266K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Rung Episode 16

Shah Rung by Aneeta

تین سال بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وقت کی سوئیاں کبھی کبھی اتنی رفتار پکڑ لیتی ہیں۔کہ انسان کو سنبھالنے کا موقع ہی نہیں دیتی۔اور وقت کی یہ رفتار سب کچھ تہش نش کرنے کے بعد سکون لیتی ہے ۔لیکن تب تک انسان کا سب کچھ برباد ہو چکا ہوتا ہے۔وقت نے کبھی بے انسان کا ساتھ نہیں دیا۔مروہ سارہ کی گود میں سر رکھے لیٹی ہوئی تھی۔۔

تم ابھی بھی وہ سب نہیں بھول پائی سارہ نے نظریں نیچے جھکاتے ہوئے پوچھا۔وہ اس کے بالوں میں ہلکی ہلکی انگلیاں پھیر رہی تھی۔

انسان بُولتا کچھ بھی نہیں ہے۔بس نئے زخم پرانے زخموں کو بھولا دیتے ہیں۔لیکن جب کبھی سکون کا سانس لینے بیٹھو۔تو سبھی زخم ایک ساتھ ہڑے ہو جاتے ہیں۔اس کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی مروہ نے اسے جواب دیا۔

کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں۔علی نے اتے ہی سائرہ اور مروہ کو مخاطب کیا جس کی اواز سن کر دونوں اٹھ بیٹھی تھی۔

جی جی کیوں نہیں۔سائرہ نے فورا سے جواب دیا۔جبکہ مروہ خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔

لگتا ہے مروہ کو میرا انا اچھا نہیں لگا علی نے ایک نظر مروہ کو دیکھا۔

ایسی کوئی بات نہیں ہے۔اگر اج اپ نہ ہوتے۔تو شاید میں زندہ نہ ہوتی۔اپ نے وقت پر مجھے ہاسپٹل پہنچایا اپ کے مجھ پر بہت سے احسانات ہیں۔

ایسی کوئی بات نہیں۔اس رات شاید اپ کی جان بچانے کا کام ہی میری ذمہ تھا۔جو میں نے اس سنسان روڈ پہ ٹریول کیا۔علی نے مروہ کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔بس اپ ٹھیک ہو گئی میرے لیے یہی کافی ہے۔

تو ٹورنٹو( Toronto)میں اپ کا دل لگ گیا.(ٹورنٹو کینیڈا کا شہر ہے) علی جو بالکل ان کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔نے پھر سے سوال کرتے ہوئے کہا۔علی کا تعلق بھی پاکستان سے ہے۔اور حال ہی میں اس نے اپنا بزنس پاکستان سے کینیڈا شفٹ کیا تھا۔

اپ نے کافی ہیلپ کی ہماری ورنہ اس بڑے شہر میں نوکری اور فلیٹ ڈھونڈنا کافی مشکل کام ہے۔مروہ کو خاموش دیکھ کر سائرہ نے جواب دیا۔

اپ لوگ باتیں کریں میں اتی ہوں یہ کہتے ہوئے مروہ وہاں سے چلی گئی۔علی حیرانگی سے مروہ کو دیکھ رہا تھا۔کیونکہ مروہ کافی بدل چکی تھی۔شاید اب اس سے زیادہ باتیں کرنا اچھا نہیں لگتا تھا۔

اب اپنے دادا سے بھی باتیں چھپاؤ گے سائم حبیب مردان کے بالکل کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔انہوں نےاپنا ہاتھ سائم کے ہاتھ پہ رکھا۔وہ کافی نورانی چہرے کے مالک تھے۔سائم نے ایک نظر ان کے ہنستے ہوئے چہرے کو دیکھا جو شاید اسے لے کر تھوڑا اداس تھا۔

