266K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Rung Episode 28

Shah Rung by Aneeta

جوں جوں رات بھر رہی تھی سائم کی بے چینی بھی بڑھ رہی تھی۔وہ بس کسی طرح مروہ کو ملنا چاہتا تھا دیکھنا چاہتا تھا۔اس نے دو تین دفعہ اس کا نمبر ٹرائی کیا تھا۔لیکن مروہ اس سے پہلے ہی بلاک کر چکی تھی۔۔۔

سائم نے کچھ سوچا۔اور موبائل کو پاکٹ میں ڈالا اور گاڑی کی طرف بڑا رات کے تقریبا 12 ایک بج رہے تھے۔۔

اج سونے کا ارادہ نہیں ہے مروہ علیزے نے اسے صحن میں بیٹھا دیکھا تو اس کے پاس ا کے بیٹھ گئی۔

سارا دن سوئی تو رہی ہوں۔۔۔

اچھا یہ بتاؤ سائم سے کوئی ناراضگی ہے۔علیزہ نے موقع دیکھ کر سوال کیا۔جو کہ وہ صبح سے تلاش کر رہی تھی۔

نہ نہیں۔۔۔۔۔

مروہ تھوڑی پریشان ہوئی تھی کہ کہیں سائم نے تو اسے کچھ نہیں بتایا۔تم ایسے کیوں پوچھ رہی ہو۔

نہیں مجھے لگا تھا۔ویسے کافی اچھا لڑکا ہے۔

ایسا کچھ بھی نہیں ہے اور تم کیسی سے پہلی ملاقات میں کسے جج کر سکتی ہو۔مروہ نے روٹھے ہوئے لہجے میں جواب دیا ۔

اب تو پکا کوئی گڑبڑ ہے۔علیزے نے چیئر کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے کہا۔

کچھ بھی نہیں ہے اب جا کے سو جاؤ۔۔۔

ہاں میں سونے ہی جا رہی ہوں تم بھی سو جاؤ اب۔ٹھنڈ تھوڑی بڑھ رہی ہے۔مروا لوگوں کا گھر مارگلہ ہیلز کے پاس تھا۔چاروں طرف سے پہاڑوں نے گھیرا ہوا تھا۔بہت ہی خوبصورت جگہ تھی۔۔۔۔

جی ڈیڈ۔۔۔۔۔

سائم نے فون کان کے ساتھ لگاتے ہی مدم سی اواز میں کہا۔۔

بیٹا کہاں گم ہو۔تمہاری ماں کتنا پریشان ہو رہی ہے۔اور تم دادا کے پاس بھی نہیں رکے۔پتہ ہے کتنی فکر ہو رہی ہے تمہاری۔

میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔

اور میں کراچی سے اسلام اباد ا گیا تھا۔مجھے یہاں کوئی کام ہے اور میں اسلام اباد کے فلیٹ میں رکا ہوا ہوں۔میں چھوٹا بچہ نہیں ہوں۔اپ بھی موم کی طرح سوچنے لگ گئے ہیں۔اس کا ایک ہاتھ سٹیلنگ ویل پر تھا۔جسے وہ گول گول گھما رہا تھا اور دوسرے سے موبائل کان کے ساتھ لگایا تھا۔

بیٹا ہم پیرنٹس ہیں تمہارے ہم فکر نہیں کریں گے تو کون کرےگا ۔

ڈیڈ میں ا جاؤں گا۔

بس تھوڑا کام ہے یہاں پہ۔

ایسا بھی کون سا کام ہے جو تم مجھ سے چھپا رہے ہو۔

ڈیڈ جب میں واپس ا جاؤں گا تو سب بتا دوں گا۔فی الحال میں ڈرائیونگ کر رہا ہوں اگر اپ کی اجازت ہو۔تو کیا میں فون رکھ سکتا ہوں۔سائم مروہ کی وجہ سے کافی الجھا ہوا تھا۔اور یہ زندگی میں پہلی بار تھا کہ سائم نے ہارون سے ایسے بات کی تھی۔اس سے پہلے اس نے کبھی ایسا لہجہ اختیار نہیں کیا تھا۔اور ہارون بھی اب کچھ زیادہ پریشان ہو گئے تھے۔لیکن پھر انہوں نے اسے اس کے حال پہ چھوڑنا ہی مناسب سمجھا۔

