Sheh Rug by Aneeta NovelR50466 Shah Rung Episode 32
Rate this Novel
Shah Rung Episode 32
Shah Rung by Aneeta
چھوڑ دوں گا۔اس کی تڑپ کو محسوس کرتے ہی۔سائم نے اسے اور قریب کیا۔۔
ویسے بھی چھوڑ ہی چکا ہوں۔
تم مجھے کریکٹر لس کہتی ہو اور خود کیا ہو۔سائم نے اس کا ایک بازو چھوڑا اور ساتھ ہی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اور قریب کیا۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے سائم۔سائم نے جیسے ہی ہاتھ اس کی کمر میں ڈالا تھا۔مروہ کی روح تک کانپ چکی تھی۔اس نے اس کے ہاتھ کی طرف دیکھا۔ اور اسے زور سے پیچھے کرنے کی کوشش کی۔لیکن سائم اس کے اس ہاتھ کو بھی قابو کر چکا تھا۔۔یہ اتنا اسان نہیں میری جان۔۔۔۔
جو پوچھا ہے اس کا جواب دو۔اس نے سرگوشی میں پوچھا اور اس کی خوشبو کو محسوس کرنے لگا۔
سائم کا اشارہ کل رات والے ڈنر پر تھا۔تو کیسا رہا تمہارا رات کا ڈنر وہ گرفت کو مضبوط کرتے ہوئے اس سے پوچھ رہا تھا۔
کو۔۔کون سا۔۔وہ بری طرح سے کانپتے ہوئے بولی۔اس کے لب کپکپا رہے تھے۔جب کے سائم کو کسی چیز کا ڈر نہیں تھا۔۔
پلیز سائم۔مروہ نے اپنے ہاتھ اس کے مضبوط سینے پہ رکھا۔ سائم اس کی خوشبو میں کھویا ہوا تھا۔اس کی اس حرکت سے تھوڑا بد مزہ ہوا۔اور دھیان اس کی طرف کیا۔۔۔
وہی ڈنر جو تم رات کو کر کے ائی ہو۔اپنے کزن فرت کے ساتھ۔۔
م۔۔۔۔۔میں کہی نہیں گئی۔اگر مروہ ہوش میں ہوتی تو یقینا اس سے مہروش کے بارے میں پوچھتی۔لیکن وہ بری طرح سے ڈر چکی تھی۔وہ بس خود کو ازاد کروانے کے چکروں میں تھی۔سائم بے باکی سے اسے خود میں سما رہا تھا۔سائم نے اس کے بالوں کو پیچھے کرنا چاہا۔جو دونوں طرف سے اگے بکھرے ہوئے تھے۔پر مروا نے فورا سے رخ کو دوسری طرف کیا۔۔
ف۔۔۔۔۔۔
فرات بھائی۔۔وہ بہت مشکل سے بول پائی۔اور پھر سے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔جو مسلسل اسے قریب سے قریب تر کرتا جا رہا تھا۔۔۔
اس کے منہ سے بھائی سن کر وہ اچھا خاصا شرمندہ ہوا۔تھا۔کیونکہ یہ حرکت اس نے اسی وجہ سے کی تھی۔رات والا غصہ اتارنا چاہتا تھا۔۔
بھائی۔۔سائم نے حیرانگی سے کہا۔۔۔
تم انہیں کیسے جانتے ہو۔پلیز سائم مروا نے اپنی کمر پہ رکھے اس کے ہاتھ کو پھر سے پیچھے کرنا چاہا۔ایک ہاتھ ابھی بھی اس کے سینے پر تھا۔۔
سائم کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ پیچھے سے اواز ائی۔۔
سائم۔۔۔
ابرش کی اواز سے سائم نے ایک جھٹکے میں مروا کو پیچھے کیا۔دونوں ہی بہت پزل ہو چکے تھے۔مروہ تو کچھ بولے بغیر ہی باہر نکل گئی۔۔
یہ تم کیا کر رہے تھے۔۔
