Sheh Rug by Aneeta NovelR50466 Shah Rung Episode 1
Rate this Novel
Shah Rung Episode 1
Shah Rung by Aneeta
یہ کینیڈا کا شہر وینکوور تھا جہاں سردی اپنے عروج پر تھی اور بارش سے ہر چیز بھیگی ہوئی تھی سردی کی وجہ سے مروا نے اپنے دونوں ہاتھ سفید کلر کے کوٹ میں جکڑے ہوئے تھے جو اس کے گُھٹنوں سے بھی اگے جا رہا تھا ۔وہ پچھلے ایک مہینے سے نوکری ڈھونڈ رہی تھی۔جو اسے اج بھی نہیں ملی تھی۔۔
وہ گیس ٹاؤن ( Gastown Vancouver) کی ایک خوبصورت روڈ پر کھڑی تھی اس کی نظریں سامنے لگی سٹیم کلاک( steam clock) پر ٹھہری ہوئی تھی جس میں سے مسلسل دھواں نکل رہا تھا جو اس ٹھنڈی رات میں خوبصورتی کا باعث بنا ہوا تھا یہ گیس پہ چلنے والی گھڑی تھی اور گیس ٹاؤن کو اسی سٹیم کلاک کی وجہ سے فیمس مانا جاتا ہے گھڑی کے ارد گرد وائٹ کلر کے بڑے بڑے گلوبز تھے۔۔
اور گلابی رنگ کے پھول بھی کسی سے کم نہیں تھے یہ لوہے سے بنی ایک بہت بڑی گھڑی ہے یہ ہر ایک گھنٹے بعد ساؤنڈ کرتی ہے اور یہ ساؤنڈ ایک زندہ دل انسان کو بہت پیچھے لے جاتا ہے اور مروہ کو یہ ساؤنڈ بہت پسند تھا اور شاید یہی سننے کے لیے وہ یہاں کھڑی تھی۔۔۔۔۔
ورنہ تو اس کے پاس ضائع کرنے کے لیے ایک لمحہ بھی نہیں تھا۔۔۔۔
لگتا اج میڈم کا گھر جانے کو دل نہیں ہے سائرہ اور زوبیہ آپس میں بات کرتے ہوئے سامنے والی بلڈنگ سے مروا کے پاس آ رہی تھی جو ایک بہت بڑی بلڈنگ تھی اور وہ کچھ ہی دیر میں اس کے پاس ٓا چکی تھی دونوں نے اتے ساتھ مروا کے دونوں ہاتھوں کو کوٹ سے باہر نکالا۔۔۔
کہاں گم ہے ہماری شہزادی۔۔۔
جناب کا موڈ کیوں اف ہے؟
اس سے پہلے کہ مروا کوئی جواب دیتی سائرہ نے سوال پہ سوال کیا؟
کیا اج بھی جاب نہیں ملی؟
سائرہ اور مروا کی دوستی بہت پرانی تھی وہ سکول ٹائم سے ایک دوسرے کو جانتی تھی سائرہ کا تعلق بھی پاکستان سے تھا جبکہ زوبیہ جسے پیار سے زوبی کہتے تھے سب سے دوستی ان کی کینیڈا میں آنے کے بعد ہوئی تھی۔۔۔
مروا نے نظریں سٹیم کلاک سے ہٹائی نہ میں سر ہلایا۔ اور دونوں کو دیکھتے ہوئے بولی مجھے لگتا ہے . ملے گی بھی نہیں اس نے لمبی سانس لی اور ہاتھوں کو پھر سے کوٹ میں جکڑ لیا۔۔۔۔۔
کیوں نہیں ملے گی سائرہ نے اپنا ہاتھ اس کے کندھے پہ رکھا انشاءاللہ ضرور ملے گی . نہ امید نہیں ہوتے اتنے میں زوبی بھی اس کے قریب اگئی تھی۔۔
_________________
اس کے ہاتھ میں شراب کا گلاس تھا ٹرنچ کوٹ پہنے دوستوں میں بیٹھا ہوا تھا۔یہ سائم مردان تھا۔جس کا شمار کینیڈا کے بڑے بڑے بزنس مینز میں ہوتا تھا۔وہ کسی کی نہیں سنتا تھا اسے اپنے ہونے پہ غرور تھا۔۔۔۔