مروا اٹھ کر کمرے میں جانے ہی لگی تھی کہ اسے دروازے پر دستک سنائی دی۔

اس ٹائم کون ہو سکتا ہے۔اس نے حیرانگی سے سوال کیا۔اور پھر ایک نظر گھر کی طرف دیکھا۔شاید وہ یہ سوچ رہی تھی کہ دادا جان کو اٹھایا جائے۔لیکن پھر اس نے ان کی نیند خراب کرنا مناسب نہیں سمجھی۔اس نے ایک بڑی سی شال لپیٹی ہوئی تھی۔اور بال کھلے ہوا میں لہرا رہے تھے۔تھوڑی ہی دیر میں وہ دروازے کے پاس پہنچ چکی تھی۔

ریحان بھائی ہو سکتے ہیں۔پر انہوں نے تو صبح انا تھا۔

کون ہے۔۔۔۔۔

اس نے دروازہ کھولنے سے پہلے تصدیق کرنا چاہی۔اس کی اواز سن کر سائم کو تھوڑا قرار ملا تھا۔لیکن اس نے جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔کیونکہ وہ جانتا تھا۔کہ مروہ دروازہ نہیں کھولے گی پھر۔۔اس نے لائٹ بلو کلر کی شرٹ اور نیچے وائٹ جینز کی پینٹ پہنی تھی۔شرٹ کے اوپر والے بٹن کھلے تھے۔

کون ہے۔بولو گے تو دروازہ کھولوں گی۔مروہ نے تھوڑی سختی دکھاتے ہوئے کہا۔جلدی بولو۔۔۔اب اسے بھی تھوڑی بے چینی تھی کہ کون ہے۔سائم تو بالکل اس کے دماغ میں نہیں تھا کہ وہ اس ٹائم ہو سکتا ہے۔۔

سائم نے پھر سے دروازہ ناک کیا۔تو مروہ نے غصے سے دروازہ کھولا۔بول نہیں سکتے۔۔۔

ت۔۔۔۔تم۔۔۔۔۔۔

مروا نے دروازہ بند کرنا چاہا لیکن سائم نے مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔جاؤ یہاں سے۔۔

تمہارا مسئلہ کیا ہے۔۔۔

مجھے بات کرنی ہے پھر چلا جاؤں گا۔۔

تم نے میرا نمبر بلاک کیا۔کیوں ۔

کیونکہ مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی۔میں پہلے ہی سب ایکسپلین کر چکی ہوں۔نفرت ہے مجھے تم سے۔

نفرت نفرت نفرت۔۔۔۔۔سائم کی اواز تھوڑی اونچی ہوئی تھی۔

میری اتنی سی غلطی تم نہیں معاف کر سکتی۔اور میں نے تمہاری کتنی غلطیاں معاف کی۔اس کا مطلب ہے کہ تم نے محبت کا ڈرامہ ہی کیا تھا۔محبت نہیں کی تھی۔سائم نے غصے سے اسے دیکھا۔

اب سائم اندر ا چکا تھا اور دروازہ بند کر چکا تھا۔

میں نے کہا دفع ہو جاؤ۔مجھے کوئی وضاحت نہیں دینی ۔جب سے تم میری زندگی میں ائے ہو صرف پرابلم ائی ہیں۔پہلے اجے پھر علی اور پھر ہر بار تم۔۔۔۔

