Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

چھ سال بعد،
یہ چھ سال بعد کہنا تو بڑا آسان سا لگتاہے، یہ چھ سال کا ایک ایک لمحہ ، سیکنڈ منٹ اور گھنٹہ اپنے اندر جستجو کی عظیم مثال مقید کیے ہوئے ہے یہ چھ سال کیسے بیتے کیا مشکلات آئی ، کس نے کیا کھویا اس کہانی کے کرداروں نے کیا سہا اس کا احوال تفصیلاً بیتے لمحات خود بیان کریں گے، دھیرے دھیرے سب ظاہر ہونے لگے گا،
قصہّ کہن کا نیاآغاز،
بدر ہاؤس کا کمرہ نمبر آٹھ جسے آؤل
(OWl Room)
روم بھی کہا جاتاہے، یہ آؤل روم کیاہے اس کا مختصراً قصہ بھی دھیرے دھیرے سمجھ آجائے گا،
فلحال عاہن علوی عجلت میں ہیں.
اوہ مائے گاڈ دیر ہوگئی،، ڈائریکٹر جان کو آجائے گا۔
گول دیوار گیر آئینے کے سامنے کھڑا وہ سیاہ بال سہلائے بڑبڑایا تھا۔
تراشیدہ داڑھی سے سجا سفید چہرہ معمول سے زیادہ کھلا کھلا تھا۔
ڈریسر پر سجے لاتعداد پرفیوم میں سے نیلی بوتل اٹھا کر اچھی طرح نیلی شرٹ پر چھڑک کر کالر کا اوپر والا بٹن بھی بند کیے وہ مکمل جینٹل مین کے روپ دھارے مسکرایا،
ناؤ آئی ایم جینٹل مین،، تخیلاتی ٹائی کو انگلیوں سے سیٹ کیا،
کافی ہاٹ لگ رہا ہوں ،، ہونٹوں کو گول کیے وہ جبڑے کو ہاتھ میں دبوچے گردن ادھر سے ادھر موڑ کر اپنی ہی خوبصورتی پر ریمارکس دیتا کھل کر ہنسا تھا۔
اوہ امی بلارہی ہیں۔،،
نیچے جھک کر بیڈ کے پاس پڑے نیوی بلیو ریومر واٹرمین پاؤں کی زینت بنائے سیدھا ہوا، لیکن یکلخت اس کی توجہ بیڈ کے نیچے گئی۔زبان دانتوں تلے دبائے حلق کی گلٹی کو نیچے اتار کر اس نے اردگرد دیکھا۔
گھبراہٹ کے بعد اب چہرے پر غصہ ابھر آیا۔
اس اجوّ کو آج میں چھوڑوں گا نہیں کمینہ انسان، بھائی نے دیکھ لیا تو میرامنہ توڑ دیں گے۔
بیڈ فلور سے دو سیڑھی نیچے اتر کر وہ دوبارہ آئینے کی جانب آیا،
بالوں کو دوبارہ ہاتھوں سے سنوارا گہرا سانس لیا اور فل آواز میں اجو کو پکارا،،
اجوّ!!
آیا نہیں ابھی تک،، آجائے آج یہ وڈن کلر فلور پر وہ تیزی سی چکر کاٹ کر ایک بار پھر اجو کو پکار رہا تھا،
عاہن علوی کی تیز آواز سیڑھیوں سے نیچے ٹیبل صاف کرتے اجو کے کانوں میں پہنچی تو اجو صاحب کے ہاتھ لڑکھڑا سے گئے۔
ہائے آج نہیں بچتے ہم ،،عاہن کی آواز گویا صورِ اسرافیل کی مانند تھی۔
اجوّ پہلے ایک نظر اپنی اجیّ کو دیکھ آتے ہیں ، پھر اوپر جاتے ہیں ،
اپنے آپ سے بڑبڑاتا وہ اردگرد دیکھتا تیزی سے لاؤنج کا دروازہ پار کیے گیراج میں آیا اور پھر آگے پتھریلی روش سے گزر کر اپنے کوارٹر کی جانب بڑھا ، اجیّ آج ہمیں آخری بار دیکھ لینا۔،آج عاہن بھیا مار ہی ڈالیں گے۔
گلے میں لٹکے مفلر سے نادیدہ آنسو صاف کیے وہ آگے بڑھ رہا تھا۔
لیکن برا ہوا، کالی بلی سامنے کھڑی تھی جس سے بچنے کے لیے وہ یہاں آیا تھا،
عاہن علوی،، بازو سینے پر لپیٹے بال سیٹ کیے ، ایک ابرو اچکائے اجو کے کوارٹر دروازے پر ہی ایستادہ تھے۔
ہائے اجوّ تو کیوں بھول گیا،بیڑہ غرق ہو تیرا ،،اس گھر کے دو دروازے ہیں ،
وہ کھسیانا سامسکرایا،
ارے بھیا میں بس آنے والا تھا، آپ کیوں یہاں آئے؟”
اجوّ بھائی آپ غالباً اجیّ کا دیدار کرکے ہی آنے والے تھے۔جس میں قریباً گھنٹا صرف ہوتا۔
اور اس گھنٹے میں میرا کام تمام ہوجاتا ، مان لیاکہ میں ایک کامیاب ایکٹر ہوں ، میری اپنی ایک خاص پہچان ہے لیکن میری بھی ایک ماں ہے جو مجھے اب بھی جوتوں سے مارتی ہے۔، جس کے دس نمبر والے بھاری جوتے اب بھی میری کمر لال کردیتے ہیں۔
وہ دانت پیسے بولا تو عاہن نے زبان دانتوں تلے دبائی۔
