No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
سیاہ گیٹ کے آگے کھڑے ہوکر اس نے گہرا سانس لیا،وہ یہاں تک آ تو گیا تھا لیکن اندر جانے کی ہمت مفقود تھیم
ایک پل کےلیے دھڑکن بڑھی تھی۔بنابتائے وہ وہاں آیا تھا۔
قدم بڑھاتا وہ آگے آیا۔دروازہ دھکیل کر وہ اندر بڑھا۔
نیچے کا فلور بالکل خالی تھا۔یہ تو کہیں سے بھی اکیڈمی نہیں لگ رہی تھی،
یکدم وہ ٹھٹک سا گیا۔اسے شدت سے کسی انہونی کا احساس ہوا۔
دل تو چاہا کہ واپس مڑجائے۔لیکن یہ خواہشات کی حصولی بھی انسان کو بہت بری طرح خوار کرواتی ہے،
موحد!! بلندآواز میں اس نے موحد کو پکارا۔لیکن اس کی آواز گونج کر ہی واپس لوٹ آئی۔ سیاہی نے گویا اس جگہ کو بھوت بنگلے میں تبدیل کیا ہو۔
کسی کی مدھم سرگوشیاں سنتا وہ آگے بڑھا۔
عاہن علوی کے قدم تو آگے بڑھ رہے تھے۔لیکن ان قدموں میں ٹھنڈک اتررہی تھی ایسی ٹھنـڈک جو اسے جکڑ لینا چاہتی تھی۔جو اسے روک کر واپس بھیج دینا چاہتی تھی۔
شہرام کے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی وہ وہاں آیا تھا۔
براؤن سے دروازے کے پاس رک کر اس نے اردگرد دیکھا۔سرگوشیاں شاید وہی سےابھر رہی تھیں۔احتیاط سے اس نے ہینڈل کو گھمایا لیکن دروازہ شاید اندر سے لاک تھا۔
ایک گلٹی سے ابھر کر حلق سے نیچے اتری۔رواں رواں جیسے سنسنا سا گیا تھا۔
تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس نے جھری میں سے اندر دیکھا۔یکلخت آنکھیں پھیلی اور ابکائی کی شدید کیفیت ابھری۔
اندر انسانی حیاسوز عمل عاہن علوی کو دہلانے کے لیے کافی تھا۔وہاں چند لڑکے موجود تھے جو غلاظت میں لتھڑے نجس کام بہت فخر سے کرنے میں غرق تھے۔ اور اس حد تک غرق تھے کہ کسی آہٹ کو محسوس ہی نہیں کرپائے تھے۔
اس کے رونگھٹے کھڑے ہوئے ایسا لگا جیسے کوئی ناگوار بو اس کے حواسوں پر چھا رہی ہے۔وہ معصوم سا لڑکا جیسے یہ منظر برداشت نہیں کرپارہا تھا۔
پیشانی پر پھوٹتا پسینہ اور ناگوار سی بو جو شاید عاہن علوی جیسے پاک شخص کو ہی محسوس ہورہی تھی۔
حواس معطل ہورہے تھے وہ سیدھا ہوکر براؤن دروازے سے ٹیک لگائے گہرے سانس لینے لگا۔
“لوگوں کی میٹھی باتوں پر کبھی یقین نہیں کرنا کیونکہ یہ میٹھی باتیں انسان کو کڑواہٹ کے قابل بھی نہیں رہنے دیتی۔”
شہرام علوی کے لفظ دور کہیں سے دماغ میں دستک دے رہے تھے۔وہ اس کا بھائی اس کامسیحا تھا اس نے تو روکا تھا۔لیکن ایک بے جا خواہش میں اس نے ہر بات و نظرانداز کرکے اس عقوبت خانے کا رخ کیا تھا جہاں گندگی تعفن زدہ بو رقص کررہی تھی۔وہ بو عاہن علوی کے حواس چھین رہی تھی۔لیکن اسے ہمت کرنی تھی اسے وہاں سے بھاگنا تھا۔
دروازے پرشاید اس کی کہنی لگی تھی کہ اندر سے شور بلند ہوا۔
عاہن کے قدموں میں تیزی آئی۔لیکن اس منظر نے دماغ کی رگوں کو جکڑ لیا تھا۔قدم لڑکھڑائے تھے۔