میں۔۔۔۔سائم نے حیرانگی سے کہا۔۔۔

تو میں پرابلم ہوں تمہارے لیے۔اور جو تم ابھی تک کرتی ائی ہو ۔کیا میں نے کہا تھا ۔اجے سے پیسے لو ۔علی سے دوستی بڑھاؤ۔تم لوگوں کا احسان لے سکتی ہو میرا نہیں۔تم نے کبھی مجھے سچ بتایا ہی نہیں۔ہر بات میں جھوٹ کا سہارا لیا تم نے۔

ہر بار ایک نیا جھوٹ۔۔

سائم کا لہجہ تھوڑا سخت ہو گیا تھا۔اور اواز بھی کچھ اونچی۔۔

میں نے تم سے کوئی جھوٹ نہیں بولا۔اور جو بھی کیا۔۔

مروہ پھر سے جھوٹ۔۔سائم نے اسے چپ کروایا۔۔۔

تم تنگ نہیں اتی جھوٹ بول بول کر۔۔اس کی بات کاٹتے ہوئےاس نے کہا ۔اب وہ بالکل اس کے مقابل کھڑا تھا۔

تم دور رہ کر بات کرو۔بلکہ اب نکل جاؤ سن لی میں نے تمہاری۔مروا نے دروازے کی طرف اشارہ کیا تھا۔

میرے ہزار جوتوں پہ بھی تمہارا وہ ایک تھپڑ اور کل والے حرکت ہمیشہ باری رہے گی۔

میں تم سے معافی مانگ چکا ہوں۔سائم نے مروہ کو قریب کرنا چاہا۔لیکن مروہ پیچھے ہٹ گئی تھی۔میں بہت شرمندہ ہوں۔اب کل والا سین اس کے ذہن میں گھوم رہ تھا ۔اس نے اب نرم لہجہ احتیار کیا ۔۔

اس کے ہاتھ پر ابھی بھی پٹی بندھی ہوئی تھی۔

دور ہو جاؤ ۔۔مروہ نے اسے ایک ہاتھ سے پیچھے کیا۔دوبارہ اگر قریب ائے تو اچھا نہیں ہوگا۔۔

تمہارے دل میں اتنی نفرت کس نے بھر دی میرے لیے۔سائم کافی بے بس محسوس کر رہا تھا۔وہ بس کسی بھی طرح مروہ کے ذہن کی گڑھوں کو کھولنا چاہتا تھا۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس کے پاؤں پکڑ لے۔اور مروہ سے محبت کی بھیک مانگے۔۔

مروہ نے اپنا رخ دروازے کی طرف کیا اور دروازہ کھول کے اسے جانے کا اشارہ کیا۔سائم نے ایک گہری سانس لی۔اور پھر پیچھے مرا ۔جہاں مروہ دروازہ کھول کر کھڑی ہوئی

جلدی جاؤ۔۔

مروا نے ابھی کہا ہی تھا کہ اسے باہر سے ایک موٹر بائیک کی اواز ائی۔وہ سمجھ چکی تھی کہ ریحان بھائی ائے ہیں۔۔

ریحان بھائی۔۔۔۔

مروہ نے پریشانی کے عالم میں دروازے کو فورا بند کر دیا۔سائم جو دروازے کی طرف بڑا ہی تھا وہیں رک گیا

کیا ہوا۔۔

کون ریحان۔۔۔

مروہ نے ایک نظر سائم کو دیکھا اور پھر دروازے کو علیزے کے شوہر اور کون وہ جلدی سے سائم کے پاس ائی۔۔

تم نے ہمیشہ میرے لیے مسئلے کھڑے کیے ہیں۔تمہیں کیا ضرورت تھی اتنی رات کو یہاں انے کی ۔۔۔

تو تم بلاک نہ کرتی۔اور مجھے نہیں لگتا کوئی پرابلم ہوگی۔میں اپنا تعارف کروا دیتا ہوں۔وہ دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بات کر رہا تھا۔