معافی دے دو عاہن بھیا، میں تو کچرہ سمیٹنے والا تھا،دادی نے بلالیا، کہنے لگی ٹیبل صاف کردو، بس ایسا مصروف ہوا کہ سب بھول گیا،
اجوّ وہ کچرا نہیں ہے، وہ میرے قیمتی سیگریٹ کے قیمتی ٹوٹے ہیں،
دانت پیسے وہ غرایا تھا۔
ارے عاہن بھیا!! غصہ مت کریں ہم اجی کو سمجھائیں گے وہ تو بھولے ہیں،
آپ تو سمجھدار ہے ناں ،
عاہن کو پچکار کر اجیّ نے اجو کو گھور کر اشارہ دیا،
جی جی عاہن بھیا!! ہم بھولے سے ہیں ابھی ہم صاف کردیتے ہیں ، بڑی مالکن کو کہاں پتہ چلے گا کہ آپ اتنی سیگریٹ نوشی کرتےہیں۔
اجو!! زبان کو لگام دے دو،،
وہ اردگرد دیکھ کر دھیمے سے غرایا تھا، مبادہ کہیں سدرہ بیگم نہ سن لیں ،
“خیر میں چلتا ہوں دیر ہورہی ہے، میرا کمرہ صاف کردینا اور وہ پیسسز باکس میں ہی رکھنا، ورنہ بھائی سے نہیں بچ پاؤ گے”،
ازلی دھمکی دیتا وہ مڑکر واپس پچھلی جانب سے ہی اوپر کی جانب بڑھا تھا۔
جبکہ اجوّ نے سینے میں اٹکا سانس بحال کیا تھا۔
❤❤❤❤❤❤
گڈ مارننگ!!! مام!! ہلکا سا گلا کھنکار کر وہ ٹیبل کی جانب بڑھتا قدرے بلند بولا ۔
لیکن لگتا تھا آج عاہن علوی کا دن ہی برا تھا۔ سامنے ہی سعادت علوی ہاتھ میں باکس تھامے کھڑے تھے،
عاہن کے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم سی ہوئی،حلق خشک محسوس ہوا،
مٹھیاں بند کیے جیسے ہمت مجتمع کرنے لگا،
یہ باکس کیسا ہے؟ کھل بھی نہیں رہا، سلور رنگ کا چھوٹا سا بریف کیس نما باکس ڈیجیٹل لاک سے بند تھا جو سعادت علوی جیسے سادہ بندے سے کھلنا ناممکن تھا۔وہ عجلت میں اسے کھولنے کے لیے بے چین تھے،
قریب ہی اجّو بھی سفید چہرے کے ساتھ کھڑا تھا،
ارے بابا!! یہ باکس کیوں کھول رہے ہیں ، وہ سانس بحال کرتا آگے آیا،بیگ بےساختہ ان کے ہاتھ سے جھپٹ لیا، اجو یہ میرے کمرے میں رکھ کر آؤ،اس میں
ضروری کاغذات ہیں ،
بیگ اجو کو تھماتے وہ سختی پر آمادہ تھا۔۔کانپتے ہوئے اجو نے بیگ تھاما،
رکو زرا !! ایسے بھی کیا ضروری کاغذات ہیں، اور اس میں سے تو عجیب سی بو آرہی ہے، کہیں پھر جیل جانے کے لیے کوئی کارنامہ تو سرانجام نہیں دے رہے، وہ مشکوک سے اسے دیکھے گئے۔
سعادت علوی اور عاہن کی کسی بات سے مطمئن ہوجاتے یہ ناممکن سی بات تھی،
ازلی خدا واسطے کا بیر تھا دونوں باپ بیٹے میں ،
بب بو کیسی بو!! ایسا تو کچھ نہیں ہے باباآپ بھی ناں ہمیشہ مجھے مشکوک نظر سے دیکھتےہیں حالانکہ آپ جانتے ہیں میں اپنا کام کتنی ایمانداری سے کرتا ہوں۔،
سعادت علوی نے اس کے روہانسے پن کو بھی مشکوک نظر سے دیکھا۔
جانتا ہوں تمہاری ایمانداری تبھی آئے روز جیل پہنچ جاتے ہو،
اجوّ جاؤ!! بریف کیس اوپر عاہن کے کمرے میں رکھ آؤ،
اس کے بابا کو تو عادت ہے،بات کو روز بڑھانے کی،
سدرہ بیگم بھی کچن سے ہاٹ پاٹ سنبھالے نکل آئی تھیں۔ سعادت علوی نے تیز نگاہ ان پر ڈالی جبکہ عاہن نے سانس بحال کیا تھا،
چلو ممی اب بچالیں گی، دل ہی دل میں شکر ادا کیے وہ چئیر گھسیٹ کر بیٹھا تھا، کانچ کی نفیس سی ٹیبل پر ناشتے کے مختلف لوازمات موجود تھے۔
سعادت علوی اب بھی عاہن کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہے تھے،
کیا ڈیڈ !! اب کیا گھورتے رہیں گے، سینڈوچ کی بائیٹ لیتا وہ دوبارہ روہانسا ہوا مدد طلب نظر سے ماں کو بھی دیکھا،
ڈیڈ !! کھوتے کہیں کہ میں ابھی مرا نہیں ہوں جو تو مجھے ڈیڈ کہہ رہا ہے،،
سعادت علوی جھٹپٹائے ، جبکہ سدرہ بیگم اور بدر علوی کی دبی دبی ہنسی ابھری تھی ،دادی بیگم بھی وہاں آتی سعادت کے بھڑکنے پر مسکائی تھیں۔
واٹ!! ڈیڈ یہ کیا کہہ رہے ہیں
ڈیڈ مطلب پاپا یار!!” ؤہ عاجز سا بولا ،
شرم کرو یار نہیں ہوں میں تمہارا” !!