براؤن دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا۔بیس اکیس سالہ لڑکا جھومتے قدموں سے باہر آیا ۔عاہن کے ڈولتے قدموں میں تیزی آئی وہ تیزی سے بھاگتا اس راہداری سے گزر کر نیچے بھاگا تھا۔آج اسے بھاگنا تھا۔تیزی سے ورنہ وہ غلیظ منظر عاہن علوی کی شخصیت کو مسخ کرنے میں پل بھی نہیں لگاتا۔
بھاگتے قدموں پھولتی سانسوں کے ساتھ وہ جہنم سے نکل ہی آیا۔
اس اکیڈمی کے دروازے سے باہر قدم رکھ کر اس نے دیوار سے چپک کر لڑکھڑاتے قدموں کو سہارا دیا۔وہ پورا ایریا سنسان سا تھا۔آتے وقت جن چیزوں پر اس نے
پر توجہ نہیں دی تھی۔اب پھولتے سانس کے ساتھ وہی توجہ کا مرکز بنی تھیں۔
شہرام علوی کے وہ لفظ سچے ثابت ہوئے۔میٹھی باتوں کی تلخی نے اسے شاید کڑواہٹ کے لائق بھی نہیں چھوڑا تھا۔
آنسو یکلخت آنکھوں سے نکل کر گال پر بہے۔اوائل جوانی سے چہرے پر بڑھتےرواں جیسے اس پانی کو جذب کرلینا چاہتےتھے۔
آستین سے ناک رگڑ کر اس نے حواس کو بحال کیے ۔ اردگرد ایک بار پھر نظر دوڑائی،، راستہ جیسے سجھائی نہیں دے رہا تھا۔
مین گیٹ کے پاس اسے شور سا محسوس ہوا۔خوف وہراس نے وجود پر گہرا قبضہ جمایا۔لیکن اس وقت اسے ہارنا نہیں تھا۔اسےاس زندان سے نکلنا تھا۔
بنا راستے کا تعین کیے وہ بھاگا تھا۔وجود پسینے سے شرابور ہوا تھا۔
ایکٹر بننے کا خواب پہلی کڑی میں ہی چکنا چور ہوتا محسوس ہوا۔
مین سڑک پر آتے ہی وہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کے جھکا۔سانس کھینچتا وہ حواس ٹھکانے لانے میں ہلکان ہوا۔دل چاہا شدت سے چیخے وہ منظر ہوا میں غائب ہوجائے۔لیکن اس کم سن ذہن میں تباہ کاریاں شروع ہوچکی تھیں۔
بھائی!! شدت سے چیخ کر وہ وہی سڑک پر بیٹھا۔سسکیاں آہیں بلند ہوتی چلی گئیں۔
چیخوں میں اب بھی شہرام کی پکار تھی۔عاہن علوی کو اس مشکل وقت میں طلب بھی کس کی محسوس ہوئی تھی وہ نہ ماں کو پکار رہا تھا نہ باپ کو اس کی پکار میں بھائی تھا۔بھائی کایقین توڑا تھا۔
بھائی کی بات کو جھٹلایا تھا جس کا خمیازہ بھی بھگت لیاتھا۔صدشکر تھا کہ وہ اس دلدل میں دھنسا نہیں تھا ورنہ ہاتھ پاؤں مارنا بھی کام نہیں آتے۔
❤❤❤❤❤
تم اتنے کمزور کب سے ہوگئے؟
آج چوتھادن تھا کہ عاہن کا بخار نہیں ٹوٹا تھا۔,اس غلیظ منظر نے اس کی معصومیت کو اتنی بری طرح ٹھیس پہنچائی تھی۔
وہ چاہ کر بھی سنبھل نہیں پارہا تھا۔یہ راز بھی اندر کہیں گم کرلینا چاہتا تھا۔
تاکہ شہرام کے سامنے شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔
اس نے شہرام کی بات کو جھٹلایا تھا۔یہ اس کےلیے گناہ کے زمرے میں ہی آتا تھا۔اس بھائی کی بات کو جھٹلاکر وہ اپنے خوابوں کی تعبیر پانے آگے بڑھا تھا جس نے قدم قدم پر اس کی راہ میں اگے کانٹے چنے تھے۔
“اور جب کانٹے ہٹانے والوں کی بات کی نفی کی جائےتوسزا مقدر بن جاتی ہے”۔
“ایکٹرز کی روح اتنی کمزور تو نہیں ہوتی۔” اس کے چمکدار بال سہلا کر شہرام نے گویا ہمت فراہم کی۔لیکن اس ایک لفظ سے ہی وہ تڑپ اٹھا تھا۔
“ن نہیں بننا مجھے ایکٹر ،مجھے کچھ نہیں بننا”۔
ہڑبڑا کر اٹھ کر وہ شہرام کی شرٹ جکڑے چیخا تھا۔
