Sheh Rug by Aneeta NovelR50466 Shah Rung Episode 39 (Last Episode)
Rate this Novel
Shah Rung Episode 39 (Last Episode)
Shah Rung by Aneeta
دن کے 12 بج چکے تھے۔سائم فریش ہونے کے بعد اپنے کمرے سے نکلا۔(رات کافی دیر تک وہ سمیر اور کچھ جانے مانے کزنوں کے ساتھ تھا۔سبھی اس کے نکاح کے بارے میں جان چکے تھے۔تو ان کے فورس کرنے پر وہ پارٹی میں چلا گیا۔مروہ کو گھر چھوڑنے کے بعد)
لیکن وہ جیسے ہی ڈرائنگ روم میں ایا تو ارم ہارون وہاں پہلے سے موجود تھے۔جو رات کی فلائٹ سے ائے تھے۔۔ارم کو دیکھتے ہی سائم کا پاڑا ہائی ہو چکا تھا۔اس سے پہلے کہ وہ واپس اپنے کمرے میں جاتا۔ہارون نے اسے روک لیا۔
اپنے ڈیڈ سے نہیں ملو گے۔۔سائم نے الجھی ہوئی نگاہ ان پر ڈالی۔اور کچھ کہے بغیر انہیں گلے سے لگایا۔اس نے ارم کو نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا۔۔
اپنی موم سے ملو۔ہارون ارم کے کارناموں سے لاعلم تھا۔یقینا اگر وہ جانتا تو وہ بھی ارم کو منہ نہ لگاتا۔۔
مجھے اپ سے ملنا تھا میں نے مل لیا۔میں ان کو برداشت کر رہا ہوں یہی بڑی بات ہے۔سائم کچن کی طرف چلا گیا تھا۔
۔لیکن کچن میں جاتے ہی اس نے زور سے پانی کے جگ کو زمین پر پھینکا۔جس کی اواز ڈرائنگ روم تک ائی تھی۔کچن میں کھڑی ہیلپر بھی کانپ اٹھی تھی۔اور سائم سے نظر چھپاتی باہر اگئی۔۔۔۔
وہ مروہ کے معاملے میں پاگل ہو چکا تھا۔وہ کچھ بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔
اس نے شرٹ کے بازو فولڈ کرتے ہوئے۔پھر سے افق نگاہ باہر کی طرف ڈالی۔۔
یہ سب تو بہت اچھا ہے ۔مروا علیزے کو چیزیں دکھا رہی تھی۔کیونکہ جب تک وہ رات کو واپس ائی تھی۔علیزے اور ہارون بھی شاپنگ کے لیے بازار گئے تھے۔اور جب تک وہ واپس ائے تھے مروہ سو چکی تھی۔۔۔
سائم نے اسے بے انتہا شاپنگ کروائی تھی۔اور ہر چیز سائم کی پسند کی تھی۔۔۔
مرو یہ تو بہت ایکسپنسو ہے۔علیزے نے کپڑوں پہ لگے ٹیگ کو دیکھا۔سائم نے اسے برائڈل ڈریس کے ساتھ بھی بہت سے سوٹس لے کے دیے تھے۔۔
علیزے ہر چیز کو بہت بڑکی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
مروہ۔۔۔۔علیزے نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔مروا جو ڈریسنگ ٹیبل کے اگے کھڑی بال بنا رہی تھی۔اس نے پنک کلر کے شارٹ فراک پہنی تھی۔دوپٹہ گردن میں تھا۔بال دونوں طرف سے اگے کیے ہوے تھے۔
دیکھو ہماری اور سائم کی کلاس میں بہت فرق ہے۔پتہ نہیں اس کےپیرنٹس تمہیں پسند کریں گے یا نہیں۔وہ تھوڑی افسردہ ہوئی تھی۔
علیزے اس کے پیرنٹس بھی سائم کی طرح بہت اچھے ہیں۔میں کینیڈا میں ان کے ساتھ بھی رہی ہوں۔۔
کیا کیا۔۔۔۔علیزے نے ہاتھ میں پکڑی چیزوں کو بیڈ پر رکھا اور ایک دم سے کھڑی ہو گئی۔تم کینیڈا میں ان کے ساتھ بھی رہی ہو۔یہ سب چل کیا رہا ہے۔۔۔
مروہ نے زبان دانتوں تلے دبئی اور سر پہ ہلکا سا تھپڑ مارا۔یہ کیا بول دیا میں نے۔وہ من ہی من میں خود کو کوس رہی تھی۔۔۔۔
تم جیسا سوچ رہی ہو ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔بس کچھ دن کے لیے اب میں فریش ہونے جا رہی ہوں۔یہ چیزیں تم سمیٹ دو۔مروا نے اس سے جان چھڑائی تھی۔کیونکہ اس کے منہ سے تو نکل گیا تھا لیکن اب اسے سمجھ نہیں ا رہی تھی کہ وہ سنبھالے گی کسے ۔۔۔
تم باہر اؤ تو میں تمہیں بتاتی ہوں۔علیزے نے غصے سے چیزوں کو اٹھانا شروع کر دیا۔۔
سائم۔۔۔۔۔مروہ نے ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہی سائم کو اواز دی۔وہ نہیں جانتی تھی کہ ارم یا ہارون ائے ہوئے ہیں۔کے اچانک سے ارم ٹپکی۔۔
مروہ۔۔۔۔۔۔
انہوں نے مروا کو پیچھے سے اواز دی تھی وہ اپنے کمرے سے نکل رہی تھی۔جینز ٹاپ پہنے نیچے پمپی تھی۔ایک ہاتھ میں موبائل اٹھایا ہوا تھا۔
مروہ ان کی اواز کو اچھے سے پہچان گئی تھی۔لیکن وہ اتنی حیران نہیں ہوئی تھی۔کیونکہ اس نے ہی سائم سے ریکویسٹ کی تھی۔۔
کیا مجھے نہیں ملو گی۔وہ دنیا جہاں کی معصومیت چہرے پہ سجائے اس کے پاس ائی۔جیسے اس سے زیادہ معصوم کوئی دنیا میں ہے ہی نہیں۔اور زبردستی مروا کو گلے لگایا۔۔۔
میں نے جو کیا میں جانتی ہوں وہ بہت برا ہے۔لیکن یہ سب مہروش کی وجہ سے ہوا۔میں جانتی ہوں تم مجھے کبھی معاف نہیں کرو گی۔لیکن اب تم سائم کی زندگی میں داخل ہونے والی ہو۔تم میری بھی بیٹی ہو۔مجھے سائم جتنی ہی عزیز ہو۔۔
اس سے پہلے کہ وہ مزید ایکٹنگ کرتی۔سائم نے پیچھے سے مروہ کا بازو پکڑا اور اسے اپنے ساتھ لے گیا۔کیونکہ وہ ارم کی رگ رگ سے واقف تھا۔۔۔۔
سائم۔۔۔وہ بات کر رہی تھی۔مروہ نے ایک نظر اپنے بازو اور پھر سائم کو دیکھا۔۔
صرف تمہاری وجہ سے انہیں برداشت کر رہا ہوں یہ کافی نہیں ہے۔اس سے زیادہ کچھ بھی ایکسپیکٹ مت کرنا۔سائم نے اپنا دروازہ زور سے بند کیا جس کی اواز ارم تک گئی۔۔
اس نے تو اج ہی میرے بیٹے کو قابو کر لیا ہے۔