سعادت علوی نے ایک اور اعتراض اٹھایا ،
سعادت آپ بچے کو ناشتہ بھی نہیں کرنے دیتے صبح ہی صبح شروع ہوجاتے ہیں۔ڈیڈ پر بھی اعتراض ہے یار کہہ رہا ہے اس پر بھی اعتراض کررہے ہیں “
سدرہ بیگم روز کے تماشے سے عاجز آئے آج پھر سعادت کو ٹوک چکی تھیں۔
ہاں بھئی!! اب ہماری کیا حیثیت ہے، بیٹوں کی کمائی پر عیش ہورہے ہیں ہم جیسے بے روزگار انسان سے اب بیگم کیا عزت سے بات کریں گی۔چلو سعادت خود ہی ناشتہ شروع کرلو”
سدرہ بیگم نے سر جھٹکا تھا، ان کے یہ غم صبح شام جاگتے تھے،
ڈیڈ جوس پی لیں!! بھلے ماں آپ کی قدر نہیں کرتی لیکن میں آپ کی دل سے عزت کرتا ہوں ،
سعادت علوی نے عاہن کو تندہی نظروں سے دیکھا جس کے چہرے پر دل جلانے والی مسکراہٹ تھی،
آجانے دو شہرام کو جوتے نہ لگوائے تو میرا نام بھی سعادت علوی نہیں۔
ابو!! آپ بھی گواہ رہیے گا،وہ گفتگو میں انہوں نے زبردستی دادا کو بھی شریک کیا تھا۔،
بالکل!! شہرام جیسی درگت عاہن کی کوئی نہیں بنا سکتا،
وہ پرمزاح سے بولے اور ایک نظر عاہن کو دیکھا جو اب منہ کے زوایے بنائےدادا کو دیکھ رہا تھا،وہ کان پکڑتے ایک بار پھر مسکرائے تھے۔
سنہری روشنی کشادہ لاؤنج میں رقص کرنے لگی تھی،میٹھی باتوں کی چاشنی جیسے ہر جگہ اپنا تسلط جما کر گہرا سا تاثر چھوڑتی مسکائی سی تھی۔
🔥🔥🔥🔥
تارکول کی سیاہ سڑک پر سفید مرسڈیز مدھم رفتار سے رواں دواں تھی۔
سڑک کنارے لگی لائیٹس گاڑی میں ہلکی سی روشنی پھیلا رہی تھیں۔
پپ پتہ چلا کچھ!! آج پھر وہی سوال لبوں پر آیا تھا او
معیز رؤف کا سر نفی میں ہلا تھا،اور آج پھر ماہ تاب علوی کی امید ٹوٹ گئی تھی۔
ہاتھ پہلو میں گرگئے تھے،
تم کہاں جاؤ گی؟” وہ دانستہ بات کا رخ بدل گیا تھا۔
پاپا کے گھر اتار دیں ،
ایک نظر اس نے پیچھے ڈالی، جہاں پسینجر سیٹ پر پانچ سالہ احد گہری نیند میں تھا۔۔،
گاڑی کا رخ وہ علوی ہاؤس کی جانب موڑ گیا،
ہر جگہ پتہ کیا، ہر سراغ لگایا ہے لیکن ناجانے زندگی مزید کتنے امتحان چاہتی ہے؟”
اس مرتبہ معیز رؤف بھی تلخ سا مسکرایا تھا،
اسی کا نام تو زندگی ہے،پریشان مت ہوں ، وہ جہاں بھی ہوگی ٹھیک ہوگی، اور جس کی تمہیں مجھے تلاش ہے وہ بھی ٹھیک ہی ہوگی،
خیر گاڑی تیز چلائیں ، ورنہ انجام آپ جانتے ہیں۔
وہ اسے باور کرواتی نیٹ کے گاؤن کو ٹھیک کرنے لگی تھی، برہنہ سفید بازو لونگ شرٹ سلیولیس سے نمایاں ہوکر رعنائیاں بکھیر رہے تھے،
سیاہ آنکھوں میں ہلکورے لیتا پچھتاوا جیسے پل بھر میں روشن ہوا۔
جبکہ سنہری ڈائی شدہ گھنگریالے بال کمر پر آبشار کی مانند پھیلے تھے۔
معیز مسلسل سامنے دیکھتا ڈرائیو کرتا رہا ،
علوی ہاؤس کے سامنے گاڑی روک کر اس نے ماہ تاب کو دیکھا،
احد کو تم لے کر جاؤ گی یا پھر میں اپنے ساتھ ؟”وہ دانستہ بات ادھوری چھوڑے وہ باہر دیکھنے لگا۔
ٹینشن نہ لو میں مینج کرلوں گی”،
وہ گاڑی سے اتر کر پانچ سالہ احد کو اٹھانے کے لیے جھکی تھی،۔
کندھے پر اس کا سر رکھ کر وہ گارڈ کو سامان نکالنے کا کہتی وہ اندر کی جانب بڑھی۔
پتھریلی روش سے گزر کر وہ لاؤنج کی سیڑھیاں چڑھتی اندر آئی،
خلاف توقع شبنم بیگم نائٹ گاؤن میں صوفہ پر مکمل اطیمنان سے براجمان تھیں۔
پاؤں سامنے ٹیبل پر رکھے تھے، نائٹ گاؤن سے بھاری سفید بازو جھلک رہے تھے،چہرے پر مصنوعی حسن کی دبیز تہہ سجی تھی۔
ماہ تاب نے ایک نگاہ ان پر ڈال کر قدم آگے بڑھائے،۔
اسے پھر لے آئی ہو آج؟”
وہ سخت سا بولتی سیدھی ہوئیں
یہ۔۔مم میری ذمہ داری ہے تو ظاہر ہے۔۔مم میں ہی اسے سنبھالوں گی”،
کاٹ دار لہجے میں باور کروائے وہ سیڑھیوں کی جانب بڑھی، لیکن شبنم بیگم کے کڑوے الفاظ نے قدموں کو جکڑا تھا،
اس گند کو نہ لایا کرو تمہارے باپ کو برداشت نہیں ہوتا،وہ تمہیں اس گھر میں رکھ رہے ہیں یہی بہت ہے،”
ماں !! گند !! رئیلی گند!! ہاہ ٹھیک کہا ، سر کو پیچھے گرائے ٹھنڈی آہ خارج کیے ماں کو دیکھا،
ماں یہ ایک وجود ہے بھلے گند ہے لیکن کم ازکم معصوم ہے اپنی حقیقت سے ناآشنا ہے لیکن یہ جو گھر میں جگہ جگہ گند ہے اس کے بارے میں آپ کیا کہیں گی؟”
خیر میں بحث نہیں کرنا چاہتی ، گندگی کی بو پوری طرف پھیل جائے گی،”
