266K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Rung Episode 34

Shah Rung by Aneeta

مروہ گاڑی میں تو بیٹھ گئی تھی لیکن وہ وسوسوں میں گری ہوئی تھی کہ کہیں علیزے کے سامنے سائم کچھ بول نہ دے۔۔۔

ویسے سائم تمہاری باقی فیملی کہاں ہوتی ہے۔مروہ اور علیزے دونوں پچھلی سیٹس پر بیٹھی ہوئی تھی۔مروا نے ایک نظر علیزے کو اور پھر سائم کو دیکھا۔جیسے اس نے کوئی بہت ہی مشکل سوال پوچھ لیا ہو۔۔

میرے پیرنٹس تو کینیڈا میں ہوتے ہیں۔لیکن دادا جان ادھر ہی ہوتے ہیں۔اس نے نارملی جواب دیا۔اس کا دھیان روڈ پر تھا۔مروہ بھی ٹیک لگایا۔باہر کے نظارے دیکھنے لگی تھی۔۔

تو کیا تم نے اپنا بزنس پاکستان میں شفٹ کر لیا۔۔

نہیں۔۔اس نے سامنے لگے ششے میں مروہ کو دیکھا۔مروہ بھی تھوڑا ٹھیک ہو کر بیٹھی۔۔

کسی نے میری کول کائنات یہاں شفٹ کر دی۔اس کا دھیان اب مروہ کی طرف تھا۔۔پھر تھوڑی ہی دیر میں اس نے دوبارہ سے خود کو ٹھیک کیا۔۔۔

مروہ نے غصے سے پلکیں اٹھائیں۔۔

میں کچھ سمجھی نہیں۔علیزے کے اوپر سے بات گزر گئی تھی۔اس نے چادر کو ٹھیک کرتے ہوئے ایک دفعہ پھر حیرانگی سے دیکھا۔

علیزے اس کی فیونسی۔۔مروہ نے تھوڑا رک کر سائم کو دیکھا۔۔شاید اس کا ری ایکشن نوٹ کر رہی تھی۔۔

ہے مہروش وہ پاکستان شفٹ ہوگی تو یہ بھی اس کے پیچھے پاکستان اگیا۔۔سائم نے غصے کو بہت مشکل سے کنٹرول کیا۔اور گاڑی کی سپیڈ تھوڑی تیز کی۔۔۔

اچھا تو تمہاری فیونسی بھی ہے۔۔یہاں پہ علیزے تھوڑی پزل ہوئی۔کیونکہ وہ اپنے دماغ میں کچھ اور ہی سوچ کے بیٹھی تھی۔مروہ اور سائم کے بارے میں۔۔مروہ کو اس کے غصے کا اندازہ ہو گیا تھا۔لیکن وہ بھی ارام سے بیٹھ گئی۔۔

یہاں سے کچھ کھا لیتے ہیں۔سائم نے گاڑی کو ایک ریسٹورنٹ کے باہر روکا۔اس کا غصہ کم نہیں ہوا تھا۔وہ شاید اسی بات کا جواب دینا چاہتا تھا۔۔۔

نہ۔۔۔نہیں مروہ نے فورا سے نہ میں سر ہلایا۔اور سیدھی ہو کر بیٹھی۔ہم گھر جا کر کھانا کھائیں گے۔

ہاں سائم اس کی ضرورت نہیں ہے۔ویسے بھی بہت ٹائم ہو گیا ہے۔ریحان انے والے ہوں گے۔تم ہمیں بس گھر تک اتار دو۔علیزے نے بھی مروہ کے ہاں میں ہاں ملائی۔۔۔

سائم نے مڑ کر ایک نظر مروہ کو دیکھا۔لیکن مروہ جانتی تھی اس کی انکھوں کے اشاروں کو تو اس نے اسے اگنور کیا۔کیونکہ اب وہ دوبارہ اس کی کوئی بات نہیں ماننا چاہتی تھی۔اس نے نظروں کو نیچے جھکا لیا تھا۔۔اور ہاتھوں سے کھیلنے لگی تھی۔اس کے گلابی گال اب مزید چمکنے لگے تھے۔۔۔

سائم نے کچھ سوچ کر گاڑی کا دروازہ تو بند کر دیا تھا۔لیکن وہ مطمئن نہیں تھا۔۔

میرے خیال میں تم علیزے کے سامنے کوئی تماشہ نہیں چاہتی۔مروہ کے ہاتھ میں موبائل تھا۔جس کی سکرین کو وہ غور سے دیکھ رہی تھی۔سائم نے ساتھ ہی اسے ٹیکسٹ کیا تھا۔چپ چاپ نیچے اترو۔۔۔۔۔۔۔