کیا کر رہا تھا۔سائم کا دھیان ابھی بھی مروہ میں تھا۔
تم اسے کیوں تنگ کر رہے تھے۔ابرش اب قریب ائی ۔۔۔
تم اپنے کام سے کام رکھو یہ میرا اور اس کا معاملہ ہے۔سائم نے اتنی سی بات کی اور باہر کی طرف چلا گیا۔
مروہ اب اپنی چیئر پر بیٹھ چکی تھی۔پرسائم کا ڈر ابھی بھی اس کے دل میں تھا۔وہ ہر دوسرے سیکنڈ پیچھے ضرور دیکھتی تھی۔۔
تمہیں تو نہ اپنی عزت کی پرواہ ہے اور نہ میری۔تم گھٹیا انسان ہوں۔میں کبھی بھی معاف نہیں کروں گی۔کبھی بھی نہیں۔وہ خود سے دھیمے لہجے میں باتیں کیے جا رہی تھی۔کہ اچانک سے اس کے دماغ میں کچھ ایا اور وہ سمیر کے افس میں گئی۔۔
تم میری کال کیوں نہیں اٹھا رہے تھے۔لائن ملتے ہی ارم غصے سے چلائی۔ماں ہوں میں تمہاری۔۔ڈائیلاگ وہی پرانے تھے۔۔
سائم فون اٹھانا تو نہیں چاہتا تھا۔کیونکہ وہ جانتا تھا کہ انہوں نے پھر سے سوال ہی کرنے ہیں۔لیکن پتہ نہیں اس کے دماغ میں کیا ایا کہ اس نے فون کو اٹھا لیا۔۔
میں اپ کو بتا چکا ہوں کہ میں کام کے سلسلے میں ایا ہوں۔۔۔
تمہارا جو کام ہے سب انفو مل چکی ہے۔تم وہاں مروہ کے پیچھے گئے ہو۔ارم نے بات سننے سے پہلے ہی اسے ٹوکا۔
سائم یہ سن کر حیران نہیں ہوا تھا۔کیونکہ وہ پہلے سے جانتا تھا کہ انہیں خبر مل چکی ہوگی مہروش کے تھرو۔۔۔
اگر کوئی کام کی بات کرنی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ میں فون رکھ رہا ہوں۔اس کا دھیان ابھی بھی مروہ کی طرف تھا ۔وہ بات کرتے کرتے افس کی پچھلی سائیڈ پہ ایا تھا۔۔۔
کیا اس لڑکی کے پیچھے اتنے پاگل ہو کہ تمہیں ماں کی ذرا سی بات بھی اب زہر لگتی ہے۔ارم نے شکایت بڑے لہجے میں اسے کہا۔۔۔
موم میں کسی کے پیچھے پاگل نہیں ہوں۔اور اپ جب ایسی باتیں کریں گی تو پھر میں اپ سے کیا بات کروں گا۔ہر وقت بس ایک ہی ٹاپک۔بس ایک ہی بات میں بھی تنگ ا گیا ہوں ان سب سے۔یہ کہتے ہی سائم نے فون بند کر دیا۔۔
یہ سب مل کر مجھے پاگل کر دیں گے۔اس کی اس نظر کو اگے پیچھے گھمایا اور پھر اندر واپس اگیا۔اس کے چہرے سے تھکن صاف ظاہر تھی۔وہ ہر چیز سے تھک چکا تھا۔
کیا میں اج جلدی گھر جا سکتی ہوں۔مروہ اپ سمیر کے افس میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔
ہاں جا سکتی ہو۔ویسے بھی اج اتنا کام نہیں ہے۔لیکن کیا کوئی پرابلم ہے۔سمیر نے تھوڑی دلچسپی دکھائی۔۔
نہیں بس میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔تھینک یو سو مچ سر۔۔۔وہ اجازت ملتے ہی اٹھ گئی تھی۔
مروہ نے باہر جانے کے لیے دروازہ کھولا ہی تھا۔کہ سائم نے بھی اسی ٹائم اندر انا چاہا۔دونوں کی ٹکر ہوتے ہوتے بچی تھی۔۔۔