اس کے اتنے شدید ردعمل پر چونکا تو وہ بھی تھا۔
کیا ہوا ہے ؟”نرم لہجہ یکلخت سپاٹ ہوا۔عاہن !! اپنے بھائی سے کیا چھپارہے ہو۔بابا کو بتاؤں پھر ؟”
عاہن !! اپنے نام کی سرد پکار پر وہ پھوٹ پھوٹ کر روتا شہرام کے کندھے سے لگا۔
بب بھائی !! “آپ۔۔آپ نے منع کیا تھا لیکن میں وہاں گیا، آپ کی مرضی کے خلاف گیا۔بھائی موحد نے کہا تھا وہاں فری کام سکھاتے ہیں بھائی مجھے ایکٹنگ سیکھنی تھی۔میں نے آپ کی بات رد کردی۔وہ جگہ اچھی نہیں تھی آپ نے کہا تھا میٹھی باتوں پر اعتبار نہیں کرنا لیکن ۔۔میں نے کیا اور دیکھیں وہ میٹھی باتیں مجھے کڑواہٹ کے قابل بھی نہیں رہنے دے رہی ہیں۔”
شہرام نے نرمی سے اسے خود سے دور کیا۔لیکن وہ مزید اس کے ساتھ چپکا۔
“بب بھائی آپ ناراض ہورہےہیں۔بھائی میں اب نہیں جاؤں گا۔میں میٹھی باتیں نہیں سنوں گا۔کڑواہٹ اچھی ہوتی ہے۔آپ ناراض نہیں ہوں”۔
“تم چار دن اذیت میں رہے۔چار دن ماما اور بابا تمہاری وجہ سے پریشان رہے۔چاردن سے میرا سکون برباد ہوکر رہ گیا۔میرا بھائی تکلیف میں تھا میری ساری توجہ تمہاری جانب تھی۔میں نے بار بار پوچھا لیکن تم اکیلے برداشت کرتے رہے۔کیوں عاہن کیا اپنے بھائی پر اعتبار نہیں تھا۔کیا زرا سا بھی یقین نہیں تھا”۔
اسے سامنے کرکے وہ سختی پر آمادہ تھا۔
عاہن نے بے ساختہ نظر کا رخ پھیرا۔
“بھائی میں شرمندہ تھا۔اس رات بھی آپ کو پکارتا رہا بھائی، کیونکہ میں نے آپ کے اعتبار کو ٹھیس پہنچائی تھی”۔
“اور تم نے یہ بات چھپا کر بھی مجھے تکلیف دی ہے۔خدانخواستہ اگر تم وہاں قید ہوجاتے؟؟ سوچاہے اس بارے میں؟؟”
بھائی!! نمزدہ سی آواز پر شہرام کے ماتھے کے بل کم ہوئے۔
“آئندہ احتیاط کرنا، میں خاموش ہوں لیکن میری تنبیہہ کو یاد رکھنا”۔
صد شکر تھاکہ عاہن علوی پہلی ٹھوکر پر ہی سبق سیکھ چکا تھا۔
💗💗💗💗💗
برو!! معیز کی آواز پر وہ بے ساختہ رکا۔
کہاں تھے تم؟” شہرام نے تعجب سے سوال کیا ۔
وہ آج کئی ہفتوں بعد یونیورسٹی میں نظر آیا تھا۔جاتے ہوئے محض یہ کہہ کر گیاتھا وہ جلد آئے گا۔
اس دن بھی شاید وہ عجلت میں تھا۔
تم نے مس کیا ؟” معیز کی شرارت کی رگ پھڑکی۔
شہرام محض سر جھٹک کر آگے بڑھا لیکن معیز نے گردن کے گرد بازو ڈال کر اسے جکڑا تھا۔
یونیورسٹی میں کئی گردنیں ان کی جانب مڑی لیکن معیز کی کھلنڈری فطرت کی وجہ سے وہ سب ہنستے آگے بڑھنے لگے۔جبکہ شہرام کے لیے یہ سب بہت الگ تھا۔۔وہ اپنی ریزو نیچر کی وجہ سےکم ہی ایسی حرکتیں کرتا تھا۔
یار امیج خراب مت کیا کرو۔شہرام نے گردن جھٹک کر آزاد ہوا تھا۔
میں نے تمہیں بہت مس کیا۔گال کھینچ کر ایک اور شرارت کی۔
اففف!! وہ ہمیشہ کی طرح زچ ہوا تھا۔
“ویسے میرے ہجر نے شہرام بابو کو کافی نکھار دیا ہے حالانکہ محبوب کا ہجر تو افسردگی لاتا ہے لیکن میرا ہجر آسودگی لے آیا۔کافی تعجب کی بات ہے”۔آنکھوں میں چکمتی شرارت اور لہجے کی سنجیدگی دونوں شہرام علوی سمجھ چکا تھا۔
“مجھے ماڈل بنانے کے چکر میں کہیں تم شاعر نہ بن جاؤ”۔