وہ کلب کے ایک طرف بیٹھا تھا۔جیسے اسے اس پارٹی سے کوئی سروکار نہیں۔کلب کی جلتی بجتی لائٹ اس کے چہرے کو روشن کر رہی تھی۔اس کا چہرہ اندھیرے میں اور بھی چمک رہا تھا۔۔
وہ بگڑا ہوا تو ہرگز نہیں تھا۔پر کیونکہ وہ بچپن سے ہی کینیڈا میں رہا تھا۔تو شراب پارٹی کلب یہ سب وہاں عام تھا۔اور وہ بس مہینے میں ایک دو بار کلب اتا تھا۔لڑکیاں اس کی دیوانی تھی۔کیونکہ ایک مرد کے پاس جو کچھ ہونا چاہیے۔وہ سب تھا اس کے پاس وہ ایک ائیڈیل شخصیت تھی۔۔۔۔۔۔۔
مروہ نے وینکوور ائی لینڈ یونیورسٹی(VIU) سے گریجویٹ کیا تھا جس کہ بنا پر وہ کینیڈا میں تین سال کہیں بھی جاب کر سکتی تھی لیکن اسی پیریڈ میں اسے پی ار کی فائل بھی ریڈی کرنی تھی جس کے بعد وہ ہمیشہ کے لیے کنیڈا سٹیل ہو سکتی ہے کینڈا میں جابز کے مختلف کوڈ ہوتے ہیں اسے ای او یو کی جاب کر کے اپنے پوائنٹ اکٹھے کرنے تھے ۔۔۔۔۔
اور مروہ یہاں پی ارPR کا ڈریم لے کر ہی ائی تھی…
اس کا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے ہے اسے سکالرشپ پہ یونیورسٹی میں ایڈمیشن ملا تھا لیکن اس کے باقی احراجات کے لیے اس کے دادا نے قرض لیا تھا اس کے ماں باپ بچپن میں ہی چل بسے تھے ۔ پیرنٹس کے جانے کے بعد دونوں بہنوں کی پرورش ان کے دادا نے کی اب سارے گھر کی ذمہ داری اس پر تھی کیونکہ امجد میاں کے جسم میں اب اتنی طاقت نہیں تھی لیکن پچھلے ایک مہینے سے اس کے پاس کوئی نوکری نہیں تھی جس کی وجہ سے اسے بہت سی پرابلم کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔۔۔۔
اج اٹھنا نہیں ہےسائرہ نے مروہ کے منہ سے کمبل ہٹاتے ہوئے کہا جو تھکن کے باعث بہت گہری نیند میں تھی۔۔۔۔
10 بج چکے ہیں ۔۔
اس نے تھوڑے دور جا کر پھرسے اواز لگائی۔۔۔
کیا کیا دس بج گئے ہیں ؟
مروہ نےایک دم سے پاؤں زمین پر رکھے۔ اس کے پاؤں بہت نرم ملائم تھے ۔سفید اور سرخ رنگ واضح ہوتا تھا۔۔۔۔
ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔جس میں دو چھوٹے چھوٹے بیڈ تھے۔کھڑکی سے خوبصورت نظارہ نظر اتا تھا۔پہاڑ بلڈنگز سبزہ۔اور سامنے بالکنی میں ایک چھوٹا سا جولا پڑا ہوا تھا۔جس کے ارد گرد پھول لگے ہوئے تھے۔۔۔
اج نماز بھی مس ہو گئی یہ الارم کیوں نہیں بجا اس نے ایک نظر موبائل پر دہرائی اس نے سفید کلر کی شرٹ پہنی تھی اور کھلے بال اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہے تھے وہ خوبصورت انکھوں کی مالک تھی جو بھی اسے دیکھتا اس کی انکھوں کی تعریف کیے بغیر نہیں رہتا تھا۔اس کی انکھیں سمندر جیسی تھی۔جن سے خوشی ظاہر ہوتی تھی۔۔۔۔۔