یہ چھوٹےگھروں کی لڑکیاں ایسے ہی ہوتی ہیں۔وہ پھر سے اپنے ایٹیٹیوڈ میں ائی اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔
تم نے مجھے کیوں بلایا یہاں۔مروہ نے اسے اپنی طرف دیکھتے سوال کیا ۔۔۔
کیوں میں اپنی ہونے والی بیوی کو بلا نہیں سکتا۔۔۔
سائم۔۔۔۔اس نے اخری لفظ کو کھینچتے ہوئے اسے پکارا۔
بس کل کی تو بات۔۔۔سائم نے سفید کلر کی ٹی شرٹ پہنی تھی۔نیچے بلو جینز تھی۔شرٹ کو ایک طرف سے پینٹ میں دیا ہوا تھا۔
میری جان میں تمہیں دل کی حالت کیسے بتاؤں۔۔
سائم یہ کہتے ہوئے اپنی الماری کی طرف گیا۔اور ایک پیارا سا باکس نکال کر لایا۔۔
یہ کیا ہے چمکتے ہوئے باکس کو دیکھ کر مروہ نےپوچھا۔
یہ میری جان کا گفٹ ڈبہ ابھی بھی اس کے ہاتھ میں تھا۔
تو دو مروانے ہاتھ اگے کیا۔وہ بیڈ پر بیٹھ چکی تھی۔
ایسے کیسے دوں۔سائم نے ڈبے کو پیچھے کرتے ہوئے کہا۔
مطلب۔۔۔۔۔مروہ نے حیرانگی سے دیکھا۔۔۔۔
گفٹ کے بدلے گفٹ تو ملنا چاہیے نہ۔۔
لیکن میں تو کوئی گفٹ نہیں لائی۔وہ معصومیت سے بولی۔۔اور اپنے ہاتھ سائم کو دکھائے۔۔۔
کوئی بات نہیں میں اپنا گفٹ خود لے لوں گا۔۔۔
مروہ اس کی بات سن کر حیران ہوئی وہ بالکل بھی نہیں سمجھ پا رہی تھی۔وہ حیرانگی اسے دیکھ ہی رہی تھی۔کے سائم نے ڈبے کو پیچھے رکھا۔۔
اور ہاتھ مروا کے کمرے میں ڈال کر اسے قریب کیا۔
سائم یہ کیا کر رہے ہو۔۔
اپنا گفٹ لے رہا ہوں۔یہ کہتے ہی۔سائم اس کے لبوں پہ جھکا۔وہ اس کے لبو کو اپنے لبوں میں قید کر چکا تھا۔وہ اسے بولنے کا موقع ہی نہیں دے رہا تھا۔اس کا کا دورانیہ بڑھتا جا رہا تھا وہ اس کے لبوں کو بخشنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔
مروہ اسے مسلسل پیچھے کر رہی تھی۔جس کا سائم پہ کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔مروہ کو اپنی شرٹ کاندھے سے سرکاتی محسوس ہوئی تو اس نے ایک جھٹکے میں سائم کو پیچھے کیا۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے۔وہ غصے سے بولتے ہوئے کھڑی ہو گئی۔سائم کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہو چکا تھا۔وہ اس کے لمس کی خوشبو میں خود کو کنٹرول نہیں کر پایا تھا۔وہ بری طرح سے پزل ہو چکا تھا۔۔
ایم سوری۔۔۔اس نے پیار بھری نظروں سے مروہ کو دیکھا اور اسے ہاتھ سے پکڑ کر بیڈ پر بٹھایا۔ایم سوری۔۔اس نے اپنا ہاتھ اس کے چہرے پہ رکھتے ہوئے۔ایک دفعہ پھر اسے سوری بولا۔ٹ اسے احساس ہو چکا تھا کہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ابھی اس کا اس پہ کوئی حق نہیں تھا۔۔
مروہ کانپتے ہوئے وجود کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔
اپنا گفٹ نہیں کھولو گی۔سائم شاید اس کا دھیان بٹانا چاہتا تھا۔تو اس نے پیچھے سے ڈبہ اٹھا کر مروہ کے سامنے کیا۔۔۔
مروہ ہر دوسرے سیکنڈ دروازے کی طرف دیکھتی تھی۔وہ سمجھ چکا تھا کہ وہ ان کمفرٹیبل محسوس کر رہی ہے اس کے ساتھ۔سائم اگلے ہی لمحے اٹھا اور اس نے دروازہ کھول دیا۔۔۔۔
اور واپس ا کر اس کے پاس بیٹھا اور گفٹ کا دبہ کھولنے لگا۔وہ لکڑی کا بنا ہوا ایک نایاب ڈبہ تھا۔اس میں سے اس نے ایک خوبصورت لاکٹ نکالا۔جو چاندی کا بنا تھا اور بہت چمک رہا تھا۔سائم نے یہ سپیشل ایران سے مروہ کے لیے ارڈر کیا تھا۔جس پہ سلور کلر سے مروا لکھا تھا۔اور بہت ہی خوبصورت ڈیزائن تھا۔مروہ نے اسے دیکھتے ہی ہاتھ میں لیا۔تو سائم بھی تھوڑا ریلیکس ہو۔۔۔
یہ بہت خوبصورت ہے۔مروہ ابھی بھی تھوڑا پریشان تھی۔لیکن وہ سائم کا دل نہیں دکھانا چاہتی تھی۔۔۔
یہ تم پر بہت اچھا لگے گا۔سائم نے ایک نظر لاکٹ اور پھر مروہ کو دیکھا۔۔۔
تو یہ تم مجھے کل دے دیتے۔مروا نے سالیہ نظروں سے دیکھا۔۔
یہ گفٹ بہت سپیشل اس لیے میں چاہتا تھا تمہیں میں نکاح سے پہلے دو۔۔
مروہ نے کوئی جواب نہیں دیا تھا اور لاکٹ دیکھنے لگی تھی۔۔۔۔
ناراض ہو۔۔۔
اسے خاموش دیکھ کر سائم نے اس کا منہ اپنی طرف کیا۔
تو کیا ناراض نہیں ہونا چاہیے۔۔
میں کنٹرول نہیں کر پایا۔خود پر۔۔اور تمہارے معاملے میں میرا خود پہ کنٹرول نہیں ہے مروہ۔۔تم مجھے اپنا دیوانہ بنا چکی ہو۔لیکن جو اج کیا وہ غلط تھا۔اس کے لیے سوری۔۔سائم نے اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
یہ گفٹ بہت پیارا ہے۔تھینک یو سو مچ۔۔مروہ نے اس کے سینے پہ اپنا سر رکھا۔۔ائی لو یو سو مچ۔۔۔۔۔سائم کو اس کا یہ انداز بہت اچھا لگا۔ائی لو یو ٹو میری جان۔وہ اس کے بالوں میں اپنے ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
رات کے اٹھ بجے تھے۔۔
ہارون صبح کا دن بہت سپیشل ہے ہمارے بیٹے کے لیے میں نہیں چاہتی کسی چیز کی کمی رہے۔ارم نے ایکنگ سے ہارون کو تو اپنے بس میں کر لیا تھا۔لیکن یہ ایکٹنگ سائم پہ نہیں چلنے والی تھی۔۔
ہاں بیگا دعا کرو سب خیر خیریت سے ہو جائے۔ہارون بھی ارم کی طرف سے تھوڑا مطمئن ہوا تھا۔۔
اپ کے کپڑے میں نے پریس ہونے کے لیے دے دیے ہیں۔جو کل ارڈر کیے تھے۔۔۔۔