اپنے لفظوں سے انہیں زِک پہنچاتی وہ اوپر کی جانب بڑھی،
کانچ ٹوٹنے کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی شبنم بیگم اب انگلش میں گالیاں بھی بک رہی تھیں۔
احد کے اٹھنے کا خیال کرتی وہ تیزی سے کمرے کی جانب بڑھی،
اسے سفید کمفرٹ سے ڈھانپ کر وہ آئینے کی جانب آئی،
کانوں سے ڈائمنڈ ائیر رنگز جدا کرکے مرر ڈریسر پر رکھے ، وائپس اٹھا کر میک اپ صاف کرنے لگی،پژمردہ سا چہرہ اس وقت میک اپ سے مزین تھا۔
ٹھنڈے وائپس گال پر سرد پن حائل کرنے لگے ، گال کی ٹھنڈک آنکھوں پر جمود طاری کررہی تھی، لیکن دل کے درد کو ضبط کیے وہ اس جمود کو جمالینا چاہتی تھی، لیکن ہر کوشش ناکام ہوئی ،
آنسو آج پھر گال پر لڑھک آئے ، ہتھیلی ہونٹوں پر جمائے وہ شدت سے سسکی تھی،
آج کئی دنوں بعد وہ دشمنِ جاں شدت سے یاد آیا،۔چھ سال کی پرخار راہ جسم میں بھی جیسے کانٹے گاڑنے لگی تھی،
لبوں نے آج بھی اس نام کی پکار کی تھی۔
تیزی سے وہ وارڈروب کی جانب آئی ، فل سلیوز والی لمبی قمیض اور سیاہ ٹراؤزر لیے وہ تیزی سے واش روم کی جانب بڑھی،۔وہ اس برہنہ لباس سے چھٹکارا پانا چاہ رہی تھی، شاور کے نیچے کھڑے ہوکر وہ سرد موسم کی بنا پرواہ کیے بھیگنے لگی،
سرد پن خون جما رہا تھا لیکن وہ اپنے اس بدن کو رگڑ کر صاف کردینا چاہتی تھی۔دنیا کی غلیظ نگاہ مٹانے کی خواہش میں ہلکان وہ اپنے ہی بازو زخمی کررہی تھی،۔
کئی ساعت وہ ٹھنڈے پانی کے نیچے کھڑی رہی ، ہونٹ نیلے پڑنے لگے تو وہ ہچکیاں لیتی دور ہوئی لباس بدل کر وہ سر لپیٹے باہر آئی تھی، سوجن زدہ آنکھوں کے گوشے داستان الم سنانے لگے،
وارڈروب سے سفید ڈوپٹہ لے کر وہ سائیڈ ٹیبل کے آخری والے دراز سے جائے نماز فرش پر بچھا کر نمازِ عشا کی نیت باندھ چکی تھی،
کپکپاتا بدن، سوجن زدہ سے ہونٹ نماز میں بھی اسے بے چین کرتے رہے ،
جس تڑپ سے اس نے نماز ادا کی تھی یہ اس کا رب اور اس کا دل ہی جانتا تھا،
نماز ادا کیے وہ دعائیہ انداز میں ہاتھ اٹھائے سامنے دیکھنےلگی،
لمبے ناخن اور ان پر لگی نیل پالش نے اس کی جان ہلکان کی۔۔وہ دھک سی رہ گئی ، لیکن یکلخت
وہ سجدے میں جھک گئی تھی،
اللہ !! میرے اللہ !!میں جانتی ہوں میں بہت گناہ گار ہوں ،پر میں تیری بندی ہوں ، تو ہی نوازنے والا ہے۔تو نواز دے ناں میرے اللہ میری قسمت بدل دے ، اللہ مجھے اس غلاظت سے دور کردے ، اللہ میرا دل ساکت کردے،مجھے پاک کردے ،
مجھے وہ شخص عطاکردے میرے اللہ، تو دلوں کے حال جانتا ہے لیکن تو مجھے وہ شخص کہیں سے بھی لادے، میں نہیں جانتی وہ شخص مجھے کیسے ملے گا کن مراحل سے گزر کر میں اسے پاسکوں گی لیکن ایک بار صرف ایک بار وہ شخص مجھے لادے،
دعا کا اختتام بھی اس شخص پر ہوا تھا۔
سجدے میں گرتی وہ تڑپی تھی، سسکیاں ابھر رہی تھی بدن میں کپکپی تھی ، آنکھیں بادل وار برستی گئیں ، ہوش و حواس جیسے سلب ہوچکے تھے،
یہ کیسی کیفیت تھی جو ماہ تاب علوی جیسی گناہ گار بندی پر طاری تھی وہ وجد کا عالم تھا شاید، کیا وہ رب کی نیک بندی بن رہی تھی، لیکن وہ تو گناہ گار تھی۔اس کا تو پور پور غلاظت میں لتھڑا ہوا تھا۔
ساری نماز ادا کرلی تھی، لیکن کیا اس کی نماز قبول ہوئی کیا ان رنگے ناخنوں کے ساتھ وہ باوضو تھی،۔
اس وقت اسے بس رب سے مانگنے کی طلب تھی، اتنی شدت سے طلب تھی کہ اسے ہوش بھی نہیں رہا تھا کہ وہ نیل پالش نہیں اتار سکی ، وہ باوضو نہیں رہ پائی ،
عجب ہی بے بسی کا عالم تھا ناں کہ ماہ تاب علوی شاندار گھرانے میں رہنے کے باوجود تکلیف میں تھی۔
اپنے کندھے پر کسی نرم لمس کو محسوس کرتی وہ چونکی، وہ سجدے میں گری آنسو اندر اتارے سیدھی ہوئی۔لب دائیں بائیں تھوڑے پھیلا لیے،
مما!! آپ مت رویا کرو، مجھے بھی پھر رونا آتا ہے،
وہ دوزانو بیٹھی تو وہ بھی اس کی گود میں چڑھ گیا تھا۔
بیٹا!! مما کے لیے دعا کرو، وہ اس کے ہاتھوں کے نیچے ہاتھ پھیلاتے بولی تھی،
مما میں روز کرتا ہوں ، آپ روئیں مت،،
معصومیت سے بولتا وہ ماہ تاب کو حدرجہ پیارا لگا وہ نرمی سے اس کے گال چومتی سسکی تھی، لیکن پھر درد میں ہی مسکراتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی پانچ سالہ احد بھی اس کی گود میں چڑھا ہوا تھا۔