مروہ جو پہلے ہی سہمی ہوئی تھی۔وہ جانتی تھی کہ وہ مہروش والی بات کا جواب ضرور دے گا۔اسے کیا کرنا چاہیے اس کی سمجھ سے باہر تھا۔۔۔

اترو مروہ۔۔۔

میرے خیال میں ہمیں کھانا کھا لینا چاہیے۔مروہ نے میسج پڑھتے ساتھ ہی کہا۔اور گاڑی سے باہر اگئی۔علیزے اس کے بدلتے رویے پہ تھوڑا حیران ہوئی تھی۔لیکن جب مروہ گاڑی سے باہر چلی گئی تو وہ بھی اس کے پیچھے اگئی۔سائم کے سامنے تو وہ کوئی سوال نہیں کر سکتی تھی۔لیکن اس نے انکھوں سے اشارہ ضرور کیا تھا۔۔

سائم نے مروہ کو غصے بڑی نگاہ سے دیکھا۔جو اپنا دوپٹہ ٹھیک کر رہی تھی۔اس نے میکسی ٹائپ فراک پہنا ہوا تھا۔کالے کلر کا جالی کا دوپٹہ تھا۔۔۔بال کھلے ہوئے تھے۔۔

علیزے تھوڑی اگے جا رہی تھی۔کہ سائم نے مروہ کا ہاتھ پکڑا۔تم اب نہیں بچنے والی۔مروہ نے گھبراتے ہوئے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور علیزے کے ساتھ چلنے لگی۔۔۔۔۔

سائم تو پہلے ہی مجھے منہ نہیں لگاتا تھا۔اور اب۔محروش نے نے موبائل کی طرف دیکھا۔اور پھر باہر کا نظارہ دیکھنے لگی۔اب اسے بھی ہاتھ سے سب نکلتا ہوا نظر ا رہا تھا۔کیونکہ اس نے جو حرکت کی تھی۔وہ اب مر کے بھی سائم کے دل میں جگہ نہیں بنا سکتی تھی۔۔

وہ ان دنوں انہی وسوسوں میں پڑی ہوئی تھی۔وہ کسی صورت بھی سائم کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔لیکن اب اسے کوئی صورت نظر بھی نہیں ا رہی تھی۔کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔۔۔۔۔

مروہ کھانا میں نے کھانے کے لیے منگوایا ہے۔سائم نے طنز کرتے ہوئے کہا۔اور کھانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے کھانے کا کہا۔وہ مروہ کے بالکل سامنے بیٹھا ہوا تھا۔لیکن مروہ نے اس کے کہنے پر بھی کھانا شروع نہیں کیا تھا۔جبکہ علیزے کھانے میں مصروف تھی۔کیونکہ اسے جلدی گھر جانے کی جلدی تھی۔۔۔

تم ایسے نہیں مانو گی۔۔اس نے اپنے دل میں کہا۔

اور پھر مروہ کو گوڑی ڈالی۔جب اس کا بھی اثر نہ ہوا۔تو اس نے اپنا پاؤں مروہ کے پاؤں پر رکھا۔لیکن اس نے بس ہلکا سا ٹچ دیا تھا۔تاکہ اسے تکلیف نہ ہو۔اس کی حرکت پر اس کے جسم میں کرنٹ لگا۔اس نے فورا سے اپنا پاؤں پیچھے کیا۔اور کھانے کے پلیٹ اگے کی۔جس میں دو سینڈوچ اور نگٹس تھے۔اس نے ایک سینڈوچ اٹھایا اور کھانے لگی۔سائم نے اپنی ہنسی کو مشکل سے روکا۔۔اور کھانا کھانے لگا۔

ویسے مروہ اور آپ کینڈا میں ساتھ پڑھتے تھے۔علیزے نے کھاتے کھاتے ہی پوچھا۔اور نظر دونوں پہ گھمائی۔۔

نہیں۔۔سائم

ہاں ۔۔۔۔۔مروہ

دونوں ایک ساتھ بولے تھے۔دونوں ہی ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔کھانا تینوں نے چھوڑ دیا تھا۔۔

