266K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Rung Episode 8

Shah Rung by Aneeta

اچھا علیزے ارڈر ایا ہے میں بعد میں تمہیں فون کرتی ہوں۔مروہ نے یہ کہتے ہوئے فون بند کر دیا وہ کچھ ٹائم میں پیزا لے کے باہر کی طرف گئی۔وہ چلتے چلتے ٹیبل نمبر دو پر پہنچی ہی تھی۔کہ اس نے دیکھا وہاں سائم اور مہروش بیٹھے ہوئے تھے اور دونوں اپس میں باتیں کرنے میں مصروف تھے ۔۔۔

اور سکول ٹائم میں تم ایسے ہی کرتے تھے۔مہروش نے ہنستے ہوئے اس کی بات کا شاید جواب دیا تھا۔۔

اس سے پہلے کہ سائم اسے کوئی جواب دیتا اس کی نظر بھی مروہ پر پڑ گئی۔مروہ کے ہاتھ سے پیزا ٹرے چھوٹ گئی تھی۔اس کے قدم ایک دم سے رک گئے تھے۔اور یہی حال سائم کا تھا۔مروہ ٹوٹے ہوئے کانچوں کو اٹھانے کے لیے نیچے جھکی تو اس کا ہاتھ زخمی ہو گیا تھا۔اس سے پہلے کہ سائم اگے اتا جو اٹھنے ہی والا تھا۔

مروہ ۔۔۔۔۔۔

علی جو ابھی ابھی ریسٹورنٹ میں داخل ہوا تھا۔تیز تیز قدم اٹھا کے مروہ کے پاس ایا۔اور ایک پل میں اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔تمہیں کیا ضرورت تھی اٹھانے کی۔

مہروش پہلے تو مروہ کو دیکھ کر حیران اور پریشان تھی۔لیکن علی کو ایسے اتا دیکھ اس نے سکون کا سانس لیا تھا۔علی کے ہاتھ میں مروہ کا ہاتھ دیکھ کر سائم نے اپنے ہاتھوں سے غصے کو کنٹرول کرنا چاہا۔اس نے ہاتھ کو بہت زور سے ٹیبل پر مارا تھا۔سارا بھی وہیں پہ موجود تھی۔

چلو اب یہاں اؤ۔۔۔علی اس کا ہاتھ تھامے اس کو ایک طرف لے گیا تھا۔

کتنا گہرا زخم ہے۔۔

مروہ اس ٹائم سکتے میں تھی۔اور یہی حال سائم کا تھا۔سائم کا بس نہیں چل رہا کہ وہ علی کو جان سے مار دے۔

ایسی لڑکیوں کا یہی حال ہوتا ہے۔کل تمہارے ساتھ تو اج اس کے ساتھ پیسے کے لیے یہ کچھ بھی کر لیتی ہے۔سائم کا غصہ دیکھتے ہوئے مہروش بولی۔

جسٹ شٹ اپ۔۔۔۔۔

یہ کہتے ہی سائم ریسٹورنٹ سے باہر نکل گیا تھا۔

نہیں اب ٹھیک ہے اپ چھوڑ دیں۔مروہ اٹھ کر دوسرے سائیڈ پہ جاتے ہوئے بولی سارہ بھی اس کے پیچھے پیچھے تھی۔

دیکھا میں تمہیں کہتی تھی۔

ایسے لڑکوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔تمہارے جیسی معصوم بولی بالوں کو وہ صرف استعمال کرتے ہیں۔سارہ کو بھی شاید مروہ جتنا ہی غصہ تھا دونوں پہ۔

کیا یہ وہی سائم نہیں ہے جو تمہارے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھاتا تھا۔اور اب دیکھو۔