دادا جان ایسی کوئی بات نہیں۔بس افس کے کاموں کی وجہ سے تھوڑا تھک جاتا ہوں سائم نے اپنا دوسرا ہاتھ ان کے ہاتھ پہ رکھا۔

مجھے یہ افس کی تھکن نہیں لگتی۔یہ گہری تھکن دنیا کی تھکن ہے۔ایسا لگتا ہے بہت بیزار ہو چکے ہو۔حبیب میاں نے اپنا ہاتھ اس کے چہرے پہ رکھا۔اور اس کی انکھوں میں دیکھنے لگے۔جو سچ میں بہت اداس تھی۔اور اپنے شکوے اور شکایتیں کسی کے اگے رکھنا چاہتی تھی۔یا شاید کسی کو اپنے دل کا حال سنانا چاہتی تھی۔

ایسا کچھ نہیں ہے دادا جان یہ کہتے ہوئے سائم اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔

ان تین سالوں میں اس نے خود کو کافی بدل لیا تھا ایسا کوئی لمحہ نہیں تھا جب سائم نے مروہ کو یاد نہ کیا ہو۔بدلہ تو پہلے بھی نہیں تھا۔لیکن جب سے اجے کی حقیقت اس کے سامنے ائی۔اسے اس بات کا علم ہوا کہ مروہ نے وہ پیسے کیوں اور کس لیے لیے تھے۔جو معلومات کروانے کے بعد اسے پتہ چلا تھا۔تب سے وہ خود کو معاف نہیں کر پا رہا تھا۔وہ خود کو مروہ کا قصوروار سمجھتا تھا۔ان تین سالوں میں ایسا کوئی دن نہیں تھا۔جب اس نے مروہ کو تلاش کرنے کے لیے کوئی کوشش نہ کی ہو ۔وینکوور سے مروہ کو ٹرانٹو شفٹ کر دیا گیا۔کیونکہ اس کا علاج وہاں پوسیبل تھا۔اور اس کے بعد مروہ کبھی واپس نہیں ائی۔

مروہ تم ہمیشہ ایسے کیوں کرتی ہو۔ایسے کون اٹھ کر اتا ہے۔سائرہ نے پانی کا جگ ٹیبل پر رکھا اور مروہ کے سامنے بیٹھ گئی۔سردی کی وجہ سے اس نے خود کو کور کیا ہوا تھا۔

میرا جو دل کرے گا میں وہی کروں گی۔اور مجھے نہیں لگتا کہ میرا علی سے بات کرنا ضروری ہے۔مروہ لیپ ٹاپ گود میں رکھے ہوئے بیٹھی ہوئی تھی۔

دیکھو اس نے ہماری کتنی مدد کی۔اور یہ مت بھولو کہ ہم اسی کے ریسٹورنٹ میں کام کرتے ہیں۔جو انسان اتنا اچھا ہو اس کے ساتھ ایسے نہیں کرتے۔تم ہر ایک کو سائم کی نظروں سے دیکھتی ہو۔دنیا ایک جیسی نہیں ہے۔

دنیا ایک جیسی ہی ہے تم اس بات کو مان لو۔۔

ہاں میں مانتی ہوں اس کے ہم پر بہت سے احسانات ہیں۔اور یہ احسان میں اتار دوں گی۔سائرہ تم تو ایسے بات کر رہی ہو جیسے پہلے تمہیں کچھ پتہ نہ ہو۔اس سے پہلے بھی کسی نے ہم پر بہت احسانات کیے تھے۔وہ غصے سے چلائی اور تیزی سے کھڑی ہو گئی تھی۔

یہ دنیا اب دل کے قابل نہیں رہی۔اب ہر رشتہ دماغ سے نبھانا پڑے گا۔۔

اپ نے تو کہا تھا مروہ کے جانے کے بعد وہ میرا ہو جائے گا۔وہ تو مجھے دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا۔پہلے سے زیادہ دور ہو گیا ہے۔مہروش ارم کے برابر میں بیٹھی ہوئی تھی۔