آپ بیٹھو میں آپ کے لیے چاکلیٹ ملک منگواتی ہوں،
مما معیز بابا،، نے آج غصہ کیا تھا،
بیٹا آپ بھی تو ضد کررہے تھے۔، وہ اسے پچکارتی پاؤں کے بل زمین پر بیٹھی،
مما!! وہ ٹیڈی بہت اچھا تھا،”
” میں آپ کو لادوں گی ، آپ بس ضد نہ کیا کرو ، وہ اس وقت ٹینشن میں تھے”۔،
ناؤ سمائل،، اس کے گال کھینچتی ہلکا سا مسکائی،،
جواباً احد کھلایا تھا اس کی سرمئی سی آنکھیں بھی مسکرائی تھیں۔
آنی کے روم میں نہیں جانا!! وہ دروازے کے قریب جاتی مڑی ، تنبیہی انداز سے احد کو دیکھا،
جواباً اس نے نفی میں سرہلایا جبھی چہرے پر شرارت امڈ آئی ،
ماہ تاب کمرے سے نکل کر نیچے کی جانب بڑھی تھی۔ ،
🔥🔥🔥🔥
آہہہہ ممی !! وٹ دا ہیل!!! بلند آواز پر ماہ کے ہاتھ سے
گلاس چھوٹ کر زمین بوس ہوا، وہ نفی میں سر ہلاتی عجلت میں دوبارہ اوپر کی جانب بڑھی سانس پھولا تھا، لیکن وہ تیزی سے اوپر کی جانب آئی تھی۔،
احد نے اپنا کارنامہ دکھا دیا تھا،
مشل علوی کی قیمتی کاسمیٹکس اور قیمتی موبائل زمین پر بکھرا تھا۔۔آئی فون کا گلاس ٹوٹ چکا تھا،
اس نے مشل کا سرخ چہرہ دیکھا، اور تیزی سے احد کی جانب آئی، جس کا گال لال ہورہا تھا اور کئی آنسو گالوں پر بکھرے تھے۔
احد!! میں نے آپ کو منع کیا تھا پھر بھی آپ آنی کے کمرے میں آئے،”
شٹ اپ ماہ تاب!! ڈرامے مت کرو، تم ہمیشہ اسے سکھا کر بھیجتی ہو، اس بدتمیز بچے نے میرا موبائل توڑ دیا جانتی بھی ہو، پرسوں لے کر آئی تھی میں ،
بلند آواز میں چیختی وہ احد کی جانب بڑھی۔
جو ماہ تاب کی گود میں چھپا تھا،
ممم مشل مم میں نے نہیں !! رکو تت تم میرا فون لے لو، وہ عجلت میں باہر نکلنے لگی ، نہیں چاہیے مجھے وہ سوکالڈ فون!!
دفعہ ہوجاؤ اس بچے کو یہاں سے لے کر ورنہ آج میں اسے مار ڈالوں گی،۔
نکلو یہاں سے ایک منٹ سے بھی پہلے،، بازو سے کھینچ کر اس نے ماہ تاب کو باہر کیا تھا، دروازہ زور سے مارتی وہ سامنے کے بال مٹھی میں جکڑتی چکر کاٹتے ضبط کرنے لگی تھی۔
ایک نظراس نےبکھرے سامان کو دیکھا،
اس نے غصے میں زور دار ٹھوکر ٹوٹے موبائل اور بکھرے سامان پر ماری،یہ تمام ترچیزیں اب اس کے قابل نہیں تھیں۔اور مشل علوی کو جھکنا قطعی پسند نہیں تھا،
پھر وہ کیسے جھک کر وہ تین لاکھ والا موبائل اٹھالیتی،وہ علوی ہاؤس کی ملکہ تھی، اور ملکہ جھکتی نہیں جھکاتی ہے۔
زیرِ لب موٹی گالیاں احد اور ماہ تاب کو دیتی وہ کندھوں تک آئے تراشیدہ بالوں کو جکڑکر بینڈ میں باندھتی بیڈ کے کنارے پر محوِ استراحت ہوئی،
ایک گھٹنا بیڈ پر موڑا تھا جبکہ ایک پاؤں زمین پر تھا۔
کل ایک نیو ٹرینڈ پر اس نے ویڈیو بنانی تھی، جسے عرف عام میں ٹک ٹاک ویڈیو کہا جاتا تھا،لیکن نیو موبائل پوری طرح برباد ہوچکا تھا،
صبیح پیشانی مسلتی وہ گہری سبز آنکھوں سے آئندہ کا لائحہ عمل سوچنے لگی،
اس وقت کافی دیر ہوچکی تھی، شاپس بھی بند تھی ، کیوٹکس سے سجے نیلز کو دیکھ کر وہ جھٹکے سے اٹھی، اس وقت موڈ کی بحالی بہت ضروری تھی، لیپ ٹاپ لیے وہ بیڈ پر دراز ہوئی ، رومینٹک سی مووی پلے کیے وہ نیم دراز سی مکمل اس میں غرق ہوئی تھی۔
❤❤❤❤❤
ڈور بیل کی آواز پر اس کے پاستہ بناتے ہاتھ تھمے، ایپرن کو اتار کر اس نے سائیڈ پر رکھا ، لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ نمودار ہوئی،
رومال سے ہاتھ صاف کیے وہ گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرے پونی کستا باہر کی جانب آیا، چھوٹی سی راہداری جس کے دونوں اطراف روشنیاں نمایاں تھیں۔ جبکہ دیواروں پر خوبصورت پینٹنگز سجی تھیں۔
وڈن فلور پر مضبوط قدم جماکر وہ آگے بڑھا اور دروازہ کھولے مزید مسکرایا تھا،ویلکم کرنے سے کے انداز کی دلفریب مسکراہٹ،
سامنے ہی پرام میں چھ ماہ کے بے بی کے ساتھ دیبا مستحسن موجود تھی،
سیاہ لباس میں میک اپ سےمزین خوبصورت نقوش کو ابھارے ، سیاہ آنکھوں پر لائنر لگائے وہ بلاشبہ خوبصورت لڑکی تھی،
شہرام علوی نے پرام سے سفید گلابی گالوں والےگول گوتھنے سے بچے کو اٹھا کر سینے سے لگایا اور نرمی سے گال چومے ،
آگے بڑھ کر وہ دیبا سے بھی ملا، ہلکاسا ساتھ لگا کر وہ دور ہٹاتھا،