میں یہ گرین کلر کی ساڑی پہنوں گی اس نے الماری سے ایک ساڑی نکالی اور ہارون کو دکھانے لگی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کے بھی زیادہ لوگ نہیں ہوں گے اور اس کی فکر نہ کریں۔ریحان امجد میاں کو لسٹ دکھاتے ہوئے بولا۔۔
اور سب انتظام ہو گئے ہیں۔۔۔
اج مروہ کو بھائی کی کمی محسوس نہیں ہوگی۔ریحان بیٹا تمہاری وجہ سے امجد میاں کے لہجے میں انتہا کی محبت تھی۔جیتے رہو۔۔
اب اپ ایسی باتیں کر کے مجھے شرمندہ کر رہے ہیں مروہ میری بہنوں کی طرح ہے۔اور میں اسے اپنی بہن ہی سمجھتا ہوں۔یہ سب فرض ہے میرا۔ریحان اب ان کے پاس ا کے بیٹھ گیا تھا۔مروہ اور علیز ے بھی چائے لیے کمرے میں ائی۔۔
ریحان اور امجد میاں ایک ہی صوفے پر بیٹھے تھے۔۔
تو کیا باتیں ہو رہی ہیں۔علیزے نے چائے کا کپ ریحان کو دیا اور اس کے پاس بیٹھ گئی۔۔
مروا نے چائے کا کپ دادا جان کو دیا اور ان کے سامنے بیٹھ گئی۔اپ نے ابھی تک میڈیسن نہیں کھائی دادا جان۔مروا نے سائیڈ پہ پڑی میڈیسن اور پانی کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔۔
بس تم اپنے گھر کی ہو جاؤ گی میرا سارا بوجھ اتر جائے گا۔۔۔دیکھنا تمہارا دادا پھر سے جوان ہو جائے گا۔وہ کھلکھلا کے ہنسے تھے۔اور ان کے حسنیے سے مروہ علیزے اور ریحان بھی ہنسنے لگے۔۔۔۔
سب کافی دیر تک باتوں میں مشغول رہے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں تھی تم۔۔۔
کمرے میں اتے ہی مروانے موبائل اٹھایا اور سائم کو کال کی اور بستر پر لیٹ گئی۔۔۔
اس نے دوپٹہ اتار کر سائیڈ پہ رکھا۔۔۔۔
فیملی کے ساتھ۔۔مروہ نے کمبل اوپر اوڑھتے ہوئے اسے جواب دیا۔سائم بھی اپنے بیڈ کرون کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔اور مروہ کا انتظار کر رہا تھا کافی دیر سے۔۔
تو کیا تمہیں میری یاد نہیں ائی۔سائم نے ایک ہاتھ سے لیمپ کے بٹن کو پریس کر رہا تھا۔ کبھی ان تو کبھی اف کرتا۔۔۔۔کمرے میں فل اندھیرا تھا۔۔۔۔۔
ائی تھی۔۔مروا نے معصومیت سے جواب دیا۔۔
یہ رات میرے لیے کاٹنا بہت مشکل ہے ۔بس کل تم میری ہو جاؤ گی۔۔اور میں نے اس دن کے لیے بہت کچھ دیکھا ہے۔ائی لو یو سو مچ۔اس کی انکھیں نم ہو چکی تھی۔۔اخری لفظ نے بھی زبان کا ساتھ نہیں دیا تھا۔۔۔
ائی لو یو ٹو۔۔۔۔
اور سوری۔۔۔
سوری کس لیے ۔۔سائم نے حیرانگی سے پوچھا۔۔
اگر میں تمہارا یقین کر لیتی تو یہ سب کچھ نہ ہوتا۔میں نے ہمیشہ تمہیں غلط سمجھا۔اس کے لیے سوری۔۔۔۔
میری جان تمہیں سوری بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کل سے میں سارے حساب برابر کرنے والا ہوں۔تمہیں تھوڑا بھی بخشنے والا نہیں ہوں۔سائم تھوڑا رومینٹک ہو چکا تھا۔۔
اور مروہ بھی اس کے ٹھڑک کو سمجھ چکی تھی۔۔
اچھا ٹھیک ہے اب میں سونے لگی ہوں مجھے صبح جلدی اٹھنا ہے۔۔۔
مجھے پتہ تھا تم یہی کہو گی۔سائم ہلکا سا مسکرایا۔۔
لیکن کوئی بات نہیں سو جاؤ۔۔۔
کل سے ویسے بھی تمہاری نیندیں حرام ہونے والی ہیں۔۔میں تمہیں ایک منٹ کے لیے بھی سونے نہیں دوں گا۔اور اگر سونا چاہو گی بھی تو صرف میری باہوں میں۔اور اس معاملے میں میں بخشنے والا نہیں ہوں۔یاد رکھنا۔اس نے تھوڑی شائستگی سے یہ بات کہی تھی۔اور مروہ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مروہ اٹھ بھی جاؤ کتنے کام ہیں۔اٹھ بج چکے تھے۔علیزے نے مروہ کے کمبل کو زور سے پیچھے کھینچا۔۔۔۔
اب فٹا فٹ اٹھ جاؤ۔۔
مروہ انگڑائی لیتے ہوئے اٹھی۔اس نے سفید کلر کی لوز شرٹ پہنی ہوئی تھی۔اور بال کھلے ہوئے تھے۔کمرے میں ہلکی ہلکی روشنی ا رہی تھی سورج کی۔مروہ نے اٹھتے ساتھ اپنا موبائل اٹھایا۔۔
گڈ مارننگ میری جان۔ساتھ کس والے ایموجی بے شمار۔پڑھتے ہی مروہ کا چہرہ بلش کرنے لگا۔۔۔
گڈ مارننگ۔۔اس نے ٹائپ کیا اور سینڈ کر دیا اور پھر اپنے بستر سے اٹھ گئی ۔۔۔
سمیر ابرش نہیں ائی کیا۔وہ سب ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے۔۔
اس کی ایگزام چل رہے ہیں سمیر نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھا۔یہ دولے راجہ کہاں ہے نظر نہیں ارہے۔۔اس نے نظر کو اگے پیچھے گھمایا۔۔
سائم اپنے کمرے میں ہے تم جا کر مل لو۔ارم کے کہتے ہی سمیر اوپر کی طرف گیا۔۔۔
کنگراچلیشن باس۔۔اس نے سائم کے کمرے میں جاتے ہی اسے زور سے ہگ کیا۔۔
لیکن ایم سو سوری میں نکاح اٹینڈ نہیں کر سکتا۔لیکن کینیڈا ا کر تمہاری شادی ضرور اٹینڈ کروں گا۔سمیر نے اسے تھپکتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔
کیا مطلب ہے نکاح میں نہیں ا رہے۔۔۔
بزنس کے سلسلے میں مجھے اؤٹ اف کنٹری جانا ہے۔اور ہیں بہت ارجنٹ مس نہیں کر سکتا۔وہ بات کرتے کرتے اب صوفے پر بیٹھ چکا تھا۔۔اسی لیے پہلے اگیا تھا کہ تمہیں کوئی گلا شکوہ نہ رہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو۔مروہ تیار ہو چکی تھی وہ ابھی سلون میں ہی بیٹھی تھی۔پہلی نظر اسے علیزے نے دیکھا تھا۔وہ کسی شہزادی سے کم نہیں لگ رہی تھی۔
