266K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Rung Episode 35

Shah Rung by Aneeta

میں کیا کروں مروہ تمہارے ڈرنے اور رونے سے۔۔۔سائم نے ایسے بات کی تھی جیسے ا سے کوئی پرواہ نہیں۔اور گاڑی لاک کر کے اس کی کو گھمانے لگا ۔۔وہ شاید مروہںکو امپریس کرنے کے لیے سوٹر بوٹر ہو کر ایا تھا۔سفید کلر کی شرٹ اس کے چمکتے چہرے کو اور چمکا رہی تھی۔شیپ بھی تھوڑا بڑھ چکا تھا۔جو کچھ زیادہ ہی سوٹ کر رہا تھا۔۔۔

ویسے تو تمہارے مطابق مہروش میری فیونسی ہے۔تو مجھے لگتا ہے مجھے اسی کی فکر کرنی چاہیے۔نہ کہ تمہاری۔۔۔۔

مجھے اس کے رونے سے مسئلہ ہونا چاہیے نا کہ تمہارے۔۔

اور تمہیں سمجھنا بہت ہی مشکل ہے مروا۔

مجھے بھی نہیں سمجھ ا رہا۔جب سب ختم کر چکا ہے تو یہ کیا ہے۔مروہ نے ہاتھ کے اشارے سے پوچھا۔وہ دونوں امنے سامنے کھڑے تھےاب سائم نے گاڑی کے ساتھ ہلکا سا ٹیک لگایا ہوا تھا۔۔

کیا ہے۔۔۔۔سائم نے بھی لا علمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوچھا۔تم کس متعلق بات کر رہی ہو؟

تم سے بات کرنا ہی فضول ہے۔مروہ کو سمجھ نہیں ارہی تھی کہ وہ کیسے ایکسپلین کرے۔وہ اگے جانے ہی والی تھی کہ سائم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنی طرف کیا۔پہلے بات مکمل کرو کس بارے میں بات کر رہی ہو؟

میں اسی بارے میں بات کر رہی ہوں ہوں اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوئے اس نے اپنے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا۔۔۔

تو تمہاری نظر میں میں ایسا ہی تو ہوں اوارہ کریکٹر لیس وہ تھوڑا مروہ کے کان کے قریب جھکا۔تو پھر تم جیسا سمجھتی ہو میں ویسا ہی بن گیا۔سائم ابھی بھی ایکٹنگ کر رہا تھا۔۔

ائی ہیٹ یو۔۔۔مروہ نے افق نگاہ اس پہ ڈالی۔

ائی ہیٹ یو ٹو۔۔۔۔۔سائم نے اسی کے لہجے میں جواب دیا۔

مروہ سن کر تھوڑی حیران ہوئی۔کچھ سوچنے کے بعد اندر کی طرف چلی گئی۔۔اس کے جانے کے بعد سائم ہلکا سا مسکرایا۔۔۔

بیٹا کب سے کالیں کر رہا ہوں کہاں مصروف ہو۔۔

ڈیڈ بس یہی ہوں۔سائم نے ایک ہاتھ گاڑی کے اوپر رکھا اپ بتائیں اپ کیسے ہیں۔موم کیسی ہے۔۔

بیٹا میں تو بالکل ٹھیک ہوں۔کیا پروجیکٹ مکمل نہیں ہوا میں نے تمہیں کہا تھا ای میل کر دینا۔۔

جی ڈیڈ میں کر دیتا ہوں۔وہ میں نے رات کو ہی مکمل کر لیا تھا۔سائم کچھ دیر بات کرنے کے بعد افس میں داخل ہوا۔۔

سائم شکر ہے تم اگئے۔ابرش نے بلند اواز سے سائم کو پکارا۔مروہ کو بھی تھوڑا تجسس ہوا کہ اسے سائم سے کیا کام ہے۔

اندر مہروش کب سے تمہارا ویٹ کر رہی ہے۔۔۔

ائی تو مجھ سے ملنے تھی لیکن میں نے تمہارا بتایا تو یہیں رک گئی۔ابر ش کے منہ سے الفاظ نکلے ہی تھے کہ مروانے اسے غصےبڑی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا۔۔۔

مہر وش۔۔۔

سائم نے غصے کو بہت مشکل سے کنٹرول کیا۔اس نے مروہ کے سامنے کوئی ری ایکٹ نہیں کیا تھا۔لیکن اسے اندر سے بہت غصہ تھا۔وہ نارملی قدم اٹھاتا سمیر کے افس کی طرف بڑھا۔مروہ اسے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔۔

ڈوب کے مر جاؤ سائم۔۔۔۔۔۔مہروش نے یہ کیا مہروش نے وہ کیا۔اور اب کیسے ملنے کے لیے بیتاب ہو رہا ہے۔اس نے الفاظوں کو ٹیرا کرتے ہوئے جملہ مکمل کیا۔اس نے سائم کی نقل اتارنے کی ناکام کوشش کی تھی ۔تم ایک گھٹیا انسان ہو۔مروا نےایک ہاتھ سمیر کے افس کی طرف کرتے ہوئے لہرایا۔۔۔۔۔

لیکن مروہ اگر مہروش نے تمہیں یہاں دیکھ لیا۔دیکھتی ہے تو دیکھتی رہے۔وہ اب ریلیکس ہو کر بیٹھ گئی تھی۔۔

تم یہاں کیوں ائی ہو۔۔سائم نے زور سے دروازہ کھولا۔مہروش اسے دیکھتے ہی کھڑی ہو گئی تھی۔۔

سائم میں تمہیں بتا چکی ہوں مجھ سے ملنے ائی ہے۔ابرش جو مہروش کی حرکتوں سے لاعلم تھی۔اس کی طرف داڑی کرتے ہوئے بولی۔تم ایسے کیوں بات کر رہے ہو اس سے۔۔۔

میں نے تم سے نہیں پوچھا چپ ہو جاؤ۔۔سائم کی اواز پوری افس کے کمرے میں گونجی تھی۔کہ اتنی دیر میں سمیر بھی ا گیا۔کیا ہو گیا ہے تم لوگوں کو۔۔۔

مہروش کو اب جان کے لالے پڑ گئے تھے۔ایک تو سائم کا ڈر اور دوسرا یہ کہ کہیں سائم ان کو بتا نہ دے۔۔

سائم میں یہاں ائی تھی۔تو ابرش نے تمہارا بتایا تو میں رک گئی۔۔

کیوں رک گئی۔۔اواز مہروش کے کانوں میں گرجی سائم نے اسے بازو سے پکڑا۔تمہیں اس دن میری باتیں سمجھ نہیں ائی تھی۔۔

سائم یہ کیا کر رہے ہو۔سمیر نے ابرش کو پیچھے کیا جو ان کے درمیان کری تھی۔اور سائم کے ہاتھوں سے مہروش کا بازو چھڑوایا۔بیٹھ کے بات کرو اگر کوئی مسئلہ ہے۔۔

اس کو بول یہاں سے دفع ہو جائے۔ورنہ ۔۔

اوکے کام ڈاؤن۔۔۔اس کی بات کاٹتے ہوئے۔سمیر نے اشارہ کیا۔ابرش مہروش کا بازو پکڑ کر اسے باہر کی طرف لے گئی۔۔

مہروش کی شکل پہ باڑا بچ چکے تھے۔۔۔

سائم نے چیئر کو زور سے ہٹ کیا۔اور پھر اسی پہ بیٹھ گیا۔

سمیر نے جگ سے گلاس میں پانی ڈالا۔اور اس کی طرف بڑھایا۔سائم کو بھی اس کی اشد ضرورت تھی۔تو اس نے فورا سے پانی کا گلاس منہ کے ساتھ لگایا۔ایک گھونٹ پینے کے بعد پھر سے ٹیبل پر رکھ دیا۔

مہروش سائم تم سے ایسے کیوں بات کر رہا تھا۔ابرش اس سے سوال پہ سوال کر رہی تھی۔جبکہ مہروش خاموش چلتی جا رہی تھی۔

کیا مسئلہ ہے تمہارے اور مہروش میں۔سائم کو تھوڑا ریلیکس دیکھ کر سمیر نے پوچھا۔۔۔

کوئی مسئلہ نہیں ہے۔مہروش نے جو حرکت کی تھی وہ بتانے لائق ہے بھی نہیں تھی۔تو سائم نے استین کو فولڈ کرتے ہوئے پیچھے دیکھا تو مروا اپنے چیئر پر نہیں تھی۔۔۔

اب یہ کہاں گئی اس نے دل میں کہا۔کہیں یہ مہروش کا سن کر واپس تو نہیں ۔۔

یا اللہ یہ لڑکی۔۔۔۔۔۔ اس کی نظریں اور رخ ابھی بھی پیچھے ہی تھا۔۔۔

تو تم اب یہاں اگئی ہو۔۔

افس سے باہر نکلتے ہوئے۔مہروش کی ٹکر اب مروہ سے ہو گئی تھی۔تم جیسی لڑکیاں۔کبھی سکون سے نہیں بیٹھتی۔۔