دیکھو ابھی تک اسے حقیقت کا پتہ نہیں ہے۔اسے شاید ابھی بھی لگتا ہوگا کہ مروہ زندہ ہے۔اسے اس کی ایکسیڈنٹ کے بارے میں تو کچھ بھی نہیں پتہ بس اسے تھوڑا اور ٹائم دو وہ تمہارا ہی ہے میری جان ارم نے اسے ہلکی سی تھپکی دی۔

دیکھو ایک ہفتے کے لیے ٹرانٹو جا رہا ہے بزنس کے سلسلے میں میں اسے کہتی ہوں تمہیں بھی ساتھ لے جائیں۔ساتھ میں تھوڑا ٹائم گزارو۔

اور اپ کو لگتا ہے کہ وہ مجھے لے کر جائے گا۔ارم کی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ مہروش نے کہا۔وہ ایسا کبھی نہیں کرے گا۔

جب ہارون اسے بولیں گے تو وہ لے جائے گا۔ویسے بھی یہ بزنس ٹرپ ہے۔تو مجھے نہیں لگتا اس سے کوئی پرابلم ہوگی۔وہ بات کر ہی رہی تھی کہ ہارون اور سائم کمرے میں داخل ہوئے۔

ہارون مہروش گھر میں رہ کر بورڈ ہو گئی ہے۔میں اسے کہہ رہی ہوں کہ سائم کے ساتھ چلی جائے۔ٹرانٹو گھوم ائے گی۔

ہرگز نہیں یہ ایک بزنس ٹرپ ہے۔سائم جو ابھی بیٹھا ہی تھا ایک دم سے بولا اس نے ویسٹ پہنا ہوا تھا۔جو اسے بہت سوٹ کر رہا تھا۔اور گلے کے ٹائی ٹھیک کرنے لگا۔

ہارون ۔۔۔۔۔ارم ابھی کچھ بولنے ہی لگی تھی۔کے ہارون بول پڑے۔سائم بیٹا لے جاؤ کوئی نہیں اب 24 گھنٹے تو تم نے کام نہیں کرنا نا۔یہ کہتے ہوئے ہارون بالکل سائم کے ساتھ بیٹھ گئے تھے۔

سائم نے ایک نظر مہروش کو دیکھا۔اور اس کی انکھوں سے غصہ صاف ظاہر ہو رہا تھا۔اور پھر ہاں میں سر ہلا دیا۔جس سے سننے کے بعد مروش بہت خوش ہو گئی تھی۔۔

تم کہاں ہو۔۔۔

سائم نے ایک لمبی سانس لی جو بہت مشکل سے لے پایا تھا۔

۔سائم سٹریم کلاک کے بالکل سامنے بیٹھا تھا ۔اس کی انکھیں نم تھی۔اس کے ہاتھ میں وہی ڈائمنڈ رنگ تھی جو اس نے مروہ کو پہنائی تھی۔اس کی نظریں اگے پیچھے گھوم رہی تھی۔کہ شاید کہیں مروہ کی پرچھائی نظر ا جائے۔اور یہی اس کا روز کا معمول تھا۔وہ رات کے دوسرے پہر سٹریم کلاک کے سامنے بیٹھ کے اس کا گھنٹو ویٹ کرتا تھا۔اس کے ساتھ بتایا ہر لمحہ رات کے اس پہر اس کے ذہن میں گردش کرتا تھا۔وہ ایک الگ ہی دنیا میں چلا جاتا تھا۔

مروہ اٹھنا نہیں ہے۔میں ریڈی بھی ہو گئی ہوں ناشتہ بھی بنا لیا ہے۔اور تمہیں تیسری بار اٹھانے ا رہی ہوں اب اٹھ جاؤ ہمیں دیر ہو رہی ہے۔سائرہ ساتھ ساتھ اپنا بستر طے کر رہی تھی۔جبکہ مروہ کی انکھیں ابھی تک بند تھی۔یہ دیکھتے ہی سائرہ نے تکیہ اس کی طرف پھینکا۔جو سیدھا اس کے منہ پر گرا تھا۔

