Sheh Rug by Aneeta NovelR50466 Shah Rung Episode 27
Rate this Novel
Shah Rung Episode 27
Shah Rung by Aneeta
مروا لیکن مجھے کسی بات کا پچھتاوا نہیں ہے۔کیونکہ یہ کھیل تم نے شروع کیا تھا۔لیکن اسے ختم میں کروں گا۔
پلیز مجھے جانے دو۔اس نے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کے ساتھ ایک جملہ مکمل کیا تھا۔اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔اس کے دماغ نے تو جیسے کام کرنا چھوڑ دیا۔سائم اسے بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔اور اس کی نظر مروہ کو مزید الجھا رہی تھی۔۔
دیکھو ہم بات کریں گے بعد میں۔پلیز۔۔۔۔۔۔
چلی جانا اتنی جلدی کس بات کی ہے۔اس نے مروا کو تھوڑا قریب کیا۔
پلیز سائم۔۔
وہ بری طرح سے اس کی باہوں کی گرفت میں جکڑی ہوئی تھی۔اس کے ہاتھ پاؤں نے اب کام کرنا۔جیسے چھوڑ دیا ہو۔
کیوں کیا تم نے یہ سب سائم کی نظریں ابھی بھی اس پر جمی ہوئی تھی۔جو مروہ پر مسلسل حوف تاڑی کر رہی تھی۔
دیکھو۔۔۔
میں بتا چکی ہوں ۔میں بہت ڈر گئی تھی۔اور ویسے بھی یہ تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ۔میری اپنی زندگی میں نفرت کرتی ہو تم سے وہ سائم کو مسلسل پیچھے کر رہی تھی۔
اس کی اس بات سے سائم کو اور غصہ ایا تھا۔اس نے ایک جھٹکے میں اسے اور قریب کیا۔اج سے تم ازاد ہو جاؤ گی پھر جہاں مرضی جانا۔اور جس مرضی کے پاس۔سائم نے ایک ہاتھ سے اس کے بالوں کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔وہ اس کی گردن پے جو کنے ہی لگا تھا کے اس کے ارادوں کو باپتے ہوئے۔مروا نے اسے زور سے پیچھے کیا۔۔
سائم بھی اس جھٹکے سے بےہودی کی دنیا سے باہر ایا تھا۔خود کو سنبھالتے ہوئے اس نے مروہ کو دیکھا۔جو ڈری سہمی کمرے میں ایک طرف کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔
تم ٹھیک ہو۔مروہ کے اس جھٹکے سے سائم بےہودی کی دنیا سے باہر ایا تھا۔جیسا سوچ رہی ہو ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔وہ قدم اٹھاتا اس کے پاس ایا تھا۔جب کہ مروا نے اپنا رخ دوسری طرف کر لیا تھا۔وہ بوری طرح کانپ رہی تھی۔
مروہ۔۔۔۔۔
اس نے سوالیہ نظروں سے مروہ کو مخاطب کیا۔ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔مجھے غصہ ہے تم پر بس سمجھ نہیں ارہی کیا کروں۔اور ایسا کرنے کا میں سوچ بھی نہیں سکتا۔اس نے مروہ کا رخ اپنی طرف کیا۔اور اس کے انسوؤں کو صاف کیا۔اس کے چہرے پہ ہاتھ رکھتے ہی تھپڑ والا منظر سائم کے انکھوں کے گرد گھومنے لگا ۔۔
تم اتنے گھٹیا ہو گے میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔یہ تھی تمہاری محبت۔
ایسا کچھ نہیں مروا۔وہ ایک بچے کی طرح صفائیاں دے رہا تھا۔میں ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔مجھے کچھ سمجھ نہیں ائی۔
ایم سو سوری۔۔۔۔سائم کی انکھوں میں اب نمی تھی۔تم میرے لیے کیا ہو تم اچھے سے جانتی ہو۔
سوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائم مروہ سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا۔وہ اپنے کیے پہ سچ میں شرمندہ تھا۔مروانے اپنے انسو صاف کیے۔دروازے کی طرف بڑی۔
رکو میں چھوڑ کے اتا ہوں۔سائم نے رخ اس کی طرف کیا۔
میں نے کہا نا مجھے میرے حال پہ چھوڑ دو۔تمہارے وجود سے بھی گن اتی ہیں مجھے۔نفرت کرتی ہوں میں تم سے مروا نے بات نہیں کی تھی بلکہ لفظوں کے وار کیے تھے سائم پہلے ہی اس کے دماغ میں سوالیہ نشان بنا ہوا تھا۔لیکن شاید اس حرکت کے بعد اس کے سارے سوالوں کے جواب مل گئے تھے۔
دیکھو میں غصے میں تھا۔مجھے کچھ سمجھ نہیں ارہی تھی ۔میں سوچ بھی نہیں سکتا ایسا سائم کو لفظ نہیں مل رہے تھے۔کہ وہ کیسے مروہ کو یقین دلائے۔وہ بہت بے بس محسوس کر رہا تھا۔
مروہ اس کی بات سنیں بغیر باہر چلی گئی۔جبکہ سائم وہیں بیٹھ گیا تھا۔اس نے اپنے ہاتھ کو زور سے شیشے کے کے ٹیبل پہ مارا تھا۔اس کا ہاتھ بری طرح زخمی ہوا تھا۔لیکن پھر بھی اسے خود پر کوئی ترس نہیں ایا تھا۔۔اسے خود پے غصہ تھا اور بے انتہا غصہ۔۔۔۔
بیٹا مروہ ابھی تک نہیں ائی۔دادہ جان ابھی پوچھ ہی رہے تھے۔کہ مروہ داخل ہوئی کمرے میں۔لو ا گئی اپ کی لاڈلی علیزے کو ریلیکس دیکھ کر مروہ نے شکر ادا کیا تھا۔کہ اس لڑکے نے کوئی خبر نہیں دی ۔
جی دادا جان۔۔۔
مروہ نے اتے ہی انہیں حگ کیا۔اس نے بہت اچھی ایکٹنگ کی تھی ریلیکس نظر انے کی۔
بیٹا صبح سے غائب ہو اس لیے فکر ہو رہی تھی۔
دادا جان میں نے بتایا تھا نا۔وہ اپنی کسی دوست سے ملنے گئی ہے اور لیزے نے دادا جان کو کچھ نہیں بتایا تھا۔۔
بتاؤ کیسی رہی پہلی میٹنگ دادا جان کے جاتے ہی علیزے مروہ کے پاس ا کے بیٹھ گئی۔وہ بہت بے چینی سے اس سے سوال پوچھ رہی تھی۔
دیکھو میں نے پہلے کہا تھا مجھے ابھی شادی نہیں کرنی۔
اور وہ لڑکا بھی مجھے پسند نہیں ایا۔
مروہ نے سرسری سا جواب دیا اور اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔اس نے کمرہ لاک کرتے ساتھ ہی بیگ کو بیڈ پہ گرایا اور خود پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی۔محبت کا تو اسے پتہ نہیں تھا لیکن سائم پر اسے پورا اعتماد تھا۔جو سائم نے چکنا چور کر دیا تھا۔اسے اب اس کی نظروں سے خوف محسوس ہوتا تھا۔
رات اپنے اخری حصے میں تھی۔سائم ابھی تک اپنے ہاتھ کو کوس رہا تھا۔وہ سب منظر اس کی انکھوں کے سامنے گھوم رہے تھے۔اور مروہ کا روتا چہرہ اسے سونے نہیں دے رہا تھا۔
پتہ نہیں وہ میرے بارے میں کیا سوچ رہی ہوگی۔
مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔وہ انہی سوالوں میں الجھا ہوا تھا۔کہ اس کے موبائل کی رنگ ٹیون بجنے لگی۔پہلی دو تین کالوں کو اگنور کرنے کے بعد جب پھر سے کال انے لگی۔تو اس نے فون اٹھا کر کان کے ساتھ لگایا۔