شہرام نے تیکھی نگاہ اس پر ڈالی جو مسکرا رہا تھا۔
نہیں میں ماڈل کا ماڈلنی بنوں گا”۔خالص زنانہ حرکت کرتا وہ شہرام کے لبوں پر مسکراہٹ لے آیا۔
“تم عنقریب وہی بنو گے”،
آنکھیں گھمائے وہ بولا تھا میعز کا قہقہ بے ساختہ تھا۔
ویسے سب ٹھیک ہے؟؟ بنا بتائے چلے گئے تھے۔؟”
“ہاں سب ٹھیک ہی ہے۔ڈیڈ شادی کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے میں جان چھڑا کر دبئی بھاگ گیا۔وہاں انجوائے کیا اور لوٹ آیا”۔
آنکھ ونک کیےوہ خالص بےباک تاثر دے گیا۔
شہرام کی آنکھیں حیرت سے پھیلی۔لیکن جلد ہی ایک جگہ رک سی گئی ۔
شادی؟”اتنی تو تمہاری ایج بھی نہیں ہے،
وہ تعجب زدہ تھا،
جب عیاشی کرسکتا ہوں تو شادی کیا چیز ہے؟”
“تم سب کچھ کرسکتےہو لیکن یہ غلیظانہ کام ہرگز نہیں کرسکتے”۔
لہجے کی پریقینی پر ناجانے کیوں معیز ٹھٹکا تھا۔
کیا تمہیں مجھ پر یقین ہے؟؟
“۔بالکل خود سے بھی بڑھ کر ہے”۔شہرام نے آگے بڑھ کر کندھے پر ہاتھ رکھاگویا یقین کی مہر ثبت کی ہو۔
بےساختہ وہ اس کے گلے لگا۔اور بازو اچھی طرح ارد گرد رکھتا وہ اسے گھما چکا تھا۔
ابے چھوڑ!!” ہم یونیورسٹی میں ہے”
۔بوکھلا کر کہتا وہ اسے دور بھی دھکیل رہا تھا۔
“مطلب کمرے میں گلے سے لگاؤ گے”۔شہرام نے اسے جھٹکے سے دور پھینکا۔
جب کہ وہ ہنستے ہوئے سنبھلا تھا۔
“ایک نمبر کے لفنگے ہوتم، ہاسٹل مت آنا۔ورنہ بچ نہیں پاؤ گے”۔
وارن کرتا وہ تیزی سے باہر کی جانب بڑھا۔کئی نظروں نے اس کے یہ جھٹپٹانا محسوس کیا تھا۔
جو کہ شہرام علوی کے لیے شرم کامقام تھا۔ جبکہ وہ معیز رؤف ازلی ڈھیٹ ہنستا چلا گیا۔۔
❤❤❤❤❤❤
نارنجی شام کا عکس صحن میں دھوپ کی تمازت کو ہلکا ساکم کیے خنکی کا موجب تھا۔
سردہوائیں وقفے وقفے سے رقص کرتی صحن میں براجمان لوگوں کے وجود سے ٹکراکر واپس لوٹ جاتی۔
خزاں کی وجہ سے زوار صاحب کا پورشن پتوں سے گرد سے اٹاتھا۔
امی،،”دیکھیں ناں میں نے صبح صفائی کی ،لیکن لاونج کا پھر سےوہی حال ہوگیا۔کھلا صحن یہ ہے لیکن گرد مٹی پتے وہاں جاکر ڈھیرا جمالیتے ہیں”۔
ساس سے مخاطب سدرہ بیگم کے لہجے میں یاسیت سی تھی۔
“سدرہ اس حصے میں گرد اور پتوں کا گرنا شگن سمجھاکرو۔،یہ ہوائیں ادھر کا رخ اس لیے کرتی ہیں کہ بند کمروں میں مقید یادوں کو سانس لینے کا موقع ملے۔
ان یادوں کی چیخیں کمروں میں گونجتی ہیں تبھی یہ ہوائیں وہاں کا رخ کرلیتی ہیں تاکہ ان یادوں سے مل کر ان کے غم کو کم کردیں”۔
“زوار تو ایسا پرایا ہوا جیسے میں اس کا باپ نہیں ہوں۔یاتم اس کی ماں نہیں رہی۔ناجانے کونسے دیس چلا گیا”
۔
بدر صاحب بھی شال کندھوں پر لیے آزردہ تھے۔
بیٹے کی جدائی نے انہیں کافی بوڑھا کردیا تھا۔کہنے کو یہ چند عرصہ تھا جو بند مٹھی ریت کی طرح گزرتا جارہا تھا۔لیکن کوئی اس باپ سے پوچھتا ، جس کی اولاد کٹھور بنی سارےاحسان فراموش کیے جاچکی تھی۔اور ان کے ٹمٹماتے دئیے کی لو کو بھی بجھاچکی تھی۔
“مہمان ہونے کے ناطے ہی ایک دعوت کردیتا کم ازکم اس کا گھر دیکھ آتےاس گھر کا راستہ ازبر ہوجاتا”۔