یہ کیا بات ہوئی۔علیزے نے حیرانگی سے دونوں کو دیکھا ۔

وہ۔۔۔مروا نے پانی کا گلاس اٹھایا اور پینے لگی۔۔اسے سمجھ نہیں ا رہا تھا کہ کیا بولوں۔۔

پہلے ہم ساتھ پڑھتے تھے. اس کے بعد میں نے یونی چینج کر لی تھی۔سائم نے تھوڑا سوچ کر جواب دیا۔شاید اسے سمجھ نہیں ا رہا تھا کہ کیا بولنا چاہیے۔۔

مروا نے بھی پانی کا گلاس ٹیبل پر رکھا۔۔۔۔

او ۔۔۔اچھا۔۔۔علیزے نے مروہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔

اب ہمیں چلنا چاہیے ۔مروہ اپنی چیئر سے اٹھی۔سائم بھی ساتھ ہی اٹھ گیا تھا۔اس نے ایک نظر کھانے کو دیکھا جو ویسے ہی پڑا ہوا تھا۔ہاں ریحان ا چکے ہوں گے سائم ہمیں جانا چاہیے۔۔۔اور دادا جان کی بھی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔۔

اوکے میں چھوڑ اتا ہوں۔سائم بھی یک دم اٹھا۔اس نے ایک نظر مروہ کو دیکھا۔لیکن مروہ نے اسے بالکل بھی نہیں دیکھا تھا۔جو بات اسے ناگوار گززی۔۔بہت ہی ضدی ہو تم۔اس نے دھیمے لہجے میں کہا۔۔ ۔۔۔۔

صبح افس ٹائم پر انا۔ہمیں بہت کام کرنا ہے۔علیزے کو چیزیں اٹھاتے دیکھ کر سائم کو موقع ملا تو اس نے سرگوشی میں کہا۔۔

مروہ نے اس سے تھوڑا فاصلہ بنایا اور علیزے کے پاس کھڑی ہو کر سائم کو دیکھنے لگی۔۔

سائم نے اسے انکھ ماری۔میں چھوڑ اتا ہوں میرے پاس گاڑی ہے۔کوئی مسئلہ نہیں۔۔

نہیں ہم چلے جائیں گے۔۔مروہ نے علیزے کا ہاتھ پکڑا اور جانے لگی۔

سائم نے بھی فورس نہیں کیا پھر۔اج کے لیے اتنا کافی ہے۔وہ ہنستے ہوئے دوبارہ بیٹھ گیا۔مروہ لوگ بھی اب تک جا چکے تھے ۔۔

تم میری کال کیوں نہیں ریسیو کر رہی۔بہت ہی زیادہ مصروف ہو گئی ہو۔مروہ نے موبائل کان کے ساتھ لگایا ہی تھا کہ سائرہ کی گرجتی اواز کی وجہ سے اس نے موبائل کو تھوڑا دور کیا۔۔۔۔

ارام سے بولو۔مروا نے موبائل پھر سے کان کے ساتھ لگایا اور بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھ گئی۔اس نے بیڈ پہ پرے کمبل کو اوپر اوڑا۔اور تسلی سے بیٹھ گئی۔۔جیسے سائرہ سے کوئی بہت ہی اہم بات کرنی ہو۔ ۔

کچھ ہی دیر میں مروہ نے اسے ساری سٹوری سنا دی۔۔۔

دیکھو وہ تم سے پیار کرتا ہے۔تم یہ کب سمجھو گی۔سائرہ کے لہجے میں التجا تھی۔جو شاید مروہ کو سمجھ نہیں ارہی تھی۔وہ سائرہ سمجھ چکی تھی۔۔۔

دیکھو تم نے پھر سے وہی سب تم بھول گئی ہو جو میں نے تمہیں بتایا میں فون بند کرنے لگی ہوں۔تم پاگل ہو گئی ہو۔یہ کیسا پیار ہے۔

مروہ جانی ایک دفعہ دھیان سے سنو۔اگر تمہیں اس کی محبت پر شک ہے۔تو ٹھیک ہے اسے بولو تم سے شادی کریں۔

تم بالکل پاگل ہو گئی ہو۔اب دوبارہ مجھے فون مت کرنا سائرہ۔اس نے غصہ جھاڑتے ہوئے موبائل بند کر دیا۔۔۔

پاگل ہم نہیں پاگل تم ہو گئی ہو تم نے سب کو پاگل کر دیا۔۔

۔اف ۔۔۔۔۔۔مروہ تمہیں کب سمجھ ائے گی۔سائرہ نے بھی موبائل کو ایک طرف رکھ دیا۔اس سے اس کے حال پہ ہی چھوڑ دینا چاہیے۔۔۔