کیسی ہیں ؟”ٹور کیسا رہا؟”
دروازے پر کھڑے رکھو گے تو جواب کیسے دوں گی ؟”
شہرام جواباً سمٹا سا مسکرایا، وہ مخصوص ایک جانب لبوں کی مسکان جس کی دیبا دیوانی تھی،جس کی ایک دنیا دیوانی تھی،۔
آجائیں !! “میں پاستہ ہی بنا رہا تھا مجھے لگ ہی رہا تھا آپ آج ضرور آئیں گی”۔
اسے لیے وہ اندر آیا تھا،
لٹل چیمپ آپ کیسے ہو؟”اس کا پیٹ گدگداتا وہ اب اسے بلند کیے مسکرا رہا تھا،
جواباً وہ نیلی آنکھوں والا چھوٹا سا بچہ بھی کھلکھلایاتھا،
دیبا مستحسن نے محبت کے گہرے دیپ لیے چھوٹے سے معاز کو دیکھا تھا، جو شام کی گود میں مسکرا رہا تھا۔
تم جانتے ہو، ہمارےچار ڈریسز انٹرنیشنل لیول پر سلیکٹ ہوگئے ہیں، مسٹر جیم کہہ رہے تھے یہ ڈریسز ایسے ڈیزائین کیے گیے ہیں کہ ان کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ ایک پاکستانی ڈیزائنر نے ڈیزائن کیے ہیں ،
اور جانتے ہو مسٹر جیم نے مووی میں ایز کاسٹیوم بھی سلیکٹ کیے ہیں ،اففف میرے ڈیزائن کیے گئے ڈریسز ہالی وڈ کی ہیروئنز پہنیں گی، یہ ایک بڑی اچیومنٹ ہے میرے لیے، وہ مزید اسے تفصیل بتارہی تھی، اور شہرام لبوں کو ایک جانب سمیٹے جیسے اس کی ایک ایک بات کو سن کر مطمئن سا تھا۔
شام میں کہتی تھی ناں تم اللہ کا انعام ہو میرے لیے،اور یہ سچ ہی ہے میں اس کے لیے اللہ کا جتنا بھی شکرادا کروں کم ہے،
جواباً وہ مدھم سا مسکرایا، لمبے بالوں کو کھول کر سفید شیٹ کاؤچ پر دراز ہوا۔
دیبا بھی پاس ہی دراز ہوئی،۔
یہ آپ کی اپنی محنت ہے ، میں تو عام ہوں ، دینے والی تو رب کی ذات ہے اس میں کسی کا عمل دخل نہیں ہوتا،
ربڑبینڈ کوہاتھوں میں گھوماتا وہ زمین پر متوجہ رہا، چھ سالہ معاذ آرام سے شام کی گود میں لیٹا تھا،
نہیں شام!! تم ہو تو ایسا لگتا ہے میرا لکی نمبر میرے پاس ہے، دیکھو ناں معاز بھی اللہ کا انعام ہی تو ہے، اتنے سال اولاد کے لیے ترستی رہی، اللہ نے اس عمر میں آکر عطاکردی،جب تم میری زندگی میں آئے،
تم سچ میں میرے لیے مبارک ہو، “
اس کا ہاتھ تھامتی وہ شدت گریہ سے مسکرائی تھی ، آنکھوں میں نمی چمکی ،
اس کے لفظوں نے جیسے جگنو سے ارد گرد بکھیرے تھے۔
اللہ نہ کرے!! “مبارک تو وہ ذات ہے، میں ادنیٰ سابندہ ہوں آپ مجھے اب شرمندہ کررہی ہیں،”
وہ ہاتھ چھوڑ کر فلور کو دیکھنے لگا،
شام!! تکلف مت برتا کرو، وہ اس کا گریز دیکھ کر نروٹھے پن سے بولی تھیں۔
اچھا موڈ ٹھیک کریں میں پاستہ لاتا ہوں” ، معاذ کا گال چوم کر وہ کچن کی جانب بڑھا،
ویسے شام!! شوٹ کب ہے؟”
وہ لاؤنج سے ہی بلند آواز میں بولی تھیں۔
پرسوں کا ہے ، پھر اس کے بعد شو سٹارٹ ہے جو تین دن تک جاری رہے گا”۔
وہاں لڑکیاں بھی ہوگی شام علوی!! کہیں ایز آ کپل ریمپ پر واک نہ کرنی پڑجائے ،
اس کی کمزور رگ کو چھیڑ کر وہ مسکرائی تھی۔جبکہ شہرام کا ہاتھ ٹھٹک سا گیا،
سو واٹ !! “واک میں اکیلے ہی کروں گا ،اور آپ میری عادات سے واقف ہیں کہ میرا روم بھی سب سے الگ ہوتا ہے ،ویسے بھی وجودِ زن سے ہی کائنات میں رنگ ہیں۔اور انہیں بھی جینے کا حق ہے۔وہ الگ بات ہے کہ میں دامن بچا کر رہتا ہوں۔”
وہ پاستہ سفید پلیٹس میں منتقل کیے چھوٹے سے ڈائننگ ٹیبل کی جانب آیا،
چار کرسیوں والا ڈائننگ ٹیبل نفاست سے لاؤنج کی چھوٹی ونڈو کے ساتھ سجا تھا۔
ونڈو سے نظر آتی روشنیوں نے اس کی توجہ کھینچی ، وہ ایک نظر باہر دیکھ کر پردے برابر کیے دوبارہ کچن کی جانب آیا،
کوک اور گلاس لیے وباہر آیا ، دیبا کو ایک نظر دیکھ کر اس نے معاذ کو گود میں اٹھالیا تھا،
دیبا مدھم سا مسکرائی آنکھوں میں شرارت پن واضح تھا،
آپ کبھی کبھی شام علوی کو زچ کردیتی ہیں ،
وہ ناچاہتے ہوئے بھی شکوہ کرگیا تھا،
اور جب تم زچ ہوتے ہو تو اور بھی پیارے لگتے ہو، چہرے کی وجاہت کئی گناہ بڑھ جاتی ہے۔”
ٹیبل کی جانب آتی وہ کھنکتی سی آواز میں بولی تھی،
شام نے سرجھٹکا، سیاہ براؤن سے بال کندھوں پر بکھرے ،بڑھی ہوئی داڑھی میں وہ لمبے قد کے باعث کافی خوبصورت دکھائی دیتا تھا،
روشن براؤن سی آنکھوں میں اب بھی کئی خواب جگمگاتے تھے،
چلو آجاؤ پھر مجھے واپس بھی جانا ہے، اس سپاٹ کھڑا دیکھ کر وہ قہقہ لگاتی بولی،