بیبی پنک کلر کی میکسی۔نیچے پنک کلر کے ہائی ہیر۔۔۔
ڈریس کے ساتھ میچنگ ہیوی جیولری ملٹی کلر میں۔۔اور وائٹ اور بیبی پنک کلر کا مکس دوپٹہ۔۔ہر چیز اس پر سوٹ کر رہی تھی جیسے اسی کے لیے بنی ہو۔اس نے بالوں کو دونوں طرف سے اگے کیا ہوا تھا۔اس کی انکھیں بھی عجیب غضب ڈا رہی تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مروہ پکچر سینڈ کرو میں کیا کہہ رہا ہوں۔سائم پچھلے 10 15 منٹ سے اس کی منتیں کر رہا تھا۔لیکن مروہ کی یہی رٹ تھی کہ بس ایک ہی دفعہ دیکھنا۔۔
اس کے بہت اصرار کرنے پر اس نے پکچر سینڈ کر دی تھی۔۔۔
سائم دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا۔پکچر کو لوڈ کرتے ساتھ ہی اس نے کمر کو سیدھا کیا۔اور پکچر کو زوم کیا۔۔۔
یہ لڑکی مجھے پاگل کر دے گی۔وی نہ جانے کتنی دفعہ پکچر کو زوم کر کے دیکھ چکا تھا۔اب انتظار اس کے لیے مشکل ہوتا جا رہا تھا۔۔۔
کافی اپ کی۔کہ اتنی دیر میں ہیلپر نے اسے کافی دی۔جسے پکڑتے ہی سائم نے پینا شروع کر دیا تھا۔کیونکہ وہ بہت بے چین ہو رہا تھا۔اور شاید اسے لگا تھا کہ کافی پینے کے بعد اسے تھوڑا سکون ملے گا۔۔۔
یہ سارا سامان گاڑی میں رکھ دو۔۔
نہیں ابھی رکے۔پیچھے سے ارم کی اواز ائی تو ہیلپر بھی رک گئی۔۔وہ سیڑھیوں سے نیچے ا رہی تھی۔۔۔
فنکشن شام کا ہے صبح کا نہیں۔ہارون نےحیرانگی سے اس کی طرف دیکھا۔۔
نہیں فنکشن صبح کے ٹائم ہے مجھے اچھے سے یاد ہے۔
ہاں ہارون صبح کے ٹائم تھا لیکن ان کے کچھ مہمانوں نے دور سے انا ہے۔تو اس لیے انہوں نے ٹائم تھوڑا اگے کر دیا۔۔
ارم پکا منہ بنا کر بولی۔۔۔۔۔
چلو اچھا ہی ہوگا مجھے ایک بہت ضروری میٹنگ پہ جانا ہے۔ویسے بھی پرسوں کی فلائٹ سے ہم واپس جا رہے ہیں تو میں اسے بھی نپٹا کے اتا ہوں۔پھر سائم کی شادی میں کہاں ٹائم ملے گا۔۔یہ کہتے ہوئے وہ باہر کی طرف چلا گیا۔
۔ارم نے حبیب میاں کو بھی یہی بات کہی تھی۔کہ فنکشن رات کے ٹائم میں۔تو وہ بھی ارام سے اپنے کمرے میں بیٹھے تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مروہ کافی ٹائم ہو گیا ابھی تک وہ ائے نہیں ہے سائم کو فون کرو۔۔مروہ پہلے بھی دو تین دفعہ سائم کو فون کر چکی تھی۔لیکن اسے کوئی جواب نہیں ملا تھا۔مہمان بھی سارے ا چکے تھے۔مروا دلہن بنی سٹیج پر بیٹھی تھی۔اس نے پھر سے فون سائم کو ملایا۔۔۔
لیکن پھر سے کوئی جواب نہیں ملا تھا۔۔وہ بھی تھوڑا پریشان ہو گئی تھی۔۔کے اچانک سے گاڑی ان کے گھر کے دروازے کے باہر ائی۔تو مروہ کو تھوڑی تسلی ہوئی۔۔۔
لگتا ہے وہ اگئے علیزے نے کہا اور اگے بڑھی وہ بھی اج بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔
لیکن ابھی تک گھر کے اندر صرف ارم ائی تھی۔۔جو ذرا بھی نہیں لگ رہا تھا کہ شادی میں ائی ہے۔۔۔۔
جو اتے ہی سٹیج پر مروہ کے پاس ائی۔مروہ اسے دیکھتے ہی کھڑی ہو گئی۔اس کا ڈریس بہت ہیوی تھا تو علیزے نے کھڑے ہونے میں اس کی مدد کی۔۔۔۔۔
علیزے یہ سائم کی امی ہے۔علیزے سے کا ان سے تعارف نہیں تھا تو مروہ نے کروایا۔۔۔
السلام علیکم میں مروہ کی بڑی بہن ہوں۔اس نے ہاتھ ان کی طرف بڑھایا۔اور ارم نے اگلے ہی لمحے اس کا ہاتھ زور سے پیچھے کیا۔مروہ حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
امجد میاں بھی کھڑے ہو چکے تھے۔اور سب لوگوں کا دھیان بھی سٹیج پر تھا۔ریحان جو تھوڑا دور کھڑا تھا وہ بھی سٹیج پر ا گیا۔۔۔۔۔
تم لوگوں کا خاندان کتنا گھٹیا ہے۔۔۔مروا اور علیزے نے حیرانگی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
یہ اپ کیا بات کر رہی ہیں۔اور سائم کہاں ہے۔
تم نے کیا سوچا تھا یہ سب اتنا اسان ہے کہ تم میرے بیٹے کو اپنے جال میں بسا لو گی اور ساری چیزوں پہ قبضہ کر لو گی۔لگتا ہے تم نے اپنے خاندان والوں کو نہیں بتایا کہ تم کینیڈا میں کیا کر کے ائے ہو۔مروہ صدمے میں جا چکی تھی کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ارم نے اپنا منہ لوگوں کی طرف کیا۔اس نے جینز ٹاپ پہنا ہوا تھا۔اور اس عمر میں وہ بہت ہی نازیبہ لگ رہا تھا۔
اپ میری بہن کے بارے میں ایسے بات نہیں کر سکتی۔اور رشتہ اپ کا بیٹا لے کے ایا تھا اگر کوئی مسئلہ تھا تو اپ کو اپنے بیٹے سے بات کرنی چاہیے تھی۔علیزے نے اس کا رخ اپنی طرف کیا۔اس نے مروہ کو تھوڑا پیچھے کیا اور خود اگے ائی۔۔۔۔۔۔۔۔
تم لوگ سب پیسے کے لیے کر رہے ہو۔اپنی بہن سے پوچھو نا کینیڈا میں یہ کسی کو ایک کروڑ کا چونا لگا کے ائی ہے کسی سے اس نے ایک کروڑ لیا تھا سائم سے محبت کا ڈرامہ کرنے کے لیے۔اور بھی پتہ نہیں کیا کیا کرتی رہی ہے۔ابھی اس نے میرے معصوم بیٹے کو پھنسا لیا۔لیکن وہ تمہاری اصلیت جان چکا ہے۔اس لیے وہ اب تم سے شادی نہیں کرے گا اور کبھی نہیں ائے گا۔۔۔
نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔مروہ کی انکھوں سے انسو نکل رہے تھے۔اس نے پھر سے سائم کو کال ملائی۔لیکن پھر سے کوئی جواب نہیں ملا تھا۔۔۔
ملا لو ملا لو جتنی کالے چاہے ملا لو۔وہ تمہاری اصلیت جان چکا ہے۔اور اب تم سب بھی جان لو کہ یہ بہنیں بہت خطرناک ہیں۔پیسے کے لیے پتہ نہیں کیا کچھ نہیں کر سکتی۔۔
دیکھیں آپ سائم کی امی ہے اس لیے اپ کی عزت کر رہے ہیں۔ریحان چلاتے ہوئے سٹیج پر ایا۔۔۔۔۔
دادا جان۔۔۔علیزے نے ایک دم سے پیچھے دیکھا دادا جان دل پہ ہاتھ رکھے زمین پہ بیٹھ گئے تھے۔
دادا جان مروہ قدم اٹھاتے ان کے پاس ائی۔دادا جان کیا ہوا ہے۔۔۔
ارم اپنے مقصد میں کامیاب ہو چکی تھی تو وہ دبے پاؤں وہاں سے بھاگ گئی۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں امجد میاں کو لے کے وہ سب ہاسپٹل میں پہنچ چکے تھے۔مروہ اسی میکسی میں ہاسپٹل ا چکی تھی۔اس پہ تو جیسے قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔وہ صدمے میں بے حال تھی۔۔ہو مسلسل روئے جا رہی تھی۔۔۔
تم اسے دیکھوں میں یہاں ہوں۔ریحان نے علیزے کو مروہ کی طرف جانے کے لیے کہا ہے۔۔مروہ حال سے بے حال ہو چکی تھی۔وہ ہاسپٹل کی دیوار پہ ایک ہاتھ رکھے ہوئے جا رہے تھی۔۔۔۔۔
ڈاکٹروں کی بہت کوشش کے باوجود بھی امجد میاں کو وہ نہ بچا سکے۔دو تین گھنٹے بعد ہی ان کی ڈیتھ ہو گئی۔اور وہ لوگ انہیں لے کر گھر ا چکے تھے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ دوسرا دن تھا۔سر چکراتے ہوئے سائم کی انکھ کھلی۔اس نے بہت مشکل سے اپنا سر تکیے سے اٹھایا۔اور اگے پیچھے دیکھا۔۔
مروہ۔۔۔بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا تھا۔۔۔
اس نے سائیڈ پہ پڑھا اپنا موبائل اٹھایا۔جس پہ مروہ کی ایک سو سے زیادہ کالے تھی۔اور میسج۔۔
مروہ اس نےحیرانگی سے موبائل پر ڈیٹ اور ٹائم دیکھا تو اگلا دن تھا۔۔۔
اس کا سر ابھی بھی چکڑا رہا تھا۔کیونکہ ارم نے کافی میں اسے نیند کی میڈیسن ڈال کر پلائی تھی۔جن کا اثر 24 گھنٹے کا تھا۔۔اور ان 24 گھنٹوں میں اس کی دنیا اجڑ چکی تھی۔۔۔۔
تم نے یہ کیا کیا ایک ہبستہ بستہ گھرتباہ کر دیا۔ہارون ارم اور حبیب ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔ارم تم نے اس لڑکی کا سب کچھ تباہ کر دیا ہے۔ہارون ارم پر چلا رہا تھا۔ہارون اور طیب کو سب کچھ پتہ لگ گیا تھا۔۔۔جبکہ ارم بیٹھی روئی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔
ڈیڈ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ نظریں ان پر جمائے باری باری قدم اٹھاتا ان کے پاس ایا۔۔اس کے قدم لڑ کھڑا رہے تھے۔وہ اپنی سوچوں پہ قابو پانا چاہتا تھا کہ وہ جیسا سوچ رہا ہے ویسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔
کس لڑکی کا کیا ہوا ہے۔اب وہ ان کے درمیان کھڑا تھا۔ایک نظر ارم تو ایک نظر ہارون کو دیکھتا۔۔۔
بیٹا مروا۔۔۔۔ایک لمبی سانس لینے کے بعد ہارون چپ ہو گیا تھا۔۔
مروا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہوا مروا کو میں سویا کیوں رہا۔اپ کچھ بتائیں گے۔وہ زور سے چلایا تھا۔۔۔
اتنی دیر میں حبیب میاں صوفے سے اٹھے اور اسے تھاما۔۔
بیٹا ارام سے بیٹھو۔۔۔
چھوڑ دیں اسے سب جاننے دیں کہ اس کی ماں نے کیا کیا ہے۔اسے بھی پتہ لگی کہ اس کی خوشیوں کی قاتل کوئی اور نہیں بلکہ اس کی اپنی ماں ہے۔ہارون غصے سے پاگل ہو چکا تھا۔۔۔۔
ارم بے سود بیٹھی ہوئی تھی۔کیونکہ ہارون اسے طلاق دے چکا تھا۔اور جو ہوا تھا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔۔۔
اور اس کے ساتھ یہی ہونا چاہیے تھا۔۔۔
لیکن سائم ایک منٹ بھی رکنا نہیں چاہتا تھا۔وہ بنا کچھ بولے باہر کی طرف بھاگا۔اسے مروا کی فکر تھی۔۔۔
مروا کچھ کھا لو۔۔۔۔مروہ کے بال بکھرے ہوئے تھے۔سفید کلر کی چادر اس نے لپیٹی ہوئی تھی ۔اور زمین پہ ٹک لگائے بیٹھی تھی۔اس کی دنیا اجڑ چکی تھی۔اور اس نے تو بولنا ہی بند کر دیا تھا۔۔اس کی انکھوں سے موٹے موٹے انسو گر رہے تھے۔۔۔
میری جان پلیز میری خاطر علیزے کب سے اس کی منتیں کر رہے تھی۔۔۔۔
کچھ کھا لو۔۔۔۔۔
مجھے زہر لا دو وہ زور سے چلائی یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے۔سائم مجھے اتنا بڑا دھوکہ کیسے دے سکتا ہے۔۔وہ کب سے یہی الفاظ بولے جا رہے تھی۔۔
سائم نے تیزی سے بریک مروہ کے گھر کے باہر لگایا۔لوگ اتے جاتے دیکھ کر وہ تھوڑا پریشان ہوا۔۔
اس کے دادا نے اپنی پوری زندگی عزت کے ساتھ گزاری۔اور دیکھو اخری لمحات میں پوتی نے کیسا رسوا کیا۔کینیڈا میں کسی کو پورے ایک کروڑ کا چونا لگا کے ائی تھی۔اور اب اس عورت کے بیٹے کو اپنے جالوں میں پھسایا۔لیکن دیکھو مقدر میں رسوائی ائی۔اچھا ہو گیا اس کے ماں باپ یہ دیکھنے سے پہلے ہی چلے گئے۔وہاں پہ تقریبا ہر بندہ یہی باتیں کر رہا تھا۔اتنی بغیرت لڑکی۔سائم نے اس لڑکے کو گلے سے پکڑ کر دور پھینکا۔اگے ایک لفظ بھی بولا تو تیری ۔۔ وہ ایسی نہیں۔۔سائم کو زیادہ نہیں لیکن کچھ کچھ سمجھ ا چکا تھا۔کہ یہ ہوا کیا ہے۔۔۔