کاش مجھے بھی کوئی۔سائم جیسا مل جائے۔وہ اب خواب سجانے لگی تھی۔نہیں۔۔۔۔۔ نہیں سائم سے تھوڑا اچھا ہو۔اسے اب سائم کا غصہ یاد اگیا تھا۔۔۔۔

صبح کے اٹھ بج چکے تھے عموما مروا چھ بجے اٹھ جایا کرتی تھی۔لیکن اج وہ اٹھ بجے اٹھی۔فریش ہونے کے بعد وہ کچن میں ائی۔۔۔

افس نہیں جانا کیا۔علیزے جو پہلے ہی کچن میں کھڑی تھی۔نے اسے دیکھتے ہی سوال کیا۔اور اس کے ناشتے کی تیاری کرنے لگی۔مروہ سامنے پڑے ٹیبل کے گرد کرسی گھسیٹتے اس پر بیٹھ گئی۔چہرہ اترا ہوا تھا۔۔۔

نہیں اج میری طبیعت نہیں ٹھیک۔اتنے سی بات کر کے وہ کھانے کا انتظار کرنے لگی۔۔۔

علیزے نے دو بریڈ کے پیس اور ایک ہاف فرائی انڈا اس کے سامنے پیش کیا۔جو رکھتے ہی مروانے کھانا شروع کر دیا تھا ۔۔۔

کیوں کیا ہوا۔کل بھی تم جلدی اگئی تھی۔کیا کوئی مسئلہ بنا ہے افس میں۔علیزے بھی چائے کا کپ لیے اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔۔۔۔

نہیں طبیعت نہیں ٹھیک بتا چکی ہوں۔بریڈ کو فولڈ کرتےہوئے اس نے جواب دیا۔اور پھر چائے کا کپ منہ کے ساتھ لگایا۔ساتھ ہی تھوڑی بریڈ کھائی۔۔۔۔۔۔

اچھا کوئی بات نہیں تم ریسٹ کرو۔اس کی حالت کا جائزہ لیتے ہوئے علیزے نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پہ رکھا ۔۔۔۔

ویسے سائم مجھے ایک اچھا انسان لگتا ہے ۔میں تمہاری کہیں ہوئی باتوں پہ ایگری نہیں کرتی۔علیزے نے چائے پیتے ہوئے اس سے کہا۔اور دوبارہ سے چائے پینے لگی۔مروہ کھاتے کھاتے رکی اور اسے دیکھنے لگی.۔

اس کی فیونسی تو خوش نصیب ہے۔جسے اتنا اچھا لائف پارٹنر ملا۔وہ دوبارہ سے چائے پینے لگی۔جبکہ مروہ غصے سے اسے دیکھ رہی تھی۔کھانا اس نے چھوڑ دیا تھا۔

سائم ۔۔۔سائم۔۔ سائم۔ ۔۔۔۔۔سب کو بس سائم ہی اچھا لگتا ہے۔میں اب اس کا نام نہیں سننا چاہتی وہ اپنی چیئر سے اٹھی اور اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔سب ہی پاگل ہو گئے ہیں۔۔۔

علیزے اس کے رویے پر حیران تھی۔پر وہ کر بھی کیا سکتی تھی۔وہ شاید اب یوز ٹو ہو گئی تھی۔اس کے اس رویے سے۔۔

گڈ مارننگ ایوری ون۔۔۔سائم مروہ کی خالی چیئر دیکھ کر تھوڑا پریشان ہوا۔۔۔

کیا اج مروہ نہیں ائی۔اس نے پاس سے گزرتی ایک لڑکی سے پوچھا۔جو ہاتھ میں فائل لیے اگے جا رہی تھی۔۔

نہیں سر مروہ تو نہیں ائی۔۔۔

سائم نے ایک نظر پھر اس کی خالی چیر کو دیکھا۔اور پھر الٹے پاؤں باہر کی طرف گیا۔۔باہر نکلتے ہی اس نے اپنا موبائل نکالا اور مروہ کا نمبر ڈال کیا۔۔۔

مروہ جو ابھی ہی کمرے میں ائی تھی اس کی کال دیکھ کر پھر سے خوف زدہ ہوئی اور کال کو کاٹ دیا۔غصے میں تو وہ پہلے ہی تھی۔۔۔