سارا مجھے کسی بات کا کوئی دکھ نہیں ہے۔

اور تم تو ایسے باتیں کر رہی ہو جیسے اس کی حقیقت تمہیں ابھی پتہ لگی ہو ۔میرے لیے کچھ بھی نیا نہیں ہے۔بس اتنے عرصے بعد دیکھ کر میں تھوڑا کنفیوز ہو گئی تھی۔جو کہ مجھے نہیں ہونا چاہیے تھا۔مرومسلسل اپنے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی۔اسے ہلکا ہلکا درد تھا۔

تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہو ۔۔۔۔

سائم نے بہت زور سے بازو کو گاڑی پہ مارا تھا۔اسے ابھی بھی لگتا تھا کہ اس کا مروہ پر پورا حق ہے۔اور اس کی شدت اج بھی ویسی ہی تھی۔

کیا وہ مروہ تھی تم نے غور سے دیکھا تھا۔ارم بیگم نے غصے سے پوچھا۔

میں مروہ کو پہچاننے میں غلطی کیسے کر سکتی ہوں۔

وہ مروہ ہی تھی۔

اس نے ساری کہانی ارم کو سنا دی تھی۔

اپ کے بیٹے کی دیوانگی اج بھی ویسی ہی ہے۔اسے کسی کے ساتھ دیکھا نہیں کہ پارہ ہائی ہو گیا۔مہروش مسلسل بولے ہی جا رہی تھی۔وہ اب ہوٹل ا چکی تھی۔

اج بارش اپنے زور و شور پر تھی۔رات کی خاموشی میں بارش کی چل مل کی اواز اپنا رقص جمائے بیٹھی تھی۔مروہ کالے رنگ کی پوفر جیکٹ پہلے کھڑکی کے پاس کھڑی تھی۔اس نے دونوں ہاتھوں کو اس میں جکڑا ہوا تھا۔۔

دل کا کوئی بھی زخم ٹھیک نہیں ہوتا۔بس پرانے زخموں پہ نئے زہم حاوی ہو جاتے ہیں۔لیکن جب کبھی انسان دل کے تہانے میں اترتا ہے تو سبھی زخم دوبارہ ہرے ہو جاتے ہیں یہ کہنا یہاں پہ غلط نہیں ہوگا۔کہ انسان دل سے کچھ بھی نہیں نکال سکتا۔وہ دل کے ہاتھوں بے بس ہوتا ہے ۔مروہ کی نظریں باہر چمکتی بارش پر تھی۔اور دھیان سائم کی طرف تھا۔

تم نے کبھی بھی مجھ سے محبت نہیں کی مروا سائم بھی بالکنی میں کھڑا بارش کا رقص دیکھ رہا تھا۔اس نے سوٹ پہنا تھا جس کی حالت بری طل تھی اب ٹائی ایک طرف سے لٹکی ہوئی تھی۔استینوں کے بٹن بھی کھلے ہوئے تھے۔اس کے ذہن نے تو جیسے کام کرنا ہی چھوڑ دیا ہو۔

ایسا کوئی لمحہ نہیں جب میں نے تمہیں یاد نہیں کیا۔تم وہ پہلی لڑکی تھی جس نے میرے دل پہ دستک دی تھی۔اور مجھے لگتا تھا میری محبت کی شدت تمہیں قائل کر لے گی۔پر ایسا نہیں ہے مروہ اس نے رک کر ایک لمبی سانس لی تھی۔

میں نے کھانا ارڈر کیا ہے کیا ہم ساتھ میں کھائیں۔مہروش نے کمرے میں اتے ہی سائم سے سوال کیا۔

میں نے تمہیں کہا ہے مجھے میرے حال پہ چھوڑ دو سا ئم کی اواز اتنی اونچی اور کرجدار تھی کہ مہروش کوئی اور سوال کیے بغیر وہاں سے چلی گئی۔

اس سے تو بات کرنا ہی فضول ہے۔اخر ایسا کیا ہے مروہ میں جو مجھ میں نہیں ہے سائم کے کمرے کا دروازہ بند کرتے ہی اس نے اپنا غصہ نکالنا شروع کیا۔