تم کون ہو کیا تم بھی اس کے نئے عاشق ہو۔سائم نے اسے گلے سے پکڑ کر ایک دفعہ پھر زور کی ضرب لگائی وہ اسے کافی ضربیں لگا چکا تھا۔۔۔۔
اب یہاں کیا تماشہ دیکھنے ائے ہو۔کہ اتنی دیر میں ریحان نے سائم کو پکڑ کر پیچھے کیا۔وہاں لوگوں کا ہجوم لگ چکا تھا۔
ریحان۔۔۔۔وہ اپنی شرٹ ٹھیک کرتے ہوئے اس کے پاس ایا مروہ کہاں ہے۔یہ سب۔۔۔
اپنی ماں سے نہیں پوچھ کے ائے کہ مروہ کہاں ہے۔جس نے جیتے جی اسے مار دیا ہے۔وہ اب بس سانسیں لے رہی ہے۔ریحان نے سائم کو گربان سے پکڑا یہاں سے دفع ہو جاؤ ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔۔۔
میں کچھ نہیں جانتا میری بات کا یقین کرو۔۔۔۔
مجھے ایک دفعہ مروہ کو دیکھنا ہے۔۔۔
وہ اس سے التجا کر رہا تھا۔۔
میں نے کہا نا یہاں سے دفع ہو جاؤ مر گئی ہے وہ تمہارے لیے۔ ریحان کے الفاظ ابھی ادھورے ہی تھے کہ سائم نے اسے پیچھے گرایا اور اندر کی طرف گیا۔ریحان نے خود کو سنبھالا اور اس کے پیچھے ایا۔لوگ بھی کھڑے تماشہ دیکھ رہے تھے۔۔۔
مروہ۔۔۔اس نے اس کے کاندھے پہ ہاتھ رکھنا چاہا اس کے ہاتھ مسلسل کانپ رہے تھے۔۔۔۔
دفع ہو جاؤ یہاں سے۔ وہ ایک دم سے اٹھی اور اسے پیچھے ہٹایا اب کیا تماشہ دیکھنے ائے ہو۔اس کی انکھیں انسوؤں سے تر تھی۔شال ایک طرف سے اتر چکی تھی۔اس کا چہرہ مرجھایا ہوا تھا بال بکھرے ہوئے تھے۔سائم کا دل تو اسے دیکھتے ہی مر گیا تھا۔۔۔۔
میں نہیں جانتا میں کچھ بھی نہیں جانتا۔سائم کی انکھیں انسوؤں سے بھر چکی تھی۔شرٹ کے بٹن کھلے ہوئے تھے۔حلیہ تباہ اور برباد تھا۔اس نے پھر سے مروا کے قریب انا چاہا۔میری بات کا یقین کرو جو ہوا میں کچھ بھی نہیں جانتا۔میں سب ٹھیک کر دوں گا بس ایک موقع دو۔
سائم تم ٹھیک کر دو گے۔۔۔
مروہ اس کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔
کیا تم دادا جان کو واپس لے اؤ گے۔جو صرف اور صرف تمہاری وجہ سے گے۔بلکہ تمہاری وجہ سے نہیں میری وجہ سے۔تم جیسوں کو کہاں اثر ہوتا ہے وہ روتے روتے پھر سے زمین پر بیٹھ گئی تھی۔تم نے مجھے تباہ اور برباد کر دیا۔سائم بھی وہیں ٹیک لگائی زمین پر بیٹھ چکا تھا۔اسے مروہ کے دکھ کا اندازہ ہو چکا تھا۔اور اسے سب کچھ ختم ہوتا نظر ا رہا تھا۔۔۔۔۔
وہ اس کی ایسی حالت نہیں دیکھ سکتا تھا۔وہ تو اسے دلہن کے روپ میں دیکھنے کے لیے تڑپ رہا تھا۔لیکن ایسا ہو جائے گا اس کے ذہن و گمان میں نہیں تھا۔ ۔۔
سائم کی اواز سن کر علیزے بھی کمرے میں ا چکی تھی
۔مروہ اس نے ایک نظر مروا اور پھر سائم کو دیکھا اور بھاگتے ہوئے مروا کے پاس ائی۔۔۔
تم یہاں تماشہ دیکھنے ائے ہو۔سائم نے نظر اٹھا کر علیزے کو دیکھا۔اس کی انکھیں انسوں سے بھری تھی وہ سب کی خوشیوں کا قاتل خود کو سمجھ رہا تھا۔۔۔
یہاں سے دفع ہو جاؤ۔۔۔
یہ کیوں دفع ہوگا۔مجھے دفعہ ہو جانا چاہیے اس دنیا سے۔مروا نے پاس پرے چاکو کو اٹھایا اور اپنی کلائی پہ رکھ لیا۔۔۔
مروہ۔۔۔۔۔۔سائم ایک دم سے اٹھا اور اس کے پاس انا چاہا
مروہ پاگل ہو گئی علیزے نےاس کا ہاتھ پیچھے کرنا چاہا۔لیکن مروہ اس سے دو قدم پیچھے ہوئی۔۔۔
مروہ پلیز نہیں ایسا کچھ بھی نہیں کرنا۔۔۔۔
مروہ۔۔سائم کے پاس الفاظ نہیں تھے وہ کیا کہے اسے۔دیکھو میں جا رہا ہوں۔اسے رکھ دو میں نہیں اؤں گا۔وہ اہستہ اہستہ سے اس کے قریب اتا بول رہا تھا۔جبکہ مروہ چاکو کو اب اور دبانے لگی تھی۔کہ سائم نے اگلے ہی لمحے ہاتھ سے اس کا بازو کو پکڑ اور چاکو کو دور پھینکا۔
پاگل ہو گئی ہو یہ کیا کر رہی ہو۔۔۔
اگر تم چاہتے ہو میں زندہ رہوں تو یہاں سے دفع ہو جاؤ اور کبھی مجھے اپنی شکل مت دکھانا۔۔۔
اب اگر کبھی دوبارہ میرے راستے میں ائے تو میں خود کو جان سے مار دوں گی۔مروا نے اس کے سینے پہ ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کیا۔۔
سائم تو سانس بھی مشکل سے لے پا رہا تھا۔اس کی دنیا اجڑ چکی تھی۔خود کو قاتل بے وفا اور نہ جانے کیا کیا سمجھ رہا تھا۔۔۔۔۔
سائم وہ مر جائے گی۔۔۔۔
یہاں سے چلے جاؤ۔خدا کا واسطہ ہے چلے جاؤ علیزے نے ہاتھ جوڑوے ہمیں ہمارے حال پہ چھوڑ دو۔ہمارا سب کچھ تو ختم ہو کے رہ گیا ہے۔مروہ اپنے کمرے میں جا چکی تھی وہ دروازہ بند کر چکی تھی۔۔۔
سائم بوجل قدموں کے ساتھ وہاں سے نکلا۔اس نے کئی دفعہ دیوار کا سہارا لیا تھا ۔اور سہارا لیتے لیتے اپنی گاڑی تک پہنچا۔ایک نظر پھر پیچھے دہرائی۔اور شاید مروہ کی اواز کا منتظر تھا۔اور پھر گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے چلا گیا ۔اور اس کے بعد کبھی واپس نہیں ایا۔اس نے مروا کے وعدے کا پاس رکھا تھا۔۔
مروہ لوگوں کا اس علاقے میں رہنا مشکل ہو گیا تھا۔ہر کوئی باتیں کرتا تھا۔تو ریحان مروہ اور علیزے کو لے کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
After 5 year………………………….