اٹھ گئی ہوں بولا تو ہے۔مروا نے ارام سے تکیے کو سائیڈ پہ کیا اور بالوں کو باندھنے لگی۔اس نے کھلی سی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔اور فریش ہونے چلی گئی۔

کیا میں اندر ا جاؤں سائم نے حبیب میاں کے دروازے کو نوک کرتے ہوئے کہا۔جو ایک سائیڈ پہ بیٹھے قران پڑھ کہ ابھی فارغ ہوئے تھے۔انہوں نے اپنے ہاتھوں کو دعا کے لیے اٹھایا ہوا تھا۔

اؤ میں تمہاری ہی راہ دیکھ رہا تھا۔حبیب میاں نے امین کہتے ہی سائم کی طرف دیکھا۔۔اور اسے اندر انے کا کہا۔اس نے بلیک افس سوٹ پہنا ہوا تھا۔اس نے ایک چیر کو اگے کھینچا اور حبیب میاں کے سامنے بیٹھ گیا۔

اپ اللہ کے بہت قریب ہو۔میرے لیے بھی دعا کریں۔میری ایک چیز گم گئی ہے جو میرے لیے بہت قیمتی ہے۔شاید اپ کی دعا کرنے سے مل جائے۔سائم نے نظر اٹھا کر انہیں دیکھا جو سائم کوہی دیکھ رہے تھے۔

بیٹا صرف میں نہیں ہم سب اللہ کے بہت قریب ہیں۔اللہ اپنے ہر بندے کو ایک جیسا پیار کرتا ہے۔وہ انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ انسان کے قریب ہوتا ہے۔

ان کے منہ سے ابھی یہ الفاظ نکلے ہی تھے۔کہ سائم کو ایک زور کا جھٹکا لگا تھا۔مروا سے کی گئی ہر بات دوبارہ یاد ا گئی تھی ۔۔

کیا اپنے دادا کو اپنے دل کا حال نہیں بتاؤ گے۔انہوں نے سائم کی حالت دیکھتے ہوئے ایک بار پھرسےسوال کیا۔سائم نے نظر بھر کر انہیں دیکھا۔

جب اللہ انسان کے اتنا قریب ہوتا ہے۔تو وہ اس کی تڑپ کیسے برداشت کر لیتا ہے وہ جو مانگتا ہے اسے دے کیوں نہیں دیتا۔اگر انسان پوری دنیا میں سے ایک انسان مانگے اور وہ بھی شدت کے ساتھ ۔سائم ابھی بول ہی رہا تھا۔کہ دادا جان نے رخ اس کی طرف کر کے اسے اپنی طرف مخاطب کیا۔

ہم جتنے بھی بڑے ہو جائیں۔اللہ کے نزدیک بچے کی طرح ہی ہوتے ہیں۔اور وہ انسان کو ماں سے بھی بڑھ کر محبت کرتا ہے۔اگر ایک بچہ اپنی ماں کو اگ سے کھیلنے کی اجازت مانگ لے گا۔تو یقینا وہ نہیں دے گی۔کیونکہ وہ بچہ تو اس کی صرف چمک کے پیچھے جا رہا ہے۔جبکہ ماں اس کی گرمائش سے بھی واقف ہے۔وہ جانتی ہے کہ یہ اگ اس کے لیے کتنی خطرناک ہے۔بالکل بیٹا ایسے ہی اللہ اس دنیا کا مصنف ہے۔اس نے دنیا کا کونا کونا بنایا ہے۔اور وہ بہت اچھے سے جانتا ہے کہ کیا چیز کس کے لیے اور کب صحیح ہے۔وقت انے پہ وہ بندے کو سب دیتا ہے۔جو وہ اس سے مانگتا ہے۔لیکن ضروری نہیں کہ وہ سب اسی دنیا میں دے۔ہم بس اس دنیا کو جانتے ہیں۔لیکن اللہ اس کے بعد کی دنیا کو بھی جانتا ہے۔بلکہ سب اسی نے بنایا ہے۔اس لیے کبھی کبھی ہمارا رونا ہمارا تڑپنا وہ اس لیے برداشت کر لیتا ہے۔کیونکہ وہ اگے کی کہانی جانتا ہے۔