“ماہ تاب ،مشل ناجانے کیسی ہوگی۔کتنی بڑی ہوچکی ہوگی۔۔وہ بچیاں تو رونق لگاکر رکھتی تھیں۔
چائے کے گرم گھونٹ حلق سے اتارتے بدر علوی شکوہ کناں تھے۔جس بیٹے کو سعادت سے زیادہ محبت دی،سعادت کا حق بھی زوار کو دیا ۔ وہی آج ان سے ایسے منہ موڑ کر اپنے محل میں آباد ہوچکا تھا۔
جبکہ وہ منحوس کہلانے والابیٹا ہی دونوں بازؤں جیسا کام کررہاتھا۔
ابو!!” پریشان نہ ہواکریں۔انشاءاللہ زوار بھائی کبھی نہ کبھی ضرور آئیں گے”۔
سدرہ بیگم کو ان چند دکھوں کو سننے کی اتنی عادت ہوچکی تھی کہ وہ تسلی دئیے بنارہ ہی نہیں پاتی تھیں۔
سعادت صاحب چاہتے تو کب کا اس محل کی جانب رخ کرلیتے۔معیار بھلے بلند نہیں تھالیکن عزت نفس شاید زوار علوی سے بڑھ کر موجود تھی۔
اس ویران پورشن کو تالا لگاکر باور کروایاگیاتھاکہ وہ ان کا حق ہے۔
اس باور پن کو سعادت علوی کی عزت نفس نے ایسے پلو سے باندھاکہ مجال ہے اس شخص نے نظر بھرکر بھی اس پورشن کو دیکھاہو۔
وہ پورشن ویران رہنے والاتھا۔
اگر زوار علوی ترس کھاکر ان کے حوالے بھی کردیتے تب بھی سعادت علوی نے مر کر بھی اس پورشن پر ڈیرہ نہیں جماناتھا۔۔
❤❤❤❤❤❤❤
لیڈیز اینڈ جینٹل مین!!” امید کرتا ہوں آپ نے پارٹی کو بھرپور انجوائے کیا ہوگا۔
تو آج میں آپ کو اپنے سب سے خاص گیسٹ سے ملوانا چاہتا ہوں”۔
زوار صاحب کی آواز پر محفل میں موجود تمام لوگ ان کی جانب متوجہ ہوئے۔
عبیحہ سے باتوں میں مصروف نازک سی سفید پری نے بھی صراحی دار گردن موڑ کر باپ کی جانب دیکھا۔
ہائی ہیلز میں مقید دودھیا پاؤں بلیک باربی فراک جس کا ہلکا سا ڈیپ گلا اور ہاف سلیوز سے جھلکتے دودھیا سے بازو نمایاں ہوکر ماحول کی ساری خوبصورتی کو سمیٹ رہے تھے۔
لائٹ میک اپ سے سجا وہ پری چہرہ آج کئی نظروں کے حصار میں تھا۔وقت نے ماہ تاب علوی کو مزید خوبصورت بنایا تھا یا وہاں لوگوں کا یہ گمان تھا۔
لیکن وہ ساحرہ آج سارے ماحول پر چھائی ہوئی تھی۔
چہرے پر پراعتمادی بڑھ چکی تھی۔معصوم سی جاناں کے بجائے اب وہاں ماہ تاب علوی تھی۔لمبے سنہری بال جوڑے میں سمٹ کر کئی لہراتی لٹیں صراحی دار گردن کے اطراف میں گری تھیں۔
جبکہ مشل علوی ماہ تاب کی جڑواں کاروپ دھارے بالوں کو کرل کیے گہری سبز سی آنکھوں کو دو آتشہ کیے اپنے فرینڈز کے ساتھ ایک جانب موجود تھی۔
دھیمے سروں میں بجتے میوزک اور رنگ و بو نے ماحول پر اپنی دھاک اچھے سے جمارکھی تھی۔برقی قمقموں کی خوابیدہ سی چمک نے دن کا سماں باندھا تھا۔
“آج میں آپ کو اپنے خاص دوست سے ملوانا چاہتا ہوں۔جس نے اس ترقی کی راہ میں میرا بھرپور ساتھ دیا۔اللہ کے بعد جس کا میں شکر گزار ہوں وہ میرا یہ دوست ہے”۔
انہوں نے ہاتھ سامنے پھیلایا۔جہاں سے پینتالیس سالہ ایک شخص سیاہ لباس میں سوبر سے انداز میں چلتے زوار کی جانب آیا۔گردنیں اس شخص کی جانب مڑی۔ماحول کی ساری خوبصورتی ماہ تاب علوی سے ہٹ کر اس ساحر پر آ ٹھہری۔
بے ساختہ دونوں بغل گیر ہوئے۔