مروا۔۔۔سائم کی اواز میں تھوڑا غصہ تھا۔

اس نے پھر سے نمبر ملایا۔۔۔

مجھے نہیں بات کرنی ہے تم سے کیا مسئلہ ہے۔مروا نے فورا سے فون اٹھایا اور کان کے ساتھ لگایا۔۔۔

افس کیوں نہیں ائی تم۔اس نے بھی اسی کے لہجے میں جواب دیا۔اور بات کرتے کرتے ہی اپنی گاڑی کی طرف جانے لگا۔تمہیں کل کیا سمجھایا تھا میں نے۔۔۔

میری مرضی میں اؤں یا نہ اؤں۔تم کون ہوتے ہو پوچھنے والے اور کل کی حرکت کے بعد تمہیں لگتا ہے کہ میں واپس اؤں گی۔۔۔

سائم کے ذہن میں پھر سے کل والا سین چلنے لگا تھا۔۔۔

تم جیسا سمجھ رہے ہو ویسا کچھ بھی نہیں تھا۔سائم ا سے سمجھاتے ہوئے بولا۔لیکن اگر تم اب افس نہیں ائی تو پھر بالکل بھی اچھا نہیں ہوگا۔اس بار لہجے میں تھوڑا غصہ زیادہ تھا۔میں تمہیں پک کرنے ا رہا ہوں۔۔۔

میں تمہارے ساتھ کہیں بھی نہیں جانے والی اور افس میں نے چھوڑ دیا ہے۔۔

اچھا افس چھوڑ دیا۔سائم نے کچھ سوچتے ہوئے انداز میں کہا۔۔۔

تو ٹھیک ہے پھر تمہارے گھر ا کر کام کر لیتے ہیں۔سائم سچ میں گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا۔یا شاید اسے ڈرانے کے چکروں میں تھا۔۔۔۔

نہ۔۔۔۔۔۔نہیں بالکل بھی نہیں۔وہ ایک دم سے بیڈ سے اٹھی اور کھڑی ہو گئی۔تم۔۔ ایسا کچھ بھی نہیں کرنے والے۔لہجہ حکم دینے والا تھا۔مروہ نے ایک نظر باہر بھی دہرائی تھی۔شاید اس کے انے کے خطرے کو محسوس کر رہی تھی۔۔۔

دیکھو تم ایسا کچھ بھی نہیں کرو گے۔اس نے پھر سے اپنی بات دہرائی۔۔۔

تو ٹھیک ہے پھر تم افس ا جاؤ تو میں نہیں اؤں گا۔اب تمہارے پاس صرف ادھا گھنٹہ ہے۔یہ کہتے ہی سائم نے فون بند کر دیا تھا۔۔۔

ل۔۔۔۔لیکن۔مروہ کے بولنے سے پہلے ہی فون بند ہو چکا تھا۔۔۔

کیا مصیبت ہے۔پہلے موبائل کو بیڈ پہ گرایا اور پھر خود بھی بیڈ پر بیٹھ گئی۔میری کب اس سے جان چھوٹے گی۔اس نے نظر اٹھا کر ایک دفعہ اوپر دیکھا۔اور پھر جانے کا سوچنے لگی۔۔۔کیونکہ اس کے پاس کوئی اپشن نہیں تھا۔۔۔

داداجان اپ میڈیسن بھی تو ٹائم پر نہیں لے رہے۔علیزے نے دودھ کا گلاس ان کے ہاتھ میں دیا۔اور ان کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔۔۔

بیٹا یہ عمر ایسی ہی ہوتی ہے۔اس عمر میں بیماریاں چلتی رہتی ہیں۔وہ دودھ کا گلاس تھامتے ہوئے بولے۔مروہ چلی گئی افس۔۔۔

نہیں دادا جان وہ اج نہیں جائے گی اس کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔علیزے ابھی بول ہی رہی تھی کہ مروہ کمرے میں داخل ہوئی۔اس نے ریڈ کلر کا شارٹ باڈی فراک پہننا تھا۔جو گون سٹائل میں تھا۔اور بیگ کو ایک طرف کیا ہوا تھا. خوبصورت چہرے پہ تھکی ہوئی انکھیں تھیں۔اور انکھیں ساری کہانی بیان کر رہی تھی۔۔۔

تم تو اج نہیں جانے والی تھی۔علیزے نے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔اور پھر دادا جان کو دیکھنے لگی۔