اج اُس کا ایک جگہ پہ انٹرویو تھا اور یہ انٹرویو تو وہ پچھلے ایک مہینے سے دے رہی تھی لیکن اج اسے امید تھی کہ اسے نوکری مل جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے مجھے اٹھایا نہیں مروا نے صوفے پہ رکھی ہوئی سرخ
جڑسی کو پہنا جو بہت نرم ملائم تھی اور پاس رکھے موزوں کو پہننے لگی کیونکہ سردی تھی اورپھر فریش ہونے چلی گئی۔۔۔۔
اون میں سینڈوچ رکھے ہوئے ہیں کھا لینا سائرہ نے یہ کہتے ہوئے بیس کینڈن ڈالر اس کے بیگ میں ڈالے کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس کے پاس پیسے بالکل بھی نہیں ہیں اور وہ کسی سے مانگے گی بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں جا رہی ہوں بیسٹ اف لک کہتے ہوئے سائرہ چلی گئی۔۔۔۔
سائرہ ایک بہت ہی خوش اخلاق لڑکی تھی اورمروہ پہ اپنی جان دیتی تھی۔ اور دیکھنے میں بھی بہت خوبصورت تھی اس کی انکھیں ہلکی براؤن تھی اور بالوں کا شولڈر کٹ کروا رکھا تھا جو اسے کافی سوٹ کرتا تھا۔۔۔۔
پتہ نہیں یہ پرابلم کب ختم ہوں گی مروہ اپنے بالوں کو بناتے ہوئے خود سے باتیں کر رہی تھی اتنے میں اس کے فون کی بیل بجی جو اس نے اٹھا کے کان کے ساتھ لگایا۔۔
ہیلو ۔۔۔۔
علیزے کیسی ہو یہ کہتے ہوئے اس نے کندھے کے سہارے سے فون کو کان کے ساتھ لگایا کیونکہ اس کے دونوں ہاتھ بال باندھنے میں مصروف تھے۔۔۔
میں تو ٹھیک ہوں۔۔۔۔
تم کیسی ہو۔۔
نوکری کا کچھ ہوا دوسری طرف سے اواز ائی جو کچھ تھکی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
نہیں۔۔۔
ابھی تک تو نہیں۔۔
یہ کہتے ہوئے مروا کچھ اداس ہو گئی تھی۔۔
علیزے مروا سے تین سال بڑی تھی دونوں میں بہت محبت تھی۔
انشاءاللہ مل جائے گی۔۔۔۔
تم ایسے ہی پریشان ہو رہی ہو۔۔۔
علیزے نے اسے تسلی دی اس کا لہجہ بہت پیار بڑا تھا۔۔۔
مروہ نے ایک لمبی سانس لی اور پھر دادا جان کا پوچھا۔۔۔
سب ٹھیک ہیں بس تم اپنا خیال رکھنا اور فکر مت کرنا علیزے جو ساتھ ساتھ کچن میں کام کر رہی تھی۔پاکستان میں شام کا وقت تھا۔۔۔۔۔
مروہ بات کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی تیاری میں بھی مصروف تھی کیونکہ بہت ٹائم گزر چکا تھا وہ کبھی فون کو ایک ہاتھ سے پکڑ تی تو کبھی کندھے کے سہارے سے ۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں تمہیں رات میں فون کرتی ہوں میں لیٹ ہو رہی ہوں مروا نے ایک نظر گھڑی کو دیکھا اور فون بند کر دیا۔۔۔
اس نے ایک ادھا سینڈوچ کھایااور پھر سفید کلر کےجوگر پہنے وہ اپنا لباس پہلے ہی تبدیل کر چکی تھی۔
اس نے موبائل ٹیبل سے اٹھا کے بیگ میں ڈالا تو اس کی نظر بیگ میں پڑے نوٹ پر پڑ گئی۔۔۔۔
سائرہ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