یہ کون ہے؟؟عبیحہ کی پراشتیاق سی آواز نے ماہ تاب کہ توجہ بھی بٹائی۔
میں پوچھ کربتاتی ہوں”۔
تیکھے چتونوں سے وہ واپس سامنے متوجہ ہوئی جبکہ عبیحہ نے لبوں کو دائیں بائیں موڑ کر ناگواری کا اظہار کیا۔
سامنے موجود شخصیت کافی پراثر تھی۔کنپٹی سے ہلکے گرے بال جبکہ باقی بال سیاہ تھے۔ متناسب سراپا۔تراشی ہوئی ہلکی داڑھی اور گھنی مونچھوں کے ساتھ وہ شخص اپنی جانب متوجہ کرنے کا مکمل ہنررکھتاتھا۔
ماہ تاب علوی بھی مسمرائز سی اسے کئی ثانیے دیکھتی رہی۔
ادھیڑ عمری کی جانب رواں وہ شخص کیا اتنا خوبصورت بھی ہوسکتاتھا۔یہ وہاں موجود لوگوں کے لیے تعجب کی بات تھی۔محفل یکدم بقعہ نور بنی،
عبیحہ مراد کی سیاہی مائل آنکھیں اس ساحر سے ہٹنے سے انکاری ہوئی۔
یار ماہ تاب!!” انہیں انکل کہنا انکل لفظ کی توہین ہوگی۔ زرا ان کانام پوچھ یاپھر ان کی کوئی اولاد آئی مین بیٹاہوتو سچی میں بس دل ہار جاؤں گی”۔
عبیحہ کی شوخ آواز پر ماہ تاب نے ایک بار پھر تعجب سے دیکھا۔
شرم!!ایک لفظ کہہ کر گویا اس نے صوفیہ کی زبان بند کروائی تھی۔
یہ میرے دوست شارف ہیں۔” آر” گروپ آف انڈیسٹریز کے آنر ہیں۔
بےشک وہ کمپنی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔برسوں کی محنت سے یہ اس مقام پر پہنچے ہیں کہ لوگ انہیں جھک کر سلام کرتے ہیں۔
ماہ تاب علوی کے تراشیدہ لب مسکراہٹ میں ڈھلے۔
آج اتنے ماہ بعد شاید ماہ تاب کو اپنے الجھے سوالوں کا جواب مل چکاتھا۔
یعنی یہ دھن دولت شہرت کے پیچھے شارف صاحب کاہاتھ تھا۔ ماہ تاب نے باپ کے چہرے پر نظر دوڑائی جہاں لالچ کی دبیز تہہ ہنوز موجود تھی۔
وہ آج بھی محض جھرجھری لے کر رہ گئی۔
نظر کا رخ اب ماں کی جانب گیا۔جو دیدہ زیب ساڑھی پہنے برہنہ کندھے اور برہنہ ہوتی کمر کے ساتھ ہائی سوسائٹی کی مشہور خواتین کے نرغے میں پھیلے سرخ لبوں کے ساتھ موجود تھیں۔
شبانہ بیگم سے شبنم بیگم بننے کاسفر نہایت تیزی سے طے ہواتھا۔قدرے پھیلا سا سراپا اس وقت بھی قیامت خیز تھا۔
وہ ساحرانہ شخصیت کا حامل شخص اب سب سے خوش اسلوبی سے مل رہاتھا۔
ایک ہاتھ پینٹ کی جیب میں ٹکائے وہ اپنی ہر ادا سے محفل کی جاندار شخصیت بن رہاتھا۔
نظروں کی تپش پر اس شخص نے عجلت بھری نگاہ پیچھے کی جانب ڈالی۔لیکن پھر بنا ان کی جانب دیکھ کر رخ موڑ لیا۔
ماہ تاب!! “کچھ کرناں میرا تعارف کروادے، میرااس بندے پر دل آگیاہے”۔
عبیحہ کی بیہودگی پر وہ آنکھیں پھیلائے مڑی۔
ڈوب مرو!! اب بھی دولفظوں میں وہ اسے خاموش کروانے کی ناکام کوشش کررہی تھی۔لیکن وہ عبیحہ مراد تھی۔ڈھیٹوں کی ڈھیٹ،،
اس کی سفید کلائی تھام کر صوفیہ نے پھر سے توجہ دلوائی۔
عبیحہ مراد کی مراد آخر بھر آئی تھی کہ زوار صاحب نے انگلی کے اشارے سے ماہ تاب کو اشارہ دیا۔
بجائےماہ تاب آگے قدم بڑھاتی عبیحہ نے زبردستی اس کی کلائی تھام کر اس شخص کی جانب رخ کیا۔
شارف !!”یہ میری بڑی بیٹی ماہ تاب علوی ہے “زوار صاحب نے اسے بازو کےنرغے میں لیا۔