وہ سر جھٹکتا چئیر کھینچ کر اس پر دراز ہوا تھا معاذ کو وہ دیباسے لے کر گود میں بٹھا چکا تھا،
❤❤❤❤❤❤
ہائے مسٹر شارف!!سفید چست جینز پر چھوٹی سی فراک نما شرٹ پہنے وہ چہکتی ہوئی زینے اترتی نیچے آئی،شارف صاحب نے بھی اپنے بازو پھیلائے،
بانہوں کا گھیر گردن کے گرد ڈال کر وہ ان کے ساتھ چپکی تھی،۔
زینے اترتی ماہ تاب علوی نے ضبط سے یہ منظر دیکھا، جبکہ شارف صاحب کی گرے آنکھیں بھی ماہ تاب پر تھیں۔
جو گرین پرنٹڈ سلیولیس لونگ شرٹ اور کیپری پہنے سنہری بالوں کو ہمیشہ کی طرح کمر پر بکھرائے تیار تھی،ڈوپٹہ ندارد تھا۔
شارف صاحب نے مشل کو بانہوں میں لیے ایک گہری نگاہ ماہ تاب علوی پر ڈالی جسے اس نے بمشکل ضبط کیا تھا،
ایک ادھوری سی نظر اس شخص نے احد پر ڈالی، ماہ تاب کو دوبارہ دیکھ کر انہوں نے ہونٹ گول کیے آنکھ دبا کر ماہ تاب علوی کو ایک طرح کا کمپلیمینٹ ہی دہا تھا۔
وجود میں جیسے انگارے سے بھڑک اٹھے وہ مشل کو شارف سے دور کرنے کے لیے تیزی سے زینے اترتی مشل کی جانب آئی،
سفید بلاؤز کے ساتھ سفید جالی دار ساڑھی پہنے شبنم بیگم بھی لاؤنج میں آچکی تھیں۔
شارف نے ہولے سے مشل کو خود سے دور کیا ، احد کو اٹھانے کے لیے انہوں نے ہاتھ بڑھائے تھے، لیکن وہ ڈرتا ہوا ماہ تاب سے چپکا،
جبکہ ماہ تاب نے بھی اس کا ہاتھ سختی سے جکڑا تھا،
شارف نے ہلکے سے ماتھے پر بل ڈال کر ماہ تاب کو دیکھا لیکن وہ نگاہ پھیر چکی تھی،
یہ آپ کا موبائل!! وہ نظرانداز کرتے مشل کی جانب مڑے،
ماہ تاب کی آنکھوں میں ہلکی سی حیرت ابھر کر معدوم ہوئی، یہ عام سی بات تھی۔اس گھر کی خبر شارف ابدال صاحب سے اوجھل نہیں رہ سکتی تھی۔تبھی صبح ہوتے ہی موبائل آچکا تھا۔
تھینکس شارف!! آپ سچ میں بہت اچھے ہیں، وہ دوبارہ ان کے سینے سے لگی،جواباً انہوں نے بھی بازو حائل کیے تھے،
مسٹر شارف!! ہمیں دیر ہورہی ہے، وہ ضبط کے باوجود بلند سا بولی،
مشل ٹیڑھا منہ کیے شارف سے دور ہوئی ،سبز آنکھیں برہم سی تھیں۔
جائیں شارف !! مس ماہ تاب علوی کی میٹنگ رہ جائے گی،
دانت پیسے اس نے احد اور ماہ تاب کو دیکھا۔
شارف !! باقی سامان کب آئے گا؟” اپنے قیمیتی کاسمیٹکس کے نقصان کی بھرپائی بھی وہ جلد ازجلد چاہتی تھی،
شام تک میری ڈول کو سب مل جائے گا،”اس کا گال تھپتپا کر انہوں نے باور کرتی نگاہ سے ماہ تاب کو دیکھا،
لب کاٹتی وہ احد کا ہاتھ تھامے باہر کی جانب بڑھی، مزید وہاں رکنا اس کے سانس روکنے جیسا تھا۔
❤❤❤❤
احد !! بیک سیٹ پر دراز احد کو پکارتے وہ ناجانے کیوں بے چین سے ہوئے،۔
ماہ تاب نے شدت سے احد کو خود میں بھینچا تو شارف صاحب نے بھی سختی سے لب بھینچے۔
ماہ تاب!! مجھ سے ضد مت لگایا کریں۔ احد کو مجھے دیں”۔
ماہ تاب کو تنبیہہ کرکے انہوں نے زبردستی احد کو اپنی جانب کھینچا ۔احد یکدم اونچی آواز میں روتا ماہ تاب کو پکارنے لگا،۔
سٹاپ اٹ احد!! احد کو زبردستی بازو سے قابو کرکے وہ سختی سے بولے،
اس بچے کو سینے سے لگانے کی بےچینی پل بھر میں دم توڑچکی تھی،۔
وہ شخص اپنے جذبات پر قابو رکھنا جانتا تھا۔
“شارف پلیز چھوڑدیں اسے،میں میٹنگ روم میں نہیں لے کرجاؤں گی”۔
ماہ تاب بے چین سی سیٹ سے آگے کھسکی تھی،۔”ماہ تاب پیچھے ہوکر بیٹھیں”۔
ان کا سرد سا انداز ماہ تاب کی جان کو ہلکان کرگیا،۔
معیز کو فون کریں ، وہ ایک اور ہدایت دیتے احد کو دیکھنے لگے، جو اب بھی تڑپ کر ان کی گرفت سے نکلنا چاہتا تھا۔
“شارف پلیز بچے کو چھوڑ دیں ، میں آپ کو کہہ رہی ہوں ناں کہ احد میٹنگ روم میں نہیں جائے گا، پھر آپ کیوں زور زبردستی کررہے ہیں”۔
وہ بے بسی سے بولتی مزید آگے ہوئی اور احد کی بازو جکڑی ،۔
“ماہ تاب مشل آج اپنے دوستوں کے ساتھ جانے والی ہے۔کیا آپ چاہتی ہیں کہ میں اسے وہاں پہنچادوں جہاں اس جیسی بیوٹی کو ہونا چاہیے”،۔
شارف کی ازلی دھمکی سے ماہ تاب کا سانس خشک ہوا وہ کانپتی ہوئی ہیچھے ہوکر بیٹھی ، اور سسک کر روئی،۔
ہر لمحہ اذیت اس کی جان ختم کررہی تھی۔
“آج کے بعد آپ مجھے مشل کے روم میں نظر آئے تو میں آپ کو اپنے بل ڈوگز کے سامنے پھینکنے میں وقت نہیں لگاؤں گا،۔گاٹ اٹ،!!”