اس کے چہرے پہ خوشی کی لہر ائی تھی کیونکہ اُسے ایک دفعہ پھر احساس ہوا تھا کےاس کے پاس ایک بہت ہی اچھی دوست تھی اس نے جلدی سے بیگ کیری کیا اور باہر نکل گئی۔۔۔۔۔
یا اللہ اج جاب مل جائے۔۔۔
پلیز پلیز پلیز جاب مل جائے۔۔۔۔
یہ کہتے ہوئے وہ روڈ پہ پہنچی اور ٹیکسی روکنے کے لیے اس نے جیسے ہی قدم روڈ پہ رکھا تو تو بے دہانی میں وہ ایک کار کے سامنے اگئی لیکن اس سے پہلے کہ کوئی نقصان ہوتا اس گاڑی والے نے بریک لگا لی لیکن اسی افرا تفریح میں اس کے پاؤں میں موچ اگئی وہ زمین پہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔۔۔
جن بالوں کو اُس نے وقت لگا کے بنایا تھا وہ بری طرح سے اس کے منہ کے اگے اگئے تھے۔۔۔۔
او میرے اللہ بس یہی دیکھنے کو رہ گیا تھا۔۔۔
وہ من ہی من میں بڑبڑا رہی تھی۔۔
ار یو اوکے؟
گاڑی سے نکلتے ہی سائم نے نے پوچھا۔سائم نے کالے کلر کی پولو شرٹ پہنی ہوئی تھی جس کے اوپر والے بٹن کھلے ہوئے تھے۔گلے میں پہنی چین صاف نظر ارہی تھی۔اس نے ہاتھ میں بھی سیم چین پہنی ہوئی تھی۔چہرے پہ داڑھی تھی۔جو زیادہ بڑی نہیں تھی۔ذرا ذرا سے براؤن بال تھے۔شاید اربن سٹائل تھا۔جو بہت سوٹ کر رہا تھا۔اس کی انکھیں ہلکی براؤن تھی اور رنگ سفید ۔بالوں کو پونی سٹائل میں باندھا ہوا تھا۔جو کچھ زیادہ نہیں پر تھوڑے سے بڑے تھے۔وہ گاڑی کی چابی کو گول گول گھما رہا تھا۔جیسے اسے اطمینان ہو کہ غلطی اس کی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے پاؤں میں شدید درد تھا وہ گھٹنوں کے بل زمین پہ بیٹھی چیزیں سمیٹ رہی تھی اس کی فائل پوری طرح سے روڈ پہ بکھر چکی تھی کیا تم گاڑی دیکھ کر نہیں چلا سکتے مروہ فائل سمیتتے ہوئے بولی..
اپ ہائی وے کو ایسے کراس نہیں کر سکتی یہ روڈ ہے پارک نہیں سائم نے جھک کر مدد کرنا چاہی ۔۔۔۔۔
جب سائم نے اردو میں جواب دیا۔تو مروہ تھوڑی چونکی تھی۔۔۔
وہ فورا سے اٹھ کر سائم کے بالکل سامنے کھڑی ہو گئی اور اپنے بکھرے بالوں کو ٹھیک کرنے لگی ۔۔۔
جب اپ گاڑی 200 کی سپیڈ میں چلائیں گے تو کوئی اتا جاتا اپ کو کیسے نظر ائے گا وہ بال ٹھیک کرتے ہوئے بولی۔۔۔
سائم نے جیسے ہی مروہ کو دیکھا۔وہ تھوڑی دیر کے لیے چپ ہو گیا۔ وہ اس کی انکھوں میں کھو چکا تھا سائم کی نظریں مسلسل مروہ پر ٹھہری ہوئی تھی اور اس بات کا احساس مروہ کو بھی شدت سے ہو رہا تھا۔۔
ہیلو مسٹر ۔۔۔۔
میں اپ سے بات کر رہی ہو اس نے سائم کو دوبارہ مخاطب کرنے کی کوشش کی۔۔۔
وہ ۔۔میں
سائم کو بھی اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ مروہ کو طاری جا رہا ہے اس نے کچھ کہنا چاہا پر رک گیا۔۔۔