ناجانےکیوں باقاعدہ تعارف اسے کچھ عجیب لگاتھا۔وہ بہت کم اسے قریب بلاتے تھے۔
شبنم بیگم بھی پلو سنبھالتی ان کی جانب ہی آئی۔
عبیحہ بھی پاس موجود محض اس خوبرو سے شخص کو دیکھنے میں مگن تھی۔
ماہ تاب نے اسے ہلکاسا ٹہوکا دیا۔لیکن بےسدھ والا حال ثابت ہوا۔
ماشاءاللہ!!” بیٹی بہت پیاری ہے۔اور نام کی خوبصورتی کے لیے شاید لفظ کم پڑ جائیں۔
بھاری گھمبیر سا لہجہ ؛،اور بولنے کے شاہانہ انداز سے ماہ تاب بھی مرعوب ہوئی۔
اور میں عبیحہ مراد ہوں۔عبیحہ کے تعارف پر وہ شخص اس کی جانب متوجہ ہوا۔
کرسٹل ڈارک گرے آنکھوں نے گویا صوفیہ کا کام تمام کیا تھا۔
مقابل شخص محض مسکرا کر رہ گیا۔اور عبیحہ مراد کا دل بھی جیسے اس شخص کی مسکراہٹ میں ڈوبا تھا۔
اس شخص کی بارعب شخصیت نے گویا عبیحہ مراد کو عمر کا فرق نظرانداز کرنے پر مجبور کردیا تھا۔
کیا کرتی ہیں آپ؟؟شارف کی نگاہ گویااس پری چہرہ پر الجھی تھی۔
مم میں انٹر کے پییرز دے کر فلحال فف فارغ ہوں۔
زبان کا کھلنا تھا کہ شارف کی آنکھیں حیرت سے پھیلی۔لیکن زوار صاحب کو دیکھ کر چہرے کے تاثر واپس ڈھل گئے۔
اور آپ کیا کرتی ہیں ؟ مس عبیحہ مراد ؟؟
نگاہ باغور اس چہرے پر جذب ہوئی۔
مم میں بھی ماہ تاب کے ساتھ انٹر کے بعد فری ہوں۔بوکھلائی سی لب پھیلائے بولتی وہ شارف کو کافی دلچسپ سی لڑکی لگی تھی۔
آپ کی وائف نہیں آئی؟؟ عبیحہ مراد کی بےباکی پر بے ساختہ ماہ تاب نے پہلو بدلا۔
وہ اس دنیا میں نہیں ہے۔ان کی دیتھ ہوچکی ہے۔ “لہجے کی مضبوطی میں اس مرتبہ تھوڑی سی افسردگی تھی۔
اوہ آئی ایم سوری!!
“شارف ویسے تمہیں ماہ تاب کیسی لگی؟” زوار صاحب نے بات کا رخ موڑا۔ماہ تاب کے دل یکلخت دھڑکا تھا۔
باپ کا انداز ناجانے کیوں اسے ہضم کرنا مشکل لگا ۔
“شی از سو پریٹی !! اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اتنا حسن وسوز میں نے آج تک نہیں دیکھا”۔
ظاہر ہے یہ زوار علوی کی بیٹی ہے۔، خوبصورتی ورثے میں ہی ملے گی”۔
وہ ہائی سوسائٹی کی پارٹی تھی۔وہاں اونچلے شملے کے لوگ موجود تھے جو شاید اب غیرت مند نہیں رہے تھے یاپھر بیٹی کی تعریف کروانا ان کے کاروبار میں ترقی کا حامل تھا۔
ماہ تاب الجھن میں گھری باپ کی گرفت سے آزاد ہوئی۔ایکسکیوزمی!! معذرت کرتی وہ عبیحہ کا بازو تھامے وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
اپنی پشت پر اسے گہری نظروں کی تپش شدت سے محسوس ہوئی تھی۔
❤❤❤❤
تم اور تمہارے شوق!!” میرے پاس اتنے فالتو پیسے نہیں کہ میں ہر خواہش سرجھکا کر پوری کرتا رہوں”۔
عاہن علوی اس طیش بھری آواز پر بھی مسکرایا تھا۔۔”بھائی پھر میں ابا جی کی پرچون کی دکان سے چوری کرلوں گا۔اور منحوس ٹھہرایا جاؤں گا”۔
شرارت سے بھرپور آواز پر شہرام کی پریشانی کم ہوئی تھی۔وہ بظاہر چھوٹا مگر گہرا حادثہ عاہن علوی کے ذہن سے محو ہونے لگاتھا تبھی یہ خواہش سامنے آئی تھی۔
“تم بننا کیا چاہتے ہو ؟؟۔پہلے یہ سوچ لو ،، اور جسے ابا کہہ رہے ہو ان کے کانوں میں یہ بات پہنچ بھی گئی کہ عاہن علوی چوری کے ارادے رکھتے ہیں۔وہی ابا جی اپنے جوتے سے سارے شوق ہوا کردیں گے”۔