میں نے کھانا لگایا ہے اب ا جاؤ مروا۔سائرہ نے پیچھے سے اس کو اواز دی اس نے زمین پر ہی دو پلیٹیں لگائی ہوئی تھی۔

اب ا بھی جاؤ۔یہ کہتے ہوئے وہ اس کے پاس ائی کیا ہوا کہاں گم ہو۔

نہیں کچھ نہیں بس بھوک نہیں ہے۔مروہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اپنی نظریں کھڑکی پہ جما لی۔۔۔

کیوں بھوک نہیں ہے۔سائم کے قصے کو یہی ختم کر دو۔

میں نے اس کا نام نہیں لیا۔مجھے بس بھوک نہیں ہے تو نہیں ہے۔مروہ نے اس کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی اسے جواب دینا مناسب سمجھا۔اور اس کا نام دوبارہ مت لینا۔ان جیسوں کو تو شرم بھی نہیں اتی۔

اس نے اپنا رخ اب اندر کی طرف کر لیا تھا۔تم نے دیکھا نہیں تھا وہ کیسے بیٹھا ہوا تھا اس کے ساتھ۔جیسے اس کی زندگی بالکل نارمل ہے اس کی زندگی میں ایسا کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔ہاں ٹھیک ہے میں نے اس سے سچ نہیں بتایا تھا۔لیکن کم از کم دھوکا تو نہیں دیا تھا نا۔اور اس نے وہ کہتے کہتے خاموش ہو گئی تھی۔

ابھی تم نے مجھے کہا اس کا نام نہ لو۔اور خود سائم مردان کی پوری تشریح کر دی۔سائرہ نے دونوں ہاتھوں کے اشارے سے اسے دات دینا چاہی اس قصے کو ختم کرو اور ا کے کھانا کھاؤ۔اور رہی بات سائم مردان کی تو وہ مہر وش ڈالرنگ کے ساتھ کسی اچھی سی جگہ پہ کینڈلائڈ ڈنر کر رہا ہوگا۔۔

اسے تمہاری پرواہ بھی نہیں ہوگی۔

اچھا تو میں نے کب کہا کہ وہ میری پرواہ کرے۔ایسے دھوکے باز انسان کے شر سے بھی دور رکھے اللہ۔۔۔۔

امین۔۔۔

سائرہ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر امین کہا۔اب اؤ کھانا ٹھنڈا ہو گیا ہے۔اور اسے کھینچتے ہوئے کھانے کی طرف لے گئی۔

یہ طویل رات بھی ڈل چکی تھی۔سورج نے دھیرے دھیرے قدم رکھنا شروع کیا تھا۔

مروہ تمہیں ریسٹ کرنا چاہیے تھا۔کیوں ائی ہو تم میں تمہاری وجہ سے صبح صبح ایا ہوں ۔علی نے مروہ کے ہاتھ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو بالکل اس کے سامنے کھڑی تھی۔علی نے افس سوٹ پہنا ہوا تھا۔

نہیں یہ زخم اتنا بڑا نہیں ہے۔اپ ایسے ہی پریشان ہو رہےہو۔

کیسے بڑا نہیں چلو اؤ پٹی چینج کرتا ہوں۔اس نے یہ کہتے اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا جسے مروہ اگلے ہی لمحے دور کر چکی تھی۔

نہیں ٹھیک ہے میرا ہاتھ ضرورت نہیں ہے اس کی یہ کہتے ہی وہ دوسری طرف چلی گئی تھی۔جب کہ سائرہ کچھ دور کھڑی یہ سب دیکھ رہے تھی۔

مجھے اس سے بات کر کے سب کلیئر کرنا چاہیے اور یہ اخری دفعہ ہوگا سائم شاید اپنے اپ کو ہی سمجھا رہا تھا۔وہ شیشے کے سامنے کھڑا تھا۔اور بٹن باندھ رہا تھا۔اس نے ویسٹ پہنا تھا وہ جو اکثر پہنتا ہے۔۔

