سائیڈ پہ چلی گئی شاید وہ کچھ دیر اکیلا رہنا چاہتی تھی۔۔

مروہ کو سمندر کی طرف جاتے دیکھ کر سائم کو مروہ کی ڈائری پہ لکھی ہوئی تحریر یاد اگئی۔اور وہ اس کے ذہن میں ریل کی طرح چل رہی تھی۔

میں نے سمندر پہ بہت سی کتابیں پڑھی ہیں۔لیکن مجھے ایسا لگتا ہے۔کہ کسی نے بھی سمندر کی تعریف مکمل نہیں کی۔بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا۔کہ سمندر کی خوبصورتی کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔رات کے اندھیرے میں اس کی پانی کی چمک اور رات کی خاموشی میں ان لہروں کی چنچھناہٹ رات کو اور خوبصورت بنا دیتی ہے۔سمندر انسان کی طرح بہت گہرا ہوتا ہے اوورنا جانے اپنے اندر کتنے راز چھپائے بیٹھا ہے۔

سائم کے ذہن میں یہی الفاظ گونج رہے تھے۔اور وہ قدم بقدم اب مروہ کے بہت قریب اگیا تھا۔۔

مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے مروہ۔مروہ نے حیرانگی سے سائم کی طرف دیکھا۔

کیسا؟

کہ سمندر کی تعریف کوئی بھی ٹھیک سے نہیں کر پایا۔مروہ یہ سنتے ہی چونک گئی ۔

سائم اس کی انکھوں میں کھویا ہوا تھا۔۔۔۔۔

میں نے یہ کب کہا تمہیں۔مروہ نے اس کی نظروں سے نظریں ملائی۔جبکہ سائن ہوش میں نہیں تھا۔مروہ کی انکھوں نے ایک دفعہ پھر اسے دیوانہ بنا دیا تھا۔۔۔

میں کچھ پوچھ رہی ہوں۔مروہ کا لہجہ تھوڑا سرد ہوا۔تو سائم بھی اس دنیا میں واپس ایا۔۔

کے کیا۔۔۔۔

سائم نے خود کو تھوڑا پیچھے کیا۔شاید اسے اپنی بے خودی پہ شک تھا۔۔۔۔۔

کچھ نہیں۔مروا نے سرسری سا جواب دیا۔اور پھر سے سمندر کی لہروں سے کھیلنے لگی۔اس نے دونوں ہاتھ کوٹ کے پاکٹ میں ڈالے ہوئے تھے۔جبکہ بال ہوا میں اڑ رہے تھے۔وہ دھیرے دھیرے قدم بڑھاتی سمندر کے پاس جا رہی تھی۔سائم نے اسے بازو سے پیچھے کھینچا۔اور مروہ اس حملے کے لیے بالکل تیار نہیں تھی۔تو وہ بری طرح سے اس کے ساتھ ٹکڑائی۔۔۔۔

سمندر کی لہریں زور پکڑ رہی ہیں۔تو تھوڑا پیچھے رہو۔

تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔مروا نے اپنے بازو کو اس کی گرفت سے ازاد کروایا۔اور دوبارہ سے سمندر میں چلنے لگی۔۔

ہم وینکوور واپس جا رہے ہیں۔میں نے سیٹس کروا دی ہیں۔سائم گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔جبکہ سارا اور مروہ دونوں پیچھے بیٹھی تھی۔۔۔۔

نہیں ہم وہاں نہیں جائیں گے۔مروہ نے نہ میں جواب دیا۔

کیوں نہیں جائیں گے ہم جائیں گے۔سائرہ ساتھ ہی بولی۔دیکھو میری بات دھیان سے سنو وہ مروہ کے کان کے قریب ہوئی تھی۔۔نہ نہ ہی نوکریاں اور نہ ہی گھر ہے ہم دونوں کے لیے یہی اچھا ہے کہ اس کے ساتھ چلیں۔اس کا بھی تو کوئی فائدہ ہو ہمیں۔اور دیکھنا کچھ دنوں تک یہ خود ہی ہم سے جان چھڑا لے گا۔تمہیں کچھ کرنے اور کہنے کی ضرورت ہی نہیں ہوگی۔وہ سرگوشی میں بات کر رہی تھی۔جبکہ سائم نے پوری کوشش کی تھی سننے کی۔۔۔۔

اب طبیعت کیسی ہے میری جان ایمن بیگم رات بھر علی کے سرہانے ہی بیٹھی ہوئی تھی۔تم کچھ بتاکیوں نہیں رہے یہ سب کس نے اور کیوں کیا۔علی کی انکھ کھلتے ہی ایمن بیگم نے سوال جواب شروع کر دیا تھے۔۔۔۔۔

موم میں نے کہا نا ان کو پیسے چاہیے تھے۔اورکوئی مقصد نہیں تھا۔اپ ایسے ہی پریشان ہو رہی ہے۔میں فریش ہوتا ہوں اپ ناشتہ بنائیں۔علی کے دماغ میں کیا چل رہا تھا کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔

اپ کے لاڈلے کو میں نے کتنی کالیں کی ہیں۔مجال ہے جو کسی ایک کا بھی جواب دیا ہو اس نے۔ناشتے کے ٹیبل پر سبھی موجود تھے۔۔۔

میں تمہیں کہہ کہہ کر تھک گیا ہوں کہ وہ کام کے سلسلے میں گیا ہے۔جب فارغ ہو گا تو کال کر لے گا۔ہارون ابھی بول ہی رہے تھے۔کہ سائم ہال میں داخل ہوا۔۔

اگیا ہے اپ کا لاڈلا بیٹا۔سائم نے ارم کو پیچھے سے حگ کیا۔ارم پہلے تو بڑی خوشی سے اپنی چیئر سے اٹھی تھی۔لیکن اس کے پیچھے سائرہ اور مروہ کو دیکھ کر اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا سائم اگے بڑا دادا جان کو ملا اور پھر ہارون کو ملا۔۔۔

مروہ۔۔ارم نے حیرانگی سے کہا۔۔۔۔۔۔