“بھائی ابا جی آئی مین پاپا کے جوتوں سے آپ ہی مجھے بچاسکتے ہیں۔میری خواہش پوری کردیں”۔
تم انسان بن جاؤ”،
“بھائی انسان ہی بننا چاہتا ہوں تبھی آپ کو کہہ رہا ہوں ،اور جس دن انسان بن گیا ناں آپ کا نام ہی روشن کروں گا”۔
عاہن کی جنون خیزی شہرام علوی سے اوجھل رہی تھی۔سیاہ روشن آنکھیں جسے غیر مرئی نکتے پر جمی تھی۔
“لوگ باپ کا نام روشن کرتے ہیں تم میرا روشن کرنے پر تلے ہو،
شہرام بڑبڑایاتھا۔
بھائی پھر میں ڈن سمجھوں؟؟ بہرام کی آواز پر اس نے پیشانی مسلی۔
کرتا ہوں کچھ ،، پربابا سے نہ لڑنا ، خبردار جو مجھے تمہاری کوئی شکایت ملی،، سچ کہہ رہا ہوں سب چیزوں سے ہاتھ اٹھالوں گا۔
شہرام علوی صاحب!! آپ بودے دعوے مت کیا کریں۔بہرام کی کھنکتی آواز پر شہرام کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں۔
تمہاری تو۔۔۔!!!
اس سے پہلے وہ مزید کچھ کہتا کال کٹ چکی تھی۔
بہرام علوی کی یہ خواہش بھی بے شک بنا کسی پریشانی کے پوری ہونے والی تھی۔
❤❤❤❤❤
وہ تمہارے باپ کی عمر کا ہے ، کچھ شرم ہے؟ آویزے اتارتے اس نے آئینے میں سے ہی اس کو تنبیہہ کی تھی۔
لیکن عبیحہ مراد مزے سے بیڈ پر لیٹی اسی ساحر کے خیالوں میں مگن رہی۔
ماہ تاب نے سر جھٹک کر ایک طائرانہ نگاہ اس نے اپنے سراپے پر ڈالی۔وہ کافی خوبصورت لگ رہی تھی۔یہ خیال تھا یا درست تجزیہ؟
وہ نہیں جانتی تھی۔لیکن شہرام علوی کاعکس آنکھوں میں نمایاں ہوا تھا۔دل چاہا ایک بار وہ پریوں کی طرح اوجھل ہوکر اس شخص کے سامنے چلی جائے۔اور وہ ہاتھ تھام کر اسے پہروں اپنے ساتھ کھڑا رکھے۔
اس کے حسن کو لفظوں میں ڈھال کروہ ماہ تاب علوی کو مغرور بنادے۔
ان لفظوں کی چاشنی تاعمر ماہ تاب سے لپٹی رہے۔۔لیکن وہی حسرت ناتمام،ایسی حسرت جو کبھی ممکن نہیں ۔
دل کی دھڑکنیں اس شخص کانام لے کر اس وجود کو ہلکان کرنے لگی۔سفیدی میں سرخی گھلنے لگی۔اس شخص کا سوچنا بھی گویا ماہ تاب علوی کی سماعت کو گویائی کو بینائی کو مہکا سا دیتا تھا۔
وہ پری سوچتی بھی اس شخص کو تھی جس کی حیثیت بقول اس کی ماں کے ایک ٹکے کے برابر بھی نہیں تھی۔
“تم بھی اس شخص کے عکس میں کھوگئی ہوناں”۔عبیحہ کی آواز پر نیکلس پر جما ہاتھ یکلخت حرکت میں آیا اس نے تعجب سے عبیحہ کو دیکھا۔
اس کےکندھے پر تھوڑی ٹکائے وہ شرارت پر آمادہ تھی۔
“میری چوائس اتنی بری نہیں ہے”۔
“انکل کو اگر میں نے بتادیا ناں کہ عبیحہ ایک انکل میں انٹرسٹ لے رہی ہے تو کالج جانا بند اکیڈمی جانا بند غرض سب کچھ بند ہوجائے گا”۔
دہکتی نگاہوں نے آئینے میں سے ہی وار کیا تھا۔ لاپرواہ بنی وہ مصنوعی حسن کو صاف کرنے لگی۔
جیلس لوگ!!” تم جیسی لڑکی کو کیا پتہ ہے کہ وہ انکل نہیں شارف ہیں۔ آ ہینڈسم مین!! جس کی ساحرانہ شخصیت پر میں دل ہار بیٹھی ہوں”۔
عبیحہ کی نوٹنکی شروع ہوچکی تھی۔ماہ تاب علوی کو مزید کچھ کہنا فضول ہی لگا تھا۔