ہاں افس سے فون ایا ضروری کام ہے تو جانا پڑے گا۔اوکے دادا جان اپنا بہت بہت خیال رکھیے گا۔وہ داداجان کے پاس ائی اور انہیں سر پہ بوسہ دیا۔۔

بیٹا علیزے نے بتایا تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو اج رہنے دو۔۔

نہیں داداجان ضروری کام ہے اور ویسے بھی میں اب ٹھیک ہوں۔یہ کہتے ہوئے وہ باہر کی طرف جانے لگی کیونکہ وہ اور سوالوں کے جواب نہیں دینا چاہتے تھی۔سائم کی وجہ سے وہ پہلے ہی پریشان تھی ۔۔۔

اس لڑکی کو سمجھنا بہت مشکل ہے۔علیزے نے دل ہی دل میں کہا۔پتہ نہیں کن کاموں میں الجھی ہوئی ہے۔پھر دادا جان کو دیکھنے لگی۔۔

مروہ گھر سے باہر نکلی ہی تھی کہ سائم نے اسے کراس کرتے ہوئے گاڑی کی بریک لگائی۔۔۔

تو۔۔۔۔تم۔۔

ہاں کیوں میں نہیں ا سکتا۔وہ اب گاڑی سے اتر چکا تھا۔کی کو لہراتے ہوئے بولا۔۔۔

میں نے کہا تھا نہ میں ا رہی ہوں۔مروا نے ایک نظر اپنے گھر کی طرف دیکھا۔۔۔

تو میں تمہیں پک کرنے ہی ایا ہوں۔میرے ہوتے ہوئے تم ٹیکسی پہ اؤ گی۔میں یہ کیسے برداشت کر سکتا ہوں۔اس نے گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے بیٹھنے کا کہا۔مروہ اپنے گھر کے قریب تھی تو کوئی ڈرامہ نہیں چاہتی تھی تو فورا سے گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔

اور میرا سب کچھ تمہارا ہی تو ہے میری جان۔یہ بات سائم نے اپنے دل میں کہی ۔وہ بھی اس کی الجھی ہوئی حالت دیکھ کر تھوڑا پریشان تھا۔۔ کہیں نہ کہیں قصوروار وہ تھا۔اس کی حالت کا ۔۔۔۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں سائم نے گاڑی افس کے سامنے کھڑی کی۔تو مروا نے سکون کا سانس لیا تھا۔کہ شکر ہے وہ اسے افس ہی لے کے ایا ہے۔۔۔

اگر اج تم نے کوئی بدتمیزی کی۔تو میں یہ جاب سچ میں چھوڑ دوں گی۔پھر چاہے تم جو مرضی دھمکی دو۔سائم جو گاڑی سے اترنے ہی لگا تھا ایک منٹ کے لیے رکا۔۔۔

تم کوئی ایسی حرکت نہ کرنا کہ مجھے تمہیں ہرٹ کرنا پڑے۔سائم نے اس کے گالوں کو ہلکا سا کھینچا۔اور پھر چھوڑ دیا۔۔

چلو تم نے یہ تو مانا تم مجھے ہرٹ کرتے ہو۔مروہ نے اپنا ہاتھ گال پہ رکھا اسے ہلکا ہلکا درد محسوس ہو رہا تھا۔۔۔

میں نہیں کرنا چاہتا لیکن تم مجھے مجبور کرتی ہو۔۔یہ سب کرنے پہ۔سائم نے تھوڑے سخت لہجے میں کہا۔۔۔

تم تو سب کچھ ختم کر چکے ہو نا۔تو پھر ان باتوں کا مطلب مجھے سمجھ ا رہا ہے۔کیوں اتے ہو میرے قریب۔۔۔۔

سائم کے پاس اس کی بات کا جواب تھا لیکن وہ جواب جو وہ دینا نہیں چاہتا تھا۔اور باقی وہ کیا کہے اس سے کچھ سمجھ نہیں ارہا تھا۔اس نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اترنے کا اشارہ کیا۔مروہ بھی غصے سے گاڑی سے اتری۔۔

میں نے کچھ پوچھا ہے۔۔۔

وہ اب اس کے مقابل کھڑی اس سے سوال کر رہی تھی۔یہ سب کر کے تمہیں کیا ملتا ہے۔میں ساری رات نہیں سو پائی تمہاری وجہ سے میں بہت ڈر گئی ہوں سائم۔۔۔۔۔۔۔