فاطمہ۔۔۔۔۔
کہاں ہو تم اب سامنے ا جاؤ میں اور نہیں ڈھونڈنے والی۔مروہ اب زور سے چلائی تھی اور اگے پیچھے دیکھنے لگی تھی۔۔۔
حالا۔۔۔۔۔
اسے بیڈ کے پیچھے سے اواز ائی تو وہ سمجھ چکی تھی کہ فاطمہ وہاں چھپی ہے۔تو خالہ کی جان یہاں ہے اس نے زور سے اسے پکڑا۔اور گدگدی کرنے لگی۔فاطمہ ہنستے ہوئے ا سے پیچھے کرتی۔ماشاءاللہ وہ تین سال کی ہو چکی تھی۔اور مروہ کی تو اس میں جان بستی تھی ۔۔
سارا دن حالہ کے ساتھ ہوتی ہے بابا کے لیے بالکل بھی ٹائم نہیں ہے۔ریحان ابھی ابھی کام سے ایا تھا اتے ہی اس نے فاطمہ کو مروی کی باہوں سے لیا۔مروہ نے بھی خوشی خوشی فاطمہ کو ان کے حوالے کیا۔۔سب کی جان اب فاطمہ میں بستی تھی۔علیزے شور سن کر کمرے میں ائی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کینیڈا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان میں میٹنگ ضروری نہیں ہے ہم کینیڈا میں بھی رکھ سکتے ہیں۔اور اگر اس کمپنی کو مسئلہ ہے تو ہم یہ پروجیکٹ کینسل کرتے ہیں۔ان پانچ سالوں میں سائیں بہت بدل چکا تھا۔جینے کی حد تک وہ صرف سانسیں لیتا تھا۔اس نے اپنے اپ کو پوری طرح سے دنیا کے حوالے کر دیا تھا۔۔۔
لیکن جب کبھی وہ اپنے لیے ٹائم نکالتا۔تو ان لمحوں میں صرف مروہ ہوتی تھی۔وہ پانچ سالوں میں اسے بھول نہیں پایا تھا۔۔
لیکن اسے کا سامنا کرنے سے اب وہ ڈرتا تھا۔وہ دوبارہ سے محبت کے جال میں بسنا نہیں چاہتا تھا۔لیکن مروہ کی جدائی نےاسے توڑ دیا تھا۔وہ دل کو ہر روز سمجھاتا تھا۔۔
۔لیکن دل کمبخت پھر سے اسی جگہ پہ ا کے رک جاتا تھا۔۔۔لیکن شاید اب وہ تھوڑا سمجھدار ہو چکا تھا محبت کے معاملے میں۔اس لیے تو نہ کبھی اس نے مروہ کو ڈھونڈنے کی کوشش کی۔اور نہ کبھی اس کے پیچھے گیا۔لیکن اس پہ احتیار اج میں مروہ کا تھا۔۔۔
ہارون کے مرنے کے بعد سارا بزنس ساائم نے سنبھالا تھا۔اور اب وہ ترقی کی بلندیوں کو چھو رہا تھا۔اس کا روب اور دبدبہ بڑھتا جا رہا تھا۔بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں اس کے ساتھ پروجیکٹ کرنا چاہتی تھی۔وہ بزنس کی دنیا کا ایک ہیرو بن چکا تھا۔۔۔
لیکن محبت کے در کا وہ اج بھی ایک فقیر تھا جو کسی کی ایک جھلک کے لیے تڑپ رہا تھا۔
۔۔۔
سر پاکستان تو ہمیں جانا پڑے گا۔۔اور یہ پروجیکٹ بہت ہی اہم ہے۔اگر ہم اسے ڈی کلیئر بھی کرتے ہیں تو ہم بہت نقصان میں چلے جائیں گے۔اس نے فائل ٹیبل پر رکھی جسےاگلے ہی لمحے سائم دیکھنے لگا۔ان پانچ سالوں میں اس نے پاکستان جانے کا کبھی نہیں سوچا تھا اور نہ ہی وہ جانا چاہتا تھا۔۔۔
۔اور ابھی بھی اس کا دل نہیں مان رہا تھا۔وہ دنیا کے لیے بے شک اب ایک مضبوط انسان بن چکا تھا لیکن اندر سے محبت سے ڈرا ہوا تھا۔۔۔۔
لیکن یہ پروجیکٹ اس کے لیے بہت اہم تھا۔اب یہی سب کچھ تو اس کے لیے اہم تھا۔وہ خود کو بری طرح سے دنیا کے حوالے کر چکا تھا۔۔۔
ٹھیک ہے ہم دو دن کے لیے چلیں گے۔اس نے دل پہ پتھر رکھ کر یہ بات مانی۔۔
رات کی فلائٹ سے وہ کینیڈا سے پاکستان پہنچا۔ایئرپورٹ پہ قدم رکھتے ہی۔پھر سے سوچو نے اسے گھیر لیا تھا۔وہ مشکل سے چل پا رہا تھا۔وہ اب کبھی بھی مروہ کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔یہ اس کے دل کا ایک طرفہ تھا۔جبکہ دوسری طرف سے وہ صرف مروہ کو چاہتا تھا۔یہ دنیا ایک طرف تو مروا ایک طرف۔لیکن فلحال کے لیے اس نے خود کو تھوڑا مضبوط کر لیا تھا۔۔۔
اپ نے وعدہ کیا تھا مجھے لے کے جائیں گی۔فاطمہ منہ بناتے ہوئے مروہ کے گود میں ائی۔مروہ جو ٹیک لگائے بیٹھی موبائل یوز کر رہی تھی۔اس نے موبائل کو ایک طرف رکھا اور اس کے گرد اپنی باہوں کا دائرہ بنایا۔مجھے لے جائے نا مجھے پیزا کھانا ہے۔۔۔
ابھی پیزا کھانا ہے ہم کل چلیں گے نا۔مروہ کا ابھی بالکل بھی دل نہیں کر رہا تھا۔لیکن فاطمہ کے بہت اصرار کرنے پر وہ اسے لےجانے کے لیے راضی ہو گئی۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ ایک ریسٹورنٹ میں پہنچنے ۔تو میری جانب کیا کھائے گی۔مروا مینیو دیکھتے ہوئے اس سے پوچھ رہی تھی۔۔اس نے فل وائٹ کلر کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔دوپٹہ بھی وائٹ تھا۔اور وائٹ کلر کا ہی ربن سر پر لگایا ہوا تھا۔اونچی پونی باندھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
سائم کا اج پاکستان میں دوسرا دن تھا اور وہ کافی دیر سے گاڑی کو ادھر ادھر گھما رہا تھا۔کے اچانک سے وہ اسی ریسٹورنٹ کے پاس رکا۔اس کا کچھ کھانے کو دل نہیں تھا لیکن پتہ نہیں وہ کیوں رکا۔اس نے گاڑی پارکنگ ایریا میں لگائی اور پھر ریسٹورنٹ کے اندر داخل ہوا۔
اس نے بلیک کلر کا ویسکوٹ اور کوٹ پہنا تھا۔نیچے وائٹ کلر کی شرٹ تھی۔بریسٹ پاکٹ میں ریڈ کلر کا رومال تھا۔جسے اس نے تھوڑا سیدھا کیا۔نیچے بلیک ہی پینٹ تھی۔۔