ہٹو۔۔سائم کو مستقل کھڑا دیکھ کر مروہ نے کہا۔وہ اسے غصے بڑی نگاہ سے دیکھ رہی تھی۔سائم نے ایک نظر اسے دیکھا پھر سمیر کو اور پھر راستہ چھوڑ دیا۔۔۔
مروہ سائم کو موت کا فرشتہ سمجھ کر اس سے ڈر رہی تھی۔اس کی اہٹ بھی اب اسے خوف زدہ کر دیتی تھی۔اس نے اپنے ٹیبل پر ا کے سکون کا سانس لیا۔اور پھر ٹائم ضائع کیے بغیر اپنی چیزیں سمیٹی اور باہر کی طرف نکلی۔۔
کیا تم نے مروہ کو کچھ کہا ہے۔سائم ابھی بیٹھا ہی تھا کہ سمیر نے سوال کیا۔سائم نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
نہ ۔۔۔نہیں۔اس نے ایک نظر پیچھے دیکھا تھا لیکن مروا نہیں تھی ۔کیوں کیا ہوا کیا اس نے تمہیں کچھ کہا ہے۔سائم بہت تیزی سے پوچھا رہا تھا ۔اب وہ چیئر پر تھوڑا اگے ہو کے بیٹھا تھا۔
نہیں اس نے کہا اس کی طبیعت خراب ہے اسے گھر جانا ہے۔اور تو کچھ نہیں کہا۔سمیر نے بھی اس کی حالت کا جائزہ لیتے ہوئے جواب دیا۔کیا چل رہا ہے بوس۔سمیر نے اسے انکھ ماری۔۔
جیسا تو سوچ رہا ہے۔وہ تیزی سے اپنی چیئر سے اٹھا۔ویسا کچھ نہیں اور باہر نکلا ۔۔۔
سوچ تو میں کچھ نہیں رہا بس دیکھ ہی رہا ہوں۔ویسے بہت ہی انٹرسٹنگ سٹوری لگ رہی ہے۔سمیر نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا اور پھر کام میں مصروف ہو گیا۔۔۔
سائم کے جانے سے پہلے ہی مروہ جا چکی تھی۔تو سائم نے بھی پیچھے جانا مناسب نہیں سمجھا۔۔
پتہ نہیں خود کو کیا سمجھتی ہے۔مروہ کی چیئر کوہٹ کر کے وہ اگے بڑھا تھا۔
مروہ رات کے کھانے کے بعد کمرے میں ائی۔بیڈ سائیڈ پہ پری ڈائری پھر سے اسے سائم کی طرف لے گئی اس نے اپنے دوپٹے کو سائیڈ پہ رکھا۔اور ٹیک لگا کر بیڈ پر بیٹھی اس نے سائیڈ پہ رکھی ڈائری کو ہاتھ میں لیا۔۔۔
سائم اس کے ذہن میں گھوم رہا تھا۔۔
میں تمہیں کبھی بھی معاف نہیں کروں گی۔اور اج کی حرکت کے بعد تو کبھی نہیں۔وہ ارادہ پختہ کرتے ہوئے بولی۔وہ ڈائری پہ کچھ لکھنا چاہتی تھی لیکن اس کا ذہن وہیں رک تھا ۔
دوسری طرف سائم بھی بہت بے بس محسوس کر رہا تھا۔اس کے ذہن کو کئی قسم کی سوچوں نے بری طرح سے گیڑا ہوا تھا۔اسی کشمکش میں اس نے اپنا موبائل اٹھایا۔وہ بیڈ کرون کے ساتھ ٹیک لگائے۔بیٹھا تھا ۔۔
وہ مروہ کا نمر ڈائل کرتے کرتے رکا۔۔جب اسے پرواہ نہیں ہے تو تمہیں بھی نہیں ہونی چاہیے۔اس نے کنٹیکٹ لسٹ پیچھے کی تو انسٹاگرام اوپن کر لی۔مروہ کو وہاں پہ ایکٹو دیکھ کر وہ بھی تھوڑا ایکٹو ہو کے بیٹھا۔۔۔
مروہ نے ابھی ابھی موبائل اٹھایا تھا۔لیکن سائم کی طرح اس نے اس کی خبر نہیں رکھی تھی ۔۔۔