ابرش پہلے ہی اسے مروہ کے بارے میں بتا چکی تھی کہ سائم کی ایک دوست بھی یہاں کام کرتی ہے۔۔

مہروش یہ تم کیا بول رہی ہو۔مروہ ایک بہت اچھی لڑکی ہے۔تم سائم کا غصہ اس پر کیوں نکال رہی ہو۔چلو ہم باہر بیٹھتے ہیں کافی پیتے ہیں۔۔

مروہ خاموش اسے دیکھ رہی تھی۔اس کے ہاتھ میں فائل تھی۔۔

اس نے اپنے غصے کو بہت مشکل سے قابو کیا ہوا تھا۔۔

لگتا تم اس کے کرتوتوں سے واقف نہیں ہو۔مہروش نے اپنا ایک ہاتھ ابرش کے کاندھے پہ رکھا۔اور تنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ مروہ کو دیکھا۔۔۔

کیا مطلب ہے تمہارا۔۔

مہروش یہاں سے چپ چاپ چلی جاؤ۔اور اپنے کھیل میں مجھے تو شامل مت ہی کرو۔مروہ کا صبر بھی جواب دے گیا تھا۔وہ اگے جانے لگی تو مہروش نے اسے بازو سے پکڑا۔۔۔

تم جانتی نہیں اس لڑکی نے سائم کو کتنا بڑا دھوکہ دیا تھا۔ابرش حیرانگی سے مروہ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

کے۔۔۔۔کیا مطلب کیسا دھوکا۔۔

مروہ نے اپنا بازو اس کے ہاتھ سے چھڑوایا۔میں نے کسی کو دھوکا نہیں دیا۔دھوکہ تو تم سب نے دیا ہے۔میری زندگی عذاب کر دی ہے۔۔۔

اپنے بھائی کو اس سے دور رکھنا۔تم اجے کو تو جانتی ہو گی۔مہروش نے پھر سے نظریں مروہ کی طرف گھمائی۔

ہاں۔۔۔جانتی ہوں اس نے ہارون ہالو کی کمپنی کو بہت بڑا نقصان پہنچایا تھا۔اور سائم کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی تھی۔اب ابرش کو بھی بے چینی تھی۔

بالکل۔اس نے اجے سے پورا ایک کروڑ لیا تھا سائم کو دھوکہ دینے کے لیے۔پہلے اسے اپنی اداؤں سے پاگل کیا۔اور پھر دھوکہ دے کر بھاگ گئی۔اخری لفظ پہ تھوڑا زیادہ زور لگایا گیا تھا۔۔

ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔دھوکے باز میں نہیں تم سب ہو۔تم سب نے مل کر میری زندگی کو عذاب کیا۔مروہ بھی پیچھے نہیں رہی تھی۔۔۔

ابرش حیرانگی سے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔وہ تینوں افس کے درمیان کھڑی تھی۔مہروش نے جنز پینٹ پہننا تھا۔اور نیچے ہائی ہیلز تھے ۔۔

اور میں نے سائم کو دھوکہ دیا۔مروا نے فائل کو ٹیبل پر رکھا۔اور دونوں ہاتھوں کو باندھ لیا۔جیسے مہروش سے اچھی حاصی لڑائی کرنے والی ہے۔۔

اپنے بارے میں نہیں بتاؤ گی۔سائم اور تمہارے بیچ کیا ہے۔ذرا ابرش کو بھی اپنے ناجائز تعلقات کے بارے میں بتا دو۔تم دونوں ہی گرے ہوئے ہو۔۔اور سائم تم جیسی لڑکی ہی۔ڈیزرو کرتا ہے۔

مروہ

۔۔۔۔سائم جو ابھی ابھی ایا تھا اس نے اس صرف مروہ کی باتیں سنی تھی ۔بازو سے زور سے پکڑ کر اس نے اسے اپنی طرف کیا۔۔۔۔

کیا بول رہی ہو ہوش میں تو ہو۔سائم کی انکھیں غصے سے لال ہو گئی تھی۔۔بولنے سے پہلے کچھ سوچ لیا کرو۔

کیوں برا لگا تمہیں۔تمہاری جان کو ایسا بول دیا۔مروہ نے اپنے بازو کو زور سے پیچھے کیا۔اور ہاتھ سے ملنے لگی کیونکہ اسے ہلکا ہلکا درد ہو رہا تھا۔۔۔