سارا مجھے علیزے کو کچھ چیزیں بھیجنی ہیں۔میں کارگو کروا کر اتی ہوں۔

تو میں بھی تمہارے ساتھ چلتی ہوں نا مروہ کی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ سائرہ بولی۔

نہیں بس تھوڑا سا کام ہے میں کر کے ا جاؤں گی۔

اچھا ٹھیک ہے پھر دھیان سے جانا۔

مروہ نے پاس رکھا کوٹ پہنا۔اور سکارف کو گردن کے اگے پیچھے لپیٹ لیا۔اور باہر نکل ائی۔

اپ کا بیٹا مہروش کو بالکل بھی ٹائم نہیں دے رہا۔اس کا فون ایا تھا وہ کافی اپسیٹ تھی۔اپ سائم سے بات کیوں نہیں کرتے۔ارم نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

دیکھو نہ مجھے تمہاری سمجھ اتی ہے اور نہ مجھے سائم کی سمجھ اتی ہے۔اور اس کو اپنے حال پر چھوڑ دو تمہارے لیے یہی بہتر ہوگا۔ہارون جو بیٹھا نیوز پیپر پڑھ رہا تھا۔نئے غصے سے جواب دیا۔

مروہ ابھی کار گو کمپنی سے نکلی ہی تھی کہ اسے سائم گاڑی سے اترتا نظر ایا۔اسے دیکھتے ہی اس نے اپنا راستہ بدلنا چاہا۔لیکن سائم اس کے راستے میں کھڑا ہو گیا تھا۔

دو منٹ میری بات سنو اس کے بعد جہاں جانا ہو چلی جا نا ۔

مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی سائم تمہارا مسئلہ کیا ہے۔لیکن یاد رکھنا میں پہلے جیسی پاگل نہیں رہی۔

میں بھی نہیں رہا ۔سائم نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔اور پھر کچھ دیر دیکھتا ہی رہا۔

ہٹو اب یہاں سے مروا نے اسے ہاتھ سے پیچھے کرنا چاہا۔لیکن وہ دو قدم اور اگے اگیا تھا۔

مجھے شوق نہیں ہے تمہاری منتیں کرنے کا مجھے سب کلیئر کرنا ہے پھر چلا جاؤں گا۔

بالکل ایسے جیسے پہلے کلیئر کیا تھا۔مروہ دو قدم پیچھے ہوئی۔اور اس نے پیچھے کا راستہ لینا چاہا۔لیکن سائم نے اسے بازو سے پکڑ لیا تھا۔

میں نے کہا نہ بس دو منٹ بات کرنی ہے۔

مجھے کوئی بات نہیں کرنی چھوڑو۔مروا نے بازو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔جسے سائم نے زور سے پکڑا ہوا تھا۔۔۔۔

تم ایسے نہیں مانو گی۔یہ کہتے ہی سائم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور گاڑی کی طرف جانے لگا۔وہ گاڑی کا دروازہ کھولنے والا تھا۔

اچھا ٹھیک ہے یہی بات کرو۔مروہ کو شاید پتہ تھا کہ سائم ایسے نہیں مانے گا۔

سائم نے ایک نظر اس کے ہاتھ کو دیکھا اور اگلے لمحے اسے چھوڑ دیا۔

کیوں کیا تم نے ایسا۔تم وہاں سے بھاگ ائی۔

میں نے کیا یا سائم تم نے کیا

ہاں ٹھیک ہے میں نے تمہیں سچ نہیں بتایا تھا۔لیکن میں نے تم سے جھوٹی محبت نہیں کی تھی۔تم نے بس محبت کے ڈرامے کیے تھے۔

اگر تمہاری محبت جھوٹی نہیں تھی تو وہاں سے ایسے کیوں ائی اور یہاں ا کے یہ سب وہ بولتے بولتے چپ ہو گیا تھا۔اس نے اپنے ہاتھ کو زور سے گاڑی پہ مارا۔