میرا موبائل کہاں ہے۔فون کان کے ساتھ لگاتے ہی دوسری طرف سے زوردار اواز ائی تھی۔یہ اواز سائرہ کی تھی جو عثمان کے نمبر سے اسے کال کر رہی تھی۔
سائم بھی اواز پہچان چکا تھا۔اسے بھی مروہ کے بارے میں پوچھنے کے لیے شاید ایک امید کی کرن ملی تھی۔
موبائل دماغ میں نہیں کہاں پھینکا تھا۔سائم ابھی ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بولا ہی تھا۔کہ یہ سنتے ہی دوسری طرف تو جیسے ہنگامہ مچ گیا ہو۔
پھینک دیا۔۔
سچ میں تم نے میرا موبائل پھینک دیا۔مجھے موبائل چاہیے ابھی اور اسی وقت۔میرا کتنا ڈیٹا تھا۔اور موبائل کی کتنی ضرورت ہے تمہیں پتہ ہے۔اگے سے جواب نہ ملنے کی وجہ سے مسلسل بولے جا رہی تھی۔
صبح مل جائے گا تمہیں موبائل۔
مل جانا چاہیے مجھے۔ورنہ بہت برا ہوگا۔اور تم مروہ سے مل چکے ہو۔
ہاں تمہیں مروہ نے نہیں بتایا۔شاید وہ جاننا چاہتا تھا کہ اس کی مروہ سے بات ہوئی کہ نہیں۔
نہیں ۔۔
میں کیسے کروں اس سے بات سائرہ کو ایک دفعہ پھر اپنا موبائل یاد ایا۔
میں نے کہا نا صبح مل جائے گا۔سا ئم نے لائن کاٹتے ہوئے فون کو سائیڈ پہ رکھ دیا۔پھر سے اس کے ذہن پہ سوچوں کا حملہ ہوا تھا۔اور وہ بس کسی طرح مروہ کے پاس جانا چاہتا۔اور کہیں اسے مروہ کو کھونے کا ڈر بھی تھا۔
دیکھو تو کیا حالت ہو گئی ہے علیز ےمروہ کے سرہانے بیٹھی اس کے ماتھے پہ پٹیاں کر رہی تھی۔وہ بحار میں بری طرح سے تپ رہی تھی۔ابھی ابھی ڈاکٹر اسے چیک کر کے گیا تھا۔
یہ کچھ نہ کھانے پینے کی وجہ سے ہوا ہے۔صبح کے 12 بج چکے تھے۔اور علیزے صبح سے اس کے سرہانے بیٹھی تھی۔
تم نے بالکل بھی اپنا خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے۔
وہ پٹیوں کو چینج کرتے کرتے ساتھ ساتھ اس سے باتیں کر رہی تھی۔کہ مروہ کا موبائل بجنے لگا۔مروہ تو بالکل ہوش میں نہیں تھی۔تو علیزے نے موبائل کان کے ساتھ لگایا۔
دوسری طرف خاموشی کافی دیر قائم رہی تو لیزے نے بات کا اغاز کیا۔نمبر سیو نہیں تھا تو اس نے پوچھا کون ہے۔
سائم مروہ کی اواز کو کروڑوں میں بھی پہچان لے۔تو وہ جان چکا تھا کہ یہ کوئی اور ہے۔اور اسے یہ بھی پتہ تھا کہ یہ لیزے ہو سکتی ہے۔
میں مروہ کا دوست ہو۔سائم نے اپنا یہی تعارف کروانا بہتر سمجھا۔
مروہ کی تو طبیعت بہت خراب۔ابھی ڈاکٹر چیک کر کے گیا ہے۔ابھی تو بالکل بات کرنے کی موڈ میں نہیں ہے۔علیزے بولی جا رہے تھی جبکہ دوسری طرف سے گہری خاموشی چھا گئی۔
کے۔۔کیا ہوا ہے اسے۔ٹوٹے پھوٹے لفظوں کے ساتھ سائم نے بات کو مکمل کیا۔
پتہ نہیں اچانک سے بہت تیز بخار ہو گیا ہے۔سنتے ہی سائم نے لائن کو کاٹ دیا تھا ۔
علیزے نے بھی موبائل کو سائیڈ پہ رکھا اور پھر سے مروہ کے پاس بیٹھ گیی۔۔۔
سائن نے موبائل کو زور سے دیوار پہ مارا۔۔
یہ تمہاری وجہ سے ہوا ہے سائم مردان تم مروہ کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو۔۔اس کی اواز کمرے میں گونج رہی تھی۔۔۔
اس نے ہاتھ کو زور سے دیوار پر مارا۔تم اس کے قابل ہی نہیں ہو۔