اس نے جو کہا اس سے تمہیں کوئی فرق نہیں پڑا۔اور میرے سچ سے تمہیں تکلیف ہوئی۔تو اج اس بات کا یقین ہو گیا ہے۔کہ یہی تمہارے لیے ضروری ہے۔اور ضروری کیوں نہیں ہوگی۔اس نے اپنا سب کچھ تمہارے حوالے جو کر دیا ۔۔۔

مروہ۔۔سائم نے اپنا ہاتھ تھپڑ کے لیے اٹھایا پھر اسے روک لیا اور غصے سے دیوار پر دے مارا۔

رک کیوں گے۔مارو نا۔تم کون سا پہلی بار مجھ پر ہاتھ اٹھاؤ گے۔مروہ کی انکھیں انسوں سے بڑ ائی تھی۔۔

ابرش تو سب کچھ حیرانگی سے دیکھ رہی تھی اسے سمجھ نہیں ا رہا تھا کون ٹھیک ہے اور کون غلط ہے۔۔

مروا نے پھر سے نظر مہروش پہ ڈالی۔مہروش کے تو دل کو جیسے سکون ملا تھا۔تو اس نے خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا وہ اب مظلوم بننے کی ایکٹنگ کر رہی تھی۔لیکن سائم اسے اچھے سے جانتا تھا کہ وہ کتنی مظلوم ہے۔لیکن کیونکہ مروہ اس کی اور مہروش کے تعلق کی بات کر رہی تھی۔اور یہ بات وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔۔۔

دیکھو یہ افس ہے میں کوئی تماشہ نہیں چاہتا۔اور تم سب مل کر مجھے پاگل کر دو گے۔سائم کی اواز سے تینوں چونکی تھی کیونکہ شدت بہت زیادہ تھی۔مروہ انسو صاف کرتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔اس کے جاتے ہی سائم بھی افس میں چلا گیا ۔۔۔۔

سائم نے افس میں داخل ہوتے ہی اپنے ہاتھ سے ٹیبل پہ پڑی چیزوں کو زمین پر گرایا۔افس میں اس ٹائم کوئی نہیں تھا۔وہ خود پہ قابو نہیں کر پا رہا تھا۔اس کے ماتھے پہ بل پڑ چکے تھے۔اور وہ شرٹ کی بی حالت بگاڑ چکا تھا۔۔۔

کیا ہوا علیزے کچھ پریشان لگ رہی ہو۔علیزے ریحان دونوں بیٹھے لنچ کر رہے تھے کہ علیزے کو کھویا ہوا پا کر ریحان نے پوچھا۔۔

بس مروہ کی وجہ سے پریشان ہوں۔اس کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔پھر بھی افس چلی گئی پہلے کہتی ہے نہیں جاؤں گی پھر چلی گئی۔پتہ نہیں یہ لڑکی کن کاموں میں پڑی ہوئی ہے۔۔۔

اگر طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو نہ جاتی۔ریحان نے بھی پریشانی کا مظاہرہ کیا۔لیکن کیا پتہ افس میں کوئی ضروری کام ہو۔اس نے پھر سے ایک نوالہ منہ میں ڈالا۔چلو تم تو کھانا کھاؤ۔۔

علیزے نے ان کی بات سن کر روٹی کو تھوڑا سا توڑا۔لیکن وہ ابھی بھی کھوئی ہوئی تھی۔۔

ارے وہ ا جائے گی پھر پوچھ لینا۔ابھی تو ارام سے کھانا کھاؤ اس بار لہجہ تھوڑا سخت ہوا تو علیزے نے بھی کھانا شروع کیا۔۔۔۔

ابھی افس کا ٹائم ختم نہیں ہوا کہاں جا رہی ہو۔مروہ جس نے ابھی روڈ پر پاؤں ہی رکھا تھا۔سائم نے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کیا۔۔

میں جہاں بھی جاؤں تمہیں مطلب۔اور میں سمیر سر سے پوچھ کر ائی ہوں۔جن سے پوچھنا ضروری تھا۔۔۔

تمہارا بوس میں ہوں وہ نہیں۔کل بہت اچھے سے سمجھایا تھا میں نے۔سائم نے دوسرا بازو بھی اپنے گرفت میں لیا۔