احد کی سیاہ آنکھوں کو گھورتے وہ سختی سے بولے ، احد دم سادھے اس جلاد شخص کو دیکھتا رہ گیا،۔حلق میں آواز دب سی گئی تھی،۔وہ پانچ سالہ بچہ بھی اس کی دھمکی سنتا جیسے حواس کھونے لگا تھا۔،
ماہ تاب آپ نے معیز کو کال کیوں نہیں کی ؟” شارف صاحب نے احد کو گود میں بٹھا کر نرمی سے استفسار کیا، اس نرمی کو ماہ تاب نے بدقت سہا تھا۔
اس پورے عمل کے دوران ڈرائیور خاموشی سے گاڑی چلاتا رہا ، وہ ڈرائیور بھی شاید ربورٹ تھا۔
کانپتے ہاتھوں سے اس نے موبائل نکال کر معیز کا نمبر ڈائل کیا،۔
چند بیلز کے بعد کال اٹھالی گئی تھی،۔
خیریت ہے ماہ تاب اتنی صبح فون؟” دوسری جانب سے کال اٹھالی گئی تھی ،معیز جھٹ سے بولا تو شارف نے آگے بڑھ کر ماہ تاب کے کان سے فون کھینچ لیا،۔
احد کو اگلے پندرہ دن تک اپنے پاس رکھو گے، اور میری بات غور سے سنو کوئی چالاکی مت کرنا، چالاکی کا خمیازہ جانتے ہوناں پھر کون بھگتے گا،۔
ماہ تاب میرے ساتھ مری جارہی ہے،۔وہ آرام سے اسے تفصیل بتانے لگے ۔
آپ ایسا نہیں کرسکتے وہ میری بیوی ہے،۔میری مرضی کے بغیر اسے کہیں نہیں لے جاسکتے،۔
معیز یکلخت چیخا تھا۔
اس کی آواز ماہ تاب نے بھی سنی۔لیکن محض آنسو بہاتی وہ سسکی تھی،
اوہ آکم آن معیز ، اس حقیقت کو سن سن کر میرے پانچ سال سے کان پک گئے ہیں۔
وہ تمہاری بیوی ہے، لیکن فلحال وہ میری چابی والی گڑیا، یا پھر ایسا کہہ لو کہ وہ میری تجوری کی چابی ہے،۔اب تو تمہیں عادی ہوجانا چاہیے لیکن تم ہرمرتبہ اوور ری ایکٹ کرتے ہو،۔
ماہ تاب علوی کی ذات کا تجزیہ کرتے شارف نے ایک نہایت غلیظ حقیقت سے ماہ تاب کو روشناس کروایا تھا۔
گلابی عارض پر کئی آنسو بہہ نکلے،۔
“آپ اسے یوز نہیں کرسکتے”۔
تصیح کرلو معیز رؤف کہ میں نے ماہ تاب کو آج تک مکمل نہیں چھوا۔تبھی وہ آج تک محض سونا ہے۔اگر میں چھولیتا تو اس کا ہیرے سے کم مول نہیں ہوتا۔”
بیک مرر سے ماہ تاب کودیکھتے بےباک سابولے تو وہ ہتھیلی منہ پرجماتی سسک اٹھی تھی،۔
کوئی شخص اتنا غلیظ کیسے ہوسکتا ہے، معیز کی طیش سی آواز پر شارف نے قہقہ لگایا،۔
شارف ابدال شاید اس دنیا کا آخری شیطان ہوگا معیز رؤف!! کیونکہ اس نے ابلیس کو بھی مات دی ہے۔
احد ایک بار پھر جھٹپٹایا تو انہوں نے سختی سے بازو دبا کر اسے گود میں بٹھایا،
“خیر فکر مت کرو پچھلے چار سال سے تمہاری بیوی پاک صاف ہے،۔میں زور زبردستی والی چیزیں پسند نہیں کرتا ، میرا اپنا ایک معیار ہے،۔
وہ میری محض بزنس ڈیل کی چابی ہے، ادروائز کبھی میں نے تمہاری بیوی کا مس یوز نہیں کیا،۔اگر نہیں یقین تو پوچھ سکتے ہو”،۔
شارف نے فون ماہ تاب کی جانب بڑھایا،۔
ماہ تاب نے درد بھری نگاہ شارف پر ڈالی، اس کی نگاہ کو محسوس کرتے وہ مسکرائے تھے،۔
“ماہ تاب آئی ایم رئیلی سوری!! میں تم سے محض معافی ہی مانگ سکتا ہوں۔کاش میں اتنا بے بس نہ ہوتا کاش کہ میں تمہیں بچا سکتا،۔وہ اٹھائیس سالہ شخص بے بسی سے سسکا تھا،۔
ماہ تاب علوی نے کئی آنسو اپنے اندر اتارے،۔
بنا کچھ بولے اس نے فون رکھ دیا تھا،۔
میں جانتا تھاوہ یہی کہے گا،۔کیونکہ وہ ایک کمزور مرد ہے۔وہ کبھی بھی طاقت ور نہیں بن سکتا،جو اپنی فیملی کی حفاظت نہیں کرسکتا، کیونکہ اس کی حفاظت کا زمہ میرے سر ہے”۔
شارف کا فاتحانہ انداز ماہ تاب علوی کو پاتال میں پھینک رہا تھا۔کیا کوئی شخص اس حد تک ذلیل، سفاک ابلیسیت کی آخری حد لیے ہوئے ہوسکتا تھا۔
ماہ تاب کی ذہنی حالت اس شخص کی ہمراہی میں بگڑتی جارہی تھی،۔
عنقریب تھا کہ وہ لڑکی اس شخص کی ہمراہی میں خود کو ختم ہی کرلیتی،۔
لیکن یہ اذیت محض موت پر ہی تو تمام نہیں ہوسکتی تھی،۔موت کے بعد بھی شاید یہ اذیت جاری و ساری رہتی،۔