سائم ان کی باتوں کو غور سے سن رہا تھا۔اس کی انکھیں نم تھی۔انکھوں میں انسو چمک رہے تھے۔

جب دنیا سمجھ سے باہر ہو جائے۔تو اللہ سے تعلق مضبوط کر لینا چاہیے ۔وہ سارے مسئلے سلجھا دیتا ہے۔انہوں نے ایک ہاتھ سائم کی کمر پر رکھا۔اور اس کی انکھوں میں جھانکنے لگے۔

اور اللہ سے تعلق مضبوط کیسے کرتے ہیں۔سائم نے پھر سے سوال کیا۔

بیٹا انسان بڑا غلط سمجھتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ اللہ کا تعلق صرف ان لوگوں سے ہوتا ہے جو نمازے اور قران پڑھتے ہیں۔بے شک یہ دونوں چیزیں بہت افضل ہیں۔لیکن ان سے بھی افضل ہے انسان اور اللہ نے جب کبھی بھی اپنی محبت کا اظہار کیا۔تو اس نے یہ نہیں لکھا کہ وہ مسلمان سے اتنی محبت کرتا ہے اس نے لفظ محبت کے ساتھ ہمیشہ انسان کا استعمال کیا۔اللہ سے دوستی مضبوط کرنے کے لیے اسے سمجھنا پڑتا ہے۔اور اللہ کو سمجھنے کے لیے ایک انسان کو سمجھنا پڑتا ہے۔اللہ کی محبت ایک انسان کے لیے سمجھنی پڑتی ہے۔اگر ہم کسی کا دل دکھا کر سجدہ کرتے ہیں۔تو وہ اس سجدے کو کبھی قبول نہیں کرتا ۔پر اگر ہم کسی انسان کو فقط سکون یا کوئی خوشی دے دیں تو وہ بنا کیے بھی سجدہ قبول کر لیتا ہے۔یہ اس کی ایک انسان سے محبت ہے۔اور اللہ کی محبت بڑی افضل ہے بیٹا۔جب انسان اس کی محبت کو سمجھ لیتا ہے۔تو وہ دنیا کی حقیقت سے واقف ہو جاتا ہے۔اور دنیا کی حقیقت سوائے دھوکے کے اور کچھ بھی نہیں۔

سائم ان کی باتوں میں کھو گیا تھا۔لیکن اسے اندر ہی اندر مروہ کا دل دکھانے کا احساس شدت پکڑ رہا تھا۔اور اگر انسان کسی کا دل دکھا دے۔اس سے پہلے یہ احساس دلائے کہ وہ اس کے لیے بہت ضروری ہے۔اور پھر اسے اکیلا چھوڑ دے۔تو کیا ایسے انسان کے سجدے وہ قبول کرتا ہے۔سائم نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا۔

بیٹا اللہ کی محبت بڑی انمول ہے۔وہ ہر انسان کو برابر چاہتا ہے۔ہاں وہ نا انصافی تو کبھی نہیں کرے گا۔لیکن اس کی محبت ماں جیسی ہوتی ہے۔اور ماں اپنے قاتل بیٹے کو بھی مظلوم سمجھتی ہے۔تو اللہ تو پھر اللہ ہے پوری دنیا کا خالق ۔

جب بندہ مان جائے تو اللہ معاف کرنے میں دیر نہیں کرتا۔۔۔۔