سائم نے کچھ سوچا اور پھر اپنی ایک تصویر انسٹاگرام پر پوسٹ کی۔شاید وہ مروہ کو یہ احساس دلانا چاہتا تھا ۔کہ اسے کوئی پرواہ نہیں ہے۔۔
مروہ نے اگلے ہی منٹ اس کی تصویر کو دیکھ لیا تھا۔تصویر اپڈیٹ کرنے کے ساتھ ہی سائم کا کمنٹ باکس لڑکیوں کے کہ کمنٹس سے بڑھ گیا تھا۔لڑکوں سے زیادہ تعداد لڑکیوں کی تھی۔۔
ذرا دیکھو تو اسے۔مروہ ایک ایک کمنٹ کو بہت غور سے پڑھ رہی تھی۔کتنی لڑکیاں ہیں سائم تمہاری زندگی میں کتنی۔۔اخری لفظ پہ تھوڑا زور زیادہ لگایا تھا۔۔۔
جب کہ سائم کو کسی کے کمنٹ سے کوئی مطلب نہیں تھا۔لیکن پھر بھی وہ نوٹیفکیشن چیک کر رہا تھا۔کہ کہیں شاید اسے مروا نظر ا جائے۔۔۔
یہ مجھے پاگل کر دے گا۔وہ خود سے باتیں کرتے کرتے ساتھ میں کمنٹ پڑھ رہی تھی۔کہ اچانک بے دہانی میں اس نے کسی کے کمنٹ کو لائک کر دیا۔۔۔
سائم جو نوٹیفکیشن ہی دیکھ رہا تھا۔نے اچانک سے اس نوٹیفکیشن کو دیکھ لیا۔۔
اف اللہ یہ کیا ہو گیا۔۔مروہ نے تیزی سے موبائل کو اچھال کر ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں کیا۔وہ اب بیڈ پر گھٹنوں کے سہارے کھڑی ہو گئی تھی۔جلدی سے اس نے اس کمنٹ کو ڈس لائک کیا۔کیا اس دیکھ لیا ہوگا۔اللہ میں نے کیوں اس کی کمنٹ باکس کھولا۔۔
مس مروا الیاس خبر رکھ کے بیٹھی ہیں۔سائم کے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔وہ بھی اب تھوڑا ایکٹو ہو کر بیٹھا۔جیسے اس کی محنت وصول ہوگی ہو۔۔۔
مروہ نے موبائل کو بند کر کے ایک طرف رکھا۔وہ اچھی خاصی پزل ہو چکی تھی۔وہ بالکل ایسے تھی جیسے موت کے منہ سے واپس ائی ہو ۔۔۔۔
اس نے نہیں دیکھا ہوگا۔میں نے کون سا اس کے کمنٹ کو لائک کیا تھا۔میں نے اس لڑکی کے کمنٹ کو لائک کیا تھا۔تو نوٹیفکیشن اس کو ملی ہو گی۔ اور اگر سائن کو بھی ملی ہوئی۔نہیں نہیں اسے نہیں ملی ہوگی۔خود کو تسلی دیتے ہوئے وہ اب انکھیں بند کرنے لگی تھی۔اور کچھ ہی دیر میں گہری نیند میں چلی گئی تھی۔
صبح کا سورج طلوع ہو چکا تھا۔دنیا بھی اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو چکی تھی۔کسی کی صبح کا اغاز ہنستے ہوئے تو کسی کا روتے ہوئے ہوا تھا۔۔
جی دادا جان ایسی کوئی بات نہیں ہے۔بس کام کے سلسلے میں ہوں اسلام اباد اور کینڈا جانے سے پہلے کراچی ضرور اؤں گا۔سائم فون کان کے ساتھ لگائے۔ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھا ہوا تھا۔ہیلپر نے پہلے ہی ٹیبل سجا دی تھی۔سائم جب بھی پاکستان اتا تھا اسلام اباد والے گھر میں ہی رکتا تھا۔تو ارم سوسائٹی کی دوستوں سے کہہ کر ہیلپڑوں کو رکھ دیا کرتی تھی۔۔۔