مجھے چھوڑو۔۔

اب مہروش چلی گئی تو تمہیں میں نظر اگئی۔اس کے خلاف تو تم ایک لفظ بھی نہیں سن سکتے۔مروہ کو شاید بس اسی موقع کی تلاش تھی کہ وہ دل کی بڑاس نکال سکے۔دیکھ لیا اج میں نے تم اس سے کتنا پیار کرتے ہو۔۔۔

مہروش مہروش مہروش۔۔سائم نے مروا کو تھوڑا قریب کیا ہی تھا کہ مروہ نےاپنا بازو اس کی گرفت سے ازاد کروا کے اس کے منہ پہ زور کا تھپڑ مارا۔۔

سائم ایک دم سے چونکا ۔۔۔۔

یہ کیا بدتمیزی تھی۔سائم کا ایک ہاتھ اس کے منہ پہ تھا۔اور غصہ پھر سے نمایاں ہو گیا تھا۔جسے شاید اس نے بہت مشکل سے قابو کیا۔

یہ وہی ہے جو تم ڈیزرو کرتے ہو۔مروہ نے اپنے بیگ کو بازو سے تھوڑا اوپر کیا۔یقینا وہ جانے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔

ائندہ یہ غلطی مت کرنا۔مروہ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔سائم نے اسے ایک دفعہ پھر قریب کیا۔یہ میں اخری بار برداشت کر رہا ہوں۔وہ اس کی انکھوں میں دیکھ رہا تھا۔اس بار بازو پہ گرفت بہت مضبوط تھی۔کہ مروہ کو درد شروع ہو گیا تھا۔۔ن

تم سے برا کوئی ہے بھی نہیں سائم۔۔

تم۔۔سائم کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ اس کا دھیان اگے پیچھے لوگوں پرا پڑا جو انہیں ہی دیکھ رہے تھے۔کچھ بولتے بولتے رکا اور مروہ کو پیچھے کیا۔مروہ نے بھی غصے سے پلکوں کو اٹھایا۔ایک گوڑی ڈالی اور وہاں سے چلی گئی۔اس کی انکھوں میں غصے کے ساتھ ساتھ انسو بھی تھے۔سائم جو شاید اسے روکنے کا ارادہ رکھتا تھا ایک نظر اسے دیکھا لیکن پھر زور سے گاڑی کو ہٹ کیا۔۔

مروہ تم نے ہم دونوں کی زندگی کو تماشہ بنا رکھا ہے۔پتہ نہیں کب ۔۔۔۔کب تم سمجھو گی۔سائم کا ایک ہاتھ گاڑی کے اوپر تھا۔جبکہ دوسرا ماتھے پر۔اس نے اگے سے شرٹ تھوڑی ٹھیک کی۔اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔۔۔۔

کیا وہ سمیر کے افس میں کام کرتی ہے۔ارم کو اج کے واقعے کی ساری ڈیٹیل مل گئی تھی۔اور کہیں نہ کہیں وہ بھی اب مطمئن تھی۔کہ چلو سائم اور مروہ ایک ساتھ نہیں۔۔

بالکل انٹی اپ جانتی ہیں اسی لڑکیوں کو۔لیکن اج تو مجھے اندر سے راحت ملی ہے۔وہ ہلکی سی تنزیہ مسکرائی اگر اپ یہاں ہوتی تو دیکھتی اس کی شکل دیکھنے والی تھی۔۔

ارم کو بھی اب کہیں جا کے سکون ملا تھا۔۔

میں تمہیں کہتی تھی نا سائم تمہارا ہی ہے

۔

وہ میرا نہیں ہو سکتا۔وہ تو میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا۔اب اس کے چہرے سے ہنسی غائب ہو چکی تھی۔اور اس کے دماغ میں اج کا سین گھومنے لگا تھا۔

پتہ نہیں کب پہلے جیسا ہوگا۔اس نے ایک لمبی سانس لی میں سائم سے بہت پیار کرتی ہوں اپ جانتے ہیں۔۔

مائی ڈالرنگ۔۔۔

وہ تمہارا ہی ہے بس تھوڑا صبر کرو۔ایک دن خود وہ تمہارے پاس ائے گا۔۔

کاش ایسا ہو جائے۔لہجہ تھوڑا افسردہ تھا۔کیونکہ مہروش اچھے سے جانتی تھی وہ جو کر چکی ہے۔اب سائم کا واپس انا مشکل ہے۔۔۔

رات کے 12 بج چکے تھے۔مروہ اپنے بستر پر لیٹی تھی سوچوں کا باری بوجھ لے کر۔اور بالکل یہی حال سائم کا تھا۔