اب اس کا ایک ہاتھ ماتھے پر تھا۔ماتھے پہ ذرا سے بل تھے۔کچھ سوچنے کے بعد وہ بولا۔۔۔
اگر غلطی میری ہے تو چلیں میں اپ کو اپ کی منزل تک چھوڑ اتا ہوں سائم نے گاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔
مروہ نے ایک نظر گاڑی کو دیکھا پھر سائم کو سائم کی گاڑی بہت بڑی تھی۔دیکھنے میں وہ کسی ہائی فائی فیملی کا لگتا تھا۔
مروہ اس سے پہلے کچھ بولتی۔ اسے سامنے سے اتی ہوئی ٹیکسی نظر اگئی جسے روکنے کے لیے اس نے ہاتھ اگے کیا۔۔
میں نے کہا نہ میں چھوڑ دیتا ہوں سائم شاہد اس کو روکنا چاہتا تھا۔
نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔
میں خود چلی جاؤں گی یہ کہتے ہوئے مروہ ٹیکسی کی طرف بڑی اور کچھ ہی دیر میں وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔
سائم جو شاید اسے روکنا چاہتا تھا کچھ ٹائم تو وہاں کھڑا رہا اور پھر گاڑی میں بیٹھ گیا اس سے پہلے کہ گاڑی کو سٹارٹ کرتا اس کی نظر سامنے پڑی ایک کارڈ پر پڑی جو کہ مروا کا سٹوڈنٹ کارڈ تھا۔۔۔۔
سائم گاڑی سے باہر نکلا تو اسے 20 ڈالر کے ساتھ ہی سٹوڈنٹ ائی ڈی ملی ۔۔
مروہ الیاس۔۔۔
سائم نے مروہ کی ائی ڈی کو دیکھتے ہوئے کہا وہ ائی ڈی پہ لگی اس کی تصویر کو گھور رہا تھا۔۔۔
سائم نے کچھ سوچا اور پھر گاڑی کی طرف قدم بڑھائے شاید اسے پھر سے ایک بہانہ مل گیا تھا اور یہ ائی ڈی بھی مروہ کے لیے بہت ضروری تھی شاید یہی سوچ کر اس نے گاڑی کو سٹارٹ کیا اور ٹیکسی کو فالو کرنے لگا جو زیادہ دور نہیں گئی تھی۔۔۔
میں پہلے انٹرویو سے لیٹ ہو گئی تھی۔۔۔۔۔
اگر میری جگہ کسی اور کو جاب مل گئی۔۔
ابھی تک تو مل ہی گئی ہوگی۔۔۔
اس کا دماغ اس ٹائم مشین کی طرح چل رہا تھا اسے اس نوکری کی بہت ضرورت تھی شاید اسی وجہ سے۔۔۔
مروہ نے موبائل پہ ٹائم دیکھا۔11 بج چکے تھے۔۔۔۔۔
اس گدھے کو بھی اج ہی مجھ سے ٹکرانا تھا۔۔۔۔
اٹس یور ایڈریس میم .( It’s your address mam)
ٹیکسی ڈرائیور نے سامنے لگے میپ کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
۔۔۔اٹس یور پلیس میم۔(it’s your place)
ٹیکسی ڈرائیور نے دوبارہ کہا کیونکہ وہ مسلسل اپنی سوچوں میں مگن تھی اس کی نظریں روڈ پر تھی۔جو اتی جاتی گاڑیوں کو دیکھ رہی تھی۔اور دماغ جاب کی طرف۔۔۔۔
یس ایم ریلی سوری( yes I am really sorry)
اس نے ٹیکسی سے باہر نکلتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔
مروہ نے ٹیکسی پہ لگے بورڈ پہ دیکھا جو کہ سیون ڈالر شو کر رہا تھا۔۔۔
اور فورا سے بیگ کھولا پر بیگ میں پیسے موجود نہیں تھے۔۔۔۔۔۔۔
ہائے میرے پیسے کہاں گئے۔اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا تھا۔۔