یہ کینیڈا نہیں ہے مسٹر سائم مردان۔۔۔۔

اس نے سائم کا ہاتھ پکڑا اور اندر جانے لگی۔وہ بری طرح سے کانپ رہی تھی۔اسے کچھ سمجھ نہیں ارہا تھا۔اور سائم اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں دیکھ کر دنیا بھول چکا تھا۔

مروہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کا ہاتھ چھوڑنا چاہا پر سائم نے اس پہ گرفت مضبوط کی۔

مروا نے زور سے ہاتھ پیچھے کیا اور دروازے کو لوک کیا۔

ریحان بھی اب گھر میں داخل ہو چکا تھا۔

یہ دروازہ اج کسی نے بند ہی نہیں کیا۔ریحان نے بائیک کو ایک طرف کھڑا کیا۔اور حال میں داخل ہوا۔علیزے تو گہری نیند سو رہی تھی۔

اب یہ میرے کمرے میں نہ ائے۔مروہ کی جان سولی پہ اٹکی ہوئی تھی۔وہ کمرے میں تیز چہل قدمی کر رہی تھی جبکہ سائم ارام سے بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔

مرو تم تو ایسے پریشان ہو رہی ہو جیسے۔

جیسے جیسے کیا سائم۔میری زندگی کو تماشہ بنا دیا ہے تم نے رات کے ایک بجے تم کیا وضاحت دیتے بتاؤ۔۔

وہ علیزے سے سو سوال کرتے ہیں۔مروہ صوفے پہ اس کے ساتھ ا کے بیٹھی تھی۔اور اس کے دل میں ریحان کے ساتھ ساتھ سائم کا بھی ڈر تھا۔تو وہ فورا سے کھڑی ہو گئی۔۔

سائم کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ دروازے پہ دستک سنائی دی۔

مروہ کیا تم جاگ رہی ہو۔یہ اواز سنتے ہی مروہ کہ بس میں نہیں تھا کہ وہ سانس لینا بھی روک لے۔مروہ کی یہ حالت دیکھ کر سائم نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کی تھی۔وہ بالکل ریلیکس بیٹھا تھا۔۔

اب کیا ہوگا ۔۔۔

مروہ نے خود سے سوال کیا تھا۔

ریحان ابھی بھی دروازے کے اس پار کھڑا تھا۔عموما مروہ اس ٹائم اٹھی ہوتی ہے وہ جانتا تھا۔شاہد کھانے کے لیے اس نے مروہ کو زحمت دینا چاہتا تھا لیکن جواب نہ ملنے کی وجہ سے وہ اب جا چکا تھا۔

یہ سب پرابلمز تمہاری وجہ سے ہیں۔تمہیں کیا ضرورت تھی اس ٹائم یہاں انے کی۔اور ابھی کتنے ارام سے بیٹھے ہو ۔۔۔

یہ اتنی بڑی پرابلم نہیں ہے ۔تم ارام سے بیٹھ جاؤ ۔۔صبح میں چلا جاؤں گا۔۔

کہ ۔۔۔کیا۔

لگتا ہے تم ہوش میں نہیں ہو۔

اچھا ٹھیک ہے تو پھر میں ابھی چلا جاتا ہوں۔

نہیں۔۔سائم صوفے سے اٹھا ہی تھا کہ مروہ نے اس کا ہاتھ پکڑا ہاتھ بھی چوٹ لگنے کے باوجود سائم کو درد محسوس نہیں ہو رہا تھا۔

تم پاگل ہو گئے ہو ریحان بھائی باہر ہیں۔

تو تم نے کہا نہ میں نہیں رک سکتا۔سائم کو جیسے موقع مل گیا ہو مروہ کے ساتھ رہنے کا۔وہ دوبارہ سے بیٹھ گیا تھا۔

مجھے بات کرنی ہے تم سے ۔۔سائم نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔

اچھا موقع ہے ہم ارام سے بات کر سکتے ہیں۔

مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی۔مروہ فورا سے صوفے سے اٹھی تھی۔وہ بہت بری پھنس گئی تھی۔اندر سائم تھا اور باہر اس کی فیملی۔اب اسے کچھ سمجھ نہیں ارہا تھا کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔

تمہیں ارام سے سننے کی عادت نہیں ہے ۔میں اچھے سے جانتا ہوں ۔سائم بی اب صوفے سے اٹھ گیا تھا۔اور قدم بقدم مروہ کے قریب جا رہا تھا۔وہ اسے اپنے دل کی ہر بات بتانا چاہتا تھا۔اور مروہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی۔

میں نے کہا نا مجھے کوئی بات نہیں کرنی سائم پلیز۔۔

تم دور رہ کے بھی بات کر سکتے ہو۔

دور دور سے تمہیں سمجھانا مشکل ہوتا ہے۔مروہ قدم و قدم پیچھے جا رہی تھی۔اور اب بیڈ کے ساتھ جا کر رک گئی تھی ۔کیونکہ اگے کوئی جگہ نہیں تھی۔

سائم۔۔۔۔

مروہ نے اپنا ایک ہاتھ سائم کے سینے پہ رکھا تھا ۔فاصلہ بنانے کے لیے۔وہ پوری طرح سے اس کی گرفت میں تھی۔

بولو سن رہا ہوں۔سائم اس کی انکھوں میں دیکھ رہا تھا۔

پیچھے ہٹو۔۔۔

مروہ بری طرح سے کانپ رہی تھی۔اب اسے پچھتاوا ہو رہا تھا کہ وہ اس کو کمرے میں کیوں لے کے ائی۔وہ دل ہی دل میں خود کو کوس رہی تھی۔سائم اس کی انکھوں میں کھویا دنیا بھول چکا تھا۔وہ مروہ کی کسی بات پہ دھیان نہیں دے رہا تھا۔وہ مروہ کو بہت قریب سے محسوس کرنا چاہتا تھا۔اس نے مروا کے چہرے پہ ائی۔ایک لتھ کو ہٹانے کے لیے اپنا ہاتھ اگے کیا ہی تھا۔کہ مروہ نے ایک زوردار تھپڑ اس کے منہ پر مارا۔۔

تمہیں سمجھ نہیں آ رہی۔۔۔

سائم نے زندگی میں پہلی دفعہ کسی سے تھپڑ کھایا تھا۔اس تھپڑ سے وہ بری طرح چونکا تھا۔اور بے خودی کی دنیا سے باہر ایا مروہ نے نے بالوں کو خود ہی پیچھے کیا۔اس کی شال بھی اب اگے سے گڑ چکی تھی تھپڑ مارنے کی وجہ سے۔

اب ہٹو۔۔مروہ نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے اسے پیچھے کرنا چاہا۔لیکن اس کی گرفت ابھی بھی اتنی ہی مضبوط تھی۔

سائم نے چہرے سے ہاتھ اٹھایا۔اور مروہ کی طرف دیکھا۔

یہ کیا تھا۔سائم نے ہاتھ پھر سے چہرے پر رکھ کر اس سے پوچھا۔وہ اب تھوڑا اور قریب ہوا تھا…

چلو حساب برابر ہو گیا۔سائم ہلکا سا مسکرایا۔اب مجھے کوئی پچھتاوا تو نہیں رہے گا۔کہ میں نے اپنی جان کو ہرٹ کیا تھا۔وہ پیار بھرے لہجے میں اس سے بات کر رہا تھا۔اس نے مروہ کے دائیں ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا۔اسی ہاتھ سے مروہ نے اسے تھپڑ مارا تھا۔

ائی لو یو سو مچ۔سائم ہاتھ کو اپنے لبوں کے قریب کرنے ہی والا تھا کہ مروا نےا سے زور سے پیچھے کیا۔