سائم میں تمہیں کبھی بھی معاف نہیں کروں گی۔تم گھٹیا انسان ہوں اور ایک گھٹیا انسان ہی رہو گیا۔تمہں کسی کی فیلنگز کی کوئی پرواہ نہیں۔اس کی انکھوں سے انسو نکل کر تکیے میں جذب ہو رہے تھے۔۔۔

مجھے اس پہ ایسے غصہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔کتنا ہرٹ ہوئی ہوگی وہ۔وہ بیڈ کرون کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔گود میں لیپ ٹاپ تھا۔اس نے دونوں ہاتھوں کو سر پہ رکھا۔بیڈ کرون کے ساتھ ٹیک لگاتے وہ اوپر دیکھنے لگا۔لیکن وہ بھی تو نہیں سمجھ پا رہی۔اور تو اور اس نے مجھے تھپڑ بھی مارا۔میں نے ایسا بھی کیا کر دیا تھا۔وہ خود ہی خود سے سوال کرتا اور جواب دیتا۔اس نے گرین کلر کی لوز شرٹ پہنی ہوئی تھی۔جو باری باڈی پہ بہت سوٹ کر رہی تھی۔

مروہ تم کب سمجھو گی۔میں جتنا تم سے دور جانا چاہوں میں اور قریب ا جاتا ہوں۔میری زندگی میں تمہارے سوا کوئی نہیں۔پتہ نہیں تمہیں پانے کے لیے مجھے اور کتنا صبر کرنا پڑے گا۔لیکن میں کروں گا۔۔۔۔

سائم سوچوں سے بہت مشکل سے باہر نکلا تھا۔اس نے سائیڈ پہ پڑھا موبائل اٹھایا۔اور مروہ کی چیٹ اوپن کی۔۔

ہیلو۔۔اس نے ٹائپ کیا اور پھر مٹا دیا۔یہ نہیں لکھنا چاہیے۔

سو گئی ہو کیا۔۔یہ لکھ کر سائم نے بیچ دیا۔۔۔

مروہ کو نوٹیفکیشن کی اواز ائی۔تو اس نے موبائل اٹھایا۔اسے اندازہ تھا کہ سائم کا ہی میسج ہوگا۔اس نے سین کیا لیکن کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔

ابھی تک جاگ رہی ہو کیوں صبح افس نہیں انا۔میری جان نے وہ ہلکا سا مسکرایا اور پھر سینڈ کر دیا۔۔

تم کتنے گھٹیا انسان ہو کتنے گھٹیا۔۔مروہ نے میسج پڑھتے ساتھ ہی۔خود کلامی شروع کر دی۔اور ایک نمبر کے بے شرم ہو ۔۔

مروا نے موبائل ایک طرف رکھا اور سونے لگی۔۔

اتنی رات کو اپنے گھر آنے کی زحمت کیوں دینا چاہتی ہو۔جواب دو ورنہ میں ا رہا ہوں۔۔۔

مروہ جو دونوں ہاتھوں کا تکیہ بنائے انکھوں کو بند ہی کرنے والی تھی۔کے نوٹیفکیشن سے یک دم اس کی انکھ کھل گئی۔۔۔

تم ایسا کچھ نہیں کرو گے۔بند کمرے میں موبائل کی روشنی اس کے چہرے کو چمکا رہی تھی۔مجھے نیند ارہی ہے میں سونے لگی ہوں۔۔اور میں افس نہیں انے والی۔۔۔

ٹھیک ہے پھر تمہارے گھر ا کر کام کر لیں گے۔کیا خیال ہے وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ میسج لکھ رہا تھا۔میرے خیال میں تمہیں کوئی مسئلہ بھی نہیں ہوگا ۔اور ہم ارام سے کام بھی کر سکیں گے۔۔۔

مروہ نے ایک لمبی سانس لی اور اٹھ کر بیٹھ گئی۔بالوں کا جوڑا بنایا۔اور پھر تسلی سے موبائل ہاتھ میں لیا۔ ۔

دیکھو میں ال ریڈی بہت ٹینس ہوں۔تم مجھے میرے حال پہ کیوں نہیں چھوڑ دیتے۔میں ان سب سے بہت تنگ ا گئی ہوں۔اور مجھے تم میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔مجھے تم بالکل بھی اچھے نہیں لگتے۔اس نے لکھتے لکھتے مٹایا ۔

اچھا ٹھیک ہے میں ا جاؤں گی۔۔