اور ریسٹورنٹ میں داخل ہوا۔۔۔۔
اس نے ایک چیئر کو پیچھے کیا وہ بیٹھنے ہی والا تھا۔اس کا ایک ہاتھ کراس پاکٹ میں تھا۔جب کہ دوسرے سے اس نے چیئر کو کھینچا تھا۔بالوں کو پیچھے کی طرف فولڈ کیا ہوا تھا۔جو اب تھوڑے چھوٹے تھے۔۔۔
تو میری جان کو اب ائس کریم بھی کھانی ہے۔۔۔۔۔
کہ اس اواز نے اس کے قدم روک لیے تھے۔اس کا ایک ہاتھ چیئر پر تھا۔نظریں پیچھے گھمانے کی ہمت نہیں تھی اس میں۔وہ اس اواز کو کیسے بھول سکتا تھا ۔۔لیکن وہ اسے دیکھنا چاہتا تھا۔اس نے جیسے ہی اپنا رخ پیچھے کیا تو مروا نے بھی اپنا روخ اس کی طرف کیا۔۔۔۔
ان دونوں کی نظریں ایک دوسرے پر تھی۔سائم نے گہری سانس لی ۔مروا جو فاطمہ کا ہاتھ پکڑے ہوئی تھی۔کا دل تیزی سے دھڑکنا شروع ہو گیا تھا۔۔۔۔
حالہ ائس کریم۔۔فاطمہ نے اس کے ہاتھ کو لہراتے ہوئے کہا تو مروا نے اپنا دھیان اس کی طرف کیا۔۔
سائم کی نظریں بھی فاطمہ پر گئی۔۔۔لیکن اس نے اگلے ہی لمحے اپنی نظروں کا رخ بدلا۔۔۔۔
یہ پہلی بار تھا۔جب سائم نے نہ ہی تو مروہ کو روکا۔اور نہ ہی وہ رکی تھی۔شاید ان دونوں نےہی اپنا اپنا راستہ جدا کر لیا تھا۔وہ پانچ سال بعد اسے دیکھ رہا تھا۔وہ تو اواز سے ہی پہچان گیا تھا۔وہ اس اواز کو کیسے بول سکتا تھا۔لیکن ۔
لیکن دل کی کیفیت سے بس وہی دونوں واقف تھے۔دل کی دھڑکن یک دم تیز ہو گئی تھی ۔اس سے دور جاتے ہی سائم کے قدموں نے لڑکھڑانا شروع کر دیا تھا۔لیکن اب وہ رک نہیں سکتا تھا۔لیکن وہ رکنا چاہتا تھا۔وہ کینیڈا کا ٹاپ بزنس مین سائم مردان حسیناؤں کا خواب تھا۔لیکن اس ذرا سی لڑکی نے اس کی دنیا ہلا کر رکھ دی تھی۔وہ بوجل قدموں کے ساتھ ریسٹورنٹ سے نکلا اس نے ایک بار بھی مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔گاڑی پہ ہاتھ رکھتے ہی اس نے ایک لمبی سانس لی۔جیسے کسی بڑی افت سے بچا ہو۔اس کی سمندرجیسے گہری انکھوں نے انسو ؤں کے طوفان کو مشکل سے روکا
یہ اس کہانی کا اہتمام تھا۔محبت اج بھی زندہ تھی۔وہ اج بھی دونوں کے دلوں پہ رقص کرتی تھی۔اور اس معاملے میں انسان بے بس ہوتا ہے۔وہ چاہ کر بھی قربتوں کو نہیں بلا سکتا۔۔۔۔۔سائم نے وہ راستہ چھوڑا تھا لیکن محبت پہ وہ اج بھی قائم تھا۔اس کی زندگی میں کوئی داخل ضرور ہو گیا تھا۔لیکن دل پہ حکمرانی اج بھی مروہ کی تھی۔پانچ سال کیا۔وہ شاید اسے پانچ ہزار سال بعد بھی نہ بلا پائے۔کیونکہ اسے مروہ سے محبت نہیں بلکہ عشق تھا۔اور عشق روح میں سما جانے والی افت۔انسان چاہ کر بھی اس سے نجات نہیں پا سکتا۔۔۔۔۔۔۔
مروا نے اتے ہی کمرے کو لاک کیا۔اور ایک لمبی سانس لی۔۔
سائم کا بھی یہی حال تھا۔اس نے کمرے میں اتے ہی چیزوں کا حال بگاڑا۔اسے غصہ تھا کہ وہ اس ریسٹورنٹ میں کیوں گیا۔وہ اس کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا وہ اسے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔
وہ محبت سے ڈرتا تھا۔اور یہی کیفیت مروا کی تھی۔۔۔
اور مروہ اب اسے کبھی معاف نہیں کر سکتی تھی۔اور سائم اس سے کبھی معافی نہیں مانگ سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ جو کہتے ہیں کہ بہت ہنسنے کے بعد انسان کو رونا پڑتا ہے۔یہ ڈر یقینا لوگوں کے اندر محبت نے ڈالا ہوگا۔کیونکہ انسان کو چار دن محبت کا ازالہ ساری کی تباہی سے اتارنا پڑتا ہے۔انسان کبھی بھی اس سے نجات نہیں پا سکتا یہ ایک لاعلاج مرض ہے۔اور مروا اور سائم دونوں اس مرض میں مبتلا تھے۔ان کے درمیان کوئی نہیں تھا۔ان دونوں کا مسئلہ ہی محبت تھا۔…
سائم کو جہاں مروہ کو دیکھنے کا غصہ تھا۔وہیں پہ اسے تھوڑا سکون ملا تھا۔اور وہ یہی سوچ کر خوش ہو گیا تھا کہ جس فضا میں وہ سانس لے رہا ہے۔مروہ بھی وہیں سانس لے رہی ہے۔اور شاید یہ بے بسی کا اخری درجہ تھا۔
کہ جب انسان یہ سوچ کر خوش ہو جائے۔کہ اس کا محبوب بھی اسی دنیا میں سانس لے رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ جو کہتے ہیں کہ بہت ہنسنے کے بعد انسان کو رونا پڑتا ہے۔یہ ڈر یقینا لوگوں کے اندر محبت نے ڈالا ہوگا۔کیونکہ انسان کو چار دن محبت کا ازالہ ساری کی تباہی سے اتارنا پڑتا ہے۔انسان کبھی بھی اس سے نجات نہیں پا سکتا یہ ایک لاعلاج مرض ہے۔اور مروا اور سائم دونوں اس مرض میں مبتلا تھے۔ان کے درمیان کوئی نہیں تھا۔ان دونوں کا مسئلہ ہی محبت تھا۔…
سائم کو جہاں مروہ کو دیکھنے کا غصہ تھا۔وہیں پہ اسے تھوڑا سکون ملا تھا۔اور وہ یہی سوچ کر خوش ہو گیا تھا کہ جس فضا میں وہ سانس لے رہا ہے۔مروہ بھی وہیں سانس لے رہی ہے۔اور شاید یہ بے بسی کا اخری درجہ تھا۔
کہ جب انسان یہ سوچ کر خوش ہو جائے۔کہ اس کا محبوب بھی اسی دنیا میں سانس لے رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