تم کتنے گھٹیا ہو۔۔

میں نے کہا نفرت کرتی ہوں میں تم سے۔ائی ہیٹ یو۔۔۔

سائم کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ باہر سے کھانسنے کی اواز ائی۔دادا جان یقینا اٹھ گئے تھے۔

مروہ کی جان پھر ہتھیلی میں اگئی تھی۔کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں اور دادا جان چیک کرنے ضرور ائیں گے۔سائم نے دروازے کی طرف دیکھا۔اور پھر مروا کو دیکھنے لگا۔

بہت رات ہو گئی ہے ۔تمہاری طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے۔تم سو جاؤ میں صبح چلا جاؤں گا۔سائم نے بیڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

تمہارے ہوتے ہوئے مجھے چین کی نیند نصیب نہیں ہو سکتی۔اور نہ ہی مجھے تم پر اتنا اعتبار ہے۔

اوکے تمہاری مرضی ہے۔

مجھے تو بہت نیند ارہی ہے۔سائم اسے تنگ کرنے کے موڈ میں تھا۔

میں نے تمہیں سونے کا نہیں کہا ۔مروہ نے اسے بیڈ کی طرف جاتے دیکھا تو کہا۔

تو ٹھیک ہے پھر میں گھر جا رہا ہوں۔وہ دروازے کی طرف بڑا ہی تھا کہ مروہ نے اسے روک دیا۔مروہ کے ذہن میں عجیب ڈر تھا کہ پتہ نہیں۔اگر دیکھ لیا کسی نے تو وہ کیا جواب دے گی۔اور اس کا ڈر صحیح بھی تھا۔

باہر کوئی دیکھ لے گا۔۔

تم صوفے پر سو جاؤ۔۔مروہ نے صوفے کی طرف اشارہ کیا۔سائم نے حامی بڑی اور جا کے بیٹھ گیا۔

اب تم بھی سو جاؤ۔سائم نے ٹانگوں کو تھوڑا سیدھا کیا اور صوفے پہ ٹیک لگائی۔اس کا سونے کا ارادہ تو بالکل بھی نہیں تھا۔بس وہ مروہ کو تھوڑا تنگ کرنا چاہتا تھا۔جب کہ مروا حیرانگی سے دیکھ رہی تھی۔اور پھر کچھ سوچا اور جا کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔اس نے بھی ٹیک لگا لی تھی۔۔۔

اپ مجھے ابھی بتا رہی ہے کہ سائم پاکستان ایا ہے۔مہرش نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ارم کو کہا تھا۔وہ بھی پاکستان میں ہی موجود تھی۔

ہاں وہ پاکستان ایا ہے اور یہی موقع ہے۔ارم جو ٹیرس پر کھڑی اس سے باتیں کر رہی تھی۔اب اپنی اگلی پلاننگ بنانے کا سوچ رہی تھی۔اس کے دل میں اپنا گھر بنا ؤ۔۔

میں نے پہلے بھی کتنی کوشش کی۔

میری جان تو تھوڑی کوشش اور کر لوں۔ارم ٹہلتی ٹہلتی پلر کے پاس ائی تھی۔اس نے جینز ٹاپ پہنا ہوا تھا۔اور بالوں کو رول کیا ہوا تھا۔

جبکہ مہرش دوسری طرف بیڈ پر لیٹی تھی ابھی ابھی کسی پارٹی سے ائی تھی۔۔۔

اپ جانتی ہیں میں سائم سے کتنا پیار کرتی ہوں۔لیکن اسے مروہ کے سوا کچھ نظر نہیں اتا۔

تم بس صبح اس سے ملو۔۔۔

ارم کی ہدایات پہ مہرش نے حامی بڑی۔اور فون بند کر کے صبح کی تیاری میں مصروف ہو گئی۔ارم کو بھی اب تھوڑی راحت ملی تھی۔

نیند نہیں ارہی کیا۔سائم نے مروہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔جو گہری سوچ میں گم تھی۔کیا میں ہیلپ کروں۔۔۔۔