بس اپ اپنا خیال رکھیں اور میری فکر مت کریں۔اس نے گلاس میں جوس ڈالا اور موبائل کو دوسرے کان کے ساتھ لگایا۔گلاس میں جوس ڈالنے کے بعد وہ گارڈن کی طرف ایا تھا۔اس نے ہلکے نیلے کلر کی پلین شرٹ پہنی ہوئی تھی۔اور نیچے وائٹ کلر کی جینز۔۔۔۔۔
بس اج اس کا سامنا نہ ہو۔مروہ نظر لیپ ٹاپ پر جمائے اپنی افس چیئر پر بیٹھی تھی۔اس نے ایک دفعہ افس کا جائزہ لیا تھا۔سائم کو نہ پا کر کچھ تسلی ہوئی تھی۔۔
گڈ مارننگ۔۔سائم نے اس کی چیئر کو گھما کر اپنی طرف کیا۔مروہ اس اواز سے ایک دم چونک گئی تھی۔کیونکہ تھوڑی دیر پہلے اس نے مکمل جائزہ لیا تھا۔سائم کا نام و نشان نہیں تھا۔سائم کا ایک ہاتھ اس کی چیر پر اور ایک ٹیبل پر تھا۔وہ اس کے سامنے دیوار بنا کھڑا تھا۔۔۔
س۔۔۔۔سائم۔اس نے حیرانگی سے کہا۔۔
ہاں میں۔۔سائم اس کے دل کی دھڑکن محسوس کر رہا تھا۔اور ہاتھوں سے اس کی بے چینی کو بھی نوٹ کر رہا تھا۔جن کو مروہ مسلسل دبائے جا رہی تھی۔۔
کیا تم نے بھی یہاں کام شروع کر دیا۔جو روز منہ اٹھا کر ا جاتے ہو۔مجھے کام کرنے دو کچھ ہی ٹائم میں مروہ نے خود کو سنبھال کر اسے کہا۔اب اور کوئی تماشہ نہیں چاہتی میں۔۔۔
اور تمہیں شاید یہ لگتا ہوگا کہ میں تمہارے پیچھے یہاں ایا ہوں۔اس کی قربت میں سائم نے خود کو بہت مشکل سے کنٹرول کیا تھا۔مروہ کی خوشبو مسلسل اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔یہ میرے کزن کا افس ہے اور میں کبھی بھی ا سکتا ہوں۔اس نے اس کی چیئر کو گھماتے ہوئے چھوڑا۔۔
مجھے بھی تمہاری کوئی پرواہ نہیں ہے۔مروہ نے چیئر کو اگے کیا۔اور نظریں لیپ ٹاپ پر جما لی۔۔
میں تو اس بات پہ یقین نہیں کرنے والا۔اگر پرواہ نہیں ہے تو رات کو میرا کمنٹ باکس کیوں چیک کیا جا رہا تھا۔مروہ اچھی خاصی شرمندہ ہو چکی تھی۔اس نے ایک منٹ کے لیے اپنی انکھوں کو مکمل بند کیا ۔۔۔
نہ۔۔۔۔۔۔نہیں
میں نے کوئی کمنٹ نہیں دیکھے۔وہ گھبراتے ہوئے بولی۔کیونکہ اس کی چوڑی پکڑی گئی تھی۔۔۔
جھوٹ بولنے میں تو تم نے پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے۔میری جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن مجھے پرواہ نہیں ہے۔میری طرف سے تم ازاد ہو۔وہ سرگوشی میں کہتے ہوئے۔اس کے گالوں پے لمس چھوڑتے ہوئے اگے کی طرف برا۔۔جب کے مروا اس کی اس حرکت پر چونک گئی۔۔۔۔۔۔
مروہ اس کے ارادوں کو باپ چکی تھی۔وہ اس کی محبت سے لا علم تھی۔تو اسے گھٹیا انسان ہی تصور کر رہی تھی۔جیسے بس یہی سب کچھ چاہیے ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
